Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 41)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 41)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
“کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔
میم آپ کے لیے جوس لاٶ ۔۔۔
روحا آفس سے سیدھی زیدی ہاوس آ چکی تھی ۔۔
جبھی ملازمہ نے پاس آتے پوچھا تھا ۔۔
ہا۔۔۔
روحا بے بی جوس کیوں پیے گی یہ بریانی کھاۓ گی کیوں روحا ۔۔۔
اس سے پہلے روحا کچھ کہتی جب وہاں کومل مسکراتی ہوئ ہال میں انٹر ہوتی بولی تھی ۔۔
تم جاٶ یہاں سے ۔۔۔
روحا نے ملازمہ کو وہاں سے بھیجا ۔۔۔
ہم کیوں کھاۓ گے تمہاری یہ بریانی اور کس وجہ سے ۔۔
روحا نے ماتھے پر تیوری چڑہاۓ کہا تھا ۔۔۔
دیکھو میں اپنی ساری غلطیوں کی معافی مانگتی ہو مجھے معاف کر دو روحا بے بی تم تو جانتی ہو انسان غلطی کر ہی لیتا ہے ۔۔۔
میں بھی بس صام کی محبت میں بہک گی تھی اس نے غلط کیا تھا میرے ساتھ اس رات ۔۔۔
کومل روحا کے ہاتھ پکڑتی روتے ہوۓ بولی تھی جب روحا ہکا بکا سی بس دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کومل پر یقین مت کرنا “““ روحا کے کان میں صام کی بات گونجی تھی ۔۔۔
اچھا معاف کیا اب خوش جاٶ یہاں سے ۔۔۔
روحا جلدی سے ہاتھ پیچھے کرتی احسان کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
تم بہت اچھی ہو روحا بے بی یہ ضرور کھانا ۔۔۔۔
کومل خوش ہوتی بولی تھی ۔۔
تمہیں کرنٹ نہیں لگا کیا ۔۔۔
روحا نے اب حیران ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔
نہیں کیوں لگنا تھا کیا ۔۔
کومل نے بھی حیران ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔
نہیں اچھا پہلے یہ تم کھاٶ تو ۔۔۔
روحا کو بریانی کی خوشبو ہی مدہوش کر رہی تھی بڑی عجیب سی خوشبو لگی تھی ۔۔
تبھی وہ کومل کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے کومل کھاتی جب وہاں یافی ہانیہ مرحا ہیر احمد آ گے تھے ۔۔۔
اچھا روحا بے بی میں چلتی ہو رات کو ملے گے جب جانے لگے ہو گے ۔۔۔
کومل اب روحا سے گلے ملتی کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
یہ چڑیل کیوں آئ تھی ۔۔۔
ہیر غصے سے بولی تھی ۔۔۔
پتہ نہیں آپی اچھا آۓ بریانی کھاتے ہے یمی لگتی ہے ۔۔۔
روحا سب کو بلاتی اب جوش و خروش سے بریانی سے انصاف کر رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
میرا کام ہو گیا ۔۔۔
بہت جلد پتہ چلے گا صام بے بی کو کہ جب کوئ اپنا موت کے قریب آہستہ آہستہ جاتا ہے تو کیسا فیل ہوتا ہے ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہہاہا۔۔۔۔
کومل زیدی ہاوس سے باہر نکلتی کسی کو فون پر کہتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔
———————————————————-
“”کچھ گھنٹے بعد۔۔۔۔
شکر ہے سب سکون میں ہے تو نے ویسے ہی جان نکال دی ہم سب کی ۔۔۔
سارے ابھی زیدی ہاوس کے مین گیٹ تک آۓ تھے جب زرجان سکون کا سانس لیتا بولا تھا ۔۔۔
سکون تو ہے پر مجھے یہ سکون اچ۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔۔
صام نے ابھی ہال کا گیٹ کھولتے کہہ رہا تھا جب ہال کے اندر سے چلانے کی آوازیں آئ تھی ۔۔۔۔
جب سب کے قدموں سے زمین نکلی تھی اندر سب کی چیخیں سن کر ۔۔۔
ہال کے اندر کا منظر دیکھتے سب کا دل بند ہوا تھا ۔۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے اندر یہ سب ہو رہا ہو گا ۔۔۔
