Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 8)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
““رخصتی اسپشیل ![]()
۔۔۔
ص۔ص۔صام آپ نے یہ شرط پوری کر دی ۔۔۔۔
پر کیسے۔۔۔
روحا ہکلاتے صام کے ہاتھوں کو قابو میں کیے سامنے بیڈ کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
تم نے کہا تھا تو شرط پوری کرنی پڑی ویسے بھی صام آفندی کے لیے کوئ مشکل کام نہیں ہوتا یہ تو بہت چھوٹا کام تھا مس کالی ۔۔۔
صام اپنے ہاتھ چھڑواتا دوبارہ اس کے پیٹ پر رکھتا اپنے دانت روحا کے شولڈر پر گاڑتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔۔
روحا تو ہکا بکا کھڑی تھی اسے تو احساس بھی نہیں ہوا تھا صام نے اسے کاٹا تھا ۔۔۔۔
بلیک کلر کا فل بھاری لنہگا جس کے اندر لاتعداد ڈائمنڈز کے سٹون لگے تھے۔۔۔۔۔
ساتھ خوبصورت سا ڈائمنڈ سیٹ پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔
روحا نے جان بوجھ کر یہ شرط رکھی تھی وہ رخصتی کے وقت بلیک کلر کا لنہگا پہنے گی جانتی تھی کوئ بھی دلہا اپنی دلہن کو کالا رنگ نہیں پہۓ گا ۔۔۔۔
پر یہ کیا صام آفندی واقعی اتنا پاگل تھا روحا زیدی کے لیے جس نے چند گھنٹے میں یہ لہنگا تیار کروایا ۔۔۔۔
ٹھرکی ۔۔۔۔
روحا ہوش میں آتی منہ بناتی ہوئ بولی ۔۔۔۔
ٹھرکی نہیں کہو رومانٹک ہبی۔۔۔۔
صام روحا کا رخ اپنی طرف کرتا اپنی ناک اس کی ناک سے سہلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ک۔ت۔ک۔تن۔کتنے پیسے لگے اس لہنگے پر ۔۔۔۔۔
روحا اپنی تیز ہوتی سانسوں کے درمیان بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ نظریں بیڈ پر ہی تھی جو لنہگا اتنا چمک رہا تھا ۔۔۔۔
دس لاکھ ۔۔۔۔
صام سرگوشی کرتے کہا ۔۔۔
کیییی۔۔۔دس لاکھ پاگل ہو گے ٹھرکی اتن۔۔۔۔
ششششش کیسے پٹر پٹر بول رہی ہو ابھی کچھ دیر بعد تمہاری زبان بند ہو جانی ۔۔۔
صام روحا کے لبوں پر انگلی پھیرتا خاموش کرواتا ہوا بولا ۔۔۔۔
یہ غلط ہے صام اتنا فضول خرچ اور یہ سیٹ اس سے بھی زیادہ قیمتی ہو گا ۔۔۔
روحا اپنا چہرہ پیچھے کیے دوبارہ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں قیمتی تو بہت ہے بس تمہیں احساس نہیں ہے ۔۔۔۔
صام دوبارہ روحا کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا بہکتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔
وہی تو میں کہہ ر۔۔۔۔۔
تمہارے یہ گلابی ہونٹ کتنے قیمتی ہے آج تو کھا جاٶ گا میں بس بچ جانا مجھ سے ۔۔۔۔
روحا جو پریشان ہوتی بول رہی تھی جب صام بات کاٹتا اس کے لب سہلاتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔
انتہا کے کوئ گھیٹا اور ٹھرکی انسان ہے ۔۔۔
روحا اس کا بے باک انداز دیکھتی طش میں آتی دور کرتی بولی تھی ۔۔۔۔۔
لو میں معصوم کچھ کیا ہی نہیں ۔۔۔
لیکن اب کرو گا ۔۔۔۔
صام اس کی طرف آتا شیطانی مسکراہٹ چہرے پر لاۓ قریب آیا ۔۔۔۔۔
ی۔یہ۔کیا۔۔۔۔۔
میں سوچ رہا تھا ایسے ہی باتھ روب میں رخصتی کروا لو ۔۔۔۔۔
صام اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا روحا کی بات کاٹتا ہوا بولا ۔۔۔۔
خبردار اگر ہمارے قریب بھی آۓ بابا لالہ کو بلا لو گی ۔۔۔۔
روحا اپنی جان بچاتی پیھچے ہوتی بولی تھی ۔۔۔
کیا بے ہودگی ہے صام ہم نے باتھ روب پہنا ہے آپ شرٹ پہنا رہے ہمیں ۔۔۔
صام اپنی شرٹ اتارتا روحا کو پہنا چکا تھا ۔۔۔
