Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 34)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 34)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
صا۔م۔صام۔۔۔۔
روحا آس پاس دیکھتی ڈرتے ڈرتے بولی تھی ۔۔۔
اس کا دل تو پھٹنے پر آ چکا تھا یہی سوچ کر کہ کیا واقعی صام مر چکا ہے ۔۔
انیجل ہم لے جاۓ گے بس تم نے بولنا بلکل بھی نہیں کچھ بھی ہو جاۓ ۔۔۔
اس سے پہلے روحا چلاتی جب آہان آرام سے پاس آتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔
ہمممم۔۔
روحا کو دل کی تسلی ہوئ تھی یہی سن کر صام ادھر نہیں ہے ۔۔۔
تبھی آہان نے روحا کی آنکھیں کالی پٹی سے باندھی تھی ۔۔
لا۔لہ۔۔۔
ششش چپ انیجل اگر تم بچ گی تو ٹھیک ہے ورنہ جس کے پاس تم ہو اس کے قہر سے شاہد ہم بھی بچ پاۓ ۔۔۔
پندرہ منٹ بعد روحا کو لگا تھا جیسے اسے روم میں لایا گیا ہو جہاں عیجب سے سمپل آ رہی تھی جبکہ روم میں ٹھنڈک بھی کافی محسوس ہوئ ۔۔
اس سے پہلے روحا کچھ بولتی جب آہان اسے کسی پر دھکا دیتا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
تبھی روحا ڈرتے بولی تھی کیونکہ اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی چٹان کے اوپر لیٹی ہو ۔۔۔۔
ص۔صام۔۔۔۔
روحا اپنے ہوش سبنھالتے محسوس کر رہی تھی جب اس کو ایک کلون کی خوشبو محسوس ہوا تبھی وہ روتی اپنے ہاتھ اس کے اوپر پھیرتی بولی تھی ۔۔۔
روحا میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی وہ اپنی پٹی کھول لیتی ۔۔۔۔
ص۔صام ہم جانتے ہ۔ہے آپ ہے ی۔۔۔
روحا نے جب محسوس کیا کہ کسی کی بھاری سانسیں چل رہی ہے تبھی وہ بولی تھی ۔۔۔۔
روحا اپنا چہرہ اسی کی گردن میں چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔۔
کیوں آی ہو یہاں ۔۔۔
کافی دیر کنٹرول کرنے کے بعد صام بالآخر اسے کمر سے زور سے پکڑے دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
وہ گہری نیند میں تھا جب اسے سینے پر نرم سا لمس محسوس ہوا تھا وہی لمس جیسے پانے کے لیے وہ دو ہفتوں سے ترس رہا تھا ۔۔۔
روحا کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر صام کو مستقیم اور آہان پر بے حد غصہ آیا تھا ۔۔۔
جبھی وہ روحا کے رونے کی پروا کیے بنا سرد انداز سے بولا تھا ۔۔۔
صا۔صام۔۔۔
روحا بس بات اگنور کیے اپنے لب اس کی تھوڑی پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
اسے فکر نہیں تھی صام نے کتنی بے دردی سے اسے پکڑا تھا ۔۔۔
کس کے ساتھ آی ہو ۔۔۔
صام اپنے ہاتھوں سے اس کی پٹی کھولتا ویسے ہی لیٹے سرخ گرین آنکھوں سے گھورتا بولا تھا ۔۔
ص۔صام۔آپ زند ۔زندہ ہے ہم جانت ۔۔۔۔
جو پوچھا ہے وہی بتاٶ زیادہ بک بک مت کرو ۔۔۔
روحا اپنے اتنے قریب صام کا چہرہ دیکھتی بول رہی تھی جب صام بنا پرواہ کیے ایک ہی جٹھکے میں روحا کو خود سے دھکا دیتے بولتا خود بھی بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔
ہم نہیں بتا رہے جو مرضی کرے ۔۔
روحا سب بھلاۓ خوشی سے پاگل ہوتی صام کی گود میں آتی بولی تھی ۔۔۔
جیسے آئ ہو ویسے چلی جاٶ ۔۔۔
صام دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
صام ۔۔۔
روحا سب اگنور کیے صام کا چہرہ ہاتھوں میں لیتی دیوانہ وار چومتی بولی تھی ۔۔۔
صام ہم نے آپ کو بہت والا مس کیا ۔۔۔
روحا کو اسے چومنے کے بعد بھی یقین نہیں آیا صام زندہ ہے تبھی شرماتے ہوۓ اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتی بولی تھی ۔۔
صام کے لیے روحا کا یہ روپ ایک جٹھکا لگا تھا ۔۔
اسے سمجھ بلکل نہیں آ رہی تھی وہ کیا کر رہی ہے ۔۔۔
روحا بہت نرمی سے اسے چوم رہی تھی ۔۔۔
صام بھی ایک پل کو سب بھولتا آپنی آنکھوں کو بند کر چکا تھا ۔۔۔
اپنی کمر پر صام کی گرفت محسوس کرتے روحا مسکراتی اسے چھوڑتی اپنے لب اس کی تھوڑی پر لای تھی ۔۔۔
یہ لمس یہ خوشبو ہم نے بہت مس کی ۔۔۔
روحا فل بہکی ہوئ اپنے جذبات صام کو بتا رہی تھی ۔۔
