339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 6)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

ہانیہ ہانیہ ۔۔۔۔

ہانیہ گہری نیند میں سو رہی تھی جب اسے یہ سرگوشی سنائ دی ۔۔۔

ت۔تم کیا ہوا ۔۔۔۔

ہانیہ نے جیسے ہی آنکھیں کھولی اپنے قریب بیٹھے منان کو دیکھتی حیران ہوتی بولی ۔۔۔۔

ہاں یار میں بتانے آیا تھا جاب پر جا رہا ہو ۔۔۔

ناشتہ تیار ہے ملازمہ تھوڑی دیر تک آ جاۓ گی صفائ کے لیے ۔۔۔۔

منان ہانیہ کے چہرے پر ہاتھ رکھتا پیار سے بولا ۔۔۔

ج۔جی تم کہاں جا رہے ہو ۔۔۔

ہانیہ گھبراتے ہوۓ اٹھ کر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاے تمہیں نہیں پتہ اچھا میں واپس آ کر بتاٶ گا ابھی لیٹ ہو رہا میں ۔۔۔

منان اس کی آنکھوں میں دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وہ جانتا تھا ہانیہ کس بات پر الجھی ہوئ ہے ۔۔۔۔

تو مطلب تم اپنے کام پر نہ و ہ۔۔۔۔

ہانیہ کو سمجھ نہ آئ کیا بات کرے ۔۔۔

اففف یار اتنے سے دماغ پر کتنا زور دے رہی ہو ۔۔۔۔

میں وہ نہیں ہو جو تم سمجھ رہی ہو میں اچھا بھلا انسان ہو خواجہ سرا نہیں ۔۔۔

منان ہانیہ کے ہاتھوں کو پکڑتا ہوا بولا ۔۔۔۔

واقعی تو و۔۔۔۔۔

شششش آرام کرو شام کو بات ہو گی جان ۔۔۔

منان ہانیہ کو چپ کرواتا اس کے ماتھے پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ہانیہ اس کی حرکت پر شرما گی تھی ۔۔۔

————————————————————

م۔ما۔ما آپ یہاں ۔۔۔۔

مستیقم اپنے سامنے کھڑی وردہ بیگم کو دیکھتا گھبراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

جی بیٹا میں ہو پر تم روحا کے روم میں اتنی صبح صبح کیا کر رہے ابھی تو روحا سو رہی ہے ۔۔۔

وردہ بیگم سامنے بیڈ پر گہری نیند سو رہی روحا کو دیکھتے مسکراتے ہوۓ بولی ۔۔۔

جی ماما بس انیجل کو دیکھنے آیا تھا روز ہم مل کر واک کرتے ہے صبح کی لیکن آج ابھی تک انیجل سو رہی ہے ۔۔۔

وہی دیکھتا اب باہر جا رہا تھا ۔۔۔۔

مستیقم اپنے ماتھے سے پیسنہ صاف کرتا بولا ۔۔۔

وہ تو ٹھیک ہے پر بیٹا تم پریشان کیوں اتنے ۔۔۔۔

وردہ بیگم مستیقم کے کندھے پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔۔

آپ کو دیکھ لیا تو ڈر گیا کہ کون آ رہا روم میں ۔۔

مستیقم چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لاۓ بولا ۔۔۔

ایس پی مستیقم آفندی ڈرتا بھی ہے حیرت ہے ۔۔۔

وردہ بیگم مذاق کرتی بولی ۔۔۔

کیا ماما آپ بھی اچھا میں چلتا ہو ورنہ انیجل جاگ جاۓ گی ۔۔۔

مستیقم جلدی سے بہانہ بناۓ روم سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔

———————————————————-

بڑی بات ہے میری بیٹی آج اتنا لیٹ سوتی رہی ۔۔۔

وردہ بیگم روحا کے پاس بیٹھتی اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی ۔۔۔۔

جی ماما آج ہمیں بڑے سکون کی نیند آئ پتہ نہیں کیوں ایسا لگا کوئ ہمارے ساتھ ہے کوئ ہماری حفاظت کر رہا ہے کوئ ہمارے اتنے قریب ہے جو ہماری ایک ایک سانس گن رہا ہو ۔۔۔۔

آپ تھی کیا ہمارے ساتھ ۔۔۔

روحا آدھی کھلی آنکھیں لیے مسکراتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔

میں تو ابھی آئ ہو چلو کوئ بات نہیں میں ہی ہو گی تمہارے پاس آٹھ جاٶ ناشتہ کرتے ہے ساتھ ۔۔۔۔

