339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 35)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

ہمیں آپ سے بہتتتت بہتتت محبت ہے صام ہم نہیں جانتے کب ہوئ اب ہم آپ کے بنا نہیں رہ سکتے ۔۔

آی لو یو صاممممممم۔۔۔

روحا اس کمر پر سر ٹھکاۓ بولی تھی جب صام نے گھوم کر روحا کی پشت اپنے سینے پر لگائ تھی اور اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی تھی ۔۔۔

صام یہ کیا کر رہے ہے ہم نے آپ کا چہ۔۔۔۔

روحا پریشان سی ہوتی بول رہی تھی جب اس نے اسے بیڈ پر دھکا دیتے گرایا تھا ۔۔۔

ت۔تم صام نہیں چ۔۔۔

شششش بلیک بیوٹی آج کی رات صرف ہم دونوں کی ۔۔۔

روحا جان گی تھی صام نہیں روم میں تبھی وہ چلاتی بول رہی تھی تبھی اس کے اوپر جھکے شعیب خبابث سے بولا تھا ۔۔۔

ص۔صام۔صامممم۔۔۔

روحا پورا زور لگاۓ چیخ رہی تھی جب شعیب نے بے دردی سے اس کے منہ کو ہاتھ سے دبایا تھا ۔۔۔۔

روحا اس کے قابو میں آتی بے بس ہوتی رو رہی تھی ۔۔۔۔

اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا یہی سوچ کر شعیب اب اپنی ہوس پوری کرے اور صام بھی موجود نہیں تھا ۔۔۔

د۔دور رہو تم حیوان کہی کے جانور ہو ۔۔۔

روحا نے شعیب کے ہاتھ پر دانت گھاڑے تھے تبھی وہ دور ہوا تھا جب روحا بولی تھی ۔۔۔۔

میں تمہیں اچھا انسان سمجھتی تھی لیکن تم حد ہے اتنے ہوس پرست کیسے ہو سکتے ہو ۔۔۔

روحا اپنی آنکھوں سے پٹی اتار چکی تھی ۔۔۔

جب اس نے بنا شرٹ کے شعیب کو کھڑے پایا تھا ۔۔۔۔

ہاہااہہہاہ تم تو میری نظر میں چار سال پہلے کی ہو جانتی ہو کیسے ۔۔۔۔

شعیب روحا کے پاس جاتا زبردستی اسے کندھوں سے پکڑے وہ بولا تھا ۔۔۔۔

جانتے ہو بیوی ہو میں ص۔۔۔

صام کی بیوی تبھی رہو گی بلیک بیوٹی جب وہ تمہارے کردار پر یقین کرے گا ۔۔۔۔

روحا نڈر ہوتی بول رہی تھی شعیب نے اس کی ساڑھی کا پلو پھاڑتے نیچے گرایا تھا ۔۔۔۔

چٹاخ چٹاخ ۔۔۔

ہمت کیسے ہوئ چھونے کی تم کیا ہمیں ڈرپوک لڑکی سمجھتے ہو جو ایسی حرکتوں سے ڈر کر رونے لگ جاۓ گی صام آفندی کی بیوی ہے ہم ۔۔۔

جانور ہو جنگلی اپنی موت کو دعوت دے رہو تم جانتے ہو صام کیا کرے گے تمہارے ساتھ ۔۔۔

روحا طش میں آتی شعیب کو چار تپھڑ مارتی چیخی تھی ۔۔۔۔۔

ارے بلیک بیوٹی قابو میں بھی آو گی ویٹ تو کرو اور کیا کہا رہی ہو صام موت دے گا وہ موت مجھے ہرگز نہیں دے گا بلکہ وہ تمہیں میرے ساتھ گھر سے باہر نکالے گا یقین نہیں آتا چلو دیکھو ابھی ۔۔۔

شعیب تپھڑ کھاتے پاگل ہو چکا تھا پہلے جو وہ سمجھ رہا تھا روحا ڈر کے قابو میں آ جاۓ گی لیکن اب وہ اس کے ہاتھ کمر کی طرف موڑتے اسی کی ساڑھی کے پلو سے باندھ چکا تھا ۔۔۔۔