یہ پاگل ہو گی کیا کوئ تو روکے ان کو کیا عجوبہ بنی ہوئ ہے ۔۔۔
ہال میں ہانیہ مرحا ہیر یافی ساری اپنے اپنے شوہروں کی شرٹس پہنے کھڑی چیخ رہی تھی ۔۔۔
بکھرے حیلے ساری اپنے اپنے شوہر کا رول کر رہی تھی ۔۔۔
تبھی ہال کے باہر کھڑے منان نے حیران ہوتے کہا تھا ۔۔۔
ہاں یار لگتا ان کے دماغ چل گے ہے چلو ہماری جان نکال دی ان سب نے اور یہ یہاں بس چیخ رہی ہے ۔۔۔
زرجان بھی اندر جاتا بولا تھا ۔۔
ارے روکو دیکھے تو سہی ہماری یہ معصوم بیویاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔۔
مستقیم مسکراہٹ روکے سب کو روکتا بولا تھا ۔۔۔
دفع کرو مجھے لگتا سب نے کوئ نشہ والی چیز کھائ ہے تبھی ایسا بے ہیو کر رہی مس لائف کہاں ہے وہ نظر نہیں آ رہی ۔۔
صام سب کی حالیتں دیکھتا غصہ سے بولا تھا ۔۔۔
وہ یہ۔۔۔۔
سنو سنو آرام سے بیٹھ جاٶ ڈیول آ گیا ۔۔۔۔
اس سے پہلے آہان کچھ کہتا جب ہیر چیختی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ڈیول تو یہاں ہے تو اندر کون ہے چلو دیکھتے ہے ۔۔۔
مستقیم آہان منان زرجان صام تک بھی حیران تھے ڈیول ان کے ساتھ تھا تو اندر کون ہے ۔۔
تبھی وہ ہال میں انٹر ہوتے ایک جگہ پر کھڑے ہوتے یہ سارا تماشہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔
———————————————————–
بلیک ہڈی پہنے جو اس کی گھٹنوں سے نیچے تک آ رہی تھی بنا شوز پہنے بکھرے بالوں کا جوڑا کیے اپنے خوبصورت چہرے پر سردپن لاۓ سیڑھیوں سے لڑکھڑاتی ہوئ روحا بڑی مشکل سے نیچے آ رہی تھی ۔۔۔
ہ۔ہم ڈیو۔ڈیول ہ۔آہہہ۔۔۔
روحا جھولتی ہوۓ نیچے آتی کہہ رہی تھی جب سیڑھی سے لڑکھڑای ۔۔۔
اس سے پہلے صام آگے بڑھتا اسے پکڑتا جب آگے جا کر یافی نے اسے پکڑا ۔۔۔
یہ ہوا کیا رہا ہے اور مس لائ۔۔۔۔
چپ کر جا آج دیکھتے یہ کیا کرنے والی ویسے ڈیول تو بڑا اچھا ہے مجھے بڑا پسند آیا ۔۔
مستقیم صام کا ہاتھ پکڑے اسے روکتے مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ روحا سے صیح سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا ۔۔
———————————————————–
ہاں ۔ت۔تو ڈیو۔ڈیول۔آ ۔گیا ہ۔ہم آپ کو۔بتاۓ گ۔کو۔مل میک اپ ۔کی دوکان ۔نے ہم۔س۔سے کیسے معا۔معافی مانگی ۔۔
روحا یافی کا ہاتھ پکڑتی صوفے کے اوپر چڑھتی بول رہی تھی جب ہیر اور یافی نے اسے بڑی مشکل سے کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔
باقی ساری قالین پر بیٹھی تھی ۔۔۔
اہہہ ۔اہہہ۔۔معافی میک اپ کی دوکان ۔۔۔
مرحا اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی شوک ہوتی بولی تھی وہی مرحا کی نقل کرتی ساری اہہہ اہہہ کرنے لگ گی تھی ۔۔۔
ساری ہی اپنے ہوشِو حواس میں نہیں تھی ورنہ جان جاتی وہ کیا کر رہے ہے ۔۔۔
وہی مستقیم آہان منان زرجان سب نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہ روکا تھا ۔۔۔
صام پریشان سا سوچ رہا تھا روحا کو کیا ہوا ہے ۔۔
اسے پیاری لگی تھی یہ ڈیول بنی کیوٹ سی اپنی انیجل جو صوفے پر بامشکل نشے سے جھول رہی تھی ۔۔
ہاں معاف۔معافی تو ڈیول نے سوچا ہے ہم معاف کرتے میک اپ کی دوکان پر اس خوشی پر تالیاں ۔۔۔
روحا اب اپنی ہڈی سے ئیر برش نکالتی اس کا مائیک بناۓ بولی تھی ۔۔۔
یاہووووو ڈیول کتنا اچھا ہے ۔۔۔
باقی بس نے خوشی سے کھڑے ہوتے خوشی سے تالیاں بجائ تھی جب ایک دوسرے پر ہی گر پڑی ۔۔۔
ارے بس کرو تم لوگ تو گلے لگ رہی ہو ۔۔
روحا اب صوفے سے نیچے جھکتی بولی تھی ۔۔۔
