339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 48)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

ص۔صامممممم۔۔۔

روحا اندھیرے میں بیڈ پر رسیوں سے بندھی روتے ہوۓ چلا رہی تھی ۔۔۔۔

ارے سائلنٹ بیوٹی اس فوجی کو نہ بلاٶ اب تک تو وہ مر چکا ہو گا ۔۔۔

تم بس مجھ دیکھو مجھے جانو کیونکہ بہت جلد تم میری بیوی بنو گی ۔۔۔

شہروز روم میں آتا لائٹس آن کرتا اسے ہوس بھری نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔

بکواس بند کرو درندے ہمارے صام کو کچھ نہیں ہوا سنا تم نے ۔۔۔

روحا نفرت انگیز انداز سے چلائ تھی ۔۔۔

اسے یقین تھا صام کو کچھ نہیں ہوا۔۔۔

ویسے ایک بات تو ہے اس فوجی ڈیول کے مزے تھے یار تم جیسی حسین بیوی ہو وہاں شوہر کو کوئ اور لڑکی نہیں چاہے ہوتی ۔۔۔

اب میری ہو تم صبح شام ہر وقت میں تمہارے ساتھ رہو گا ۔۔۔

شہروز بیڈ کے پاس آتا اس کے اوپر جھکے ہوۓ اس کا برہنہ شولڈر دیکھتا ہوس بھری نظروں سے بولا تھا۔۔۔

نفرت ہے ہمیں تم سے پاس آنا دور کی بات ہم تمہارے منہ بھی نہیں لگنا چاہتے ۔۔

تھو۔۔۔

روحا اپنے اوپر اسے جھکا دیکھ نفرت سے کہتی اس کے چہرے پر تھوح چکی تھی ۔۔۔

مجھے اب پتہ چلا یہ ڈیول اور شعیب تمہارے لیے اتنے دیوانے کیوں ہے جو تمہاری اکڑ ہے وہی بڑی چیز ہے ۔۔۔

شہروز اپنا غصہ پیتا ہوا سکون سے اپنا چہرہ صاف کرتے بولا تھا ۔۔۔

ہ۔ہم تمہارے قریب آنے کو تیار ہے بس ایک بار ہم صام کو دیکھ لے دل کو سکون آ جاۓ گا ۔۔۔

روحا کچھ سوچتی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔

چچچچ بے بی میں کہاں سے صام کو دیکھاٶ گا اب تو صرف لاش ہو گی اس کی ۔۔۔۔

شہروز اس کی چلائ سنتا اس کے بازوں رسیوں سے کھول رہا تھا ۔۔۔

اگر تمہاری جگہ کوئ اور لڑکی ہوتی تو یقیناً اب تک رو رو کے پاگل ہو چکی ہوتی لیکن تمہیں اپنی عزت سے زیادہ اس ڈیول کی جان کی پڑی ہے ۔۔۔

ابھی بھی وقت ہے میری ہو جاٶ میں اسے چھوڑ دو گا ۔۔۔

شہروز گم صم سی روحا کو رسیوں سے آزاد کرتا اسے کمر سے پکڑے بیڈ پر بیٹھاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

اسے کرنٹ کا جٹھکا لگا تھا ۔۔۔

ہم بزدل نہیں ہے تمہارے جیسے جو ایک شخص سے ڈر کر تم ہمیں اغواہ کر گے اگر ہمت ہوتی صام کے سامنے سے لے کر آتے بزدل انسان ۔۔۔

روحا طنزیہ نظروں سے اسے دیکھتی بولی تھی جو اپنا سن ہوتا ہاتھ لے کر بیٹھا اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔

بڑی خوش ہو اس کرنٹ والی چین پہن کر ۔۔۔

اگر یہی نہ رہے تو کیسا مزہ آۓ گا مجھے ۔۔

شہروز روحا کو پکڑے دوبارہ بیڈ پر لیٹاتے اس کی شرٹ کے اندر ہاتھ ڈالے ایک ہی جٹھکے سے چین کھیچ کر اتاری تھی ۔۔۔۔

نہیں یہ مت کرو یہ ہمیں بہت عزیز ہے تم جو کہو گے ہم وہی کرے گے بس یہ چین ہمیں دے دو ۔۔۔

روحا پریشان ہوتی وہ چین مانگ رہی تھی ۔۔

صام نے اسے کہا تھا کچھ بھی ہو جاۓ وہ چین اپنے سے دور نہیں کرے گی ۔۔۔۔

تبھی اب وہ پریشان ہوئ تھی ایک چین کی وجہ سے ہی وہ ان ہوس پرست لوگوں سے بچی تھی ۔۔۔

