Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 29)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 29)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
بلیک بیوٹی بات سنو میری روکو تو سہی ۔۔۔۔
ہیر روحا کے پیچھے جاتی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
میں جانتی ہو تم نے ہماری ساری بات سن لی ہے وہ ہوس پرست ان۔۔۔۔
لالہ ایسے نہیں ہیر آپی آپ کتنے آرام سے کہا دیتی ہے آپ ۔۔۔
ہیر روحا کے ہاتھ کے پکڑے غصے سے بول رہی تھی جب روحا چیخی تھی ۔۔۔۔
تم نہیں مانتی کہ اس دن ی۔۔۔۔
جس دن آپ کوما میں گی ہم یہی احمد کو لے کر رہ گے تھے آپ نہیں جانتی ہم نے کتنے ہوس پرست آدمیوں کی نظروں کا سامنا کیا ۔۔۔
لیکن ہم نے سوچ لیا تھا احمد کو پالے گے بابا تو پہلے ہی آپ کو ملتان لے گے جہاں آپ کوما میں تھی ۔۔۔۔
یہاں وہ مالی کاکا نے ہماری عزت پر ہاتھ ڈالا آپ کو پتہ کون سا شخص تھا جس نے ہمیں بچایا ۔۔۔۔
روحا آنسو کنٹرول کیے بولی تھی ۔۔۔۔
ک۔کون تھا ۔۔
ہیر نے ہکلاتے پوچھا ۔۔۔
آہان لالہ اور مستقیم لالہ نے اس وقت ہماری جو حالت تھی انھوں نے بچایا ہمیں اگر وہ دونوں بھی ہوس پرست ہوتے تو اسی وقت اپنی ہوس پوری کرتے ۔۔۔۔
ہمارے اندر اتنی طاقت نہیں تھی کہ احمد کو اٹھا پاتے تبھی لالہ نے احمد کو لیا اور لندن چلے گے ۔۔۔۔
لندن جا کر بھی انھوں نے احمد کو اچھے سے پالا ہم جانتے ہے وہ کتنا تڑپے تھے اس لڑکی کے لیے جن سے وہ محبت کرتے تھے ۔۔۔۔۔
تم جانتی تھی وہ لڑکی ک۔۔۔۔۔
نہیں ہم نہیں جانتے تھے وہ لڑکی آپ ہے بس اتنا پتہ تھا لالہ نے جس سے محبت کی وہ انہیں چھوڑ کر چلی گی تھی ۔۔۔۔
وہ چار سال لندن میں اکیلے رہے چاہتے تو شادی کر سکتے تھے احمد کے لیے لیکن انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔
اور تم نے اسی درندے کو میرا مسیحا بنا کر شادی کروا دی کیوں بلیک بیوٹی اگر اتنا کچھ جانتی تھی تم ۔۔۔۔
روحا جو بول رہی تھی ہیر طش میں آتی بات کاٹتی چلائ ۔۔۔۔
جس دن آپ کوما سے باہر آئ ڈاکٹر نے کہا آپ کا ماحول چینج کیا جاۓ ہماری شروع سے خواہش تھی لالہ کی شادی آپ کے ساتھ ہوتی ۔۔
اس دن ہم اتنے پریشان تھے تبھی لالہ کو ملتان لے کر آے انھوں نے کچھ بھی ہم سے نہیں پوچھا ۔۔۔
ملتان جا کر آپ کو زندہ سلامت دیکھ کر ہم نے لالہ کے چہرے پر خوشی کے رنگ دیکھے تھے ۔۔۔
ہم نے لالہ سے کہا آپ سے نکاح کر لے وہ مان گے پھر ہم نے یہ ساری بات سنی جب وہ آپ کی منت کرتے یہ کہا رہے آپ نکاح کر لے بعد میں چاہے کچھ بھی کرے ۔۔۔۔۔
ہمیں دکھ ہوا کافی جس انسان کو ہم نے اچھا سمجھا وہی انسان درندہ نکلا لیکن ہیر آپی وہ اپنا گناہ تو مان رہے ہے کون سا مکر رہے ا۔۔۔۔
درندہ ہے وہ نکاح ہمارا دو ماہ پہلے ہوا اور گھر سب کو کہا چار سال پہلے شادی کی ہم دونوں نے ۔۔۔
روحا جو ہیر کا ہاتھ پکڑے سمجھا رہی تھی جب ہیر بولی ۔۔۔
وہ اس لیے ہم دونوں نے جھوٹ بولا کیونکہ آفندی ہاوس میں سب کو پتہ تھا آپ مر چکی ہے ۔۔۔اگر ہم یہ کہتے شادی تو ابھی ہوئ تو سوال ہوتا احمد کیسے آیا ۔۔۔۔
تو بتا دے وہ انسان میرے گناہ کی سزا ہے یہ ۔۔۔
روحا جو تحمل سے بول رہی تھی جب ہیر لاپرواہی سے بولی ۔۔۔۔
آپی آپ ایسی تو نہ تھی ۔۔۔ہم مانتے ہے ان سے گناہ ہوا لیکن وہ اپنی سزا پا چکے ہے ان کی چار سالوں کی تڑپ کے گواہ ہم ہے اگر آپ سکون میں نہیں تھی تو سکون میں وہ بھی نہ تھے ۔۔۔۔
لندن جیسے ملک میں رہ کر وہ آسانی سے شادی کر لیتے احمد کے لیے کوئ روکنے والا تھا لیکن انھوں نے ہمیشہ آپ سے محبت کی ۔۔۔
اگر انسان سے غلطی ہو جاۓ وہ مان لے تو معاف کر دینا چاہے آپی ۔۔۔
ہمارے معاشرے میں ایسے بھی مرد ہے جو گناہ کر کے بھی نہیں مانتے اپنی زندگی میں خوش ہو جاتے ہے لیکن لالہ نے ایسا کچھ بھی کیا ۔۔۔۔
وہ تو تیار ہے گھر والوں کو بتانے کے لیے ۔۔
حقیقت ہے آپ کو برا لگے گا آپ نے کہاوت سنی ہے تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی دونوں ہاتھوں سے بجائ جاتی ہے ۔۔۔۔
جہاں لالہ کا قصور تھا وہی آپ کا بھی تھا آپ کو نہیں جانا چاہے تھا ایسی حالت میں پھر کیا ہوا گناہ ہوا ۔۔۔۔
ایک شخص تڑپ تڑپ کر معافی مانگ رہا ہے آپ انہیں معاف ہی نہیں کر رہی ۔۔۔
ہم اتنے بڑے بڑے گناہ قتل کر کے بھی اپنے اللہٌ کے سامنے رو کر معافی مانگ لیتے ہے یہ سوچ کر وہ بڑا رحیم کریم ہے ہمیں معاف کر دے گا وہ ہمیں ستر ماوں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔
تو ہیر آپی ہم تو ایک گناہگار بندے ہے اپنے اتنے گناہ کر کے ہم معافی مانگ لیتے ہے تو کیا ہم انسان ہو کر کسی دوسرے انسان کو معاف نہیں کر سکتے ۔۔۔
اگر تمہارے ساتھ یہ سب ہوتا بلیک ب۔۔۔۔
تو ہم اپنے اللہٌکو خوش کرنے کے لیے معاف کر دیتے آپی اگر وہی شخص ہمیں عزت بنا کر اپنے گھر رکھتا ۔۔۔
بہت کم لڑکیاں ہے جن کو ایسے اچھے اور خوبصورت انسان کا ساتھ ملتا ہے جو ٹوٹ کر چاہتا ہے ۔۔۔۔
ہیر کو کچھ سوچتی بول رہی تھی جب روحا بولی تھی ۔۔۔۔
ہمممم مطلب
آہان کو پتہ تم ۔۔۔۔
نہیں ہیر آپی آپ وعدہ کرے لالہ کو کبھی نہ پتہ چلے ہم سب جانتے ہے کچھ باتیں ہے ایسی ہوتی ہے جن پر پردہ ضروری ہوتا ہے جیسے اللہٌنے ہماری ہر بات پر پردہ رکھا ہے وہ کبھی ہمیں شرمندہ نہیں ہونے دیتا ویسے ہی زندگی میں کبھی بھی ہم لالہ کو یہ ظاہر نہیں کرے گے ہم سب جانتے ہے اور آپ بھی نہ ہی گھر والوں کو پتہ چلے ۔۔۔۔
آپی جو ہونا تھا ہو گیا آپ اپنی زندگی کی شروعات کرے لالہ بہتتتت اچھے ہے آپ سوچے انھوں نے ہمیں چھوٹی بہن بنا کر اتنی عزت دی جیسے سگے بھائ ہو تو بیوی کو کتنی عزت اور محبت دے گے ۔۔۔۔
سب بھول جاۓ بس ہمارے لالہ کی محبت یاد رکھے اور خوش رہے ۔۔۔
ہیر جو اب سکون میں آتی بول رہی تھی جب روحا منت کرتی بولی تھی ۔۔۔
ویسے اتنی گہری والی باتیں کہاں سے سکھ لی میری بلیک بیوٹی نے ۔۔۔
ہیر روحا کا ماتھا چومتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
ہمممم پت ۔۔۔۔۔۔
ہاےےے تمہاری یہ عادت نہیں گی بلیک بیوٹی ۔۔۔
روحا جو مسکراتی کندھے اچکاتی بول رہی تھی جب ہیر مسکراتی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔
ہاے آپی کتنا بول لیا ہم نے اب تو پکا دو دن نہیں بولنا ہم نے ہاے ہمارا منہ ۔۔۔۔
روحا ہیر کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے شرارتی انداز سے بولی تھا ۔۔۔
ہنسی مسکراتی رہو ویسے میرا دیور بھی بڑا ہنیڈسم اور ڈشینگ ہے خیال رکھنا ۔۔۔۔
ہیر روحا کو گلے لگاۓ بولی تھی ۔۔۔
جی پتہ ہے ٹھرکی بھی ہے آپی ۔۔۔
روحا اپنے سرخ چہرے سے کہتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔۔
ہاہہاہاا ۔۔۔
شکریہ بھابھی آپ نے اتنا انمول تحفہ مجھ ناچیز کو دیا ۔۔۔
صام مسکراتا اپنے بھاری قدم آٹھاتا ہیر کے پیچھے کھڑے ہوتا بولا تھا ۔۔۔
مطلب تم ج۔۔۔
فکر نہ کرے بھابھی اگر مس لائف کو راز رکھنے آتے ہے تو صام آفندی بھی رکھ سکتا ہے آپ وعدہ کرے کبھی مس لائف کو نہیں بتاۓ گی لالہ آپ اور مس لائف کے بعد مجھے بھی سب پتہ ہے ۔۔۔
صام سکون سے کھڑا بولا تھا ۔۔۔
محبت کرتے ہو بلی۔۔۔۔
ہاہاہاہہاہاہایای۔بھابھی محبت عشق یہ تو بہت چھوٹے لفظ ہے جنون ہے میرا یہ مس لائف ۔۔۔
ہیر صام کی سرخ گرین آنکھوں میں دیکھتی بول رہی تھی جب صام قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں بھابھی اپنا یہ چونا دور رکھے بس ۔۔۔۔
صام ہیر کو خاموش دیکھتا برا سا منہ بناۓ بولا تھا ۔۔۔
چونا کون ۔۔۔
ہیر حیران ہوتی بولی ۔۔۔
یہ لٹل چپمین مسٹر چونا احمد آہان آفندی ۔۔۔
صام برے سے منہ بناے بولا تھا ۔۔۔
جلیس ۔۔۔
ہیر صام کے کیوٹ کیوٹ منہ کے زاویے دیکھتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
جلیس تو نہیں ہو میں ۔۔
صام اکندھے اچکاتے بولا تھا ۔۔۔
پھر کیو۔۔۔۔
توپ کے آگے کھڑا کر کے چونے کو اُڑا دو گا اور چونا گیا سیدھا اوپرررررررررررررر۔۔۔۔
ہیر جو بولنے والی تھی جب صام سردپن سے اپنے ہاتھ اوپر کرتا بولا تھا ۔۔۔
اس لیے چونے کو دور رکھے بھابھی ۔۔۔
صام خوف میں کانپتی ہیر کو دیکھتے طنزیہ مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
مسٹر آفندی میں یہ کیس ہرگز نہیں لڑ رہا ۔۔۔
وکیل راحیل صاحب غصے میں آتے بولے تھے ۔۔۔
کیوں نہیں لڑ رہے تم تو ایسے وکیل ہو قتل کے کیس سے بھی مجرم کو رہائ دلاوا دیتے ہو۔۔
آفندی صاحب پریشان ہوتے بولے تھے ۔۔۔۔
وہ کام میں آسانی سے کر لیتا تھا کیونکہ جو مجرم ہوتا تھا میری بات سن لیتا تھا جبکہ یہ صام آفندی میری کوئ بات ہی نہیں سنتا بس میں یہ کیس نہیں لڑ سکتا ۔۔۔
راحیل صاحب صام کی طرف دیکھتا غصہ سے اٹھ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔
دیکھا یہ ہے ہی ہڈ حرام نکمے کوئ بھی وکیل اس کیس پر ہاتھ نہیں ڈال رہا تھا ایک راحیل ہی تھا جو ہارے ہوۓ کیس کو بھی جیت جاتا تھا ہاےےےے کل کورٹ جانا ہے جج کے سامنے تمہارا کون کیس لڑے گا ۔۔۔