وردہ بیگم پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

لیکن روحا پر ظاہر نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

جی بس ہم آتے ہے آپ چلے ۔۔۔۔

روحا اپنے بالوں کا جوڑا بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں آ جاٶ میں زرا صام کو بھی جاگا دو ابھی تک سو رہا ہے ایک تو یہ لڑکا پتہ نہیں کیوں لاپروہ سا ہے ۔۔۔۔

آج شاہد آفس جاۓ تم بیٹا اس کے کپڑے تیار کر دینا ۔۔۔۔

ا۔۔۔روحا کہاں کھوئ ہو تم سے بات کر رہی میں وردہ بیگم روحا کو دیکھتی بولی تھی جو آئنیہ کے سامنے منہ کھولے کھڑی تھی ۔۔۔

ج۔جی ماما وہ بس نیند اچھا آپ ایسا کرے جاۓ ہم آتے ہے ۔۔۔۔

روحا کو سمجھ نہ آئ کیا جواب دے تبھی بہانہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

مارننگ جان ۔۔۔۔

جان یافی کے ماتھے کو چومتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جو گہری نیند میں سو رہی تھی ۔۔۔۔

اففف نہ کرو انیجل مجھے سونے دو یار میں ناشتہ بعد میں کرو گی ۔۔۔۔

یافی منہ بناتی کروٹ چیج کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہاہا انیجل نہیں یار زرجان ہو تمہارا معصوم سا شوہر ۔۔

زرجان قہقہ لگاتا یافی کا رخ اپنی طرف کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

اووو۔سو۔سوری پ۔۔۔۔

اچھا چھوڑو ٹھرکی کا فون آیا تھا وہ کہتا ماما نے کہا ہے ہم دونوں ناشتہ ان کے ساتھ وہاں گھر میں کرۓ گے ۔۔۔۔

چلو چلتے ہے ۔۔۔

زرجان یافی کی بات کاٹتا جلدی سے کہتا اسے باہوں میں بھرتا ہوا بولا۔۔۔۔۔

ایک منٹ ایک منٹ ۔۔۔

ایسے کیسے چلی جاٶ تیار ہونا برش کرنا ایسے عیجب لگتا ہے ۔۔۔۔

یافی اس کی باہوں سے باہر نکلتی ہوئ بولی ۔۔۔

جبکہ شرم کے مارے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔

اچھا ایسا کرو پر جلدی کرنا وہ ٹھرکی کتنی دفعہ فون کر چکا ہے ۔۔۔۔

زرجان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ کیا ہے ۔۔۔۔

یافی اپنے سامنے چھوٹا سا بے بی بیڈ دیکھتی ہکلاتے ہوۓ بولی ۔۔۔

تمہارے لیپ ٹاپ کا بیڈ ہے ۔۔۔۔

زرجان مسکراتا ہوا بولا ۔۔

واٹ ۔۔۔

یافی حیران ہوتی چلائ ۔۔۔۔

ہاں وہ ٹھرکی اور مشعوق نے بتایا تمہیں لیپ ٹاپ بہت عزیز ہے تبھی اس کے لیے یہ بیڈ تمہارا لیپ ٹاپ یہاں ہوا کرے گا ۔۔۔

زرجان یافی کے ہاتھوں کو پکڑتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

پاگل ہو گے کیا تم کوئ ل۔۔۔۔

پاگل ہی ہو میں تمہاری محبت میں یافی کہتے جس سے محبت ہو اس کی ہر چیز عزیز ہوتی ہے ۔۔مجھے تمہاری ہر چیز عزیز ہے یافی ۔۔۔

زرجان یافی کی بات کاٹتا اس کے عنابی لبوں کو دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

پر یہ فضول ہے جان محبت کچھ نہیں ہوتی تمہیں مجھ سے بہتر لڑکی مل سکتی تھی ۔۔۔

ویسے بھی میں نے ایک دفعہ محبت کر کے سزا پا لی ہے میں تمہارے قابل نہیں ہ۔۔۔۔۔۔

یافی جو کھوۓ ہوۓ انداز سے بول رہی تھی جب زرجان نے یافی کے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کیا ۔۔۔۔۔

یافی تو گھبرا گی تھی یہ ہوا ہے تبھی پھٹی ہوئ آنکھوں سے زرجان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

تم کس قابل ہو کیا ہو میں سب جانتا ہو سمجھی اب دوبارہ مت بولنا ورنہ اس سے بھی بری سزا دو گا میں ۔۔۔۔۔

زرجان نرمی سے اسے چھوڑے گال سہلاتے ہوۓ بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

جاٶ تیار ہو جاٶ ورنہ میں ایسے ہی لے جاٶ گا ۔۔۔۔

زرجان شرمائ گھبرائ یافی کو چپ دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