پھر وہی کرو جو ہر لڑکی لڑکے کے ساتھ کرتی ہے ۔۔۔

شہروز روحا کی گردن کو چھوتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

ت۔تم پہلے چین دو ہمیں پھر ہم کچھ کرے گے ۔۔

روحا کی نظریں اس کے ہاتھ میں گھومتی چین کی طرف تھی تبھی وہ بولی تھی ۔۔۔۔

خوبصورت ہو تم لیکن تم مجھ جیسے کو بہلا نہیں سکتی رہی پاس آنے والی بات وہ تو تم ویسے بھی آ سکتی ہو میرا ٹائم ویسٹ کر رہی ہو ۔۔۔

شہروز ایک ہی پل میں چین توڑتا ہوا روحا کی چلاکی سمجھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جانور وحشی درندے حیوان تم نے ہماری چین توڑ دی ہم صام کو کہے گے تمہارے ٹکڑے ٹکڑے ک۔۔۔

چٹاخخخ۔۔۔

روحا شدید غصے میں آتی شہروز کو بالوں سے پکڑتی دانت پیستی ہوئ اس کی گردن گھوماتی بول رہی تھی جب شہروز غصے میں آتا روحا کے چہرے پر تپھڑ مارا تھا ۔۔۔

وہی تپھڑ کھاتی روحا زمین پر جا کے اوندھے منہ گری تھی ۔۔۔۔

ہ۔م۔ہمارا بے بی۔۔۔۔۔

درد کی شدت سے روحا روتے ہوۓ چلائ تھی ۔۔۔۔

وہی شہروز کو حیرت ہوئ تھی یہ جان کر روحا ماں بنے والی ہے ۔۔۔

———————————————————–

سر پلیز اندر مت جاۓ ۔۔۔

ایک آرمی والے نے اندر جاتے صام کو روکتے کہا تھا ۔۔۔

اندر سے لاشیوں کو نکالا جا رہا تھا جو بلکل جھلس چکی تھی ۔۔۔

کیسے نہ جاٶ میں میرے دوست اندر ہے تم چھوڑو میرا راستہ۔۔۔۔

صام شدید غصہ سے کہتا اسے دھکا دیتا اندر چلا گیا تھا ۔۔۔

مانی آہان مستقیم زرجان کدھر ہو ۔۔۔

صام اندر آتا سارا بیسمنٹ خون سے بھرا پڑا تھا ۔۔۔

جن خواجہ سراٶں کو بچانے وہ آۓ تھے وہ لاکھوں بے گناہ اب خون سے لت پت لاشیں بنی ہوئ تھی ۔۔۔

چ۔چمیپن۔۔۔

آہان زخمی ہوتا دھواں میں بھاگتا ہوا آتا صام کو دیکھتا چلایا تھا ۔۔۔

لالہ آپ باقی سب کدھر ہے مجھے معاف کر دے لالہ میں بچا نہ سکا ۔۔۔

صام جلدی سے آہان کو اٹھتا اپنے شولڈر پر ڈالتا بھاگتا ہوا باہر جاتا

بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ آہان زخمی ہونے سے بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔۔

مانی مستقیم ۔۔۔۔

صام دوبارہ اندر آتا چلایا تھا ۔۔۔۔

سب کے جسم ایسے جھلس گے تھے جیسے کوئ کاغذ ہو ۔۔۔

صام۔مے صامے میں ادھر ہو یہاں آو۔۔۔۔

بیسمنٹ کی دوسری طرف زمین پر زخمی گرے مستقیم نے صام کو آواز دی تھی جو خود ریگنتا ہوا خون سے لت پت منان کی طرف جا رہا تھا۔۔۔

تم ٹھیک ہو ۔۔۔

صام جلدی سے بھاگتا ہوا آیا تھا ۔۔۔

ہا۔ں۔ہاں بس تم دلبر جانی کو دیکھو میں منانی کو لے کر جاتا ہو ۔۔۔

مستقیم صام کے ہاتھ پکڑتا بامشکل کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔

نہیں تم جاٶ میں اٹھا لیتا ہو ۔۔۔

صام نیچے جھکے بے ہوش منان کو شولڈر پر اٹھاۓ ساتھ مستقیم کا ہاتھ پکڑے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔

سن صامے میرے بچوں کا خیال رکھنا شاہد ہی م۔۔۔۔

کیوں مجھے میرے بچے ہنیڈل کرنے ہے تجھ کیا ہونے والا ہے بس بکواس ہی کیا کرو ہر وقت ۔۔۔

مستقیم چکر کھاتا بول رہا تھا جب صام زبردستی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