دور رہو جاٶ یہاں سے ورنہ میرے اندر کا جانور جاگ جاۓ گا پھر سوچو گی کس سے پنگا لے لیا ۔۔۔
صام جلدی سے کنٹرول کرتا روحا کو دھکا دیتا بامشکل بیڈ سے اٹھا تھا ۔۔۔
تو جاگے اپنے اندر کے جانور کو ہم نہیں ڈرتے مسز صام آفندی نام ہے ہمارا ۔۔۔
صام کے دماغ پر کافی سوال چل رہے تھے تبھی روحا اسے بیک ہگ کیے بولی تھی ۔۔۔
کس کے ساتھ آئ ہو ۔۔۔
صام نے وہی اپنا سوال پوچھا ۔۔۔
ہمارا موڈ نہیں بولنے کا ۔۔
روحا صام کی وہی سوئ اٹکتے دیکھ بات بدلتی سامنے آتی بولی تھی ۔۔۔
پھر کون سا موڈ ہے تمہارا ۔۔
صام کی سرخ گرین آنکھیں انگارے اُگل رہی تھی تبھی وہ بولا تھا ۔۔۔
پیار کا موڈ ہمارا ۔۔۔
روحا صام کی ہڈی کا کالر پکڑے اپنے برابر لاتی بولی تھی ۔۔۔
روحا کے برابر آنے کے لیے صام کو کافی جھکنا پڑا تھا ۔۔
کیونکہ دونوں کی ہائٹ میں فرق تھا ۔۔۔۔
تم ایسے نہیں مانو گی مس روحا ۔۔۔
صام کے صبر کا پیمانہ ٹوٹا تھا جب اسے اپنے سینے سے زور سے لگاۓ وہ بولا تھا ۔
روحا کا ایک پل کو سانس روکا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ یہ تو وہ صام تھا ہی نہیں جو اسے نرمی سے چھوتا تھا جیسے روحا ایک نازک گلاب ہو اور اب صام کی گرفت ایسی تھی جیسے کوئ چٹان ۔۔۔
آپ مناۓ تو صیح ہم مان جاۓ گے ۔۔۔
روحا مسکراتی
ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کیوں ضدی ہ۔۔۔
ہم ضدی اس لیے آپ نکھرا اٹھاتے تبھی ۔۔
صام برداشت کرتا بول رہا تھا جب روحا بات ٹوکتی اس کی گود میں آتی بولی تھی ۔۔
صام کو مجبورًا اسے پکڑنا پڑا ورنہ وہ گر جاتی ۔۔۔
بہت ہوۓ نکھرے اب دفع ہو جاٶ یہاں سے ۔۔
صام اسے ایک ہی پل میں چھوڑتا رخ موڑتا بولا تھا ۔۔۔
جب روحا قالین پر گری تھی ۔۔۔
روحا اپنے درد کو برداشت کر گی تھی ۔۔۔
اسے ہر حال میں صام کو بتانا تھا وہ کتنا تڑپی تھی اس کے لیے ۔۔
اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا صام کیا کر رہا اس کے ساتھ وہ یہی سمجھ رہی تھی صام جان بوجھ کر بدلہ لے رہا ہے ۔۔۔
کیا ہوا مس روحا ڈر گی اب بتاٶ کس کے ساتھ آئ ہو ۔۔۔
قالین پر گری روحا کو بالوں سے پکڑے دانت پیستے نیچے بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔
عشق کرتے آپ سے ہم صام ۔۔۔
روحا مسکراتی اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
دیکھو میں بڑا سنجیدہ ٹائپ بندہ ہو سیدھی سی بات کرو اور جاٶ یہاں سے کیوں آی ہو ۔۔۔
صام روحا کو ویسے ہی آٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔
آپ کو سمجھ نہیں آ رہا ہم عشق کرتے ہے آپ سے صام یہ ہم بھی نہیں جانتے ا۔۔۔۔
ہاہاہہاہہاہہا جھوٹ اچھا ہے اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔
صام روحا کی بات سنتا طنزیہ قہقہ لگایا تھا ۔۔۔
اس کا مقصد صرف یہ تھا روحا یہاں سے چلی جاۓ لیکن وہ ضدی بنی وہی کھڑی تھی ۔۔
آپ جیسا جنون تو نہیں کرتے لیکن ہمارا عشق اتنا بھی سستا نہیں ۔۔۔
روحا ایک بار پھر صام کے قریب آۓ بولی تھی ۔۔
اففف تم ایسے نہیں مانو گی ۔۔۔
صام روحا کو کمر سے پکڑے اس کا رخ موڑے اپنے سینے سے لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔
اپنے عشق کا امتحان دو پھر مانو گا ۔۔۔
صام کچھ سوچتا روحا کی گردن پر لب رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
لے امتحان ہم پورے کے پورے آپ کے ہے ۔
روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کس کے ساتھ آئ ہو ۔۔
صام روحا کے بالوں کے بل کھولتا ہوا بولا تھا ۔۔
جبکہ ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر رینگ رہا تھا ۔۔۔
کیا ہم خوبصورت نہیں صام ۔۔۔
روحا سمجھ گی تھی صام اسے بہکا کے پوچھنا چاہتا تھا تبھی روحا بات بدلتی بولی تھی ۔۔۔
یہ کیسا سوال ہوا ۔۔
صام موڈ خراب کرتا بولا تھا جبکہ اپنا چہرہ اس کے بالوں میں چھپاۓ وہ مدہوش ہو رہا تھا ۔
آ۔پ نے کیسا سوال کیا۔۔۔
روحا کی آواز کانپی تھی کیونکہ صام کا ہاتھ ریگتا ہوا اس کے پیٹ سے اوپر جا رہا تھا ۔۔۔