غصے سے پھٹتے آفندی صاحب سکون سے بیٹھے صام کی طرف دیکھتے بولے تھے ۔۔۔
ریلکس بابا کچھ نہیں ہو گا یہ قتل میں نے نہیں کیا جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا کوئ کچھ بھی نہیں کہے گا ۔۔۔
صام سکون سے بیٹھا بولا تھا ۔۔۔
کون سے گناہ کی سزا ہو عیجب بیٹا ملا ہے مجھے میرا سر پھٹ جاۓ گا ۔۔۔
آفندی صاحب درد سے چلاتے بولے تھے ۔۔
صام ان کا لاڈلا بیٹا تھا چاہے وہ اس سے دور رہے تھے لیکن وہ اپنے دل و جان سے چاہتے تھے ۔۔۔۔
افففف بابا آپ کا سر کیوں پھٹ رہا سر تو ڈی آی جی صاحب کا پھٹ جاۓ گا ۔۔۔
صام انہیں کندھوں سے پکڑے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
مطلب تم اس کا سر پھاڑ دو گے صام کیوں مجھے ہارٹ اٹیک دے رہے ہو بیٹا ۔۔
آفندی صاحب پریشان ہوتے بولے تھے ۔۔۔
بابا میں نے جرمنی جانا ہے ڈی ڈی کو چھوڑنے اور اس جلاد جنرل ڈی ایم سے ملنا ہے ۔۔۔
صام پرسکون ہوتا بولا تھا ۔۔
کیسے جا سکتے ہو جج کل فصیلہ سناۓ گا آخری ا۔۔۔۔
میں نے کہا نہ کچھ بھی ہونا ریلکس رہے ۔۔۔
آفندی صاحب اپنا سر پکڑے بول رہے تھے جب صام بولتا وہاں سے چلا گیا ۔۔
————————————————————
شکر ہے ککڑ تمہیں ہوش آ گیا ورنہ میں تو تمہارے قل کی بریانی کھانے کو تیار تھا ۔۔۔
زرجان مستقیم آہان صام چاروں صبح منان کو دیکھنے ہاسپٹل آۓ تھے جب ہانیہ کے قریب بیٹھے ہوش میں آتے منان کو دیکھ کر خوش ہو گے تھے ۔۔۔
تبھی زرجان گلے ملے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں میں نے تو آڈر بھی دے دیا تھا بریانی کا ۔۔۔
مستقیم بھی مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
کیسا ہے تو ۔۔۔
صام نے سنجیدہ ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔۔
ہانیہ صام کی سرخ گرین آنکھیں دیکھتی ڈرتے ہوۓ منان کے کندھے کو پکڑتی بیٹھی تھی ۔۔۔۔
میری بیوی کو کم گھور آنکھیں نکال دو گا ۔۔۔
منان صام کی طرف دیکھتا مدھم آواز سے بولا تھا ۔۔۔
تم اب گھر جاٶ ۔۔۔
صام ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔
اچھا سن ککڑ کل صام کورٹ جاۓ گا جج نے فصیلہ سنانا ہے ۔۔۔
زرجان پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا میں صبح آ جاٶ گا بس صام تم اپنے غصے پر کنٹرول کرنا ورنہ تم سب کام خراب کر دیتے ہو ا۔۔۔۔
بس بس کر تم صبح ہرگز کورٹ نہیں آو گے خیال رکھو اگر تم وہاں آۓ تو کورٹ کو بمب سے اُڑا دو گا ۔۔۔
اور آپ بھابھی منان کو گھر لے کر جاۓ میرے خیال سے آپ اتنا تو کر سکتی ہے ۔۔۔
صام منان اور ہانیہ کو دیکھتے دانت پیستے بولا تھا ۔۔
ج۔جی ۔۔
ہانیہ ڈرتے ہوۓ اپنا گلا تر کرتی بولی تھی ۔۔۔
جب سے منان کو ہوش آیا تھا اس نے ہانیہ سے بات ہی نہیں کی تھی ۔۔۔۔
صام تم نہیں جانتے ڈی ای جی فرحان کے ساتھ ملا ہوا ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ا۔
تم مجھے نہیں جانتے مجھے کوئ کچھ نہیں کہا سکتا خیر تم گھر جاٶ ۔۔۔۔
صام منان کی بات کاٹتا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
تم لوگ ہی سمجھا لو اس ٹھرکی انسان کو کورٹ کے آس پاس دہشتگردوں نے اسے حراست میں لیا ہو گا کیونکہ صام آفندی ان کا ٹارگٹ ہے یہ سمجھ ہی نہیں رہا ۔۔۔
زرجان اپنے فون پر کچھ دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ہمممم چلو تم لوگ خیال رکھنا اس کا ویسے تو ضرورت نہیں ہماری لیکن پھر بھی اور یہ ڈی ڈی کدھر ہے ۔۔۔۔
منان بات بدلتا بولا تھا وہ ہانیہ کے سامنے کچھ بھی ایسا ویسا نہیں کہنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
ارے وہ اپنا غم ختم کر رہی ہے ۔۔۔
مستقیم مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
افففف اور یقیناً کتنے لوگوں کو مار چکی ہے ۔۔۔
منان سکون سے بولا تھا ۔۔۔
چالیس لوگوں کو اوپر پہنچا چکی ہے ابھی بھی غم اس کا کم نہیں ہوا ۔۔۔
زرجان ہنستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہاہااہااہہاہاا ڈی ڈی بھی نہ افففف۔۔۔
منان زور سے قہقہ لگاتے ہنسا تھا ۔۔۔
————————————————————
ارے سویٹ ہارٹ اپن سوری بول تو رہا ۔۔۔
ڈی ڈی فون پر بات کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
دیکھو اپن کو تم ایسے بولے گی تو اپن ناراض ہو جاۓ گا پھر اپن جرمنی نہیں آۓ گا ۔۔۔
ڈی ڈی فون پر بات سنتی برے برے سے منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
