Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 50) Last Episode

339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 50) Last Episode

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

““ایک سال پہلے ۔۔۔

ہ۔ہم بچ گے صام۔۔۔

پہاڑی سے تھوڑا نیچے گرتے روحا نے حیران اور گھبراتے ہوۓ پوچھا تھا ۔۔۔

کیونکہ جیسے ہی روحا نے دیکھا وہ دونوں گر رہے ہے تبھی ڈر سے صام کو ہگ کرتی آنکھیں بند کیے اس کی گردن میں منہ چھپا چکی تھی ۔۔۔

اب خود کو زندہ دیکھتی وہ صام کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں میری جان کیونکہ ڈیول کو ابھی تو ہی انیجل ملی تھی آخر ہم دونوں مر جاتے تو اس شہروز کا کیا ہوتا ۔۔۔

صام نے جب گرتے وقت آس پاس دیکھا تو اس بچاٶ کے لیے ایک غار جیسی پہاڑی کے اندر تھوڑی سی جگہ دیکھائ دی ۔۔۔

تبھی وہ نڈر ہوتا خود بھی ساتھ گرتا ایک ہاتھ سے روحا کو ہگ کیے دوسرے سے وہ چھوٹا سا پتھر پکڑتے اندر کی طرف کود گیا تھا ۔۔۔

وہ دونوں اب وہ اکیلے سکون سے آمنے سامنے کھڑے تھے ۔۔۔۔

یاہووووو ہم بچ گے صام ہم بچ گے ۔۔۔۔

روحا خوشی سے پاگل ہوتی صام کے دوبارہ گلے لگتی بولی تھی ۔۔۔۔

پر میں ناراض ہو جب منع کیا تھا تو کیوں پاس آئ ۔۔۔

صام روحا کو پکڑے وہی زمین پر بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔۔

ہم آپ کے بنا نہیں رہ سکتے تھے صام ۔۔۔

روحا اس کا خون آلود چہرہ ہاتھوں میں لیتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

چپ میری ج۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔

صام بول رہا تھا جب روحا کو اپنی شرٹ کا بٹن کھولتے دیکھ بولا تھا ۔۔

آپ کا خون صاف کرنا ہم نے ۔۔۔

روحا یہ کہتی اب صام کی شرٹ کے بٹن کھولتی بولی تھی ۔۔۔

لیکن مجھے تو لگتا تم تنہائ میں میری عزت پر ہاتھ ڈال رہی ۔۔۔

صام اسے شوخ ہوتا دیکھ بولا تھا ۔۔۔

یہی سے دھکا دے گے آپ کو پھر بتانا عزت بچی کہ نہیں ۔۔

روحا اس کی شرٹ اتارتے ہوۓ دانت پیستی بولی تھی ۔۔

آنکھیں بند کرے۔۔

روحا اسے خود کو گہری نظروں سے گھورتی دیکھ دو ٹوک بولی تھی ۔۔۔

بلکل نہیں جو کرنا سامنے ہی کرو ۔۔

صام اس پر ٹٹھٹکی باندھتے بولا تھا ۔۔۔

اففف صام توبہ ہے ۔۔۔۔

روحا جنجھلاتی ہوئ اپنی پھٹی شرٹ کو تھوڑا سا اوپر کرتے بولی تھی۔۔

ص۔صام باز آۓ اپنی حرکیتوں سے ۔۔

روحا کو اپنے پیٹ پر صام کے لب محسوس ہوۓ تھے تبھی وہ گھبراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اس جانور نے تمہیں مارا اب میں اسے موت دو گا پل پل مرے گا لیکن موت نصیب نہیں ہو گی اسے ۔۔

جب تک ہمارا بے بی نہیں ہو جاتا تب تک ہم پاکستان نہیں آے گے مس لائف ۔۔۔

صام وہی اپنے لب رکھے ضبط کرتا بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ وہ دیکھ چکا تھا روحا کے جسم پر کتنے خون سے بھرے نشان تھے ۔۔

