Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 44)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 44)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
کیا ہوا ڈیول کیوں بے چین ہو ۔۔۔
مستقیم زرجان آہان منان نوفل سارے اپنے مخصوص سکیرٹ ہاوس آۓ تھے ۔۔
جہاں انھوں نے شعیب کے خاص آدمی شبیر کو قید کیا تھا ۔۔۔
اب ڈیول کو بے چین ہوتے چکر لگاتے سب نے پوچھا تھا ۔۔۔۔
کچھ نہیں تم لوگ اپنا کام کرو اپنا ۔۔۔
ڈیول اپنی بے چینی کو چھپاتے ہوۓ دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔۔
بولو تم شعیب کے آدمی ہو تو بتاٶ اب وہ کیا کرنے والا ہے ۔۔۔
زرجان اسے گردن سے دبوچتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
شیبر طنزیہ مسکراہٹ لاۓ چپ رہا تھا ۔۔۔۔
یہ کیا تم لوگ بچوں جیسے سوال پوچھ رہے اپنا اپنا رعب دیکھاٶ اس کو ۔۔۔۔
ڈیول ایک دم سے غرایا تھا ۔۔۔۔
تبھی سب کی آنکھوں میں شطانی مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
————————————————————
یافی کیا ہوا سب ٹھیک ہے ۔۔۔
ہیر یافی کا ذرد پڑتا چہرہ دیکھتے فکر مندی سے بولی تھی ۔۔۔
جی بھابھی سب ٹھیک ہے بس یہ چکر آ رہے کافی اور کچھ کھانے کو دل بھی نہیں کر رہا ۔۔۔۔
یافی زبردستی مسکراہٹ لاۓ بولی تھی ۔۔۔۔
خیال رکھو شاہد موسم چینج کی وجہ سے ہو ۔۔۔
ہیر اس کا ماتھا چومتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
جی بھابھی ۔۔۔
یافی بس اتنا بول سکی تھی ۔۔۔
————————————————————
ہاں اب بتاٶ شعیب کا اگلا پلان کیا ہے ۔۔۔
وہ سارے سکون سے شیبر کے پاس بیٹھتے اپنے اپنے روپ میں بیٹھ چکے تھے ۔۔۔
نوفل کے ہاتھ میں ہتھوڑی زرجان کے ہاتھ میں پلاس منان اور آہان کے ہاتھ میں گنز تھی جبکہ مستقیم بلیڈ لے بیٹھا تھا ۔۔۔
جبکہ ڈیول چہرے پر سرد پن لاۓ مسلسل چکر کاٹ رہا تھا ۔۔۔
یہ ایسے نہیں بولے گا۔۔۔۔
زرجان نے غصے سے کہتے شیبر کے ہاتھوں کے ناخن کھیچے تھے ۔۔۔
وہی اس کی چیخیں گونجی تھی ۔۔۔۔
لیکن وہ ابھی بھی نہیں بولا تھا ۔۔۔۔
اس پر اتنے ظالم ڈھاٶں کے خودی بول دے ۔۔۔
ڈیول اپنی وحشتناک آواز سے غرایا تھا۔۔۔۔
وہی نوفل نے غصے سے ہتھوڑی سے شیبر کے سر کے بیک سائیڈ پر وار کیا تھا ۔۔۔
آہان اور منان نے اپنی گنز سے اس کی رانوں پر فائر کیے تھے ۔۔۔۔
لیکن اتنا ظالم سہنے کے بعد بھی شیبر کچھ نہیں بولا تھا ۔۔۔۔
لگتا بڑی ہمت ہے تم میں بس کچھ سانسیں بچی ہے تمہاری وہ بھی چھین لے گے ۔۔۔
ڈیول اسے خون سے لت پت دیکھتا غصے سے غراتے بولا تھا ۔۔۔۔
لیکن انیجل نے تمہیں منع ہے ک۔۔۔۔۔
انیجل نے ڈیول کو روکا ہے وہ لڑائ نہیں کرے گا یہ نہیں کہہ کہ ڈیول یہ کام چھوڑ دے ۔۔۔
میرا حکم ہے اس کو درد ناک موت دی جاۓ وہ کیسے یہ تم سب جانتے ہو ۔۔۔۔
میں بس دیکھو گا کیونکہ میں کوئ خون خرابہ بھی نہیں چاہتا ۔۔۔۔
انیجل کو اچھا نہیں لگتا ۔۔۔
مستقیم حیران ہوتا بول رہا تھا جب ڈیول اپنی گردن میں لٹکی چوڑی کو نکال کر ان کو دیتا گردن ٹیرھی کیے شطانی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
دیکھنے میں وہ چوڑی تھی لیکن کوئ نہیں جانتا تھا اس کے اندر ایسا تیزاب تھا اگر جسم کے کسی حصے سے وہ زرا سی ٹچ ہو جاۓ وہی جگہ فورًا گل سڑ جاتی تھی ۔۔۔