اپن جلاد ڈیڈ سے بات کرتا ہے بس ۔۔۔
ڈی ڈی اب غصے سے فون کاٹتی بولی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ڈی ڈی ۔۔۔
روحا کافی کا مگ لاتی اسے دیتی بولی تھی ۔۔۔
ارے اپن کا دماغ خراب ہے ۔۔۔
ڈی ڈی برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ہوا کیا ہے یہ ب۔۔۔
آہہہہہ آہہہہہ ڈی ڈی یار میں کیا بتاو کتنی خوش ہو وہ سانڈ مطلب مستقیم مان گیا ۔۔۔۔
روحا تو بس ڈی ڈی کے ڈمپل دیکھتی گم ہوتی بولی تھی جب ڈی ڈی بولنے والی تھی جب مرحا چیختی چلاتی بھاگتی ہوئ ڈی ڈی کی گود میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔
یہ اندر کیا ہو رہا ۔۔۔
مستقیم آہان صام ہال میں انٹر ہوتے وہی کھڑے سوچ رہے تھے ۔۔۔۔
تمہارا کام ہو گیا لیکن اپن کی سویٹ ہارٹ ناراض ہو گی ۔۔۔
ڈی ڈی ویسے ہی بولی ۔۔۔
یہ سویٹ ہارٹ کون ہے ۔۔
روحا اور مرحا نے ایک زبان بولا ۔۔۔
ارے اپن کی موم ہے بولے تو محمل داٶد میر کی بیوی سویٹ ہارٹ ۔۔۔
ڈی ڈی ریلکس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
کیییییییا۔۔۔۔
دونوں ایک آواز میں چلائ تھی ۔۔۔
ہاں اپن کی سویٹ ہارٹ وہ اس دن سے ناراض ہے اپن کیسے مناۓ اب ۔۔۔
ڈی ڈی مرحا کو گود سے آٹھاتی بولی تھی ۔۔۔۔
ک۔۔۔
ہاں بولو اگر زیادہ تنگ کر رہا ٹوک دو اسے اپن کو زیادہ بولنے والا نہیں پسند ۔۔۔
اس سے پہلے روحا کچھ کہتی جب ڈی ڈی فون کال سنتی سردپن سے بولی تھی ۔۔۔
ابے یار ٹڈی اپن جانتا ہے تو خوش ہے پر اتنا بھی نہ ہو اپن کی کمر ٹوٹ جانی اٹھ یہاں سے ۔۔۔
ڈی ڈی اپنی گود میں دوبارہ بیٹھی مرحا کو اٹھاتی بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ روحا زرد چہرہ لیے بیٹھی تھی کیونکہ ڈی ڈی اپنی جنیز سے گن بلیڈ چاقو نکال کر ٹیبل پر رکھا تھا ۔۔۔۔
ی۔یہ۔گن تم۔۔۔۔
ہاں انیجل یہ گن ہے پکڑو اس کو ۔۔۔
ڈی ڈی روحا کی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔
ن۔نہیں ہ۔ہم نہیں ہم یہاں سے جا رہے ہاے کتنی خطرناک لڑکی ہو ۔۔۔۔
روحا جلدی سے اٹھتے وہاں سے جاتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
لو پکڑو تو اب ۔۔
ڈی ڈی روحا کی حالت انجواۓ کرتی پیچھے جاتی
بولی تھی ۔۔
اب حالت یہ تھی روحا گھبراتے ڈرتے آگے جبکہ ڈی ڈی گن لیے اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔
آہہہہہ آہہہہ نہیں نہیں صام پلیز بچاۓ ہمیں یہ ڈی ڈی مار دے گی ۔۔۔
صام مستقیم آہان تینوں وہی کھڑے تھے جب بھاگتی ہوئ روحا بنا کسی کی پرواہ کیے صام کے سینے سے لگی چیختی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
مستقیم آہان مسکراتے ہوۓ وہاں سے چلے گے تھے ۔۔۔
کیا ہوا میری جان کو ۔۔۔۔
صام کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی جیسے روحا اس کے پاٶں پر پاٶں رکھے سینے کے ساتھ چپکی کھڑی چیخ رہی تھی ۔۔۔۔
ی۔یہ ڈی ڈی کی بچی۔۔۔
ارے اپن کا کوئ بچی وچی نہیں یار اپن یہ تم کو دیکھا رہا تھا گن ۔۔۔
ڈی ڈی پیچھے آتی مسکراتی ہوئ گن روحا کی کمر پر رکھتے بولی تھی ۔۔
اہہہہہ دیکھا یہ ہم کو مار دے گی ہمیں بچاۓ صام ۔۔
روحا جو اپنی حالت سمجھتی تھوڑا پیچھے ہوئ تھی جب دوبارہ ڈی ڈی کی آواز سنتے صام کے ساتھ دوبارہ چپکی تھی ۔۔۔
اور تم جو پل پل مجھے مار رہی ہو مس لائف یہ بار بار ٹرانسفارم کے جٹھکوں کی طرح مجھے کون بچاۓ گا اب ۔۔۔۔
صام روحا کو کمر سے پکڑے اپنے سینے سے زور سے لگاۓ بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔
روحا کو اپنی سانس لینی مشکل ہو گی تھی ۔۔۔
صا۔م آپ کو کہا ڈی ڈی سے بچاۓ او ۔۔۔۔۔
ڈی ڈی جاٶ وہ چاقو لے کر آو ۔۔۔
روحا جو شرم سے پانی پانی ہوتی پیچھے ہوکر بول رہی تھی جب صام سکون سے بولا تھا ۔۔۔
کیا ہے صام آپ ہمیں مارنا چاہتے ہے یہ ڈی ڈی کو آپ چھوڑ کے آۓ اس کے گھر ۔۔۔
روحا ڈرتی دوبارہ اس کے سینے لگی رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔
جبکہ ہال میں صرف وہی دونوں اکیلے رہ گے تھے ڈی ڈی تو صام کی سرخ گرین آنکھوں کا اشارہ سمجھتی وہاں سے بھاگ چکی تھی ۔۔۔۔
صام ہم تھک گے ہے کب تک ایسے کھڑے رہے گے ڈی ڈی بھی نہیں کچھ بول رہی ہماری ٹانگیں درد کرنے لگ گی کھڑا ہو کر ۔۔۔
صام جو روحا کی حالت انجواۓ کرتے جب بھی روحا پیچھے ہوتی صام اسے ڈرا دیتا جس کی وجہ سے روحا دوبارہ چپک جاتی۔۔۔
سینے سے لگتے ہی صام کو کرنٹ لگتا تھا تبھی وہ بھی مدہوش ہوا بار بار مسلسل یہ کھیل رہا تھا ۔۔۔۔