روحا کی جان لبوں پر اب آئ تھی کیونکہ شعیب حیوان بن چکا تھا ۔۔۔۔

بہت خوبصورت ہو تم میری سوچ سے زیادہ ۔۔۔

شعیب نے اپنی انگلیاں اس کی گردن پر چلائ تھی جب روحا آنسو بہاتی اپنا چہرہ موڑ چکی تھی ۔۔۔۔

ہاے یہی نکھرا مجھے بڑا پسند آیا ۔۔۔۔

جانتی چار سال پہلے ہم ایک مال میں ملے تھے وہاں میں نے بمب حملہ کروانا تھا ۔۔۔۔

شعیب زبردستی اس کی گردن ہاتھوں میں پکڑے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔

ب۔بم۔بمب ۔۔۔۔

روحا کی حیرت سے آنکھیں باہر کو آئ تھی یہ لفظ سن کر ۔۔۔

ہاں جیسے ہی میں اپنے آدمیوں کو آڈر دینے والا تھا بلاسٹ کا ویسے ہی تمہاری گاڑی روکی وہاں ۔۔

اور تم نکلی ۔۔

اففف کیا ادا تھی تمہاری بلیک ٹاپ بلیک ہی جنیز ساتھ حجاب لونگ شوز ہاتھ میں موبائل لیے تو دنیا جہاں سے بے خبر اندر چلی گی ۔۔۔

تمہارا اتنا خوبصورت روپ دیکھ کر میں وہی دنگ رہ گیا کافی لڑکیاں خوبصورت دیکھی لیکن تمہاری جیسی نہیں ۔۔۔

ب۔بلاسٹ نہں۔۔۔

ہاں تمہاری خاطر میں نے بلاسٹ نہیں کروایا بلکہ تمہاری وجہ سے لاکھوں لوگوں کی جان بچ گی بس تمہیں پانے کے لیے میں نے بہت کوشش کی دیکھو کامیاب بھی ہوا ۔۔۔

شعیب ساری بات گول کرتا بات ہنیڈل کرتا روحا کی برہنہ کمر پر انگلیاں چلائ تھی ۔۔۔۔

چ۔چھوڑ۔دو پلیز ہم محبت کرتے صام س۔۔۔

چچچچ اسی صام سے جو نیچے ہال میں کھڑا ہے اسی پرواہ ہی نہیں اس کی بیوی غیر مرد کے ساتھ ہے ۔۔۔

روحا منت کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

جب شعیب اس کے اوپر جھکے بولا تھا ۔

ص۔صام نیچے ہے صامممممم صاممممممممم۔۔۔۔

روحا کو جیسے ہی پتہ چلا صام گھر ہی ہے تبھی وہ زور و شور سے چلائ تھی ۔۔۔

ہاہااہا دو آواز بلیک بیوٹی شاہد تم بھول گی صام کا روم ساونڈ پروف ہے باہر آواز نہیں جاۓ گی ۔۔۔

شعیب اب پورا روحا پر حاوی ہوتا بولا تھا ۔۔۔

پل۔پلیز شعیب ہمارے ساتھ ایسا مت کرو ہم صرف صام کی ہے تمہیں تو اور بھی مل جاۓ گی ا۔۔۔۔

افففف آج تک جیتنی بھی لڑکیوں کے ساتھ ٹائم گزارا ہے اتنا مزہ نہیں آیا جیتنا تمہارے قریب آنے سے آ گیا ۔۔۔

ویسے صام خوش نصیب ہے جس کے پاس اتنی پیاری بیوی ہے اس کے مزے ہے ۔۔

روحا اب روتی منت کرتی بول رہی تھی جب شعیب نے اس کی گردن کی طرف جھکے اس کی خوشبو کو محسوس

کرتے بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

د۔دو۔۔۔آہہہ۔آہہہہ۔۔۔۔

روحا کے دونوں ہاتھ کمر کے ساتھ باندھے ہوۓ تھے جب وہ روتی اپنا آپ چھڑواتی بول رہی تھی جب شعیب نے وحشی انداز سے اس کی گردن پر دانت گھاڑے تھے ۔۔۔