ساتھ ہی گندے کیڑے نکال آتے تھے ۔۔۔۔
جو انسان کے جسم کو نوچ نوچ کر کھا جاتے تھے ۔۔۔۔
مستقیم نے اپنے بلیڈ سے شیبر کے دل کے مقام پر چلایا تھا ۔۔۔۔
اہہہہ اہہہ اہہہہہ۔۔۔
وہی شیبر درد سے چلایا تھا ۔۔۔
سب کو شیبر کے جسم کے حصے سے اندر دھڑکتا ہوا دل دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
مستقیم نے ایک نظر ڈیول کی طرف دیکھتے اس کا اشارہ ملتے ہی وہ چوڑی والا لاکٹ اس کے دل پر چلایا تھا ۔۔۔۔
سکینڈوں میں دیکھتے دیکھتے شیبر کا دل پھٹا تھا ۔۔۔۔
دل پھٹتے ہی خون کے قطرے سب کے چہروں پر پڑے تھے ۔۔۔۔
جبکہ خون سے نکلے کیڑے اب شیبر کے مردہ جسم کو نوچنے میں مصروف تھے ۔۔۔۔
کام ہو گیا مجھے بڑا مزہ آیا ۔۔۔۔
مستقیم خوش ہوتا اپنا چہرہ صاف کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
کام تو ہو گیا اس نے بتایا ہی نہیں شعیب کا اصل آڈا کون سا ہے ۔۔۔
منان بھی اپنا چہرہ صاف کیے بولا تھا ۔۔۔۔
چھوڑو مر گیا لیکن ایک بات بتانی تھی ۔۔۔۔
نوفل اپنی ہتھوڑی سے خون صاف کیے ہاتھ نچاتے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں بولو ۔۔۔
زرجان نے جب دیکھا ڈیول گم صم سا بیٹھا ہے تبھی خودی بولا تھا ۔۔۔۔
ایک خواجہ سراٶں کا آڈا ہے دن کی روشنی میں وہاں بس خواجہ سرا رہتے ہے جبکہ رات کے اندھیرے میں ان کے جسموں کی نیلامی ہوتی ہے ۔۔۔۔
میرے جیسے لاکھوں بے بس خواجہ سرا ہو گے میں ان سب کی زندگیاں بچانا چاہتا ہو ۔۔۔۔
میں ان سب کو بچانا چاہتا ہو ان سب کو اپنے فانڈئشن لانا چاہتا ہو تم سب یہ کام کرو گے ۔۔۔
نوفل نے پریشان ہوتے کہا تھا ۔۔۔
ہو جاۓ گا کام تم بس اس جگہ کا نام بتاٶ دوستی کی ہے تو آخری دم تک نبھاۓ گے ۔۔۔
کبھی اپنا عہدِوفا نہیں توڑے گے چاہے
جان چلی جاۓ ۔۔۔
ڈیول اٹھ کر پاس آتا سب کو ہگ کیے محبت سے بولا تھا ۔۔۔۔
وہی سارے خوش تھے اپنی دوستی ہے چاہے پچپن میں نہ صیح لیکن وہ اب اپنی دوستی بچا سکتے تھے ۔۔۔۔
اپنی دوستی نبھا سکتے تھے ۔۔۔
———————————————————-
انیجل کدھر ہے ۔۔۔
سب واپس آ چکے تھے ۔۔۔
باہر طوفانی بارش ہو رہی تھی ساتھ برف باری بھی سٹارٹ تھی ۔۔۔
وہ سارے آ چکے تھے جب صام نے بے چینی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
رات ہو چکی تھی ۔۔۔۔
وہ سو رہی ہم نے کافی دفعہ دیکھا لیکن وہ جاگی نہیں ۔۔۔
مرحا صام کی بے تابی دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ سارے خاموش سے ہال میں کھڑے تھے ۔۔
انہیں ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا تھا ڈیول کیوں بے سکون ہوا تھا اتنا زیادہ ۔۔
انیجل مس لائف میری جان کدھر ہو دیکھو یہاں آٶ اب یہ ناراضگی چھوڑ دو ۔۔۔
صام وہی ہال میں کھڑا چلایا تھا ۔۔۔
گن۔گندے چاچو انیجل موم باہر ہے ۔۔۔۔
احمد آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا صام کی ٹانگوں کے درمیان آتا روتا ہوا تھا ۔۔۔
واٹ۔۔۔
صام نے شوک ہوتے جلدی سے احمد کو گود میں اٹھاتے فکرمندی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
وہی سب کو غصے سے گھورا تھا ۔۔۔
جہاں سب نے نظریں جھکاۓ تھی ۔۔۔
آپ سب بڑی ہے کیا انیجل ہنیڈل نہیں ہو سکی حد ہے لاپرواہی کی ۔۔۔
ایک چھوٹے بچے کو پتہ تھا انیجل باہر چلی گی لیکن آپ سب کو نہیں بھابھی آپ کو بہن ہے اس کی آپ کو ہی فکر نہ ہوئ اس کی ۔۔۔