اچھا۔۔۔۔۔

یافی جلدی سے کہتی بنا دیکھے وہاں سے واش روم کی طرف بھاگ گی تھی ۔۔۔۔۔۔

————————————————————

روحا بیٹا ناشتہ۔کرو کہاں کھوئ ہو ۔۔۔۔

آفندی صاحب روحا کی طرف دیکھتے بولے جو صرف جوس کا گلاس لیے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

جی بابا ۔۔۔

روحا آہستہ سے بولی تھی ۔۔۔۔

مارننگ ایوری ون ۔۔۔۔

صام ویسے ہی نائٹ ڈریس بلیک شارٹس بلیک ٹی شرٹ پہنے بکھرے بال سرخ گرین آنکھیں لے وہ ناشتے کی ٹیبل کے پاس آتا بولا تھا ۔۔۔۔۔

یہ کیا طریقہ ہے ہمارے ساتھ کیوں بیٹھ رہے ہے وہاں جاۓ ۔۔۔۔

صام روحا کے پاس والی چئیر پر بیٹھ رہا تھا جب روحا چلائ تھی ۔۔۔۔

ارے چوفی آپ آ گی کب آئ ۔۔۔۔

صام بنا کچھ بھی سنے وہی بیٹھتا ہوا یافی کی طرف دیکھتا بولا جو زرجان کے ساتھ بیٹھی چاۓ پی رہی تھی ۔۔۔۔۔

صبح سے آئ ہے نواب صاحب ہڈحرام ہوۓ پڑے ہو نکمے جہان کے اتنے لاپروہ کیوں ہو تم دیکھو اپنے بہن بھائ کو اور ایک تم ہو ساری رات جاگتے ہو اور صبح منحوست ڈالنے کے لیے سو جاتے ہو ۔۔۔۔۔

آفندی صاحب غصہ طش میں آتے چلاۓ تھے ۔۔۔۔۔

مس کالی تم چپ کیوں ہو اچھا یہ جوس میں پی ہو اہہہ کتنی سویٹ ہو میں جانتا تھا یہ جوس مجھے ہی دو گی ۔۔۔۔۔

صام کسی بھی بات پر توجہ نہ دیتے روحا کے کان میں سرگوشی کرتا خودی بول رہا تھا ۔۔۔۔

جب روحا نے اسے گھورا تھا ۔۔۔۔۔

اتنے ڈھیٹ کیوں ہے بابا کچھ کہ۔۔۔۔۔

تم سن لو بابا کی اچھے سے مس کالی اور ہاں یہ جوس کچھ زیادہ میٹھا ہے کم چینی کھایا کرو ۔۔۔۔

ڈراک چاکلیٹ ۔۔۔۔

صام روحا کے کان کی لو کو چومتا مسکراتا اس کی بات کاٹتا ہوا کہتا جوس کا گلاس اٹھا کر وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

ٹھرکی ایک نمبر کا اففففف ۔۔۔۔

روحا کو جھٹکا لگا تھا اس کے لمس سے تبھی غصہ سے بولی تھی ۔۔۔۔

بابا آپ ناشتہ کرے چھوڑے اسے ۔۔۔

آفندی صاحب جو دکھی ہوتے روم کی طرف جاتے صام کو دیکھ رہے تھے جب مستقیم بولا تھا ۔۔۔۔۔۔

تم جانتے ہو صام ایسا نہیں تھا پتہ نہیں کیوں ایسا بن گیا م۔۔۔۔۔

بابا آپ اچھے سے جانتے ہے صام ایسا کیوں بنا صرف آپ کی وجہ سے اب ایسا تو وہ کرے گا ۔۔۔

آفندی صاحب پریشان ہوتے بول رہے تھے جب مستیقم اچانک سنجیدہ ہوتے وہ بھی وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا ہے انیجل کیوں پریشان ہو ۔۔۔۔

یافی روحا کے روم میں آتے پوچھا ۔۔۔۔

و۔وہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کیسے بتاٶ میں ۔۔۔

روحا رونے والی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

کیا ہوا سب ٹھیک ہے بتاٶ مجھے آپی سمجھتی ہو تو بتاٶ یار ۔۔۔۔

یافی روحا کا چہرہ ہاتھوں میں لیتی بولی تھی ۔۔۔۔۔

ہم نہیں جانتے یافی آپی یہ کیسے ہوا ہم نے آپ کو بتایا تھا نہ کہ ہمارے روم میں کوئ آتا ہے ۔۔۔

ہمیں تو ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔

روحا اپنی گردن سے ڈوپٹہ اتارتے اپنی گردن دیکھاتے پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں اس کی گردن پر کسی کے لبوں کے نشان دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

