Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 40)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 40)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
“تو ہے لاجواب تیرے جلوۓ ہزار“
“میرا بھی پتہ ہے میں نہ مانو کبھی ہار“![]()
“تیری میری دنیا میں بے حساب پیار “
”میں ہو ایک انیجل اور ڈیول میرا یار “![]()
“تیرا جیسا دنیا میں کوئ بھی نہیں “
”جیسے ڈھونڈتی نظر تو ہی ہے وہی “![]()
“پریوں کی رانی ہو میں سب سے حسین “
“پر تیرے بنا مجھے کک ملتی نہیں “![]()
“محبت بھی کر کے دیکھی کیا پایا وہ کیسے بتاو“
“دل کا ایسا عالم تھا کہ دردِ دل کس کو سناٶ“![]()
“تھا میں تیرا گناہگار“
”مت رونا اب تم اب کی بار“
تو ہے لاجواب تیرے جلوۓ ہزار“
“میرا بھی پتہ ہے میں نہ مانو کبھی ہار“![]()
“تیری میری دنیا میں بے حساب پیار “
”میں ہو ایک انیجل اور ڈیول میرا یار “![]()
واہ ہ ہ کتنی خوبصورت جگہ ہے شاہد ہم یہاں آے ہے ۔۔۔
روحا ڈیول ہاوس کی خوبصورت راہداری دیکھتی خوشی سے پاگل ہوتی بولی تھی ۔۔۔
جہاں ہر چیز بلیک کلر کی تھی اور ہر جگہ بلیک روز رکھے گے تھے ۔۔۔
روحا نہیں جانتی تھی وہ سیکرٹ روم کے ذریعے ڈیول ہاوس آ چکی تھی ۔۔
اہہہ معاف ۔کر د۔۔۔۔
روحا ابھی کھڑی تھی جب اسے چیخنے کی آواز سنائ دی ۔۔۔
جہاں بلیک روم کی ریڈ لائٹ میں ایک آدمی کے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔
جہاں وہ ایک دیو قد چٹان جیسے آدمی کے سامنے معافی مانگ رہا تھا ۔۔۔
روحا آنکھیں پھاڑے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ڈیول کی نظر میں معافی نہیں موت ہوتی ہے جو تم نے کیا موت بھی تیرے لیے کم ہو گی ۔۔۔
ڈیول نے یہ کہتے ہی ایک ہی جٹھکے سے اس آدمی کی گردن کاٹی تھی ۔۔۔
جس سے اس کا جسم وہی اور گردن ڈیول کے ہاتھ میں آی تھی ۔۔۔
ڈیول کا پورا جسم خون سے بھر چکا تھا ۔۔۔
ص۔صامممممم۔۔۔
روحا صام کا ایسا روپ دیکھتی چلائ تھی ۔۔۔
انی۔۔۔
ڈی۔ڈیول آپپپپ۔۔۔
صام نے روحا کی چیخ سنتے حیران ہوتے رخ موڑتے بولا تھا جب روحا غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔
وہی صام کی سانسیں روکی تھی ۔۔۔
انیجل میری بات سنو۔۔۔
صام جلدی سے روحا کے قریب جاتا ہوا بولا تھا ۔۔
وہی روک جاۓ ہمیں نیند آئ ہے ۔۔۔
روحا جلدی سے خود پر قابو پاتی کہتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔۔
انیجل انیجل ۔۔۔۔۔
صام وہی سب کچھ چھوڑے روحا کے پیچھے بھاگا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا صام بے بی پھر سے لڑائ ہو گی ۔۔۔
صام جلدی سے اپنے کپڑے چینج کیے آفندی پلیس آیا تھا جب اسے ہال کے درمیان بے ہودہ نائٹی پہنے کومل دیکھی تھی ۔۔۔
جو طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی ۔۔۔
تم گندی عورت تمہیں شرم نہیں آتی ایسا بے ہودہ لباس پہنتے ہوۓ ۔۔۔۔
صرف مس لائف کی وجہ سے برداشت کر رہا ورنہ کب کا موت دے دیتا تمہیں ۔۔
وہ کہتی ہے تم لڑکی ہو تمہاری بھی عزت ہے میں تمہیں کچھ نہ کہو ۔۔۔
تم لڑکی کیا انسان کہلانے کے لائق نہیں ہو ۔۔۔
