Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 22)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
““مہندی اسپشل ![]()
![]()
چپ کر جاٶ روٶ مت تم ۔۔۔
روحا مرحا کو چپ کرواتے بولی تھی ۔۔۔۔
و۔وہ سانڈ مطلب مستقیم مجھے برا سمجھ رہا جبکہ آپ کو بتا دیا میں نے بس ڈر کی وجہ سے ایسا بول ۔۔۔
بس چپ کرو مستقیم لالہ بہت اچھے ہے تم فکر مت کرو وہ تھوڑا سا غصہ کرے گے پھر ٹھیک ہو جاۓ گے ۔۔۔
اپنی شادی انجواۓ کرو یار مستقیم لالہ بس غصے میں بول گے ورنہ وہ دل کے بہت زیادہ والے اچھے ہے ۔۔
روحا مرحا کو چپ کرواتی بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا تم چیج کر لو ۔۔
روحا اسے کپڑے دیتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔
————————————————————
غصہ نہ کرو تو کیا ڈانس کرو اسے ہی بچایا اور اسی نے ہی مجھ پر الزام لگا دیا حد ہے ۔۔۔
مستقیم غصے سے زرجان اور منان کے سامنے بیٹھا بولا تھا ۔۔۔۔
یار میں نے تو جیسٹ مشورہ دیا تھا ویسے وہ ٹھرکی نہیں تھا گھر اگر ہوتا تو سب ہنیڈل کر لیتا ۔۔
زرجان بھی پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
““کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔۔۔
کدھر پھسا دیا ہے مجھے ککڑ اتنے سنسنان راستے پر میں کیا کرو گا ۔۔۔۔
ریڈ کلر کی ہڈی لونگ شوز پہنے کان میں بیلو توتھ لگاۓ مستقیم رات کے وقت سنسنان جگہ پر کھڑے بیزار سی شکل بناۓ بولا ۔۔۔۔
یار یہاں سے ایک ٹرک گزارے گا جس پر ریٹ کرنی ہم نے تم نے بس دیکھنا ہے ریٹ ہم بعد میں کرے گے ۔۔۔
منان سکون سے بولا تھا ۔۔۔
اچھا۔۔۔
مستقیم بات سنتا بولا تھا ۔۔۔۔
بچاٶ بچاٶ بچاٶ ۔۔۔
اس سے پہلے مستقیم اس جگہ سے آگے جاتا جب سامنے سے بھاگتی ہوئ لڑکی آتی چلاتی آ رہی تھی ۔۔۔
ریڈ کلر کا لہنگا پہنے بکھرے حلیے میں مرحا بھاگتی ہوئ آ رہی تھی ۔۔۔
کیا ہوا تمہیں اور یہ حالت ۔۔۔
مستقیم شوک ہوتا اس کے قریب جاتا بولا تھا ۔۔۔
بچاٶ سانڈ مجھے پلیز ۔۔۔۔
بولو کیا ہوا اور یہ دلہن بنی کیوں بھاگ رہی ہو دیکھو مورننگ واک صبح کو ہوتی ہے ۔۔
مستقیم اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بولا تھا ۔۔
وہ دیکھ چکا تھا اس کے چہرے پر پریشانی ۔۔۔
ماما بابا پاکستان آ رہے تھے جب ان کا پلین کراش ہو گیا اور م۔۔۔
شششش چپ چپ میں سمجھ سکتا ہو ریلکس آو میرے ساتھ ۔۔۔
مرحا مستقیم کا ہاتھ پکڑتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بتا رہی تھی جب اس نے چپ کروایا اسے ۔۔
کہاں جاٶ گی میں اکیلی رہ گی میرا کوئ نہیں ایک ماموں جان تھے وہ بھی دنیا میں نہیں رہے بس مامی اور ان کا نشی بیٹا ہی تھا ا۔۔۔
وہ دیکھو کھڑی پکڑو اسے گولی سے اُڑا دو ۔۔۔
مرحا جو آنسو صاف کرتی بول رہی جب اسے اپنے پیچھے غنڈوں کی آواز سنائ دی ۔۔۔
چلو یہاں سے سانڈ میں کسی بھی صورت اپنے اس نشی کزن سے شادی نہیں کرو گی مر جاٶ میں لیکن یہ نہیں ۔۔
مرحا مستقیم کو اپنی طاقت لگاۓ گھیسٹتی ہوئ لے کر جا رہی تھی جبکہ وہ سکون سے بنا ہلے وہی کھڑا تھا ۔۔۔
اووےےےے لڑکے یہ لڑکی ہمیں دو ۔۔
چار پانچ غنڈے مستقیم کے پاس آتے طش سے بولے تھے ۔۔۔
ہاں لے جاٶ یہ ٹڈی ۔۔۔
وہ ویسے ہی سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ہاہااہااا کس بزدل انسان کے پاس آ گی تم دیکھو تمہیں بچا بھی رہا ۔۔۔
مرحا کا کزن شراب پیے شبیر اس کا ہاتھ پکڑتا قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔
جبکہ وہ مرحا کو اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا مستقیم بھی ساتھ آیا ۔۔۔
تم کیوں ساتھ آ رہے ۔۔۔
شبیر نے مستقیم کو ساتھ دیکھتے چلاتے بولا ۔۔
میرا قصور نہیں دیکھو ہم دونوں کے ہاتھ باندھے ہے اور تو کیا بولا تھا گٹر کے کیڑے میں بزدل ہو ابھی بتاتا ہو کتنا بزدل ہو ۔۔۔
مستقیم طنزیہ مسکراہٹ لاۓ اپنا ہاتھ دیکھاتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں مرحا اور اس کا ہاتھ ایک ساتھ ہاتھکڑی سے باندھا ہوا تھا ۔۔۔
کیوں تو کوئ پولیس والا ہے جو اتنا رعب جھاڑ رہا ابے جاٶ مجھے میری دلہن مل۔۔۔۔
شبیر غصے سے بول رہا تھا جب مستقیم نے ایک ہی جھٹکے میں مرحا کو گھومایا تھا جس کی وجہ سے وہ گھومتی ہوئ شبیر کے چہرے پر تھپڑ مارا تھا ۔۔۔۔
ہاہہاہاہاااہاہاہہاہا سانڈ کتنا مزہ آیا ایک اور ۔۔۔
گھومتی ہوئ مرحا مستقیم کے بازو پر آتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں ٹڈی ضرور بتاٶ انہیں تم امریکہ کی مشہور ٹڈی ہو ۔۔۔
مستقیم بھی مسکراتا ہوا مرحا کو ایک دفعہ گھومایا تھا جب مرحا کی ٹانگ شبیر کے پیٹ پر پڑی ۔۔۔
اہہہآیہہہ۔۔
دیکھ کیا رہے ہو مارو دونوں کو ۔۔
شبیر درد سے چلاتا اپنے ساتھ لاۓ غنڈوں سے بولا تھا ۔۔۔۔
دیکھو ڈیل کرتے ہے اگر تھوڑا سا مرنا چاہتے ہو تو ٹھیک اگر زیادہ مرنا چاہتے ہو تو میں سکون سے مار سکتا ہو ۔۔۔
مستقیم سکون سے بولا تھا ۔۔۔
مط۔مطلب ۔۔
ایک غنڈے نے گھبراتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔
مطلب یہ ۔۔۔۔
مستقیم نے کہتے ہی مرحا کو پھر گومایا تھا اس کی لاتیں تپھڑ سب کو لگے تھے جبکہ مستقیم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا لونگ شوز سے گن نکالتا ایک کو
شوٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔
چ۔چھوڑ د۔چھوڑ چھوڑ دو ہمیں ۔۔۔
ایک غنڈے کے گولی لگتے دیکھ وہ معافی مانگتے وہاں سے بھاگے تھے ۔۔
اس گٹر کے کیڑے کو بھی لے جاٶ ۔۔۔
مستقیم اب غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔
ب۔بہت بہت شکریہ سانڈ ۔۔۔
پھولے سانس سے مرحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔
اب بتاٶ شادی کیوں کر رہا تھا یہ ۔۔۔
اچانک مستقیم سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔
میرے نام اتنی پراپرٹی ہے میری شادی کے بعد وہ ساری میرے شوہر کے نام ہو جانی تھی ۔۔۔
مامی اتنی لالچی تھی انھوں نے میرا رشتہ اس آوارہ سے کر دیا ۔۔
میں ابھی اسی میں پریشان تھی جب مجھے پتہ چلا شبیر مجھے شادی کے بعد ایک فرحان نامی بندے کے پاس بھیج دے گا ۔۔۔
بس اپنی جان بچاتی میں نکل گی افففف وہ درد ناک دن میرے لیے بہت اذیت ناک تھے ۔۔۔
اب تو کوئ نہیں میرا یہاں ۔۔۔
مرحا پھوٹ پھوٹ کر اس کے سینے لگی بولی تھی ۔۔۔۔
مطلب تمہارا کزن جانتا ہے فرحان کو ۔۔۔
مستقیم گہری سوچ میں ڈوبا بولا تھا ۔۔۔
ظاہر سی بات ہے اس کا خاص آدمی ہے ۔۔
مرحا خودی سوں سوں کرتی بولی تھی ۔۔
واٹ۔۔۔
اچھا آو میرے ساتھ گھر لے کر جاٶ بابا سے بات کرو گا صام بھی ہو گا وہاں تو میری مدد ہو جاۓ گی ۔۔۔
مستقیم پہلے شوک میں بولا پھر بات بدلتا ہوا اسے ساتھ لے کر جاتے بولا تھا ۔۔۔
کون کون ہے تمہارے گھر سانڈ کیا تمہارے جیسے سانڈ ہے ۔۔
مرحا اپنا غم بھولتی ہوئ سٹارٹ ہو چکی تھی ۔۔۔
دیکھو اگر صام ہوتا تو بابا اتنا ایشو نہ کرتے چلو چھوڑو اب شادی ہے تمہاری ۔۔
زرجان مستقیم کو ریلکس کیے بولا تھا ۔۔۔
تم نے کہا تھا میں گھر لے آو اسے ایک تو صام پتہ نہیں کہاں ہے کب سے فون ملا رہا ۔۔
مستقیم بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
لڑکی ذات تھی تم کہاں لے کر جاتے اتنی رات کو بس کہا دیا ایک تو مدد کرو دوسرا مجھے ہی باتیں سناٶ ۔۔۔
سارے بہن بھائ ایسے ہے ۔۔
زرجان اپنی جان بچاتا غصہ کرتا وہاں سے چلا گیا تھا جانتا تھا مستقیم ایک ہی بات پر بولے جاۓ گا ۔۔۔
مجھے معصیبت میں پھسا دیا خیر مس ٹڈی کو بہت خوش ہے مجھ جیسے سانڈ سے شادی کرنے کا ۔۔۔
مستقیم کچھ سوچتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
میں تمہیں ہگ کر کے سو جاٶ ۔۔
نائٹ ڈریس پہنے مرحا خوشی سے چکہتے ہوے روحا کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
روحا جو کب سے صام کے بارے میں سوچتی بیزار سی شکل بناۓ بیٹھی تھی جب مرحا کی آواز پر ہوش آیا ۔۔۔
“““ہیر آپی اور اس ٹھرکی کے علاوہ ہمیں کسی نے چھوا نہیں نہ ہی ہمیں اچھا لگتا ہے اب یہ مجھے ہگ کرے گی ہمیں الجن ہو جانی کیا کرے افففف“
روحا مرحا کی طرف دیکھتی دل میں بولی تھی ۔۔۔
دیکھو مرحا ہم نے کبھی کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیا ا۔۔۔
ارے آج کی رات سونے دو میں تو ڈر کے بیٹھی ہو وہ سانڈ مجھے کچھ نہ کہہ دے ۔۔۔
روحا جو برے سے منہ بناۓ بول رہی تھی جب مرحا اسے زبردستی ہگ کیے لیٹتی بولی تھی ۔۔۔
تمہیں پتہ انیجل ایسا ہگ میں اپنی ماما کو کرتی تھی ۔۔۔
روحا اب واقعی بیزار سی شکل بناۓ لیٹی ہوئ تھی جب مرحا رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
جب بھی دل کیا کرے ہمیں ہگ کر لیا کرنا سہی اب سو جاٶ صبح مہندی بھی ہے ۔۔
روحا کو بہت پیار آیا تھا جب اس کا ماتھا چومتے ہوۓ بولی تھی سمجھ سکتی تھی بن ماں کی بچی کیا فیل کرتی ہے تبھی روحا اسے زور سے ہگ لگاۓ بولی تھی ۔۔۔
تم کتنی سوفٹ ہو انیجل جیس۔۔۔۔
اچھا چپ سو جاٶ ورنہ مستقیم لالہ کو بلاٶ ۔۔۔
مرحا روحا کی کمر کو پکڑتی بول رہی تھی جب روحا سرخ چہرہ لیے ڈانٹ کر بولی تھی ۔۔
انیجل چالاک سی ۔۔
مرحا برا سا منہ بناۓ روحا کو سناتی آنکھیں بند کر گی تھی ۔۔۔
توبہ یہ لڑکی افففف ۔۔
روحا دل میں سوچ سکی بس ۔۔۔
————————————————————
مجھے بہت مزہ آیا ڈیول تم نے اس چوہان کو موت دے ہی دی ۔۔
وہ ڈیول کے روم میں آتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
جہاں ڈیول شرٹ لیس ہوا بیڈ پر کمبل لیے لیٹا تھا ۔۔۔
لیکن میں نے نہیں مارا اسے ۔۔
ڈیول سردپن لاۓ بولا تھا ۔۔
مطلب نہ تم نے اسے مارا نہ ہی صام آفندی نے تو پھر کس نے مارا ۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ نچاتا ہوا پریشان ہوتے بولا تھا ۔۔۔
فرحان نے قتل کیا اس کا بس ایک دفعہ مجھے پتہ چل جاۓ وہاں کہاں چھپ کر بیٹھا ہے ۔۔
ڈیول سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ بولا تھا ۔۔
مطلب صام ب۔۔۔
ایک منٹ تم کیوں آج سکون سے لیٹے ہو ۔۔۔
وہ جو بول رہا تھا اس کا کمبل دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ویسے ہی اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔
ڈیول اپنی کروٹ جلدی سے چیج کیے بولا تھا ۔۔۔
آج صام گھر نہیں تم انیجل کو یہاں لے آے جانتے ہو صام کے گھر شادی کا ف۔۔۔
وہ ڈیول کے کشادہ سفید سینے پر نرم ملائم چھوٹا سا سفید ہاتھ دیکھتا بول رہا تھا جب ڈیول نے اسے بس گھورا تھا ۔۔۔
میری انیجل کتنے ون سے سو رہی ہے ۔۔
میں نے اپنی انیجل کو بہت مس کیا ۔۔
گہری نیند میں سوتی روحا کے چہرے کو دیکھتا ڈیول بولا تھا ۔۔۔
میرا نشہ ہو انیجل کتنے دن سے یہ نشہ نہیں لیا تھا ۔۔۔
ڈیول اپنے لب اس کی گردن پر سہلاتے بہکے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
جب نیند میں ایک اپنا سا لمس محسوس کرتے روحا نے اپنا چہرہ ڈیول کی گردن میں چھپایا تھا ۔۔۔
ہاہاہا میری معصوم انیجل نیند میں ہی شرماتی ہے ۔۔۔
ڈیول روحا کو تھوڑی سے پکڑتے اس کا چہرہ قریب لاتے اس کے گلابی ہونٹ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
انہہہ ٹھرکی ۔۔۔
روحا نیند میں بڑابڑتی منہ بناتی اپنی ٹانگ ڈیول کے پیٹ پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
نہیں انیجل تمہاری سوچوں میں صام آفندی نہیں بس ڈیول ہونا چاہے جیسے میری ہر سوچ میری ہر سانس میں انیجل ہے ویسے ۔۔۔
اچانک ڈیول غصے میں آتا روحا کو کمر سے پکڑے اس کی گردن پر لب رکھتے بولا تھا ۔۔۔
ڈیول اب بھول چکا تھا وہ اپنی انیجل کو کتنی تکلیف دے رہا تھا وہ مدہوش ہوا بس اپنی شدت اس پر لٹا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ روحا نیند میں ہی درد فیل کر رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
چلو یار شاپنگ ہو گی ہے تم گاڑی میں بیٹھو میں یہ لنہگا لے کر آتی ہو ۔۔
روحا اور مرحا مال آی تھی جبھی شاپنگ بیگز پکڑے روحا مرحا کو دیتی بولی تھی ۔۔
صبح جب روحا اٹھی تھی تب اسے اپنی گردن اور شولڈر پر درد محسوس ہوا تھا ۔۔۔
پھر یہ سوچا مرحا نے اسے زور سے ہگ کیا تھا ۔۔
اپنے درد کو بھلاۓ وہ شاپنگ کرنے آ گی تھی ۔۔۔
آہہہہ آہہہہ ۔۔
روحا جو لہنگے کے بھاری بوکس آٹھاۓ گاڑی کی طرف آ رہی تھی جب ایک بوکس گر گیا تھا تبھی وہ چلائ تھی ۔۔
روحا سے آٹھانا مشکل ہو چکا تھا ۔۔
اس سے پہلے وہ جھک کر آٹھاتی جب دور سے ہیوی بائیک آتی دیکھائ دی ۔۔۔
بلیک کلر کی ہیوی بائیک اس پر بلیک کی پینٹ شرٹ پہنے سر پر ہلمینٹ پہنے وہ فل سیپڈ پر بائیک چلاۓ روحا کے پاٶں کے قریب روکی تھی ۔۔۔
آہہہہ جاہل انسان دیکھ نہیں سکتے ابھی ہمارا پاٶں توڑ دیتے ا۔۔۔۔
روحا جو خوف سے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتی بول رہی تھی ۔۔۔
جب بائیک والا نیچے کی طرف جھکا اور بوکس اٹھا کر روحا کو پکڑایا تھا ۔۔۔
ش۔شکریہ ۔۔۔
روحا نے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے کہا تھا کیونکہ اسے وہی نظر آ رہی تھی ۔۔۔
جب بائیک والے نے بس روحا کے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھتے اپنے دستانے پہنے ہاتھ کو ماتھے پر لے جا کر سولٹ کیا تھا جبکہ اس کی نیلی آنکھیں مسکرائ تھی ۔۔۔
اوہ ہ ہ بیوٹی فل ۔۔۔
بائیک والا چلا گیا تھا جبکہ روحا ابھی تک اس کی مسکراتی نیلی آنکھوں میں کھوئ ہوئ تھی ۔۔۔تبھی وہ بے خیالی میں بولی تھی ۔۔
———————————————————–
مسٹر صام آفندی آپ کچھ کہنا چاہے گے اپنی صفائ میں ۔۔۔
صام زرجان مستقیم منان آفندی صاحب ان کا وکیل آج کورٹ آے تھے ۔۔
جبکہ جج صاحب سردپن سے بولے تھے ۔۔۔
جس پر قتل کا الزام لگایا گیا تھا وہ پرسکون سا پولیس کی حراست کو اگنور کیے کھڑا تھا ۔۔۔
جی میں کہنا چاہا رہا تھا ایس پی مستقیم کی شادی ہے آپ مجھے شادی کے بعد بلا لینا ابھی ہم سب وہاں بزی ہے ۔۔۔
چلے پھر وہاں سے فری ہو گے ملے گے ۔۔۔
صام سکون سے موبائل نکالے بولا تھا جبکہ وہاں جو سب بیٹھے تھے سب نے غصہ سے اسے گھورا تھا کیسے وہ سکون سے رہ سکتا تھا ۔۔
آپ جانتے ہے قتل کا ال۔۔۔
فنگر پرنٹ میرے گن میری دمھکی میں نے دی لیکن یہ قتل میں نے نہیں کیا جب ثابت ہو جاۓ تب بلا لینا اب چلتا ہو ٹائم ویسٹ کر دیا ۔۔۔
صام آرام سے باہر جا رہا تھا جب جج دانت پیستے بول رہا تھا جب صام بنا رخ موڑے کہتا وہاں سب کو ہکا بکا چھوڑتا چلا گیا تھا ۔۔۔
ڈی ایس پی منان ایس پی مستقیم آپ دونوں نے اریسٹ کیوں نہیں کیا اس کو وہ مجرم ہے ۔۔
جج اب اپنا غصہ ان دونوں پر اتار رہا تھا جب دبی دبی ہنسی کنٹرول کیے کھڑے تھے ۔۔۔
صام والی بات ابھی ثابت نہیں ہوا اس نے قتل کیا یا نہیں تو ہم اریسٹ کیسے کر لیتے سوری یو اونر ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے آپ شادی پر آنا ضرور ۔۔
منان مسکراہٹ لاۓ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ہاہاہہاااااااہہاہاہہہااہاہاایااا۔۔۔
جج اور آفندی صاحب کا غصہ سے لال ہوتا چہرہ کافی ساری پولیس فورس کو اور منان اور مستقیم کی مسکراہٹ دیکھتا زرجان کنٹرول سے باہر آتا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