اچھا تم پریشان مت ہو کیا پتہ صام کی حرکت ہو مطلب تنگ کرنے کے لیے ا۔۔۔۔

اس ٹھرکی ہو ایسا بھی نہیں کرنا چاہے یافی آپی ہم بتاتے ہے اس کو زرا رکے ۔۔۔۔۔

روحا صام کا نام سنتی غصہ سے کہتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔

انیجل انیجل یار اففففف پتہ نہیں کیوں دونوں لڑتے ہے ۔۔۔۔

یافی روکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

آ گیا تو میں سمجھا شاہد آج تو آۓ گا نہیں ۔۔۔

وہ ڈیول کے روم میں آتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔

جو بیڈ پر سیدھا لیٹا ہوا تھا ۔۔۔

کیا ہوا چپ کیوں ہے کوئ بات ہوئ ہے کیا ۔۔۔

اسے چپ دیکھتے وہ خودی پاس آتا بولا ۔۔۔

صبح روم سے باہر نکل کر جانے والا تھا جب صام آفندی کی ماما وہاں آ گی ۔۔۔

بڑی مشکل سے وہاں سے نکلا میں ورنہ پھس چکا تھا ۔۔۔۔

ڈیول اٹھ کر بیٹھتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔

پھر اس کی ماما نے دیکھا ۔۔۔۔

اس نے بےتابی سے پوچھا ۔۔۔

پر یار ایک غلطی ہو گی ۔۔۔

ڈیول اس کی بات اگنور کیے اپنی بات کہی ۔۔۔۔

اب کیا کر دیا یار تو نے ۔۔۔۔

وہ بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

رات اتنا انیجل کو دیکھتا مدہوش ہوا تھا اس کی گردن پر شدت بھرا لمس چھوڑ دیا۔۔۔۔۔

کتنا دکھ ہوا میری وجہ سے اس کی گردن پر نشان آۓ ہے ۔۔۔۔

ڈیول کھوۓ ہوۓ انداز سے بولا ۔۔۔۔

کیا پاگل ہو گیا ہے تو ایسی غلطی بھی کیوں کی اتنا بھی جنونی نہ ہو یار کچھ گھنٹے ہی دور رہی تھی وہ ا۔۔۔۔۔

گھنٹہ کیا انیجل مجھ سے ایک پل بھی دور نہیں رہ سکتی سمجھا تو میری ہے وہ ۔۔۔

ہاں افسوس ہے کہ میں اسے ہوش میں آتے چھونا چاہتا تھا تاکہ اسے پتہ چل سکے وہ صرف ڈیول کی ہے ۔۔۔۔

پر رات اتنا اسے کی قربت میں مدہوش ہوا کہ کچھ سمجھ ہی نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔

ڈیول اپنی گرین آنکھیں مسلتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

مستیقم یار وہ بچی ملی تجھے ۔۔۔۔

منان فائل دیکھتا مستیقم سے پوچھا ۔۔۔۔۔

کہاں یار ہاے کتنی پیاری تھی ۔۔۔۔

مستیقم مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔۔

چل بس کر تم صام سے کم ہو ۔۔۔

منان اسے مکا مارتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔

لو میں نے کون سی غلط بات کہہ دی پیاری تھی کیوٹ سی بے بی ۔۔۔

مستیقم ڈھیٹ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہاہہاہا جس دن تیری شادی ہو گی تب دیکھ لے گے پہلے اس ڈیول کو دیکھ لے ۔۔۔۔

منان قہقہ لگاتآ ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

یار یہ خواجہ سرا پتہ نہیں کیوں ڈیول بنا ہے میں حیران ہو اور مارتا بھی کیسے ہے ۔۔۔۔

مجھے نہیں لگتا کبھی ہم پکڑ پاۓ گے اسے ۔۔۔

مستیقم نظریں چڑاتا ہوا بولا ۔۔۔۔

ہممم پر مجھے پتہ چلا آج وہ کسی کا قتل کرنے والا ہے ۔۔۔۔

منان اپنے سر پر کیپ رکھتا ہوا بولا ۔۔۔۔

———————————————————–

آپ اتنے گھٹیا ہو سکتے ہے ہمیں نہیں تھا معلوم ۔۔۔

روحا غصہ میں آتی صام کو دیکھتی بولی جو صوفے پر لیٹا فون یوز کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

اففف تمہارا یہ ہمممم رحم کرو مجھ معصوم پر ڈراک چاکلیٹ یہ اتنی بھاری آردو مت بولا کرو ۔۔۔۔