نہیں ۔۔
صام دوٹوک انداز سے بولا تھا ۔۔
کییییاااا ہم اتنے خوبصورت ہے صام آپ خودی کہتے تھے یہ دیکھیں ہماری آنکھیں یہ ہمارے لیپ یہ بال ۔۔
روحا اس سے دور ہوتی برا سا منہ بناۓ بول رہی تھی ۔۔۔
بکھرے بال آنکھوں کے نیچے حلقے زرد چہرہ صام کی شرٹ پہنے وہ روحا بلکل نہیں لگ رہی تھی جو صام کی مس لائف تھی ۔۔
بہت خوبصورت ہو میری سوچ سے زیادہ ۔۔۔
صام فل بہکا ہوا بولا تھا جب روحا کے چہرے کی طرف دیکھتا پریشان ہوا تھا وہ جلد بازی میں کیا بول گیا ۔۔۔
ہم جانتے تھے صام ۔۔
روحا صام کے سینے سے لگی بولی تھی ۔۔
چلو امتحان دو اپنے عشق کا ۔۔
صام روحا کا رخ موڑے پھر دانت پیستا بولا تھا ۔۔
جانتا تھا جو وہ کرنے والا ہے روحا ڈر کے بھاگ جاۓ گی ۔۔
ہم تیار ہے ہمیں یقین ہے ہم آپ کے امتحان پر پورا اترے گے ۔۔
روحا مسکراتی بولی تھی ۔۔
اگر جان سے ہاتھ دھونا پڑ گیا پھ۔۔۔
ہم سو بار آپ کے ہاتھوں سے مرنے کو تیار ہے ۔۔
صام نے روحا کی بیک نیک پر دانت گھاڑتے بولا تھا ۔۔
جب روحا نے سسکی روکتے کہا تھا ۔۔۔
میری ایک شرط بھی ہے ۔۔
صام روحا کا رخ اپنی طرف کرتا بولا تھا ۔۔
کیا ۔۔
روحا اپنے آنسو کنٹرول کیے بولی تھی ۔۔۔
مجھے وہ روحا چاہے جو نڈر تھی میرے سامنے بلکل ایک شیرنی جیسی یہ تو وہ روحا نہیں جو میرا درد تک برداشت کر رہی ہے ۔۔
صام روحا کے کان کی لو کو کاٹتا ہوا بولا تھا جہاں سے اب خون نکل رہا تھا ۔۔۔
ہمیں عشق ہوا ہے آپ بھی تو اپنے جنون میں ایسے ہوۓ ہے ۔۔۔
آپ ہمیں اپنی امید پر پورا پاۓ گے ہم مرنے کو بھی تیار ہے ایک آرمی آفسر کی بیوی ہے اتنے بھی ڈرپوک نہیں ۔۔۔
روحا ویسے ہی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔
میرے جنون کے آگے تمہارا عشق ہار جاۓ گا ۔۔۔
صام اب روحا کے ناک پر کاٹتا بولا تھا ۔۔۔
آپ کے جنون کے آگے ہمارا عشق ہارا تو ہم خودی یہاں سے چلے ج۔۔۔۔
شرط یہ ہے اب میں کچھ بھی کرو تمہارا ایک آنسو بھی آنکھیں سے گرنا نہیں چاہے ورنہ ایک آنسو گرا وہی تمہارا عشق ہار جاۓ گا ۔۔۔۔
روحا جو درد سہتی بول رہی تھی تبھی صام نے اسے گردن سے پکڑے دیوار کے ساتھ لگاۓ وحشت زدہ نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔
اسے امید تھی روحا یہی سے ہار جاۓ گی ۔۔۔
رو۔حا۔روحا ۔۔ص۔صام ۔آفندی نے کبھی ہارنا نہیں سکھا ۔۔۔
روحا بامشکل بولی تھی کیونکہ اس کی گردن پر دباٶ صام جان بوجھ کر بڑھا رہا تھا ۔۔
کس کے ساتھ آئ تھی ۔۔
صام نے اور زور لگاتے پوچھا تھا اسے اپنے بھاری ہاتھ میں
قید روحا کے صاف شفاف سفید بے داغ گردن پر نیلی رگیں دیکھی تھی جو سانس رکنے کی وجہ سے نظر آ رہی تھی ۔۔۔
روحا بس صام کی طرف دیکھتی سکون سے کھڑی تھی ۔۔۔
بڑی بہادر ہو ویسے ۔۔
صام نے جب دیکھا روحا بنا کوئ پریشانی ظاہر کیے وہ سکون سے کھڑی تھی ۔۔۔
جبکہ صام محسوس کر سکتا تھا اسے سانس مشکل سے آ رہا تھا ۔۔
تبھی اسے چھوڑا تھا ۔۔۔
ش۔کر۔شکریہ بیوی بھی آپ کی ہے ۔۔۔
روحا گہرے گہرے سانس لیتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔
وہ جانتی تھی کتنی مشکل سے آنسو کنٹرول کیے کھڑی تھی ۔۔۔
لیکن اب ہارو گی تم مس روحا ۔۔۔
صام شطانی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
ہم تیار ہے ۔۔
روحا گھبراہٹ پر قابو پاتی بولی تھی ۔۔۔
صام نے پورے روم کی ساری لائٹس آن کر دی تھی ۔۔۔
روم میں اتنی روشنی دیکھ روحا کی آنکھیں درد کی تھی ۔۔۔
روحا ابھی یہی سوچ رہی تھی صام کیا کرنے والا جب صام قریب آتے بولا تھا ۔
میری طرف ہی دیکھنا اور یہ روشنی کم نہیں ہو گی ۔
روحا کو بولتے صام نے نیچے جھکتے اپنے شوز میں چھپا چاقو نکالا تھا۔
روحا چاقو دیکھتی گھبرا گئی تھی۔
اپنے ہونٹ تر کرتے وہ صام پر ہی نظریں جمائے کھڑی تھی۔
اسے لگا تھا وہ اپنے عشق میں ہار جاۓ گی ۔۔۔
ایک ہی جست میں اس کے قریب پہنچتے ٹھوڑی سے اس کا چہرہ تھام کر اٹھاتے صام نے جھک کر اس کے ہونٹ کو شدت سے اپنی گرفت میں لیا۔۔۔