لیکن ہم یہاں بھی تو رہ سکتے ہے ۔۔

روحا نے جب دیکھا صام اسی کے پیٹ پر لب رکھے ہوا ہے جلدی سے اپنی شرٹ اتارتی صام کی پہناتی بولی تھی ۔۔۔

نہیں ہم یہاں نہیں رہ سکتے ۔۔۔

صام روحا کے چہرے کے قریب چہرہ لاتے بولا تھا ۔۔۔

صام آپ کو گولی بھی لگی تھی لیکن خون کیوں نہیں آیا۔۔۔

روحا اپنی اتاری شرٹ سے صام کے چہرے اور شولڈر سے خون صاف کرتی بولی تھی ۔۔

کیونکہ میں نے بلٹ پروف جکیٹ پہنا تھا یہ دیکھو ۔۔۔

صام مسکراتا ہوا کہتا اپنی سکن کی طرح جکیٹ اتارے بولا تھا ۔۔۔

اففف صام ہم ڈر گے تھے سچی والا ۔۔

روحا اس کا صاف شفاف سینہ دیکھتی دل کے مقام پر لب رکھتی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔۔

صام نے کسی کو نہیں بتایا تھا وہ زندہ ہے سواۓ شعیب کے ۔۔۔

شعیب کی ہی وجہ سے وہ دونوں لندن چلے گے تھے سب سے چھپ کر ۔۔۔

————————————————————

خوبصورت بلیک روم میں بلیک ہی کلر کے فل فام والے بیڈ پر سکون سے گہری نیند میں روحا سو رہی تھی ۔۔

ہر چیز سے بے خبر ۔۔۔

اس کے قریب بیڈ پر بیٹھتے وہ تینوں اپنے ہاتھوں سے روحا کی گردن ناک لب کو چھوتے خوش ہو رہے تھے ۔۔۔

جبکہ تینوں کی آنکھیں مسکرائ تھی روحا کو دیکھ کر ۔۔۔

اس سے پہلے کوئ نرمی سے روحا کے گال کو چومتا جب ڈیول آندھی طوفان بنا روم میں انٹر ہوتا ان تینوں کو بیڈ سے دھکا دیتا خود انیجل کے پاس بیٹھ چکا تھا ۔۔۔

اب وہ تینوں زمین پر گرے سامنے بیڈ پر سرخ گرین آنکھوں میں وحشت دیکھتے تھرتھر کانپتے یہی دعا کر رہے تھے اللہٌان کو ڈیول کے قہر سے بچا لے ۔۔

اور پچھتا بھی رہے تھے کیوں ڈیول کی انیجل کے قریب جانے کی وہ گستاخی کر چکے تھے ۔۔۔

ک۔کیا ہوا صام۔۔۔

زمین پر کچھ گرنے کی آواز پر گہری نیند سے جاگتی روحا ہربڑاتی ہوئ صام کی بیک سے لگتی بولی تھی ۔۔۔

بھاں بھاں۔بھاںنننن۔۔۔

روحا کی آواز سنتے ہی وہ تینوں نفوس گلا پھاڑے رونا سٹارٹ کر چکا تھا۔۔۔

ی۔یہ کیا طریقہ ہے صام بچے ہے ہمارے حد ہوتی ہے جلیسی کی ۔۔۔

روحا اپنے پھول جیسے نرم نازک بچوں کو قالین پر گرے روتے دیکھ صام سے الگ ہوتی اسے گھورتی ہوئ بیڈ سے اٹھتی ان تینوں کے پاس جاتی بولی تھی ۔۔۔

اللہٌنے روحا کو ایک ساتھ تین بچے دے تھے ۔۔۔

جو کہ پانچ ماہ کے ابھی ہوۓ تھے ۔۔

بڑا بیٹا حازم صام آفندی جو کہ بلکل صام کی کاربن کاپی تھا۔۔۔

اس سے چھوٹی سوہا صام آفندی شکل سے بلکل روحا جیسی کھڑوس تھی لیکن صام جیسی آنکھیں گرین لی تھی ۔۔۔

