339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 10)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

“تو ہے لاجواب تیرے جلوۓ ہزار“

“میرا بھی پتہ ہے میں نہ مانو کبھی ہار“💞

“تیری میری دنیا میں بے حساب پیار “

”میں ہو ایک انیجل اور ڈیول میرا یار “😈👼

“تیرا جیسا دنیا میں کوئ بھی نہیں “

”جیسے ڈھونڈتی نظر تو ہی ہے وہی “💞

“پریوں کی رانی ہو میں سب سے حسین “

“پر تیرے بنا مجھے کک ملتی نہیں “💞

ڈیول چلتا ہوا صام اور روحا کے قریب آیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ پورے ہال میں خواجہ سرا اپنے جوش میں ناچ رہے تھے ۔۔۔۔

“گین آئ ڈانس ود یو “

ڈیول نے اپنا بھاری سفید ہاتھ روحا کے آگے کرتے وحشت زدہ سرخ گرین آنکھوں سے دیکھتے رعب سے بولا تھا ۔۔۔۔

م۔میرے ساتھ کرو یہ مس کالی کو ڈانس نہیں آتا ۔۔۔۔

صام زبردستی اپنا ہاتھ ڈیول کے ہاتھ پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔

جبکہ ڈیول خاموشی سے صام کا ہاتھ پکڑتے اپنے ساتھ ہال کے سنٹرل میں لے گیا تھا ۔۔۔

ڈانس وہ صام کے ساتھ کر رہا تھا جبکہ نظریں خاموش کھڑی روحا کی طرف تھی ۔۔۔۔

ارےےے ان لوگوں کو کس نے بلایا ہے میں تو بھول ہی گی تھی اپنی خوشی میں ان کو شامل کرنے تھا ۔۔۔

وردہ بیگم روم سے باہر آتی بولی تھی ۔۔۔

جبکہ آہان بھی باہر آ گیا تھا ۔۔۔۔

دیکھ لے ہمیں پتہ چل گیا تھا آپ کے گھر خوشی تھی ہم آ گے ۔۔۔۔

ایک خواجہ سرا اپنا ہاتھ ناچتا ہوا مسکراتے بولا تھا ۔۔۔۔

بہت اچھی بات ہے روکو میری بہو سے ملو سارے ۔۔۔

وردہ بیگم روحا کو اپنے پاس بلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔

جو آہستہ آہستہ قدموں سے چلتی آ رہی تھی ۔۔۔

ڈیول کی آنکھ سے ایک اشارے پر سارے خواجہ سرا روحا کے آس پاس ایسے اکھٹے ہو چکے تھے جیسے انھوں نے اسے ہوا سے بھی محفوظ رکھنا ہو ۔۔۔۔

ہم ٹھ۔ٹھیک ہے آپ سب ایسے ہمارے ساتھ کھڑے ہو گے ہے ۔۔۔

روحا اپنے قریب اتنے خواجہ سرا کو دیکھتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

بہت پیاری ہو تم انیجل ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔۔

وہ چلتا ہوا روحا کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔

شکریہ آپ سب بیٹھے ہم جوس لے کر آتے ہے ۔۔۔۔

روحا مسکراتی ہوئ سب کو بیٹھاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

ڈیول جو صام کو اپنے ساتھ ڈانس کرنے لایا تھا وہ بھی خاموشی سے کھڑا سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔

یہ آج ٹھرکی کیوں خاموش ہے لگتا ہم نے کچھ زیادہ زور سے مار دیا ہاےے معافی مانگ لے گے ہم ۔۔۔۔

روحا ملازمہ کے ساتھ مل کر جوس لا رہی تھی جب سامنے صوفے پر ڈیول اور صام کو اتنا خاموش دیکھتے دل میں سوچا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ۔بولتے نہیں کیا ۔۔۔۔

روحا اسے جوس کا گلاس دیتی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی جو ہر وقت ڈیول کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔

تم مجھے نومی کہہ سکتی ہو ۔۔۔

وہ جوس کا گلاس لیتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔

ہممم۔۔

روحا خاموش ہی رہی ۔۔

یہ بولتا کم ہے جب دل کرے تب ورنہ نہیں بڑا ہی بور بندہ ہے ۔۔۔

نومی جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔

ت۔تو۔یہ ۔۔۔

روحا بیٹا صام کو جوس دو ۔۔۔

اس سے پہلے روحا کچھ کہتی جب وردہ بیگم مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