ایک گھنٹے بعد اب روحا رونی سی شکل بناے اس کے سینے پر سر رکھے بولی تھی پیچھے تو اس نے بھی نہیں دیکھا تھا کہ ڈی ڈی کب کی جا چکی تھی ۔۔۔۔۔
ہاے میری جان تو یہ غلام کس کے لیے ہے آو میرے پاس ۔۔۔
صام اب روحا کی حالت پر ترس کھاتا اسے باہوں میں اٹھا چکا تھا ۔۔۔۔
روحا نے اپنا چہرہ اس کی گردن میں چیھپایا تھا جبکہ اپنی ٹانگوں کو اس کی کمر پر رکھے وہ لاک کر چکی تھی ۔۔۔۔
روحا کی تیز چلتی سانسوں اور سینے میں دھڑکتے دل کی سپیڈ صام آرام سے سن سکتا تھا ۔۔۔
ظالم بیوٹی اتنے ہی کام سے تمہاری حالت غیر ہو گی میری حالت کا اندازہ نہیں تھا تمہیں جب میرے سینے سے ٹکڑاتی تھی تو مجھے کیسے فیل ہوتا تھا ۔۔۔
صام سڑھیوں سے اپنے روم کی طرف جاتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
روحا شرم کے مارے اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی وہ سمجھ گی تھی اپنے سینے پر پڑتی صام کی تیز سانسوں کو ۔۔۔۔
سڑھیوں کے اوپر کھڑی کومل جلن سے یہ سارا منظر دیکھ چکی تھی ۔۔۔
بہت خوش ہو تم روحا بے بی بہت جلد صام بے بی تمہیں دھکے دے کر نکالے گا ۔۔۔
کومل جلن و حسد سے کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
———————————————————–
میری بات سنو تم یہ کیس لڑو ہم تمہیں ایک کڑور دینے کو تیار ہے ا ۔۔۔۔۔
جاہل عوام صام ٹھیک کہتا ہے کسی سے آرام سے بات کرنی ہی نہیں چاہے ۔۔۔
مستقیم رات کو بیڈ پر بیٹھے فون پر بات کر رہا تھا جب وکیل فون کاٹ کر چکا تھا ۔۔۔
کیا ہوا میرے پیارے سے سانڈ کو ۔۔۔۔
مرحا اپنے پنک نائٹ ڈریس پہنے بیڈ پر آتے مستقیم کی گود میں بیٹھتی اس کے گال کھیچتی بولی ۔۔۔۔
یار صام کا کیس کوئ لڑ نہیں رہا سب ڈی آئ جی سے ڈرتے ہے اوپر سے اس ایٹیٹوڈ بواۓ سب مان گیا ہے آخر میں کہتا ہے قتل اس نے نہیں کیا ۔۔۔۔
مستقیم پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
تو یہ کیس میں لڑ لو گی اتنے پریشان نہ ہو مجھے ایسے نہیں پسند ۔۔۔
مرحا مستقیم کے گال چومتی بولی تھی ۔۔۔۔
واقعی مطلب نہیں میں نہیں لے کر جا رہا وہاں خطرہ ہے ا۔۔۔۔
جہاں تم ہو گے وہاں کوئ خطرہ نہیں ہو گا مجھے پتہ ہے ۔۔۔
مستقیم پہلے خوش بعد میں پریشان ہوتا بول رہا تھا جب مرحا بات کاٹتی اسے سینے پر سر رکھے بولی تھی ۔۔۔
کیسے کرو گی تم کچھ چ۔۔۔۔
تم اس گھر کی سیکوڑٹی ویڈیو مجھے دینا باقی میں ہنیڈل کر لو گی اتنا تو اپنے دیور کے لیے کر سکتی ہو ۔۔۔۔۔
مستقیم پھر سوچتا بول رہا تھا جب مرحا بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔
تم میرے ساتھ رہنا مجھ سے دور مت جانا ۔۔۔
مستقیم مرحا کا ماتھا چومتے بولا تھا ۔۔۔۔
اب تو ساری زندگی تمہارے ساتھ رہو گی ۔۔۔
مرحا بھی اپنا سر اُونچا کیے اس کا ماتھا چومتے بولی تھی ۔۔۔
بڑی بات ہے ٹڈی رومینس
کر رہی ۔۔۔
مستقیم مرحا کی حرکت انجواۓ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
جب محبت مل جاۓ تو رومینس بھی آ جاتا ہے سانڈ ۔۔۔
مرحا شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہا ٹڈی کیوں مجھ معصوم کو شوک دے رہی ہو ۔۔۔۔
مستقیم قہقہ لگاتا مرحا کو اپنے ساتھ لیٹا چکا تھا ۔۔۔
———————————————————-
زرجان صبح میں بھی جاٶ گی کورٹ ۔۔۔
یافی بیڈ پر آتی بولی تھی ۔۔۔
نہیں میری جان تم نہیں جا سکتی وہاں خطرہ ہے ا ۔۔۔۔
تم میری بات نہیں مانو گے جان ۔۔۔۔
یافی جانتی تھی جب بھی وہ اسے جان کہتی تھی زرجان سب کچھ بھولے صرف اس کی مناتا تھا ۔۔۔۔
جی میری جان جاۓ گی پر ایک شرط پر ۔۔۔
زرجان مسکراتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑے اپنے سینے پر گراے بولا تھا ۔۔۔
اسے دلی خوشی ہوئ تھی یافی اب ٹھیک ہو کر رہنے لگ گی تھی ۔۔۔۔
بولو جلدی ۔۔۔
یافی حامی بھرتی بولی تھی ۔۔۔۔
جب تمہارے وہ سانڈ جیسے بھائ ہوتے تمہارے ساتھ تم مجھ معصوم کی طرف نہیں دیکھتی ہو ۔۔۔
زرجان معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
اچھا صبح تمہیں ہی دیکھو گی او۔۔۔۔
یافی زرجان کی جنونی محبت دیکھتی مسکراتی بول رہی تھی جب زرجان نے اس کے لبوں پر لب رکھے تھے ۔۔۔
یافی اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی جانتی تھی وہ اب نہیں چھوڑنے والا ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہوا ہے مس لائف جو اتنا پریشان ہو ۔۔۔