اپنے دوستوں کو موت کے منہ میں دیکھتے اس کا دل درد کیا تھا ۔۔۔

اچھا تم جاٶ۔دلبر جانی کو ۔دیکھ لو۔۔۔

مستقیم نیم بے ہوشی میں جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

پولیس آرمی نے سب کو ہاسپٹل پہنچانے کا انتظام کیا تھا ۔۔۔

وہ سب کو آہستہ آہستہ بھیج رہے تھے ۔۔۔

زرجاننن۔۔

پلر کے نیچے خون سے لت پت زرجان کو دیکھتے صام چلایا تھا ۔۔۔

اس سے پہلے وہ اس تک جاتا جب اوپر سے لٹکتا فانوس اس کے اوپر گرا تھا ۔۔۔

اہہہ۔۔۔

سارا شیشہ اس کے شولڈر پر پیوست ہوا تھا وہی وہ درد سے چلایا تھا ۔۔۔۔

کیسے دوست دے ہے مجھے سارے فضول ہے ۔۔۔

مجھے اکیلے کو کام کرنے پڑتے ہے سارے ایسے ہ گے جیسے مرنے والے ہو یار ایسے تو مت کرو مجھ پر رحم کرو ۔۔۔۔

صام اپنی پرواہ کیے بنا ہمت کرتا زرجان کے پاس جاتا پلر کو پیچھے کرتا زرجان کو اپنے دوسرے شولڈر پر ڈالا تھا ۔۔۔

جب زرجان کی مدھم چلتی سانسوں کو محسوس کیے صام دکھی ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

اپنے کندھے سے نکالتے خون کی پرواہ کیے بنا وہ چلتا ہوا زرجان کو لے کر جا رہا تھا ۔۔۔

————————————————————

میں ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتی اگر اس کے بے بی کو کچھ کیا تو روحا کی جان چلی جاۓ گی ۔۔۔

اب آپ دیکھ لے سر کیا کرنا ہے ۔۔۔

لیڈی ڈاکٹر روم سے باہر آتی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

شہروز نے اسے بلایا تھا کہ وہ روحا کے بے بی کو ختم کر سکے تاکہ بعد میں وہ اس سے شادی کر سکے ۔۔۔

اس کا کوئ تو حل ہو گا ۔۔۔

شہروز ڈاکٹر کو بالوں سے پکڑتا دانت پیستے بولا تھا۔۔۔

ک۔کوئ حل نہیں آپ ویٹ کر لے اس کے بے بی کا یا جو بھی کرنا چاہتے کر لے ایسے روحا کی جان چلی جاۓ گی ۔۔۔

ڈاکٹر اپنے بال چھڑواتی ہوئ غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔۔۔

اگر اس کا بے بی نہیں مر سکتا تو میں ایسے ہی اپنی سائلنٹ بیوٹی کو پا لو گا چاہے بعد میں وہ مر جاۓ ۔۔۔

شہروز حیوانیت لے چہرے پر کہتا روم کے اندر چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

یافی تم یہاں سب خیریت ۔۔۔

صام سب کو لاتا ہاسپٹل آیا تھا جب سامنے نڈھال سی یافی کو چکر لگاتے دیکھ پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ت۔تم کی۔۔۔

میں نے جو پوچھا وہ بتاٶ ۔۔۔

یافی اس کی پوری شرٹ خون سے بھری دیکھ بول رہی تھی جب صام دو ٹوک بولا ۔۔۔

مرحا ہانیہ کو پین ہو رہا تھا میں یہاں لے آ۔۔۔

میم ایمرجنسی آپ جلدی سے آۓ ہارٹ سرجری کرنی ہے ۔۔۔

یافی ابھی بتا رہی تھی جب نرس بھاگتی ہوئ یافی کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔

میں سرجری کرتی ہو چلو ۔۔۔

لیکن یافی تمہاری حالت ۔۔۔

یافی جلدی سے اس کے ساتھ جاتی بولی تھی جب صام پریشان ہوتا بولا ۔۔۔۔

کیونکہ یافی کا آٹھاوں ماہ لگا تھا ۔۔۔

————————————————————

زر۔زر۔جا۔جاننننن۔۔۔

یافی جیسے پی آپریشن تھٹر آئ سامنے بے ہوش خون میں لت پت زرجان کو دیکھتے یافی چلائ تھی ۔۔۔

م۔میم حوصلہ کرے ان کی ہارٹ سرجری کرنی پڑے گی ان کا ہارٹ ڈیمیج ہو چکا ہے ۔۔

پاس کھڑی نرسیں یافی کو پکڑتی اسے دیکھتی بولی تھی جو زرجان کے چہرے کو دیوانہ وار چومتی رو رہی تھی ۔۔۔

————————————————————

ص۔آم

ان۔اندر زرج۔زرجان کی۔۔۔۔

ریلکس یافی کچھ نہیں ہوا یہاں بیٹھو ۔۔۔۔

یافی روتے ہوۓ ویسے ہی باہر آتی صام کے سینے سے لگی روتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام نے اسے کرسی پر بیٹھایا تھا ۔۔۔