تبھی روحا درد سے چلائ تھی ۔۔۔

رو کیوں رہی ہو دیکھو ہ۔۔۔

آہہہی۔۔۔

جنگلی جانور تمہاری ہوس کا نشانہ بنے سے اچھا ہم اپنی جان دے دے لیکن تمہارے کبھی نہیں ہو گے ۔۔

ڈرو اس وقت سے جب صام تمہیں کتے سے برتر موت دے گے ۔۔۔۔

اس سے پہلے شعیب اپنی حد پار کرتا جب روحا نے اپنا سر اس کے سر پر مارتے جلدی سے بیڈ سے اترتی بولی تھی ۔۔۔

ساڑھی کا پلو زمین پر گر چکا تھا ۔۔۔

میں پہلے بہت آرام سے پیش آ رہا تھا تم نے ابھی میرا وحشی پن نہیں دیکھا میرے ایک اشارے پر ہزاروں لڑکیاں میرے سامنے کھ۔۔۔

تو انہی ہزاروں لڑکیوں کو بلا کر اپنی ہوس پوری کرو ہم روحا صام آفندی ہے صرف صام کی بیوی ہے ہم تمہارے جیسوں کے منہ نہیں لگتے ابھی بھی کہہ رہی ہو دفع ہو جاٶ ۔۔۔

روحا جلدی سے روم کے دروازے کے پاس جاتی دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔۔

روکو ابھی میں بتاتا ہو ۔۔۔

پہلے شعیب سکون سے کھڑا تھا وہ جانتا تھا روحا روم کا دروازہ نہیں کھول پاۓ گی ۔۔۔

لیکن وہ اپنے اپنا رخ موڑے دروازے پر لگے فنگر پرنٹ لاک پر اپنی فنگر لگا رہی تھی ۔۔

تبھی وہ روحا کا پاٶں کیچھتے ہوے بولا تھا ۔۔۔

جب کبھی ضرورت پڑے انیجل مجھے آواز دینا ڈیول آ جاۓ گا ۔۔۔

روحا زمین پر گر چکی تھی گرنے سے اس کی کمر ساری زخمی ہوئ تھی ۔۔۔

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کیسے بچے جب اس کے کان میں ڈیول کی بات گونجی تھی کچھ دن پہلے والی ۔۔۔

صاممممممم۔۔۔۔۔

ڈیولللللللل۔۔۔

کوئ تو آۓ ہمیں بچانے صامممممم کہاں ہے آپ ۔۔

روحا کو لگا تھا اب وہ اپنی عزت نہیں بچا پاۓ گی ۔۔۔

کیونکہ شعیب نے اسے زمین پر ہی الٹا کر کے اس کے بلاوز کی زپ کھولنے لگا تھا ۔۔۔

تبھی وہ تڑپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

کہاں ہے دیکھ آپ کی مس لائف کے ساتھ کیا ہو رہا ہے کہاں ہے آپ صامممممم۔۔۔

روحا بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتی پھر چلاتی پھوٹ پھوٹ کر روی تھی ۔۔۔۔

———————————————————-

اتنی بھی کیا جلدی ہے کورنا کی جعلی ویکسین جب شادی ہو تب یہ ارمان نکال لینا ۔۔۔

اس سے پہلے شعیب روحا کے ساتھ کچھ اور کرتا جب دروازہ کھولے صام بنا شوز پہنے بھاری قدم اندر رکھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

وہ اتنے سکون میں کھڑا تھا جیسے پتہ نہیں وہ کہاں آیا ہو ۔۔۔

ص۔صاممممم ہمیں بچاے صام ی۔یہ وحشی درندہ ۔۔۔۔

روحا جو آنکھیں بند کرتی یہی دعا کر رہی تھی اسے موت آ جاۓ لیکن عزت نہ جاۓ تبھی صام کی آواز سنتی رینگتی ہوئ اس کے قدموں پر سر رکھے وہ پھوٹ پھوٹ کر روی تھی ۔۔۔۔