ج۔جوس ۔۔۔

روحا کو پتہ نہیں ڈیول کی آنکھوں سے وحشت محسوس ہو رہی تھی جو مسلسل اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

تبھی قریب جاتے جوس کا گلاس دیتے وہ ہکلائ تھی ۔۔۔

چلو ہم چلتے ہے ۔۔۔۔

ڈیول جوس کے گلاس کو ہاتھ لگاۓ بنا فورًا کھڑے ہوتے بولا تھا ۔۔۔۔۔

بلیک ہڈی پہنے ہاتھوں پر دستانے چڑہاۓ اپنے بالوں سے چہرے کو اچھے سے کور کیے جو آدھا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔

وہ دیو قد ڈیول ایک چلتی پھرتی موت لگ رہا تھا ۔۔۔۔

رکو بیٹا تم لوگوں کے لیے گفٹ لینے تھے پر یاد نہیں رہا ایسا کرو یہ پیسے لے لو ۔۔۔۔

وردہ بیگم ایک چیک ڈیول کے سامنے کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہمیں ضرورت نہیں ہے ہم بس ہر کسی کی خوشی میں شامل ہوتے ہے ہمارے پاس پیسے ہے اپنی محنت سے کماتے ہے آپ یہ پیسے غریب لوگوں کو دے دے ۔۔۔۔

ڈیول بنا چیک کی طرف دیکھے بولا تھا ۔۔۔۔

لیکن یہ تم خواجہ سراوں کا حق ہےا۔۔۔۔۔

ہمارا حق یہ پیسے نہیں ہمارا حق یہ ہے کہ آپ لوگ صرف ہماری عزت کیا کرے ہم سے محبت کرے یہ ہی کافی ہے ۔۔۔۔

ڈیول ان کی بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

ل۔۔۔۔

آپ کی دلہن سے ملنا تھا مل لیا اب ہم چلتے ہے ۔۔۔

ڈیول ان کی بات کاٹتا پھر بولا تھا ۔۔۔۔

ہاےےے کتنا اچھا ہے یہ لیکن آپ لوگ کیا کام کرتے ہو پھر ۔۔۔

روحا ڈیول کی بات پر خوش ہوتی چہکتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

کبھی آنا میرے پاس پھر بتاٶ گا ہمارا کیا کام ہے مائ انیجل ۔۔۔۔

ڈیول روحا کے قریب آتا سرگوشی کرتا بولتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

ڈیول کے منہ سے ایسے لفظ سن کر روحا کو جھٹکا لگا تھا ۔۔۔۔

جبکہ صام بھی خاموشی سے روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔

وہ تو ایسا ہو گیا تھا جیسے بت ہو ۔۔۔۔

لالہ ہمیں ایسے کیوں لگتا ہے جیسے ہم اس کو جانتے تھے ۔۔۔۔

روحا آہان کی طرف دیکھتی حیران ہوتی بولی ۔۔۔

جو خود بھی خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔

تمہیں ایسے ہی فیل ہوتا ہے انیجل چھوڑو یہ بتاٶ آج چمپین کیوں خاموش ہے ۔۔۔

آہان بات کو بدلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

پتہ نہیں ہمیں ۔۔۔

روحا منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیسا محسوس کر رہے ہو ۔۔۔

ڈیول اپنے پیلس آ چکا تھا جب وہ اندر آتے بولا تھا ۔۔۔۔

اففف کیا بتاٶ کیسا محسوس کر رہا پر ایک بات انیجل مجھے سے ڈرتی ہے حالانکہ میں کتنی محبت کرتا ہو اس سے ۔۔۔

ڈیول روم میں آتا اپنی ہڈی اتارتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

ان سانپ جیسی آنکھوں سے گھورتے ہو تو ڈرنا ہی ہے اس نے ۔۔

وہ اس کی گرین آنکھوں کا مذاق بناتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

میں وہاں سے آنا نہیں چاہتا تھا پر جب وہ جوس کا گلاس لے کر قریب آ رہی تھی جو ایسا لگا جیسے وہ میرے دل کی سیڑھی پر پاٶں رکھتی ہوئ میری سانسوں کے قریب آ گی ہو ۔۔۔

وہ اپنے پاٶں قالین پر رکھ رہی تھی پر مجھے اپنے دل پر محسوس ہو رہے تھے ۔۔

میں اپنے آپ پر کنٹرول کھو رہا تھا اس سے پہلے میں وہاں کھڑا یہ بھول جاتا کون ہو تبھی جلدی سے چلا گیا ۔۔۔۔