دفع ہو جاٶ نظروں سے دور ورنہ ایک منٹ لگے گا مجھے تمہارا قتل کرنے میں ۔۔۔
میں روحا کو بتاٶ گا جس عزت کی بات وہ کرتی ہے وہ عزت تم میں نہیں تمہاری جیسی لڑکیاں عزت لے کر ہاتھوں میں گھومتی ہے ۔۔۔
شکل گم کرو اپنی ادھر سے ۔۔۔
صام اپنا سارا غصہ کومل کو گردن سے پکڑے اتارتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
روحا روحا روحا ۔۔۔
بس بہت ہوا پہلے وہ شعیب اب یہ صام ۔۔۔
کچھ تو کرنا پڑے گا اس روحا کا ۔۔۔
کومل اب شطانی دماغ سے سوچتی تن فن کرتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
کیسے ہے لالہ ۔۔۔۔
صبح بکھری حالت لیے صام ہال میں آیا تھا ۔۔
جہاں مستقیم مرحا آہان ہیر بیٹھے تھے ۔۔۔
میں تو ٹھیک چپمین تمہیں کیا ہوا ۔۔۔
آہان نے پریشان ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔
انیجل کو پتہ چل گیا میں ہی ڈیول ہو ساری رات میں روم کے باہر کھڑا رہا اس نے ڈور نہیں اوپن کیا ۔۔۔
مجھے ڈر ہے لالہ کہی وہ مجھے چھوڑ نہ دے ۔۔
صام سب کو ساری بات بتاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ریلکس انیجل اتنی بھی پاگل نہیں ہے سب تھوڑا ٹائم دو ۔۔۔
ویسے بھی اسے بتاٶ کہ تم برے لوگوں کو مارتے ہو اچھے لوگوں کو نہیں ۔۔۔
مستقیم صام کو حوصلہ دیتا بولا تھا ۔۔۔
ہممم۔۔۔
صام بس خاموش رہا ۔۔۔
———————————————————–
انیجل تم یہاں ہو ہم سب سمجھے تم روم میں ہو ۔۔۔
سارے ڈائنگ ہال میں آے تھے ناشتہ کرنے جب انھوں نے ڈائنگ ٹیبل پر سر رکھے بیٹھی روحا کو دیکھا تبھی مرحا پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
ویسے ہی ہم آپ سب کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔
روحا سر اٹھاۓ زبردستی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
وہی صام اور روحا نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔۔
دونوں کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔۔
ہاں چلو ناشتہ کرو پھر پیکنگ پر جانا ہے ۔۔
آہان سب کو کہتا بولا تھا ۔۔۔
پیکنگ پر کیوں لالہ ۔۔۔
روحا نے ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔۔
پلان ہے جانے کا ۔۔۔
آہان صام کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا ۔۔
————————————————————
ہمارا بیٹا کیسا ہے اب ۔۔۔
روحا احمد کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
جو نڈھال سا صام کی گود میں بیٹھا تھا ۔۔۔
سبھی ناشتہ کر رہے تھے سواۓ روحا صام کے ۔۔
صام بڑی خاموشی سے روحا کی طرف مسلسل دیکھ رہا تھا ۔۔۔
وہ سوچ رہا تھا وہ اتنے سکون میں کیسے آ سکتی ہے ۔۔۔
انیجل موم بھوک لگی ۔۔۔
احمد نے رونے والی شکل بنا کر کہا تھا ۔۔۔
تو موم کھلاۓ گی اپنے بیٹے کو ۔۔۔
روحا سنڈوچ احمد کو کھلاتے مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
صام اب احمد سے جلیس ہوا تھا ۔۔۔
جو روحا کے ہاتھوں سے سنڈوچ کھا رہا تھا ۔۔۔
آپ بھی کھا لے کیا بھوک نہیں آپ کو ۔۔۔
صام ابھی سوچ ہی رہا تھا جب اس کے لبوں کے پاس روحا کا ہاتھ آیا تھا ساتھ اس کی آواز بھی ۔۔۔
مج۔مجھے کہہ رہ۔۔۔