تبھی روحا ناسمجھی سے چلائ ۔۔۔۔
وہ اس لیے مس کالی کیونکہ تم نے ابھی دو منٹ بعد چیخنا ہے ۔۔۔۔
صام روحا کی کمر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
رخصتی کے لیے تیار ہو جانا کوئ تماشہ نہیں ورنہ جیسی حالت میں ابھی کھڑی رہو ایسے ہی اٹھا کر لے جاٶ گا ۔۔۔۔
صام اپنا ہاتھ اس کی کمر سے ہٹاتا وہاں سے جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
ہاہاہہاہا مس کالی اب میں بتاٶ گا ٹھرکی ہوتے کیسے ہے ۔۔۔
صام روم سے باہر آتا اپنے ہاتھ میں روحا کے باتھ روب کی ڈوری دیکھتا قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
آہہہہہ ۔۔۔۔جاہل ٹھرکی ذلیل انسان حیوان ۔۔۔
روحا کے روم سے اسے چلانے کی آواز آئ تھی ۔۔۔۔
روحا جو اسے کے جانے کے بعد کچھ سوچتی جب اس کا باتھ روب جسم سے اتر کر گر چکا تھا ۔۔۔۔۔
وہ تو شکر صام کی شرٹ پہنے کھڑی تھی ۔۔۔۔
تبھی اب غصہ سے چلاتی بول رہی تھی ۔۔۔۔
اہہہہ میری روحا بے بی کو کیا ہوا اندر آ۔۔۔۔۔
خبردار صام آپ اندر آۓ ہم نے گالیاں دینے لگ جانی ہے پر افسوس وہ بھی نہیں آتی ۔۔۔
صام جو دروازے کے قریب کھڑا بول رہا تھا ۔۔۔
جب روحا اندر سے چلائ تھی ۔۔۔
تم گالیاں دو ڈیش ڈیش کہا دو میں خودی گالیاں ایڈ کر دو گا مس کالی ۔۔۔
صام روحا کی حالت انجواۓ کرتا باہر سے بولا ۔۔۔۔
ہاں ہم کہتے ہے صام ڈیش ڈیش ڈیش اب دفع ہو جاۓ یہاں سے ۔۔۔۔
روحا بھی فورا مانتی غصہ سے بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اب صام کا چھت پھاڑ قہقہ گونجا تھا ۔۔۔۔۔
ہاہاہاہہاہہہاہہاہاہہاہاہاہ۔۔۔۔
افففف غصہ میں بھی کیوٹ لگتی ہو مس کالی چاکلیٹ ۔۔۔
صام قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
کیا ہو گیا جان ہم رات وہی رہ لیے گے اتنا منہ کیوں پھلایا ہے ۔۔۔۔
یافی زرجان کے پاس آتی بولی جو روٹھی بیوی کی طرح بیٹھا تھا
۔۔
تم نے بھول جانا مجھے وہاں جا کر اپنے بھاہیٶں کے ساتھ رہو گی میری طرف دیکھو گی بھی ۔۔۔۔
زرجان یافی کا ہاتھ پکڑتا گود میں بیٹھاتا روٹھے پن سے بولا ۔۔۔۔
اففف توبہ جان کہاں بھولتی ہو اور دن ہی کتنے ہوۓ ساتھ رہتے ہوۓ جو ایسا کہہ رہے ہے چلے میرے بھائ کی شادی ہے پکا تمہارے ساتھ رہو گی ۔۔۔۔
یافی زرجان کے گال کھیچتی مسکراتی ہوئ بولی ۔۔۔۔
صبح ہاسپٹل چلی جاتی ہو شام کو واپس آتی ہو پھر ٹائم ہی کم ہوتا ہمارے پاس ۔۔۔
زرجان معصوم سی شکل بناۓ اپنی گرے آنکھوں سے دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
ہاہاہہا ڈاکٹر ہو آپ بھی تو آفس ہوتے ہے شکایت مجھ سے کر رہے ہے اور یہ بچوں جیسی شکل نہ بناۓ ۔۔۔
یافی اس کی گود سے اٹھتی قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
لیکن اب تو نہیں جا رہا میں یافی یار یہ غلط ہے اگر ایسا ہی تنگ کیا تو لے جاٶ گا ترکی سب سے دور ۔۔۔
زرجان اس کے پیچھے آتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
پہلے صام کی شادی میں چلے بعد میں ترکی جاۓ گے اب خوش ۔۔۔
یافی اپنے اور زرجان کے کپڑے نکالتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ایک منٹ بھی مجھ سے دور مت رہنا پھر دیکھنا سب کے سامنے سے اٹھا لاٶ گا میں ۔۔۔
زرجان یافی کو بیک ہگ کرتا شدت جذبات سے بولا تھا ۔۔۔۔
ڈن ہو گیا چلے جلدی تیار ہو جاۓ ۔۔۔