پہلی دفعہ میں اسے آپ کے سہارے چھوڑ کر گیا تھا ۔۔۔
اور یہ میری سب سے بڑی غلطی تھی میں اپنی انیجل کو کہی دور لے کر چلا جاٶ گا ۔۔۔۔
صام اب شدید طش میں آتا سب پر غرار رہا تھا ۔۔۔
اچھا ریلکس ہ۔۔۔
کہاں ریلکس ہو جاٶ لالہ میری سانس اٹک چکی ہے باہر کا موسم دیکھ رہے آپ ۔۔۔
صام جلدی سے چار پانچ گرم کورٹ لے فارم ہاوس سے باہر جا رہا تھا جب آہان نے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
وہی وہ بگڑے شیر کی طرح دھاڑا تھا ۔۔۔
سنو صام بے بی روحا مل جاۓ تم یہ گولی اسے کھانے کو دینا ۔۔۔
صام فارم سے باہر چلا گیا تھا جب کومل بھاگتی ہوئ باہر آتی بولی تھی ۔۔۔
یہ کون سی گولی ہے ۔۔
صام نے شکی انداز سے پوچھا تھا ۔۔۔
اس سے روحا کو سردی زیادہ نہیں لگے گی کیونکہ یہ گرمی کی ہے جاٶ تم اب جلدی ۔۔۔
کومل شطانی مسکراہٹ لاۓ صام کو گولی دیتی اندر چلی گی تھی ۔۔۔
روحا کی وجہ سے صام اتنا پریشان تھا وہ کومل کے ہاتھ سے ڈرگز کی گولی لے چکا تھا ۔۔
————————————————————
مس لائف ۔۔۔
کدھر ہو میری جان ۔۔۔
طوفانی برف باری اندھیرے میں چلتے صام نے اُونچی آواز سے چلایا تھا ۔۔۔
شوز پہنے سے اسے چلنے میں پریشانی ہو رہی تھی تبھی وہ شوز اتارے اب ٹھنڈی برف پر بامشکل چلتا جا رہا تھا ۔۔۔
اسے اپنی پرواہ نہیں تھی اگر فکر تھی تو بس روحا کی جیسے ڈھونڈنے کے لیے اب وہ بنا کسی کی پرواہ کیے چلتا جا رہا تھا ۔۔۔
ٹ۔ٹو۔ٹو۔۔۔
ہاتھ میں پکڑی ٹارچ ٹھکر لگنے سے برف پر گر چکی تھی تبھی ہاتھ میں پہنی واچ کا ریڈ مارک آن ہوا تھا ۔۔۔
مس لائف کی سانسیں ۔۔۔
صام اپنی واچ پر خطرے کا سائرن سنتا ایکدم پریشان ہوا تھا ۔۔۔
یہ سائرن روحا کی پیٹ سے لگی چین کا تھا ۔۔۔
جس کا مطلب تھا روحا کی سانسیں بند ہو رہی ہے ۔۔۔
اندھیرے میں ہی اب صام پاگلوں کی طرح برف پر بھاگ رہا تھا ۔۔۔
پاٶں اس کے زخمی ہو چکے تھے ۔۔۔
وہ نہیں جانتا کتنی دفعہ وہ برف پر گرا تھا اگر یاد تھا تو بس اپنی انیجل کو بچانا ہے ۔۔۔
———————————————————–
آہان صام نے بلکل ٹھیک کہا ہے میں اچھی بہن نہ بن سکی ۔۔
بلیک بیوٹی پتہ نہیں کدھر ہو گی ۔۔
رات بھی کافی ہو گی صام بھی نہیں آیا اور باہر برف کتنی پڑ رہی ہے ۔۔
ہیر کھڑکی کے پاس کھڑی ہوتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
صام غصے کا تیز ہے تم تو جانتی ہو وہ انیجل کے لیے کتنا سیریس ہے بس اس لیے بول دیا ۔۔
ورنہ تم تو بہت اچھی بہن ہو ۔۔
آہان ہیر کو اپنے سینے سے گلے لگاۓ اسے پرسکون کرتا بولا تھا ۔۔۔
پریشان تو وہ بھی ہو چکا تھا تین گھنٹے ہو چکے تھے روحا صام ابھی تک نہیں آۓ تھے ۔۔۔
مل جاۓ گی روحا صام کو ۔۔
ہیر نے سوالیہ انداز سے پوچھا تھا ۔۔۔
ہاں میری جان مل جاۓ گی تم پریشان مت ہو ۔۔
آہان اسے بیڈ پر بیٹھاتے بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
کیوں میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے ۔۔۔
جب بھی محسوس ہوتا ہے میں ایک نارمل انسان کی طرح زندگی گزار سکتا ہو تبھی مجھ پر نئی آزمائش آ جاتی ہے ۔۔۔۔
کیا میں تیرا ناپسندیدہ بندہ ہو جو مجھ سے ہی ہر خوشی لے لی جاتی ہے ۔۔۔
کیا میں اتنا برا انسان ہو ۔۔۔
مجھ پر رحم کر میرے رب میں اپنی جان کے بنا نہیں رہ سکتا ۔۔۔
