339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 20)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

ہاہاہاہاہاہاہاہااہا۔۔۔۔

کیا ہوا سر آپ بہت خوش لگ رہے ۔۔

فرحان کا خاص آدمی اندر آتے اس کا قہقہ سنتے وہ بولا تھا ۔۔

مسٹر صام آفندی آہستہ آہستہ اپنی موت کے قریب جا رہا ہے اور اس کو پتہ ہی نہیں ۔۔۔

فرحان طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔

لیکن کیسے سر ۔۔

آدمی نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔

بس پتہ چل جاۓ گا پھر ہو گی صام کی موت اور بلیک بیوٹی میری باہوں میں ۔۔

ویسے بہت یقین ہے صام اور روحا کو ایک دوسرے پر بہت جلد یہ بھی ٹوٹ جاۓ گا ۔۔۔

فرحان اب روحا کی پک دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

صام کو ہم موت کیسے د۔۔۔۔

نہ نہ صام کو موت ہم نہیں بلیک بیوٹی دے گی وہ بھی بہت جلد۔۔۔

فرحان اپنے آدمی کی بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔

سر آپ جانتے ہے روحا کالی نہیں بلکہ وہ۔۔۔

آدمی کو سمجھ کچھ نہیں آیا تھا تبھی بات بدلتے وہ بولا تھا ۔۔۔

ہاں جانتا ہو وہ کالی نہیں اب تو میرا جنون بن چکی ہے بلیک بیوٹی جسے میں ہر حال میں حاصل کرو گا ۔۔۔

بس کچھ دن پھر ہو گی صام کی موت اور روحا میرے پاس آۓ گی ۔۔

فرحان گہری سوچ میں ڈوبا ہوا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

انیجل تھوڑا سا کھا لو پلیز ۔۔

یافی روحا کی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔

دو دن ہو چکے تھے روحا جب سے آہان کے ساتھ واپس گھر آئ تھی بلکل چپ سی ہو گی تھی ۔۔۔

نہ بول رہی تھی نہ ہی کچھ کھا رہی تھی ۔۔۔

تبھی وردہ بیگم نے آج یافی کو گھر بلایا تھا وہ روحا کو کچھ کھلا سکے ۔۔۔

لیکن روحا ویسے ہی بیٹھی تھی ۔۔۔

ہمارا دل نہیں کر رہا کیوٹ لیڈی باس ۔۔۔

روحا واپس بیڈ پر لیٹتی بولی تھی ۔۔۔

دیکھو انیجل کچھ ہوا ہے تو بتاٶ مجھے میں ۔۔۔

نہیں سب ٹھیک ہے آپ ٹیشن نہ لے یہ بتاۓ ترکی سے واپس کیوں آ گے ۔۔۔۔

روحا یافی کے ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔

انیجل تمہیں بخار ہے ۔۔

یافی روحا کے گرم ہاتھ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

نہیں یہ ایسے ہی رہتے ہے اچھا چلے باہر جاتے ہے جان لالہ آے ہے ۔۔۔

روحا بیڈ سے آٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاں چلو ۔۔۔

یافی اسے پکڑتی باہر جاتے بولی تھی ۔۔۔

دو دن سے روحا روم سے باہر ہی نہیں نکلی تھی ۔۔۔

———————————————————–

بڑی بات ہے لالہ بڑے خوش ہے میں نے کافی عرصے بعد آپ کو اتنا خوش دیکھا ہے ۔۔۔

صام آہان کو گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔

جو ہر احمد کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔۔۔۔

ہاں تو خوش نہیں ہو سکتا کیا ۔۔۔

آہان اپنی گرین آنکھوں میں مسکراہٹ لاۓ سامنے آتی روحا کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

ہو سکتے ہو یار یہ بس پاگل ٹھرکی سب پر شک کرنے لگ جاتا ہے ۔۔۔

زرجان آہان کے کندھے پر ہاتھ رکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

تم بتاٶ ہنی مون پر گے تھے تو واپس کیوں آ گے تھوڑا ہمیں بھی سکون رہنے دیتے اس چوفی سے ۔۔۔

صام یافی کی طرف دیکھتا مذاق کرتا بولا تھا ۔۔

ابھی رہنا تھا پر امی کی طیعبت ٹھیک نہیں تھی اور آج انیجل کی بس تبھی واپس آ گے کیوں یافی میں ٹھیک کہہ رہا ۔۔

یافی جو زرجان کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تھا اسے کمر سے پکڑتا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ج۔جی صیح کہہ رہے ۔۔۔

یافی اپنی کمر پر اس کا ہاتھ محسوس کرتی گھبراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

مس لائف کیا ہوا ہے میری جان کو اتنی خاموش کیوں ہو ۔۔۔

صام روحا کو اپنے پاس کھڑا دیکھتا وہ پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔

پتہ نہیں ۔۔۔

روحا خاموشی سے صام کے قریب بیٹھتی اس کے کندھے پر سر رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

پتہ نہیں کا مطلب ہوتا تمہیں کچھ پتہ ہے بس تب بتاٶ گی جب دل کرے گا ۔۔

صام کو خوشی ہوی تھی روحا اس کے قریب بیٹھی تھی ۔۔۔

لو ٹھرکی کچھ نہیں کہے گا اب انیجل آ گی اس کے پاس ۔۔۔

چاروں کب سے باتیں کر رہے تھے جبکہ روحا خاموشی سے آنکھیں بند کیے ویسے ہی سر رکھے بیٹھی تھی جبکہ صام بھی بس اسے کے چہرے کو مسلسل دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔

ہاں تو تم لوگ اس چونے کے ساتھ کھیلو ۔۔

صام برے سا منہ بناۓ بولا تھا ۔۔۔۔

مس لائف میں سوچ رہا تھا اس چونے کو اپنے روم میں نہیں آنے دے گے ۔۔۔

صام اپنی عادت سے ہٹ کر بولا تھا ۔۔۔

روحا اگنور کیے بیٹھی رہی ۔۔۔

چل چپ کر اگر تیری بیوی نہیں منہ لگا رہی ۔۔۔

زرجان مذاق کرتا بولا تھا ۔۔۔

ڈبل زی چپ کرو ورنہ مجھے جانتے ہو ۔۔۔

صام اپنی سرخ گرین آنکھوں سے گھورتا ہوا بولا تھا ۔۔

ہمممم۔۔۔۔

زرجان بلکل چپ کر گیا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

میری بیٹی کتنی پیاری ہے کتنا خیال رکھتی ہے ۔۔۔

رابعہ بیگم یافی کا ماتھا چومتی ہوئ بولی تھی جو ان کے لیے سوپ بنا کر لائ تھی ۔۔۔

میں اس لیے پیاری ہو کیونکہ میری امی بہت پیاری ہے ۔۔۔

یافی ان کے ہاتھ چومتی

ہوئ بولی تھی ۔۔۔

یہ غلط امی بیٹے کو بھول ہی گی جب بیٹی آی ۔۔۔

زرجان روم میں آتا منہ بناتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جبکہ یافی کا منہ بن چکا تھا زرجان کو دیکھتے جیسے رابعہ بیگم محسوس کر گی تھی ۔۔۔

امی میں آتی ہو کچن سے ۔۔۔

یافی زرجان کی گہری نظروں سے بچتی وہاں سے جان بچاتی بھاگی تھی ۔۔۔۔

جان بیٹا کچھ ہوا کیا ہاے میں بھی کیا بول رہی ظاہر سی بات ہے ترکی گے تھے لگتا یافی تم سے ناراض ہو گی میری ہی غلطی تھی کہ۔۔۔۔۔

ارے ارے امی کیا ہو گیا ہے ویسے بھی یافی کا موڈ نہیں تھا ترکی جانے کا میں زبردستی لے کر گیا تھا اسے برا نہیں لگا بس انیجل کے لیے پریشان ہے وہ ۔۔۔

زرجان رابعہ بیگم کو پر سکون کرتا بولا تھا ۔۔

یہ کون ہے کوئ کارٹون ہے ۔۔۔

رابعہ بیگم حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔

ہاہاہااہااا اس ٹھرکی کی بیوی ہے ۔۔۔

زرجان قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔

اچھا کھڑوس نے شادی کر لی ویسے وہ ویسا ہی ہے کیا عرصہ ہو گیا میں نے نہیں دیکھا ۔۔۔

رابعہ بیگم مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

جی اس سے زیادہ کھڑوس بن چکا ہے اور صرف انیجل کے سامنے بولتا ہے ۔۔

زرجان اب انہیں صام اور روحا کی باتیں سنانے لگ گیا تھا ۔۔

———————————————————–

یار مانی میں سوچ رہا تھا۔۔۔

واہ۔ہ۔ایس پی صاحب سوچتے بھی ہے ۔۔۔

مستقیم کچھ سوچتا بول رہا تھا جب منان بات کاٹتا بولا تھا ۔۔

ہاہہہاہا بڑی ہنسی آی مجھے اتنے ہلکے میں مت لیا کرو ۔۔۔

مستقیم منہ بناتا ہوا بولا تھا ۔۔

ہلکے میں تو واقعی تجھ نہیں لے سکتے گنڈے جیسے ہو ۔۔۔

منان اس کے کسرتی جسم پر طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

میں گنڈا کم ہو مانی اس ٹھرکی کو دیکھا ہے پورا سانڈ لگتا ہے ہاے میں بڑا ہو اس سے پھر بھی وہ ایک انچ مجھ سے بڑا ہو گیا۔۔۔

مستقیم اپنا پرانا دکھ لیتا بولا تھا ۔۔۔

اچھا کیا سوچ رہے تھے ۔۔۔

منان سیریس ہوتا بولا تھا ۔۔۔

تم ہانیہ کو بتا دو اس دن جو اسے چہرے پر تیزاب گرا تھا وہ تمہارے ہاتھوں سے گرا تھا ۔۔۔

مستقیم سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

بتا تو دو لیکن وہ یقین نہیں کرے گی وہ یہی سمجھے گے میں نے جان بوجھ کر گرایا تھا ۔۔۔

جبکہ تم جانتے ہو وہ غلطی سے گرا تھا ا۔۔۔

رنگ رنگ رنگ۔۔۔۔

منان جو پریشان ہوتا بول رہا تھا تبھی اس کا فون رنگ ہوا تھا ۔۔۔۔

واٹ ٹٹ۔۔۔

یہ غلط ہے کوئ ثبوت ہے کیا ہم کیس۔۔۔۔

اوکے سر ہم ویٹ کر لیتے ہے ۔۔۔

منان جو فون سنتا پریشان ہوتا بول رہا تھا جب ڈی ای جی صاحب بولے تھے تبھی منان چپ ہو گیا تھا ۔۔۔۔

یہ کیا بکواس ہے منان تم جانتے ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا پھر بھی ا۔۔۔۔۔