زرجان کی محبت توجہ دیکھ کر یافی کی آنکھوں میں آنسو آ گے تھے تبھی جلدی سے اسے دور کرتی زبردستی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
آنسو صاف کرو یافی اگر یہ آنسو آنکھ سے نکل کر تمہارے گال تک آیا تو بھول جانا ہم شادی میں جا سکے گے ۔۔۔۔۔
زرجان بنا دیکھے کپڑے لیے سنجیدہ ہوتا کہتا واش روم کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔۔
یافی حیران پریشان منہ کھولے کھڑی تھی پر زرجان کی دمھکی یاد آتے جلدی سے آنسو صاف کرتی مسکرائ تھی ۔۔۔
———————————————————–
ارے واہ بڑا مسکرایا جا رہا ہے ۔۔۔
حیریت ہے ڈیول آج کتنے عرصے بعد مسکرایا ہے ۔۔۔۔
وہ روم میں آتا اپنی کمر مٹکاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ہاں یار دیکھو انیجل کتنی معصوم ہے گالیاں نہیں دینے آتی اس ٹھرکی کو کہتی ڈیش ڈیش سیرسیلی ۔۔۔۔
ہاہاہاہہہااا۔۔۔۔
ڈیول لیپ ٹاپ کی سکرین دیکھتا قہقہ لگاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
تمہیں غصہ نہیں آیا کیا ۔۔۔
وہ حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ارے یار غصہ کیسا وہ کسی نہ کسی طرح ہنستی غصہ بیزار تو ہوتی ہے نہ مجھے بس وہ بولتی ہوئ اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔
میری وجہ سے نہ سہی اس صام آفندی کی وجہ سے ہی ۔۔۔
ڈیول کھوۓ ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔
تو نے سوچا صام کا کیا کرنا ہے تو نے ظاہر سی بات ہے وہ ہر پل روحا کے ساتھ رہے گا اور تو کیسے برداشت کرے گا ۔۔۔۔
وہ پریشان ہوتا بولا تھا جانتا تھا وہ کتنا جنونی تھا ۔۔۔
ہاہاہہہا چاہے انیجل اس کے ساتھ رہے گی پر میں سایہ بن کر رہو گا اس کے پاس دنیا کی نظر میں وہ صام آفندی کی بیوی ہو گی لیکن رات کے اندھیرے میں وہ ڈیول کی بیوی انیجل بنا کرے گی میری روشنی ۔۔۔۔
بہت جلد میں اپنی انیجل کو روبرو ملو گا شاہد صبح ہی ۔۔۔۔
وہ اپنی سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
مطلب صبح ک۔۔۔۔۔
میں ہر حال میں انیجل کے پاس جاٶ گا چھوؐ گا اسے محسوس کرو گا ۔۔۔۔
ڈیول اس کی بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
ہیر آپی کیا ہوا آپ کو کتنی خاموش ہے ۔۔۔
روحا ہیر کے پاس آتی بولی تھی جو ایک ہفتے میں بلکل خاموش ہو گی تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں بلیک بیوٹی بس طیبعت نہیں ٹھیک ا۔۔۔۔۔
کچھ تو ہوا ہے اس دن آپ گی تھی اسٹڈی کرنے پھر جلدی بھی آ گی تب سے خاموش ہے ۔۔۔۔
روحا پریشان ہوتی اس کی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔
میری بلیک بیوٹی تم بہت خوبصورت ہو یار کوئ ایک پل بھی دیکھے تو فدا ہو جاۓ ۔۔۔۔
دیکھنا اپنی شادی پر کتنا خوبصورت لگو گی ۔۔۔
ہیر روحا کی گال پر ہاتھ رکھتی کھوئ ہوئ سی بولی تھی ۔۔۔۔
ارے پہلے آپ کی شادی ہ ۔۔۔۔۔
میں کبھی شادی نہیں کرو گی بلکہ شادی کے لیے قابل ہی نہیں رہی ا۔۔۔۔۔
بہتتتتت پیاری لگ رہی ہو انیجل ۔۔۔۔
روحا اپنے روم میں تیار سی بیٹھی آئنیہ دیکھتی ہیر کو یاد کر رہی تھی جب یافی روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔۔
روحا آنسو کنٹرول کرتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔۔
مجھے پتہ تمہیں اس وقت ہیر کی یاد آ رہی اگر وہ تمہاری آپی تھی تو میں نہیں ہو کیا ۔۔۔۔
یافی روحا کو گلے لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہیر آپی کے بعد آپ ہی ہے میری بہن جس سے میں ہر بات کر لیتی ہو ۔۔۔۔