تم بہت بہادر ہو یافی تم آپریشن کر لو گی مجھے میرا دوست چاہے زندہ ۔۔۔

صام اس کے کاپنتے ہاتھ پکڑتا اسے پرسکون کرتا بولا تھا ۔۔۔

میں کیسے صام میرے ہاتھ کانپ رہے ہے۔۔۔۔

صام یافی کو ساری بات بتا چکا تھا تبھی یافی اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

اتنی ہارٹ سرجری کی ہے یہ بھی کرو گی دیکھنا کامیاب ہ۔۔۔

میم جلدی آۓ ٹائم کم ہو رہا ۔۔۔

صام بول رہا تھا جب نرس بھاگتی ہوئ باہر آتی بولی تھی ۔۔۔

جاٶ میری بہنا سب ٹھیک ہو گا ۔۔۔

صام یافی کا ہاتھ پکڑے اسے کھڑا کرتا اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

ہاے روحا بے بی میں نے سوچا تھا تمہارے بچے کو ختم کر دو لیکن ڈاکٹر کہتی ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔

اور میں اتنا وقت بھی نہیں لے سکتا اس لیے سوچا آج ہی تمہیں حاصل کر لو ۔۔۔

بیڈ پر نڈھال سی روحا کے گال پر ہاتھ رکھتا وہ پاگلوں کی طرح خوش ہوتا بولا تھا ۔۔

ن۔نفرت ہے تم سے جانور ۔۔۔

روحا اپنا چہرے موڑتے نفرت سے بولی تھی ۔۔۔

ارے میری جان مجھے تو محبت ہے جانتی ہو جب بابا کا قتل صام نے کروایا تب سے میرا دشمن بن گیا ۔۔۔

پھر مجھے پتہ چلا اس کی بیوی بھی ہے بس وہ چیپس کومل کو دی تاکہ میں ہر چیز کو جان سکو ۔۔۔

لیکن اس فوجی ڈیول نے یہ پلان بھی میرا خراب کر دیا ۔۔۔

پر جیسے ہی تمہیں دیکھا تو ہر چیز بھول گیا بس تمہیں پانے کی چاہ تھی مجھے جو آج پوری ہو گی ۔۔۔

شہروز نے یہ کہتے ہی روحا کی گردن پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔

د۔درو رہو تم ۔۔۔

تمہارے پاس آنے سے اچھا ہم موت کو گلے لگا لے ۔۔۔

روحا ہمت جمع کرتی شہروز کو دھکا دیتی بولی تھی ۔۔۔۔

تیری تو۔۔۔۔

میں اتنے آرام سے بات کر رہا لیکن تو سن ہی نہیں رہی جانور کہتی ہو ۔۔مجھے میں اب جانور بن کر دیکھاٶ گا ۔۔۔۔

شہروز آپے سے باہر ہوتا اٹھ کر کھڑا ہوۓ اپنی پینٹ سے بلیٹ نکالتے وہ جانور کی طرح روحا کے جسم پر مارنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔

وہ بھول گیا تھا روحا کو اسے پانا تھا ۔۔۔۔

روحا درد سے تڑپتے سب کچھ سہہ رہی تھی ۔۔۔

————————————————————

زرجان کیسا ہے اب ۔۔

صام کو ڈاکٹر نے بتا دیا تھا مستقیم منان آہان تینوں خطرے سے باہر ہے بس جیسے ہی ہوش آۓ گا وہ دیکھ لے انہیں ۔۔۔

لیکن زرجان کو ہوش ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔۔

تبھی اس کے شولڈر سے شیشے کے ٹکڑے نکالتی یافی سے پوچھا تھا ۔۔۔

جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔

آپ۔آپریشن کر دیا ۔میں نے لیکن ابھی تک ہوش نہیں آیا اگر اسے کچھ ہو گیا میرا کیا ہو گا ۔۔۔

یافی روتے اٹکتے ہوۓ بولتی شیشہ نکال رہی تھی ۔۔۔

کچھ نہیں ہو گا ڈبل زی کو تم حوصلہ ر۔۔۔۔

ڈاکٹر فیا ۔۔۔

مرحا ہانیہ کی حالت بہت خراب ہے وہ رو رہی ہے ان کے شوہر پاس ہو ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کرے ۔۔۔۔

صام بول رہا تھا جب ایک لیڈی ڈاکٹر بھاگتی ہوئ یافی کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔

ایسے کو ٹھیک نہیں ہو گ۔۔۔

آپ ایسا کرے منان اور مستقیم کو ان کے ساتھ روم میں لے جاۓ شاہد وہ دیکھ کر پرسکون ہو سکے ۔۔۔