آٹھو تم بھی کم نہیں ہو مس روحا ۔۔۔

صام اچانک اپنا موڈ چینج کیے بے دردی سے روحا کو ایک ہی جھٹکے سے اٹھا چکا تھا ۔۔۔

جبکہ شعیب اپنے پلان میں کامیاب ہوا تھا وہ سکون سے دونوں کا تماشہ دیکھنے کو تیار تھا ۔۔۔

ہ۔ہم نے نہیں کیا کچھ صام۔ی۔۔

روحا کو جٹھکا لگا تھا صام کا لہجہ دیکھ کر تبھی وہ روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

جب ایسے نظارے دیکھاٶ گی تو ہر مرد وحشی بنے گا ۔۔۔۔

چلو نکلو اب گھر سے باہر ۔۔۔۔

صام اپنی شرٹ اتارے اس کے شولڈر پر رکھتے باہر گھیسٹتے ہوۓ لے کر جا رہا تھا ۔۔۔

————————————————————

صام آپ غلط سوچ رہے ہماری بات تو سنے ہ۔۔۔۔

واقعی مجھ جیسا شخص غلط ہی ہو سکتا ہے جس نے پاگلوں کی طرح تم جیسی لڑکی سے محبت کی ۔۔۔۔

صام روحا کو ویسے ہی سیڑھیوں سے گھیسٹتا ہوا لا رہا تھا ۔۔۔

دونوں کے پاٶں زخمی ہوۓ تھے کیونکہ سیڑھیوں پر شیشہ ٹوٹا پڑا تھا۔۔۔۔

آپ ج۔جانتے ہے ہم ایس۔۔۔

تم ایسی ہی لڑکی تھی کتنی دفعہ کہا تھا اس انسان سے دور رہو لیکن نہیں تم ہر روز اس کے ساتھ باہر گھومنے چلی جاتی تھی ۔۔۔۔

صام اسے ہال میں لاتا طش سے چلایا تھا ۔۔۔

اس کی آنکھیں انگارے اُگل رہی تھی ۔۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ اب صام ۔۔۔

روحا روتے ہوۓ چلائ تھی ۔۔۔

کومل نے بتایا مجھ۔۔۔۔

یہ کیا طریقہ ہے صام انیجل اس حالت میں کیا کر رہی ہے ۔۔۔

مستقیم مرحا کے ساتھ باہر آتا سامنے کا منظر دیکھتا غصہ سے بولا تھا ۔۔

لالہ آپ سمجھاۓ ان کو ہم ایسی لڑکی ن۔۔۔

روحا جلدی سے مستقیم کے پاس جاتی روتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام نے وہی سے اسے کمر سے پکڑے روکا تھا ۔۔۔۔

یہ ایک بدکر۔بدکردار لڑکی ہے لالہ ۔۔۔

صام کی زبان لڑکھڑائ تھی یہ الفاظ کہتے لیکن وہ بول چکا تھا ۔۔۔۔

صاممممم۔۔۔۔

روحا کا یہ سنا تھا تبھی وہ طش میں آتی اسے تھپڑ مار چکی تھی ۔۔۔۔

کیا ہوا دکھ ہوا تمہیں سچ کڑوا ہی ہوتا ہے مس روحا۔۔۔۔

صام ویسے ہی دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔۔

ہم ایسے نہیں ہے اتنے عرصے سے ساتھ رہ رہے ہم آپ کو اندازہ

نہیں ہوا ہمیں اپنے سے زیادہ آپ پر یقین تھا ۔۔۔

روحا غصہ سے صام کا کالر پکڑتے روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

بدلنے کو کیا ہے ایک منٹ میں انسان بدل جاتا ہے تم تو ہو ہی لڑکی ویسے بھی تمہارا عاشق ہے یہ ۔۔۔۔

صام ایک جھٹکے سے اسے دھکا دیتا بولا تھا ۔۔۔

جب شیشے کے ٹیبل سے ٹکڑاے روحا کے سر سے خون نکلنا شروع ہو چکا تھا ۔۔

انیجل ۔۔

تم جانور ہ۔۔۔

مستقیم لالہ یہ ہمارا مسئلہ ہے آپ جاۓ یہاں سے ۔۔۔

مستقیم طش سے چلاتے بولا تھا جب صام بات کاٹتا دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