روحا آنسو بہاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
یار انیجل جو ہونا تھا ہو گیا اب تو میرے بھائ کو سچ بتا دو دیکھو ہر مرد ایک جیسا۔۔۔۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہے لگتا جان بھائ کچھ زیادہ محبت کرنے لگ گے ہے ۔۔۔۔
یافی جو پریشان ہوتی بول رہی روحا بات کو بدلتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
افففف انیجل کتنی چالاک ہو
یار پتہ نہیں میرے بھای کا کیا ہو گا ۔۔۔۔
یافی بھی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
مہرون کلر کی شارٹ فراک کپری پہنے ڈراک میک اپ بالوں کو کرل کیے شولڈر پر اچھے سے ڈوپٹہ سیٹ کیے یافی بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔
چلو آو چلتے ہے ۔۔۔
یافی روحا کا ہاتھ پکڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
اوووو دیکھو مسٹر ککڑ آۓ ہے ۔۔۔۔
صام اسیٹچ پر کھڑے ہوتے سامنے سے منان کو آتے دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
جو ڈراک بیلو تھری پیس پہنے مہنگی واچ ہاتھ میں پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے اپنے کسرتی جسم داز قد لیے وہ بھاری قدم آٹھاتا مسکراتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔۔
سیم ویسی ڈریسنگ مستیقم اور زرجان نے کی تھی بس مستقیم نے ڈراک گرے اور زرجان نے مہرون تھری پیس پہنا تھا ۔۔۔۔۔
تینوں اپنی وجہہ پرسیلنٹی لے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔
منان نام ہے میرا یار ۔۔۔
منان اسیٹچ پر کھڑے صام کو گلے ملتا منہ بناتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بلیک کلر کی شروانی پہنے ڈائمنڈ کا بروچ لاۓ اپنے کالے بالوں کو جیل لگا کر کنٹرول کیا گیا تھا اچھے سے جو شولڈر سے اوپر تک تھے ۔۔۔۔
سرخ گرین آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون اور وحشت لیے اپنے کسرتی جسم پر دیو جیسا قد لیے چہرے پر ڈمپل سجاۓ ہلکی شیو لے عنابی ہونٹوں کو گول کیے وہ مسلسل سامنے روش کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
بڑا سے بڑا بزنس مین اور امیر لوگ آۓ تھے ۔۔۔
لاکھوں لڑکیاں صرف صام آفندی کی ایک نظر کے لیے تڑپ رہی تھی پر وہ دنیا جہاں کا لاپروہ لڑکا ایٹیٹوڈ بواۓ سب کو اگنور کیے مس کالی کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔
ہاں جانتا ہو منان ککڑ ہے تو ۔۔۔
صام گلے مل اس سے رہ تھا جبکہ نظریں سامنے قالین دبیز روش کی طرف تھی ۔۔۔
ہاے کتنا ظلم ہو گیا میرے ساتھ ہاے میں خوبصورت جوان ہٹاکٹا خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت ہاے میں ابھی تک کنوارہ کیوں ہو ۔۔۔
تم تینوں سانڈ جیسوں کی شادی ہو گی ۔۔۔
مستیقم دہائ دیتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ہو گیا تیرا ڈرامہ شروع افففف یار یہ مس کالی کہاں رہ گی ہے ۔۔۔
صام بیزار ہوتا بے تابی سے بولا تھا ۔۔۔۔
چلو سنو میری دکھ والی داستان آرام سے تو میں کہاں تھا ۔۔۔
مستیقم تینوں کی طرف دیکھتا شوخ ہوتا بولا ۔۔۔
اوےے دلبرجانی حوصلہ تیری ہی بیوی ہے کچھ لحاظ کر تیرے سانڈ جیسے سالے کھڑے ہے ہاے ٹھرکی تیری غیرت کہاں گی آٹھا اس دلبر جانی کو اور گرا یہاں سے ۔۔۔۔