صام آدھی رات کو اسٹڈی روم سے باہر آتا سامنے بیڈ پر اٹھ کر بیٹھتی روحا کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
جو بلیک نائٹ ڈریس پہنے بکھرے بال نیند میں ڈوبی گلابی آنکھیں برا سا منہ بناۓ بیٹھی تھی ۔۔۔
ہم کہاں پریشان ہے ۔۔۔
روحا دوبارہ لیٹتی دوسری طرف منہ کیے بولی ۔۔۔
سو جاٶ صبح کچھ نہیں ہو گا ریلکس رہو ۔۔۔
صام اس کے ساتھ لیٹا اس کے کندھے پر تھوڑی رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہممممم ۔۔
روحا آنکھیں بند کیے بولی تھی ۔۔۔
ارے میری جان کیوں پریشان ہو وہ قتل میں نے۔۔۔
صام آپ سوۓ گے یا نہیں بلکہ ہم ہی چلے جاتے ہے یہاں سے ۔۔۔
صام روحا کا رخ اپنی طرف کرتا بول رہا تھا جب روحا غصہ سے چیختی اپنا سرہانہ اٹھاۓ اسٹڈی روم کی طرف چلی گی تھی ۔۔۔
مس لائف میری جان میری ہارٹ بیٹ سنو تو یار ۔۔۔۔
صام بے بس ہوتا چلایا تھا ۔۔۔۔
جبکہ روحا روم لاک کیے وہی دروازے کے پاس نیچے بیٹھ گی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
اس انسان نے سونا نہیں ہے ۔۔۔
فجر کی آذان سنتی جب روحا اسٹڈی سے باہر آتی نماز پڑھنے آی تھی جب بیڈ پر لیپ ٹاپ یوز کرتے صام کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ساری رات نہ ہی روحا سوئ تھی نہ ہی صام روحا روم کی کی ہول سے دیکھتی رہی تھی اس کے جانے کے بعد صام لیپ ٹاپ یوز کرنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔
فکر نہ کرو میری جان صام آفندی کو کچھ نہیں ہو گا جب تک اس کی یہ سانس اس کے پاس ہے تب تک مجھے کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔
جاۓ نماز پر بیٹھی بلیک شارٹ شرٹ کپیری پہنے پانی سے بھیگا چہرہ کالے ڈوپٹے کے ہالے میں اس کا سرخ سفید چہرہ اپنی آنکھوں کو بند کیے وہ دعا مانگ رہی تھی جب صام بھی اس کے دعا مانگتے ہاتھوں کو پکڑے پاس جاۓ نماز پر بیٹھے اسی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا دعا مانگو ورنہ اللہٌ مجھ سے ناراض نہ ہوجاے ان کی بندی کو تنگ کر رہا ۔۔۔
روحا ویسے ہی آنکھیں بند کیے بیٹھی دعا میں مصروف تھی جب صام اس کی پلکوں کو نرمی سے چھوتے واپس اٹھ گیا تھا ۔۔۔
صام کے اٹھ کر جانے کے بعد روحا نے آنکھیں کھول کر دیکھا تھا جہاں بلیک شلوار کرتا سر پر نماز والی ٹوپی پہنے وہ باہر جا رہا تھا ۔۔۔
اللہٌجی صام ہمارے شوہر ہے چاہے جیسے بھی آپ ان کی حفاظت کرنا اور ہاں ان کے غصے کو کنٹرول کرنا ۔۔۔۔
روحا کے ہونٹوں پر دھیمی مسکان آئ تھی جبھی دوبارہ ہاتھ پھیلاۓ اس نے دعا مانگی تھی ۔۔
جبکہ آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ۔۔۔
————————————————————
یہ سوتیلی ناگن کیوں جاۓ گی ۔۔
مستقیم مرحا آہان ہیر زرجان یافی تیار کھڑے تھے کورٹ جانے کے لیے ۔۔۔
جب مستقیم بولا ۔۔
تیری بیوی کیوں جا رہی ۔۔۔
زرجان دانت پیستا ہوا بولا ۔۔
وہ تو وکیل ہے صام کی ا۔۔۔
یہ میری وکیل ہے اب چپ کر جا ۔۔۔
مستقیم مرحا کی طرف دیکھتا بول رہا تھا جب زرجان دو ٹوک بولا ۔۔۔
اگر مجھ سے یہ کام نہ ہوا پھ۔۔۔۔
مرحا نروس ہوتی بول رہی تھی جب مستقیم بولا ۔۔۔
سب اچھا ہو گا یار کیوں ٹیشن دے رہی ہو ۔۔۔
چلے بابا ۔۔۔
آفندی صاحب کو دیکھتے آہان بولا تھا ۔۔۔
تم سب جا رہے ہو لیکن بیویاں کیوں لے کر جا ۔۔۔۔
ارے بابا ہم ان کے بنا نہیں رہ سکتے تبھی ۔۔۔۔
زرجان آفندی صاحب کی بات کاٹتا دانت نکالے بولا تھا ۔۔۔
یافی ہیر مرحا کا شرم کے مارے چہرہ سرخ ہوا تھا ۔۔۔
صام کا اثر تم سب پر پڑ رہا ہے ۔۔۔
آفندی صاحب مسکراہٹ روکے باہر جا
تے بولے تھے ۔۔
————————————————————
صام آپ نے غصہ نہیں کرنا جج جو بھی کہے آرام سے سنا اور مستقیم لالہ آہان لالہ پر بھی غصہ مت کرنا مستقیم لالہ اور مرحا جو بھی کہے مان لینا ا۔۔۔۔
روحا میری جان کیوں پریشان ہو یار کچھ نہیں کرو گا تم ساتھ ہو گی میں قابو میں رہو گا ۔۔۔
روحا جو روم میں چکر لگاتی مسلسل بول رہی تھی جبکہ صام آئنیہ کے سامنے کھڑا صام اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا ۔۔۔
جب اس نے چلتی روحا کو قابو میں کیا تھا ۔۔۔
کیسے پریشان نہ ہو ہم نے دیکھا ہے سزا ملتی ہے پھانسی بھی ہوتی ہے چاہے ٹھرکی شوہر آپ لیکن شوہر تو ہے ۔۔۔۔
صام جو روحا کے بکھرے بالوں میں منہ دے اس کی خوشبو محسوس کر رہا تھا جب روحا اسے بالوں سے پکڑتی دور کرتی بولی ۔۔۔۔
اچھا یہ بتاٶ تم مانتی ہو وہ قتل میں نے کیا ہے ۔۔۔
صام اب اپنے لب اس کی گردن پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔
نہیں ہم نہیں مانتے یہ قتل آپ نے کیا تبھی تو پریشان ہے جیسے بھی سہی لیکن یہ گھیٹا کام آپ نہیں کر سکتے ۔۔۔۔
روحا اسے خود سے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
اور یہ تیار ایسے کیوں ہوۓ جیسے بزنس میٹنگ کرنے جا رہے آپ کورٹ جا۔۔۔۔
کیا کورٹ جانے والا ہو تو اپنے کپڑے پھاڑ دو یا مظلوم بن کر جاٶ اور کہو دیکھو میری طرف میرے ساتھ ظلم ہو رہا ۔۔۔
ارے میری مس لائف ایٹیٹوڈ کنگ صام آفندی نام ہے کوئ فقیر نہیں ہو اچھا آو چلے ۔۔۔
صام روحا کی بات کاٹتے اسے گود میں آٹھاے بولا تھا ۔۔۔۔۔
کیا ہے صام کبھی جو سیریس ہو جاۓ آپ ہر وقت رومنیس نہیں اچھا ہماری یہاں جان نکل رہی اور آپ ا۔۔۔۔۔
روحا جلدی سے اس کی باہوں سے نکلتی بول رہی تھی جب صام نے اس کے لبوں کو قید کیا تھا ۔۔۔۔۔
جان تو میں تمہاری نکالو گا اچھے طریقے سے ابھی یہ پریشانی ختم ہو جاۓ تمہارے باقول پھر بتانا جان نکلی کہ نہیں ۔۔۔
صام روحا کو دوبارہ اپنی گود میں آٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
روحا بس برے برے منہ بنا سکی تھی ۔۔۔
————————————————————
سر آپ کی گاڑیاں اندر نہیں جا سکتی ۔۔۔
دس بڑی گاڑیاں تھی گاڈز کی جبکہ ایک بڑی بلیک گاڑی میں صام اور روحا تھے جب کورٹ میں انٹر ہوتے گارڈ نے روکا تھا ۔۔۔
کیوں جب تمہارے اس گنجے جج نے مجھے لانے کے لیے دو پولیس وین بھیجی تھی تب میں نے کچھ کہا اب میں اپنی گاڑیوں میں آیا ہو تم لوگوں کی پولیس وین میں نہیں اب ہٹو سامنے سے ورنہ اُڑا دو گا ۔۔۔۔
صام بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
یہ لڑکا مجھے ذلیل کرواۓ گا آج۔
لوگ تو ڈرتے ہے جب قتل کا کیس ہو جاۓ لیکن اس کی اکڑ دن با دن بڑھتی جا رہی ہے ۔۔۔۔
کورٹ کے سامنے دس شاندار گاڑیاں انٹر ہوتی اور فرسٹ پر گیاہویں گاڑی کو روکتے باہر نکلتے بلیک شرٹ بلیک ہی پینٹ پہنے اپنے لمبے بال جو بڑے ہو کر شولڈر تک آ رہے تھے ان کی پونی بناۓ فون میں بزی سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لے صام کو دیکھتے آفندی صاحب غصے سے بولے تھے ۔۔۔
تو یہاں شادی پر نہیں آیا جو اتنی بررات لایا ہے ۔۔
پولیس یونفارم پہنے مستقیم نے پاس آتے صام کو دیکھتے کہا تھا ۔۔۔۔
کام کر یہاں دو ٹکے کے پولیس والے ۔۔۔
صام بنا دیکھے اندر جاتا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ روحا مستقیم کے سامنے شرمندہ ہو گی تھی ۔۔۔
لالہ آپ جانتے ہے یہ پاگل ہے عقل سے پیدل ۔۔۔
روحا منہ بناتی بولی تھی وہ دیکھ سکتی تھی مستقیم کتنے غصے سے صام کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
مسٹر صام آفندی آپ یہاں مجرم بن کر کھڑے ہے ۔۔۔
شہزاد کا وکیل کب سے بول رہا تھا جبکہ صام سب کو اگنور کیے دور بیٹھی روحا کے گلابی ہونٹ دیکھ رہا تھا جیسے وہ پریشانی سے چبا رہی تھی ۔۔۔
تبھی جج غصے سے غرایا تھا ۔۔۔۔
مجرم تو ثابت ہی نہیں ہوا میرا وکیل ابھی آنا ہے ۔۔۔
صام سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
کورٹ میں سب کا سانس روکا ہوا تھا کہ جج کیا فصیلہ کر ے گا جبکہ صام سکون سے کھڑا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
یو اونر یہ ثبوت ثابت کرتے ہے صام نے قتل کیا پر ایک فوٹچ ایسی ہے جس میں یہ واضح ہے صام آفندی اس رات اپنے گھر ہی تھے ۔۔۔۔
مرحا گہرا سانس لیتی جج کے سامنے کیس لڑ رہی تھی ۔۔۔۔
تو فوٹچ کہاں ہے ۔۔۔
جج بھی تھوڑا یقین کرتے بولے تھے۔۔۔
جی وہ آ رہی ہے ہمارے لالہ لا رہے کیا آپ ہمیں کچھ بریک دے گے ۔۔۔۔
مرحا پریشان ہوتی بولی تھی کیونکہ وہ فوٹچ آہان اور ہیر کے پاس تھی جو ابھی تک نہیں آے تھے ۔۔۔
مس مرحا آپ ٹائم ویسٹ کر رہی ہے کب سے بار بار ایک ہی بات کو گھوما رہی ہے اب یہ نیا شوشا چھوڑ ا۔۔۔۔
ڈی ای جی سر میں بھی تو کب سے کھڑا ہو تو چپ کر میری بھابھی کو کام کرنے دے اتنا نہ تڑپ ۔۔
ڈی آی جی جو بے تاب ہوتا بول رہا تھا جب صام دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
اس کی سرخ گرین آنکھیں دیکھتے ڈی آی جی چپ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
نہیں مسٹر صام آپ میرا ٹائم ویسٹ کر چکے ہے اب اور نہیں آپ پولیس کی حراست میں رہے گے آپ یہ ملک بھی چھوڑ کر نہیں جا سکتے ۔۔۔
جو فوٹچ آپ لوگ دیکھانا چاہتے ہے وہ مجھے سنیڈ کر دے کیونکہ آخری فصیلہ تب ہی کرو گا ویسے آپ حراست میں ہے ۔۔