میں نہیں یہ یافی آپی نے گرایا مجھ۔۔۔
مرحا بڑی مشکل سے کھڑی ہوتی بولی تھی کیونکہ مستقیم کی شرٹ پہنے وہ بلکل ایک پانچ سال کی بچی لگ رہی جو ٹانگوں سے لگتی اسے چلنے میں مشکل آ رہی تھی ۔۔
ارے جھوٹی عورت ڈیول یہ جھوٹ بول رہی یہ گری میں تو معصوم ہو ۔۔۔
یافی اپنے بکھرے بال سنھبالتی ہوئ بولی تھی ۔۔
چلو سار۔۔۔
اہہہہ۔اہہہ۔۔۔مس لائففف۔۔۔
سارے بڑے سکون سے کھڑے مسکراہٹ روکے اپنی بیویوں کا ایسا روپ دیکھ رہے تھے جب صوفے سے گرتی روحا کو دیکھتے صام چلایا تھا ۔۔۔
ہمیں مس لائف کس نے کہا ہم ڈیول ہے ڈیول گرتا نہیں ہے ہم تو بس ایسے ہی آتے ہے ۔۔۔
روحا قالین پر مشکل سے کھڑی ہوتی آس پاس دیکھتی بول رہی تھی ۔۔۔
میں نے تمہیں مس لائف کہا میں صام ہو ۔۔۔
ہیر جھولتی ہوئ روحا کو کمر سے پکڑے بولی تھی ۔۔۔
ہاہااہاہہاہااااہاہاہہا صام آپ ہے ہاے صام آپ نے پھر بال لمبے کر لے ڈیول آپ کو سزا دے گا ۔۔
ہمارا آڈر ہے صام کے بال کاٹے جاۓ ۔۔
روحا ہیر کے لمبے بال پکڑتی چھت پھاڑ قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
چ
چھوڑو میرا شوہر اتنی زور سے تھپڑ مارتا ہے دن کو تارے دیکھنے لگ جاتے ہے ۔۔۔
ہیر اپنے بال روحا کے ہاتھوں سے چھڑواتی بولی تھی ۔۔۔
ہاےےے کنٹرول نہیں ہوتا یار ۔۔
زرجان اپنا قہقہ روکتا بولا تھا ۔۔
صام بس سرخ گرین آنکھوں سے سبھی کو گھور رہا تھا ۔۔۔
وہ ابھی تو سوچ رہا تھا ایسا کیوں کر رہی سب ۔۔
مجھے لگتا ہمیں صبح ہی جانا پڑے گا اب تو رات ہونے والی ۔۔۔
آہان باہر کھڑکی سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
چلے جاۓ گے جہاں ایسا شوک دیکھ رہا ہو رات بھی کم ہے ہمارے لیے ۔۔۔
مستقیم سامنے دیکھتا سکون سے بولا تھا ۔۔
اچھا میں لالہ سے کہو گی مجھے مارے میں نے ترکی جانا ہے ۔۔۔
یافی جھولتی ہوئ پاس آتی بولی تھی ۔۔۔
تو تمہیں جان لالہ لے کر گے تھے تو واپس کیوں آ گی تھی ۔۔
ہانیہ بھی بڑی مشکل سے کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
وہ نعمان کے بچے نے مجھے تنگ کیا تھا ت۔۔۔
ارے بچوں سے یاد آیا تم لوگ تو بیٹھو ڈیول نے کہا ہے ۔۔۔
روحا واپس صوفے پر کھڑی ہوتی یافی کی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاےےے میرا بے بی ۔۔۔
مرحا صوفے سے کشن اٹھاۓ اپنی شرٹ کے اندر رکھتی شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
یہ اتنا بڑا کیوں ہوا میرا پیٹ تو ویسے ہی ہے ۔۔۔
ہانیہ مرحا کی طرف دیکھتی حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔
یہ ڈالو ۔۔
مرحا اسے بھی کشن دیتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہمیں چاہے اپنی بیویوں کو گھر لے جاۓ کچھ زیادہ ہی ہوش کھو رہی اپنا ۔۔۔
مرحا اور ہانیہ کی طرف یافی اور ہیر نے بھی کشن رکھ لیے تھے ۔۔۔
تبھی آہان زرا شرمندہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ارے لالہ دیکھنےتو دے کیا ہو رہا مجھے تو بڑا مزہ آ رہا ۔۔۔
مستقیم دانت نکالتے بولا تھا ۔۔۔۔
تو بھی کچھ بول ڈیول دیکھ تیری انیجل کیا کر رہی ۔۔۔
زرجان صام کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا ۔۔۔
جب صام نے بس گھورا تھا ۔۔۔
اچھا ہماری بات بھی سن لو ڈیول ہے ہم۔۔۔
روحا سب کو ایسی ایک جیسی حالت میں دیکھتی زور سے چلائ تھی ۔۔۔
————————————————————
ڈیول سب کو موت دیتا ہے ہم بھی موت دے گے آج ۔۔۔
روحا جھولتی ہوئ اپنے ہاتھ میں ایک ہئیر برش پکڑے بولی تھی ۔۔۔