میری غیرت ابھی سو رہی رہی ہے تو کام کر یہ ۔۔۔
وہ زرجان اور منان دونوں کو دیکھتا بولا تھا جو اپنی بیویوں کو محبت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
بس کر تیری بھی شادی کروا دے گے اب بلکل چپ رہ ۔۔۔
منان ڈانٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جہاں ہانیہ بیلو کلر کی ساڑھی پہنے ہلکے میک اپ بالوں کو ایک سائیڈ پر کیے جہاں اس کا جلا ہوا چہرہ کور ہو رہا تھا مسکراتی ہوئ یافی کے ساتھ اسیٹچ پر آ رہی تھی ۔۔۔۔
ہانیہ کا چہرہ دیکھتے مستیقم صام کو جٹھکا لگا تھا ۔۔۔۔
مبارک ہو بھائ ۔۔۔
ہانیہ مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ش۔شکریہ بھابھی ۔۔۔
صام ہکلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
و۔۔۔
اے سوتیلی ناگن جا یار انیجل کو لے آٶ مجھ پر رحم کرو کوئ میں شدید کنوارہ ہو ۔۔۔
مستیقم ماحول کو ٹھیک کرتا یافی کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
جو زرجان کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔۔
ہاں چوزے میں لے کر آئ ۔۔۔۔
یافی ہانیہ کا ہاتھ پکڑتی وہاں سے جاتی ہوئ بولی ۔۔۔
ی۔یہ تو وہی لڑکی منان جس کا چہرہ خراب ا۔۔۔۔
ہاں میں جانتا ہو تبھی شادی کی ہے یار بہت جلد یہ بھی زار کھول دو گا ۔۔۔
ابھی بات مت کرنا ۔۔
منان صام کی بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں ٹھیک کہہ رہا ہے چلو انجواۓ کرو یار ۔۔۔۔
مستیقم بھی حامی بھرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
بلیک کلر کا فل بھاری لنہگا پہنے ڈراک میک اپ بالوں کو کرل کیے شولڈر پر کھولے چھوڑے گے تھے ۔۔۔۔
ڈائمنڈ سیٹ پہنے ناک میں نوز رنگ پہنے وہ یافی وردہ بیگم کے سنگ چلتی ہوئ روش پر ایک روشنی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جو لنہگے پر لگے ڈائمنڈز چمک رہے تھے ۔۔۔۔
کالا رنگ ہونے کے باوجود وہ حیسن لگ رہی تھی بلیک کلر میں ۔۔۔۔
بس کر تیری ہی انیجل ہے ۔۔۔۔
صام سامنے دیکھتا منہ کھولے دیکھ رہا تھا جب مستیقم اس کی حالت پر انجواۓ کرتا اس کے منہ پر ہاتھ رکھے بولا تھا ۔۔۔۔
بیوٹی فل یار سوچو اگر یہ گوری ہوتی تو پکا میری ٹھکر کی ہوتی یار جو اس رنگ میں بھی اپنے حسن کے جلوۓ دیکھا رہی ہے ۔۔۔۔
صام کھوۓ ہوۓ انداز سے روحا کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
لالہ ہم آپ کا ہاتھ پکڑے گے ۔۔۔
روحا ایسٹچ تک آئ تھی جب صام نے بے اختیار اپنا بھاری سفید ہاتھ آگے کیا تھا جب روحا اگنور کرتی مستیقم کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں ضرور انیجل ۔۔۔
مستیقم خوش ہوتا اپنا ہاتھ آگے کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
صام کو
بہت غصہ آیا تھا روحا کی حرکت پر ۔۔۔۔۔
لان میں سارے لوگوں نے ہوٹنگ کی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
ہماری گود میں ہی بیٹھ جاۓ سارا چپک کر بیٹھے ہے ۔۔۔۔
مہمان روحا صام کو ملنے آتے پھر چلے جاتے دونوں صوفے پر ساتھ بیٹھے تھے ۔۔۔۔
صام تو بلکل چپک کر بیٹھا ہوا تھا جب روحا دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
میں تمہاری گود میں بھی بیٹھ سکتا ہو وہ کیا ہے نہ ابھی سارے دیکھ رہے ہمیں ۔۔۔
مس کالی چاکلیٹ ۔۔۔
صام روحا کے کان میں سرگوشی کرتے بولا تھا ۔۔۔۔
ٹھرکی ۔۔۔
روحا بس اتنا بول سکی وہ جانتی تھی ایسا کر بھی لے گا ۔۔۔۔