ریلکس مستقیم ہمارے ہوتے صام کو کچھ نہیں ہو گا تم ٹیشن مت لو ۔۔۔

منان مستقیم کو ساری بات بتا چکا تھا جب وہ طش سے چلایا تھا ۔۔۔۔

کیسے ریلکس رہو یار ایک دفعہ صام کو کھو چکے ہے ہم سب انیجل کی وجہ سے وہ تھوڑا ہنس بول لیتا ہے اور اب یہ سب سے زیادہ انیجل کیا ری ایکٹ کرے گی ابھی ہی تو وہ خوش رہنے لگی تھی اففففف پتہ نہیں کیا ہو گا ۔۔۔۔۔

مستقیم پریشان ہوتا سر پکڑے بولا تھا ۔۔۔

تم جانتے ہو صام کیسا ہے وہ ہینڈل کر لے گا میں بلاتا ہو اسے ۔۔۔۔

منان اسے پر سکون کرتا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

آہہہ آہہہ۔۔۔

یافی جو کچن میں کھڑی رات کے لیے کھانے میں مصروف تھی جب پیاز کاٹتے اس کا ہاتھ کاٹ ہوا تھا ۔۔۔

تبھی وہ درد سے چلائ تھی ۔۔۔

کیا ہوا یافی ۔۔۔

زرجان اس کی چیخ سنتے کچن میں آتا فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔۔

ک۔کچھ نہیں ۔۔۔

یافی نے اس سے نظریں چڑائ تھی کیونکہ وہ شرٹ لیس ویسے ہی آیا تھا ۔۔۔۔

کیا کچھ نہیں ہوا ہاتھ کاٹ کروا لیا تم نے ۔۔۔

زرجان جلدی سے اس کا خون آلود ہاتھ پکڑتے بولا تھا ۔۔۔

چھوڑو مجھے می۔۔۔

شششش ایک لفظ بھی نہیں نکالو گی ورنہ زبان کاٹ دو گا ۔۔۔۔

یافی اپنا ہاتھ چھڑواتے بول رہی تھی جب زرجان ایک ہی جٹھکے میں اسے کچن شیلف پر بیٹھاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

میں کر سکتی ہو زرجان ۔۔

یافی اس کا پریشان چہرہ دیکھتی زرا غصہ سے بولی تھی ۔۔۔

میرے ساتھ نفرت کرو یا کچھ بھی پر امی کے سامنے اچھے سے رہو تم سمجھی ورنہ میں زبردستی کرنے پر مجبور ہو جاٶ گا ۔۔۔

زرجان اس کے ہاتھ سے خون صاف کرتا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔

ہاں تو چھوڑ دو اگر اتنا تنگ ہ ۔۔۔۔۔

تنگ تو تم ہو گی ابھی اور اسی وقت یافی جان دیکھنا ابھی تم بولتی پلیز جان چھوڑ دو ۔۔۔

زرجان اس کے ہاتھ پر مرہم لگا چکا تھا زخم اتنا گہرہ نہیں آیا تھا تبھی اپنے ہاتھ کی انگلی یافی کے ڈمپل پر رکھتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہہاہ بکواس یہی انگلی کھا جاٶ گی تم درد سے تڑپو گے ۔۔۔

یافی قہقہ لگاتی زرجان کی انگلی دانتوں میں لیتی طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔

زبردست یہ تو اچھا ہے ۔۔۔

زرجان کو فکر ہی نہیںہوئ یافی اس کی انگلی کو قابو کیے بیٹھی تھی جبکہ سکون سے قینچی آٹھاتے اس کی شرٹ کے بازو کاٹنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔

ہاں یہی کرو گے جب بے بس ہو گے ۔۔۔

یافی اس کی انگلی پر دباٶ ڈالتی دانت پیستی بولی تھی اسے فرق نہیں پڑا تھا زرجان اس کی شرٹ کاٹ رہا تھا ۔۔۔۔

ہاں وہی ابھی تو سٹارٹ کیا میں نے ۔۔۔

زرجان اپنے ایک ہاتھ سے اب دوسرا بازو کاٹتے مسکرایا تھا ۔۔۔۔

ز۔ر۔جان نہیں ۔۔

یافی اپنے پیٹ پر قینچی محسوس کرتی اس کی انگلی کو چھوڑے گھبراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اففف یافی جان میں نے کچھ کیا ہی نہیں ۔۔۔

زرجان شرٹ کو اب درمیان سے کاٹتا یافی کو پکڑتا قریب لا چکا تھا ۔۔۔۔

چ۔چھو۔چھوڑو جان ورنہ مار دو گی ۔۔۔

یافی اپنی شرٹ کو پورا کاٹتا محسوس کرتی زرجان کو بالوں سے پکڑتی چلائ تھی ۔۔۔۔

مار تو تم نے اسی دن دیا تھا جب ان گلابی ہونٹوں سے طلاق مانگی تھی اب اتنی سزا تو بنتی ہے یافی جان ۔۔۔

زرجان اب پوری شرٹ کاٹتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔

یہ غلط ہے زرجان میں نے بس طلاق مانگی تھی لیکن تم چھوڑو مجھے۔۔۔۔

یافی نے جب محسوس کیا شرٹ شولڈر سے سرکتی نیچے آ رہی ہے جلدی سے زرجان کے سینے لگے وہ آنسو لاتی بولی تھی ۔۔۔۔

اب بتاٶ کون بے بس ہوا ایسا تم نے مجھے کیا ہے یافی پر مجبور ہو میں اتنا بے حس نہیں بن سکتا ۔۔۔

زرجان یافی کو گود میں آٹھاۓ اب روم میں جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وہ اپنے سینے پر یافی کے آنسو محسوس کر سکتا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