ہمارا حکم ہے اسے موت دے ہم ۔۔۔
کاٹو اس کو ۔۔۔
روحا کشن
ان کی طرف پھیکتی ہوئ تھی ۔۔
ہاں اس کو کاٹو اس کے کان مت کاٹنا خون آۓ گا نہیں اس کی ٹانگ بھی مت کاٹنا ۔۔۔
یہ کیسی موت ہوئ ڈیول ۔۔
یافی حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہم مارنا نہیں چاہتے ڈیول بنا خون نکالے موت دے گا ۔۔۔
روحا جوش میں آتی بولی تھی ۔۔
مجھے مزہ نہیں آ رہا چلو ڈیول مجھے سانڈ جیسا بنا دو ۔۔۔
مرحا کشن چھوڑے برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ہاں ہمیں بھی مزہ نہیں آ رہا چلو تمہیں میں مستقیم لالہ بناتی ہو ۔۔۔
روحا بھی صوفے سے اترتی گرتی ہوئ مرحا کے پاس پہنچی تھی ۔۔۔۔
جبکہ ہیر ہانیہ یافی کچن کی طرف چلی گی تھی ۔۔۔
ہاں اب تم مستقیم لالہ بن گی ۔۔۔
روحا مرحا کو ٹیبل کے اوپر کھڑا کیے خوش ہوتے بولی تھی ۔۔۔
اوےےے چونے کہاں جا رہے ہمیں تم بلکل نہیں پسند میری انیجل کے پاس رہتے ہو ۔۔۔
مستقیم آہان منان زرجان ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے نیچے قالین پر بیٹھ چکے تھے ۔۔۔
تبھی روحا مرحا کو چھوڑے سامنے کھڑے صام کے پاس آتی بولی تھی ۔۔
واٹ چو۔
ہاں تم چونے کو دیکھو یہ گرین آنکھیں ڈمپل بھی ہے ۔۔۔
چلو ہماری گود میں آٶ تمہیں ہم باہر پھیک کر آۓ ۔۔۔
انیجل ہماری ہے ۔۔۔
صام حیران ہوتا بول رہا تھا جب روحا اسے کمر سے پکڑے اپنے ساتھ کھیچ کر لے کر جاتی بولی تھی ۔۔۔
وہی صام کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔۔
اتنی سی ہو کیا اٹھا لو گی مجھے۔۔۔
صام روحا کو کمر سے پکڑے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ہم اٹھا لے گے ویسے چونے بڑے کیسے ہو گے ہاے ہمارا ڈمپل بواۓ بڑا ہو گیا۔۔۔
لیکن تم تو ڈیول ہو ۔۔۔
روحا صام کو ویسے ہی زور لگاۓ کھیچتی بول رہی تھی جب صام انجواۓ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
وہ ایک انچ بھی نہیں ہلا تھا ۔۔
ہم ڈیول بھی ہے اور انیجل بھی انہہ۔۔۔
روحا اسے چھوڑے برا سا منہ بناۓ اب دوبارہ صوفے پر کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
چلو ہم تم سب کو ڈانس سکھاۓ گے یہاں آ جاٶ ۔۔۔
روحا اب اُونچی آواز سے بولی تھی ۔۔۔
میں ہی ہو سانڈ بن کر کھڑی کب سے ۔۔۔
مرحا ویسے ہی ٹیبل پر کھڑے بولی تھی ۔۔۔
اچھا دیکھو یہ والی ٹانگ اٹھاٶ ۔۔۔
نہیں یہ کمر ادھر کو کرو ۔۔۔
نہیں ایسے بھی نہیں پہلے بازو اوپر کو کرو ۔۔۔
روحا صوفے پر بڑی مشکل سے کھڑی ہوتی ڈانس کے سیٹپ سکھاتی بول رہی تھی ۔۔۔۔
چلو کرو ڈ۔۔۔
انہہہہ یہ کیا ۔۔۔
روحا ابھی بتا ہی رہی تھی جب کچن سے باہر آتی ہانیہ ہیر یافی کو دیکھتی چلائ تھی ۔۔۔۔
کیونکہ تنیوں نے چہرے پر آتا لگایے بکھرے بال وہ عیجب سی لگ رہی تھی ۔۔۔
آج ہم تنیوں ڈیول کو مارے گے ۔۔۔
تینوں روحا کی طرف آتی اسے ڈراتی بولی تھی ۔۔۔
ن۔نہیں ڈیول موت دیتا ہے ہم تم سب کو بریانی دے گے ۔۔۔
روحا ڈرتی ہوئ جلدی سے صوفے سے اترتی بولی تھی ۔۔۔
لیکن وہ بریانی تم ساری کھا گی تھی بس ہم سب تمہیں مارے گی ۔۔۔
یافی اسے ڈراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
و۔وہ تو یمی بھی بہت تھی ہاےے اچھا دور رہو ہم کرنٹ بھی دیتے ہے ۔۔۔
روحا اب صام لوگوں کی طرف بھاگتی جلدی جلدی بولی تھی ۔۔۔
کرنٹ مطلب۔۔۔
سب نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