صام تھک چکا تھا روحا کو
ڈھونڈ کر تبھی بے بس ہوتا وہی برف سے بھری زمین پر گرتا ہاتھ جوڑتا پھوٹ پھوٹ کر روتا آسمان کی طرف منہ اٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔
م۔مس لائف نے کہا تھا جب انسان بے بس ہو جاۓ اس کی مدد کے لیے کوئ نہ ہو تب اللہٌہی ہماری مدد کرتا ہے اے میرے رب مجھ نا چیز کو میری سانس واپس کر دے میں تیرا گناہگار بندہ ہو ۔۔۔
مجھے میری سانس واپس کر دے میرے رب میں اپنی زندگی میں کبھی کچھ نہیں مانگو گا ۔۔۔
اے میرے رب میری مدد فرما مجھے راستہ دیکھا میں کیا کرو اس طوفانی برف باری وہ پتہ نہیں کدھر ہے ۔۔۔
صام برف سے لت پت فل ٹھنڈا ہوتا اپنا چہرہ برف والی زمین پر رکھ چکا تھا ۔۔۔
تبھی اسے اپنے چہرے کے پاس روحا کی کیپ محسوس ہوئ تھی ۔۔۔
میں جانتا تھا میرا رب اپنے بندے کو مایوس نہیں کرتا ۔۔۔
صام تھوڑی سی امید دیکھتا آسمان کی طرف شکرگزار نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
اب وہ اندھیرے میں ہی چلتا آہستہ آہستہ روحا کی ساری چیزیں اٹھاۓ جنگل کی طرف جانے والی روش پر آیا تھا ۔۔۔
جب اسے سامنے برف کے موٹی تہہ پر وہ ٹھکر لگتے گرا اس کے اوپر گرا تھا ۔۔۔
جیسے ہی صام اس جگہ پر گرا اسے لگا اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ ہو ۔۔۔
انیجل ۔۔۔۔
صام اندھیرے میں ہی برف پر ہاتھ پھیرتا اب بے قراری سے پکارا تھا ۔۔۔
انیجل انیجل تم یہاں کیسے۔۔۔
صام کی چھٹی حس جاگی تھی تبھی وہ دھڑکتے دل سے جلدی جلدی برف کو اپنے سرخ یخ ہاتھوں سے پیچھے کرتا چلایا تھا ۔۔۔
جب تھوڑی سی جگہ صام کو لگی صاف ہو گی تبھی اس نے نیچے اپنا چہرہ جھکایا تھا ۔۔۔
اسے اپنے یخ پستہ چہرے پر روحا کی مدھم چلتی سانسیں پڑی تھی ۔۔۔
میری جان۔۔۔
صام نے جب روحا کا جسم محسوس کیا فورًا اپنی باہوں میں اسے اٹھایا تھا ۔۔۔۔
روحا کا جسم ایک برف کی مورت لگی تھی صام کو جس کی بلکل مدھم سانسیں چل رہی تھی ۔۔۔
انیجل انیجل دیکھو میں ڈیول ۔۔۔
روحا کو پکڑے وہ نیچے اپنی گود میں اسے بیٹھاتا ہوا اس کا چہرہ پکڑے بولا تھا ۔۔
روحا نیم بے ہوش میں تھی۔۔۔۔
ص۔ص۔ام۔ڈ۔ی۔و۔۔۔
روحا کے ہونٹ برف سے نیلے پڑے تھے اس سے بولنا بھی محال ہو رہا تھا ۔۔
تبھی نڈھال سی وہ اسی کے سینے پر سر رکھ چکی تھی ۔۔۔
اچھا میری جان صام آ گیا دیکھنا ابھی میں اپنی انیجل کو لے کر جاٶ گا ۔۔۔
صام اپنے گال کو اس کے گال پر سہلاتے بولا تھا ۔۔
اس کے لیے یہی کافی تھا روحا اسے مل گی تھی ۔۔۔
صام نے جلدی جلدی وہ ساتھ لاۓ کورٹ اسے پہناۓ تھے ساتھ اپنی جکیٹ بھی اسے پہنا چکا تھا ۔۔۔
سنو گھور سے بات کچھ بھی ہو جاۓ مجھے چھوڑنا مت ۔۔۔
صام نے دیکھا کہ دوبارہ برف باری شروع ہو چکی تھی ساتھ طوفانی ہوائیں تبھی نڈھال سی روحا کو اپنی کمر پر چڑہاۓ وہ آرام سے بولا تھا ۔۔۔
ہمممم۔۔۔
روحا اپنی ٹانگیں صام کی کمر پر لاک کیے اور بازوں اس کی گردن پر حائل کیے اپنا چہرہ اس کی بیک پر ٹھکاتے بولی تھی ۔۔۔
پریشان مت ہونا ہم بہت جلد پہنچ جاۓ گے ۔۔۔
صام جلدی جلدی جاتا ہوا خودی بول رہا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا روحا مکمل اپنے حواس نہ کھو دے ۔۔۔
روحا کا جسم برف جیسا یخ ہوا پڑا تھا ۔۔۔۔
ابھی وہ چلتا جا رہا تھا جب روحا پھسل کر نیچے گری تھی ۔۔۔