ایک بات ہے میری انیجل نے نفرت نہیں کی خواجہ سرا کو دیکھ کر ورنہ آجکل تو لوگ خواجہ سرا کو دیکھ کر نفرت سے منہ موڑ لیتے ہے ۔۔۔

ڈیول اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

ہاں تمہاری انیجل بہت پیاری ہے مجھے پسند آی ۔۔۔

وہ بھی مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

کتنا ٹائم ہو گیا جان آج ہاسپٹل نہیں آیا ۔۔۔

یافی اپنے کیبن میں بیٹھی ٹائم دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

اسے یقین تھا زرجان روز کی طرح اسے منانے آے گا ۔۔۔۔

نرسسس۔۔۔

یافی غصہ میں آتی چلائ تھی ۔۔۔۔

ج۔جی میم۔۔

نرس پریشان ہوتی اندر آتی بولی تھی ۔۔۔

مسڑ زرجان نہیں آے کیا ۔۔۔

یافی کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ غصہ کیوں کر رہی ہے ۔۔۔

وہ سر تو ڈاکٹر زوبیہ کے کیبن میں ہے ۔۔۔

نرس نے جلدی سے بتایا ۔۔۔

کیوںننننن۔۔۔

یافی غصہ سے دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

وہ سر کے چوٹ آی تھی تو وہی پ۔۔۔۔

ڈاکٹر زوبیہ میرے کیبن میں آے زرا ۔۔۔۔

نرس جو بتا رہی تھی جب یافی اپنا لیپ ٹاپ بند کرتی فون ملاتی ہوئ بولی ۔۔۔

جی میم ۔۔۔

ڈاکٹر زوبیہ روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔

ساتھ ہی مسکراتا ہوا زرجان انٹر ہوا تھا ۔۔۔۔

کس چیز کی ڈاکٹر ہے آپ ۔۔۔

یافی زرجان کو اگنور کیے بولی تھی ۔۔۔

ج۔جی میم بچوں کی۔۔۔۔

ڈاکٹر زوبیہ ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ سارے جانتے تھے اگر فیا آفندی کو غصہ آ جاۓ تو کیا کرتی ہے سب کے ساتھ ۔۔۔۔

تو بچے ہنیڈل کرے جا کر یہ پاگل انسان کو ہنیڈل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ میں ہاسپٹل سے نکال دو گی ۔۔۔۔

یافی اپنی چیئر سے اٹھ کر ڈاکٹر کے پاس آتی چبا چبا کر بولی تھی ۔۔۔

س۔سوری میم بس یہ بیڈیج کر دو میں ۔۔۔

ڈاکٹر جلدی سے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں کرو دو۔۔۔

یافی زرجان کی سفید بازو دیکھتی بولی تھی جہاں خون نکل کر خشک ہو چکا تھا ۔۔۔۔

انہہ پہلے میرے پاس آتا تھا اب دیکھو ٹھرکی کہی کا میں نے اب بات ہی نہیں کرنی ۔۔۔

یافی دوبارہ اپنی چیئر پر بیٹھتی اگنور کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

اففف آپ کی یہ زلفیں کتنی پیاری ہے ۔۔۔

زرجان یافی کا سرخ چہرہ دیکھتا ڈاکٹر زوبیہ کے بالوں کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔

ج۔جی سر شکری۔۔۔۔

ارے سر کیوں جان کہو مجھے ۔۔۔۔

ڈاکٹر جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب زرجان شوخ ہوتا بولا ۔۔۔۔

لیکن سر آپ تو شادی شدہ ہے ا۔۔۔

میں نے شادی نہیں کی ۔۔۔

ڈاکٹر زوبیہ تو خوشی سے پاگل ہوتی بول رہی تھی جب جان نے بات کاٹی ۔۔۔

ہاے سچی تو میں آپ کو ۔۔۔۔

مس زوبیہ کل سے آپ ہاسپٹل ہرگز نہیں آۓ گی جاۓ گیٹ لاسٹ ۔۔۔

یافی زوبیہ کی بات ٹوکتی غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔

یافی کب سے برداشت کر رہی تھی ان دونوں کی باتوں کو تبھی جنجھلاتی ہوئ بولی ۔۔۔

لیکن م۔می۔۔۔

جاۓ یہاں سے ۔۔۔

زوبیہ کی جان لبوں پر آ گی تھی جب بولی وہ تبھی یافی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