اس کے لمس سے صام کو اپنے پورے وجود میں سکون اترتا محسوس ہوا۔
اس کا نچلا ہونٹ اپنے لبوں میں دباتے اس نے ہلکا سا کھینچا پھر آہستہ سے اس میں اپنے دانت گاڑھے۔
روحا درد سے تڑپی تھی ۔۔
لیکن وہ صام کی آنکھوں میں ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
چاقو روحا کی کمر کی طرف لے جاتے صام نے اس کی شرٹ کاٹی تھی۔
روحا نے سختی سے صام کے کندھے کو دبوچا تھا۔۔
۔جو اب بھی روحا کا سانس اپنی دسترس میں لیے ہوئے تھا ۔۔۔
روحا کو کافی شرم آئ تھی کیونکہ صام اسے اب چھوڑے بنا شرٹ کے کھڑے دیکھ رخ موڑ گیا تھا ۔۔
صام کو پکا یقین تھا روحا اب روے گی یا روم سے باہر چلی جاۓ گی لیکن اسے شوک لگا تھا ۔۔۔
جب پانچ منٹ بعد اسے اپنی ہڈی سرکتی ہوئ محسوس ہوی تھی ۔۔۔
اتار دی ہماری شرٹ اب خوش چلے اب کچھ اور کرے ۔۔۔۔
روحا صام کی ہڈی پھیچے سے اتارے خود پہنتی بولی تھی ۔۔۔
صام کے لبوں پر مسکراہٹ آئ تھی روحا کی اس حرکت پر لیکن وہ چھپا گیا تھا ۔۔۔۔
اب جو میں کرو گا اب پکا رو گی ۔۔۔
صام واپس اس کی طرف رخ کرتا روحا کی کاٹی کلائ پکڑے زور سے بولا تھا ۔۔۔
اتنی زور سے اس کی کلائ پکڑی تھی جس سے خون نکلنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔
روحا کا سر چکرایا تھا اسے غنودگی چھا رہی تھی لیکن کنٹرول کیے کھڑی رہی ۔۔
اب صام نے روحا کی کلائ سے خون نکلتا دیکھ روحا کے ناک کو دبایا تھا ۔۔۔
سانس روکنے سے روحا کی آنکھیں پٹھی تھی لیکن صام کو تب بھی سکون نہ آیا تو روحا کے نیم وا لبوں کو اپنی قید میں دوبارہ لیا تھا ۔۔۔
اب روحا کا ناک اور لب صام کی قید میں تھے جسے وہ مسلسل دس منٹ لیے اپنی سانسوں میں لیے کھڑا تھا ۔۔۔
روحا اپنی سانس کے بنا صام کی سانسوں پر بامشکل کھڑی تھی ۔۔۔
صام روحا کا سانس روکنے کی وجہ سے اس کی ڈراک براٶن آنکھوں میں آنسو دیکھتے پریشان ہوا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ وہ ایک بھی آنسو نہیں بہا رہی تھی ۔۔۔
روحا سب کچھ برداشت کیے اس کی آنکھیں باہر کو آنے لگی تھی ۔۔۔
جب جٹھکے سے صام نے اسے چھوڑا تھا ۔۔۔
ہاہا۔ہ۔ہا۔کیا ہوا صام۔بے بی ڈر گیا ۔۔۔
روحا گہرے گہرے سانس لیتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ اس نے دیکھا تھا صام کے ماتھے پر پسینہ پھوٹا تھا ۔۔۔
بہت ڈھیٹ ہو تم کیوں اتنی ضدی ہو ۔۔۔
صام پھر دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
آپ کے عشق نے ہمیں ضدی بنایا ہے یہ امتحان بھی کم ہے ۔۔۔
روحا کی حالت کافی نڈھال ہو چکی تھی کیونکہ کلائ سے خون قطرہ قطرہ گر رہا تھا ۔۔۔
کیوں آنسو نہیں آ رہے تمہارے ۔۔
اچانک صام شدت غصے میں آتا چاقو ہاتھ سے پکڑے روحا کو دوبارہ پکڑے بولا تھا ۔۔۔
ہمیں موت بھی منظور ہے یہ آنسو کیوں آۓ پھر ویسے بھی ہم پاس ہونا چاہتے ہے فیل نہیں ۔۔
روحا مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
اسے شدید چکر آ رہے تھے ۔۔۔
موت تو تمہیں ملے گی۔۔
صام نے اب چاقو روحا کے ماتھے سے لاتا نیچے کی طرف لا رہا تھا ۔۔۔
اب اس کا چاقو روحا کے لبوں پر روکا تھا ۔۔
صام مسکرایا تھا کیونکہ جانتا تھا روحا ہارے گی ۔۔۔
کیا ہوا ڈر گے ۔۔۔
روحا مسکراتے بولی تھی ۔۔۔
بلکل نہیں میری جان ۔۔۔
صام حوصلہ کرتے چاقو کو اب اس کی شہ رگ پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔
روحا کو درد ہوا تھا ۔۔۔
لیکن وہ ہارنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
مان جاۓ صام آفندی آپ ہار گے ہمارے عشق کے آگے ۔۔۔
روحا بامشکل قدموں پر کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔
بلکل بھی نہیں ۔۔۔
صام شدید غصے میں آتا چاقو دوبارہ اس کے نیچے والے لب پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔
لیکن صام کی جان تب نکلی تھی جب چاقو کے دباو کی وجہ سے اس کا نچلا لب پر گہرا کاٹ لگا تھا ۔۔۔۔
صام اسے دکھ نہیں دینا چاہتا تھا وہ تو بس اس کی جان بچا رہا تھا ۔۔۔