ظاہر سی بات آپ کو کہہ رہی ہو آپ کے علاوہ کوئ صام ہے یہاں چلے کھاۓ آپ ۔۔۔۔
صام حیران ہوتا بول رہا تھا جب روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
سب کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
———————————————————-
شکر ہے انیجل تم آ گی ورنہ میرا پیارا دیور اداس ہو گیا تھا ۔۔۔
مرحا روحا کی طرف دیکھتی مسکراہٹ روکے بولی تھی ۔۔۔
جی ہم بابا کے پاس گے تھے بس آج بھی سوچ رہے وہی جاۓ بابا کے پاس ۔۔
روحا صام کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔
جہاں صام نے اسے گھورا تھا ۔۔۔
نہیں ہم لوگ جا رہے تم ب۔۔۔
لالہ ہمارا دل نہیں کر رہا آپ لوگ جاۓ ۔۔۔
مستقیم بول رہا تھا جب روحا کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
لگتا ہے کچھ زیادہ سی ناراض ہے جاٶ مناٶ اس کو ۔۔
آہان فکر مند ہوتا صام کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں جاتا ہو لالہ پھر آفس بھی جانا ہے ۔۔۔
صام جلدی سے کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔
سب کے چہروں پر مدھم مسکراہٹ آئ تھی صام کی بے تابی دیکھتے ۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا میری جان کو اب کیا اپنے ٹھرکی صام کو دیکھو گی بھی نہیں ۔۔
صام روم میں آیا تھا جب کمبل لیے بیڈ پر لیٹی روحا کو دیکھتے خود بھی اسی کے کمبل میں آتا اسے بیک ہگ کیے سر گوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
روحا بلکل چپ تھی ۔۔۔
چلو یہ بات ہے میں پھر کومل کے پاس چلا جاٶ گا اور ہاں یاد آیا آج آفس میں بہت ہی حیسن ل۔۔۔۔
صام شرارتی انداز سے بول رہا تھا جب روحا نے اپنا رخ اس کی طرف کیا تھا خاموشی سے بولی کچھ نہیں تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
ڈیول تو خواجہ سرا ہے یہ ہم نے سنا تھا ۔۔۔
روحا کو اپنی طرف رخ کیے صام سکون سے اس کے سینے پر سر رکھے آنکھیں بند کیے اس کی سانسیں اور دھڑکنیں سن رہا تھا ۔۔۔
جب روحا کھوۓ ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔
نوفل پر جس نے زیادتی کی تھی حشمت ملک اسے میں نے آرمی کے ساتھ مل کر حراست میں لے لیا تھا ۔۔۔
میں اسے مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن وہ لاکھوں خواجہ سراٶں کو باہر ممالک بھیجنا چاہتا تھا ۔۔۔
جب مجھے پتہ چلا اس کا قتل کر دیا ۔۔۔
نوفل بھی وہی تھا ۔۔۔
نوفل کے ہاتھوں میں چوڑیاں تھی جو میں نے غصے سے توڑ کر گرا دی کیونکہ اب میں نوفل کو لے کر یہاں سے جانا چاہتا تھا ۔۔۔۔
اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا ہی گیا جب جب برائ کے راستے پر حشمت جیسے حیوان معصوم لوگوں کو تباہ و برباد کرتے وہی میں ڈیول بن کر سب کا خاتمہ کرتا ۔۔۔۔
پھر لوگوں نے یہی سمجھا ڈیول خواجہ سرا ہے ۔۔۔
آج تک کوئ جان نہ سکا ڈیول خواجہ سرا نہیں ۔۔۔
نہ ہی میں نے کسی کو بتانا ضروری سمجھا ۔۔۔
میرے لیے برائ ختم کرنا بہت ضروری تھا ۔۔۔
لیکن انیجل تمہارے ڈیول نے کبھی کسی بے گناہ کو نہیں مارا ۔۔۔
جس آدمی کو میں نے مارا تم جانتی ہو اس آدمی نے کیا کیا تھا ۔۔۔