گیٹ آوٹ فرام ہیئر ۔۔۔
جج زرجان منان مستقیم کو دیکھتے غصہ سے دھاڑے تھے ۔۔۔
یس یو اونر ۔۔۔
تینوں قہقہ لگاتے کہتے باہر بھاگ گے تھے ۔۔۔
جبکہ جج حیران تھے اس سارے نمونوں پر ۔۔۔
————————————————————
مرحا تم تیار ہو جاٶ کیوٹ لیڈی باس بھی آ گی وہ بھی تیار ہو رہی ہے ۔۔۔۔
ہانیہ بھی آتی ہو گی ۔۔
روحا مرحا کو بیڈ پر بیٹھاتے بولی تھی ۔۔۔
اچھا ۔۔۔
مرحا
گہری نظروں سے روحا کی گردن دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
تو ایسے کیوں گھور رہی ہو ہمیں ۔۔۔
روحا اسے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ویسے صام سے ملی تو نہیں پر جان گی ہو وہ کتنے رومانٹک ہے ۔۔
مرحا مسکراہٹ روکتی بولی تھی ۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ کتنی بے شرم ہو تم ا۔۔۔۔
یہ میں نہیں سب کہے گے جب تمہاری یہ گردن پر سرخ نشان دیکھے گے ۔۔۔۔
روحا جو سرخ چہرہ لیے بول رہی تھی جب مرحا پھر بات کاٹتی بولی ۔۔۔
چلو تم تیار ہو جاٶ ۔۔۔
روحا غصے سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔
———————————————————–
رات تو ٹھرکی آیا نہیں اور یہ سب شاہد پہلے کے نشان ہو ۔۔۔
روحا سیڑھیوں سے اترتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
یاہووووووووو ۔۔۔۔۔
بہت خوشی ہو رہی تم آ گی ۔۔۔۔
روحا ہال میں انٹر ہوئ تھی جب اسے شور کی آواز سنائ دی تھی ۔۔۔
منان زرجان مستقیم آہان سب نے وہائٹ شلوار کرتا پہنے اوپر ییلو واسکٹ پہنے وجہہ پرسیلنٹی لے وہ تیار سے کھڑے خوشی سے چہک رہے تھے ۔۔۔
جبکہ بلیک شرٹ بلیک پینٹ پہنے لونگ شوز پہنے اپنے بوب کٹ بال لیے نیلی آنکھوں میں شرارت لیے منہ میں ببل چباتی ہوئ ان سب کے درمیان میں کھڑی تھی ۔۔۔
ی۔یہ کون ہے ۔۔۔
روحا پاس جاتی ان کے حیران ہوتی بولی ۔۔۔
ارے اس سے ملو ڈی ڈی ہے ۔۔۔
منان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ارے اپن کا نام دھڑکن داٶد میر ہے ۔۔۔
ڈی ڈی روحا کی طرف دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔
تم بواۓ ہو ۔۔۔
روحا کنفیوژ ہوتی بولی تھی کیونکہ ڈی ڈی کی آواز لڑکی جیسی تھی ۔۔۔
ارے اپن لڑکی ہے اور اپن ان سب کی دوست ہے ۔۔۔
ڈی ڈی ویسے ہی مسکراتے بولی تھی ۔۔۔
مطلب کیسے یہ بال یہ حیلہ ۔۔
روحا ابھی بھی کنفیوژ تھی ۔۔۔
انیجل یہ لڑکی ہے اور اس کے اصلی بال یہ ہے ۔۔۔
مستقیم مسکراتا ہوا دھڑکن کی بگ اتارتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بگ اترتے ہی دھڑکن کے کالے لمبے بال جو کمر سے نیچے تک آتے تھے جھول کر گرے ۔۔۔
یہ لڑکی ہے تو ایسے کیوں رہتی ا۔۔۔
ابے رک تو اپن کے بال کھول دے اپن کو باندھنے بھی نہیں آتے سانڈ کہی کے ڈی ڈی ابھی بتاۓ گی تجھے۔۔۔
دھڑکن اپنے بال کھولے دیکھ مستیقم کو زمین پر گراتی بولی تھی ۔۔۔
ہاے بچاٶ مجھ معصوم کو لالہ ٫دلبرجانی ٫ککڑ انیجل ٫کوئ تو بچاٶ ۔۔۔
مستقیم دہائ دیتا بولا تھا جبکہ وہ تینوں ہنسی کنٹرول کیے کھڑے تھے ۔۔۔۔
اففف پاگل سارے چھوڑو تم ڈی ڈی ۔۔۔
روحا خودی ترس کھاتی دھڑکن کا ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ ڈی ڈی مستقیم کے اوپر آتی بالوں کو زور زور سے کھیچ رہی تھی ۔۔۔
ارے چھوڑ اپن کو اپن اس کو چھوڑے گا نہیں ڈیڈ ٹھیک کہتے تھے یہ کبھی نہیں ٹھیک ہو سکتے اس کا وہ جلاد سانڈ جیسا بھائ کم ہے جو یہ بھی آ گیا ۔۔۔
ڈی ڈی غصہ میں آتی روحا کو دھکا دیتی مستقیم کے مکے مارتی بولی تھی جبکہ اس کے لمبے بال زمین پر لگ رہے تھے ۔۔۔
آہہہآہہی۔۔۔
اس سے پہلے روحا گرتی جب اس کی پیشت کسی سخت چیز سے ٹکرائ تھی جیسے چٹان ہو ۔۔۔۔
تبھی وہ چلائ تھی ۔۔۔
ص۔صام۔۔۔
اپنے آس پاس مخصوص لمس اور خوشبو پہنچاتے وہ منہ میں بولی تھی ۔۔۔
کیا طریقہ ہے یہ ڈی ڈی تم شادی پر آی ہو چلو چھوڑو اس کو اور جاٶ فکشین میں سب مہمان آ گے ہے عجیب تماشا لگایا ہے ۔۔۔
تمہارا وہ جلاد باپ نے مجھے ہی بولنا اگر کچھ ہو گیا تمہیں تو اور مشعوق تم بھی آرام سے رہا کرو اب تو شادی ہونے والی ہے ۔۔۔
صام کی رعب دار آواز سنتے سارے ہی خاموش کھڑے ہو چکے تھے جبکہ اس کے سینے سے پیشت لگاۓ کھڑی روحا سانس روکے سب سن رہی تھی ایک دن بعد اس نے اس کی آواز سنی تھی ۔۔۔۔
تم اپن کو جانتے ہو صام اپن غصے کی کتنی تیزی ہے اس مشعوق نے اپن کے بال کھول دے اپن کو بنانے بھی نہیں آتے بال تو بس ۔۔۔۔
ڈی ڈی مستقیم کو چھوڑتی صام کے قریب آتی اس کے شولڈر پر سر رکھتی معصوم سی شکل بناۓ بولی ۔۔۔
جاٶ اس کے ساتھ یہ تمہیں تیار کر دے گی ۔۔۔
صام روحا کا بازو پکڑے دھڑکن کی طرف کرتا بے نیاز ہوتا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
روحا کو جیلس فیل ہوا تھا وہ اسے اگنور کر گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
تم آو یہاں دھڑکن یہ ڈریس ہے پہن لو میں تمہارے بال بنا دیتی ہو ۔۔۔
روحا ڈی ڈی کو روم میں لاتی زبردستی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔
ارے اپن ایسا ہی ٹھیک ہے یہ اتنا بڑا پردہ نہیں پہنتآ اپن ت۔۔۔