وہ بھول چکا تھا روحا کے لب کتنے سوفٹ تھے تبھی بے اختیای سے وہ اس پر گہرا کاٹ دے چکا تھا ۔۔۔
یہی پر صام ہارا تھا روحا کے لب سے خون کا فوفورا پھوٹا تھا ۔۔۔
تبھی وہ چاقو گرا چکا تھا ۔۔۔
ہاہاہہا کیا ہوا ہارے گے مان جاۓ ہمارا عشق جیت گیا ہے آپ کے جنون کے سامنے ۔۔۔
روحا صام کا پریشان چہرہ دیکھتی اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
کلائ سے نکلتے خون اور لب سے آتا خون دیکھ صام گھبرایا تھا ۔۔
اب اسے اپنے منہ میں روحا کا خون کا ذائقہ محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
جو روحا اپنی مدھم سانسیں اس کی سانسوں میں منتقل کر رہی تھی ۔۔۔۔
روحا نے اپنے ہاتھوں سے صام کے سر کو پکڑے اس کے بال دبوچے تھے اور آہستہ سے اپنی آنکھیں بند کی تھی ۔۔
وہی وہ صام کی باہوں میں جھولتی بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
صام کے رویگھنٹے کھڑے ہو چکے تھے روحا کی اتنی بری حالت دیکھ کر ۔۔۔
تبھی وہ اسے گود میں لیتا باہر کو بھاگا تھا ۔۔۔
————————————————————
کیا حرکت تھی یہ چپمینننننننن۔۔
شرم آنی چاہے دیکھو اس کو سانس کے لیے محتاج ہو چکی ہے ۔۔۔
آہان صام کو دیکھتا دانت پیستا بولا تھا ۔۔۔
جب صام نے صرف سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ دیکھا تھا ۔۔
قصور بھی آپ دونوں کا ہے جانتے تھے روحا کی جان کی حفاظت کرنا میرے لیے بہت ضروری ہے تبھی میں نے یہی پلان بنایا تھا ۔۔
لیکن آپ دونوں نے پلان خراب کر دیا کہاں ان تین ہفتوں میں فرحان کو قابو کر لیتا بس تھوڑے دن لیکن آپ لوگ لے آۓ اسے جو میری سانس ہے ۔۔۔
اب میرا پلان خراب ہوا فرحان جان گیا ہو گا میں زندہ ہو ۔۔
صام طش سے چلایا تھا ۔۔۔
روحا کی تبھی ایسی حالت کی تم نے ۔۔
مستقیم دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
جو آپ کا اپنی جان سے عزیز ہو جو اپنی سانسوں سے بھی زیادہ ضروری ہو اسے بچانے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑتا ہے اگر یہ روحا کی حالت کی تو مقصد یہی تھا وہ چلی جاتی لیکن وہ اتنی ضدی ہو چکی ہے کوئ فرق نہ پڑا اسے ۔۔۔
صام روحا کی حالت دیکھتا بولا تھا جو میڈیسن کے نشے میں گہری نیند سو رہی تھی ۔۔۔
ضدی تو ہو گی تم نکھرے جو آٹھاتے ہو اس کے تبھی ایسی ہے ۔۔۔
جانتے ہو مرنے والی ہو چکی تھی ہم تبھی لاۓ تھے ۔۔۔
آہان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کیا لالہ سارا پلان خراب ہو چکا اور یہ لڑکی زور با زور میری نس نس میں بس رہی ہے آج ایسے محسوس ہوا جیسے میں نے موت دیکھ لی روحا کے لب سے خون دیکھ کر ۔۔۔
صام آنسو کنٹرول کیے بولا تھا ۔۔۔
جانتا تھا روحا کتنی تکلیف میں تھی ۔۔۔
““دو ہفتے پہلے ۔۔۔۔
اس سے پہلے بمب پھٹتا جب صام کو آڈے کے باہر ایک طرف کھودی ہوئ زمین نظر آی ۔۔۔
آرمی نے یہ جگہ تبھی کھودی تھی کہ اگر جان بچانی پڑے تو کھود جاٶ ۔۔۔۔
صام نے تھوڑی سے ہمت کرتے باہر آتے کھودی ہوئ زمین پر جمپ کیا تھا ۔۔۔
اور سیدھا وہ زمین کی مٹی کے اندر دھس چکا تھا ۔۔۔
وہی آڈا بمب سے ہوا میں اُڑ چکا تھا ۔۔۔
ڈی ایم جلدی سے آرمی فورس کو ساتھ لاۓ آگے آۓ تھے ۔۔۔
اور زمین کے اندر سے زخمی صام کو باہر نکالا تھا ۔۔۔
ڈاکٹرز کو فون کرو جلدی ۔۔۔
صام کو خون میں لت پت دیکھتے ڈی ایم نے آڈر دیا تھا ۔۔۔
مستقیم آہان کو فون کر چکے تھے ۔۔۔
دو دن بعد صام کو ہوش آیا تھا جب اپنے سامنے مستقیم آہان کو پریشان دیکھتا اٹھ کر بیھٹا تھا ۔۔۔۔
ر۔روحا کیسی ہے باقی بس کیسے ہے ۔۔
صام اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا بامشکل بولا تھا ۔۔۔
چپ کر بلکل چپ ہمارے بارے میں نہیں سوچا ہمارا کیا ہوتا چپمین میرے لیے تم اور مستقیم فیا تینوں چھوٹے بچوں جیسے ہو پھر بھی یہ حرکت کی ۔۔۔
آہان صام کو دھکا دیتا واپس لیٹتا غصہ سے بولا تھا ۔۔
ارے لالہ بعد میں ڈانٹ لینا آپ زرا لیپ ٹاپ دے میرا ۔۔
صام جلدی سے ہاتھ آگے کرتا بولا تھا ۔۔۔
سب ٹھیک ہ۔۔۔