و۔۔۔۔
ہاے بیوٹی فل گرل کیسی ہو ۔۔۔۔
اس سے پہلے صام کچھ کہتا جب ایک لڑکا مسکراتا ہوا روحا کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
واہٹ پینٹ پنک کلر کی شرٹ خوبصورت چہرہ لیے نیلی آنکھوں والا وہ مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
ویسے تو روحا انجان شخص کو بلاتی نہیں تھی پر صام کے منہ کا بگڑا چہرہ دیکھتی جان بوجھ کر بولی تھی ۔۔۔۔۔
ہم ٹھیک آپ کیسے ہے سر ۔۔۔۔
روحا صام کو جلانے کے لیے مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔
سر نہیں کہو تم میرا نام شعیب خان ہے ۔۔۔
شعیب مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاے خان ہو آپ ہمیں بہت پسند ہے اوپر سے یہ آپ کی نیلی آنکھیں ۔۔۔۔
روحا چکہتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
ارے واہ پھر اس ایٹیٹوڈ بواۓ کو کیسے ملی مجھ سے شادی کرتی تم ۔۔
شعیب مسلسل روحا کے چہرے کی طرف دیکھتا صام کی بیزار شکل کی طرف اشارہ کرتا بولا ۔۔۔۔
م۔۔۔۔۔
ماما ماما بابا ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے روحا کچھ کہتی جب صام کنٹرول سے باہر آتا چلایا تھا ۔۔۔۔
جی بیٹا کچھ ہوا ۔۔۔۔
وردہ بیگم اور آفندی صاحب پاس آتے پریشان ہوتے بولے تھے ۔۔۔۔
رخصتی کرے ابھی مجھے روم میں جانا ہے ۔۔۔۔
صام کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
لیکن ابھی کیسے ابھی تو م۔۔۔۔۔۔
میرا روم اوپر ہے میں ایسے بھی رخصت کروا سکتا ہو بہت شکریہ اس فکشن کا اب اجازت دے ۔۔۔۔
آفندی صاحب جو بول رہے تھے جب اچانک صام نے سب کے سامنے روحا کو گود میں آٹھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔
ہم جانتے تھے ٹھرکی ہے پر اتنے بے شرم ہو گے یہ نہیں تھا پتہ کچھ لحاظ ا۔۔۔۔۔۔
بابا آپ خان بھی ہو سکتے تھے آفندی بنا ضروری تھا کیا ۔۔۔۔۔
روحا جو غصہ میں آتی اسے مکے مارتی بول رہی تھی ۔۔۔
جب صام آفندی صاحب کے کان میں سرگوشی کرتا وہاں سے سب کو ہکا بکا چھوڑے دلہن لے کر جا چکا تھا تھا ۔۔۔۔۔
ہیں پاگل لڑکا کیا بکواس کر کے گیا ہے ۔۔۔
پتہ نہیں یہ نکما کیوں پیدا ہوا اتنا ایٹیٹوڈ افففف سب مہمانوں کو کیا جواب دو گا جس کی شادی پر آۓ ہے وہ اپنی دلہن ہی اٹھا کر لیے گیا ۔۔۔۔۔
آفندی صاحب کو بات کی زرا سمجھ نہیں آئ تھی تبھی غصہ کرتے بولتے وہاں سے چلے گے تھے ۔۔۔۔۔
ویسے یار یافی آپنے بھائ کو کہاں سے رومینس کا کورس کروایا ہے ۔۔۔۔۔
دیکھو کتنا ایٹیٹوڈ ہے یار ٹاپ چیز ہے کتنے رومانٹک انداز سے اپنی بیوی کو لے کر گیا ہے ۔۔۔۔
زرجان یافی کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
میں خود حیران ہو اب ان سب کو ہینڈل کرنا پڑے گا ۔۔۔۔
یافی بھی رونی صورت بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
کچھ شرم ہوتی کچھ حیا مسٹر ٹھرکی کیا سوچ رہے ہو گے سب ہمارے بارے میں ا۔۔۔۔۔
میں سوچ رہا صبح اپنی آنکھوں کا آپریشن کروا لو گرین نکل کر نیلی لگوا لو ۔۔۔۔
صام سیدھا روم آتا روحا کو بیڈ پر بیٹھتا ہوا اس کی بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
پورے روم کو صرف بلیک روز سے سجایا گیا تھا ۔۔۔۔۔
اووو مسٹر ٹھرکی جلیس ہو رہے ویسے وہ خوبصورت بہت ہے کتنا اچھا ہے پیارا سا لک بھی پیاری ہے ۔۔۔۔
روحا صام کو جلانے کے لیے بولی تھی ۔۔۔۔
