Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 3)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
سمی میرا بھائ ہے نومی تم دور رہا کرو سمی ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہے ۔۔۔
پانچ سالہ مستیقم چھ سالہ نومی کو صام سے دور کرتا بولا ۔۔۔۔
ہاے مشعوق میں نے کیا کر دیا دیکھ تیرا بھائ کتنا سویٹ ہے ۔۔۔
نومی اپنا ہاتھ نچاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
لیکن بابا کہتے تم اچھے نہیں ہو ہم سے دور رہو ۔۔۔
مستیقم اپنی عقل سے بولا تھا ۔۔۔
لیکن میں ہو تو تم لوگوں جیسا تم لوگ میرے دوست نہیں ۔۔۔۔
نومی اداس ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
ارے چھوڑ یہ مشعوق ایسے ہی بولتا ہے تم میرے بیسٹ فرنیڈ ہو ۔۔۔۔
سمی جلدی سے اسے گلے لگاتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
سچی سمی کیا پھر وعدہ کرو کبھی ہماری دوستی ختم نہیں ہو گی تم جانتے ہو تم لوگوں کے علاوہ کوئ میرا دوست نہیں ۔۔۔
نومی خوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
ہم ہمیشہ ساتھ رہے گے کبھی جدا نہیں ہو گے یہ ہمارا وعدہ ہے ۔۔۔۔
ہم ضرور عہدِوفا بنھاۓ گے نومی زندگی کے کسی بھی موڑ پر تمہیں نہیں چھوڑے گے ۔۔۔
ہر جگہ تم ہم سب کو اپنے ساتھ پاٶ گے ۔۔۔
پھر کیا ہوا اگر یہ دنیا والے تمہاری قدر نہیں کرتے ہم دوست ہے ہمیشہ ساتھ رہے گے ۔۔۔
سمی اپنے ننھے سے ہاتھ آگے کرتا وعدہ لیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
سچی سمی تم سچ کہہ رہے ۔۔۔
نومی اپنا ہاتھ نچاتا ہوا خوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
عہدِوفا ہے جان سے جاۓ گے پر دوستی سے نہیں ۔۔۔
سمی مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
صاب جی صاب جی کچھ چاہے ۔۔۔۔
صام اپنے گارڈن میں صبح صبح واک کرنے آیا تھا ۔۔۔۔
جب سامنے پودوں کو پانی دیتے مالی کو دیکھتا وہ کہی کھو گیا تھا ۔۔۔۔۔
تبھی مالی پاس آتا بولا تھا ۔۔۔۔
جو چاہے تھا وہ تو آپ نے دور کر دیا مجھ سے پھر کیوں پوچھ رہے ۔۔۔۔
صام اپنی سرخ گرین آنکھیں لے مالی کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
و۔ہ۔صاب۔جی۔م۔۔۔۔
بس کرو مالی کاکا اس دن جو بھی ہوا سب آپ کا قصور تھا سمجھے کیوں آتے ہے میرے سامنے دفعہ ہو جاۓ یہاں سے ۔۔۔۔۔
صام مالی کی بات کاٹتا طش میں آتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
صاممممم یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا بڑے ہے تم سے ۔۔۔
آفندی صاحب غصہ سے چلاتے پاس آتے بولے تھے ۔۔۔۔۔
کوئ بڑے نہیں یہ بلکہ سب سے چھوٹا ہے یہ انسان اتنے چھوٹے ذہین کا مالک ہے بابا آپ نے کیوں رکھا ہے اس کو ۔۔۔۔
صام اپنی سرخ آنکھیں لیے بولا تھا ۔۔۔۔۔
معافی مانگو ان سے ۔۔۔۔
آفندی صاحب اس کی حالت سمجھتے ہوے بولے تھے ۔۔۔۔۔
ہرگز نہیں صام آفندی کبھی معافی نہیں مانگے گا اس انسان سے تو کبھی نہیں ۔۔۔۔
صام نفرت سے بولتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
سوری صاب جی می۔۔۔۔