صام کی طرف دیکھ مستقیم مرحا کا ہاتھ پکڑے اپنے روم کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔۔

ہال میں صرف شعیب کومل صام روحا رہ چکے تھے ۔۔۔

چلو اٹھاٶ اس گند کو اور لے جاٶ اپنے ساتھ ۔۔۔

صام شعیب کی طرف دیکھتا بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔۔

چلو بلیک بیوٹی میں نے پہلے ہی تمہیں کہا تھا چلو میرے ساتھ ا۔۔۔

خبردار ہمیں ہاتھ بھی لگایا تم نے ہم کہی نہیں جا رہے ۔۔۔

روحا حوصلہ کرتی بامشکل کھڑی ہوئ تھی ۔۔۔

اس میں اب اتنی بھی ہمت نہیں تھی کھڑی بھی ہو پاتی ۔۔۔

چلو جلدی نکلو میرے پلیس کو گندہ کر رہے ہو ۔۔

صام روحا کا ہاتھ پکڑے گھر سے باہر لے کر جاتے بولا تھا ۔۔۔۔

صام صام ایسا کیوں کر رہے ہے جانتے ہے باہر بارش ہو رہی ہمیں ڈر لگتا ہے پلیز آج کی رات روکنے دے ہم بابا کے پاس صبح چلے جاۓ گے ۔۔۔

آپ کو ہم پر یقین نہیں نہ کرے لیکن اپنا جنون سمجھ کر ہمیں مہلت دے ہم آج کی رات رہ لے ادھر ۔۔۔

روحا مسلسل منت کرتی بولتی جا رہی تھی ۔۔

جبکہ صام بت بنا بنا کچھ سنے بس اسے لے کر جا رہا تھا ۔۔۔

جنون کی بات کرتی ہو واقعی تم جنون تھی ۔۔۔

مجھے اپنے آپ پر افسوس ہو رہا ہے کتنا ٹائم ویسٹ کیا میں نے تم جیسی لڑکی پر اب نکلو یہاں سے چایے تو اس کورنا کی جعلی ویکسین کے ساتھ چلی جاٶ چاہے مر جاٶ ۔۔۔۔

کومل اور شعیب اندر ہی تھے وہ جانتے تھے باہر دونوں لڑ رہے ہے ۔۔۔

تبھی صام زور زور سے چلاتا بولتا روحا کو لان کے سینٹر میں گرایا تھا ۔۔۔

ہم چلے جاۓ گے صام ایک کام کر سکتے ہے ہمارا ۔۔۔۔

روحا زمین پر گرتی دوبارہ کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جلدی بولو ۔۔۔

صام بنا دیکھے بولا تھا ۔۔۔۔

ہمیں مار دے ہم آپ کی بے رخی نہیں سہہ سکتے صام یا مار دے یا اپنا لمس ہمیں دے دے ۔۔۔۔

روحا صام کی پینٹ سے گن نکالتی اس کے ساتھ میں دیتی اس کی آنکھوں میں دیکھتی بے حد قریب آ چکی تھی ۔۔۔۔

کھلے آسمان کے نیچے وہ بارش میں بھیگ رہے تھے ۔۔۔۔

آہہہہ سمارٹ گرل چلو دیکھو اب میں کیا دیتا ہو موت یا قربت ۔۔۔

صام اسی کی طرف دیکھتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ اس کے پیٹ پر لگی چین میں انگلی پھساۓ اسے کھیچ کر اور زیادہ قریب لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔

پہلے تو صام اسے گہری نظروں سے دیکھتا رہا پھر اس کے کان میں سر گوشی کی تھی ۔۔۔

میں تمہیں وہ چیز دو گا جس سے تمہیں موت آۓ گی روحا بے بی ۔۔۔

صام نے کہتے ہی بے دردی سے اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے ۔۔۔۔

روحا جو سوچ رہی تھی صام اسے شوٹ کرے گا لیکن اب اپنی سانسوں پر صام کا جلا دینے والا لمس پاتے وہ تڑپی تھی ۔۔۔