صام بنا دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

کیا سوچ کر آپ نے وہ حرکت کی کیوں ہمارے قریب آۓ ۔۔۔۔

روحا جنجھلاتی ہوئ دوبارہ بولی تھی ۔۔۔۔

واٹ مطلب میں اووو مس کالی صام آفندی اتنا بھی گرا پڑا نہیں جو تم جیسی کالی کلوٹی کے قریب آۓ گا ۔۔۔

شکل دیکھی ہے تم نے اپنی جاٶ یہاں سے ۔۔۔۔

صام شوک ہوتا طش میں چلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

اب کیوں چلا رہے ہے میں آپ کی کومل میک اپ کی دوکان نہیں ہو جس کو کس کرے گے تو شرما جاٶ گی یا چپ ہو جاٶ گی ۔۔۔۔۔۔

روحا بھی طش میں آتی چلائ تھی ۔۔۔۔۔

کیا کس اور تمہیں ہاے کیا نیند میں ہو کس کا مطلب جانتی ہو بتاٶ ۔۔۔

صام اٹھ کر روحا کو کمر سے پکڑتا اپنے قریب لاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

چھوڑے ہمیں بے ہودہ انس۔۔۔۔۔۔

جس دن صام آفندی نے روحا زیدی کو کس کیا اس دن تمہیں پتہ چلے گا تب تک جان بچا لو اپنی کیونکہ اگر صام آفندی کی قید میں آئ تم تو جان جاٶ گی اچھے سے میں ہو کون۔۔۔۔

صام روحا کی بات کاٹتا سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

چھوڑے ہمیں ڈیول ہے آپ بلکہ جس دن پیدا ہوۓ ہو گے اسی دن ڈیول نے کہا ہو گا میری ٹھکر کا بندہ آ گیا ہے۔۔۔

روحا صام کو دھکا دیتی بولی تھی ۔۔۔

شکل دیکھی ہے تم نے کالی کلوٹی کہی کی ۔۔۔

صام اس کی بات اگنور کرتا اپنی بات کہی ۔۔۔

ہاہاہاہاہا فنی کہہ بھی کون رہا ہے واہٹ چلغوزہ ۔۔

روحا اسے حقارت سے دیکھتے بولی تھی ۔۔

ہاے ڈراک چاکلیٹ ویسے غصہ کرتی ہو مجھے سکون بڑا آتا ہے ۔۔۔

صام آنکھ ونک کرتا دل پر ہاتھ رکھتا بولا تھا

۔۔۔

مر جاٶ آپ ہارٹ اٹیک آ جاۓ واہٹ چاکلیٹ ۔۔۔

روحا اپنا کالا پاٶں ٹیچتی ہوئ بولی تھی ۔۔

کیا اتنی پیاری شکل کو تم چاکلیٹ کہہ رہی ہو لڑکیاں مرتی ہے مجھ پر ۔۔۔

صام اتراتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔

ہاں کل دیکھا سڑک پر کافی لڑکیاں مری پڑی تھی ہمیں بعد میں پتہ چلا انھوں نے صام ٹھرکی دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔

روحا منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

سچی کہو تو تم کیوں نہیں مری مس کالی ۔۔۔

صام سکون سے بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ آپ مر جاۓ تھوڑا سکون آۓ ہمیں ۔۔۔

۔

ہاہاہااہا توبہ توبہ اگر میں مر گیا اس دنیا کی لڑکیوں کا کیا ہو گا بچاری مر جاۓ گی ساری ۔۔۔

صام فکر مند ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ٹھرکی صام آپ ایسے ہی رہ سکتے ہو مر جانا کسی دن آپ نے یہ ٹھرکی کرتے کرتے۔۔۔

روحا اپنے ڈراک براٶن بالوں کو جٹھکا دیتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

اہہہہ مس کالی کلوٹی بات تو سنو ۔۔۔۔

صام ہال سے باہر جاتی روحا کو پکارتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

یہ تو آج کس کو مارنے والے ہو ڈیول ۔۔۔

وہ ڈیول کے ہاتھوں میں چوڑیاں دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

موت آج کسی کی موت آئ ہے ۔۔۔۔

ڈیول چوڑیاں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

تم نہ کر کچھ ہم کر لیے گے ۔۔۔۔

وہ ڈرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

نہیں اس انسان کو موت میں دو گا ۔۔۔۔

میں حیران ہو انسانیت اتنی گر چکی ہے کہ ایک خواجہ سرا کی عزت نہیں کر سکتا کوئ ۔۔۔۔