کوئ بات نہیں مالی کاکا آپ ایسا کرے کل سے گھر مت آیا کرے بلکہ آفس میں میرے ساتھ جایا کرے اگر یہاں رہے تو صام کو اپنا ماضی یاد آتا رہے گا ۔۔۔۔
آفندی صاحب کچھ سوچتے ان کی بات کاٹتے ہوۓ بولے ۔۔۔۔۔
————————————————————
شکریہ لالہ آپ کا ۔۔۔
روحا فون پر بات کرتے مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
کس بات کا شکریہ انیجل ۔۔۔
اہان نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔
ارے آپ نے صبح ہمیں بلیک روز بھیجے تھے ہمیں بہت پسند آۓ ۔۔۔
روحا چکہتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
پر میں نے تو نہیں بھیجے تمہیں کیسے پتہ میں نے ہی وہ روز دے ہو گے ۔۔۔
اہان سوچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
مذاق کر رہے آپ گارڈ نے لا کر دے ہمیں جب لان میں واک کر رہے تھے ہم روز کے ساتھ چھوٹا سا کارڈ تھا جس پر مائ انیجل لکھا تھا ۔۔۔
اور آپ دونوں بھاہیٶں اور یافی کے علاوہ ہم کسی کی انیجل نہیں ہے ۔۔۔۔
روحا اچانک پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔۔
اچھا پھر یافی نے بھیجے ہو گے تم پریشان نہ ہو ویسے بھی بلیک تمہارا فیورٹ ہے ۔۔۔
اہان نے ماحول ٹھیک کرنے کے لیے بولا تھا ۔۔۔
جی ایسا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
روحا کھوۓ ہوۓ انداز سے بولی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
بس کر دو ڈیول کتنی دفعہ یہ ویڈیو دیکھو گے ۔۔۔۔
ڈیول جو لیپ ٹاپ پر روحا کی ہر حرکت دیکھ رہا تھا جب اس کے ہاتھ میں بلیک روز آۓ تھے ۔۔۔۔
افففف تمہیں کیا بتاٶ انیجل کے چہرے پر یہ مسکراہٹ مجھے کتنی عزیز لگتی ہے دیکھو کتنی خوش ہے میری انیجل ۔۔
ڈیول لیپ ٹاپ کی سکرین پر اپنی سفید انگلیاں پھیرتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔
کیوں جنونی ہو اس کے لیے جانتے ہو اسے خبر بھی نہیں ہے اس کا ڈیول بھی ہے ۔۔۔۔
وہ بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
چار سال کا عشق ہے میرا یہ بلکہ میری ہارٹ بیٹ انیجل سب کچھ ہے اگر ڈیول زندہ ہے تو صرف اپنی انیجل کے لیے ۔۔۔۔
ڈیول کھوۓ ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔۔
ت۔۔۔۔
شششش ڈسٹرب مت کرو دیکھو میری انیجل سونے جا رہی اسے خاموشی پسند ہے جاٶ ٹارچر ہاوس کے سارے آدمیوں کو کہو خاموش رہے میری انیجل سونے لگی ہے ۔۔۔۔
وہ اپنے ہاتھ میں لیپ ٹاپ اٹھاتا روم کی طرف جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
دیو قد کا مالک وہ اپنے بالوں کو پونی میں قید کیے ڈراک گرین آنکھوں میں وحشت لے آئ برو پر بنا بلیک کلر کا گہرا کاٹ عنابی ہونٹ جو اپنی انیجل کو دیکھ کر مسکراتے تھے ۔۔۔۔
بلیک ہڈی پہنے ہڈی پر لکھا ڈیول سب سے بے خبر وہ روم میں جا رہا تھا ۔۔۔
افففف کون کہتا ہے سب کو دردناک موت دینے والا ڈیول اپنی انیجل کے لیے چھوٹا بچہ بن جاتا ہے ۔۔۔۔
اب یہ کل صبح سے پہلے نہیں باہر آۓ گا ۔۔۔۔
وہ اپنے ہاتھ کو سر پر لہراتا ہوا مارتا بولا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
ہاے انیجل سونے لگی کیا ۔۔۔
یافی نائٹ ڈریس میں ملبوس روحا کے روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔
جی یافی آپی ہم سونے لگے تھے شاہد پر اب نہیں ۔۔۔
روحا اپنا نائٹ ڈریس ٹھیک کرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
شکر نہیں سو رہی وہ دونوں نمونے سو گے میں نے مووی دیکھنی تھی ۔۔۔۔
یافی اپنا لیپ ٹاپ بیڈ پر رکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ہمیں پتہ آپ کون سی مووی دیکھے گی پلیز ہم نہیں دیکھ رہے ڈر لگتا خون دیکھ کر چکر آنے لگتے ہمیں ۔۔۔
روحا جلدی سے منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ارے کچھ نہیں ہوتا جب ڈر لگے تو مجھے ہگ کر لینا ٹھیک ۔۔۔۔
یافی مووی سٹارٹ کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔
روحا خاموش ہو گی تھی جانتی تھی یافی دیکھنے بنا نہیں روکے گی ۔۔۔۔۔
ایک تو تمہارا یہ ہمممم کم بولا کرو ۔۔۔۔
یافی روحا کو اپنے ساتھ بیٹھاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
ن۔نہیں ہم نہیں دیکھے گے ۔۔۔۔
روحا ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ یافی مگن انداز سے لیپ ٹاپ پر مووی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
آہہہہ آہہہہہی۔۔۔۔
روحا جو ڈرتے ہوۓ دیکھ رہی تھی ایک تو کمرے میں فل اندھیرہ کیا ہوا تھا صرف لیپ ٹاپ کی روشنی تھی ۔۔۔۔
مووی میں خون دیکھتی روحا چلائ تھی ۔۔۔
جیسٹ ریلکس انیجل ۔۔۔۔
روحا کو اپنی کمر پر کسی کا ہاتھ ریگنتا ہوا محسوس ہوا اور ساتھ ہی یہ سرگوشی سنی ۔۔۔
ہمیں ڈر لگ۔۔۔۔
روحا جو سمجھی تھی وہ ہاتھ یافی کا پر اپنے چہرے کے قریب اس کی گرین آنکھیں دیکھی تو الفاظ منہ میں رہ گے تھے ۔۔۔۔
ی۔یاف۔آپی۔شششششش انیجل ۔۔۔
روحا جو اندھیرے میں ہی بولنے والی تھی جب روحا کی گردن پر ہاتھ رکھتے وہ بے ہوش کر چکا تھا ۔۔۔۔۔
یافی مووی دیکھنے میں اتنی بزی تھی اسے پتہ ہی نہیں چلا کوئ روحا کو وہاں سے اٹھا کر لے گیا ہے
————————————————————
بھوت بھوت ماما بابا بچاٶ ۔۔۔
یافی جو لیپ ٹاپ پر بزی تھی جب اسے اپنے سامنے بھوت کی خوفناک شکل لیے دیکھتے چلائ تھی ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاا اب میں تمہارا خون پیو گا ۔۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ یافی کے قریب آتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
دور رہو چمپین چوزے کہاں ہو بچاٶ مجھے ۔۔۔۔
یافی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہاہ کوئ نہیں آنا اچھا میں نے سنا تم دل کی ڈاکٹر ہو کیا ہو گا جب میں تمہارا دل نکال دو ۔۔۔۔
وہ اپنے خون سے بھرے ہاتھ یافی کو دیکھاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔۔
رک میں ابھی تجھے بتاتی ہو چوزے ۔۔۔۔
یافی لائٹس آن کرتی ہوئ تھی ۔۔۔۔
جہاں مستقیم بھوت کا روپ لیے کھڑا تھا ۔۔۔۔
یہ کون میں نہیں جانتا ۔۔۔۔
مستیقم ویسے ہی بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔
ہاں تجھے نہیں پتہ چل میں بتاتی ہو ۔۔۔۔
یافی نے یہ کہتے ہی جوتا اٹھاتے اسے مارتے ہوۓ کہا ۔۔۔
ہاےےے ظلم سوتیلی ناگن چھوڑ مجھے ہاۓ مجھ معصوم کو مار رہی ۔۔۔۔
مستیقم مارتا کھاتا دہائ دیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