پہن لو یہ یار ہم نے بھی تیار ہونا ہے ۔۔۔
ڈی ڈی جو اپنی نیلی آنکھوں میں مسکراہٹ لاۓ بول رہی تھی جب روحا بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
اوکے جان اپن تیار ہو کہ آیا تم یہی رہنا ۔۔۔
دھڑکن کو روحا پسند آی تھی اس کے خوبصورت چہرہ دیکھتے وہ ییلو اینڈ پنک کلر کا بھاری لہنگا آٹھاۓ واش روم چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
یہہہہہ کیا ہے ڈی ڈی ۔۔۔
روحا نے جب
وش روم سے باہر آتی دھڑکن کو دیکھا تو چلائ ۔۔۔
وہ صرف ییلو کرتی پہنے جو بامشکل پیٹ تک آتی تھی ساتھ بجاۓ لہنگا پہنے کے وہ جنیز پہنے کھڑی تھی ۔۔۔
دیکھو اپن نے یہ شرٹ پہن لی پر یہ بھاری ہے چلا نہیں جاۓ گا تو ایسے ہی ٹھیک ہے ۔۔۔
دھڑکن ببل چباتی پاس آتی بولی ۔۔
نمونہ لگ رہی ہو یار اور مہندی کے فکشین میں ایسے ہی ڈریس ہوتے ہے ا۔۔۔۔
اچھا بس چلو یہ فراک پہن لو چھوٹی ہے کیری کر لو گی یہ تم پہن لو اچھا لگے گا ۔۔۔
روحا جو اسے سمجھا رہی تھی جب ڈی ڈی بیڈ پر پڑی ییلو شارٹ فراک کو دیکھتی بولی جو فل نیٹ کی تھی ۔۔۔
لیکن ہم یہ نہیں پہن سکتے اس کی کرتی چھوٹی ہے اور ہماری ہائٹ بڑی ہے ا۔۔۔
دیکھو اپن کو ایسے کپڑے نہیں پسند اور تم پہن لو ویسے ہی تمہارے پر اچھا لگے گا ۔۔۔
روحا جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب پھر دھڑکن بولی ۔۔۔
اچھا میں پہن کر آتی ہو ۔۔۔
روحا کو سوچوں میں گم دیکھتے دھڑکن فراک آٹھاۓ بولی ۔۔۔
یہ بال یافی آپی بنا دے گی تمہارے ۔۔
روحا کو اب واقعی غصہ آ گیا تھا تبھی منہ بناۓ بولی ۔۔
نہیں اپن بگ لگاۓ گا و۔۔۔
اگر لمبے بال نہیں پسند تو کاٹ دیتی ۔۔۔
روحا دھڑکن کی بات کاٹتی منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔
اپن کے ڈیڈ کو پسند ہے اپن کے بال تبھی ا۔۔۔
اچھا اچھا جاٶ اب ۔۔
دھڑکن جو مسکراتی داٶد کا ذکر کر رہی تھی جب روحا بیزار سی شکل بناۓ بات کاٹتی بولی ۔۔۔
مس کھڑوس ۔۔۔
ڈی ڈی بھی منہ بناتے کہتی واش روم کے اندر چلی گی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
یلیو اینڈ اورنج کلر کی فراک پہنے بالوں کو کرل کیے ہلکے میک اپ میں تیار یافی سب سے نیاز زرجان پر بجلیاں گرا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ ہانیہ بھی سیم فراک پہنے پنک اینڈ ییلو کلر کی ہلکے میک اپ کیے بالوں کو کلرل کیے کچھ آگے کچھ پیچھے کیے منان کے دل کی دھڑکن کیے وہ یافی سے باتیں کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔
کومل اور مرحا ییلو اینڈ پنک کلر کا فل بھاری نیٹ کا لہنگا پہنے بالوں کا بن بناۓ پھولوں کا سیٹ پہنے ہلکا میک اپ کیے اسیٹچ پر وہ مستقیم اور صام کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔
کومل اور مرحا مسکرا رہی تھی جبکہ مستقیم اور صام بیزار سی شکل بناۓ بیٹھے تھے ۔۔۔۔
صام بے بی زرا خوش ہو جاٶ ہماری شادی ا۔۔۔
تم خوش ہو یہی کافی ہے مجھے بولنے کی ضرروت ہرگز نہیں ہے ورنہ اسیٹچ سے آٹھا کر پھیک دو گا ۔۔۔
کومل صام کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی بول رہی تھی جب صام سرخ گرین آنکھوں میں غصہ میں آتے بولا تھا ۔۔۔
کومل چپ ہو گی تھی ۔۔۔
————————————————————
کیا کر رہی ہو ۔۔۔
زرجان یافی کے پاس آتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
دیکھ نہیں رہا مہندی لگاوا رہی ۔۔
یافی بیزار سی شکل بناۓ بولی اسے کومل کو دیکھ کر ہی غصہ آ رہا تھا ۔۔۔
جہاں تم ہو وہاں کچھ دیکھائ نہیں دیتا ۔۔۔
زرجان آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔
شرم کرو لڑکی ساتھ بیٹھی ہے مہندی لگا رہی ہے ۔۔۔
یافی سرخ چہرہ لیتی بولی تھی ۔۔۔۔
میم کیا نیم ہے آپ کے شوہر کا ۔۔۔
لڑکی جو کب سے مسکراہٹ روکے دونوں کی تکرار سنتی مہندی لگا رہی تھی جب وہ بولی ۔۔۔
بولو زرجان ۔۔۔
زرجان فون پر بزی ہوتا بولا تھا ۔۔۔
انہہ لکھو ت۔۔۔۔
یافی منہ بناتی بولنے والی تھی جب اچانک لائٹ آف ہوئ اس سے پہلے وہ بولتی جب اسے اپنے لبوں پر زرجان کے لب محسوس ہوئ ۔۔۔
یافی گھبراہٹ سے اندھیرے میں پوری آنکھیں کھولی تھی ۔۔۔۔
زرجان اسے کمر سے زور سے پکڑے اس کی سانسیں پی رہا تھا ۔۔۔۔
“زرجان لکھوانا تم ۔۔۔
زرجان اسے نرمی سے چھوڑتے سرگوشی کرتے بولا تھا ۔۔۔
یہ سارا کام پانچ منٹ میں ہوا جب تک یافی اسے دور کرتی لائٹ واپس آ چکی تھی جبکہ زرجان بھی وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
بے شرم جان ۔۔۔
یافی اب دور جاتے زرجان کو دیکھتی سرخ چہرہ لیے منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
اوکے میم ۔۔۔
لڑکی یافی کی بات مانتی وہی نام لکھ چکی تھی ۔۔۔
یہ کیا کر پاگل لڑکی افففف۔۔۔
یافی اپنے ہاتھ پر بے شرم جان دیکھتی چلاتے بولی تھی ۔۔۔
سور۔سوری میم و۔۔۔
جاٶ یہاں سے ۔۔۔
لڑکی جلدی سے معافی مانگتی بول رہی تھی جب یافی چلائ تھی ۔۔۔
ہاے کیا لکھ دیا اففف۔۔۔
یافی اپنا ہاتھ دیکھتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