صام نے جلدی سے روحا کی طرف دیکھتے کہا تھا ۔۔۔
کیا کیا تھا ۔۔
روحا نے اپنا ہاتھ صام کے بالوں میں پھساتے پوچھا تھا ۔۔
امن وہ گڑیا اس کا قتل کروا دیا ۔۔
شہزاد چوہان کا بیٹے شہروز نے اسے پتہ تھا مجھے امن کتنی پیاری تھی ۔۔۔
پرسوں رات امن کا بے دردی سے قتل کروا دیا ۔۔۔
میں تمہارے ساتھ تھا نوفل لندن گیا ہوا تھا ۔۔۔
بس وہ انسان یہ کہا کر فانڈیشن گھس گیا وہ میرا دوست ہے ۔۔
گارڈ نے جانا دیا اسے ۔۔۔
پھر امن کا قتل ہو گیا میری وجہ سے ایک ننھی جان چلی گی ۔۔۔۔
صام سردپن لاۓ سرخ گرین آنکھوں میں وحشت ٹپکاۓ بولا تھا ۔۔۔
ک۔کییی۔۔
روحا کی سانسیں روکی تھی یہ سب سن کر تبھی وہ بولی نہیں ۔۔۔
ہاں ایسا ہی ہوا مجھ سے برداشت نہیں ہوا تبھی میں نے اس آدمی کو ایسی موت دی ۔۔۔
تم کہتی ہو ڈیول یہ کام چھوڑ دے گا ۔۔۔۔
بس مجھ سے دور مت جانا ۔۔۔۔
صام روحا کے گال پر لب رکھے بولا تھا ۔۔۔
ہمیں کوئ اعتراض نہیں صام آپ اگر ایسے لوگوں کو ایسا
انجام دے رہے لیک۔۔۔۔
لیکن کیا انیجل ۔۔
روحا بول رہی تھی صام بے تابی سے بولا۔۔۔۔
لیکن یہ ہمیں خون خرابہ نہیں پسند آج کے بعد آپ یہ کام خود نہیں کرے گے چاہے کچھ بھی ہو جاۓ نہ ہی لڑائ کرے گے ۔۔۔۔
وعدہ کرے یہ انیجل اپنے ڈیول سے کہہ رہی ہے ۔۔۔۔
روحا اپنا سرخ سفید ہاتھ صام کے آگے کرتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
وعدہ میری جان ڈیول کبھی اپنے روپ میں نہیں آۓ گا جب تک اس کی انیجل نہیں کہہ دیتی ۔۔۔
آج سے میں صرف تمہارا ٹھرکی صام ہو ۔۔۔
صام کو خوشی ہوئ تھی کم از کم روحا نے اس سے نفرت نہیں کی تھی ۔۔۔۔
تمہیں مجھ سے نفرت ن۔۔۔۔۔
نفرت تب کرتے آپ سے جب آپ کوئ غلط کام کرتے ہماری نظر میں یہ غلط نہیں کام ۔۔۔
آپ خودی دیکھے اس انسان نے آپ سے بدلہ لینے کے لیے ایک ننھی بچی کا قتل کروا دیا ۔۔۔
تو ان جیسوں کو سزا ملنی چاہے ۔۔۔
ہمیں نفرت نہیں عشق ہے آپ سے اگر آپ کو ہمارے پر اتنا یقین ہے اتنا کچھ کیا ۔۔۔
تو ہم کیوں آپ جیسے خوبصورت انسان سے نفرت کرے صام۔۔۔۔
صام ابھی پوچھ رہا تھا جب روحا صام کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتی عقیدت سے اس کا۔ماتھا چومتی بولی تھی ۔۔۔
شکریہ میری جان ۔۔
صام خوشی سے روحا کے نرمی سے لبوں کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اچھا بس کرے ہم نے سونا ہے رات بھی نہیں سوۓ ہم ۔۔۔
سونا تو می۔۔۔
ہرگز نہیں آفس جاۓ ویسے بھی آپ کم سوتے ہے ۔۔
روحا جلدی سے پیچھے ہوتی بیڈ پر لیٹتی بولی تھی جب صام بھی ساتھ چپکتے لیٹ کر بول رہا تھا جب روحا زرا سختی سے بولی تھی ۔۔۔
ظلم بیوٹی ۔۔۔
صام برے برے منہ بناتا بیڈ سے اٹھ گیا تھا ۔۔۔۔
آپ بے شرم۔۔
روحا صام کی حالت انجواۓ کرتی جلدی سے کہتی کمبل میں منہ چھپا گی تھی ۔۔۔
————————————————————
یہ ڈرگز میں نے کب مانگوائ ہے ۔۔۔
شعیب اپنے آدمی کو لیسٹ پر ہیوی ڈرگز کا آڈر دیکھتا ہوا حیران ہوتا بولا ۔۔
لیکن سر آپ نے ہی آڈر دیا تھا ۔۔۔
آدمی سر جھکاۓ بولا تھا۔۔۔
تم جانتے ہو اس ڈرگز کی دو ہی ڈوز میں انسان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔۔
یہ تو ظاہر بھی نہیں ہوتی کہ انسان اس ڈرگز کا عادی ہو چکا ہے ۔۔
آج کے بعد نہ آۓ یہ میں نے ہرگز ن۔۔۔۔
شعیب دانت پیستے بول رہا تھا جب اسے روحا کا فون آیا تھا ۔۔۔۔۔
تبھی جلدی سے بات ختم کرتے فون اٹھایا تھا ۔۔۔۔
بولو بلیک بیوٹی ۔۔۔۔
ہاں آ جاتا ہو تم جہاں کہو گی ۔۔۔
شعیب کی آنکھوں میں چمک آئ تھی روحا سے بات کرتے تبھی وہ خوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
بلیک لینڈ کروزو روکتی ہے آفندی ائمپائر کے سامنے جس میں بلیک تھری پیس پہنے شاندار پرسنلیٹی اچھے سے بالوں کا فوجی کٹ کراۓ جیل سے سیٹ کیے بال مغرور تکھی ناک جس پر غصہ رہتا تھا ۔۔۔
وحشت زدہ سرخ گرین آنکھیں عنابی ہونٹ جس پر سنجیدہ پن ہاتھ میں مہنگی راسٹ وچ وہ اپنے ہی آفس کا لاکھوں لڑکیوں کا دل دھڑکا گیا تھا ۔۔۔۔
رعب دار چل چلتا وہ بلڈنگ کی لیفٹ میں انٹر ہوا تھا وہی اس کی سکیرٹری بھاگتی ہوئ اس کے پیچھے انٹر ہوئ تھی ۔۔۔
بولو ۔۔
صام نے بس آنکھوں کے اشارے سے پوچھا تھا ۔۔۔
و۔وہ۔م۔۔۔
گیٹ آوٹ ۔۔۔۔
سکیرٹری ابھی بول ہی رہی تھی جب صام نے دھاڑتے کہا تھا ۔۔۔
س۔سور۔سوری۔۔۔۔
سکیرٹری ہکلاتے بس اتنا بول سکی تھی ۔۔۔
سب جانتے تھے صام کو جلدی بولنے والا ہی بندہ پسند تھا جو اٹک کر بولتے تھے وہی وہ چلاتا تھا ۔۔۔
تم ایسا کرو لالہ کے ساتھ میری میٹنگ ک۔۔۔
لیفٹ سے باہر آتے خودی تیز چلتا بول رہا تھا ۔۔۔
جہاں سے وہ گزار رہا تھا وہی سے سب اپنا کام چھوڑے اس کے لیے کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔
ابھی وہ بول رہا تھا جب وہ روکا ۔۔
اسے ایسے لگا تھا آفس میں روحا آئ تھی۔۔۔
کیا ہوا سر ۔۔
سکیرٹری جلدی سے بولی تھی ۔۔۔
تم لالہ سے میٹنگ کرواٶ اور شعیب کو میرے آفس بھیجو ۔
صام اپنی دوسری سیکرٹری سے کافی کا مگ لیتا اپنے کیبن میں جاتا بولا تھا ۔۔۔
ف
فا
فاطم۔
کیا ہوا ۔۔
کینزہ کو اپنی طرف بھاگتے آتے دیکھ فاطمہ جلدی سے بولی تھی ۔۔۔
و۔وہ مسز صام آئ ہے ۔۔۔
کینزہ اپنا سانس بحال کرتی بولی تھی ۔۔۔
یہ کب آئ ہاے ابھی میں نے سر کو دیکھنا ت۔۔۔۔
یار میم نے ہم سب کو بلایا ہے لگتا ہماری چھٹی پکی سر کو ہم بعد میں دیکھ لے گے ۔۔۔
کینزہ فاطمہ کا ہاتھ پکڑے اپنے ساتھ لے کر جاتے بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
ٹوٹل دس سکیرٹری ہے صام آفندی کی وجہ ۔۔۔
روحا اپنے سامنے اتنی خوبصورت لڑکیاں دیکھتی منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
جو ساری کی ساری مارڈن تھی ۔۔۔
سواۓ ایک کہ جو حجاب میں کھڑی تھی ۔۔۔
جی میم ۔۔
ان میں سے ایک بڑے کانفیڈنیس سے بولی تھی ۔۔۔
کیا کام کرتی آپ لوگ ۔۔۔
روحا اپنی چیئر پر بیٹھتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
صام سر کو
روز کافی میں نے دینی ہوتی ۔۔۔
میں دو گھنٹے بعد جوس دینا ہوتا ۔۔
میں نے سر کا کورٹ ہیگ کرنا ہوتا ۔۔
م۔۔۔
بس بس تم لوگوں کے سر لنگڑے ہے یا بچے ہے جو خود کام نہیں کر سکتے ۔۔۔
آج کے بعد تم سب ان کا کوئ کام نہیں کرو گی اپنا کوئ اور کام کرو ۔۔۔
صام کے سارے کام یہ حجاب والی لڑکی کرے گی ۔۔