وہ دیکھ چمپین بھی آ گیا ۔۔۔۔
یافی اسے مارتی سامنے نیند سے جاگے صام کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔۔
یہ بلیک چاکلیٹ کدھر گی چوفی اور آپ اس کے روم میں کیا کر رہی ۔۔۔۔
صام اپنی گرین سرخ آنکھوں سے بولا تھا ۔۔۔۔
تمہیں اس کی پڑی پہلے میری جان بچا میں تو کہتا ہو اس کو نعمان کے گھر بھیج دیتے ہے ۔۔۔۔
مستقیم منہ بناتا ہوا بولا ۔۔۔
تم جانتے تھے یہ نہیں ڈرتی پھر کیوں آبیل مجھے مار والا کام کیا اب خودی دیکھ میں سونے جا رہا ۔۔۔۔
صام واپس روم سے باہر جاتا ہوا بولا ۔۔۔۔
ہاےے یہ میرا چمپین ہے اب بچ زرا تو ۔۔۔۔
یافی اب سرہانا آٹھاتے مستیقم کو دیکھتی بولی جو معصوم سی شکل بناۓ بیڈ پر لیٹا تھا ۔۔۔۔
اچھا رک پہلے انیجل کو دیکھ لیتے ہے تم جانتی ہو اسے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔
مستیقم اپنا بچاٶ کرنے کے لیے بولا تھا ۔۔۔۔
مجھے پتہ وہ میرے روم میں چلی گی پر اب تو نہیں بچے گا ۔۔۔۔
یافی مستیقم کے منہ پر سرہانا رکھتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔
دیکھ میری پیاری بہن نہیں رک جا میں نے یہ لیپ ٹاپ توڑ دینا تمہارا ۔۔۔
مستیقم اپنا منہ آگے پیھچے کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
خبردار چوزے اگر میرے لیپ ٹاپ کو کچھ کیا جاٶ معاف
کیا اب مجھے تنگ مت کرنا ۔۔۔۔
یافی مستیقم کو بیڈ سے دھکا دیتی احسان کرتی بولی ۔۔۔۔۔
مر جاٶ تم مجھ معصوم کو مارتی ہو ایس پی بن جاٶ سب سے پہلے تم پر کیس کرواٶ گا میں ۔۔۔
مستقیم اپنی جان بچاتا وہاں سے بھاگتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاہاہاا پاس ہو جا پکا فیل ہے تو ۔۔۔
یافی قہقہ لگاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
———————————————————–
ڈیول تمہیں کچھ ہوش ہے کچھ کھا پی لیا بھی کر ساری رات تم اپنی انیجل کو دیکھتے گزار دیتے ہو ۔۔۔۔
ڈیول جو اپنے بیڈ پر گہری نیند سو رہی روحا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جب وہ دوبارہ روم میں آتا ہاتھ نچاتا ہوا بولا ۔۔۔۔
ڈیول کو کوئ ڈسٹرب نہیں کرتا ایک واحد تو ہے جیسے میں کچھ نہیں کہتا ۔۔۔
ورنہ تو جانتا ہے انیجل سو رہی ہو تو میں اپنی سانسیس تک مدھم کر دیتا ہو کہ کہی وہ جاگ نہ جاۓ ۔۔
ڈیول گرین سرخ آنکھوں سے مدھم آواز میں غرایا تھا ۔۔۔۔
تو روز ایسا کرتا ہے اٹھا کر یہاں لے آتا ہے اور صبح ویسے ہی اسے آفندی پیلس چھوڑ آتا ہے ۔۔۔۔
جس کے لیے یہ سب کرتا ہے اسے خبر ہی نہیں ۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ لہراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
انیجل نیند کی پکی ہے اب جاٶ یہاں سے بس کچھ وقت اور پھر میں چھوڑ آو گا اسے ۔۔۔۔
ڈیول روحا کے سوۓ ہوۓ چہرے کے ایک ایک نقش کو چھوتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
تم جانتے ہو اس کی غیر موجودگی پر سب کیا سوچے گے ۔۔۔۔
وہ دوبارہ بولا تھا ۔۔۔۔
کون سوچے کا وہ صام آفندی جو آدھی آدھی رات کو گھر آتا ہے یا وہ بنے والا ایس پی جو صرف اپنی بہن سے مار سکتا ہے ۔۔۔