انیجل انیجل ۔۔۔
صام نیچے زمین پر بیٹھے روحا کا چہرے تپھپاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ہاں کومل نے گولی دی تھی ۔۔۔
صام جلدی سے اپنی جنیز سے گولی نکالے روحا کے منہ میں ڈالی تھی ۔۔
بس تھوڑی دیر میری جان ۔۔۔
صام نے جب محسوس کیا روحا اب کوئ حرکت نہیں کر رہی جلدی سے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں سہلاتے اسے گرمائش دیتے کہا تھا ۔۔۔
صام نے اپنی شرٹ بھی اتار کر روحا کو پہنا دی تھی تاکہ اس کا جسم گرم ہو سکے ۔۔۔
صام دوبارہ ہمت کرتا روحا کو اپنی کمر پر اٹھاتا چلا تھا ۔
کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے اندھیرے میں برف پیچھے کر رہا تھا ۔۔۔
صام کا اپنا جسم خود اتنی سردی سے شل ہو رہا تھا ۔۔۔
لیکن اسے فکر روحا کی تھی ۔۔۔
ص۔صامممممم۔۔۔
صام اپنے دھیان سے جا رہا تھا بڑی مشکل سے کیونکہ برف بار بار اس کے چہرے اور سینے پر پڑ رہی تھی ۔۔
تبھی آنکھوں میں پڑتی برف اور سامنے نہ دیکھنے سے وہ ٹھکر کھاتا زمین بوس ہوا تھا ۔۔۔
وہی روحا چلائ تھی ۔۔۔
بس میری جان کچھ نہیں ہوا ہم ٹھیک ہے ۔۔۔
صام جلدی سے اٹھتا ہوا بولا تھا روحا کو اس نے چھوڑا ہی نہیں تھا ۔۔۔
صام کو محسوس ہوا جیسے اس کے سینے سے کچھ چبھ کر خون نکلا تھا ۔۔۔
لیکن وہ روحا کے لیے پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ص۔صام ہ۔ہم چل لے گے پلیز۔۔۔۔
روحا نے جیسے ہی صام کے سینے پر ہاتھ رکھا وہاں گیلا پن محسوس کرتے وہ نیم بے ہوش میں بے بس ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
اسے پتہ تھا صام کتنی مشکل سے سرد ہواٶں کا سامنا کیا چل رہا تھا وہ بھی بنا شوز کے ۔۔۔۔
صام اس کی بات اگنور کیے چلتا جا رہا تھا ۔۔
اسے سامنے اپنا فارم ہاوس دیکھا تھا برف میں ڈوبا
ہوا ۔۔
کومل نے کچھ کھانے کو دیا تھا کیا ۔۔۔
صام اب تیز تیز قدم اٹھاتا روحا سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
جو اس کے کمر سے لٹکی ہوئ تھی ۔۔۔
ی۔ہ۔ک۔یہ کون ہے۔۔۔
روحا نے اپنے یخ ٹھنڈے ہونٹ اس کی کمر پر سہلاتے پوچھا تھا ۔۔۔۔
وہ چڑیل ہے دور رہنا ۔۔۔
صام مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
تو آ۔آپ لوگوں۔ن۔نے کیوں ۔رک۔کھا اسے۔۔۔
روحا اب اپنے لب صام کے کان پر رکھتے بولی تھی ۔۔۔
گولی نے اس پر اثر کیا تھا ۔۔۔
ہم اسے مار دے گے کیسا۔۔۔۔
صام نے جب دیکھا روحا تھوڑی سی نارمل ہو رہی تھی تبھی اسے ٹانگوں سے پکڑتے گھوما کر اپنے سامنے لاتے بولا تھا ۔۔۔
آپ۔م۔ما ر دینا ۔۔۔
روحا اب صام کے نیلے ہونٹ دیکھتے سکون سے بولی تھی ۔۔۔
تم کہتی ہم مار دے گے اب خوش میری جان۔۔۔
صام نرمی سے روحا کے لبوں کو چھوتے بولا تھا ۔۔۔
ت۔تو آپ کو۔کون پھر۔۔۔
روحا اپنے ٹھنڈے ہاتھ صام کے گال پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہ۔ہم دوست ہے اچھے والے ۔۔۔
صام گھبرایا تھا روحا کے سوال پر ۔۔۔
کیا روحا سب بھول گی اب ۔۔۔
صام نے دل میں سوچا تھا تبھی وہ بولا تھا ۔۔۔
اچھا آپ دوست ہے ہاے کتنے پیارے ہے ۔۔۔
روحا خوش ہوتی اس کے لب پر انگلی رکھتے بولی تھی ۔۔۔
تمہیں میں اچھا لگا۔۔۔
صام نے حیران ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔
ہاں بس آپ تھوڑے سے سانڈ جیسے اتنے موٹے ہے کم کھایا کرے ۔۔