کیونکہ صام اپنے غصہ اور جنون میں یہ بھول چکا تھا اس کا لب زخمی تھا۔۔۔

اس سے پہلے روحا اپنی آنکھیں بند کرتی جب صام نے ایک ہی جٹھکے سے اسے دوبارہ دھکا دیتے زمین پر گرایا تھا ۔۔۔۔

میں تمہیں پل پل مرتا دیکھنا چاہتا ہو ایسی تڑپ جو میرے سینے میں لگی ہے مس روحا یہ وہ صام نہیں ہے جو تمہاری زرا سے قربت سے نرم پڑ جاتا تھا ۔۔۔۔

اب تم مرو گی زور میری اس وحشت بھری قربت سے پناہ مانگو گی مجھ سے تم ۔۔۔

صبح ہونے سے پہلے دفعہ ہو جانا ۔۔۔۔

روحا کے لبوں سے خون نکلتا دیکھ صام دانت پیستے ہوۓ بولتا روحا کے اوپر دی اپنی شرٹ بھی اتارتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

ص۔صام آپ ایسا نہیں کر سکتے اس سے اچھا تھا ہمیں شوٹ کر دیتے ہم آپ کے بنا نہیں رہ سکتے ۔۔۔

اگر خودکشی کرنا حلال ہوتا ہم ابھی اور اسی و۔۔۔

ارے روحا بے بی خودکشی کرنے کی کیا ضرورت ہے فکر مت کرو میں زور تمہیں موت دو گا ۔۔۔۔

روحا جو تڑپتے روتے چیختے بول رہی تھی جب صام بنا دیکھے کہتا اندر چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

کدھر جا رہی ہو تم ۔۔۔

مستقیم آدھی رات کو مرحا کو روم سے باہر جاتے دیکھتے پوچھا تھا ۔۔۔

انیجل مسلسل پانچ گھنٹے سے بارش میں بھیگ رہی ہے مستقیم آپ کو فکر ہی نہیں ہے میں زرا اسے یہ چادر دے آو ۔۔۔

مرحا اپنی ونڈو سے باہر دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں روحا لان کے گھاس پر سکون سے بیٹھی بھیگ رہی تھی ۔۔۔

روحا ایسی بیٹھی تھی اگر کوئ دور سے دیکھتا تو یہی سوچتا ایک حسین مورتی ہو ۔۔۔

یہاں آو انیجل ٹھیک ہو جاۓ گی ۔۔

مستقیم بیڈ سے اٹھاتا اس کے پاس جاتا اسے گود میں آٹھاے بولا تھا ۔۔۔

کیسے مستقیم اب تو صبح بھی ہونے والی

ا۔۔۔

اس سے پہلے مرحا کچھ بولتی جب مستقیم اسے بیڈ پر اپنے سینے پر لٹاٹتے کچھ بتایا تھا ۔۔۔

یہ پھر بھی غلط ہے مستقیم کم از کم یہ کوئ طریقہ ت۔۔۔

ارے یار میرا قصور نہیں یہ دونوں پاگل ہے صام کے دماغ میں چلتا ہے آج تک ہمیں بھی سمجھ نہیں آئ ہے ۔۔۔

مستقیم مرحا کی بات کاٹتا بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

ہمم۔مرحا اب چپ کر چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

ص۔صامممم آپ ہے ہ۔ہم جان۔۔۔

نہیں انیجل میں ہو تم بس سو جاٶ ڈاکٹر نے انجکشن لگایا ہے ۔۔۔

روحا کو پتہ نہیں تھا وہ کب بےہوش ہوئ کب اپنے روم کے بیڈ پر تھی ۔۔۔

تبھی گہری نیند میں اپنی زخمی کمر پر کسی کا لمس پاتی وہ غنودگی میں بول رہی تھی ۔۔۔

جب یافی آنسو کنٹرول کیے بولی تھی ۔۔۔

ہمممم۔۔۔

روحا نا امید سی ہوتی اتنا بولی تھی ۔۔۔

مستقیم زرجان اور یافی کو فون کرتے بلا چکا تھا ۔۔۔

روحا غنودگی میں بھی تڑپتی روتی رہی تھی ۔۔۔

نہ اس نے کپڑے چینج کیے تھے ۔۔۔

یافی کو رونا آ رہا تھا اس کی حالت دیکھتے ۔۔۔

تبھی اسے ہگ کرتے وہی سونے کی کوشش کرنے لگ گی تھی ۔۔۔

لیکن روم کی خاموشی میں اسے روحا کی سسکیاں سنائ دے رہی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