یا وہ ڈاکٹر وہ سمجھے گی انیجل اس کے روم میں چلی گی ڈر کے مارے اور ساری رات وہ انیجل کے روم میں بیٹھ کر اس کا ویٹ کرتی وہی سو جاۓ گی ۔۔۔
ڈیول طنز کرتا بولا ۔۔۔
صام آفندی کے گھر اتنی سیکیورٹی ہے میں حیران ہو تم گے کیسے ۔۔۔۔
وہ پھر ایک دفعہ بولا ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہ صام کیا چیز ہے میرے سامنے ڈیول ہو ڈیول کب جاتا ہو کب آتا ہو کسی کو آج تک معلوم نہ ہو سکا ۔۔۔۔۔
ڈیول قہقہ لگاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
م۔۔۔
جاٶ یہاں سے ورنہ میں بھول جاٶ گا کون ہو تم ۔۔۔
اس سے پہلے وہ بولتا جب ڈیول طش سے غرایا تھا ۔۔۔۔
کتنی پیاری ہو تم انیجل خاص کر یہ تمہاری ڈراک براٶن آنکھیں اور یہ پنک لیپ ۔۔۔
افففف دل کر رہا چھو لو تمہارے یہ لب ۔۔۔۔
ڈیول اپنے ہونٹ روحا کے لبوں کے قریب لاتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔۔
میں ایسا نہیں کر سکتا میری انیجل درد برداشت کرے ۔۔۔۔
ڈیول اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
جب روحا نیند میں تنگ ہوتی کروٹ چیج کر چکی تھی ۔۔۔۔
———————————————————
مارننگ انیجل ۔۔۔
یافی روم میں آتی روحا کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
کیا ہوا انیجل طیعبت ٹھیک ہے ۔۔۔۔
چپ بیٹھی روحا کو دیکھتی یافی پاس آتی بولی تھی ۔۔۔۔
پتہ نہیں سر میں درد ہو رہا اور یہاں جلن ہو رہی ہمارے ۔۔۔۔
روحا اپنے ماتھے کو چھوتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
افففف انیجل تمہیں بخار ہے مجھے پتہ ہوتا وہ مووی دیکھ کر تمہاری یہ حالت ہو جاۓ گی میں کبھی نہ لگاتی یار ۔۔۔۔
یافی اس کے ماتھے کو چھوتی ہوئ پریشان ہوتی بولی تھی جہاں وہ آگ کی طرح گرم ہوا تھا ۔۔۔۔
نہیں بخار نہیں ہمیں بس یہاں جلن ہو رہی کافی جیسے کسی آگ نے چھوا ہو ہمیں ۔۔۔
روحا اپنا سر پکڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
چلو اٹھو فریش ہو پھر ناشتہ کرتے ہے بعد میں میڈیسن لینا ۔۔۔
یافی اسے پکڑتی بیڈ سے آٹھاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
جی اچھا ۔۔۔
روحا بھی کھوۓ ہوۓ لہجے سے بولی تھی ۔۔۔۔
———————————————————-
ہانیہ نہیں آئ کیا آج ۔۔۔۔
منان کلاس میں انٹر ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
کیوں تم نے کیا کرنا ہے ۔۔۔
کلاس کا لڑکا اسے گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
تم سے مطلب ۔۔۔
منان اچانک غصہ کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
چھوڑو میرا راستہ جانے دو ۔۔۔۔
ہانیہ صبح لیٹ یونی آی تھی اس سے پہلے وہ پارگنگ ایرا سے باہر جاتی جب کچھ لوفر غنڈے لڑکوں نے اس کا راستہ روکا تھا ۔۔۔۔
کیوں جانے دے ویسے تمہاری شکل ہی جلی ہوئ ہے ورنہ تو بہت خوبصورت ہو تم ۔۔۔۔
ایک لڑکا اپنا ہاتھ ہانیہ کے چہرے پر لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
کیوں کرتے ہو تم لوگ یہ سب لڑکی ذات کی عزت کرنی چاہے ۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ لڑکا ہانیہ کو چھوتا جب منان اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہاے تم بھی بتا دو تم تھا ہو کہ تھی تاکہ تمہاری بھی عزت کر سکے ہم ۔۔۔