روحا صام کے ہیوی مسلز اور شولڈر دیکھتی زرا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
صام اب بلکل خاموش ہو چکا تھا ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہوا یافی طیبعت ٹھیک ہے ۔۔
یافی پریشان سی ہال میں ہی چکر لگا رہی تھی جب زرجان اس کا زرد چہرہ دیکھتے حیران ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔
جی بس چکر آ۔۔۔۔
یہ سمل کیسی ہے ۔۔
یافی زرجان کے پاس آتی اس کے سینے پر سر رکھے بولی تھی ۔۔
وہ میرے کپڑے خراب ہے تم روم م۔۔۔۔
یافی یافی ۔۔۔
زرجان اسے نرمی سے پیچھے کرتا بول رہا تھا جب یافی منہ پر ہاتھ رکھتے واش روم کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر کو فون ملاٶ تم چوفی کی طیبعت نہیں ٹھیک خیال رکھنا ۔۔۔
زرجان ابھی دیکھ ہی رہا تھا جب فارم ہاوس میں انٹر ہوتا صام بے نیاز سا ہوتا کہتا سیڑھیاں چڑتا ہوا بولا تھا ۔۔
انیجل کیسی اب ۔۔۔
زرجان فکر مند ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہے تم ڈاکٹر کو فون کرو جاٶ دیکھو ۔۔۔
صام بنا دیکھے اوپر جاتے بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
تم یہاں روکو میں ڈاکٹر ہو فون کر لو۔۔۔
صام روحا کو نرمی سے بیڈ پر بیٹھاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
اچھا ہم سو جاتے پھر۔۔۔
روحا بیڈ پر ویسے ہی لیٹتے بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
انیجل آ گی ۔۔
آہان صام کے روم کے پاس آتا بولا تھا ۔۔
جی لالہ انیجل ٹھیک نہیں اس پر نشے کا زیادہ اثر ہوا ہے وہ سب بھول رہی ہے میں نے ڈاکٹر سے بات کر لی ہم کل صبح آسٹریلیا جا رہے ہے ۔۔
روحا کا علاج وہی ہو گا کیونکہ ڈاکٹر نے کہا ہے ایسے روحا کی یاداشت چلی جاۓ گی لالہ میں ایسا نہیں چاہتا ۔۔۔
صام فون پر بزی ہوتا جلدی سے سب بتا چکا تھا ۔۔۔
لیکن چمپین تم انی۔۔۔۔
نہیں لالہ میں مس لائف پر کوئ رسک نہیں لے سکتا ۔۔۔
آہان پریشان ہوتا بول رہا تھا جب صام بات کاٹتا کہتا روم میں واپس چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————-صام جیسے ہی کمرے میں آیا اسکے پاوں تلے سے زمین نکل گئی تھی ۔۔۔
جہاں روحا شرٹ میں کھڑی ٹھنڈ سے تھر تھر کپکپاتی اپنے گیلے بال ٹاول سے سلجھا رہی تھی۔۔
یہ کیا حرکت تھی انیجل اتنی سردی میں نہا لیا وجہ ۔۔۔
صام ایکدم شدید غصے میں آتے بولا تھا ۔۔۔
وجہ ہ۔ہم نہیں۔جانتے ۔۔۔
روحا نشے سے جھولتی ہوئ بولی تھی۔۔
صام نے شکر ادا کیا کہ ہیٹر اور آتشدان کے باعث سردی کافی کم تھی ورنہ وہ تو ٹھنڈ سے اکٹر چکی ہوتی ۔۔
دیکھو میری جان سردی کافی ہے اوپر سے تم نے میری ہی شرٹ پہنی ہوئ ہے ۔۔۔
صام نے اسے نرمی سے سمجھایا تھا ۔۔۔
تاکہ روحا غصہ نہ کر جاۓ وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔۔۔
تو ہماری شرٹ پہن لے دوست ہے ہمارے ۔۔۔
روحا نے تقریبا غصے سے بند ہوتی آنکھوں سے جواب دیا تھا وہ شاید مدہوشی میں تھی ۔۔۔
“تم بہت خودغرض ہو مس لائف صرف اپنا سوچتی ہو” ۔۔
صام نے سنجیدگی سے جتایا تھا اور اسکے صبیح بھیگے بدن سے نظریں چرائیں۔۔
جہاں صام کی شرٹ اس کے شولڈر سے نیچے تک آ رہی تھی ۔۔۔۔
اگر روحا ہوش میں ہوتی تو کبھی بھی وہ ایسی حالت میں اس کے سامنے نہ آتی ۔۔۔