سب ٹھیک نہیں روحا کی جان خطرے میں ہے آپ سب یہ بات پھیلاۓ صام مر چکا ہے ۔۔
تاکہ فرحان اپنے بل سے باہر آۓ ۔۔۔
اور ی۔۔۔
صام ہاسپٹل کے بیڈ پر بیٹھا اب مستقیم آہان کو لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتا پٹر پٹر اپنا پلان سمجھا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ آہان اور مستقیم ہکا بکا اس کا پلان سن رہے تھے کیا تھا صام آفندی جس کا دماغ ایک ربورٹ کی طرح چلتا تھا ۔۔
ابھی بھی موت کے منہ سے واپس آتے ہی وہ سب کا سوچ رہا تھا اگر فکر نہیں تھی تو خود کی ۔۔۔
صام کے پلان نے مطابق انھوں نے جھوٹا ڈرامہ کیا تھا صام کی تدفن کا ۔۔۔
———————————————————–
تم اتنی رات کو خیریت بیٹا ۔۔۔
رات کو شعیب کو اپنے گھر دیکھتے آفندی صاحب نیند سے جاگتے آ کر پوچھا تھا ۔۔
جی انکل بس کیسے افسوس کرو ۔۔۔
شعیب ناٹک کرتا بولا تھا ۔
کیسا افسوس بیٹا ۔۔
آفندی صاحب پریشان ہوتے بولے تھے ۔۔۔
جی وہ صام م۔۔۔۔
کیا ہوا روحا بیٹی کو اور تم کب آۓ جرمنی سے یہ زخمی کیوں ہے ۔۔۔
اس سے پہلے شعیب کچھ کہتا جب ہال سے انٹر ہوتا صام اپنی باہوں میں بے ہوش زخمی روحا کو لیتا سیڑھیاں چڑ چکا تھا ۔۔
جب آفندی صاحب پریشان ہوتے بولے تھے ۔۔
ی
یہ کیسے ہو سکتا ہے صام زندہ اور بلیک بیوٹی کو کیا ہوا ۔۔۔
شعیب ہکا بکا اسے سامنے دیکھتا وہاں سے غصے میں چلا گیا تھا ۔۔۔
ریلکس بابا روحا کو چوٹ آئ تھی آپ سکون سے سو جاۓ صام دیکھ لے گا ۔۔
آہان مستقیم پاس آتے ان کو گلے لگاۓ دونوں بولے تھے ۔۔۔
————————————————————
تمہیں وہاں نہیں میری ضرورت تھی میری جان تبھی میں لے آیا ۔۔۔
صام بنا شرٹ کے ہی گھوم رہا تھا تبھی بیڈ پر لیٹے روحا کو اپنے سینے پر لیٹاۓ وہ بولا تھا ۔۔۔
ص۔صاممممم۔۔۔
روحا درد سے تڑپیتی صام کے سینے پر اپنے لب سہلاۓ تھے ۔۔۔
بس میری جان بہت درد سہہ لیا اپنے ٹھرکی صام کو معاف کر دو ۔۔۔
صام جلدی سے اپنے سینے پر سرہانہ رکھتے وہاں روحا کا چہرہ رکھتے بولا تھا ۔۔۔
حالانکہ اس کے بھی سینے پر درد ہو رہا تھا ۔۔
لیکن وہ صرف روحا کی فکر کر رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
ارے انیجل کچھ کھا کیوں نہیں رہی ۔۔
صبح سارے ناشتہ کر رہے تھے جب مرحا بولی تھی ۔۔۔۔
صام ساری رات روحا کا خیال رکھتا رہا ایک منٹ کے لیے سویا نہیں تھا اور صبح ہوتے ہی وہ ویسا بن چکا تھا جیسا ظلم ڈھاتا بنا تھا ۔۔۔
وہ ہم سے کھایا نہیں جا رہا تبھی ۔۔۔
روحا صام کی طرف مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کیا ہوا میری بیٹی کو ۔۔۔
وردہ بیگم جلدی سے بولی تھی ۔۔۔
جب آہان اور مستقیم نے سر جھکاۓ مسکراہٹ روکی تھی ۔۔۔
وہ ماما چوٹ آ گی ہمارے لب پر تبھی کچھ کھایا نہیں جا رہا پین ہو رہا ہے ۔۔۔
روحا ویسے ہی مسکراتے بولی تھی ۔۔۔
بیٹا آپ ڈاکٹر کے پاس گ۔۔۔۔
ماما ہم ٹھیک ہے بس یہ جوس پیے گے ۔۔۔
وردہ بیگم بول رہی تھی جب روحا جوس کا کلاس لیتی وہاں سے جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ صام کا چہرہ غصہ ضبط کرنے کی وجہ سے سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔۔
واقعی چوٹ آی انیجل کو کون سی ایسی چوٹ تھی جو لیپ پر ہی آنی تھی ۔۔۔
مرحا شرارتی انداز سے ہیر کے کان میں سرگوشی کرتے بولی تھی ۔۔۔
شرم کرو مرحا بلیک بیوٹی کے واقعی چوٹ آئ دیکھا نہیں تم نے کیسے سوجن ہوئ ہے ساتھ کاٹ کا نشان بھی نیلا ہوا ہے ۔۔
ہیر بھی مسکراتے سرگوشی کرتے بولی تھی ۔۔۔
دیور جی سے پو۔۔۔
یار بس کر دے کیوں چاہتی ہو ہمارے شوہر ہمیں گھر سے باہر نکال دے ۔۔۔
ہیر اور مرحا ہنسی کنٹرول کیے سرگوشی کر رہی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہہاہہایا ۔۔۔
جب ان دونوں کی سرگوشی سنتے آہان اور مستقیم کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
ہیر مرحا اب شرمندہ ہوئ ناشتہ کرنے لگ گی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
کیا تکلیف ہے اب تمہیں روحا ۔۔۔۔