لڑکا اس کا مذاق بناتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
جانے دو اسے ۔۔۔
اچانک منان غصہ میں آتا بولا تھا ۔۔۔۔
کچھ تو تھا اس کی آنکھوں میں جو لڑکا ڈر گیا تھا ۔۔۔
ج۔جانے دو اسے ۔۔۔۔
لڑکا اپنے سساتھیوں کو ہکلاتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔
مس ہانیہ کلاس میں جاۓ آپ ۔۔۔۔
منان ویسے ہی کھڑا ہانیہ کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
جو چپ کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
پاپا کیوں کہتے یہ منان میری حافظ کرے گا ۔۔۔۔
جبکہ میں دیکھ چکی ہو اس نے ان لڑکوں کو کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔۔
شاہد اس لیے کہ وہ ایک۔۔۔۔۔
ہانیہ کلاس میں بیٹھی کب سے یہ سب سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
ک۔کیا ہوا تم سب کہاں جا رہے ۔۔۔۔
ہانیہ اپنی سوچ سے باہر آتی باقیوں کو دیکھتی بولی جو کلاس سے باہر بھاگتے جا رہے تھے ۔۔۔۔
تمہیں پتہ کیا ارے وہ لوفر لڑکے جو ہر لڑکی کو تنگ کرتے ہے آج کسی نے ان سب کو بہت مارا سچی یار اب وہ لڑکے ہاسپٹل اپنی آخری سانسیس گن رہے ہے ۔۔۔۔
کلاس کی لڑکی اسے سب کچھ بتاتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔۔
اچھا تمہیں پتہ کون سے لڑکے نے مارا اسے ۔۔۔۔
ہانیہ کلاس میں انٹر ہوتے منان کو دیکھتی اس لڑکی سے پوچھا ۔۔۔۔۔
نہیں یار ہاے مجھے مل جاۓ میں شکریہ کہو گی اس کی وجہ سے ہم سب لڑکیوں کی جان چھوٹ گی ورنہ وہ کتنا تنگ کرتے تھے ہم سب کو ۔۔۔۔
لڑکی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
کیا یہ سب منان نے کیا ۔۔۔۔نہیں نہیں یہ تو لگتا ہی نہیں غصہ والا ۔۔۔۔
ہانیہ سامنے بیٹھے منان کو دیکھتے سوچا جو اپنے بیگ سے لیپ ٹاپ نکال کر سکون سے بیٹھا یوز کر رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
یار انیجل صام نے آج آفس جانا ہے اور وہ ضد لگا کر بیٹھا ہے اسے کپڑے تم دو گی ۔۔۔۔
روحا جو بیڈ پر لیٹی تھی جب یافی پریشان ہوتی اندر آتی بولی ۔۔۔۔
اچھا ہم دیتے ان کو کپڑے آج نہ گے تو بابا غصہ کرے گے ۔۔۔۔
روحا بیڈ سے اٹھ کر باہر جاتی ہوئ بولی ۔۔۔۔
نہیں ت ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوا ویسے بھی وہ ٹھرکی جم روم گے ہے ہم جلدی سے واپس آ جاے گے ۔۔۔۔
روحا اپنی سرخ آنکھیں لیے یافی کی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔
———————————————————-
یہ انسان ہر چیز بلیک یوز کرتا ہے افففف ۔۔۔۔
لیکن بلیک تو میرا فیورٹ ہے ۔۔۔۔
روحا صام کے روم کے وڈراب کھولے کھڑی بولی تھی ۔۔۔۔
جہاں اس کے سارے ڈریس بلیک کلر کے ہی پڑے تھے ۔۔۔۔
م۔۔۔۔۔۔کو۔ن ہے۔۔۔۔
اس سے پہلے روحا کپڑے نکال کر پیھچے ہوتی جب اسے اپنی گردن پر پانی گرتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔
تبھی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
انیجل ۔۔۔۔
روحا کو اپنے کان میں سرگوشی سنائ دی ۔۔۔۔
یہ لفظ سنتے ہی روحا کی جان لبوں پر آ گی تھی ۔۔۔۔
جبکہ ڈراک گرین آنکھیں اس کی حالت دیکھتی مسکرائ تھی ۔۔۔۔۔