منہ بند کرو بیوی ہو میری زبان کاٹ لو گا تمہاری وہ کورنا کی جعلی ویکیسن کی شکل والا اتنا بھی پیارا نہیں ہے ۔۔۔۔
صام روحا کے پاس بیڈ پر بیٹھتا جلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
کیا بیوی یاد کرے تین سال پہلے کیا کہا تھا ہمیں ۔۔۔۔
روحا سنجیدہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
چچچچ تم میری بیوی ۔۔۔
صام حقارت سے اس کی طرف دیکھتا بولا جو سکون سے کھڑی تھی ۔۔۔
ہاں ہم بیوی آپ کی اب کیوں اتنا تڑپ رہے ہے۔۔۔
روحا اسے دیکھتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
شکل دیکھی ہے تم نے اپنی اتنی کالی ہو افففف یہ چہرہ گردن پاٶں تک کالے ہے تمہارے اور بیوی کہہ رہی ہو ۔۔۔
مجھے خوبصورت چیزیں پسند ہے گھر کے ملازم تک خوبصورت ہے میرے آس پاس ہر چیز خوبصورت ہے ۔۔۔۔
صام اس کی طرف دیکھتا نفرت سے بولا ۔۔۔
جبکہ اس کی گرین آنکھوں میں حقارت تھی ۔۔۔
مس لائف دیکھو اس دن جو بھی کہہ تھا اس کا م۔۔۔۔۔
ہم کچھ نہیں جانتے بس رخصتی ہو گی اب خوش ہمیں سونے دے ۔۔۔
صام جو سوچتا شرمندہ ہوتا بولا رہا تھا ۔۔۔
جب روحا بیڈ سے آٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔اچھا جاٶ چیج کرو میں پریشان نہیں کرو گا ۔۔۔۔
صام سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
ویسے آپ بال کٹوا لے اس شعیب جیسے پیارے لگے گے ۔۔۔۔
روحا آئنیہ کے سامنے کھڑی ہوتی بے نیاز اپنا سیٹ اتارتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔
اس کورنا کی جعلی ویکسین کا نام مت لو جلن ہوتی ہے مجھے۔۔۔۔
صام روحا کی بازو پکڑتا طش سے چلایا تھا ۔۔۔۔
شعیب شعیب ش۔۔۔۔۔
روحا کو جلانے کے لیے بول رہی تھی جب صام اس کو گردن سے پکڑتا اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر چکا تھا ۔۔۔۔۔
روحا کی اس کے جارہانہ عمل پر جھٹ پوری آنکھیں کھولی تھی ۔۔۔۔
وہ تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔
اسے کہاں امید تھی۔صام اتنا جلیس ہو جاۓ گا ۔۔۔
روحا اسے پورا زور لگا کر دھکا دیتے ہوئے خود سے دور کر گی تھی ۔۔۔۔
گہرے سانس لیتے ہوئے وہ کھڑی اسے گھور رہی تھی ۔۔۔۔
گھٹیا ۔ٹھرکی ۔لوفر ۔۔ جاہل انسان ۔۔ا۔۔پ۔۔آپ نہ نہایت ہی ۔۔۔۔۔۔روحا اس کی طرف دیکھ کر جارہانہ طریقے سے بولی ۔۔۔۔۔
“رومینٹک ہو “
صام اس کا جملہ اچک کر مسکراتے ہوئے ایک آنکھ ونک کیے بولا۔۔۔۔
ظالم انسان کتنی درد ہو رہی ہے ہمیں ہونٹوں پر ۔۔جنگلی ۔وحشی۔۔حیوان ۔روحا اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتی بولی ۔۔
جہاں درد محسوس ہو رہا تھا۔۔
آئینہ میں دیکھتی روحا حیران رہ گی تھی جہاں اس کے زخم بن چکا تھا ۔۔۔۔
ٹھرکی یہ کیا کیا آپ نے ہاے میں کیا منہ دیکھاو گی سب کو ۔۔۔
روحا جھنجھلا کر بولی تھی ۔۔۔۔
کہہ دینا میرے شوہر کے پیار کی نشانی ہے ۔۔
صام مسکرا کر بولا تھا ۔۔۔۔ اب اگر تم نے اس کورنا کی جعلی ویکسین کا نام لیا اس سے بھی بری حالت کرو گا ۔۔۔۔
صام روحا کو کمر سے پکڑتے اس کے لبوں کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
مائی فٹ پیار کی نشانی ۔۔۔۔۔
یہ ٹھرکی پن ہے اگر ہم آپ کے ساتھ ایسا کرتے تو پتہ چلتا جان کیسے نکلتی ہے ۔۔۔
روحا صام کا کالر پکڑتے غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔
ہاں تو تم بھی کرو ہماری آج گولڈن نائٹ ہے ۔۔۔