میرے خیال سے میں غلط گھر آ گیا ہو ۔۔۔

منان ہال میں انٹر پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔

پورے ہال کو گلاب سے سجایا گیا تھا ہر جگہ موم بتی جلائ گی تھی ۔۔۔

ہاہاہاہ تم صیح گھر آۓ ہو ۔۔۔

ہانیہ قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

منان سامنے ہانیہ کو اتنا تیار دیکھتا حیران رہ گیا تھا ۔۔۔

جہاں وہ بیلو نیٹ کی فراک پہنے جو پاٶں تک آتی تھی اپنے بالوں کا بن بناۓ ہلکے میک اپ سے وہ مسکراتی ہوئ منان کو ہگ کرتی بولی تھی ۔۔۔

شاہد کہی جانا تھا جو اتنا تیار ہوئ ہو ۔۔۔

منان ابھی بھی شوک ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

کیا ہے مانی تمہارے لیے تیار ہوئ تھی کتنے بور ہو تم ۔۔۔

ہانیہ برا سا منہ بناۓ دور جاتی بولی تھی ۔۔۔

کیا میں بور ہو وا۔ہ۔ہ۔ہ۔ابھی بتاتا ہو کتنا بور ہو میں ۔۔۔

منان مسکراتا ہوا ہانیہ کو قابو کیے بولا تھا ۔۔۔

ویسے یہ شکریہ کہا ہے تمہیں ۔۔۔

ہانیہ منان کے گال پر لب رکھتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کس چیز کا شکریہ ۔۔۔

منان اپنے لب ہانیہ کی گردن پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔

میری زندگی میں آنے کا شکریہ ۔۔

ہانیہ شرماتے ہوۓ اس کے سینے میں منہ چھپاۓ بولی تھی ۔۔۔

منان یہ لفظ سنتے اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔

سچی کیا ہانیہ ۔۔۔

منان ہانیہ کو گود میں آٹھاۓ روم کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔

جی سچی میں چاہتی ہو ہم اپنی زندگی کی شروعات کرے ۔۔۔

ہانیہ ہمت جمع کرتی بول ہی گی تھی ۔۔۔۔

شکریہ میری جان میں کبھی بھی تمہاری مرضی کے بنا قریب نہیں آنا چاہتا تھا ۔۔۔

منان ہانیہ کو بیڈ ہر لٹاۓ اس کے اوپر جھکے خوشی سے بولا تھا ۔۔۔

ویسے بھی یہ تمہارا حق ہے منان میں تمہیں نہیں رک سکتی ۔۔۔

ہانیہ نیم رضامندی سے منان کی گردن میں بائیں ڈالے بولی تھی ۔۔۔۔

میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھو گا شکریہ میری جان ۔۔

منان ہانیہ کا چہرہ دیوانہ وار چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ویسے محبت بھی کرتی ہو یا نہیں ۔۔۔

منان اپنا چہرے ہانیہ کے چہرے کے قریب لاتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

محبت تو چھوٹا لفظ ہے مجھے تم سے عشق ہوا ہے کوئ ایسا مرد نہیں ہوتا جو اپنی جلے چہرے والی بیوی رکھے اور پیار بھی کرے تم نے ہمیشہ مجھے محبت دی اب میرا فرض ہے میں تمہیں تمہارا حق دے سکو ۔۔۔

ہانیہ منان کی آنکھوں کو چومتی آج محبت کا اظہار کر چکی تھی ۔۔۔۔

تم بہت اچھی ہو تبھی میں بھی ایسا ہو ۔۔۔

منان اپنے لب ہانیہ کے لبوں پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔

ہانیہ آنکھیں بند کیے منان کا لمس اپنے پورے جسم پر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔

جیسے جیسے منان اپنے عمل سے اسے بتاتا وہ اسے کتنی محبت کرتا ہے ہانیہ اتنا ہی شرما جاتی ۔۔۔۔

————————————————————

روحا میری جان مائ مس لائف کیا ہوا ہے کیوں اتنی خاموش ہو اتنا اداس کیوں یار ۔۔۔

صام روم میں آتا روحا کو خاموش بیڈ پر دیکھتے بولا تھا ۔۔۔

روحا بس اگنور کیے بیٹھی رہی ۔۔۔

اچھا سنو میری بات مجھے بھوک لگی ہے کھانا دو ۔۔۔

صام پاس جاتا بچوں جیسی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ جانتا تھا وہ بنا کھاۓ ہی روم میں بیٹھی تھی ۔۔۔

رضیہ کو کہے وہ دے گی کھانا ۔۔۔

روحا سپاٹ چہرہ لیے کہتی بولی تھی ۔۔۔

نہیں وہ نوکررانی کیوں دے کھانا بیوی تم ہو چلو دو ۔۔۔

صام زبردستی اسے آٹھاتے بولا تھا ۔۔۔

کیوں تنگ کر رہے ہے جاۓ یہاں سے دماغ خراب کر دیتے ہے ہر وقت چپکے رہتے ہے جان چھوڑے ہماری ہمیں تو سمجھ نہیں آتی سب کو ایٹیٹوڈ دیکھاتے ہے تو ہمارے سامنے کیوں اتنے آرام سے بولتے ہے ۔۔۔

ڈرامہ ٹھرکی پن آپ کا ۔۔۔

روحا ایک دم سے غصہ سے پھٹ پڑی تھی ۔۔۔

صام اتنا کچھ سنتا چپ چاپ اسٹڈی روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