جج صاحب ڈی ای جی کے اشارے پر فصیلہ کرتا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا جبکہ سب کے سانس رک چکے تھے ۔۔۔
شکر جان چھوٹ گی اچھا دلبر جانی میری ٹکٹ کرواو جرمنی کی ڈی ڈی کو چھوڑنے جانا ۔۔۔
صام لاپرواہ سا ہوتا سب کے پاس آتا بولا تھا ۔۔
پولیس کی حراست میں ہو کیوں ۔۔
اففف بابا کچھ نہیں ہوا یہ جج بھی ملا ہوا ہے آپ سب گھر چلے اب ۔۔
آفندی صاحب پریشان ہوتے بولے تھے جب صام سکون سے بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
کیوٹ لیڈی باس یہ کیا ہوا صام ا۔۔۔
ششش انیجل میری جان کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہ۔۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہ۔۔۔
کورٹ روم سے سارے نکل چکے تھے بس یافی اور روحا یا کچھ پولیس والے اندر تھے جب کچھ دہشتگرد اندر انٹر ہوتے گولیاں چلائ تھی ۔۔۔
ہر طرف شور شربا ہو چکا تھا ۔۔۔
پکڑو اسے وہ رہی بلیک بیوٹی ۔۔۔
چار پانچ دہشتگرد کانپتی روحا کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
چھوڑو چھوڑو انیجل کو ۔۔۔
یافی چیخی تھی ۔۔۔
یافی کی آواز سنتے زرجان اور مستقیم انٹر ہوۓ تھے ۔۔۔
ہم جانتے ہے یہ صام آفندی کی بیوی ہے جیسے اس نے ہمارے سر کو موت دی ویسے ہم بھی صام کی موت چاہتے ہے ۔۔۔
چار دہشتگرد روحا کو بازوں سے پکڑے غصے سے غراے تھے ۔۔۔
تم لوگ جانتے ہو صام نے وہ قتل نہیں کیا ۔۔
مستقیم اور زرجان اپنی گن لوڈز کرتے بولے تھے ۔۔۔
صام کو بلا۔۔۔۔
ابےےےےت اوووو گدھوں کیوں بھونک رہے ہو یہی ہو بتاٶ کیا کرو گے چھوڑو مس لائف کو ۔۔۔
صام کی رعب دار آواز گونجی تھی ۔۔۔
سامنے آو پھر پتہ چلے گا کون گدھا ہے ۔۔۔
ان میں سے ایک دہشتگرد چلایا تھا ۔۔۔۔
ہاں لو آ گیا ۔۔۔
ص۔صام۔۔۔۔
روحا اپنے سامنے آتے صام کو دیکھتی ہکابکا ہوتی چلائ تھی ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہوا آہان گاڑی کو ۔۔۔
آہان اور ہیر کورٹ کی طرف جا رہے تھے جب اس کی گاڑی روکتے دیکھ ہیر بولی ۔۔
یہ پولیس نے کیوں روکا ہے ۔۔
آہان پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
سر آپ لوگ آے نہیں جا سکتے کورٹ کو چاروں طرف سے دہشتگرد اور پولیس و آرمی نے گھیرا ہے ۔۔۔
ایک پولیس والا جلدی سے آہان کی گاڑی کے پاس آتا بولا تھا ۔۔۔
لگتا تم جانتے نہیں میں کون ہو اور میرا پورا خاندان وہاں ۔۔
سوری سر میں جانتا ہو آپ کون ہے لیکن اوپر سے آڈر آۓ ہے ہم نہیں جانے دے سکتے ۔۔۔
پولیس والا جلدی سے بولا تھا ۔۔۔
اب کیا کرے یہ جانے نہیں دے گے ہمیں پہلے ہی پتہ تھا ان دہشتگردوں کا ٹارگٹ صام ہے لیکن یہ لڑکا مانتا ہی نہیں ۔۔
آہان اب پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
تم کیا ۔۔۔
روکو ابھی بتاتی آپ بس جلدی سے گاڑی بھاگا لینا ۔۔۔۔
آہان ہیر کی طرف دیکھتا بول رہا تھا جو اپنا ڈوپٹہ اتارۓ اپنی شرٹ کے اندر ڈال رہی تھی ۔۔۔
اوےےے سڑک چھاپ پولیس والے ہم نے ہاسپٹل جانا ہے جانے دو دیکھو میرے پین ہو رہا ۔۔۔
آہہہہہہ اہہہہ۔۔۔
ہیر پولیس والے کو بلاتی اپنا ڈرامہ سٹارٹ کر چکی تھی ۔۔۔
آہان ہیر کی کارستانی منہ کھولے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کیا زیادہ ہو رہا آپ لوگوں کو نہیں پتہ تھا کیا اس راست۔۔۔
ہمیں جانے دو دیکھو اہہیی ۔۔۔آہہی ہہی میرا بچہ اگر مر گیا تو دیکھنا تم سب کو جیل بھیج دو گی ۔۔۔
پولیس والا ہیر کی حالت دیکھتا ترس کھاتا بول رہا تھا ۔۔۔
جب ہیر چہرے پر درد کے تاثرات لاے بولی تھی ۔۔
آہان ہیر کا اتنا بڑا ڈرامہ دیکھتے ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہ جانے دو میرا بچہ تجھے دعا دے گا ۔۔۔
ہیر پولیس والے کو سوچ میں ڈوبا دیکھ پھر چلاتے بولی تھی ۔۔۔
اچھا اچھا بہن جاٶ اگر دہشتگرد والوں نے پکڑ لیا تو ہمارا قصور نہیں ۔۔۔
پولیس والا جلدی سے جان بچاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ارے چلاۓ گاڑی مجھے پین ہو رہا آہہہ اہہہہ۔۔۔
ہیر آہان کو ہکابکا دیکھتی کہنی مارتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہاااہااایاایاییاااہاہاااہ۔۔۔
میں سوچ نہیں سکتا تھا تم ایسی بھی ہو یار ۔۔۔
تھوڑا دور جاتے آہان کا قہقہ گونجا تھا جبکہ ہیر بھی مسکراتی اپنی شرٹ سے باہر ڈوپٹہ نکال رہی تھی ۔۔۔
ہاں تو ہیر آہان آفندی نام ہے میرا کوئ چھوٹی بات نہیں ۔۔۔
ہیر بھی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