خود غرص کیوں ہوۓ ہم نے بس شرٹ پہنی ہے آپ کہتے ہم اتار دیتے ہے ۔۔۔۔
روحا نے ضدی اور غصے والے انداز سے کہتے شرٹ کو تھوڑے نیچے کرتے کہا تھا ۔۔۔
صام جلدی سے اپنے لبوں پر صلح جو مسکراہٹ سجاتا اسکی طرف بڑھا تھا اور محبت سے تھوڑی پکڑ کر اسکا غصے سے پھولا چہرہ اپنی طرف کیا۔۔۔
اچھا میری جان دوست کو معاف کر دو ۔۔۔
صام کے لئے وہ بضد سی کھڑی اپنی تمام حشر سامانیوں سمیت حیران اور امتحان بنی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ بار بار اس سے نظریں چڑا رہا تھا ۔۔
“نہیں کرنا ہم نے معاف جاۓ ہم یہاں بیٹھے ہے ۔۔۔
وہ تیزی سے نفی میں سر ہلاتی اسکا ہاتھ جھٹک کر آتش دان کے آگے جا کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔
صام نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا تھا ۔۔۔
اسے شدید غصہ آیا تھا کومل پر کیوں اس نے روحا کو یہ نشے والی گولی دی تھی ۔۔
جو اب اس کی شرٹ میں جو اسکے سینے سے لے کر گھٹنوں تک بامشکل آرہی تھی ۔۔۔
مقید ہو کر آتشدان کے سامنے دزانو بیٹھی تھی ۔۔۔
صام اس کی جانب گیا۔۔۔
“تو ٹھیک ہے میں بھی آج رات یہاں ہی بیٹھوں گا صام نے اسکے ساتھ دزانوں بیٹھ کر کہا تھا ۔۔۔
کیوں آپ کو نیند نہیں آ رہی ۔۔
روحا نے حیران ہوتے کہا تھا ۔۔۔
نہیں تم ساتھ سوتی ہو اس لیے نیند آ جاتی ہے ۔۔۔
صام جلدی سے روحا کی گود میں سر رکھے پیار سے بولا تھا ۔۔۔
ہم تو دوست ہے ۔۔۔
روحا نے ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔۔
ہم کافی اچھے دوست ہے تو ساتھ سوتے ہے ۔۔۔
صام روحا کی شرٹ پر ہاتھ رکھے بولا تھا جہاں اسے چین محسوس ہوئ تھی ۔۔۔
وہ محسوس کر سکتا تھا روحا کا جسم کانپ رہا تھا سردی سے ۔۔۔
روحا نے آتشدان کی جانب ہاتھ کئے اپنے ہاتھ گرم کرتی ان گرم ہاتھوں کو صام کے ٹھنڈے چہرے پر رکھے تھے ۔۔۔
دوست آپ کو سردی لگ رہی اور شرٹ بھی نہیں پہنی آپ نے ۔۔۔
روحا اپنے ہاتھ اس کے چہرے پر لاتی اب اس کے ٹھنڈے برف جیسے سینے پر رکھتے بولی تھی ۔۔۔
صام سے برداشت نہ ہوا تو کہہ اٹھا۔۔۔
“تمہیں سردی لگ رہی ہے جا کر بیڈ پر سو جاؤ۔۔
صام نے ایک بار پھر اسے کہا تھا وہ ناراض نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
سردی ہمیں نہیں آپ کو لگی ہے ۔۔۔
روحا اسے اپنی گود سے اٹھاتی برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
صام نے ایک ہی جھٹکے سے روحا کو کمر سے پکڑے اپنی گود میں بیٹھایا تھا ۔۔۔
“شدت سے واقف ہو میری پھر بھی ایسی حرکتیں کرتی ہو۔۔
صام نے سرگوشی کرتے ہوئے اسکے برہنہ کندھے پر محبت سے لب رگڑے تھے ۔۔۔
ی۔یہ کیا ک۔کر رہے آپ۔۔۔۔۔
روحا نے کپکپاتے لہجے میں پوچھا تھا ۔۔۔
میں اپنی دوست سے پیار کر رہا ہو ۔۔۔
تم کرو گی ایسا پیار ۔۔۔
صام روحا کا چہرہ پکڑے اپنے قریب لاتے بولا تھا کہ دونوں کی سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں ۔۔۔
ہ۔ہم بھی ایسا کرے گے ۔۔۔
روحا اپنی بند ہوتی آنکھوں کو کھولتی صام کے گال پر لب رکھتے بولی تھی ۔۔۔
لیکن میں تم سے زیادہ پیار کرتا ہو ۔۔۔
صام نے محبت سے دوبدو جواب دیتے اسکے آگ کی تپش سے سرخ و گرم ہوتے گال پر اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔
روحا لب بھینچ گئی تھی۔۔