کیا ہماری قدر نہیں اس معاشرے میں ۔۔۔

وہ اپنی سرخ گرین آنکھیں لے بولا تھا ۔۔۔۔

پر ڈ۔۔۔۔

تم جاٶ یہاں سے مجھے تنگ نہ کرے کوئ ۔۔۔

ڈیول اس کی سنے بنا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

اہہہہہ آہہہہہہی ۔۔۔۔

خون خون خون ۔۔۔۔

بابا ماما ۔۔۔۔۔

صام اپنے روم میں لیٹا تھا جب اسے روحا کے چلانے کی آواز آئ تھی ۔۔۔۔

کیا ہوا مس کالی ۔۔۔

صام روم سے باہر آتا لان میں سامنے کھڑی روحا کو دیکھتا بولا ۔۔۔

جو گھبراتے ہوۓ چلا رہی تھی ۔۔۔

صام صام مالی کاکا کا ہاتھ کاٹ گیا آپ دیکھیں خون نکل رہا ہے ۔۔۔۔۔

روحا صام کے سینے سے لگتی روتے ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

اچھا میں دیکھتا ہو تم حوصلہ کرو خون ہ۔۔۔۔

ہمیں چکر آ رہے ہمیں الٹی آ رہی ہے صام ۔۔۔۔

صام جو پریشان ہوتا روحا کو حوصلہ دیتا کہہ رہا تھا جب روحا زمین پر بیٹھی اپنا سر پکڑتی روتے بولی تھی ۔۔۔۔

کیا ہو گیا مس لائف اتنا مت ڈرا کرو یار بارش سے تم ڈرتی ہو خون دیکھ کر ڈرتی ہو ۔۔۔

اندھیرے سے بھی ڈرتی ہو ۔۔۔۔۔

صام روحا کو باہوں میں بھرتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔۔

صام خون خون ہماری آنکھیں بند ہ۔۔۔۔۔

روحا روحا ۔۔۔۔

اکرم چاچا ۔۔۔۔۔

روحا جو بول رہی تھی تبھی بے ہوش ہوتی وہی جھول گی تھی ۔۔۔۔۔

صام نے ملازم کو آواز دی تھی ۔۔۔۔

جی صاب جی۔۔۔

مالی کاکا کو ہاسپٹل لے کر جاٶ اور یہاں جو خون گرا ہے وہ صاف کرواو جلدی ۔۔۔۔

صام اسے حکم دیتا روحا کو گود میں آٹھاۓ روم کی طرف بھاگ گیا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

اب کیوں پریشان ہو تم ۔۔۔

وہ روم میں آتا بولا تھا ۔۔۔۔

یار انیجل آج ڈر گی خون دیکھ کر صبح سے شام ہو گی وہ اپنے روم میں ہے ۔۔۔۔۔

ایک دفعہ بھی آج چہرہ نہیں دیکھا ۔۔۔۔

ڈیول اپنی لیپ ٹاپ سکرین کی طرف دیکھتا بولا جو بند پڑی تھی ۔۔۔۔۔

تو پاگل ہو گیا ہے لیپ ٹاپ آن کرے گا تبھی دیکھے گ۔۔۔۔۔

تم نہیں جانتے آج وہ کتنا تڑپی ہے خون دیکھ کر کتنا روی ہے وہ ان چار سالوں میں پہلی دفعہ اسے روتے دیکھا ہے میں نے ۔۔۔۔۔

کتنے افسوس کی بات ہے ڈیول اپنی انیجل کے آنسو بھی صاف نہ کر سکا ۔۔۔۔۔

ڈیول اپنے ہاتھوں کو دیکھتا بولا ۔۔۔۔

اور یہ لیپ ٹاپ ک۔۔۔۔۔

اس لیے کہ اسے روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا میں مجھے ایسے لگتا جیسے دل پھٹ جاۓ گا میرا اور میں جانتا ہو وہ اپنے کمرے میں رو رہی ہے ۔۔۔

ڈیول اس کی بات کاٹتا بولا ۔۔۔۔۔

کتنا ڈرتا ہے تو سوچ اگر اسے پتہ چل جاۓ تمہارے ہاتھ ہر وقت خون سے بھرے رہتے ہے تب کیا ہو گا ۔۔۔۔

وہ اس کی حالت پر رحم کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

تم جانتے ہو انیجل کو جھوٹ سے نفرت ہے وہ چاہے محبت اچھے سے نہ کرتی ہو پر نفرت وہ بہت اچھے سے کرتی ہے ۔۔۔۔۔

مجھے ڈر اسی بات کا ہے وہ اپنے ڈیول سے نفرت نہ کرے اگر ایسا ہوا اس دن ڈیول کا دنیا میں آخری دن ہو گا ۔۔۔۔۔

میری نس نس میں بستی ہے روحا زیدی میرے جسم میں خون کی جگہ اس کی وہ نرم گرم سانسیس ڈوڑتی ہے جس کی وجہ سے آج تک ڈیول زندہ ہے ۔۔۔۔