ہاے میری بھی کوئ پٹی کر دو چلو یافی کوئ نرس بلاٶ میری پٹی کر دے ۔۔۔

زوبیہ کے جانے کے بعد زرجان اب دانت نکالتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

جاٶ باہر نرس سے کروا لو ۔۔

یافی دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاں چلا جاتا ہو پھر اس کے زلفوں کو د۔۔۔

روکو روکو ۔۔۔

زرجان جو معصوم سی شکل بناۓ بول رہا تھا جب یافی جلدی سے روکتے ہوۓ بولی ۔۔۔

چلو تم کہہ رہی ہو تو کر دو ۔۔۔

زرجان اٹھ کر یافی کی چیئر کے پاس جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

یہاں بیٹھ جاٶ ۔۔۔

یافی اپنی چیئر سے کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔

ویسے تمہاری بازو پر چوٹ کیسے لگتی ہے ۔۔۔

یافی اس کا بازو پکڑتی ہوئ کچھ سوچ کر بولی ۔۔۔

وہ میری بیوی مجھ سے محبت نہیں کرتی تو غصہ سے چوٹ لگوا لیتا ہو ۔۔۔

ہاں تو بیوی کو تنگ کم کیا کرو تاکہ وہ محبت کر سکسے تمہیں ۔

یافی اس کی گرے آنکھوں میں شرارت دیکھتی ہوئ منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

لو تنگ تو کیا ہی نہیں میں نے یافی جانی ۔۔۔

زرجان یافی کے نرم ملائم ہاتھوں کو پکڑتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

ی۔ی یہ کیا کر رہے ہو میں نے لیپ ٹاپ یوز کرنا تھا ۔۔۔

زرجان یافی کے دونوں ہاتھوں کو پکڑتے اس پر پٹی سے باندھنے تھے۔۔۔

جب یافی چلائ تھی ۔۔۔

تنگ کرنے کا موڈ ہو رہا یافی جان ۔۔۔

زرجان یہ کہتے ہی یافی کو اپنی گود میں گرا چکا تھا ۔۔۔

شرم کرو کچھ ہاسپٹل ہ۔۔۔۔

کیسی شرم کوئ اندر نہیں آنا اب چپ رہو ۔۔۔۔

یافی جو جنجھلاتی ہوئ بول رہی تھی تبھی زرجان اس کے باندھنے ہوۓ دونوں بازوں کو اپنی گردن میں حائل کرتا بولا تھا ۔۔۔

اب حالت یہ تھی یافی زرجان کے چہرے کی طرف چہرے کیے منہ بناتی ہوئ بیٹھی تھی ۔۔۔۔

انیجل انیجل کی کال آ رہی پلیز چھوڑو زرجان ۔۔

یافی لیپ ٹاپ پر روحا کی ویڈیو کال دیکھتی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔

ہاۓ انیجل کیسی ہو تم زرا بعد میں کال کرنا میں یافی کو منا لو پتہ ناراض ہو گی ہے مجھ سے ۔۔۔

زرجان ویسے ہی ٹیبل پر پڑے لیپ ٹاپ سے کال پک کرتا مسکراتا ہوا ایک ہی سانس میں بولا تھا ۔۔۔

اووو سوری بھائ ہم بعد میں کال کر لے گے ۔۔۔

روحا شرمندہ ہوتی جلدی سے کہتی کال کاٹ کر چکی تھی ۔۔۔

انیجل انیجل بات سنو یہ پاگل ۔۔۔۔

یافی کو سمجھ ہی نہیں آیا ہوا کیا تبھی جلدی سے بولی اب لیپ ٹاپ کی کالی سکرین دیکھتے یافی زرجان کو گھور رہی تھی ۔۔۔

چلو اب مان جاٶ جان میں بس تمہیں ہی تنگ کرتا ہو بیوی ہو محبت ہو میری ۔۔۔

زرجان یافی کا چہرہ اپنے قریب لاتے پیار سے بولا تھا ۔۔۔۔

محبت نہیں میں تمہاری میں جانتی ہو اگر ہوتی تو اس زوبیہ سے بات ن۔۔۔۔۔

یافی جو غصہ سے منہ بناۓ بول رہی تھی جب زرجان اس کی گردن کو پیچھے سے پکڑتے اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