صام روحا کو اپنے اور قریب لاتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
چیلچ کر رہے ہے ہمیں ۔۔۔
روحا صام کے گلابی ہونٹ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
آہہہ مس کالی ڈر گی ا۔۔۔۔
صام جو روحا کو اب چپ دیکھتا مذاق کر رہا تھا ۔۔
جب روحا اس کا کالر دبوچ کر ایڑیوں کے بل اونچی ہوئی ۔۔۔۔
اور اس کے ہونٹوں پر اپنے دانت گاڑے ۔۔
آہہہہ جنگلی بلی تمہارے دانت کتنے تیز ہیں۔۔۔صام چلاتا ہوا روحا کو دور کرتا بولا تھا ۔۔۔
لب سے خون نکلتا دیکھ اسے سکون ملا ۔۔۔۔
روحا اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔۔۔
اب ہوا نا بدلہ پورا ۔۔۔۔۔
چلے اب آپ بھی اپنا یہ ٹھرکی جواب دینا ۔۔
اپنی بیوی کے پیار کی نشانی دکھانا ۔۔
وہ اس کا مذاق اڑانے کے انداز میں بولی۔۔
مطلب ابھی ایک کس پر ری ایکٹ تمہارا ایسا اگر میں کچھ اور کر لو ت۔۔۔۔
خبردار یہ بھی غصہ سے کیا دفع ہو یہاں سے
صام روحا کو گہری نظروں سے دیکھتا بول رہا تھا جب روحا کو ہوش آیا وہ غصہ میں کیا کر چکی ہے تبھی بولتے وہ واش روم بھاگ گی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہا مس کالی چاکلیٹ ۔۔۔
وہ قہقہ لگاتا اپنا سر ہلاتا ہوا اپنے انگوٹھے سے ہونٹ سہلا کر بولا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
مائ انیجل دیکھو میں آ گیا ۔۔۔۔
انیجل کہاں ہو یار ۔۔۔۔
رات روحا بنا کچھ کہے آرام سے بیڈ پر آتی لیٹ گی تھی ۔۔۔۔
صام نے بھی روحا کو نہ تنگ کرنے کا سوچتے سکون سے لیٹ گیا تھا ۔۔۔۔
اب جب صبح روحا کو سوتے ہوۓ یہ آواز کان میں گونج رہی تھی ۔۔۔۔
ک۔کہاں۔اہہہ یہ کب یہاں آیا۔۔۔۔
روحا نیند میں ڈسٹرب ہوتی آنکھ کھولتی بول رہی تھی جب اپنے سینے پر صام کا سر دیکھتے وہ حیران ہوئ تھی ۔۔۔
جو اسے زور سے پکڑے بچوں جیسا سو رہا تھا ۔۔۔
انیجل یار کہاں ہو باہر آو دیکھو کون آیا ہے ۔۔۔۔
روحا جو ابھی سوچ رہی تھی جب پھر آواز گونجی ۔۔۔
ابے یہ کون ہے مس کالی اسے کہو چپ کرے ۔۔۔
صام نیند میں ہی بڑبڑایا تھا ۔۔۔۔۔
آپ دور رہے ہم سے ہم دیکھتے ہے ۔۔۔۔
روحا پورا زور لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کیا سیمنٹ کھاتے ہو سانڈ جیسے بھاری ہو چھوڑو ہمیں ۔۔۔۔
روحا ہمت ہارتی صام کے کندھے پر مکے مارتی غصہ سے بولی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں تمہیں کھاتا ہو میں ۔۔۔۔
صام روحا کی طرف دیکھتا منہ بناتا بولا تھا ۔۔۔
ٹھرکی ۔۔۔۔
روحا اسے دھکا دیتی اٹھ گی تھی ۔۔۔
————————————————————
مائ انیجل دیکھو آگر تم نہ آئ تو میں واپس چلا جاٶ گا ۔۔۔۔
وہ دوبارہ ہال میں کھڑا بولا تھا ۔۔۔۔۔
آہہہہ آہہہہی آ۔پ۔آپ۔ہاے ہمیں یقین نہیں آ رہا ۔۔۔۔
روحا جو سیڑھیاں اترتی نیچے آ رہی تھی جب اسے سرخ گرین آنکھیں لیے کھڑے دیکھتے روحا خوش سے چلائ تھی ۔۔۔۔
تو پاس آو ہگ کرو تو ہی پتہ چلے گا میں آ گیا اپنی انیجل کے پاس۔۔۔۔
وہ اپنی گرین مسکراتی آنکیھں لیے بائیں کھولے بولا ت
تھا ۔۔۔۔
اففف ہمیں یقین نہیں آ رہا ۔۔۔
روحا خوشی سے ویسے ہی نائٹ ڈریس پہنے بھاگ کر گلے لگتی بولی تھی ۔۔۔۔۔
آہہہہ مائ انیجل ۔۔۔
وہ اسے گلے لگاۓ روحا کے ماتھے کو چومتا بولا تھا ۔۔۔۔
سیڑھیوں کے پاس کھڑے صام آفندی نے جب یہ منظر دیکھا تھا اس کے چہرے پر سایہ لہڑایا تھا ۔۔۔۔
ی۔یہ یہاں کیسے۔۔۔
صام پریشان ہوتا سوچ میں پڑ گیا تھا ۔۔۔۔