السلام و علیکم آپ مجھے بتاۓ گے مس لائف ایسی کیوں ہوئ ہے دو دن سے دیکھ رہا وہ ایسے بن گی ہے جیسے بت ہو نہ کھا رہی ہے نہ ہی بول رہی ہے آپ جانتے ہے میں بس مس لائف کی آواز سننے کے لیے اتنا تنگ کرتا ہو اسے اب وہ خاموش ہو چکی ہے کچھ بتاۓ مجھے ۔۔۔

صام فون ملاتا ایک ہی سانس میں بول آٹھا تھا ۔۔۔۔

اچھا کیا واقعی وہ اپنے دل کی بات بتا دے گی ۔۔۔

صام جس سے بات کر رہا تھا جب اس کی بات سنتا وہ بولا تھا ۔۔۔

چلے شکریہ میں ایسا ہی کرو گا ۔۔۔۔

صام خوش ہوتا فون کاٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔

———————————————————–

سنیڈوچ اور جوس اب شرافت سے کھا لے ہمارا دماغ مت کھانا ۔۔۔

صام جو لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا جب روحا اسٹڈی روم میں کھانے کی ٹرے لاتی غصہ سے ٹیبل پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔

صام ہم آپ سے بات کر رہے اگر نہیں کھانا کھایا تو روم میں مت آنا سمجھے۔۔۔

صام اگنور کیے لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا جب روحا دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اچھا کھا رہا ہو کھانا تم نے کھایا ۔۔۔

صام جلدی سے سنیڈوچ لیتا اسے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

روحا بنا کوئ جواب دے ویسے ہی کھڑی تھی ۔۔۔

بلیک کلر کا کرتا پہنے ساتھ کپری براٶن بالوں کو کھلا چھوڑے ڈراک براٶن سرخ آنکھیں اور ناک لیے روحا غصہ سے اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔

مس لائف یہ یمی نہیں ہے یار نہ ہی کوئ نمک مرچ ۔۔

صام برا سا منہ بناۓ بولا تھا ۔۔۔

کیوں وجہ کھاۓ آرام سے ۔۔۔

روحا ویسے ہی منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

نہیں یمی خود کھاتی تو پتہ چلتا مجھے ہی بولے جا رہی ہو ۔۔۔

صام برا سا منہ بناۓ پھر بولا ۔۔۔

لاۓ ہمیں دے ہم کھا کے دیکھتے ہے ۔۔

روحا صام پر ترس کھاتی پاس جاتے بولی تھی ۔۔۔

بکواس کروا لو آپ سے اتنا اچھا ہم نے بنایا تھا اور یمی بھی ات۔۔۔

روحا پاس بیٹھتی سنیڈوچ کھاتی بول رہی تھی جب صام اسے گردن سے پکڑتے اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

روحا غصہ سے دھکا دیتی پیچھے ہوئ تھی جب صام نے دوبارہ اسے قابو کیے صوفے پر لیٹاتے خود اوپر آیا تھا ۔۔۔

یمی اب ہوا سنیڈوچ میں نے آج تک ایسا یمی سنیڈوچ نہیں کھایا مس لائف ۔۔۔۔

صام روحا کے لبوں پر لگی کچیپ کھاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

کوئ انتہا کے ٹھرکی ہے ہم ہی پاگل جو ہر دفعہ پاس آ جاتے ہے ۔۔۔

روحا غصہ سے اسے دھکا دیتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

اچھا ایک اور کھانا تھا رکو بات تو سنو مس لائف ۔۔۔

صام اسے پیچھے سے آوازیں دیتا بلا رہا تھا جبکہ روحا اگنور کیے وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

مس لائف کیا پریشانی ہے جو کروٹ پر کروٹ چیج کر رہی ہو ۔۔۔

صام شرافت سے روم میں آ چکا تھا جبکہ روحا خاموشی سے آنکھیں بند کیے لیٹی تھی صام نے اسے تنگ کرنا ضروری نہ سمجھا تھا تبھی وہ فون پر بزی تھا ۔۔۔

جب بار بار روحا کروٹ چیج کر رہی تھی ۔۔۔

روحا کیسے بتاتی اسے عادت ہو گی تھی صام کے سینے پر سر رکھ کے سونے کی لیکن آج صام بھی اس کے قریب آتے نہیں لیٹا تھا ۔۔۔

تبھی وہ کروٹ چیج کر رہی تھی ۔۔۔۔

اچھا یہاں آو سر دبا دو ۔۔۔

صام سمجھ گیا تھا اس کی حالت تبھی مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

اب بتاٶ کیا ہوا مجھ سے شیئر کرو مس لائف شوہر نہ سہی ایک دوست ہی سمجھ لو مجھے ۔۔۔

صام روحا کو خودی پکڑتے اپنے قریب لاتے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

تم جانتی ہو میں نے کبھی کسی چیز کی ٹیشن نہیں لی ایٹیٹوڈ بواۓ جو تھا اتنا کچھ کیا لائف میں لڑائ جھگڑا سب ۔۔۔

لیکن اگر میں پریشان ہوتا ہو تو تمہاری یہ اداس آنکھیں دیکھتے دو دن سے دیکھ رہا تم پریشان ہو کوئ دل میں بات ہے شیئر کرو مجھ سے ۔۔۔

صام روحا کی آنکھیں چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ہمیں نیند آ رہی ۔۔۔

روحا روکھے پن سے کہتی خودی اپنا سر صام کی گود میں رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