صام کب سے روحا کی طرف دیکھ رہا تھا جو اسے ہی گھورے جا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا ۔۔۔
ہمیں یہاں تکلیف ہے صام ۔۔۔
روحا اٹھ کر صام کی گود میں آتی بولی تھی ۔۔
کیا حرکت ہے میں لیپ ٹاپ یوز کر رہا اٹھو یہاں سے ۔۔۔
صام چیئر پر بیٹھا تھا تبھی اپنی گود سے روحا کو اٹھاتے بولا تھا ۔۔۔
تو یوز کرے ہم تو آپ کو اپنی تکلیف بتا رہے ہے ۔۔۔
روحا بھی ڈھیٹ بنتی صام کی گردن میں باہیں حائل کیے بولی تھی ۔۔۔
صام بہت مشکل سے لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا کیونکہ اس کا سارا دھیان اپنی گود میں بیٹھی روحا کی طرف تھا ۔۔۔۔
جو اپنی انگلیاں کبھی اس کے سر کے بالوں میں چلاتی تو کبھی اس کی گردن پر چلاتی ۔۔۔
بتاو کیا تکلیف ہے ۔۔
صام لیپ ٹاپ چھوڑتا اب روحا کو کمر سے پکڑے زور سے سینے سے لگاے بولا تھا ۔۔۔
ہمم پتہ نہیں ۔۔
روحا نے اپنے نرم لب اس کے بالوں کے اوپر رکھتے کہا تھا ۔۔
روحا کیوں تنگ کر رہی ہو ۔۔۔
صام اب اپنا مکمل کام چھوڑے روحا کو بالوں سے پکڑے بولا تھا ۔۔۔
جب روحا کا منہ نیچے کی طرف جھکا تھا ۔۔۔
ہم پیار کر رہے آپ اپنا کام کرے بس ۔۔۔
روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
روحا ت۔۔
صام چپ کرے ہمارے پین ہو رہا بولا نہیں جا رہا ۔۔۔
اس سے پہلے صام کچھ کہتا جب روحا بات کاٹتی صام کے لبوں پر انگلی پھیرتی بولی تھی ۔۔۔
میڈیسن لگائ تم نے ۔۔۔
اب صام سب کچھ بھولے کہ اسے روحا کو خود سے دور کرنا تھا ۔۔۔
اسے یاد تھا تو یہ اس کی روحا درد میں ہے تبھی اپنی انگلیاں اس کے زخم پر پھیری تھی ۔۔۔
سسی۔۔
روحا تڑپی تھی ۔۔۔
اب دونوں ایک قریب تھے کہ ایک دوسرے کی گرم سانسیں چہرے پر ٹکرا رہی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے صام کوئ گستاخی کرتا جب روم کے باہر سے ملازمہ کی آواز سنائ
دی ۔۔
میم یہ لے ۔۔
روحا جلدی سے ہوش میں آتی صام کی گود سے اٹھی تھی ۔۔
جب ملازمہ اب اندر آتی دونوں ہاتھوں میں گول گپوں کی ٹرے پکڑے بولی تھی ۔۔
راضیہ ابھی اور اسی وقت جاٶ ورنہ تمہارے ہاتھ کاٹ دو گا ۔۔۔
روحا سے پہلے صام دیکھتا غرایا تھا ۔۔۔
وہ جان گیا تھا روحا اب گول گپے کھانے والی تھی ۔۔۔
راضیہ ادھر کی رکو ورنہ ہم تمہارے پاٶں کاٹ دے گے ۔۔
روحا بھی دانت پیستی بولی تھی ۔۔
راضیہ ڈر چکی تھی کس کی بات مانے ۔۔
م۔می۔۔۔
جاٶ راضیہہہہ۔۔
راضیہ جو ڈرتے بولتی جب صام دھاڑا تھا ۔۔۔
ارے اسے چھوڑو یہ پاگل ہے تم یہ دو ۔۔
روحا کسی کی بھی پرواہ کیے بنا بولتی اس کے ہاتھ سے ٹرے لیے بولی تھی ۔۔
جب راضیہ جان بچاتی باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔
کیا ہوا تم پریشان کی۔۔
سر اور میم دونوں پاگل ہو گے جانتے ہو کتنی مشکل سے جان بچا کر آئ ہو ۔۔۔
ایک کی بات مانتی تو جان سے جاتی دوسرے کی بات مانتی تو بھی جان سے جاتی بڑی مشکل سے آئ میں ۔۔
راضیہ باہر آئ تھی جب روم کے باہر کھڑے گارڈ نے پوچھا تبھی وہ بولی تھی ۔۔۔
ہاں جانتا ہو ۔۔
گارڈ نے بھی حامی بھری تھی اسے پتہ تھا روحا نے کل مال میں کیا کیا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
سسی۔۔۔
روحا صام کو اگنور کیے بیڈ پر بیٹھی گول گپے کھانے شروع کر چکی تھی ۔۔۔
جب ایک کھاتے اسے جلن ہوئ تھی۔
اپنے زخمی ہونٹ کو۔۔۔
ناشتہ تم سے ہوا نہیں اور اب یہ سکون سے کھا رہی ہو دو مجھے نہیں کھاٶ گی سوپ پیو گی ۔۔
صام روحا کی آنکھوں سے پانی نکلتادیکھ ٹرے اٹھاتا غصہ سے بولا تھا ۔۔۔۔
کو۔کوئ ن۔نہیں ہمی۔ہمیں پیار بھی نہیں ک۔کرنے دے رہے گول گپے ۔بھی کھانے نہیں دے رہے ۔۔اور یہ ڈرامہ بند کر خودی سزا دیتے ہے پھر یہ ٹانک شروع کر دیتے ہے۔۔۔۔
روحا جلدی جلدی اپنا پورا منہ گول گپوں سے بھر چکی تھی تبھی وہ بھرے منہ سے بامشکل بول پا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے باہر نکل رہا تھا ۔۔۔
ہاں تمہیں ہی شوق تھا امتحان دینے کا ا۔۔۔
ہ۔ہم پاس ۔بھی ہو۔ہوۓ ت۔تھے آپ ف۔فیل ہو گے ۔۔