یافی بول رہی تھی تبھی صام سردپن لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔

جی ٹھیک ۔۔۔

ڈاکٹر صام کی بات سنتی واپس چلی گی تھی ۔۔۔

———————————————————-

صام کیا ہو گیا اب انیجل اس کے پاس ہے ۔۔۔

یافی پریشان سی ہوتی بولی تھی ۔۔۔

کچھ سمجھ نہیں آ رہا یافی میرا دماغ ماٶف ہو چکا ہے ابھی تک تو مجھے پتہ چل رہا تھا انیجل ٹھیک ہے لیکن مجھے لگتا اس حیوان نے وہ چین توڑ دی ہے ۔۔۔

صام پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ہ۔۔۔۔

اس سے پہلے یافی کچھ کہتی جب صام کے موبائل پر مسچ رنگ ہوا تھا ۔۔۔

اہہہہ ڈیول کیسا فیل کر رہے ویسے یہ زندگی موت کا کھیل کھیل کر ۔۔۔

صام نے جب مسچ آن کیا اس میں ویڈیو آن ہوئ تھی ۔۔۔

جہاں شہروز شیطانی مسکراہٹ لاۓ بول رہا تھا ۔۔۔

چلو تھوڑا سا مزہ کرتے ہے ۔۔

صام خاموشی سے ویڈیو دیکھ رہا تھا جب شہروز خودی بولا تھا ۔۔۔

انیجلللللل۔۔۔۔

شہروز نے کمیرہ گھومایا تھا جہاں پھٹی شرٹ خون آلود جسم بکھرے بال چہرے پر سوجن رسیوں سے لٹکتی اس کے پاٶں پر کرنٹ دیا جا رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ وہ نڈھال سی روحا صرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔

روحا کی ایسی حالت دیکھ صام درد سے چلایا تھا ۔۔۔۔

اگر اپنی انیجل سے ملنا چاہتے ہو تو اکیلے آنا ۔۔۔

شہروز نے یہ کہتے ہی ویڈیو آف ہو چکی تھی ۔۔۔

انیجل انیجل ۔۔۔

صام روحا کی حالت کا سوچتا غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔۔

جبکہ یافی بھی رو رہی تھی ۔۔۔

تم۔۔ک۔کیا کرو گے ۔۔۔

یافی صام کے شولڈر سے دوبارہ خون نکلتا دیکھ اٹکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

میں اپنی انیجل کو بچاٶ گا دوستی تو بچا لی اب جنون بچانا باقی ہے ۔۔۔

صام ڈیول کے روپ میں آتا دھاڑتا ہوا روم سے واک آوٹ کر چکا تھا ۔۔۔

مبارک ہو ڈاکٹر فیا مسز مستقیم کے بیٹی ہوئ ہے اور مسز منان کے بیٹا۔۔۔۔

صام کو باہر جاتا دیکھ لیڈی ڈاکٹر اندر آتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔

یافی کو سمجھ نہیں آیا وہ روے یا خوش ہو۔۔۔

———————————————————–

ص۔ص۔صام پ۔پانی۔۔۔۔

روحا کرنٹ کے جٹھکے کھاتی درد سے تڑپتی کتنی دفعہ بے ہوش ہوئ تھی ۔۔۔

اب تو صبح بھی ہو چکی تھی

جب ہوش میں آتی اکڑے جسم سے وہ بامشکل بول پائ تھی ۔۔۔۔

ارے میری جان کو ہوش آ گیا کیسا فیل کر رہی ۔۔۔

شہروز روحا کو بالوں سے پکڑتے اس کے سرخ سوجے گال کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

ص۔صام۔صام۔۔۔

ہم۔ہمیں پانی پینا ہے ۔۔۔

روحا آنسو بہاتی ایک ہی رٹ لگا رہی تھی ۔۔۔

چلو پانی دیتا ہو تمہیں میں اتنا تو کر سکتا ہو ۔۔۔

شہروز پانی کا گلاس اس کے لبوں سے لگاتا بولا تھا ۔۔۔

اب اس کی نظریں روحا کی زخمی گردن سے نیچے تک تھی جہاں سے اس کے ہونٹوں سے پانی نکلتا نیچے کی طرف بہہ رہا تھا ۔۔۔