سب باری باری اپنا کام بتا رہی تھی جب روحا نے وہی روکتے اپنا حکم دیا تھا ۔۔
لیکن میم ہم کیا کام ک۔۔۔
وہ شعیب بتا دے گے آپ لوگ جاۓ اب یہاں سے ۔۔۔
وہ ساری پریشان ہوتی بولنے والی تھی جب روحا نے دو ٹوک جواب دیا ۔۔۔
ساری اپنا منہ بناتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
———————————————————–
ارے آج تو بڑے بڑے لوگ آۓ ہے ۔۔۔
شعیب صام کو مینٹگ روم سے باہر آتے دیکھ طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں چھوٹے چھوٹے لوگ بھی ہے یہاں بس اس لیے مجھے بھی آنا پڑا ۔۔
صام اپنے کیبن کی طرف جاتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
ویسے کب طلاق دے رہے بلیک بیوٹی کو ۔۔۔
شعیب اس کے پیچھے ہی کیبن میں آتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
ہاہااہاہا اووو کورنا کی جعلی ویکیسن میں ہرگز نہیں چھوڑ ر۔۔۔۔
چھوڑنا تو پڑے گا ۔۔۔
صام طنزیہ قہقہ لگاتا بول رہا تھا جب شعیب بات کاٹتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
اہہہہ میں تو ڈر گیا ۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہ جنگلی وحشی درندے یہ کیا کیا ۔۔۔۔
صام ڈرنے کا ڈرامہ کرتے شعیب کے ہاتھ کی ہتھلی پر پین کی نب گھاڑی تھی وہی شعیب درد سے غرایا تھا ۔۔۔۔
اس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا اب مسلسل ۔۔۔
شکریہ میں جنگلی وحشی ہونے کے ساتھ پاگل بھی ہو اور پاگل کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔
صام اپنی گردن موڑے طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
تم واقعی پاگل ہو بلیک بیوٹی نے تمہیں چھوڑ کیا دیا ۔۔۔
انہہ جاہل انسان میرا ہاتھ ہی زخمی کر دیا ۔۔۔۔
شعیب اپنا خون آلود ہاتھ لیتا وہاں سے برا سا منہ بناۓ چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————-
بابا میں کہ۔۔۔۔
صام اپنے بابا کے کیبن میں آیا تھا جب اسے آفندی صاحب کی چیئر پر روحا کو بیٹھے دیکھا وہی اس کے الفاظ رہ گے تھے ۔۔۔۔
بلیک شرٹ ساتھ بلیک ہی کپیری پہنے سر پر اچھے سے حجاب کیے شولڈر پر ڈوپٹے کو پن کیے ۔۔سرخ سفید صاف چہرہ بنا میک اپ کے صرف پنک لیپ گلوس لگایا تھا ۔۔۔۔
دنیا جہاں سے بے خبر وہ لیپ ٹاپ یوز کر رہی تھی ۔۔۔۔
صام کی آواز پر متوجہ ہوتی روحا کی آنکھیں چمکی تھی ۔۔۔۔
ارے واہ ہ ہ تبھی سوچو آج میری ساری سکیرٹیاں میرے کیبن کے پاس کیوں نہیں گھوم رہی ۔۔۔
صام مسکراتا ہوا روحا کی طرف جاتا بولا تھا۔۔۔۔
جی ہم نے صرف آپ کے لیے ایک ہی سکیرٹری رکھی ہے باقی ساری میک اپ کی دوکان تھی ۔۔۔
روحا صام کی طرف ہی دیکھتی سکون سے بولی تھی ۔۔
شکر ہے یار تم نے ایسا کیا ورنہ میری جان پر غذاب بنی تھی ۔۔۔
اور میں انہیں نکال بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔
صام روحا کی طرف جھکے آرام سے بولا تھا ۔۔۔
کیا کر رہے صام شعیب یہی ہے اور یہ آفس ہے آپ کو بیڈ روم نہیں ۔۔۔۔
روحا صام کو خود سے دور کرتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
جہاں تم ہوتی وہاں مجھے ہوش نہیں رہتا ۔۔۔