ہیر آپی اور ہم دونوں خوبصورت تھی ۔۔۔

ہیر آپی اکثر ہمیں کہتی تھی تم خوبصورت ہو بلا بلا۔۔۔۔ہم ہنستے تھے ۔۔

لیکن جو ہمارے گھر کی رونق تھی اسے نظر لگ گی جہاں ان کی ہر وقت ہنسی گونجتی تھی وہاں ان کی خاموشی رہنے لگ گی تھی۔۔۔

ہم بہت پریشان تھے ایک دن آپی سے پوچھا تو پتہ چلا وہ کسی کی ہوس کا نشانہ بنی تھی ۔۔۔

صام جو روحا کے چہرے پر نرمی سے اپنی انگلیاں چلا رہا تھا جب روحا آپنی آنکھیں کھولتی صام کی ڈراک گرین آنکھوں میں دیکھتی بولی ۔۔۔

پھر کیا ہوا ہیر آپی کے ساتھ ۔۔۔

صام سردپن لیے بولا ۔۔۔

ابھی ہم اسی شوک میں تھے جب آپی نے بتایا وہ ماں بنے والی ہے ۔۔۔۔

ہمارا دل کیا پھوٹ پھوٹ کر روے لیکن اگر ہم ہمت ہار دیتے تو ہیر آپی کا کیا ہوتا یہی سوچ کر ہم ملتان فارم ہاوس چلے گے ۔۔۔

وہاں رہے ہماری آپ سے ملاقات ہوئ پھر پتہ چلا آپ پاپا کے دوست کے بیٹے ہے آہان لالہ مستقیم لالہ یافی آپی سب کا پتہ تھا ہمیں ۔۔۔

ہیر آپی نے احمد کو جنم دیا وہ دن ہمارے لیے خوشی کا دن تھا ہم بتا نہیں سکتے ۔۔۔

روحا آنسو بہاتی بولی ۔۔۔

و۔وہ۔آہان لالہ کا بیٹا ہے ۔

صام حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔

لیکن اسی دن ہیر آپی نے خودکشی کر لی وہ ہمیں اکیلا چھوڑ کر چلی گی صام ابھی تو ہم خوش بھی نہیں ہوۓ تھے ۔۔۔

روحا اپنی بات کہتی اسی کے سینے پر منہ رکھے پھوٹ پھوٹ کر روی تھی ۔۔۔

بس بس میری جان اب سو جاٶ کوئ بات نہیں کرنی ا۔۔۔

صام دکھی ہوتا روحا کے آنسو اپنے لبوں سے صاف کرتا بولا جب روحا کھوۓ ہوۓ انداز سے بولی ۔۔۔

ہم واپس اسلام آباد آ گے اکیلی احمد کو خود سنھبالا ہیر آپی کے بعد یافی آپی نے خیال رکھا وہ روز ہم سے ملنے آتی تھی ماما پریشان ہوتی تھی ہمیں اکیلے دیکھ کر پر ہم ڈھیٹ بنے رہے کیسے آتے آپ کے گھر کوئ رشتہ نہیں تھا ۔۔۔

ایک دن ہم احمد کو سلاتے ہوۓ کچن میں گے جب لائٹ بند ہو گی ۔۔۔

موسم بھی نہیں ٹھیک تھا بارش ہو رہی تھی ۔۔۔

مالی کاکا کو بابا نے نہیں ہٹایا بلکہ ہمارے ساتھ اسلام آباد بھیج دیا ۔۔۔۔

مالی کاکا ہوس لیے ہمیں دیکھتا تھا ہم اگنور کر دیتے تھے کیونکہ ہم چاہتے تھے احمد بڑا ہو جاۓ تھوڑا پھر بابا کے پاس چلے جاۓ گے ۔۔۔

ہم نے آہان لالہ کو فون کیا ہمیں ڈر لگ رہا ۔۔

ابھی وہی بات کر رہے تھے جب ۔۔۔

جب کیا ۔۔۔۔

صام نے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔

————————————————————

““ماضی۔۔۔۔

یہ بارش بھی آج ہی ہونی تھی افففف کیا کرے رات بھی ہونے والی ۔۔۔۔

روحا باہر برستی ہوئ بارش دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

کیوٹ لیڈی باس کے گھر چلی جاتی ہاے ہمیں ڈر لگ رہا ۔۔۔

روحا پریشان سی ہوتی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

ہیر آپی کہاں ہے دیکھے ہم اکیلے رہ گے کوئ بھی ہمارے پاس نہیں ۔۔

اچانک روحا روتے ہوۓ سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

ک۔کون ہے ۔۔۔

ہال میں انٹر ہوتے کسی کو دیکھتی روحا ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔

ت۔تم۔تم۔دور رہو ۔۔۔

روحا مالی کاکا کو انٹر ہوتے دیکھ بولی تھی ۔۔۔

جاٶ دفع ہو جاٶ ۔۔

روحا اسے سامنے دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

بہت ویٹ کروایا تم نے بلیک بیوٹی آج کوئ بھی تمہیں بچانے والا نہیں تمہاری وہ ماں جیسی بہن بھی نہیں رہی دنیا میں ۔۔۔

مالی خبابث سے قہقہ لگاتا روحا کے قریب آتا بولا تھا ۔۔۔

چھ۔چھوڑ ۔چھوڑو ہمیں جان سے مار دے گے ہم ۔۔۔

روحا نے جلدی سے والز آٹھا کے اسے مارتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