اہہہ کیا کر رہے مانی سارے مہمان یہاں ہے ۔۔
ہانیہ جو کومل اور مرحا سے ملتی اسٹیچ سے اترتی سامنے بیٹھی اکیلی روحا کی طرف جا رہی تھی جب منان اسے بازو سے پکڑے پلر کی اوٹ میں ہوا تبھی چلاتے وہ بولی ۔۔
مہندی دیکھاٶ ۔۔۔
منان اس کے سفید ہاتھ پکڑتے بولا تھا ۔۔۔
دیکھ لے ۔۔
ہانیہ شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
جہاں جانِ ہانیہ لکھا تھا ۔۔۔
کیا تم واقعی اتنی محبت کرتی ہو ہانیہ ۔۔۔
منان اس کے مہندی لگے ہاتھ چومتا ہوا بولا تھا ۔۔
جی ۔۔
ہانیہ شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
اچھا جانے دے ۔۔۔
ہانیہ منان کو پیچھے کیے بولی جو اس کی گردن پر لب رکھ رہا تھا ۔۔۔
ہانیہ لیپ اسٹک ڈراک لگا لی تم نے کم کرو ۔۔۔
منان ہانیہ کے ریڈ ہونٹ دیکھتا بولا ۔۔۔
اچھا چھوڑے میں ک۔۔۔
ہانیہ پریشان ہوتی کہتی اسے دور کرتی بولی رہی تھی جب منان نے اس کے لبوں پر لب رکھے ۔۔۔
ہانیہ اس اچانک حملے پر حیران پریشان ہو گی تھی تبھی اپنی کہنی اس کے پیٹ پر ماری ۔۔۔
اہہہ ظالم ۔۔۔
منان مسکراتا ہانیہ کی کم ہوئ لیپ اسٹک کی طرف دیکھتا بولا ۔۔۔۔
بے شرم پولیس والا ۔۔۔
ہانیہ شرماتے ہوۓ کہتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔
————————————————————
میم آپ کے ہاتھ پر شوہر کا نام لکھنا آپ نیم بتا دے ۔۔
روحا مہندی لگاوا رہی تھی جب لڑکی بولی ۔۔
روحا لہنگا پہنے ہلکے میک اپ کیے بالوں کو کرل کیے جو کمر سے نیچے تک آ رہے تھے نیٹ کا ڈوپٹہ کور کیے وہ بیٹھی تھی کیونکہ لہنگے کی شارٹ کرتی اس کے پیٹ سے اوپر تک آ رہی تھی ۔۔۔
ہاں کیا کہہ رہی آپ ۔۔۔
روحا اپنے سامنے کھڑا صام اور ڈی ڈی کو دیکھتے بولی تھی ۔۔۔
وہ کب سے دیکھ رہی تھی صام اسے اگنور کیے ڈی ڈی کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔
ٹھرکی صام ۔۔۔۔
روحا سامنے دیکھتی بیزار سی شکل بناۓ بولی ۔۔
کیسے ہنس رہا ہے اففففف دونوں کے ڈمپل ہے ہاےےےے۔۔۔
روحا اس بات سے بے خبر لڑکی وہی نام اس کے ہاتھ پر لکھ چکی ہے سامنے دونوں کو دیکھتی بولی جہاں قہقہ لگاتے صام اور ڈی ڈی کا ڈمپل شو ہوا ۔۔۔
آپ جلدی کر دے ہمارا ہاتھ تھک گیا کتنی سست لڑکی ہو توبہ ہے ۔۔۔
روحا اپنا سارا غصہ لڑکی پر اترتی ہوئ بولی ۔۔۔
می۔میم وہ چھوڑو ہمارا ہاتھ ۔۔۔
لڑکی گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب روحا اٹھ کر جاتی بولی تھی ۔۔۔
اففف پتہ نہیں کیوں ہر کوئ غصہ کر جاتا پہلے فیا میم اب روحا میم لگتا انہیں مہندی پسند نہیں آی ۔۔۔
لڑکی دل میں گھبراتے ہوۓ سوچا تھا ۔۔۔
اسے کیا پتہ دونوں کا کس بات کا غصہ تھا ۔۔۔
————————————————————
![]()
![]()
![]()
![]()
“
تیری یادیں تیری ملاقاتیں میں کیسے بھول جاٶ وہ چاہیت کی برسایتں “
“تو ہی میرا دل ہے تو ہی میری جان
کبھی تو پاس میرے آو کبھی تو نظریں مجھ سے ملاٶ او جاناں۔”![]()
“میری جان پلیکں یوں نہ جھکانا ۔میری جان مجھ سے دور نہ جانا ۔۔
میری جان مجھ کو بھول نہ جانا او جاناں “![]()
“مجھے لوٹا دے وہ میرا پیار مجھے لوٹا دے وہ میرا پیار ۔۔”![]()
![]()
ہم بھی ڈانس کرے صام بےبی ۔۔۔
کومل سامنے ڈانس فلور پر روحا اور مستقیم کو سلو ڈانس کرتے بولی تھی ۔۔۔
نہیں کومل تم تو ماں بنے والی ہو تو آرام کرو ڈانس میں خود کر لو گا ۔۔
صام کب کا برداشت کر رہا تھا ان دونوں کو روحا اگنور کیے ڈانس میں مصروف تھی ۔۔۔
لیکن دلہن میں ہو ت۔۔۔
جو سامنے کھڑی ہے وہ میری دلہن ہے پہلی بھی اور آخری بھی سمجھی ابھی اگر میں چپ ہو تو ایک وجہ سے سو کومل بے بی تم یہ شادی انجواۓ کرو اور میں اپنی مس لائف کے ساتھ ڈانس انجواے کرو ۔۔۔
کومل جو بول رہی تھی تبھی صام بات کاٹتا اٹھ کر کھڑے ہوتے کہا ۔۔۔۔
جاو مشعوق اپنی والی کے ساتھ انجواۓ کر یہ میری ہے ۔۔۔
مستقیم روحا کا ہاتھ پکڑے گھومایا تھا جب صام رعب سے چلتا آتا روحا کو کمر سے پکڑے بولا تھا ۔۔
تیری ہے فکر کیوں کرتا ہے ٹھرکی ۔۔۔
مستقیم منہ بناتا ہوا وہاں سے جاتا بولا تھا ۔۔۔
آپ کیوں آے ہے چھوڑے ہمیں ہماری مہندی گیلی ہے ا۔۔۔
دلہن کے ساتھ ڈانس کرنے آیا اور یہ تو زبردست ہے تم مجھے روکو گی نہیں مہندی جو لگی ہے ۔۔
دلہن ہم نہ۔۔۔
تم ہی دلہن بلکہ نہیں سانس ہو میری چلو انجواۓ کرتے ہے ڈانس مس لائف ۔۔۔
روحا جو سامنے کومل کو دیکھتی بول رہی تھی جب صام اسے کمر سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
“دعا بھی نہ لگے مجھے“
“دوا بھی نہ لگے مجھے“![]()
“جب سے دل کو میرے تو لگا ہے “
“نیند راتوں کی میری چاہت باتوں کی میری “![]()
“چین کو بھی میرے تو نے ٹھگا ہے ”
“جب سانسیں بھرو میں بند آنکھیں کرو میں “![]()
![]()
“نظر تو یار آیا ہے “
“دل کو اقرار آیا “
“تجھ پہ پیار آیا “
“پہلی پہلی بار آیا “
”اووو یارا“![]()
![]()
![]()
![]()
““دل کو اقرار آیا “
“تجھ پہ پیار آیا “
“پہلی پہلی بار آیا “
”اووو یارا“![]()
![]()
![]()
![]()