وہ کورنا کی جعلی ویکسین نہیں آۓ گی ۔۔۔
اس کا ہاتھ زخمی ہے ۔۔۔۔
صام اب روحا کو چیئر سے اٹھاۓ خود وہاں بیٹھتا روحا کو گود میں بیٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔
اب آپ کو کچھ کہنا ہی غلط ہو گا کیونکہ مانتے جو نہیں ۔۔۔
روحا صام کی طرف گردن موڑے دانت پیستی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ صام نے اسے اپنی سخت گرفت میں لیا تھا ۔۔۔
————————————————————
ص۔صام آفس ہے کیوں چاہتے ہے ہم مارے آپ کو ۔۔۔
یہاں کام کیا کرے غلطی ہو گی آ کر بابا نہیں تھے تو بابا نے کہا تھا ہم شعیب کے ساتھ ایک مینٹگ کرے اور آپ ۔۔۔
صامممممم۔۔۔۔
صام روحا کا حجاب گردن سے اٹھاۓ وہاں اپنے لب رکھے تھے جب روحا گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
آفس تھا کوئ بھی روم میں آ سکتا تھا ۔۔۔
جہاں ڈیول ہو وہاں کوئ نہیں آتا ۔۔۔
صام اب اپنے لب اس کے کان پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔
روحا کا حجاب وہ اتار چکا تھا ۔۔۔۔
اچھا آپ ڈیول ہے تو ہمیں بتاۓ اس دن کیسے آۓ گھر آپ تو روم میں تھے جب ہم نے تپ۔۔۔۔
جو تھپڑ تم نے مارا تھا وہ مستقیم تھا ۔۔۔
جو کس میں نے کی تھی جس دن آہان لالہ آۓ تھے ۔۔۔
وہاں میں ہی تھا پھر جلدی سے باہر نکل گیا ۔۔۔
تم مجھ سے ملنے آئ تھی جب صام کو جاب پر بھیجنا تھا ۔۔۔۔
پارٹی کی رات بھی میں ہی اندھیرے میں کھڑا تمہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
میں روزانہ تمہیں اٹھا کر اپنے ڈیول ہاوس لے جاتا تھا ۔۔
ایک دن ایسا ہوا میں تمہارے ہی روم میں آتے سو گیا تب مستقیم نے مجھے اٹھایا کیونکہ ماما روم میں آ گی تھی ۔۔۔
میں نہیں چاہتا تھا ماما کو پتہ چلے میں ہی ڈیول ہو۔۔۔
میں تو بھاگ گیا لیکن
مستقیم وہی رہ گیا اس دن وہ بہت گھبرایا تھا ۔۔۔
جب ماما نے اسے صبح صبح تمہارے روم میں دیکھا تھا ۔۔۔
اب خوش میں نے سارے سوالوں کے جواب دے دے اچھے بچوں کی طرح ۔۔۔
روحا ابھی بول ہی رہی تھی ۔۔۔
جب صام نے ایک ہی سانس میں سب کچھ بتا دیا ۔۔۔
ہممم۔۔۔
چلے چھوڑے صام ۔۔۔
روحا کو اب صام کی انگلیاں اپنی پیٹ پر لگی چین پر محسوس ہو رہی تھی تبھی اٹھتی بولی تھی ۔۔۔
یار کیا ہے میرا سارا رومینس خراب کر دیتی ہو ۔۔۔
صام روحا کی طرف دیکھتے روٹھے پن سے بولا تھا ۔۔۔
یہ آفس ہے ٹھرکی صام جب بیڈ روم میں آ جاۓ گے تب کر لینا چلے کام کرے اچھے بچوں کی طرح ۔۔۔
روحا صام کے ڈمپل پر لب رکھتے سکون سے بولی تھی ۔۔۔
پھر چلے گ۔۔۔
صام ہم کیا سوچ رہے تھے جو ہمیں نظر آتا ہے وہ کبھی بھی سچ نہیں ہوتا شاہد دھوکا ہو ہماری نظروں کا۔۔۔۔
روحا بلیک شیشے کی دیوار کے پاس کھڑی ہوتی باہر کا سارا آفس دیکھتی بولی تھی صام کی بات وہی رہ گی تھی ۔۔۔۔
مطلب میری جان کا ۔۔۔۔
صام روحا کو بیک ہگ کیے سکون سے تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھے بولا تھا ۔۔۔۔
سامنے دیکھے زرا ۔۔۔
روحا صام کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑتی ابھی بھی باہر دیکھتے بولی تھی ۔۔۔
سامنے ہوس بھری نگاہوں کا نظارہ دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔
جہاں صام کی حجاب والی سکیرٹری کو شعیب مسلسل اپنی نیلی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ صام کی سکیرٹری اپنے کام میں مصروف تھی ۔۔
صام ایک نظر باہر دیکھتا دوبارہ روحا کی گردن پر لب رکھے مدہوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔
صام آپ کو نیند کی ضرورت ہے ہم اپنے گھر جا رہے ہے آج سکون کرے کچھ ۔۔۔
روحا صام کی طرف افسوس سے دیکھتی اسے نرمی سے چھوڑے کیبن سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔
اب صام سوچ میں پڑ چکا تھا روحا نے اسے مشورہ دیا تھا یا طنز کیا تھا ۔۔۔
————————————————————
سارے تیار ہے چلو چلے مجھے اپنا کام پورا کرنا ہے ۔۔۔
صام اپنے آفس سے آفندی پلیس آتا سب کو تیار دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں اس نے بڑی گاڑی کھڑی کی تھی ۔۔۔
کدھر جانا یار ہماری بیویاں تیری بیوی کے ساتھ چلی گی زیدی انکل کے گھر ۔۔۔۔
مستقیم سکون سے بولا تھا ۔۔۔
کیوں جانے دیا تم سب جانتے ہو ہمارے ساتھ ہماری بیویوں کو بھی خطرہ ہے جان کا ۔۔۔
میں تبھی تم سب کو ساتھ لے کر جا رہا کہ ساتھ رہے پتہ نہیں کیوں تم لوگ ایسا کرتے ہو ۔۔۔
صام شدید غصے میں آتا اب آہان مستقیم منان زرجان سب پر چلایا تھا ۔۔۔۔
اچھا چپمین غصہ مت کرو ہم زیدی انکل کے گھر چلے جاتے ہے ا۔۔۔۔
گارڈز گے ساتھ یا نہیں ۔۔۔
آہان سکون سے بول رہا تھا جب صام اب فکر مندی سے روحا کا فون ملا رہا تھا جو بند جا رہا تھا۔۔۔
نہیں یار کہتی انہیں کوئ خطرہ نہیں ویسے بھی زیدی انکل کے گھ۔۔۔۔
لالہ آپ سب جانتے ہے میرے جیتنے بھی دشمن ہے پہلے ان کی نظر میں میں ایک نکما آوارہ لڑکا تھا جبکہ اب میں ایک آرمی آفسر ہو آپ جانتے ہے میرے ساتھ آپ سب کو جان کا خطرہ ہے ۔۔۔
آپ نے انہیں اکیلے ہی بھیج دیا ۔۔۔
اوپر سے کوئ فون بھی نہیں اٹھا رہی حد ہے ۔۔۔۔
آہان پھر بول رہا تھا جب صام فون پر کسی کو کال کرتا جلدی سے گاڑی میں بیٹھا تھا وہی وہ سب بھی پریشان ہوتے اس کے پیچھے بھاگے تھے ۔۔۔۔
———————————————————–
فون آٹھایا کسی نے ۔۔۔
سب زیدی ہاوس آ گے تھے جب صام نے فکرمندی سے سب سے پوچھا ۔۔۔
کوئ بھی فون نہیں آٹھا رہی ۔۔۔
اب تو منان بھی پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
روحا کدھر ہے ۔۔۔
صام اب گارڈ سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
جی میم اندر ہے ۔۔
گارڈ نے سکون سے جواب دیا تھا ۔۔۔
شکر ہے سب سکون میں ہے تو نے ویسے ہی جان نکال دی ہم سب کی ۔۔۔
سارے ابھی زیدی ہاوس کے مین گیٹ تک آۓ تھے جب زرجان سکون کا سانس لیتا بولا تھا ۔۔۔
سکون تو ہے پر مجھے یہ سکون اچ۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔۔
صام نے ابھی ہال کا گیٹ کھولتے کہہ رہا تھا جب ہال کے اندر سے چلانے کی آوازیں آئ تھی ۔۔۔۔
جب سب کے قدموں سے زمین نکلی تھی اندر سب کی چیخیں سن کر ۔۔۔
ہال کے اندر کا منظر دیکھتے سب کا دل بند ہوا تھا ۔۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے اندر یہ سب ہو رہا ہو گا ۔۔۔