بہت اکڑ ہے تم میں آج بتاٶ گا میں ہو کون کوئ بھی نہیں بچاۓ گا تمہں ۔۔۔

وہ ایک ہی جھٹکے سے روحا کو شولڈر سے پکڑے ہوس لیے بولا تھا ۔۔۔۔

جاہل انسان وحشی درندے جان سے جاٶ گے تم یہ جان لو ایک لڑکی کا فائدہ آٹھا رہے تم ۔۔۔

روحا غصہ میں آتی اسے تھپڑ مارتی بولی تھی ۔۔۔

ہاہاہہاہا کتنے نرم ہاتھ ہے تمہارے ویسے ہو ایسی ہی کوئ تمہیں دیکھے تو ہوش ہی کھو دے ۔۔

اب مجھے ہی دیکھ لو روز میری ہوس کو آگ لگاتی تھی آج میری ہوس پوری ہو گی ۔۔۔

اس نے روحا کی شرٹ کا بازو پھاڑتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

دفع ہو جاو یہاں سے ۔ہ۔ہم ابھی لالہ کو فون کرتے ہے ۔۔۔۔

روحا اسے دھکا دیتی وہاں سے بھاگتی ہوئ بولی

تھی ۔۔۔

بچ پاٶ گی تبھی فون کرو گی اسے ۔۔۔

وہ اسے کلائ سے پکڑتا زمین پر گراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

بچاٶ بچاٶ ۔۔۔

روحا بے بسی سے چلائ تھی ۔۔۔

ہاہاہااہاہ اور چلاٶ ویسے بھی بارش ہو رہی کوئ نہیں سننے گا ۔۔۔

وہ روحا پر جھکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

ن۔نہیں۔۔۔۔آپپپپپپپپیییییی ۔۔۔

وہ روحا کی شرٹ پھاڑ چکا تھا جب روحا درد سے چلائ تھی ۔۔۔۔

جبکہ وہ خوش ہوتا قہقہ لگا رہا تھا ۔۔۔

بس مس لائف بس میں اور نہیں سن سکتا اتنا دکھ لیے کیسے سکون سے رہ سکتی ہو تم تمہارا دل ایک گہرا دریا ہے جو اتنا بڑا دکھ لے کر سب کے سامنے سکون سے رہتی ہو ۔۔

صام اچانک غم سے چلاتا روحا کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑتا بولا تھا ۔۔۔

اس سے پہلے وہ مالی اپنی ہوس پوری کرتا جب آہان لالہ اور مستقیم لالہ نے ہمیں بچایا صام ۔۔۔

ہم تو شرمندہ ہو گے تھے دونوں کے سامنے ایسی حالت میں مستقیم لالہ نے ہمیں اپنی شرٹ پہنائ ۔۔۔

بہت مارا دونوں نے مل کر جبکہ ہم ڈر کے مارے بس رو رہے تھے ۔۔۔

آہان لالہ جو جب پتہ چلا احمد ہیر آپی کا بیٹا ہے انھوں نے ہمیں کہہ وہ لندن جا رہے احمد ان کے ساتھ رہے گا اور ہم آپ کے گھر رہے گے ۔۔۔۔

ہم بلکل نہیں مانے لیکن یافیاور ماما کی بات مانتے ہم مان چکے تھے ۔۔۔

احمد آہان لالہ کے ساتھ لندن چلا گیا اور ہم آپ کے گھر آ گے ۔۔۔

لالہ اور مستقیم لالہ کا ہمیں پتہ تھا لیکن آپ کا نہیں ہم اتنا ڈر چکے تھے کہ اگر ہماری اس خوبصورتی کی وجہ سے وہ مالی کاکا جو بوڑھا تھا ہوس کے لیے پاگل ہو سکتا تھا تو آپ بھی تو مرد تھے ویسے ۔۔۔۔

تبھی ہم کالی بنے ۔۔۔

روحا گہرا سانس لیتی آنسو صاف کرتی بولی تھی ۔۔۔

مجھے ہی کیوں مس لائف ایسا سمجھا ۔۔۔

صام اپنی سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ بولا تھا ۔۔۔

آپ ہی نہیں ہم ہر مرد کے لیے ایسے بنے ہمیں ایسی خوبصورتی چاہے ہی نہیں تھی جو ہمارے جسم پر ہزاروں لوگوں کی ہوس والی نظریں جمی ہو ۔۔۔

آہان لالہ لندن سے ایک پینٹ بھیجتے تھے جو ہم اپنے نظر آنے والے حصے پر لگاتے تھے کالا رنگ جیسے چہرہ بازو پاٶں گردن پر ۔۔۔

جس دن آپ نے پانی سے ہمیں بھگیایا اس دن پینٹ ختم ہو چکا تھا تبھی پانی سے جلدی اتر گیا ۔۔۔۔

روحا اپنا منہ اب صام کی گود میں رکھتی بولی تھی ۔۔۔

اب اسے سکون آیا تھا اتنے سالوں کا غم ہلکا ہو چکا تھا ۔۔۔۔

لیکن میری جان ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا تم جب کالی تھی تب بھی میری سانس تھی اور آج بھی ۔۔۔۔

صام روحا کی گردن پر جھکے اسے چومتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

ہممم۔۔

روحا اب نیند میں جاتی ہوئ بولی ۔۔۔

اففف میری ننھی سی جان اتنا مت سوچا کرو اور شکریہ مجھے دوست سمجھ کر بتا دیا ۔۔۔

صام خوش ہوا تھا روحا نے اپنے دل کی بات اسے بتائ تھی تبھی اس کے کان کی لو کو چومتا ہوا بولا ۔۔۔

چلو شکر سو تو گی ۔۔

صام روحا کو نیند میں مدہوش ہوتے دیکھ خوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