ڈیول کھوۓ ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

چل آ جا باہر کوئ موت کا انتظار کر رہا ہے ۔۔۔

وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

اووو مس کالی یار آٹھو رات ہو گی ایسے ہی بیٹھی ہو چلو کام کر دو میرا ۔۔۔

صام روحا کے روم میں آتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کیا مسئلہ ہے ۔۔۔

روحا اپنی سرخ آنکھیں لے بولی تھی ۔۔۔۔

یار مسئلہ بہت بڑا پارٹی پر جانا ہے اور کومل بزی آج تو میں سوچ رہا تھا تمہیں ساتھ لے جاٶ ۔۔۔

صام ایک بیگ بیڈ پر رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

آپ کو احساس ہی نہیں کسی کا ا۔۔۔۔

ارے احساس ہے دیکھو صبح سے ڈر کر یہاں بیٹھی ہو آو باہر چلے جلدی تیار ہو جاٶ اور ہاں اس کالی شکل پر کچھ لگا لینا ۔۔۔۔

صام روحا کے ہہاتھ پکڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ہم نہیں جا رہے موڈ نہیں ہمارا ۔۔۔

روحا روکھے پن سے بولی ۔۔۔

یار چلی جاٶ تھوڑا اس کالی شکل پر رنگ آ جاۓ گا جلدی تیار ہو ورنہ میری ضد سے واقف ہو اگر میں نے تمہیں خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا تو شرما جاٶ گی ۔۔۔۔

صام روحا کو گہری نظروں سے اوپر سے نیچے کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

انتہا کے ٹھرکی ہے آپ ۔۔۔۔

روحا بیگ پکڑتی واش روم جاتی بولی تھی ۔۔۔۔

جانتی تھی وہ جو کہتا ہے کرتا بھی ہے ۔۔۔۔

شکر اس کا موڈ ٹھیک ہو جاۓ گا ہاےے صام تو کتنا ذہین ہے ۔۔۔۔

صام خود کے شولڈر پر ہاتھ رکھتا داد دیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————-

ڈ۔ی۔ڈیول مجھے معاف کر دو می۔۔۔۔

کیوں کیا تو نے ایک خواجہ سرا کے ساتھ ایسا ۔۔۔

وہ جو ڈرتا روتا ڈیول کو دیکھتا معافی مانگ رہا تھا جب ڈیول طش میں آتا اس کی بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

مع۔۔۔

ڈیول کی دنیا میں معافی نہیں موت ہوتی ہے ۔۔۔

اور جیسا کہ آج میری انیجل خون دیکھ کر ڈر گی ہے اتنا تو ڈیول تیرا آج خون نہیں نکالے گا ۔۔۔۔

ڈیول اپنے ہاتھ میں چوڑیاں گھومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

شکری۔یہ شکریہ آپ کا میں آج کے بعد خواجہ سراوں کو کچھ نہیں کہو گا ۔۔۔۔

وہ آدمی خوش ہوتا ہکلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں جاٶ یہاں سے ڈیول نے معاف کیا آج خون نہیں کرے گا ۔۔۔۔

ڈیول اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

یہ تم معاف کیوں کر رہے ہو ۔۔۔۔

وہ ڈیول کے پیچھے آتا بولا تھا جو اپنے بھاری قدم واپس روم کی طرف لے کر جا رہا تھا ۔۔۔۔

تو نے سنا نہیں ڈیول خون نہیں نکالے گا آج کیونکہ میری انیجل ڈر گی ہے یہ نہیں کہا کہ ڈیول موت نہیں دے گا ۔۔۔۔۔

ڈیول ہو ڈیول جو صرف اپنی سنتا ہے یا مجھ پر کوئ حکم چلا سکتا ہے تو صرف میری انیجل ۔۔۔

ڈیول ویسے ہی طنزیہ مسکراہٹ لاتے واپس اندر چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔

ہاہاہاہا ہاے پتہ نہیں انیجل کا کیا حال ہو گا جب وہ اپنے اس جنونی ڈیول کو دیکھے گی ۔۔۔۔۔

وہ سامنے کا منظر دیکھتا اپنا ہاتھ نچاتا قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جہاں وہ آدمی اپنے بنا سر اور بازوں کے بیٹھا موت کی نیند سو رہا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

مس کالی ایسی لگ رہی ہو جیسے کوے کے اوپر لال رنگ کر دیا ہو ۔۔۔۔

صام اور روحا دونوں پارٹی میں آ چکے تھے جب صام نے روحا کو ریڈ فراک میں تیار کھڑی دیکھتے کہا تھا ۔۔۔۔۔