ڈانس فلور پر مستقیم مرحا منان ہانیہ زرجان یافی روحا صام سارے کپل ڈانس کر رہے تھے ۔۔۔۔
““ہر روز پوچھے سے ہوائیں “
“ہم تو بتا کے ہارے کیوں ذکر تیرا کرتے ہے ہم ستارے “![]()
““ہر روز پوچھے سے ہوائیں “
“ہم تو بتا کے ہارے کیوں ذکر تیرا کرتے ہے ہم ستارے “![]()
“اب قصے ہے تیرے ان ہونٹوں پہ میرے اظہار آیا ”
“دل کو اقرار آیا “
“تجھ پہ پیار آیا “
“پہلی پہلی بار آیا “
”اووو یارا“![]()
![]()
![]()
![]()
صام صام چھوڑے ہمیں
روحا صام کو خود سے دور کرتے بولی تھی مدھم چلتی لائٹس میں کچھ بھی دیکھائ نہیں دے رہا تھا ۔۔۔
جب ڈانس کرتے صام نے روحا کے مہندی لگے ہاتھ زبردستی اپنے شولڈر پر رکھتے اس کی کمر کو اپنے ساتھ لگاۓ وہ جنونی ہوا اس کی گردن پر جھکا تھا ۔۔۔
تبھی روحا بے بس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
صام بے خود سا ہوا اب روحا کا ڈوپٹہ شولڈر سے اتارتا وہاں اپنے دہکنے لب رکھے تھے ۔۔۔
ص۔صامممممم پلیز سب یہا۔یہاں ہے ۔۔۔
روحا صام کا جلتا لمس پاتے تڑپتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
تم نے یقین نہیں کیا مجھ پر مس لائف جانتی ہو کتنا درد ہے مجھے ۔۔۔
صام باز آنے کی بجاۓ اپنے لب روحا کی بیوٹی بون پر رکھتے جنونی انداز سے بولا تھا ۔۔۔
د۔دور رہے پاگل انسان ہم بات ہی نہیں کرے گے ٹھرکی ایک بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی کومل بیوی ہے آپ کی ۔۔۔
روحا طش میں آتی اس سے دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔
روحا روحا کہاں بچ کہ بھاگتی ہو روکو ۔۔۔
اندھیرے میں ہی روحا لان سے بھاگتی گھر کے اندر چلی گی تھی جب صام غصے سے چلایا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
اففف ہمیں ان کو اگنور کرنا چاہے تھا کیوں جیلس ہوۓ اب بھگت رہے ہے افففف کیا کرے ہاے روم میں نہ آ ج۔۔۔
روحا روم میں آتی گہرے سانس لیتی سوچ رہی تھی جب خیال آیا تو پچھے موڑے وہ دروازہ بند کرنے آی تھی جب سانس رک چکا تھا ۔۔
اپنے سامنے صام کو سرخ گرین آنکھیں اور وحشت ناک روپ دیکھ کر ۔۔۔
ص۔صام روم سے باہر جاۓ آپ کومل کے روم میں یہ ہمارا روم ہے ۔۔
روحا سانس لیتی اٹکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
اہہہہ روحا بے بی ڈر گی اچھا جاٶ پہلے کپڑے چیج کرو ۔۔۔
بکھرے بال شرٹ کے اوپر والے بٹن کھولے سرخ چہرہ لیے ڈوپٹہ کے بنا کھڑی روحا کو دیکھتے ایک پل صام نظریں چڑاتے بولا تھا ۔۔۔
کہاں دیکھا تھا اس نے روحا کا یہ ہوشروبا حسن ۔۔۔
نہیں جاۓ گے آپ جاۓ یہاں سے آ۔۔۔۔
روحا ویسے ہی نڈر ہوتی ہاتھ دیکھاتی بولی تھی ۔۔۔
اوہ ہ ہ ہاتھ پر ٹھرکی لکھوا لیا کیا خیال ہے ٹھرکی والا روپ دیکھاٶ ۔۔۔
صام ایک ہی جست میں روحا کے قریب جاتا اسے کمر سے پکڑے ہاتھوں کو دیکھتا بولا تھا ۔۔
جہاں سفید ہاتھوں پر ٹھرکی صام کا رنگ گہرا آیا تھا ۔۔۔
ٹھرکی ہی کرے گے ہم جانتے ہے ا۔۔۔
روحا جو چہرہ موڑے کھڑی تھی اتنی بے بس وہ ہو چکی تھی کہ پوری پوری صام کے قابو میں تھی ۔۔
جب صام نے اپنے لب اس کے گال پر رکھے وہی روحا کی سانسیں روک چکی تھی ۔۔۔
کیا بولی تھی اچھا یہ حسن مجھے ہی دیکھتا ہے یا تم ہو اتنی حسین ۔۔۔
صام اپنے لب سہلاتا ہوا گال سے ہوتا اس کے لبوں کی طرف لاتا سرگوشی کرتے بولا ۔۔۔
ٹھ۔ٹھرکی آہہہہہ آہہہ۔۔۔۔
روحا بامشکل بول رہی تھی جب صام نے اس کے مہندی لگے ہاتھوں کو کمر کے پیچھے غصہ سے موڑے تھے جبکہ روحا کا چہرہ صام کے چہرے کے قریب آیا تھا ۔۔۔
اگر ٹھرکی ہوتا تو اس وقت کومل کے ساتھ بیٹھا ہوتا یوں تمہاری قربت اور ان گرم سانسوں کے لیے تڑپ نہ رہا ہوتا جانِ صام ۔۔۔
صام اپنے لبوں سے روحا کے آنسو صاف کرتے جنونی انداز سے بولا تھا ۔۔۔
درد کی وجہ سے روحا کی آنکھوں سے آنسو بہتے چہرے سے نیچے گرتے گردن کی طرف جا رہے تھے جب صام اپنے لبوں سے اس کے آنسو چنے میں مصروف تھا ۔۔۔
ک۔کو۔کومل جھوٹ نہیں بول رہی صام۔۔۔
روحا درد سے تڑپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
تمہیں اس کی فکر ہے میری نہیں کیوں روحا مجھ پر یقین نہیں کیا میں ایک دن کی جدائ پر کتنا تڑپا ہو تم جانتی ہو ۔۔۔
صام روحا کو بیڈ پر گراتے خود اس کے اوپر آۓ سردپن سے بولا تھا وہ بھول چکا تھا اپنی مس لائف کو کتنی تکلیف دے رہا تھا ۔۔۔
جاۓ یہاں سے آپ ۔۔۔
روحا روکھے پن سے کہتی کروٹ چیج کرتی بولی تھی دل میں درد اس کے بھی تھا لیکن وہ مجبور تھی ۔۔۔
میری موت ہی تمہیں مجھ سے دور کر سکتی ہے مس لائف ورنہ میں چھوڑنے والا نہیں ۔۔
چاہے تم میرے سامنے تڑپ لو ۔۔
صام روحا کو بیک ہگ کیے اس کے کان کی لو کاٹتا جنونی ہوا بولا تھا ۔۔۔
روحا کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔
بک۔بکواس کرتے رہنا آپ ۔۔۔
روحا کو اب صام کے ہاتھ اپنے لنہگے کی زپ پر محسوس ہوۓ تھے جب اس کے ہاتھ پکڑتی وہ گھبراہٹ پر قابو پاتی بولی تھی ۔۔۔
ٹیشن مت لیا کرو صام اتنا بھی ہوس پرست نہیں روحا بے بی جو تمہاری بے بسی کا فائدہ آٹھاٶ گا ۔۔۔
میں تب ہی تمہارے قریب آو گا جب تمہاری مرضی ہو گی ۔۔۔