روحا کا منہ اس کی گود میں باہیں صام کی کمر پر حائل کیے اور اپنی ٹانگوں کو اس کے اوپر رکھے بنا یہ جانے صام کی حالت اب کسی ہو رہی ہو گی بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔۔

آہہہہ میرا بے بی کتنا کیوٹ ہے ۔۔۔۔

نیند میں سوئ روحا کو دیکھتا دوبارہ صام نیچے جھکتے اس کے لبوں کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

روحا خود تو سکون کی نیند سو رہی تھی جبکہ صام کی نیندیں آڑا چکی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

کیا بکواس ہے یہ ٹھرکی ہم نے تمہیں کوئ بات بتانے کے لیے بلایا ہے اور ت۔۔۔

مس لائف کا موڈ ٹھیک کرنا میں دیکھنا چاہتا ہو وہ جلیس ہوتی کہ نہیں ۔۔

صام سکون سے منان اور مستقیم کے سامنے بیٹھا ان کی بات کاٹتا بولا ۔۔۔

کوئ نہیں ہم ایسا کام کر رہے اچھے بھلے مرد کو عورت بنا رہے ہو ۔۔۔۔

منان برا سا منہ بناۓ بولا تھا ۔۔۔

کیا ہو جانا تم لوگوں کا بس یہی لڑکی بن کر روحا کے سامنے جاٶ اور کہو اسے تم بیوی ہو صام کی اور اسے بے بی کی ماں بنے والے ہو بس اتنی سی بات ۔۔۔

صام ریلکس ہوتا بولا تھا ۔۔۔

یہ بھی بہت بڑا کام ہے میں نے بابا سے اپنی شادی کی بات کرنی ہے اور تم مجھے لڑکی بنا رہے ہو جاٶ ٹھرکی یہاں سے ہم تمہیں بتا رہے تمہاری جان کو خطرہ ہے تم یہ بکواس کام کروا رہے ۔۔۔

مستقیم طش میں آتا چلایا تھا ۔۔

میری جان کو جو خطرہ ہے وہ صرف روحا صام آفندی ہے اس کے علاوہ مجھے کوئ خطرہ نہیں ۔۔

تم لوگ بتاٶ یہ کام کون کرے گا یار ۔۔

صام پھر پر سکون ہوتا بولا تھا ۔۔۔

پاگل ہو چکے ہو تم میں تو بلکل نہیں کر رہا میری شادی ہونی کیوں شادی سے پہلے ہی رنڈوہ کروا رہے ہو مجھے ۔۔۔

مستقیم پھر غصہ سے بولا تھا ۔۔۔

میری بھی بددعا ہے ایک دن ایسا آۓ کسی پریشانی میں ہو اور میں تمہاری مدد ہی نہ کرو دیکھنا پھر تم ۔۔۔

صام غصہ میں آتا کرسی کو لات مارتا وہاں سے واک آوٹ کر چکا تھا ۔۔۔

صبح صام کو فون آیا تھا پولیس اسٹیشن سے تبھی وہ روحا کو بنا بتاۓ آ گیا تھا ۔۔۔

ان کی بات سنتا پھر اپنی کہی تھی جب منان اور مستقیم مانے سے انکار کر رہے تھے ۔۔۔

کیا کرے یار یہ سمجھ کیوں نہیں رہا انیجل دکھ ہونے یا جلیس ہونے کی بجاۓ اسی لڑکی کے ساتھ رخصت کر دے گی ۔۔۔

چلو مان لیا میں لڑکی بن جاٶ اب یہ ماں کہاں سے بنو عجیب سسٹم ہے ۔۔۔

مستقیم اپنا رونا لے کر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔

کوئ بات نہیں میں تمہیں لڑکی بنا دو گا میک اپ سے آگے تم سنھبال لینا ویسے بھی مجھے بھی خواجہ سرا بنایا تھا ۔۔۔

منان مستقیم کی حالت انجواۓ کرتا بولا تھا ۔

یہ غلط ہے اچھا بھلا خوبصورت مرد ہو میں ۔۔۔

مستقیم رونی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

ارے ٹھرکی آ گیا مبارک ہو ٹھرکی ۔۔۔

روحا ہال میں انٹر ہوتے غصہ سے صام کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

طعبیت کیسی ہے مس لائف ۔۔۔

صام مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

آپ باپ بننے والے ہے مسٹر صام آفندی ۔۔۔

روحا بات اگنور کیے دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

واٹٹٹٹ۔۔۔

مجھے نہیں پتہ تھا پولیس اتنی جلدی فاسٹ سروس دیتی ہے ۔۔۔

صام ہکا بکا ہوتا دل میں اپنے پلان کا سوچتے بولا تھا ۔۔۔

ج۔۔

مسڑ صام آفندی ۔۔۔

اس سے پہلے روحا کچھ کہتی جب ہال میں پولیس فورس انٹر ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جی میں ہی ہو جلدی بولو میں نے مس لائف کی بات سنی ہے ۔۔

صام برا سا منہ بناۓ اپنے سامنے کھڑے ڈی آی جی کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

ہم آپ کو اریسٹ کرنے آے ہے ۔۔۔

ڈی آی جی صام کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

کس خوشی میں کہ میں باپ بننے والا ۔۔۔

صام ویسے ہی سکون سے کھڑا بولا تھا ۔۔۔

نہیں آپ نے قتل کیا ہے ۔۔۔

ڈی ای جی دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جبکہ روحا حیرت سے منہ کھولے صام کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جبکہ صام پر سکون سا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