بکواس بند رکھے یہ کلر بھی آپ نے دیا جبکہ جانتے ہے ہمیں صرف کالا رنگ پسند ہے ۔۔۔

اپنے سامنے خوبصورت سا چہرہ لیے بلیک پینٹ شرٹ پہنے اپنے آپ سے لاپروہ صام آفندی لاکھوں لڑکیوں کا دل دھڑکانے والا وہ روحا کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔۔۔

ہاہاا اچھا مس کالی میں ابھی وائن لے کر آیا ۔۔۔۔

وہ قہقہ لگاتے روحا کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

ٹھرکی ۔۔۔۔

روحا بیزار ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

ارے اوے یہ دیکھ لڑکی کھڑی ہے پیاری ہے ۔۔۔

ریڈ فراک جو پاٶں کو چھوتی تھی بنا کوئ میک اپ بالوں کو کھولا چھوڑے بیزار سی شکل بناۓ روحا کھڑی تھی جب چار لڑکے اس کے قریب آتے بولے ۔۔۔۔

ویسے رنگ ہی کالا ہے تمہارا ورنہ نین نقش پیارے ہے ۔۔۔۔

وہ خاموش کھڑی روحا کے قریب آتے بولے ۔۔۔

ہاں تم لوگ ایسے ہی کہو گے عورت چاہے کالی ہو یا گوری تم لوگوں کی ہوس پوری ہونی چاہے ۔۔۔۔۔

روحا غصہ میں آتی چلائ تھی ۔۔۔۔۔

افففف تمہارا یہ غصہ چلو اچھی بات ہے تم جانتی ہو ہم کیوں آۓ ہے تمہارے پاس ۔۔۔۔۔

ایک لڑکا روحا کے قریب آتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

ویسے پہلی لڑکی ہو جو ڈری نہیں ورنہ تو لڑکیاں رونے لگ جاتی ہے ۔۔۔۔۔

دوسرا لڑکا روحا کے چہرے پر سکون دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کبھی دیکھا ہے جب شیر نیند سے جاگتے ہوۓ دھاڑتا ہے ۔۔۔۔

روحا سامنے دیکھتی طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی ۔۔۔۔

مطلب ۔۔۔۔

سب نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔۔۔

ارے چھوڑو مطلب لو میرا ہاتھ پکڑو ۔۔۔۔

روحا سکون سے سامنے دیکھتی اس کا ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔۔۔

ی۔یہ۔صام کی کچھ لگتی ہے شاہد کیونکہ دیکھ وہ کتنے غصہ سے آ رہا ہے ۔۔۔۔

دوسرا لڑکا سامنے دیکھتا ڈرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جہاں صام اپنی سرخ گرین آنکھوں میں غصہ لاۓ ہاتھ میں وائن کی بوتل پکڑے بھاری قدموں سے چلتا ہوا آ رہا تھا ۔۔۔۔۔

ہمت کیسے ہوئ اسے چھونے کی تیری ۔۔۔۔۔

صام ان سب کے قریب آتا غصہ سے دھاڑا تھا ۔۔۔۔

وہ صام ہی۔۔۔۔

آہہہہہ آہہہہہ ۔۔۔۔۔

وہ لڑکا جو ڈرتا ہوا بولا رہا تھا جب صام نے وائن کی بوتل توڑتے اس کا ہاتھ کاٹ چکا تھا ۔۔۔۔

یہ تم نے کیا کیا صام کیا لگتی ہے تمہاری یہ جو اپنے ہی دوست کا ہاتھ کاٹ دیا ۔۔۔۔۔

وہ زمین پر گرا اپنا خون آلود ہاتھ پکڑتا ہوا چلایا تھا ۔۔۔۔

دوست اور تم میں تھوکتا بھی نہیں تجھ پر اور کیا کہا یہ کون ہے ۔۔۔۔

یہ مسز روحا صام آفندی ہے بیوی ہے میری عزت ہے جس پر تو نے ہاتھ ڈالا ہے ۔۔۔۔۔۔

ابھی تو ہاتھ کاٹا ہے میں نے جس نے بھی میری بیوی پر گندی نظر بھی رکھی تو صام آفندی آنکھیں نوچ لے گا ۔۔۔۔۔

صام روحا کا ہاتھ پکڑتا غصہ سے چلاتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔

جبکہ روحا ساتھ سکون سے جاتی طنزیہ مسکراہٹ لاۓ جا رہی تھی ۔۔۔۔

پارٹی میں ہر کوئ ہکابکا تھا اتنے حسین مرد کی بیوی اتنی کالی ہو گی کسی نے سوچا تک نہیں تھا ۔۔۔۔۔

کچھ لڑکیاں روحا کی قسمت پر رشک کر رہی رتھی جو صام آفندی کی بیوی بنی تھی ۔۔۔۔