کیا ہوا ایسے ماتم والا ماحول کیوں بنایا ہے ۔۔۔۔

کوئ مر گیا کیا جو سب نے ایسی شکلیں بنائ ہے ۔۔

صبح فریش سا صام ڈائنگ ہال میں انٹر ہوتا سب کو خاموش بیٹھے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

چٹاخ چٹاخ چٹاخ چٹاخ چٹاخ ۔۔۔۔

پورے پانچ تھپڑ مارے ہے مجھے آپ نے ڈبل اے ۔۔۔۔

آفندی صاحب وردہ بیگم کل سے اپنے ایک رشتےدار کے گھر گے تھے ۔۔

جبکہ آہان اور ہیر زیدی ہاوس گے تھے ۔۔

تبھی ان کو نہیں پتہ تھا پلیس میں کیا ہوا تھا ۔۔

وہ تو صبح جب آہان ہیر واپس آۓ تو یافی نے روتے ہوۓ بتایا تھا ۔۔۔

تبھی شدید طش میں آتے آہان نے لگاتار تپھڑ مارے تھے ۔۔

جب صام سکون سے بولا تھا ۔۔۔

یہ بھی کم ہے دل کر رہا شوٹ کر دو تم انسان کہلانے کے لائق بھی نہیں ہو جانور ہو جانور ۔۔۔

میری انیجل پر اتنا ظلم کیا تم نے کیا سوچ کر اس کا لالہ زندہ ہے ابھی مر نہیں گیا میں جو حفاظت نہ کر سکو ۔۔

چھوٹی بہنوں جیسی محت دی ہے اسے کل تم نے اسے درد دیا میں مان گیا اس کی سزا تھی تمہارا پلان خراب ہوا لیکن یہ کیا حرکت تھی میں تمہیں ابھی کہ ابھی شوٹ کرو گا ۔۔۔

آہان اپنی پاکٹ سے گن نکالے صام کے ماتھے پر رکھتے شدید طش سے بولا تھا ۔۔۔

وہاں بیٹھے سب کو سانپ سونگھ گیا تھا ۔۔۔

انہوں نے کبھی بھی آہان کا اتنا غصہ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔

جب بھی کسی نے اسے دیکھا تھا پر سکون سا ہی دیکھا تھا وہ تو بات بھی بڑے آرام سے کرتا تھا ۔۔۔

بابببببببببببااااا۔۔۔

احمد ہیر کی گود میں بیٹھا یہ سب دیکھتا ڈرتا بھاں بھاں کرتے رو پڑا تھا ۔۔۔۔

چھوڑے لالہ آپ ایسا کر کے کیوں گناہ کمانا چاہتے ہے بات وہ اسی انسان سے کرنی چاہے جو منہ لگانے کے قابل ہو ۔۔

روحا سیڑھیوں سے نیچے آتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔

انیجل ت۔۔۔

ہیر آپی آپ لالہ کو لے کر جاۓ اور ڈمپل بواۓ ہمیں دے ہم جا رہے ہے ۔۔۔۔

آہان روحا کو اتنے سکون میں دیکھتے حیران ہوتے بولنے والا تھا جب روحا احمد کو گود میں لیتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں سنے اس بد کردار لڑکی کی باتیں میں تو سوتیلا ہو آپ سب کا ۔۔

بلیک شارٹس شرٹ بلیک ہی کپیری ساتھ لونگ سا نیٹ کا اپر بلیک ڈوپٹے سے حجاب کیے ڈراک براٶن سوجی سرخ آنکھیں زخمی ہونٹ زرد چہرے پر مسکراہٹ بلیک ہی ہلیز اپنے سفید زخمی پاٶں میں پہنے وہ تیار سی صام کے سامنے کھڑی تھی جب صام دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جی ہم ایسی لڑکی ہے اپنے بارے میں کیا خیال ہے جو بنا شادی کے ہی باپ بنے والے تھے پھر ڈر لگا تو شادی ک۔۔۔