یافی بے بس ہوتی بس دبا دبا چلا رہی تھی ۔۔۔۔

محبت ہو تم میری یہ بار بار ایسا مت کہہ کرو ورنہ سب جانتے ہے زی اپنے غصہ کا کتنا تیز ہے ۔۔۔

زرجان یافی کو نرمی سے چھوڑے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔

بے شرم انسان ۔۔۔

یافی گہرے گہرے سانس لیتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاں میں بے شرم چلو گھر چلتے ہے ویسے بھی شام ہو ہو رہی ۔۔۔

زرجان ویسے ہی یافی کو کندھے پر ڈالے کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔

چھوڑو مجھے جان میں چل سکتی ہو چھوڑو ۔۔۔

یافی اپنے بازوں اس کے کندھے پر مارتی اختجاج کرتی بولی تھی ۔۔۔

اب تو گھر جا کر ہی چھوڑو گا ۔۔۔

زرجان ویسے ہی باہر نکلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاسپٹل کا ساتھ سٹاف منہ کھولے یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔۔۔

جو اپنے کندھے پر ایک لڑکی آٹھاۓ سکون سے چلتا جا رہا تھا بنا کوئ پروا کیے ۔۔۔

————————————————————

ہیر آپی اتنا کچھ ہو گیا آپ ہمیں آج بتا رہی ہے ۔۔۔

روحا ہیر کی بات سنتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

میں تو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہی بلیک بیوٹی کتنا برا ہوا میرے ساتھ میں کیا جواب دو گی ۔۔۔

ہیر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئ بولی ۔۔۔

کچھ نہیں ہو گا ہم کچھ عرصے کے لیے یہاں سے چلے جاتے ہے پھر واپس آ جاۓ گے آپ اپنی زندگی دوبارہ اچھی سے گزرنا ۔۔۔

روحا اسے تسلی دیتی بولی تھی ۔۔۔۔

لیکن بلیک بیوٹی ایس۔۔۔۔

ہم سبنھال لے گے آپ تیاری کرے ہم ملتان جا رہے ۔۔۔

روحا اپنی جگہ سے آٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

پاپا آپ مان جاۓ نہ صرف پانچ ماہ کی بات ہے ہم دونوں اچھے سے خیال رکھے گے ۔۔۔

روحا زیدی صاحب کے گلے لگتی لاڈ سے بولی تھی ۔۔۔

لیکن کیوں بیٹا ہم دونوں بھی اکیلے رہ جاۓ گے ساتھ چلتے ہے نہ ۔۔۔

زیدی صاحب مسکراتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔

دیکھے پاپا ہیر آپی کا ماحول چیج کر دیتے ہے شاہد وہ سکون محسوس کرے ہر وقت کھوئ کھوئ رہتی ہے اور ہماری بھی اسٹڈی کمپلیٹ ہو گی بس رزلٹ آنے والا ہے ۔۔۔

ہمیں جانے دے پلیز پاپا ہم نے انجواۓ کرنا ہے ۔۔۔

روحا ضد کرتی بولی تھی ۔۔۔

چلو ٹھیک ہے ملتان کے فارم ہاوس رہو گی دونوں اور خیال رکھو گی ویسے بھی میں ٹور پر جا رہا آفندی کے ساتھ بزنس کے سلسلے میں ۔۔

زیدی صاحب اپنا بھی اسے بتا رہے تھے ۔۔۔۔

ہم پکا واپس آ جاۓ گے پاپا بس ہیر آپی ٹھیک ہو جاۓ ۔۔۔

روحا اب سنجیدہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔

زیدی صاحب بزنس ٹائکون جن کی صرف دو ہی بیٹیاں تھی بڑی بیٹی ہیر زیدی تو چھوٹی بیٹی روحا زیدی ۔۔۔

روحا ایک سال کی تھی جب اس کی ماما کا انتقال ہو گیا تھا ۔۔۔

تب سے روحا کو ہیر اور زیدی ہنیڈل کرتے تھے ۔۔۔

روحا اور ہیر اگلے دن اسلام آباد سے ملتان چلی گی تھی ۔۔۔۔

یہ جانے بنا کہ قسمت دونوں بہنوں کو کتنا رولانے والی تھی ۔۔۔

————————————————————

آہہہ آہہہہ۔۔۔

منان رات کو گھر آیا تو اسے چلانے کی

کی آواز آی ۔۔۔

ہانیہ ہانیہ میری جان کیا ہوا ۔۔۔

منان آواز سنتا کچن میں آتا بولا تھا ۔۔۔

جہاں ہانیہ اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے چلا رہی تھی ۔۔۔