صام اس کے قریب بیٹھا اسے ہی دیکھتے بول رہا تھا ۔۔۔
جب روحا خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
صام چپ ہو گیا تھا کیونکہ روحا نے ناشتہ نہیں کیا تھا تبھی وہ اسے کھانے کو دے رہا تھا ۔۔۔
ایک روحا ہی تھی جس کے سامنے وہ مجبور ہوتا تھا ۔۔۔
ختم ہو گے ۔۔۔
صام نے شکر ادا کرتے روحا کی طرف دیکھتے کہا تھا جس کا آنکھوں سے نکلے پانی سے چہرہ بھیگ گیا تھا ۔۔۔۔
ج۔جی ب۔بس مر۔مرچ لگ ی۔۔۔۔
روحا اپنی جلن کنٹرول کیے بول رہی تھی گول گپا ابھی بھی اس کے منہ میں تھا جب صام اور قریب آتے اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھساۓ وہ اس کے چہرے کو اپنی طرف کرتا نرمی سے اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
صام کی حرکت پر روحا مسکرائ تھی ۔۔۔
جانتی تھی وہ اسے تکلیف نہیں دے گا ۔۔۔
صام کو اپنے منہ میں گول گپوں کا ذائقہ محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
یمی ہے آج تک میں نے یہ بلا چیز نہیں کھائ لیکن آج مزے کی لگی ۔۔۔
تم نے کھانے تھے میں نے کھانے دے اب میڈیسن لگاٶ ہونٹ پر ۔۔۔
صام جلدی سے اسے نرمی سے چھوڑے زخمی لب کو سہلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہم۔۔ا۔۔۔
نہیں روحا بس بہت ہوا ۔۔۔
روحا بچوں جیسی شکل بناۓ بولی تھی جب صام نے اسے بیڈ پر لیٹایا اور ہلکے سے میڈیسن اس کے ہونٹ پر لگانی شروع کر دی ۔۔۔
روحا مسلسل صام کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
آج ہم صام کو بتاۓ گے ہمیں کتنی محبت ہے صام سے ۔۔۔
رات کو روحا تیار سی اپنے روم سے باہر نکلتی ہوئ صام کے روم کی طرف جاتی خوشی سے بولی تھی ۔۔۔
ارے کومل صام کو دیکھا ہے ہم نے شام سے نہیں دیکھا ۔۔۔
روحا صام کے روم سے باہر آتی کومل کو دیکھتی بولی تھی ۔۔
بلیک نیٹ کی ساڑھی پہنے جو بیک لیس تھی ۔۔۔
ساڑھی کے باریک پلو سے اس کے پیٹ پر لگی ڈائمنڈ کی چین دیکھائ دے رہی تھی ۔۔۔
بالوں کا ہلکا سا کرل کیے ہلکے ہی میک اپ سرخ سفید صاف شفاف چہرے لیے مسکراتی ہوئ روحا کومل کے سامنے تھی ۔۔۔
کومل تو اس کا حسن دیکھی حیران ہوئ تھی ۔۔۔
ہ۔ہاں صام بے بی اپنے روم میں اندر ہے ۔۔۔
کومل نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
شکریہ ۔۔
روحا خوشی سے پاگل ہوتی روم کے اندر انٹر ہو چکی تھی ۔۔۔۔
اہہہ روحا بے بی کھیل تو اب شروع ہو گا کتنی خوش ہو تم ۔۔۔
کومل سڑھیوں سے نیچے دیکھتی شطانی مسکراہٹ لاۓ بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ ہال میں کھڑا صام کسی سے فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔
———————————————————–
صاممممممم ہم آج بہت خوش ہے کیونکہ ہم آپ کو بتاۓ گے ہمیں کتنی محبت بلکہ عشق ہے ۔۔
روحا اندر آی تو اسے سیگریٹ کی سپمل آئ تھی لیکن اگنور کیے بیڈ کی طرف چہرہ کیے صام کو بیک ہگ کیے وہ بولی تھی ۔۔۔
روم میں ہلکی روشنی تھی ۔۔۔
ہمیں آپ سے بہتتتت بہتتت محبت ہے صام ہم نہیں جانتے کب ہوئ اب ہم آپ کے بنا نہیں رہ سکتے ۔۔
آی لو یو صاممممممم۔۔۔
روحا اس کمر پر سر ٹھکاۓ بولی تھی جب صام نے گھوم کر روحا کی پیشت اپنے سینے پر لگائ تھی اور اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی تھی ۔۔۔
صام یہ کیا کر رہے ہے ہم نے آپ کا چہ۔۔۔۔
روحا پریشان سی ہوتی بول رہی تھی جب اس نے اسے بیڈ پر دھکا دیتے گرایا تھا ۔۔۔
ت۔تم صام نہیں چ۔۔۔
شششش بلیک بیوٹی آج کی رات صرف ہم دونوں کی ۔۔۔
روحا جان گی تھی صام نہیں روم میں تبھی وہ چلاتی بول رہی تھی تبھی اس کے اوپر جھکے شعیب خبابث سے بولا تھا ۔۔۔
ص۔صام۔صامممم۔۔۔
روحا پورا زور لگاۓ چیخ رہی تھی جب شعیب نے بے دردی سے اس کے منہ کو ہاتھ سے دبایا تھا ۔۔۔۔
روحا اس کے قابو میں آتی بے بس ہوتی رو رہی تھی ۔۔۔۔
اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا یہی سوچ کر شعیب اب اپنی ہوس پوری کرے اور صام بھی موجود نہیں تھا ۔۔۔