وہ جلدی سے اس کی گود سے نکلتی دور جا بیٹھی تھی ۔۔۔
صام نے مدہوش ہوتے روحا کی طرف دیکھا تھا جو لال چہرہ لیے کانپتے جسم کے ساتھ اسے خاموش نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
انیجل۔۔۔
اسے خاموش دیکھتے صام نے بہکے ہوۓ انداز سے کہتے اس کا ہاتھ سرائت کرتا ہوا اسکی کمر کی جانب گیا تھا ۔۔
اور اس نے نازک سی دھان پان سی روحا کو دوبارہ اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا تھا ۔۔۔
اور اسکے دونوں ہاتھ جکڑ کر اپنے سینے سے لگاتے دوبارہ اسکی گردن پر اپنے لب مس کئے تھے ۔۔
ا۔انی۔انیج۔انیجل کون ہے۔۔۔
اپنی گردن پر صام کے ٹھنڈے لب محسوس کرتی تیز سانسوں کے درمیان روحا نے پوچھا تھا ۔۔۔
تم انیجل ہو میں ڈیول تمہارا ۔۔۔
روحا نے اسکے ہاتھوں میں سے ہاتھ نکالنے کی کوشش کی تھی ۔۔
مگر صام اسکے اوپر جھکتا اسے قالین پر لٹاتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔
ی۔یہ غلط ہ۔ہم دوست ہے ۔دوست۔می۔یہ سب۔نہیں ۔ہو ۔تا۔۔۔۔
روحا جلدی سے صام کو خود سے دور کرتی بامشکل تیز سانسوں سے بولی تھی ۔۔۔
ہم۔میاں بیوی بھی ہے انیجل ۔۔
صام روحا کو دوبارہ قالین پر لٹاۓ مدہوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔
لی۔لیک۔۔
شششش ۔۔۔
روحا ناسمجھی سے بول رہی تھی جب صام نے اس کے لبوں پر انگلی رکھے اسے چپ کروایا تھا ۔۔۔
صام نے روحا کے بھیگے بال اسکے کندھے سے ہٹائے تھے اور کان کی لو سے لیکر کندھے تک اپنے لبوں کا لمس ثبت کیا تھا ۔۔۔
کیونکہ وہ جانتا تھا روحا کو ایک تو برف کی سردی لگی تھی دوسری وہ نہا چکی تھی ۔۔۔
جس کی وجہ سے اس کے جسم میں حرارت کم ہو چکی تھی ۔۔۔
اب وہ اسے اپنی گرمائش دیتے حرارت دے رہا تھا ۔۔۔۔
آ۔آپ موٹ۔موٹے ہے۔کا۔کافی ۔۔
صام جو اس پر جھکا اپنی پیاس بجھا رہا تھا تبھی روحا سرخ چہرہ لیے صام کے سکس پیک پر انگلی رکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہاا دوست ہو تو جیسا دوست ہو اسے قبول کرنا چاہے ۔۔۔
صام روحا کی بات پر قہقہ لگاتا ہوا دوبارہ اپنے لب اس کی بیوٹی بون پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔
ہم تو موٹے نہیں دیکھے ہم کتنے سمارٹ ہے ہمیں ایسا دوست نہیں چاہے ۔۔۔
روحا صام کو اپنا پیٹ دیکھاتی منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
لیکن تم موٹی ہو جاٶ گی دیکھنا ۔۔۔
صام روحا کی حرکت پر مسکراہٹ روکے اس کے گال پر کس کرتا بولا تھا ۔۔
لیکن ہ۔۔۔
اس سے پہلے وہ بولتی جب صام نے اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے ۔۔۔
وہی وہ اسے اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں منتقل کر رہا تھا ۔۔۔۔
ڈ۔ڈیول ہمیں س۔سون۔ہے۔۔۔
روحا کو جب سمجھ نہ آیا اس کے ساتھ کیا ہو رہا تبھی پیچھے ہوتی سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں میری جان سو جاٶ اب ۔۔۔
صام کو دکھ تو ہوا تھا کافی کہ روحا اسے بھول چکی تھی مکمل لیکن اسے روحا کی یاداشت لانی تھی اگر وہ اسے دوست مانتی تھی تو دوست ہی سہی ۔۔۔
تبھی دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کیے وہ اسے اپنے سینے پر لیٹا چکا تھا ۔۔۔۔
روحا جانا پہنچنا سا لمس پاتے شرماتی ہوئ آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔
