339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 31)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

کیا ہوا ماما آپ نے ہمیں بلایا ۔۔

صبح روحا وردہ بیگم کے روم میں آتی فکر مندی سے بولی ۔۔۔

جی میری جان کافی دن ہو گے تھے میری پیاری بیٹی مجھ سے ملنے نہیں آئ تو سوچا کیوں نہ آج بات کر لو ۔۔۔

وردہ بیگم روحا کے چہرے کو چومتی پیار سے بولی تھی ۔۔۔

ماما آپ جانتی ہے بس ٹائم ہی نہیں ملتا اور یہ آپ کا ٹھرکی بیٹا بھی ج۔۔۔

اوپسسسس۔۔۔۔سوری ماما ۔۔۔

روحا بنا سوچے بول رہی تھی جب یاد آیا وہ صام کی ماما ہے تبھی شرمندہ ہوتی بولی تھی ۔۔

بولا کرو میری جان پیاری لگتی ہو اور اچھی بات ہے شوہر اتنی محبت کرتا ہے ورنہ بہت کم لڑکیاں ہوتی ہے جن کو شوہر اتنی محبت نہیں کرتا ۔۔

صامے تو میرا بہت اچھا بیٹا ہے میں نے دیکھا ہے اس کا جنونی عشق تمہارے لیے ۔۔

وردہ بیگم روحا کا سرخ چہرہ دیکھتی نرمی سے بولی تھی ۔۔

و۔وہ آپ نے بلایا تھا ۔۔

روحا سے جب کوئ بات نہ بن سکی تھی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔

آج صامے کے ساتھ رہنا تم بیٹا اسے ضرورت ہے تمہاری ۔۔۔

وردہ بیگم مدعے پر آتی بولی تھی ۔۔۔

جی ماما ۔۔۔

روحا بس اتنا بول سکی کیونکہ ہمت نہیں تھی پوچھ سکتی ۔۔۔

یہ تو غلط بات ہو گی ماما صرف انیجل کے لیے محبت ہم بھی تو آپ کی بیٹیاں ہے ۔۔

مرحا ہیر روم میں آتی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

ارے اللہٌنے مجھے اتنی پیاری چار بیٹیاں دی ہے مجھے تو بہت خوش ہو ۔۔۔۔

وردہ بیگم ان تینوں کو گلے لگاۓ بولی تھی ۔۔۔

ویسے بلیک بیوٹی تم آج کیسے اکیلی رہ گی مطلب دیور جی نے چھوڑ دیا تمہیں ۔۔۔

ہیر روحا کی طرف دیکھتی شرارتی انداز سے بولی تھی ۔۔۔

آپیییییی ۔۔

روحا شرمندہ ہوتی بس اتنا بول سکی ۔۔۔

مجھے پتہ ہے میرا سانڈ جیسا دیور جم کر رہا ہے ۔۔۔

تو بس انیجل بچ گی ۔۔۔۔

مرحا بھی تنگ کرتی بولی تھی ۔۔۔

مما۔ماما ہم جاتے ہے ۔۔۔

روحا وہ وہاں سے جانا ہی بہتر لگا تبھی وہ ہکلاتے بولی تھی ۔۔۔

ہاہاہاہا انیجل شرما گی ہے ۔۔۔

مرحا ہیر اس کا سرخ چہرہ دیکھتے قہقہ لگاتے ہنسی تھی ۔۔۔

———————————————————–

ارے اپن کے روم میں انیجل آئ ہے ۔۔۔

روحا ڈی ڈی کے روم آئ تھی ۔۔۔

جہاں وہ بیٹھی سیب کھا رہی تھی ۔۔۔

کیوں ہم نہیں آ سکتے کیا ۔۔۔

روحا اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔

کیا یار انیجل تم چاہتی ہو وہ میجر سڑیل اپن کو گھر سے باہر نکال دے ۔۔۔۔

ڈی ڈی جلدی جلدی سیب کھاتی بول رہی تھی ۔۔۔

ریلکس ڈی ڈی آرام سے کھاٶ ۔۔

روحا اس کی حالت دیکھتی مسکراہٹ روکے بولی تھی کیونکہ وہ ایک کیوٹ سی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔

اپن نے آج میجر صام اور جنرل ڈی ایم کے سامنے ایک کیس کی انفارمیشن دینی ہے ۔۔۔۔

ڈی ڈی اب بیڈ سے اٹھتی فائل چیک کرتی بولی تھی ۔۔۔

لیکن تم کیوں ڈر رہی ہو صام ای۔۔

اپن کیپٹن ہے یار اور اپن ان دونوں سے ڈرتا ہے

جنرل ڈی ایم اگر اپنی نیلی آنکھوں سے ڈراتا ہے تو یہ صام ٹھرکی آپنی وحشت ناک گرین آنکھوں سے موت دیتا ہے ۔۔۔

ڈی ڈی جلدی جلدی ہڈی پہنتی بولی تھی ۔۔۔

تم بھی آرمی میں ہو ہاے کتنی پیاری ہو ۔۔۔

روحا خوشی سے چکہتی ہوئ اس کا گال کے ڈمپلز چومتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاہاہاہہاہا بہن ایسا نہ کر ورنہ کل جرمنی جانے سے پہلے اپن کا قتل وہ صام کر دے گا ۔۔

ڈی ڈی روحا کی بچوں جیسی حرکت پر قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔

کیوں ۔۔

روحا نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔

وہ اس لیے اپن جانتا ہے صام تمہیں کسی سے شئیر نہیں کرتا تم نے تو کس ہی کر دیا ۔۔۔

ڈی ڈی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کہاں ہے وہ ہم نے صبح سے نہیں دیکھا ۔۔۔

روحا پریشان ہوتی بولی تھی ۔

وہ جم ہے جب بھی پریشان ہوتا ہے تو زیادہ ٹائم وہی رہتا ہے تم جاٶ اسے ضرورت ہے ۔۔

ڈی ڈی ویسے ہی بولی تھی ۔۔

اچھا ۔۔۔۔روکو ایسے ہی چلی جاٶ گی اپن تم کو تیار کرتا ہے ۔۔۔

روحا جو حامی بھرتی جانے والی تھی جب ڈی ڈی اس کا حیلہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ہمارے ڈریس کو کیا ہوا ۔۔

روحا نے اپنی بلیک فراک کو دیکھتے پوچھا تھا ۔۔۔

دیکھو ہیر اور مرحا کتنی فنی ہے یافی باس بھی فنی ہے ایک تم ہو انیجل جو سیریس رہتی ہو تھوڑا مسکرایا کرو اور لک چینج کرو دیکھنا صام پاگل ہو جاۓ گا ۔۔۔

ڈی ڈی روحا کے بال کھولتی بولی تھی ۔۔۔

رہنے دو ہم ایسے ہی ٹھ۔۔۔۔

تیار ہو جاٶ شرافت سے ورنہ ڈی ڈی کا دماغ گھوم جانا ۔۔۔

روحا جو منہ بناۓ بول رہی تھی جب ڈی ڈی اسے اپنی گن دیکھاتی بولی تھی ۔۔۔

کرو تیار ۔۔

روحا روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔

وہاں اپن کا بیوٹی باکس پڑا ہے لاٶ ۔۔

روحا ڈی ڈی کے کہنے پر پنک کلر کا بھاری بیوٹی باکس اٹھا کر لائ تھی ۔۔۔

کتنا بھاری ہے یہ ۔۔

روحا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

تم نے اندر نہیں دیکھا ۔۔۔

ڈی ڈی باکس کھولتی بولی تھی ۔۔

اہہہہ اہہہہہ ہ۔م ہم نہیں تیار ہو گے ۔۔۔

روحا بیوٹی باکس کے اندر اتنا سلحہ دیکھتی چیخی تھی کیونکہ اس میں ہر ہتھیار تھا چاقو گن بلیڈ منی بمب ہر وہ چیزیں تھی جس سے دشمن قابو میں آ سکے ۔۔۔

وہ ساری چیزیں دور سے دیکھنے پر میک اپ کا سامان لگتی پر قریب سے دیکھنے پر پتہ چلتا وہ خطرناک سلحہ تھا ۔۔

بیٹھو یہاں پر اب اپن تیار کرے گا ۔۔

ڈی ڈی روحا کو قابو کیے بولی تھی ۔۔۔

روحا خود کو کوس رہی تھی کیوں ڈی ڈی کے پاس آئ ۔۔۔

چلو انیجل اپن نے تیار کر دیا تمہیں بس یہ ہڈی صام کے سامنے ہی اتارنا ۔۔۔۔

ڈی ڈی اپنے کارنامے پر خوش ہوتی بولی تھی ۔۔

ڈی ڈی یہ ڈریس اچھا نہیں ہم چینج ک۔۔۔

خبردار انیجل اگر چینج کیا کتنی مشکل سے اپن نے تیار کیا ورنہ اپن نے کبھی یہ لڑکیوں والے کام نہیں کیا ۔۔۔

روحا جو سرخ چہرہ لیے بول رہی تھی جب ڈی ڈی دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

بہت خوبصورت لگ رہی ہو بس صام تو تمہیں دیکھ کر ہوش کھو بیٹھے گا اسے یاد بھی نہیں رہے گا آج مینٹگ ہے ۔۔

ڈی ڈی اس کا خوبصورت روپ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

تم کیوں ہمیں قربانی کی بکری بنا رہی ہو یار وہ عام حالات میں نہیں چھوڑتے ہمیں آج تو پتہ نہیں تم نے کیا کیا ہے ۔۔

روحا اپنے پاٶں دیکھتی بولی تھی ۔۔

کیونکہ جس کے بارے میں اپن نے انفارمیشن دینی تھی وہ لڑکی مر چکی ہے اگر صام کو پتہ چلا وہ اپن کو مر دے گا اور ابھی اپن کا موڈ نہیں مرنے کا ۔۔۔

ڈی ڈی سکون سے بولی تھی ۔۔

وہ کیوں مری تھی ۔۔۔

روحا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔

اپن کا دماغ خراب کر دیا تھا پہلے مانی نہیں اپنا گناہ اور پھر پٹر پٹر بول رہی تھی سو اپن نے ایک ہی دفعہ اس کو شوٹ کر دیا ۔

تم اس کے ساتھ رہو گی وہ بھول جاۓ گا تب تک اپن جرمنی چلا جاۓ گا پھر کوئ ٹیشن نہیں جلاد ڈیڈ ہنیڈل کر لیے گے ۔۔

ڈی ڈی ویسے ہی روحا کا سرخ زرد چہرہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

اچ۔اچھا ۔۔۔

روحا کا سنتے ہی سانس روکنے لگ گی تھی اتنی خطرناک لڑکی صام کو ملی کہاں سے تھی ۔۔۔

———————————————————–

کیا کرو جاٶ یا نہیں ۔۔

روحا جم روم کے سامنے کھڑی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جم روم کے پاس تقربیاً بیس گارڈز کھڑے تھے ۔۔۔

میم آپ کو کچھ چاہے تھا ۔۔۔

ایک گارڈ نے سر جھکاۓ روحا سے پوچھا تھا ۔۔۔

ج۔جی اندر جانا ہے ۔۔۔

لیکن س۔۔۔۔۔

آنے دو تمہاری ہمت کیسے ہوئ میری زندگی کو روکنے کی جاٶ دفع ہو جاٶ سارے یہاں سے ۔۔۔

گارڈ جو بولنے والا تھا جب اندر سے اسے رعب و گرج دار صام کی آواز سنائ دی تھی ۔۔

س۔سوری میم آپ جاۓ ۔۔۔

گارڈ ڈرتا جلدی سے جم روم کا شیشے کا ڈور کھولتا بولا تھا ۔۔۔

روحا نے ڈرتے ڈرتے اندر انٹر ہوئ تھی ۔۔۔

جب ہر طرف روشنی ہی روشنی ہو گی تھی جبکہ شیشے کے بنے جم روم پر اب کالے رنگ کے پردے پر چکے تھے ۔۔۔۔

اتنے بڑے جم روم میں صرف روحا اور صام ہی تھے ۔۔۔

ص۔صام۔۔۔

روحا پورے جم روم صام کو نہ دیکھتی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

یہی ہو میری جان پریشان کیوں ہو گی ۔۔۔

روحا جو آس پاس دیکھ رہی تھی جب اسے اپنے کمر اور پیٹ پر صام کا یخ ٹھنڈا ہاتھ محسوس ہوا تھا ۔۔۔

اہہہ۔۔۔ص۔صا م۔۔۔ا۔۔۔

ریلکس میری جان پردے ہے کوئ بھی ہمیں نہیں دیکھ رہا ۔۔۔

روحا ڈرتے اپنی چیخ کو کنٹرول کرتی شیشے کی دیوار دیکھتی بول رہی تھی جب صام اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھتے بولا تھا ۔۔

آ۔آپ یہاں جم کر رہے تھے ہم چلتے ہے ۔۔۔۔۔

روحا جلدی سے جاتی بولی تھی ۔۔

روکو مس لائف جس مقصد کے لیے ڈی ڈی نے تمہیں اتنا تیار کر کے بھیجا ہے وہ کام تو پورا کرو ۔۔

صام روحا کو دوبارہ قابو کیے بولا تھا ۔۔۔

آ۔پ آپ کو کیسے پتی۔۔۔۔

سب جانتا ہو میں اس لڑکی کا قتل کر دیا اس نے خیر میں نے معاف کیا ویسے اتنی تیاری کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔۔

صام روحا کے ڈراک ریڈ کلر کی لیپ اسٹک کو دیکھتے اپنے انگوٹھے سے صاف کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

کیوں ہم پیارے نہیں لگ رہے ویسے آپ کو وہ میک اپ کی دوکان ہی پسند ہے ۔۔۔

روحا دل میں ڈی ڈی کو برا بھلا کہتی غصہ سے بولی تھی ۔۔۔

ارے مس لائف ت۔۔۔۔

صام جلدی سے دور جاتی روحا کا بازو پکڑتے بولا تھا جب اس کی ہڈی ہاتھ میں آتی اس کے شولڈر سے نیچے آئ تھی ۔۔۔

صام کے الفاظ منہ میں ہی رہ گے تھے ۔۔۔

ج۔جانے دے صام پلیز ۔۔

روحا اپنی ہڈی کو پکڑتے منت کرتی بولی تھی ۔۔۔

یہ کام ڈی ڈی کے ہے ۔۔

صام نے غصہ سے اس کی ہڈی اتاری تھی ۔۔۔

بلیک شارٹس پہنے بلیک ہی ٹاپ پہنے جو شولڈر لیس تھا اور پیٹ سے اوپر تک تھا ہلکے میک اپ پر ڈراک لیپ اسٹک بالوں کی پونی ٹیل بناۓ نیچے سے بلیک ہلیز لونگ شوز پہنے روحا گھبراۓ ہوۓ کھڑی تھی ۔۔۔

روحا کی دوھیا صاف شفاف سفید رنگیت بے داغ گردن خوبصورت ہونٹ جو ریڈ کلر کے تھے صام تو بجلی کے جٹھکوں میں آ گیا تھا ۔۔۔

وہ نہیں جانتا تھا روحا ایسی

ڈرسینگ کرے گی ۔۔

س۔سو۔سوری صام یہ بس۔۔

شششش یہ قاقلانہ روپ لے کر ہر وقت پاس رہتی ہو اتنی تیاری کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔

تم تو سادگی میں بھی قہر برساتی ہو اب تو پھر پورے ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئ ہو ۔۔۔

روحا جو شرمندہ ہوتی بول رہی تھی جب صام اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔

صام کی گرم سانسیں روحا کے چہرے پر پڑ رہی تھی ۔۔۔۔

جس کی وجہ سے اس کا چہرہ اور زیادہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔

پ۔پاگل ہو گے آپ کو۔کوئ سادگی میں بھی اچھا لگتا ہے ۔۔

روحا جلدی سے شرم کے مارے اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپاۓ ہکلاتے ہوۓ بولی تھی۔۔

تمہارا یہ شرمانہ گھبرانہ ۔۔۔ان ڈراک براٶن آنکھوں کی چمک ۔شرم کے مارے اپنی پلکوں کو اٹھاتی گراتی ہو ۔۔۔یہ پنک کانپتے ہونٹ ۔۔۔بے داغ صراحی دار گردن جس میں تمہاری مدہوش کرنے والی خوشبو آتی ہے ۔۔۔۔تمہارے یہ ڈراک براٶن بال جو ناگن کی طرح تمہاری نازک کمر پر جھولتے ہے ۔۔

جب ہممم کہتی ہو ان ہونٹوں کو ملاۓ ۔۔۔جب اپنی آنکھیں اوپر کو آٹھاۓ اففف کہتی ہو ۔۔

ہر انداز تمہارا مجھے بہکا دیتا ہے میری جان تو اس لحاظ سے مسٹر صام آفندی اپنی مس لائف کی ہر ادا کے لیے پاگل ہے ۔۔۔۔

ہاں میری جان میں تمہارے لیے واقعی پاگل ہو جنونی ہو اففففف میں اپنے دل کی حالت تمہیں بتا نہیں سکتا ۔۔۔۔

صام روحا کی کمر پر آہستہ آہستہ اپنی ٹھنڈی انگلیاں پھیرتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔

ص

۔صام ہم جاتے ہے۔۔۔۔

روحا پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے صام اسے اتنی گہری سے جانتا تھا تبھی وہ اپنے ماتھے پر پیسنہ لاۓ ہکلاتے بولی تھی ۔۔۔

جاٶ میری جان ابھی تو میں نے صرف بات کی ہے کوئ عمل تو کیا نہیں اور تمہاری حالت غیر ہو گی ۔۔۔

لیکن آج کے بعد اتنی تیاری مت کرنا تمہاری ایک مسکراہٹ ہی کافی ہے میرے لیے ۔۔۔

صام روحا کے شولڈر سے انگلی لاتا اس سے نیچے لاتا بولا تھا ۔۔۔۔

ک۔کیو۔کیوں اتنا بے بس کر رہے ہمیں صام ۔۔۔

روحا صام کی انگلی پکڑے جو نیچے کی طرف جا رہی تھی سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔

بے بس تم ہوئ ہو بے بس تو میں ہوا ہو بس دعا کرنا کسی دن میرا یہ باندھ ٹوٹ نہ جاۓ ۔۔۔

جب تم کالی بن کر رہتی تھی تب صرف دیوانہ ہوا تھا لیکن جب سے تمہارا یہ خطرناک روپ دیکھا ہے میں جنونی ہو گیا ہو ۔۔۔۔

بس ڈرتا ہو کہی اپنے اس جنونی پن میں تمہیں درد نہ دے دو ۔۔۔

صام روحا کو پکڑے پھر سے اس کی گردن پر انگلیاں چلاتے بولا تھا ۔۔۔

آپ پاگل ہو چکے ہے صام مینٹل پاسٹپل جاۓ ۔۔۔

روحا صام کو دھکا دیتی بولی تھی ۔۔۔

اس کا دل ایسا دھڑک رہا تھا جیسے باہر آ جاۓ گا ۔۔۔

دونوں ایک ہی بیڈ پر سوۓ گے ۔۔۔

صام اسے گہری نظروں سے دیکھتے بولا تھا ۔۔۔

ک۔کیوں۔۔۔

روحا اپنے شولڈر پر ہاتھ رکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ مجھے پاگل تم نے کیا تو تمہیں ساتھ لے کر جاٶ گا ۔۔۔

صام پھر اس کے قریب آتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہ۔ہم۔مارے گے آپ کو صام ہمارے پاس مت آنا ۔۔۔۔

روحا ڈرتے ہوۓ شیشے سے لگتی بولی تھی ۔۔۔۔

مار تو رہی مجھے تم اور کتنا مارو گی ۔۔۔

صام اس کے قریب جاتا اپنی انگلیاں اس کی انگلیوں میں پھساۓ بولا تھا ۔۔۔۔

ک۔کیوں تنگ کرتے ہے ہمیں صام ہم تو کچھ کہتے ہی نہیں ۔۔۔

روحا صام کے لب اپنی گردن پر محسوس کرتی بولی تھی ۔۔۔

صام صام ہم آ۔۔۔۔۔

روحا زور سے آنکھوں بند کیے کتنی دیر سے اس کے لبوں کا لمس اپنی گردن اور شولڈر پر محسوس کر رہی تھی جب روحا بولتی آنکھیں کھولے بول تھی جب صام کو اپنے سامنے نہ پاتی حیران رہ چکی تھی ۔۔۔

افففف کیا چیز ہے یہ ۔۔۔

روحا زمین پر بیٹھتی اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا انیجل بڑی خاموش ہو ۔۔

ڈی ڈی مرحا روحا کا سرخ چہرہ دیکھتے بولیں تھی ۔۔

جبکہ سارے ڈائنگ ہال میں بیٹھے رات کا ڈنر کر رہے تھے ٹیبل پر آفندی صاحب وردہ بیگم آہان ہیر مرحا مستقیم صام روحا بیھٹے تھے ۔۔

و۔۔وہ کچھ نہیں ویسے ۔۔۔

روحا ڈی ڈی کو دیکھتے غصے سے بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ ڈی ڈی کو اپنی ہنسی کنٹرول کیے بیٹھی تھی ۔۔۔

اچھا انیجل بتاٶ میں نے سنا ہے شعیب سے پشتو سکھ رہی ہو کچھ سناٶ ہم کو ۔۔

مستقیم مسکراتا ہوا بولا تھا صام وہاں ایسے بیٹھا تھا جیسے بت ہو ۔۔۔

ابھی تک تو صام ٹھیک ہے ۔۔

آفندی صاحب خاموش بیٹھے صام کو دیکھتے دل میں سوچا تھا ۔۔۔

ہ۔ہم بتاتے ہے آپ کو کیسے پشتو بولتے ہے ۔۔۔

اس سے پہلے روحا بولتی جب اسے اپنی کمر پر صام کے ہاتھوں کی گرفت محسوس ہوئ تھی ۔۔

ٹیبل کے نیچے کوئ نہیں جانتا تھا صام نے کتنی مضبوطی سے روحا کی کمر پکڑی تھی ۔۔۔

چلو سب سنو ہماری پشتو ۔۔

روحا پہلے صام کو گھورتی رہی شاہد اسے چھوڑ دے لیکن صام اتنی ہی مضبوطی سے اور زیادہ پکڑ لیتا تبھی روحا شرارتی انداز سے اسے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

ہم صام کی تعریف کرے گے وہ پشتو میں کوئ ہم سے مطلب نہ پوچھے ۔۔

روحا صام کی سرخ گرین آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔

چلو تم بولو تو سہی ۔۔

مستقیم صام کا سرخ چہرہ انجواۓ کرتا بولا تھا ۔۔

کیونکہ روحا بھول چکی تھی سب کو پشتو آتی تھی سواۓ روحا کے کیونکہ صام نے شعیب سے جلیس ہو کر سب کو پشتو سکھائ تھی اور خود بھی سکھی تھی ۔۔۔

ستاہ سترگے دہ مار پشان دی۔ (آپ کی آنکھیں سانپ جیسی ہے ۔)…

روحا دانت پیستی ہوئ صام کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ہاے کتنا پیارا بول رہی ہو ۔۔۔

مرحا اپنی ہنسی کنٹرول کیے بولی تھی ۔۔

س۔ت۔ا۔۔۔

روحا بولنے والی تھی جب اسے صام کا ہاتھ اپنی شرٹ کے اندر جاتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

سب بے خبر تھے بت بنا صام کیا کر رہا تھا ۔۔۔

روحا گھبراہٹ پر قابو پاتی بولی تھی

ستاہ شکل دہ غل پشان دہ…

(آپ کی شکل سانڈ گنڈۓ جیسی ہے)۔۔

سب سے ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو چکا تھا۔۔۔

سنگہ پڑسے دلے مخ دہ جوڑ کڑے گرزی۔..

(کیسے سڑی ہوئ شکل بنا کر گھومتے ہو )…

سپ۔۔۔۔ااہہہہہ۔۔۔۔۔

کیا ہوا روحا ۔۔۔

صام جو اپنا ہاتھ واپس باہر نکالتا نیچے ٹبیل کے نیچے جھکا تھا ۔۔

جب روحا سکون کا سانس لیتی بولنے والی تھی تبھی وہ چلائ ۔۔

سب نے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔

ک۔کچھ نہیں ۔۔

روحا صام کو دوبارہ ٹبیل کے نیچے سے باہر چہرہ نکالتے گھورتے ہوۓ بولی تھی جبکہ اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہو چکے تھے ۔۔۔

سپنے چلغوزے میدے پشان شکل والا ۔۔

(وہائٹ چغلوزہ میدے جیسی شکل والا)…

روحا غصہ سے کہتی وہاں سے اٹھتی چلی گی تھی جبکہ سب کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

جاہل جنگلی انسان ہم نے نہیں رہنا اس وحشی کے ساتھ ہاے کیسے ریڈ ہو گی جگہ ۔۔۔

روحا جلدی سے روم میں آتی اپنی شرٹ پیٹ سے تھوڑی آٹھاۓ شیشے کے سامنے کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔

جہاں صام نے اسے غصہ سے کاٹا تھا ۔۔۔

یہ انعام ہے روحا بے بی تم بڑے پیار سے تعریف کر رہی تھی میری ۔۔

صام روم میں انٹر ہوتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔

کیا بے ہودگی ہے صام ہم نے کچھ غلط نہیں کہا جو ایسی حرکت کی جانتے ہے کتنی جلن ہو رہی ہے ہمارے اور آپ وحشی جنگلی درندے ہے زرا نہیں سوچا ہم انسان ہے ہمیں درد ہوتا ہے ۔۔

کیا ہمیں کومل سمجھ لیا تھا جو ایسا ظلم ک۔۔۔۔

روحا صام کو اپنے سامنے دیکھتی غصہ سے پھٹ پڑی تھی تبھی وہ آنسو لاۓ بول رہی تھی ۔۔

جب صام نے بنا روحا کو سمجھنے کا ٹائم دیے نیچھے گھٹنوں کے بل بیٹھے اس کی شرٹ اوپر کیے وہاں زخم پر اپنے لب رکھ چکا تھا ۔۔۔

ص۔صا۔صام چ۔چھوڑ۔ے ہمیں ۔۔۔

روحا صام کا نرم گرم لبوں کا لمس اپنے پیٹ پر محسوس کرتی تڑپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

میں کنٹرول سے باہر ہو گیا تھا تم نے تعریف ایسی ہی کی تھی اور دوسری بات تم بہت سوفٹ ہو مجھے جنون والا عشق ہے تم سے مس لائف تبھی یہ میرے جنون کی نشانی ہے ۔۔

صام وہاں اپنے لب سہلاتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔

روحا تڑپی تھی اس کے جنونی پن دیکھ کر ۔۔۔

ص۔صام ہم ا۔۔۔۔

اس سے پہلے روحا اسے پیچھے ہٹاتے بول رہی تھی جب اسے محسوس ہوا صام اس کے پیٹ پر کچھ پہنا رہا تھا ۔۔۔

ص۔صام آپ واقعی پاگل ہو چکے ہے لوگ برسلیٹ لاکٹ رنگ نوز رنگ جھومکے دیتے ہے اپنی بیوی کو اور آپ نے ہمیں کیا دیا ۔۔۔۔

روحا اپنے پیٹ پر خوبصورت سی ڈائمنڈ کی باریک سی چین دیکھتی بولی تھی جس میں چھوٹے چھوٹے لاتعداد ڈائمنڈز تھے جبکہ سنیٹر میں آر ایس کا ہارٹ بنا ہوا تھا ۔۔۔

روحا کو آج صام واقعی شوک پر شوک دے رہا تھا ۔۔۔

شوہر اپنی بیوی کو وہی چیز پہنے کو دیتے ہے جو ان پر خوبصورت لگے ۔۔۔

اور یہ چین یہی خوبصورت لگے گی کیونکہ تم بہت خوبصورت ہو بس کبھی بھی اسے جدا مت ہونے دینا ۔۔۔

صام اٹھتا روحا کے گال پر اپنے لب سہلاتے بولا تھا ۔۔۔

روحا کا گلا خشک ہو گیا تھا جبکہ دل کی سیپڈ اتنی تیز ہو گی تھی اسے اپنا سانس پھولتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

ص۔صام کیوں اتنے جنونی ہے آپ ہمیں ڈر لگتا کبھی کبھی ۔۔۔

روحا صام کی آنکھوں میں دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

ڈرا نہ کرو بلکہ پیار کیا کرو آج سے روز سونے سے پہلے تم مجھے یہ چین دیکھایا کرو گی پھر سویا کرو گی ۔۔۔

کیونکہ مجھے بہت خوبصورت لگی تمہارے جسم پر ۔۔۔

صام روحا کو ایک ہاتھ سے کمر پکڑے دوسرا اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھتے بولا تھا ۔۔۔

ص۔صام آپ پاگل ہو گے ہے ۔۔

روحا صام کا ہاتھ ہٹاتی بولی تھی ۔۔

کی۔۔۔

ہم جانتے ہے یہی کہے گے ۔۔

تمہارا یہ شرمانہ گھبرانہ ۔۔۔ان ڈراک براٶن آنکھوں کی چمک ۔شرم کے مارے اپنی پلکوں کو اٹھاتی گراتی ہو ۔۔۔یہ پنک کانپتے ہونٹ ۔۔۔بے داغ صراحی دار گردن جس میں تمہاری مدہوش کرنے والی خوشبو آتی ہے ۔۔۔۔تمہارے یہ ڈراک براٶن بال جو ناگن کی طرح تمہا

ری نازک کمر پر جھولتے ہے ۔۔

جب ہممم کہتی ہو ان ہونٹوں کو ملاۓ ۔۔۔جب اپنی آنکھیں اوپر کو آٹھاۓ اففف کہتی ہو ۔۔

ہر انداز تمہارا مجھے بہکا دیتا ہے میری جان تو اس لحاظ سے مسٹر صام آفندی اپنی مس لائف کی ہر ادا کے لیے پاگل ہے ۔۔۔۔

ہمیں پتہ تھا یہی کہنے والے تھے ۔۔

روحا صام کی نقل اتارتی بولی تھی ۔۔

جبکہ چہرہ سرخ ٹماٹر ہو چکا تھا ۔۔۔

ہاں میری جان میں تمہارے لیے واقعی پاگل ہو جنونی ہو اففففف میں اپنے دل کی حالت تمہیں بتا نہیں سکتا ۔۔۔۔

چلو آج اپنے عمل سے بتاٶ گا میں کتنا جنونی ہو ۔۔

صام روحا کو اپنے قریب لاتا اپنی انگلیوں میں اس کی انگلیاں پھساۓ اس کے خوبصورت گول لبوں کو دیکھا تھا اور اس پر جھک گیا ۔۔

روحا نے آنکھیں سختی سے میچ کر اسکے انگلیوں میں قید اپنے ہاتھوں کی انگلیاں بھینچ لیں ۔۔

۔وہ ایک منٹ بعد دور ہوا تھا۔۔

“سانسیں تو چھین لیتے ہیں ہماری

ہماری سانسوں پر بھی ہمارا اختیار نہیں رہنے دیتے ۔۔۔

روحا نے گہرے سانس لیتے یونہی آنکھیں میچے نروٹھے پن سے نیا شکوہ کیا تھا ۔۔۔

“اپنی فراہم بھی تو کرتا ہوں”

مس لائف ویسے بھی یہ میری سانس ہے تمہاری نہیں اسے چیھنے کا حق بھی صام آفندی کو ہے ۔۔

صام اسکی کان کی لو کو چومتا ہوا دلکشی سے سرگوشی کر گیا تھا روحا اسکے لمس پر کسمسائی۔

اس سے پہلے روحا دور ہوتی جب صام نے دوبارہ اس کے لبوں کو قید کیا تھا ۔۔۔

وہ بنا اسے سانس لینے کا وقت دیے بس ستم گر بنا اپنا جنون غصہ سب کچھ اس پر ظلم بنتا ڈھا رہا تھا ۔۔۔

ی۔یہ۔کیا تھ۔تھا ہ۔وح۔۔۔

وحشی انسان ہماری سانس چلی جاتی آج ۔۔۔

روحا ہمت جمع کرتی اسے دور کرتی گہرے گہرے سانس لیتی ہوئ تھی ۔۔

اسے ڈیپ کس کہتے ہے آو دوبارہ کرے ۔۔

صام روحا کے بھیگے ریڈ ہونٹ دیکھتے شوخ ہوتے بولا تھا جو اس کے ظلم کی وجہ سے گلابی سے ریڈ ہوۓ تھے ۔۔۔

توبہ ہم نہیں آتے ٹھرکی انسان ۔۔۔

روحا اپنی جان بچاتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔

ہاے مس لائف کیوں اپنی ان معصوم اداٶں سے پاگل کر رہی ہو مجھے دن با دن ۔۔۔

صام اپنے دل پر ہاتھ رکھتا بیڈ پر گراتا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

تیاری کر رہی ہو صبح کی ۔۔۔

روحا ڈی ڈی کے روم میں آتی بولی تھی جو اپنا سامان پیک کر رہی تھی ۔۔۔

ہاں اپن کو جانا پڑے گا اپن کا کام بس اتنا تھا وہ صام کی مدد کے لیے آئ تھی اب جانا ہو گا اپن تم سب کو مس کرے گا خاص کر تم کو ۔۔

ڈی ڈی روحا کو گلے لگاۓ بولی تھی ۔۔۔

جانا ضروری ہے کیا ڈی ڈی ہمارے پاس رہ لو ہمیں تمہارے ڈمپلز بہت پسند ہے ۔۔

روحا رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔

ارے اپن نے جانا ہے ویسے بھی تمہارے شوہر نے مجھے کہا ہے اپن تجھ سے دور رہے اس کے حساب سے اپن تم کو خراب کر رہا ہے تبھی ۔۔

ڈی ڈی اسے گلے لگاۓ بولی تھی ۔۔۔

ویسے بھی سانڈ صام کے ڈمپلز ہے وہ تمہارے ہی ہے ۔۔

ڈی ڈی روحا کو تنگ کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

اچھی بات ہے تم چلی جاٶ بے شرم ہو چکی ہو زیادہ ۔۔

روحا اسے مکا مارتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔

اپن کا جانا ضروری ہے اور اپن نے اپنی سویٹ ہارٹ کو بھی منانا ہے زندگی رہی تو اپن ملے گا ۔۔۔

ڈی ڈی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

تمہاری بھی نیلی آنکھیں ہے ڈی ڈی ۔۔

روحا اس کی نیلی آنکھوں کی چمک دیکھتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

تم بھول گی اس دن اپن نے ہی تمہارے پاس آتے شاپنگ بیگ آٹھا کر دیا تھا مال کے باہر ۔۔

ڈی ڈی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

وہ تو لڑکا تھا ۔۔

روحا سوچتی بولی تھی ۔۔

ارے اپن ہی تھا تب اپن نہیں جانتا تھا تم انیجل ہو ۔۔

ڈی ڈی مسکرائ تھی ۔۔۔

اچھا تم تیاری کرو ہم چلتے ہے ۔۔۔

روحا اسے تیاری میں مگن دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

چلو اپن صبح ملے گا ۔۔۔۔

نہیں صبح مت لینا ورنہ ہم دکھی ہو جاۓ گے تم بس آرام سے چلی جانا ۔۔۔۔

روحا ڈی ڈی کے گال چومتی محبت سے کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

————————————————————

افففف کتنی تیز بارش ہے اور صام پتہ نہیں کہاں ہے ۔۔۔

روحا باہر اتنی زور و شور سے بارش دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

کہاں چلے گے رات ہو گی ہے اتنی ۔۔۔

روحا پریشانی سے روم میں چکر لگاتی بول رہی تھی ۔۔۔۔

سارا دن وہ صام کے ساتھ رہی تھی کتنا تنگ کیا تھا اس نے تبھی وہ ڈرتے اپنے روم میں چھپی بیٹھی تھی ۔۔۔۔

آہان لالہ ٹھرکی کدھر ہے ۔۔۔

روحا باہر آتی سامنے آتے آہان کو دیکھتی پریشانی سے بولی تھی ۔۔۔۔

وہ شاہد اپنے روم میں ہو بارش انجواۓ کر رہا ہو گا ۔۔۔

آہان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جی اچھا اور ڈمپل بواۓ کدھر ہے ۔۔۔

روحا چاہتی تھی آج احمد اس کے ساتھ سو جاۓ کیونکہ بارش سے ڈر لگتا تھا جس کی وجہ سے وہ ایسا چاہتی تھی ۔۔۔

بہت شرارتی ہو گیا ہے ہیر کے ساتھ سو گیا اگر احمد کو لینا ہے میں لے آ۔۔۔

نہیں نہیں

لالہ سونے دے اسے اپنی ماما کے ساتھ ہم چلتے ہے ۔۔۔

روحا آہان کی بات سنتی جلدی سے بولتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔

میری انیجل کو محبت ہو گی ہے میرے چپمین سے واہ ہ ہ اب دیکھنا یہ ہے کب وہ اپنی محبت بتاۓ گی ۔۔۔

صام کے روم میں انٹر ہوتی روحا کو دیکھتے آہان نے مسکراتے ہوۓ سوچا تھا ۔۔۔

————————————————————

ہاے یہ صام کا روم ہے ۔۔

روحا روم میں انٹر ہوتی بولی تھی جہاں ہر جگہ روحا کی پکس لگی ہوئ تھی ہر پک میں روحا کے مختلف پوز تھے کچھ ایسے پوز بھی جس کا اسے ہی نہیں پتہ تھا ۔۔

اسے بعد میں دیکھتے زرا ٹھرکی کو دیکھ لو ۔۔۔

روحا روم کے ساتھ ٹیرس کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔

اس کا شک صیح تھا تیز بارش میں اکیلا کھڑا صام آسمان کی طرف چہرہ آٹھاۓ بے نیاز سے کھڑا تھا ۔۔۔

جبکہ تیز بارش سے مسلسل بھیگ رہا تھا ۔۔۔

صام۔صام کیا حرکت ہے یہ آپ بیمار ہو جاۓ گے صام چلے اندر۔۔۔

روحا جلدی سے قریب جاتی بولی تھی ۔۔۔۔

ص۔صام۔۔۔

روحا تو یہ والا صام دیکھ کر ڈرتے بولی تھی کیونکہ صام بنا کوئ رسپانس کیے ویسے ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔۔

اس کی سرخ گرین آنکھیں حد سے زیادہ ریڈ ہوئ تھی جبکہ چہرے سے وحشت ٹپک رہی تھی ۔۔۔۔

ص۔صام آ۔آپ ٹھیک ت۔تو ہے۔۔۔

بارش میں بھیگتی روحا نے ڈرتے ڈرتے صام کی یخ ٹھنڈے چہرے کو چھوتے کہا تھا ۔۔۔۔

صام ویسے ہی بنا کوئ حرکت کیے کھڑا تھا جیسے کہی کھو گیا ہو ۔۔۔۔

صام کو آج پیار سے ہنیڈل کرنا بیٹا وہ بس تمہاری محبت کا بھوکا ہے ۔۔۔

جیسے وہ تمہیں اتنی عزت اور محبت دیتا ہے ویسے تم بھی دو بیٹا ۔۔۔۔

روحا کے کان میں وردہ بیگم کے الفاظ گونجے تھے ۔۔۔

ص۔صام کیا ہوا ہے آپ کو ہمیں بتاۓ ہم سن لے گے ۔۔۔۔

روحا ڈرتے ڈرتے بارش میں بھیگے صام کو ہگ کرتی بولی تھی ۔۔۔

ت۔تم واقعی میری ہر بات سنو گی مس لائف ۔۔۔

صام اپنے سینے پر نرم سا لمس پاتا ہوش میں آتا اسے کمر سے پکڑے بولا تھا ۔۔۔

ج۔جی بتاۓ کوئ پریشانی ہے ۔۔۔۔

روحا کانپتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

میرے پاس رہو ہمیشہ مس لائف اور مجھے کچھ نہیں چاہے اگر چاہے تو یہ تمہاری سانسیں ۔۔۔

اچانک صام روحا کو گود میں آٹھاۓ بولا تھا ۔۔

جب روحا کا چہرہ صام کے چہرے کے قریب آیا تھا ۔۔۔

ان۔اندر چلے ہ۔ہم ۔۔

روحا نظریں جھکاۓ بولی تھی کیونکہ آج کل اسے بھی اپنی حالت سمجھ نہیں آتی تھی وہ کیوں بار بار صام کے قریب جاتی ہے ۔۔۔

ہاں چلو آج کی رات صرف ہم دونوں ہو گے ۔۔

صام روحا کی شکل دیکھتا پیار سے بولا تھا ۔۔۔

نہیں ہم اپنے روم میں جا رہے یہ حق کومل کا ہے ۔۔

روحا جلدی سے نیچے اترتی بولی تھی ۔۔۔

تم اور میں دونوں جانتے ہے وہ پکس نقلی ہے ا۔۔

ہم دونوں جانتے ہے لیکن یہ دنیا نہیں جانتی سمجھے آپ جاۓ یہاں سے ۔۔

صام جو منت کرتا بول رہا تھا جب روحا غصے سے چلائ تھی مقصد صرف اتنا تھا کومل اسے یہ نہ کہے وہ اس کا حق کھاتی ہے ۔۔

کیا بکواس ہے یہ مس لائف وہ غیر محرم ہے ہمارا نکاح نہیں ہوا ۔۔۔

صام بے بس ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ہم کچھ نہیں جانتے حق ۔۔۔

کیا حق حق تو میرا بھی بنتا ہے مجھے مجبور مت کرو مس لائف کہ میں زبردستی کرو تمہارے ساتھ ۔۔۔

صام شدید غصہ سے چلایا تھا ۔۔

دونوں تیز بارش میں بھیگتے لڑ رہے تھے ۔۔

صام کی بات سنتے اس کی جان لبوں پہ اٹکی تھی۔۔۔

“مجھے زبردستی پہ مجبور مت کرو مسسز صام آفندی اب تک بہت سزا جھیل لی میں نے اپنے جنون کی تمہیں جیتنی چھوٹ دی ہے تم اپنا یہ ننھا سا دماغ خراب کر رہی ہو ۔۔۔۔

صام روحا کو جھٹکے سے پکڑے اپنے قریب لاتے

اسکے شانے پہ ٹھوڑی ٹکائے بولا تھا۔۔۔

آ۔پ آپ ہمارے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے صام وہ دھاڑی تھی۔۔

اوووو رئیلی ۔۔۔

جب صام نے اسے سر تاپیر اسکا جائزہ لیتے کہا تھا ۔۔۔

جو بھیگنے کی وجہ سے ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی ۔۔۔

“سردی کی شدت بڑھ رہی ہے میرے خیال سے ہمیں باقی کی میٹنگ اندر جاکے کرنی چاہئیے؟”

وہ ایک دم سے اسے گود میں اٹھا گیا تھا جبکہ روحا اس اقدام پہ ہڑبڑائ تھی ۔۔۔

مس لائف تم میری طرف ایک قدم بڑھاٶ میں پورا کا پورا تمہاری طرف بھاگا آو گا ۔۔۔

چھوڑ دو یہ فتور ۔۔

اس نے خود سے الجھتی روحا کو کہتے قدم اندر کی جانب بڑھائے تھے۔۔۔

روحا پہ اسوقت گھڑوں پانی برسا تھا جب وہ اسے اپنے کمرے میں لایا تھا۔

ہ۔ہمیں اپنے روم۔میں جانا ہے ۔۔

روحا اپنا گلا تر کرتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔

“میں اور میرا روم کب سے ایک فرد کو مس کررہے ہے ۔۔۔

صام روحا کو چھوڑتا نرمی سے بولا تھا ۔۔۔

ہم جا رہے ہے ۔۔۔

روحا کو اسکے ارادوں کی آگاہی تھی جبھی وہ کہتی وہاں سے جاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی تھی۔۔

پر بڑھ نہیں سکی تھی کہ موسم خراب ہونے کی وجہ سے اچانک غائب ہونے والی لائٹ نے کمرے کو اندھیرے میں ڈبویا تھا اسکے پاس اپنا موبائل نہیں تھا۔۔۔

ص۔صاممممم۔۔۔

جبھی وہ ڈرتے جلدی سے صام کے بھیگے سینے سے لگی بولی تھی ۔۔

جبھی نرم سانسوں کی تپش نے کسی دوسرے وجود کی موجودگی کی خبر دی تِھی۔

“دیکھو یہ رات ،یہ بارش اور لائٹ بھی ہمارا ساتھ چاہتی ہے مس لائف ۔ضد چھوڑ دو میں کب تک یوں بھنورا بن کے رہوں گا ؟تمہارے عشق کے ہجر کی طویل راتیں مجھ سے کٹتی نہیں ہیں بھلا تم سے بڑھ کے کوئی ظالم ہوگا۔۔

جس نے اپنے احساس تک کو مجھ سے دور کرلیا ہے؟”

وہ اسے کمرہ الگ کرنے پہ شکوہ کررہا تھا۔

روحا ڈر کے مارے آنکھیں بند کیے صام کی سرگوشیاں سن رہی تھی وہ جانتی تھی کتنا تڑپ رہا تھا اس کے لیے لیکن وہ مجبور تھی ۔۔

ص۔صام ہم جاتے ہے آپ س۔

تبھی لائٹ پھر سے واپس آئی تو وہ اپنی بات ادھوری چھوڑے واپس جانے کو پر تولنے لگی تِھی۔

“میں کوئی زبردستی نہیں چاہتا روحا بے بی لیکن یہ ریکوئسٹ ضرور کرسکتا ہوں کہ میرے انتظار کے صبر کی حد تک جانے سے پہلے لوٹ آنا۔”

وہ مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھامے لبوں سے لگاتے چھوڑ گیا تھا۔۔۔

کپڑ۔کپڑے جینچ کر لے ۔۔

روحا جلدی سے گھبراہٹ پر قابو پاتی بولی تھی ۔۔

اگر تم ضدی ہو تو میں بھی ضدی ہو مس روحا جاٶ یہاں سے کوئ کپڑے جینچ نہیں کرنے ۔۔۔

صام غصے سے دھاڑا تھا جب روحا بنا دیکھے وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔

———————————————————–

اففف کیا کرے ہم ان کا ۔۔۔

روحا روم میں آتی نائٹ ڈریس پہنتے بیڈ پر آتی بولی تھی ۔۔

اہہہہ اہہ اس کو بھی ابھی جانا تھا ہاے کیا کرے ۔۔

اس سے پہلے وہ لیٹتی جب لائٹ بند ہو گی تھی ۔۔۔

جنرنیٹر آن ہوتا روم کی لائٹس آن ہو گی تھی لیکن وہ ڈر چکی تھی ۔۔۔

ص۔صام ہ۔ہم آ جاۓ ۔۔

روحا اپنے روم سے جلدی سے نکلتی صام کے روم میں انٹر ہوتی ڈرتے ڈرتے بولی تھی ۔۔

سارا روم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا روحا کو کومل کہی بھی نظر نہیں آئ تھی ۔۔

جبھی آہستہ آہستہ وہ بیڈ کے پاس آئ تھی ۔۔۔

بیڈ پر کمبل لیے صام ویسے ہی کپڑوں میں گہری نیند سو رہا تھا ۔۔

ہاے شکر ہے سو رہے ابھی تھوڑی دیر بعد صبح ہو جاۓ گی ہم واپس روم میں چلے جاۓ گے ۔۔۔

روحا ڈر کے مارے جلدی سے اس کے کمبل میں گھستے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاےےے کتنے ٹھنڈے ہے یہ اور کپڑے بھی چینج نہیں کیے ۔۔۔

روحا جیسے ہی سوۓ ہوۓ صام کو گہری نیند میں ہگ کرنے والی تھی جب اس کا جسم اتنا ٹھنڈا محسوس کرتی کانپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

س ۔سوری صام ہم آپ کو دکھ نہیں دینا چاہتے ہم جانتے ہے آپ کی تڑپ کو لیکن ہم مجبور بہت ہے ہم کسی کی بددعا نہیں لینا چاہتے ۔۔

روحا آرام سے اسے زور سے ہگ کیے سکون سے اس کے نیلے ہونٹ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

لیکن ہمیں آپ اچھے لگتے ہے بلکل تھوڑے سے ۔۔۔

روحا اپنا منہ صام کی گردن میں چھپاۓ نیند میں جاتی سرگوشیاں کر رہی تھی ۔۔۔

جبکہ نیند سے جاگتے صام کے چہرے پر مدھم سی مسکان آئ تھی ۔۔

کوئ بات نہیں میری جان ایک دن محبت بھی ہو گی تم سے اور مجھے اس دن کا بے صبری سے انتظار ہے ۔۔۔

صام گہری نیند میں جاتی روحا کا چہرے اوپر کیے اس کے نیم وا ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لاک کیے اپنی بھی آنکھیں بند کر چکا تھا ۔۔۔

نیند میں بھی صام کا لمس تصور کرتے روحا نے برا سا منہ بنایا تھا ۔۔۔

وہ اپنا خواب سمجھی تھی ۔۔

————————————————————

ن۔نہیں با با م۔ما ما روکے اسے نہیں ن۔۔۔

صام صام کیا ہوا آپ کو ٹھیک تو ہے ۔۔

روحا جو گہری نیند لے سکون سے صام کو ہگ کیے سو رہی تھی جب اسے صام کی نیند میں

چیختے آواز سننی تھی ۔۔

تبھی وہ نیند سے جاگتی صام کے چہرے کو پکڑتے بولی تھی ۔۔۔

ت۔تم م۔مجھے چھ۔چھوڑ ۔کر نہیں جاٶ گی مس لائف ۔۔۔

صام غنودگی اور بخار میں تپتے جسم لیے وہ روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

صام آپ کو بخار ہے ہم ڈاکٹر کو بلاتے ہے اور کسی کو کہتے ہے ۔۔۔

روحا پریشان ہوتی جلدی سے بیٹھ سے اترتی بولی تھی ۔۔

لیکن ہم ۔کیا کہے گے سب سو رہے ہو گے او۔۔۔

نہیں نہیں ہم ہی کچھ کر لیتے ہے ۔۔

روحا دروازے کے قریب جاتی دل میں گھبراتی بولی تھی ۔۔۔

ص۔صام ۔۔۔

کیوں چھوڑ کر گی تم کہہ تھا میں نے مجھے تمہاری ضرورت ہے پھر بھی گی جاٶ اس کی طرح جیسے وہ چلا گیا تھا ۔۔۔

روحا جو جلدی سے کچن سے برف اور پٹی روم میں آتی بول رہی تھی جب صام بیڈ سے اٹھ کر بیٹھتے صام نے غصے سے چلاتے پانی کا جگ اٹھاۓ زمین پر مارتے کہا تھا ۔۔

آہہ۔۔۔

روحا نے بامشکل اپنی چیخ کی آواز منہ پر ہاتھ رکھتے روکی تھی ۔۔۔

ص۔صام ہم بس یہ لینے گے تھے آپ کو بخار ہو گیا ہے ہم نے کہا بھی تھا ابھی آ جاتے ۔۔۔

روحا ڈرتے ڈرتے صام کے قریب جاتی بولی تھی ۔۔۔

نہیں چاہے مجھے تمہاری ضرورت جاٶ میں اکیلا رہ لو گا سمجھ آئ جاٶ یہاں سے تم ابھی بھی ک۔۔۔

چپ ایک دم چپ اب آواز نہ نکلے آپ کی ورنہ اتنی دور چلی جاٶ گی آپ ترسے گے ہمارے لیے ۔۔۔

صام روحا کو دھکا دیتا چلایا تھا جب روحا بھی طش میں آتی اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتی چلائ تھی ۔۔۔۔

جانتی تھی وہ جیتنا آرام سے ہنیڈل کرے گی صام اتنا ہی پنک کرے گا تبھی وہ چلائ تھی ۔۔۔

خبردار اب اگر آواز نکالی آپ نے چلے لیٹ جاۓ آرام سے ۔۔

روحا صام کو گھورتی بیڈ پر دھکا دیتی بولی تھی ۔۔

جب صام بچوں جیسی شکل بناۓ لیٹ گیا تھا ۔۔

———————————————————–

ہم نہیں چھوڑ کر جا رہے آپ کو سننا آپ نے بیوی ہے ہمارا پورا حق ہے آپ پر اگر آج کے بعد ایسے چلاۓ ہم پر تو ہم مارے گے آپ کو ۔۔۔

روحا خاموش لیٹے صام کی شرٹ ریمو کرتے آہستہ آہستہ بول رہی تھی جبکہ ٹھنڈے پانی کی پٹیاں اس کے ماتھے پر کر رہی تھی ۔۔

س۔سوری مس لائف سمجھ نہیں آیا مجھے کیا بول گیا ۔۔

صام اپنی سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

کوئ بات نہیں اب سو جاۓ بخار کم ہوا ہے پر اتنا نہیں آپ آرام کرے ۔۔۔

روحا صام کے چہرے کو چھوتی بولی تھی ۔۔

تمہیں پتہ آج اس کی برتھ ڈے تھا ۔۔

صام کھوۓ ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔

صام آپ یہ میڈیسن کھا لے آرام آ جاۓ گا ا۔۔۔

روحا اس کی بات اگنور کیے بولی تھی جب صام دوبارہ بولا تھا ۔۔۔

کتنی دفعہ کہا ہے مجھے بس تمہاری ضرورت ہے میرے ہر درد کی دوا تم ہو تمہارے علاوہ کوئ نہیں چاہے بس میری سانسوں کے قریب رہو ۔۔

صام اسے اپنے سینے پر گراے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔

اچھا ہم آگے اب خوش ہے آپ ۔۔

روحا آرام سے اپنا سر اس کے سینے پر رکھتی بولی تھی اب اسے ہنیڈل بھی کرنا تھا ۔۔۔

————————————————————

آج میری دوست بن جاٶ وہ دوست جس سے میں ہر بات اپنے دل کی کر سکو ۔۔۔

صام اب اپنا منہ روحا کے پیٹ پر رکھتے آنکھیں بند کیے بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہہایہااہااہا صام ٹھرکی ہم دوست ہی ہے بتاۓ کون سی بات شیئر کرنی ہے ہم سن رہے ہے ۔۔

روحا اپنے پیٹ پر صام کے لب محسوس کرتی قہقہ لگاتی بولی تھی کیونکہ اسے گدگدی ہو رہی تھی ۔۔۔

یہ مجھے بہت پسند ہے دل کر رہا کھا جاٶ ۔۔

روحا کو اتنا خوش اور ہنستا دیکھ صام نے اپنے دانت اس کے پیٹ پر گھاڑتے بولا تھا ۔۔۔

کیا ہے صام ہم نے ناراض ہو جانا ہے پھر ۔۔۔

روحا سیریس ہوتی بولی تھی اسے امید تھی صام ایسا ہی کچھ کر نہ دے ۔۔۔

———————————————————–

چھوٹا سا تھا میں جب مالی کاکا کا بیٹا نوفل ہمارے گھر آتا تھا ۔۔۔

مجھے بہت پسند آیا تھا وہ کیونکہ میرا کوئ دوست نہیں تھا نہ ہی مجھے شوق تھا کسی سے اتنی دوستی بنانے کا ۔۔۔

نوفل بہت خوبصورت لڑکا تھا گرین آنکھیں گالوں پر پڑتے ڈمپل سفید رنگ شرارتی سا تھا ۔۔

مجھے اس کی دوستی بہت پسند آئ ہر وقت بولتا رہتا تھا میں خاموش رہتا تھا ۔۔

پھر ہماری دوستی ہو گی مستقیم آہان زرجان منان نوفل اور میں گہرے دوست بن گے ۔۔

ہر وقت میں نوفل کے ساتھ رہتا تھا ۔۔

لیکن ہماری دوستی کو نظر لگ گی ۔۔

روحا اپنی انگلیاں اس کے سر کے بالوں میں پھیر رہی تھی جبکہ صام اس کی شرٹ اوپر کیے اس کی چین سے کھیلتا بول رہا تھا ۔۔۔

ک۔کیسی نظر ۔۔

روحا ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

————————————————————

بابا ماما باقی سب کو پتہ چل گیا تھا نوفل ایک خواجہ سرا ہے سب نے ہم دونوں کو الگ کرنے کی اتنی کوشش کی مالی کاکا بھی ہماری دوستی سے جلتا تھا ۔۔

کیونکہ اسے نوفل ہی پسند نہ تھا ۔۔

ہر وقت بابا

کان بھرتا تھا کہ نوفل خواجہ ہے کہی صام بھی ایسا نہ بن جاۓ بلا بلا بلا ۔۔

لیکن ہماری دوستی میں فرق نہ آیا بلکہ روز با روز بڑھتی ہی گی ۔۔

ان سب کی شرارتیں ہوتی تھی اور مجھے بس نوفل کی دوستی پسند تھی ۔۔۔

نوفل کا ماما فوت ہو گی جب تک وہ زندہ تھی ہماری دوستی قیام رہی کیونکہ اس کی ماما کو نوفل بہت عزیز تھا اور وہ سب سے لڑ کر نوفل کو میرے گھر بھیج دیتی ۔۔۔

ہم سب کو کبھی فرق نہیں پڑا تھا نوفل ایک تیسری مخلوق ہے بلکہ ہم نے تو عہدِوفا کیا تھا چاہے کچھ بھی ہو جاۓ ہم جدا نہیں ہو گے ۔۔۔

لیکن ہم جدا ہو گے روحا بے بی ۔۔

صام روحا کی طرف دیکھتے ریڈ گرین آنکھوں سے دیکھتا بولا تھا جو اپنے آنسو کنٹرول کیے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔

پ۔لی۔۔۔

اس کی ماما کے جانے کے بعد مالی کاکا نوفل کو بھوکا پیاسا روم میں سارا دن بند کردیتا ۔۔

جب دیکھتا نوفل پھر بھی سانسیں لے رہا تب اس بھوکے کو مارتا پیٹتا تھا ۔۔

نوفل سب کچھ سہہ لیتا تھا وہ مرنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔

جب مالی کاکا نے دیکھا نوفل سب کچھ برداشت کر رہا ہے تبھی لوگوں کی باتوں میں آتے اسے خواجہ سرا کی ٹیم میں بھیجنے کا فصیلہ کر لیا ۔۔۔

اس دن نوفل کا برتھ ڈے تھا ہم سارے خوش تھے اسے گفٹ دے گے ۔۔

سب جانتے تھے نوفل کس حال میں ہے ایک میں ہی نہیں جانتا تھا اس کی حالت کو ۔۔۔

جب ہم مالی کاکا کے گھر گے تو دیکھا یہ تو وہ نوفل تھا ہی نہیں جو ہر وقت ہنستا مسکراتا تھا ۔۔

یہ کوئ کمزور وحشناک سا نوفل تھا جس کے چہرے پر ویرانی تھی اس کی گرین آنکھیں مرجھائ ہوئ تھی جہاں ہر وقت شرارت رہتی تھی ۔۔۔

مجھے بہت غصہ آیا تب میری عمر دس سال تھی ۔۔

میں نے کہا اسے اپنے ساتھ بھاگا کر لے جاٶ گا ۔۔۔

میں نے ایسا ہی کیا نوفل کو اپنی گود میں آٹھاۓ میں مالی کاکا کے گھر سے نکل کر بھاگا تھا ۔۔

۔پھر۔۔۔

روحا نے بے تابی سے پوچھا تھا ۔۔

پھر اس معاشرے نے ہماری دوستی کو اچھا نہیں سمجھا اور جدا کر دیا ۔۔

صام روحا کی بے تابی دیکھتے طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

جیسے ہی میں باہر نکالا تو دیکھا بہت سارے خواجہ سرا کھڑے تھے جبکہ بابا آہان لالہ مستقیم منان بھی وہی کھڑے تھے ۔۔۔

روحا وہ میرے سامنے نوفل کو اٹھا کر لے گے میں چیخا چلایا تڑپا لیکن ان خواجہ سراٶں اور میرے گھر والوں نے ترس نہیں کھایا ۔۔

میں اکیلا ہی نہیں آہان لالہ منان مستقیم نوفل ہم سب تڑپے تھے ۔۔۔

ہمیں لگا جیسے ہمارا عہدِوفا پورا نہیں ہو گا ۔۔

کسی نے ہم معصوم بچوں پر ترس نہیں کھایا یہ معاشرہ جیت گیا ہماری دوستی ہار گی روحا ہماری دوستی ہار گی ۔۔۔

آج بھی وہ دن میرے روگھنٹے کھڑے کر دیتا ہے ۔۔

زرجان کے بابا آرمی آفسر تھے وہ شہید ہو گے زرجان اپنے غم سے نڈھال ہو چکا تھا ۔۔

منان بھی روتا تڑپتا آپنے ماما بابا کے ساتھ جرمنی چلا گیا ۔۔۔

لیکن میں وہی رہ گیا تھا جہاں تھا ۔۔۔

پہلے کم بولتا تھا نوفل کے جانے کے بعد میں بت بن گیا ۔۔

دل کرتا تو کھاتا ورنہ سارا سارا دن روم پاگلوں کی طرح اکیلا پڑا رہتا ۔۔۔

مجھے اس معاشرے سے نفرت ہوئ تھی لیکن اپنے گھر والوں سے بھی ہو گی کیا وہ جانتے نہیں تھے میں کتنا ٹچی تھا نوفل کے لیے ۔۔۔

میرا جو ایٹیٹوڈ تھا نوفل کے جانے کے بعد حد سے بڑھ گیا تھا ۔۔۔

اتنا زیادہ سکول میں ایک لڑکے نے مذاق کرتے کہا دیکھو یہ نوفل کا دوست تھا جب اسے پتہ چلا وہ خواجہ سرا ہے تبھی صام آفندی نے دوستی توڑ دی ۔۔

مجھے ایسے لگا جیسے وہ لڑکے نے میری دوستی کو گالی دی ہے میں قابو سے باہر ہوتا اسے جانوروں کی طرح مارنا شروع کر دیا ۔۔

اتنا مارا اتنا مارا کہ اس کی سانسیں تک بند ہونے لگ گی ۔۔۔

پھر سب نے فصیلہ کیا صام کو لندن بھیج دو ۔۔

میں دس کی عمر میں اکیلا لندن چلا گیا میرا ویسے بھی یہاں رہنے کو دل نہیں کرتا تھا ۔۔۔

———————————————————-

لندن جا کر میرا رابطہ بس مستقیم آہان اور منان کے ساتھ رہا تھا ۔۔۔

لندن جیسے ملک میں رہ کر اتنی دولت اتنی سیکوڑٹی ہونے کے باوجود میں وہاں اکیلا رہتا تھا ۔۔۔

سب کی نظروں میں ایک کافی امیر ترین لڑکا تھا جس کے پاس دنیا کی ہر چیزیں تھی ۔۔

لیکن کوئ نہیں جانتا تھا وہ کتنا غریب انسان تھا اس کا دوست اس سے کھو گیا ۔۔

مط۔مطلب صام۔۔۔

روحا آنسو بہاتی اٹکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

لندن گے مجھے ابھی دو ہفتے ہوۓ تھے جب معلوم ہوا نوفل مر چکا ہے ۔۔۔

یہ خبر مجھ پر ایسی بن کر ٹوٹی میرا نروس بریک ٹاٶن ہو گیا اور میں پانچ سال کومہ میں رہ۔۔۔

بابا ماما کے علاوہ سب جانتے تھے میں لندن جیسے ملک میں تنہا کومے میں گیا اپنی موت سے لڑ رہا تھا ۔۔

جبکہ یہاں بابا ماما اسی خیال میں رہے ان کا ایٹیٹوڈ بواۓ وہاں عیاشی کر رہا ہے ۔۔

صام اپنا چہرہ آٹھاتے روحا کے چہرے کے قریب

لاۓ اس کے آنسو صاف کرنے لگ گیا ۔۔۔

صام کا دل ہلکا ہو چکا تھا آج سالوں بعد اپنے دل کی بات کرتے ۔۔۔

آ۔آپ اتنی تک۔۔

ششش اب آنسو نہیں آنے چاہے مجھے سکون دو اب ۔۔

روحا جو صام کو زور سے ہگ کیے روتے بول رہی تھی جب صام اس کی شرٹ کے بٹن کھولتے بولا تھا ۔۔۔

نہیں ۔م۔میں ج۔۔۔

کہی نہیں جاٶ گی میرے پاس رہو سانسوں کے قریب اب سکون چاہے ویسے بھی آج کتنا بول لیا میں نے ۔۔۔

روحا جو ڈرتے اٹھتی بول رہی تھی کیونکہ صام کو اپنی واپس جنونی والی ٹون میں آتے دیکھ وہ ڈر گی تھی ۔۔۔

آج مجھے محسوس کرنے دو ۔۔

دو ہفتوں کے بعد مجھے یہ قربت ملے گی آج مجھے مت روکنا روحا بے بی ۔۔۔

صام روحا کو بیڈ پر لٹاۓ لائٹس آف کرتے اس کی شرٹ اتار چکا تھا ۔۔۔

ل۔لیک۔۔۔۔

روحا جو اپنا گلا تر کرتی بامشکل بول رہی تھی جب صام نے اس کی چین میں انگلیاں پھساۓ روحا کے لبوں کو قید کیا تھا ۔۔۔

اب سب کچھ بھولے وہ روحا کی سانسیں بے حال کر رہا تھا ۔۔۔

جبکہ روحا اپنی گردن لب پیٹ شولڈر ہر جگہ اس کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