وہ چولہے کی آگ تیز تھی تو اب چہرے پر جلن ہو رہی کافی ۔۔۔

ہانیہ آنکھوں میں آنسو لاتی ہوئ بولی تھی ۔۔

افففف پاگل لڑکی ہزار دفعہ کہا ہے ملازمہ کام کر لے گی جب پتہ ہے آگ کے قریب جانے سے جلن ہوتی ہے تو کیوں جاتی ہو چلو باہر لاوئج میں بیٹھو میں آتا ہو ۔۔۔

منان ہانیہ کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

پولیس یونفارم پہنے ویسے ہی بکھرے بال اونچا لمبا قد کالی گہری آنکھیں سفید رنگ وہ پریشان سا ہاتھ میں برف کا باٶل لیتا ہوا آ رہا تھا ۔۔۔

جب صوفے پر بیٹھی ہانیہ غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

کتنی محبت کرتا ہے جبکہ میرا چہرہ دیکھ کر سب کو کراہت آتی ہے پر یہ انسان سب کچھ بھول جاتا ہے جب میں تکلیف میں ہو تو ۔۔۔

ہانیہ اپنے قریب پریشان سے منان کو بیٹھتے دیکھ دل میں سوچا ۔۔۔

زیادہ جلن تو نہیں ہو رہی ہانیہ میں ڈاکٹر کو بلا لو ۔۔۔

منان برف کا ایک پیس لیتا اس کے چہرے پر رکھتی فکرمندی سے بولا تھا ۔۔۔

سسی۔۔۔ہانیہ اپنے چہرے پر ٹھنڈی برف محسوس کرتی سسک پڑی ۔۔۔

ت۔تم جاٶ کپڑے چیج کرو م۔۔۔

ششش آواز نہ آے ۔۔

ہانیہ اپنے اتنے قریب منان کو دیکھتی ایک تو ٹھنڈی برف دوسرا منان کا نرم گرم لمس پاتی وہ گھبرا گی تھی تبھی بولی ۔۔

جب منان ویسے ہی چہرے پر برف پیھرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جیسے جیسے منان برف کو اس کے چہرے پر پھیر رہا تھا ویسے ہی ہانیہ کی سانسیں تیز تر ہو رہی تھی ۔۔۔۔

م۔منان۔۔۔

ہانیہ نے اپنی آنکھوں کو بند کرتے گہری سانس لیتے پکارہ تھا ۔۔۔

جی میری جان بتاٶ یہاں جلن ہو رہی ۔۔۔

منان بھی بہکا ہوا سب بھول کر ہانیہ کے نیم وا ہونٹوں پر برف کا پیس رکھتا ہوا بولا جہاں سے اسے ہانیہ کی گرم سانسیں آتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔

م۔مت کرو جاٶ یہاں س۔م۔۔۔

ہانیہ اپنی سانسوں پر قابو پاتی بول رہی تھی جب منان ہوش سے بیگانہ ہوتا اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا ۔۔۔

ہانیہ جو کہ اپنے لبوں پر پہلے ہی جلن محسوس کر رہی تھی اب منان کا لمس پاتی اور تڑپ گی تھی ۔۔۔۔

آج کے بعد کچن میں مت جانا ورنہ تمہاری جلن ایسے ختم کرو گا میں ۔۔۔

منان ہانیہ کو نرمی سے چھوڑتے اس کے گیلے ہونٹوں کی طرف دیکھتے بولا تھا ۔۔

ج۔جی اچھا۔۔۔

ہانیہ اپنی سانسوں کو سبنھالتی ہوئ کہتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔

———————————————————–

اففف ہمیں فون ہی نہیں کرنا چاہے تھا ۔۔۔

روحا روم میں آتی شرمندہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔

چلو ایک بات تو ہے یافی آپی خوش ہے جان بھای کے ساتھ ہاۓ ۔۔۔

روحا خوشی سے جھومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ویسے آج مسٹر ٹھرکی خاموش رہے پتہ نہیں کہاں ہے ۔۔۔

روحا اچانک روم کی خاموشی دیکھتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

بلیک بنیان بلیک ہی شارٹس پہنے بکھرے بال جو کہ کندھوں تک آتے تھے اپنی سرخ گرین آنکھوں پر چشمہ لگاۓ وہ بے نیاز سا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا ۔۔۔