ہم ابھی دیکھاتے ہے کرنٹ کہاں سے آتا ہے پھر تم سب کو کرنٹ ملے گا ۔۔۔۔
روحا ان کو اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کرتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
یار اب کچھ زیادہ ہو گیا اپنی بیویوں کو لے کر چلو اس سے پہلے انیجل کچھ اور کر دے ۔۔۔
آہان جلدی سے صام کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ صام بھی اب پریشان ہوا تھا جب روحا اپنی ہڈی پہنے اس کی زپ کھول رہی تھی ۔۔۔
انیجل آو روم میں چلتے ہ۔۔۔
نہیں ڈیول ان سب کو کرنٹ دے گا آپ چھوڑے ہمیں ۔۔۔
جیسے ہی روحا نے تھوڑی سی زپ کھولی وہی سارے اپنی بیویوں کو قابو کیے کھڑے تھے ۔۔۔
تبھی صام بھی اس کی ہڈی کی زپ بند کیے دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں ڈیول صرف مجھے کرنٹ دے سکتا ہے تم میرے ساتھ آو۔۔۔
صام روحا کو بہلاتا ہوا اسے ساتھ لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔
گھر کوئ آیا تھا کیا ۔۔۔
صام ملازمہ کو بلاۓ غصہ سے غرایا تھا ۔۔
جی کومل آئ تھی پھر میم نے بریانی کھائ اس کے ب۔۔۔
جاٶ سب کے لیے کافی بنا کر لاٶ جلدی ۔۔
تم لوگ یہی رات روک جاٶ صبح ایک ساتھ نکلے گے ساجن کے لیے ۔۔۔
صام ملازمہ اور ان سب کو مخاطب کرتا بولا تھا ۔۔۔
تم ڈرے نہیں مجھ سے ۔۔۔
ہیر یافی ہانیہ منان آہان زرجان کو دیکھتی حیران ہوتی پوچھا تھا ۔۔۔
ہاں ہم ڈر گے چلو روم میں ۔۔۔
تینوں ان سب کو ساتھ لے کر جاتے بولے تھے ۔۔۔
سانڈ تم مجھے نہیں آٹھا سکتے اب میں بھی بڑی ہو گی ۔۔۔
مرحا وہی کھڑی مستقیم کو دیکھتی چلائ تھی ۔۔۔۔
ہاے تم تو واقعی بڑی ہو گی ۔۔۔
مستقیم اسے گود میں بیٹھاۓ ساتھ لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔
ہاے ڈیول نے کمال کر دیا ۔۔۔
مرحا خوشی سے پاگل ہوتی اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ بولی تھی ۔۔۔
چلو مس لائف ۔۔۔
صام روحا کو گود میں آٹھاۓ بولا
تھا ۔۔۔
نشے کا سب سے زیادہ اثر روحا پر ہی ہوا تھا ۔۔۔
نہیں ہم ڈیول ہے ڈیول آپ کو اٹھاۓ گا ۔۔۔
روحا اس کی گود سے اترتی اسے کمر سے پکڑے بولی تھی ۔۔۔
اچھا چلو آدھا تم اٹھاٶ آدھا میں ٹھیک ۔۔۔
صام اسے دوبارہ گود میں اٹھاتا سیڑھیاں چڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اب چھوڑے اب ہماری باری ۔۔۔
جوڑے سے بال نکلے اس کے چہرے اور گردن پر آ رہے تھے ۔۔
جبکہ اس کے ہاتھ پاٶں اسی کی گود میں جھول رہی تھی ۔۔۔
ویسے سوچنے والی ہے تم بڑے کیسے ہوۓ چونے ۔۔۔
روحا صام کے گال پر انگلی رکھتی بولی تھی ۔۔۔
وہ میں نے تمہیں اٹھانا تھا اس لیے بڑا ہو گیا ۔۔۔
صام نرمی سے اس کا ماتھا چومتا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ روحا بہت جھول رہی تھی اس کی باہوں میں ۔۔۔
اچھا چلو ہمیں چھوڑو ڈیول اٹھاۓ گا آپ کو ۔۔
روحا جلد بازی سے اترتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کیسے اٹھاٶ گی مجھے ۔۔
صام اسے پر سوچ نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہمممم۔۔۔
اچھا ڈیول ڈیل کرتا ہے آپ سے چلو چونے ہم تو اٹھا نہیں سکتے دیکھو ہمارے ہاتھ چھوٹے سے اور آپ اتنے بڑے ہو گے ۔۔۔
آپ کا ہم بس ہاتھ پکڑ سکتے ہے آپ ہم سے جو چاہے لینا ٹھیک ۔۔۔
روحا صام کی باڈی کی طرف دیکھتی سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کچھ بھی چاہے ہو گا ۔۔۔۔
صام اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں لے لینا پھر لالہ کے روم میں جانا ہیر آپی انتظار کر رہی ہو گی آپ کا ۔۔۔
روحا جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑتی روم کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ صام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئ تھی اس کی انیجل ابھی بھی اسے احمد سمجھ رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
آو تمہیں باتھ کی ضرورت ہے ۔۔۔
منان ہانیہ کو روم میں لاۓ بولا تھا ۔۔۔
نہیں میں نے باتھ نہیں لینا بس ایسے ہی سونا ہے بہت نیند آ رہی ہے ۔۔۔۔
تھکن ہو رہی آج کافی ۔۔۔
ہانیہ منان کے سینے سے لگی بولی تھی ۔۔۔
نہیں یار دیکھو بالوں میں آٹا ہے آٶ تم ۔۔۔
منان اسے گود میں آٹھاۓ واش روم لے کر گیا تھا ۔۔۔
شارو کے نیچے اسے کھڑا کیا تھا ساتھ ہی شارو آن کیا تھا ۔۔۔
بس باتھ لے لیا اب نہیں مانی ۔۔
ہانیہ منان شارو سے دور ہوتی بھیگی ہوئ اسی کے سینے لگے بولی تھی ۔۔۔
اچھا آٶ ۔۔۔
منان اسے روم میں واپس لاتا لائٹس آف کرتے بولا تھا ۔۔۔
بہت پیارے ہو تم مجھے بہتتت محبت ہے تم سے ۔۔۔
منان ہانیہ کے کپڑے چینج کروانے میں بزی تھا جب اندھیرے میں ہی ہانیہ منان کی تھوڑی پر لب رکھے مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
تم بہت اچھی ہو تبھی میں بھی اچھا ہو چلو سو جاٶ ۔۔۔۔
منان اب اسے بیڈ پر لٹاۓ اس کے لبوں پر لب رکھے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
وہی ہانیہ منان کا لمس پاتی پر سکون اسے ہگ کیے سو گی تھی ۔۔۔
————————————————————
آٶ تمہارا دل نکالو میں ۔۔۔
زرجان یافی کو چھوڑے باہر کافی لاتا ہوا واپس روم میں آیا تھا جب یافی اسے بیڈ پر دھکا دیتی اس کے اوپر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔
تم دل نکال تو چکی ہو اور کیا چاہے ۔۔۔
زرجان یافی کے بالوں میں ہاتھ پھساۓ اپنی طرف جھکاۓ آرام سے بولا تھا ۔۔۔
نہیں میں ڈاکٹر ہو تبھی میں نکالو گی ۔۔۔۔
یافی اپنا سر پیچھے کرتی زرجان کے سینے پر مکا مارتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اہہہ ظلم تم یہ والا دل کہہ رہی مانتا ہو سرجن ہو اس کا مطلب نہیں تم مجھے مار ہی دو ۔۔
زرجان یافی کے دونوں ہاتھ پکڑے روٹھے پن سے بولا تھا ۔۔۔۔
اچھا میرا دل لے لو تم مجھے ویسے ہی بہت پیارے لگتے ہو جان ۔۔۔
یافی جھکے اس کے ماتھے پر لب رکھتی آنکھیں بند کرتی بولی تھی ۔۔۔
مجھے تم اپنی جان سے پیاری ہو یافی ۔۔۔
زرجان یافی کے لبوں کو نرمی سے قید کیے بولا تھا ۔۔۔
وہی یافی اسی کے سینے پر سر رکھے سو گی تھی ۔۔۔
————————————————————
احمد کدھر ہے آہان ۔۔۔
ہیر جھولتی ہوئ آہان کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
یہاں بیڈ پر سو رہا پہلے تم کپڑے چینج کرو ۔۔
آہان اسے بڑی مشکل سے پکڑے بولا تھا ۔۔
اچھا تو آپ کیوں جاگ رہے سو جاۓ ۔۔۔
ہیر آہان کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتی بولی تھی ۔۔۔
تم جاگ رہی اس لیے اور یہ حالت کیسی بنائ ہے ۔۔۔
آہان ہیر کو لے کر وڈراب کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا میں بھی سونے لگی چلو تم بھی سو جاٶ ۔۔۔۔
ہیر آہان کی گود میں آتی سینے پر سر رکھے بولی تھی ۔۔۔
اچھا سوتے ہے روکو میں لے کر جاتا ہو ۔۔
آہان جلدی سے اسے پکڑے بیڈ کی طرف لاتا بولا تھا ۔۔۔
ہممم آپ بہتتت اچھے ہے آہان میں کتنی خوش نصیب ہو مجھے آپ ملے ۔۔۔
ہیر آہان کے سینے پر سر رکھے پیار سے بولی تھی ۔۔۔
خوش نصیب تو میں ہو یار تم نے مجھے معاف کر دیا پھر میرے ساتھ رہ بھی رہی ہو ۔۔۔۔
آہان ہیر کے بالوں میں انگلیاں چلاۓ آرام سے بولا تھا ۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں آپ
اچھے ہے ۔۔۔
ہیر آہان کی آنکھوں کو چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
چلو سو جاٶ ۔۔۔
آہان نرمی سے ہیر کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے ۔۔۔
ہیر نے شرماتے ہوۓ اپنی آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔
————————————————————
بس کرو ٹڈی ۔۔
مستقیم اسے کافی پیلا رہا تھا جب وہ بولا تھا۔۔۔
کیونکہ وہ نشے سے جھول رہی تھی ۔۔۔
اور بار بار کافی گر رہی تھی ۔۔
اچھا اب نہیں ہلتی میں ۔۔
مرحا معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
کیوں بریانی کھائ تھی جانتی تھی تمہاری حالت کیسی ہے ۔۔۔
مستقیم اب غصہ کرتا بولا تھا ۔۔
کیونکہ اسے پکا یقین تھا ان سب نے کوئ نشے والی چیز کھائ تھی ۔۔
تم غصہ کر رہے مجھ پر ۔۔۔
مرحا رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔
سوری میری جان ۔۔۔
مستقیم جلدی سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا بولا تھا ۔۔۔
نہیں تم غصہ کر رہے ۔۔
مرحا ابھی بھی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
اچھا میری جان سوری ۔۔۔
اب مان جاٶ۔۔
مستقیم نرمی سے اس کی گال پر لب رکھے بولا تھا ۔۔
تھوڑی سی مان جاتی ہو ۔۔۔
مرحا احسان کرتی بولی تھی ۔۔
اچھا اب بڑے والا سوری ۔۔
مستقیم اس کے لبوں پر لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہممم۔۔۔
مرحا اب راضی ہوتی اسی کے سینے میں منہ چھپا گی تھی ۔۔
وہی مستقیم کے ہونٹوں میں گہری مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
————————————————————
اچھا چلو اب تم سو جاٶ ۔۔۔
صام روحا کو بیڈ پر بیٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔
لیکن ہم نے کپڑے نہیں چینج کیے ہم کر کے آۓ اب ہم ڈیول نہیں ہے انیجل بنے گے ۔۔۔۔
بیڈ سے اٹھتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا ڈیول نہیں پسند کیا اب ۔۔۔۔
صام اسے دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
رات ہو گی تو ڈیول آ جاۓ گا اس لیے ہم جلدی جلدی سونا چاہتے ہے ۔۔۔
روحا جلدی سے وڈراب کی طرف بھاگتی بولی تھی ۔۔۔۔
اففف اس لڑکی کو کتنا بلیک کلر پسند ہے ۔۔
صام بیڈ پر شرٹ اترتا ہوا سکون سے لیٹے پورے روم کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں ہر چیز بلیک کلر ہی تھی یہاں تک بیڈ شیٹ بھی بلیک کلر کی تھی ۔۔۔
کوئ اتنا بھی کریزی ہو سکتا ہے بلیک کلر کا ۔۔
صام اب روحا کی سائیڈ ٹبیل پر پڑے بلیک پانی والا جاگ اور گلاس دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
چلے ہم آ گے اب سوتے ہے ۔۔۔
روحا بلیک کلر کی وہی نائٹی پہنے بے نیاز سی چلتی صام کے اوپر آتی گرتی بولی تھی ۔۔۔۔
جب اس کے کھولے بکھرے بال صام کے چہرے پر گرے تھے ۔۔۔
صام اس کو ایسی حالت میں دیکھتے اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔
اچھا آو ہم سوتے ہے ۔۔۔
صام خود پر کنٹرول کرتا بولا تھا جانتا تھا روحا ہوش میں بلکل نہیں ہے ۔۔۔۔
چونے جاٶ ڈیول آتے ہو گے جاٶ۔۔۔
روحا صام کے سینے پر مکے مارتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
افففف لڑکی کیوں بہکا رہی ہو یارررررر رحم کرو۔۔۔
صام روحا کے دونوں بازوں پکڑے اپنی طرف جھکاۓ بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔
ہم کیا کیا ہے ہم تو معصوم ہے ۔۔۔
روحا صام کی آنکھوں پر لب رکھے بولی تھی ۔۔۔
لیکن میں معصوم بلکل نہیں ہو میری جان ۔۔۔
صام سے اب کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا جب کروٹ چینج کیے وہ بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں چونے ہو پتہ وہ ٹھرکی جلیس ہوتا اچھا بتاٶ کیسے بڑے ہوۓ ۔۔۔۔
روحا صام کی آنکھوں میں ابھی بھی دیکھتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
جبکہ صام اپنا چہرہ اس کے بالوں میں چھپاۓ مدہوش ہو رہا تھا۔۔۔
اچھا میری جان نے کیا کھایا تھا ۔۔۔
صام نرمی سے روحا کا گال سہلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہم نے بریانی کھائ تھی بہت مزے کی تھی آپ ہمیں ویسی لا کر دینا ۔۔۔
روحا اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
جبکہ صام کی نظریں روحا کی حرکت پر وہی اس کے گلابی ہونٹوں پر ٹھہر گی تھی ۔۔۔
لیکن مجھے کیسے پتہ چلے گا وہ بریانی یمی تھی یا نہیں ۔۔۔
صام روحا کے لب سہلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ہم کومل کو کہے گے چونے کو بریانی لا کر دے ۔۔۔
روحا اب نیند میں جاتی ہوئ بول رہی تھی ۔۔۔
لیکن میں تو ابھی چیک کرو گا ۔۔۔
صام اب اپنی انگلی اس کی گردن سے نیچے لاتا مدہوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ہم چونے کو گڈ نائٹ کس بھی کرتے ہے پھر آپ سو جانا ۔۔۔
روحا صام کی بات اگنور کر چکی تھی ۔۔۔
روحا اپنی آدھی کھلی آنکھیں کھولتی صام کی گردن میں باہیں حائل کیے اپنی طرف جھکاۓ وہ بولی تھی ۔۔۔
ہاں کرو ۔۔
صام خوش ہوتا کہتا اپنی آنکھیں بند کر گیا تھا ۔۔۔
یہ کیا تھا ۔۔۔
صام نے نیند میں جاتی روحا کی نائٹی کی ڈوری میں انگلی پھساۓ پوچھا تھا ۔۔
کس تھی ایسے ہی کرتے ہم ۔۔۔
روحا صام کے گالوں پر دوبارہ کس کرتی بولی تھی ۔۔۔
یہ تو بہت چھوٹی ہے ۔۔۔
صام بچوں جیسی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
تو ہمارا کیا قصور آپ ہی بڑے ہو گے ورنہ روز یہ کس لے کر سو جاتے ہے اب تک نہیں سوۓ آپ ۔۔۔
اچانک روحا اٹھ کر بیٹھتی منہ پھلاۓ بولی تھی ۔۔۔
روحا کا کیوٹ سا چہرہ دیکھتے صام کے لبوں پر
مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
اچھا میں بڑی والی کس کرتا ہو ۔۔۔
صام روحا کو دوبارہ لیٹاتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
جلدی کرے ڈیول آ جاۓ گا پھر وہ اپنی انیجل کو کسی کے سا۔۔۔۔
میری جان میں ہی ڈیول ہو تمہارا وہ دو نمبر چونا نہیں ۔۔۔
روحا بول رہی تھی جب صام روم کی لائٹس آف کرتا اس کے کان میں سرگوشی کرتے بولا تھا ۔۔۔
دیکھا آپ ہمیشہ اندھیرے میں آتے ہے ہ۔۔۔۔
ڈیول صرف اندھیرے میں آتا ہے کیونکہ اس کی روشنی تم میری جان میری انیجل ۔۔۔
روحا روٹھے پن سے بول رہی تھی جب صام اس کے گلابی ہونٹوں پر اپنے لب رکھتے بولا تھا ۔۔۔
وہی روحا کو اپنی نائٹی شولڈر سے سرکتی ہوئ محسوس ہوئ تھی ۔۔۔۔
ب۔بے شرم ۔ہ۔میں ن۔نیند آ رہی۔۔۔۔
صام کا لمس پاتے ہی روحا نشے کی حالت میں بھی گھبراتی اپنی دھڑکن پر قابو پاتی اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ بولی تھی ۔۔۔
وہی صام سب بھولے اپنا جنون شدت سے اس پر لٹا رہا تھا ۔۔۔