صام اپنا بھاری ہاتھ اب روحا کے پیٹ پر رکھتا ہوا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
ادھر چہرہ کرو ۔۔۔
روحا جو چپ ہوئ آنکھیں بند کرتی لیٹ گی تھی جانتی تھی صام کی گرفت سے باہر نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے جب صام اس کا رخ اپنی طرف کرتے بولا تھا ۔۔۔
سو جاۓ صام پلیز ۔۔۔
روحا صام کی سرخ گرین آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی جیسے اس کی آنکھوں میں خون نکل رہا ہو ۔۔۔
سونا چاہتا ہو میں پر تمہاری قربت میں مجھے
سکون ہے ۔۔۔
میں نہیں جانتا تم نے ایسا کیوں کیا روحا لیکن تمہاری خوشی کے لیے یہ شادی بھی منظور ہے مجھے ۔۔
صام روحا کے دل کے مقام پر لب سہلاتے بولا تھا ۔۔۔
پ۔پلیز سو جاۓ صام ہمی۔ہمیں نیند آ رہی ۔۔۔
صام ایک دفعہ پھر بہکا ہوا دل کے نیچے لب لایا تھا جب روحا اس کے سر پر ہاتھ رکھتی تڑپتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ایک شرط پر ۔۔۔
صام واپس اپنا چہرہ روحا کے چہرے کے پاس لاتا بولا ۔۔
جی بولے ہمیں نیند آ رہی کپڑے بھی چیج نہیں کرنے دے ۔۔
روحا اپنی بند ہوتی آنکھوں کو مشکل سے کھولتی ہٶئ بولی ۔۔
کس کرو پھر سو جاٶ گا ۔۔۔
صام اس کے گلابی ہونٹ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا ہم کرتے ہے ۔۔
روحا جلدی سے مانتی اپنے لب اس کے ڈمپل پر رکھے تھے ۔۔
اس سے پہلے وہ اپنے لب آٹھاتی جب صام نے اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں لاک کیا تھا ۔۔۔
نیند میں جاتی روحا کی آنکھیں کھول چکی تھی ۔۔
صام کے لمس اور عمل سے ہی روحا جان چکی تھی واقعی ایک دن کی جدائ پر وہ کتنا تڑپا تھا ۔۔۔
ایسی بھی کوئ کس کرتا ہے انہہ ٹھرکی ۔۔۔
صام کا کوئ ادراہ نہیں تھا روحا کو چھوڑنے کا تبھی روحا مشکل سے اسے دور کرتی کروٹ چیج کیے بولی تھی ۔۔۔۔
ہاہہاہاہہاہا میری جان شرما گی ارے مس کھڑوس شرماتی بھی ہے ۔۔۔
صام نے پہلی دفعہ دیکھا تھا اس کی قربت سے روحا کا چہرہ لال ٹماٹر جیسا ہوا تھا ۔۔۔
آپ نے سونا ہے یا نہیں بابا۔۔
اچھا سو تو رہا ظالم دمھکی دیتی ہو مجھے ۔۔
روحا جو اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی بول رہی تھی جب صام اس کا رخ اپنی طرف کرتا اس کے سینے پر سر رکھے اچھے بچوں کی طرح آنکھیں بند کر چکا تھا ۔۔۔
روحا بے بی ۔۔۔
صام آنکھوں میں شرارت لاتا روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا جو اب واقعی نیند سے بیزار ہو چکی تھی ۔۔
جلدی بولے صام ۔۔
روحا ویسے ہی بولی تھی ۔۔
تم بہت سوفٹ ہو ۔۔۔
صام اپنے ہونٹ روحا کے پیٹ پر رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
مطلب۔۔
روحا ناسمجھی سے بولی تھی ۔۔۔
مطلببببببببب۔۔۔
صام کوئ اتنہا کے ٹھرکی ہے آپ سو ٹھرکی کیا بلکہ لاکھوں ٹھرکی مرے ہو گے جو آپ پیدا ہوۓ ہو گے ۔۔۔
روحا صام کی آنکھوں میں مطلب سمجھتی غصہ سے اس کی کمر پر مکے مارے بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہااہہاہاہہاہ اور تم پتہ کیسے پید۔۔۔۔۔
صام سو جاۓ پیار سے بات کیا کرو آپ تو سر چڑ جاتے ہے ۔۔۔
صام دوبارہ روحا کے سینے پر سر رکھے قہقہ لگاتا بول رہا تھا جب روحا پھر چلائ ۔۔
بار بار نیند میں جاتی روحا کو دیکھتے صام بھی سونے لگا تھا ۔۔۔
نیند میں بھی روحا کو صام کی انگلیاں اپنی کمر پیٹ اور گردن پر محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
چلو تمہاری مہندی ہو گی اور صبح شادی ہے اب سو جاٶ ۔۔
آہان مستقیم کا سنجیدہ چہرہ دیکھتے بولا تھا ۔۔
ہاں ویسی شادی جیسے تو نے کی ہے ا۔۔۔
بس کر مشعوق بولتے وقت دیکھ لیا کر ۔۔
آہان گھبراتا ہوا مستقیم کو چپ کرواتے بولا تھا ۔۔
تو گھر والوں کو بتا دو شادی کر لی تم نے ا۔۔
کیااااااابس تم رہ گے تھے میری ناک کٹوانے والے پہلے صام پھر مستقیم اب تم آہان واہ ہ ہ زہر ہی دے دو مجھے ایک دفعہ ۔۔۔
مستقیم جو بول رہا تھا جب آفندی صاحب روم میں آتے سنتے غصے سے پھٹ پڑے تھے ۔۔۔
بابا بابا آپ غلط سوچ رہے یہ شادی ۔۔۔
کب کی تھی تم تو کہتے تھے احمد تم نے یتیم خانے سے ملا تھا لندن میں اور یہ سب۔۔۔
آہان جلدی سے پریشان ہوتا پاس جاتا بول رہا تھا جب آفندی صاحب بولے تھے ۔۔
جی چار سال پہلے کی ۔۔۔
آہان سر جھکتا ہوا بولا ۔۔۔
بیوی کہاں ہے نام بتاٶ گھر لے کر آو اسے ہماری بڑی بہو ہے وہ ۔۔۔۔
آفندی صاحب کچھ سوچتے بولے تھے ۔۔۔
ہاےے اب مزے میرے سونا اب سکون سے جیسے میرا سکون برباد کیا ویسے تیرا ہوا لالہ ۔۔
مستقیم آہان کی حالت انجواۓ کرتا بولا تھا ۔۔۔
ہیر نام اس کا بابا ۔۔
آہان متسقیم کی بات اگنور کیے بولا ۔۔
کو۔کون ہیر ۔۔۔
آفندی صاحب شوک میں جاتے بولے ۔۔
انیجل کی آپی ہیر زیدی ۔۔۔
آہان اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتا ہوا بولا ۔۔۔
اوووو تیری۔۔۔
سب سے پہلے مستقیم کو شوک لگا تھا تبھی سر پکڑے وہ بولا تھا ۔۔۔۔
و۔وہ تو مر چکی تھی۔۔۔
آفندی صاحب اب واقعی حیران ہوتے بولے ۔۔۔