ارے واہ ہ آج مسٹر ٹھرکی کام کر رہے ۔۔۔

روحا اسٹڈی روم میں داخل ہوتی بولی تھی ۔۔۔

صام فل اگنور کیے بیٹھا تھا ۔۔۔

چلو کام کرو اچھی بات ہے شعیب کو دیکھ لو وہ کتنا اچھا بزنس مین ہے ۔۔۔

روحا کو بے چینی ہوئ تھی صام کا اگنور کرنا تبھی اسے چڑہانے کے لیے بولی جس میں کامیاب بھی ہوئ ۔۔۔۔

ہاں تو جاٶ اس کورنا کی جعلی ویکسین کے پاس میرا سر مت کھاٶ۔۔۔

صام چڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

یہ تو اور اچھی بات ہو گی ہم جا رہے ویسے فو نمبر د۔۔۔۔۔

روحا جو خوشی سے چہکتے ہوۓ واپس جا رہی تھی جب صام نے اس کی بازو پکڑتے ایک ہی جھٹکے میں اپنے اوپر گرایا ۔۔۔

یہ کیا حرکت ہے صام ۔۔۔

روحا غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔۔

کہی نہیں جاو گی تم سمجھی تمہیں جو ہوا بھی چھوتی ہے مجھے اس سے بھی نفرت اور تم مجھے جلانے کے لیے اس کورنا کی جعلی ویکسین کے پاس جا رہی ہو ٹانگیں توڑ دو گا ۔۔۔۔

صام غصہ سے روحا کو کمر سے پکڑتے دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔

روحا کو اپنی کمر ٹوٹتی ہوئ محسوس ہوئ جو اس کے مضبوط ہاتھ میں تھی ۔۔۔۔

ص۔صام۔یہ غلط ہے صبح ہم نے تپھڑ مارا آپ اس لیے ہم پر ایسا سکوک کر رہے ۔۔۔

روحا درد سے تڑپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

تو چاہے جان لے لو پھر افف بھی نہیں کرو گا پر یہ جب تم کہتی ہو مجھے چھوڑ دو گی میری سانسیں بند ہونے لگ جاتی ہے ۔۔۔

صام روحا کی بات سننے بنا وہ ویسے ہی ایک ہاتھ نرمی سے اسکی پیچھے سے گزارتا ہوا اسکی نازک کمر کو تھامتا روحا کو صوفے پر گرا چکا تھا ۔۔۔

اب یہ حالت تھی روحا آنکھیں پھاڑے اپنے اوپر جکھے صام کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“تکلیف ہورہی ہے ہمیں”

صام اسی کی طرف دیکھتا کمر کو اور مضبوطی سے پکڑا تھا ۔۔۔

“تکلیف ہورہی ہے ہمیں “

“چھوڑیں”

روحا ناچاہتے ہوئے بھی تکلیف کا اظہار کرگئ تھی لہجہ کس قدر روہانسا تھا ۔۔

مجھ سے کم نہیں ہوتی ہو گی ۔۔۔

صام نے سرد پن سے کہتے اپنا وزن بھی روحا کے اوپر ڈالتے کہا تھا ۔۔۔

“چھوڑیں ہمیں صام ، درد ہورہا ہے ہمیں بہت”

روحا اسکی گرفت میں مچلتی ہوئی لڑکھراتے لہجے میں بولی تھی ، چہرہ درد کے مارے پیلا پڑ رہا تھا جبکہ آنکھیں بند تھیں۔۔

“کیوں ہورہا ہے ۔۔۔

صام روحا کے چہرے کی طرف دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وحشی حیوان سانڈ جیسے ہے چھوڑے ہمیں صام ۔۔۔

روحا اسکی گرفت سے نکلنے کی بہت کوشش کر رہی تھی مگر اسکی گرفت انتہا سے زیادہ سخت تھی۔۔۔!!

میری ہو صرف میری مس لائف یہ درد کم ہے سوچو مجھے کتنا درد دیتی ہو تم چاے لڑو مارو میں کچھ نہیں کہو گا پر یہ لفظ میرے کان میں سیسہ بن کر گرتے ہے ۔۔۔

صام روحا کی تیز ہوتی سانسوں کی آواز سنتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

“آپ ہمیں درد دے رہے ہیں ، پلیز لیو می”

روحا اپنے چہرے کو صام کے چہرے کے قریب لاتی اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی منت بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔۔!!