روحھھھھھھااااا۔۔۔۔

روحا احمد کو گود میں لیتی صام کے سامنے آتی سکون سے بولی تھی جب صام نے اپنا بھاری ہاتھ اٹھاتے دھاڑا تھا ۔۔۔

کیا ہوا صام بے بی کو دکھ ہوا اہہہہہ۔۔۔

چچچ مزہ آ گیا ویسے مارے مارے ہمیں ۔۔۔۔

روحا صام کا ہوا میں ہی اٹھا ہاتھ دیکھتی خودی پکڑے اپنے چہرے کے پاس لاتی طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

میں تمہیں چھو کر اپنے ہاتھ گندے نہیں کر سک۔۔۔

بلا بلا بلا ہم آپ کے منہ نہیں لگنا چاہے مسٹر صام ۔۔۔

کیوٹ لیڈی باس ہم ناشتے کے لیے باہر جا رہے شاہد شام کو آے ۔۔۔۔

صام جو دانت پیستا ہوا بول رہا تھا ۔۔

جب روحا اپنا رخ یافی کی طرف کرتی کہتی ہوئ سکون سے جانے لگی تھی ۔۔۔

ہاں جانتا ہو کس کے منہ لگنے جا رہی ہو۔۔۔۔

صام طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

بڑی اچھی بات ہے آپ نے لگنا ہے منہ تو آ جاۓ آپ بھی لگا لینا ۔۔۔

کوئ بلاتا ہے نہیں خودی پٹر پٹر بولتے رہتے ہے ۔۔۔

روحا بنا دیکھے کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

جبکہ صام بھی غصہ کنٹرول کیے سیڑھیاں چڑ چکا تھا ۔۔۔

سارا آفندی ہاوس پاگل ہے اس شعیب کے بچے نے کہاں پھسا دیا ۔۔۔۔

کومل حیران تھی روحا صام کو اتنا پرسکون دیکھ کر اور سب سے زیادہ اسے حیرت تب ہوئ جب دونوں کی لڑائ انجواۓ کرتے زرجان یافی مستقیم مرحا چاروں پوپ کارن کھا رہے تھے ۔۔۔۔

جیسے کوئ فلم دیکھ رہے ہو ۔۔۔

ابے یارررر یہ ٹام جیری کی لڑائ ختم ہو گی چلو کوئ نہ ہم دوبارہ دیکھ لے گے ۔۔۔

مستقیم مسلسل منہ بھرے پوپ کارن کھاتے بولا تھا ۔۔۔

جب چاروں کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔

کومل بڑابڑتی ہوئ وہاں سے چلی گی تھی اس کا سر شدید پھٹ رہا تھا ۔۔۔

———————————————————–

آو انیجل آو کوئ پریشانی تو نہیں ہوئ ۔۔۔

روحا کی گاڑی ایک خوبصورت بلڈنگ کے آگے کھڑی ہوئ تھی ۔۔۔

جب احمد کو گود میں آٹھاۓ روحا گاڑی سے باہر آئ تھی ۔۔۔

جب اپنے سامنے اتنے گارڈز کے ساتھ کھڑے شخص نے خوشی سے پاگل ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔

جی ہم آ گے ہمیں آپ کی مدد چاہے آپ نے کہا تھا ہمیں کبھی آپ کی ضرورت پڑے ہم مل سکتے ہے ۔۔۔

روحا اس کی مسکراتی گرین آنکھیں اور چہرے پر پڑتے ڈمپل دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ضرور انیجل اچھا آو تو سہی اندر ناشتہ کرو ۔۔

اور میڈیسن لگای لیپ پر ویسے صامے بھی حد کرتا ہے اور سناٶ ڈمپل بواۓ ۔۔۔۔

وہ اپنی گرین آنکھوں سے مسکراتا ہوا اسے اندر لے کر جاتے بول رہا تھا ۔۔۔

جبکہ احمد نے ڈر کے مارے روحا کی شرٹ کا کالر پکڑے اس گرین آنکھوں والے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

جو اب ہنس ہنس کر اس کی انیجل موم سے باتیں کر رہا تھا ۔۔