مجھے نہیں مارنا چاہے تھا خیر مجھے معاف ک۔۔۔

صامممم۔۔۔

شہروز اپنے لب اس کی گردن پر رکھتے بول رہا تھا جب روحا درد سے تڑپتے بولی تھی ۔۔۔

جب صام تمہاری آنکھوں کے سامنے مر گا تب ہی تمہیں یقین آۓ گا ۔۔۔۔

شہروز روحا کو چھوڑتے کہتا روم سے چلا جاۓ گا ۔۔۔

————————————————————

بزدل انسان میں آ گیا بتاٶ انیجل کدھر ہے ۔۔۔

صام ڈیول بنا سنسنان پہاڑی پر آتا چلایا تھا ۔۔۔

شہروز نے اسے یہاں بلایا تھا ۔۔۔

یہ لو مل لو آخر دفعہ ۔۔۔

شہروز اپنے آدمیوں کے ساتھ آتا اپنے ساتھ لاۓ روحا کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

انیجل۔۔۔

صام شہروز کی باہوں میں نڈھال سی روحا کو جھولتا دیکھ دھاڑا تھا ۔۔۔

ص۔صامم۔۔۔

روحا بے تاب ہوتی اپنے سامنے آدمیوں کی گرفت میں کھڑے صام کو دیکھتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

میں نے سوچا آخر دفعہ ملا دو ۔۔۔

ڈیول کو موت انیجل دے گی ۔۔۔

سب جانتے تمہیں موت یہ گولی وغیرہ کھانے سے نہیں بلکہ اپنی انیجل کی دوری سے آۓ گی ۔۔۔

بس مل لو پھر میں اسے لے کر یہاں سے چلا جاٶ گا ۔۔۔

شہروز نے جب دیکھا صام کو دیکھ کر روحا کے چہرے پر رونق آئ تھی تبھی وہ دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ایک دفعہ ملنے دو مجھے ۔۔۔

صام سکون سے کھڑا بولا تھا ۔۔۔

ملنے دو گا پہلے میرے سامنے جھک کر کہو ۔۔۔

شہروز اسے سکون سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

بھول ہے تمہاری کہ ڈیول کبھی جھکے گا بھی ۔۔۔

ڈیول ویسے ہی روحا کی طرف دیکھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ہمممم۔۔۔۔

چلو پھر درد ہی برداشت کرو گے ۔۔۔

شہروز اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

وہی سو کے برابر آدمی صام کو مارنے اس پر حاوی ہوۓ تھے ۔۔۔۔

———————————————————–

چ۔چھ۔چھوڑ۔دو پلیز صا۔صام کو تم ہمیں پانا چاہتے ہو ہم تمہارے ساتھ پوری زندگی رہے گے بس صام کو چھوڑ دو ۔۔۔

روحا کب سے یہ سب اپنے سامنے دیکھ رہی تھی سب صام کو مار مار کر خودی نڈھال ہو چکے تھے ۔۔۔

لیکن ان کی گرفت میں خون سے لت پت صام سکون سے مار کھا رہا تھا ۔۔۔۔

تبھی روحا صام کے جسم پر خون دیکھتی درد سے تڑپتے ہوۓ شہروز کی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔

اسے کہو جھک جاۓ میرے سامنے ۔۔۔

شہروز دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ صام بنا ہار مانے ویسے ہی سکون سے کھڑا تھا ۔۔۔۔

ص۔صام آپ مان جاۓ ی۔یہ چھوڑ دے گ۔۔۔

بلکل نہیں میری جان میں ایسا نہیں کرو گا ۔۔۔

صام اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

آپ ڈیول ہے مارے ان سب کو ڈیول یہ اچھا نہیں کر رہے ۔۔۔

روحا نے جب دیکھا صام کے پیچھے کھڑے آدمی اس کی کمر پر ڈنڈے مار رہے جیسے وہ سکون سے کھا رہا تھا تبھی چیختی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

انیجل نے منع کیا ڈیول ایسا کچھ نہیں کر سک۔۔۔

صام کو ہم نے نہیں روکا ۔۔۔

صام بول رہا تھا جب روحا دانت پیستے چلائ تھی ۔۔۔

ڈیول کی کمزوری ہو لیکن صام آفندی کی طاقت ہو میں اتنا کمروز ہرگز نہیں ہو ۔۔۔

صام کے منہ سے خون کی الٹی آئ تھی جب وہ بولا تھا ۔۔

دیکھو ہم تمہارے پاٶں پکڑتے ہے ہمیں ایک بار ملنے دو صام سے ۔۔۔

صام کی اب حالت دیکھتی روحا نڈھال سی شہروز کے قدموں میں بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں مل لو۔۔۔

شہروز کو ترس آیا تھا اس پر کسی لڑکی تھی جو اپنی پرواہ نہ کرتی بس صام کا سوچتی اس کے قدموں میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

ص۔صام آپ جاۓ ی۔یہاں سے۔۔۔

شہروز نے جیسے ہی روحا کو چھوڑا روحا گرتی پڑتی بھاگتی صام کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔

رو کیوں رہی اور یہ اس کے پاٶں میں بیٹھی تھی انیجل ہ۔۔۔

بہت برے ہے آپ صام۔۔۔

صام روحا کا چہرہ پکڑے اسے ڈانٹ رہا تھا جب روحا سوں سوں کرتی اس کا خون سے بھرے گال کو چومتی بولی تھی ۔۔۔

روحا کی پھٹی شرٹ صام کے خون سے پوری بھر چکی تھی ۔۔۔

س۔سر پولیس آ گی ہے ۔۔۔

شہروز اپنے سامنے یہ منظر دیکھ رہا تھا جب ایک آدمی بھاگتا ہوا ڈرتا بولا تھا ۔۔۔

دھوکا دیا تم نے تم اکیلے نہیں آۓ ۔۔۔۔

شہروز غصے میں آتا پاس جاتا روحا کو بازوں سے پکڑے دور لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔

میں کہہ نہ اتنا بزدل نہیں ہو اکیلا آیا تھا ۔۔۔

صام اپنے سے دور جاتی روحا کو دیکھتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔

پولیس صام نے نہیں میں لایا ہو ۔۔

شعیب وہاں گن لوڈ کرتا غصہ میں آتا بولا تھا ۔۔۔

شعیب تم لے جاٶ انیجل کو یہاں سے ۔۔۔

صام شعیب کی طرف دیکھتا چلایا تھا ۔۔۔۔

سائلینٹ بیوٹی میری ہے تم دونوں کو نہیں ملے گی ۔۔۔

شہروز روحا کو پکڑے اپنے ایک ہاتھ سے گن کا رخ صام کے سینے کی طرف کرتا شوٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔

صامممممم صاممممم۔۔۔۔

روحا نے جیسے ہی دیکھا گولی کھاتے صام پہاڑی سے نیچے لڑکھڑاتا گرا تھا ۔۔۔

وہی وہ شہروز کو دھکا دیتی اس کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔

———————————————————–

شہروز روحا کو بھی پہاڑی کے نیچے گرتا دیکھ وہاں سے جان بچاتا بھاگ چکا تھا ۔۔۔

جبکہ شعیب حیران پریشان پہاڑی کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔

صام کو گولی لگتے ہی نیچے گرتے ایک درخت کی ٹہنی سے لٹک رہا تھا جب روحا کو بھی گرتے دیکھا ۔۔۔

تم یہاں کیوں آئ جاٶ میری پوری زندگی ہو تم انیجل ۔۔

صام دانت پیستے بولا تھا ۔۔

اسے فکر نہیں تھی اگر یہاں سے گر کر اسے موت ملتی لیکن اب روحا کو ایسے لٹکتا دیکھ زندگی میں پہلی دفعہ اس کی جان لبوں پر آئ تھی ۔۔۔۔

ہم نہیں چھوڑے گے آپ کو چاہے موت مل جاۓ ۔۔۔

روحا ٹہنی سے لٹکتی اپنے پاٶں صام کے پاٶں کے ساتھ ٹچ کرتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔۔

مجھے موت دینا چاہتی ہو ۔۔۔

صام اپنے پاٶں سے اس کے پاٶں کو لاک کرتا اپنی طرف لاتا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ وہ چاہتا تھا روحا بچ جاۓ ۔۔۔

ہاں دے گے ہم موت ۔۔

روحا سکون سے اپنی ٹانگیں اس کی کمر پر لاک کرتی بولی تھی ۔۔۔

اب روحا کا سارا وزن صام پر پڑ رہا تھا ۔۔۔

اوےےے جعلی ویکیسن انیجل کو بچا لو اگر زندہ رہ تو شکریہ ادا کرو گا مجھے اس کی جان کی فکر ہے ۔۔۔

صام نے جب دیکھا روحا بنا ڈرے اس سے چیپکی سکون سے اپنا منہ اس کی گردن میں چھپاۓ لٹک رہی ہے تبھی وہ غصے سے چلایا تھا ۔۔۔

بلیک بیوٹی ہاتھ پکڑوں مج۔۔۔

جاٶ یہاں سے شعیب اگر ہماری تھوڑی سی بھی عزت کرتے ہو جاو۔۔۔۔

شعیب نیچے جھکے اپنا ہاتھ لاتا بول رہا تھا جب روحا دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ل۔۔۔

جاٶ یہاں سے۔۔۔

شعیب بے بس ہوتا بولنے والا تھا جب روحا زور لگاتی چلائ تھی ۔۔۔۔

وہی ٹہنی کمزور ہوتی جھولی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا چاہتی ہو تم ماں بنے والی ہو اتنی خود غرص ہو رہی ہ۔۔۔۔

آپ کو چاہتے ہے ہم ہاں خود غرص ہوۓ ہم آپ کے بنا نہیں رہ سکتے اگر زندہ رہے تو بے بی ہو جاۓ گا لیکن آپ کے بنا ہم ایک منٹ نہیں رہ سکتے ہم بھی ساتھ مرے گے ۔۔۔