جبکہ آنکھوں سے مسلسل آنسو نکل رہے تھے ۔۔۔

صام اسکی بھیگے چہرے کے ایک ایک نقش کو غور سے دیکھتا ہوا اسکی تکلیف کا انداز کررہا تھا۔۔!!

جاٶ یہاں سے ابھی کہ ابھی بیڈ پر لیٹو جا کر ۔۔۔

صام روحا کو چھوڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جنگلی حیوان وحشی ہم نہیں رہے گے آپ کے ساتھ ۔۔۔

روحا جلدی سے اپنی جان بچاتی جلدی سے بھاگتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

ایک تپھڑ ہی مارا تھا اتنا شدید ردعمل اففف صبح ہم بابا سے بات کرے گے یہ پاگل ہو گے ہے ۔۔۔

روحا آرام سے جلدی سے بیڈ پر لیٹتی ہوئ بڑبڑا رہی تھی ۔۔۔

اپنے درد میں بھول ہی چکی تھی صام نے اسے کس وجہ سے یہ سزا دی تھی اگر یاد رہا تو بس اتنا کہ اس نے تپھڑ مارا تھا صام نے تبھی ایسا برتاو کیا ۔۔

اہہہہ اففف ہماری کمر جنگلی انسان ۔۔۔

روحا بیڈ پر سیدھی لیٹی تھی جب درد سے سے تڑپتی ہوئ بولی ۔۔۔

آہہہہ۔۔۔شششش درد دیا ہے تو دوا بھی میں ہی دو گا مس لائف ۔۔۔

روم میں اندھیرے ہوتے دیکھ روحا چلا رہی تھی جب صام اس کے قریب لیٹتے سرگوشی کرتے بولا تھا ۔۔۔

د۔در۔ر صام ٹھرکی جنگلی وحشی انسان ہمیں چھوڑے ۔۔۔

روحا جو مکے مارتی طش سے بول رہی تھی جب صام اندھیرے میں ہی اس کی شرٹ اتار چکا تھا ۔۔۔

تبھی روحا بولی تھی ۔۔۔

اب اگر آواز آی تمہاری تو ابھی لائٹ آن کر دو گا پھر سوچو اگر میں تمہیں بنا شرٹ کے دیکھ لو تو کیا کرو گی مس لائف ۔۔

صام روحا کی کمر پر اپنے لب رکھتا سرد پن سے بولا تھا ۔۔۔

بہت برے ہے گندے بے شرم انسان ہم پکا بابا کو کہے گے ک۔۔۔۔

روحا جو صام کا لمس اپنی کمر پر پاتی تڑپتی ہوئ بول رہی تھی جب اس کا رخ اپنی طرف کرتا صام اس کے ہونٹوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

ہ۔م۔ہماری کمر صام درد کر رہی ۔۔۔

روحا صام کو خود سے دور کیے طش سے چلائ تھی ۔۔۔

یہ تو بہت کم ہے مس لائف چلو درد میں نے دیا تو مرہم بھی میں دو گا اب سو جانا میری جان ۔۔۔

صام روحا کی کمر کے نیچے دونوں بازوں رکھتے روحا کو سیدھا کرتے بولا تھا ۔۔۔

روحا کو جہاں درد ہو رہا تھا وہاں صام کے بھاری ہاتھ محسوس ہوۓ تبھی اسے تھوڑا سکون ملا تھا ۔۔۔

جبکہ صام اپنا سر روحا کے پیٹ پر رکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔

صا۔صام۔ہماری شرٹ ا۔۔۔

صبح مل جاۓ گی ابھی دوائ لگائ ہے مس لائف سو جاٶ ۔۔۔۔

روحا ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام اپنے لب اس کے پیٹ پر رکھتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔

روحا جلدی سے اپنی انکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔

صام کے ہونٹوں ہر مسکراہٹ آی تھی روحا کی حالت انجواۓ کرتے ۔۔۔۔

ساری رات صام کبھی روحا کی کمر پر مرہم لگاتا تو کبھی اپنے لب رکھتا تھا ۔۔۔

وہ جانتا تھا روحا نیند کی کتنی پکی ہے تبھی وہ نیند میں گم بے ہوش پڑی تھی ۔۔۔۔

روم میں مدھم روشنی کرتے صام اپنی شرٹ روحا کو پہنا چکا تھا ۔۔۔۔

اب وہ گہری نیند میں صام کو گلے لگاۓ سو رہی تھی ۔۔۔

جبکہ صام مسکراتا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