صام بے بس ہوتا بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ ٹہنی آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی تھی جس پر وہ دونوں ہوا میں اکیلے جھول رہے تھے ۔۔۔

آپ کو بچانے کے لیے ہم اس حیوان کے قدموں میں بیٹھے لیکن آپ حد ہے صام ۔۔۔

لیکن اب ہم بھی اپنے جنون کی حد پار کرتے ہے ۔۔

اگر ایک ساتھ ہم دونوں کو موت مل سکتی ہے ہمیں قبول ہے ۔۔۔

آپ کی قربت آپ کی سانسوں کا ہمیں نشہ ہو چکا ہے ہم آپ کے جنون میں پورے ڈوبے ہوۓ ہے اس کے بدلے ہمیں موت ملتی ہمیں قبول ہے ۔۔۔

روحا اپنے لب صام کے گال پر رکھتی سرگوشی کرتے بولی تھی ۔۔۔

وہی صام کے دل پر سکون اترا تھا ۔۔۔

سوچ لو موت کو گلے لگانا پڑے گا پ۔۔۔۔

ہم تیار ہے ایک آرمی آفسر کی بیوی ہے بس یہ کچھ پل ہم جینا چاہتے ہے آپ کی سانسوں کے قریب ۔۔۔

صام نے جب دیکھا ٹہنی ان کا وزن اٹھانے سے انکار ہو چکی ہے تبھی روحا کو ورن کرتے بول رہا تھا جب روحا ٹہنی چھوڑے اپنی بائیں اس کی گردن میں حائل کرتے سکون سے بولتی اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔

روحا کی قربت پاتے ہی صام نے بھی ٹہنی چھوڑے اس کے کمر سے مضبوطی سے پکڑے سب کچھ بھلاۓ اس کی سانسوں میں مدہوش ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔

اوپر کھڑے شعیب نے یہ منظر دیکھا تھا ۔۔۔

بلیک بیوٹی ڈیولللللل۔۔۔

جب دیکھتے ہی دیکھتے روحا صام ویسے ہی پہاڑی کے نیچے بنی گہری کھائ میں گر چکے تھے ۔۔۔

شعیب شوک ہوتا وہی بیٹھتا چلایا تھا ۔۔۔۔

دونوں نے اپنا آخری سفر شروع کر لیا تھا ۔۔

ڈیول انیجل کو ساری دنیا سے لے کر بہت دور چلا گیا تھا ۔۔۔

———————————————————–

کیسا قہر برسا ہے میرے ہنستے بستے گھر کو ۔۔۔

وردہ بیگم سیڑھیوں سے اترتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

یافی گھر آئ تھی نوفل کے ساتھ تبھی اس نے آفندی صاحب زیدی صاحب وردہ بیگم کو سب کچھ بتا دیا تھا ۔۔۔

روحا کے بارے میں سنتے ہیر کب س بے ہوش پڑ چکی تھی ۔۔۔

اپنے گھر کی یہ حالت دیکھ آفندی صاحب کا دل پھٹا تھا ۔۔۔

ایک یافی ہی تھی جو سب کو حوصلہ دے رہی تھی ۔۔۔۔

فکر مت کرے ماما سب ٹھیک ہے بس ابھی ہاسپٹل جاتے ہے ۔۔

یافی ان کا ہاتھ پکڑتی بامشکل خود بھی چلتی بولی

رہی تھی ۔۔۔

ی۔یہ سب کیا ۔ہے۔۔۔

اپنے پیلس میں آرمی اور پولیس کو انٹر ہوتا دیکھ وردہ بیگم ڈرتے بولی تھی ۔۔۔

بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہم آپ کے بیٹے اور بہو کو نہ بچا سکے ۔۔۔

ایک آرمی آفسر پاس آتا افسوس کرتا بولا تھا ۔۔۔

جب دو لاشیں سٹریچر پر اندر لائ تھی ۔۔۔

ک۔کیا بکواس ہے ی۔۔۔۔

انکل یہ سچ ہے روحا اور صام میرے سامنے ہی گرے تھے تبھی آرمی اور پولیس نے مل کر ان دونوں کو کھائ سے باہر نکال لیا تھا پر ہم بچا نہ سکے ۔۔۔

آفندی صاحب شدت غم سے بول رہے تھے جب شعیب نڈھال سا اندر آتا سب پر بمب پھوڑ چکا تھا ۔۔۔

نہ۔نہیںنننن۔۔۔

یافی یہ سب سنتے برداشت نہ کرتی اپنا حوصلہ ہارتی وہی زمین بوس ہوئ تھی ۔۔۔