اس سے چھوٹا حدید صام آفندی نرم مزاج بچہ جو روتا بھی سریلی آواز سے تھا ۔۔۔

اب وہ تینوں آنکھوں میں آنسو لاتے زور و شور سے رو رہے تھے ۔۔۔۔

ارے ماما کی جان یہاں آو ہمارے پاس ۔۔

روحا ان تینوں کو گود میں بامشکل اٹھاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ارے چھوڑو تو سہی ۔۔

روحا کے دونوں شولڈر پر حازم اور حدید جبکہ اس کی بازو سے سوہا لٹک رہی تھی جب وہ جنجھلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

پکڑے اب آپ کیسے سکون سے بیٹھے ہے ۔۔

روحا صام کو سکون سے بیٹھے دیکھ غصے سے بولی تھی جو روٹھے بچے کی طرح اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔

یہ دشمن ہے میرے میں تو بلکل نہیں ہاتھ لگا رہا۔۔۔

صام دو ٹوک انہیں گھورتا بولا تھا ۔۔۔

وہ خود حیران ہوتا تھا اس کے تینوں بچے اتنے کم ماہ کے ہو کر بھی اتنے ایکٹیو کیسے ہو سکتے ہے ۔۔

پھر پیدا کیوں کے اگر ہنیڈل نہیں کرنا ۔۔۔

روحا بھی بیزار ہوتی جلدبازی میں بول گی تھی ۔۔۔۔

مجھے کیا پتہ تھا تین تین دشمن پیدا ہو جاۓ گے انہہ تم صرف میری ہو یہ نیچے اتنے رومز بناۓ ہے الگ الگ فلور ہے یہ وہاں رہے چونے ایلفی جوئیں۔۔۔

واٹ جوئیں ۔۔۔

صام بھی بے شرم ہوتا منہ بناتا بول تھا جب روحا منہ کھولے حیرت سے بولی تھی ۔۔۔

ہاں جوئیں جو سر میں ہر وقت رہتی ہے جان ہی نہیں چھوڑتی ۔۔۔

صام برا سا منہ بناۓ بولا تھا ۔۔۔

اففففف صامممممم۔۔۔۔

روحا سب سے تنگ آتی چلائ تھی ۔۔۔

وہی روحا کو تھکا ہوا دیکھ صام جلدی سے اٹھتا سب کو اپنی گود میں لیتا بیڈ پر بیٹھا تھا ۔۔۔

————————————————————

ہ۔ہم پاکستان ک۔کب جاۓ گے صا۔صام۔۔۔

روحا صام کی گود میں بیٹھی اسی کی شرٹ پہنے وہ سنیڈوچ خود بھی کھاتی اسے بھی کھلاتے بولی تھی ۔۔۔

ابھی کچھ دیر بعد جاۓ گے ابھی ناشتہ کرو ۔۔۔

صام نے اپنی گود میں بیٹھے اپنے ننھے سے بچوں کے منہ میں فیڈر دیتا بولا تھا ۔۔۔

سوہا مسلسل روحا کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

۔م۔م۔مو۔۔۔

سوہا رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔

جی ماما کی جان یہاں آٶ ۔۔

روحا سوہا کو پکڑتی اپنی گود میں بیٹھاتے اس کے گال چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

یہاں بیٹھے رہو کانٹے نہیں لگے ۔۔۔

صام نے جیسے ہی دیکھا حازم اور حدید بھی روحا کی طرف لپک رہے تھے جب صام طش میں آتا غرایا تھا ۔۔۔۔

باباببببب۔۔۔۔

حدید تو بھاں بھاں کرتا رو پڑا تھا ۔۔۔

صام کیا حرکت ہے یہ شرم کرے ہمارے بچے ہے حد ہوتی ہے کسی بات کی ۔۔۔

روحا ان تینوں کو دوبارہ روتا دیکھ صام کی گود سے نکلتی ہوئ بولی تھی ۔۔

بھاڑ میں جاۓ سارے تم صرف میری ہو سمجھی۔۔۔۔

صام بھی لاپرواہ سا ہوتا بولا تھا ۔۔۔

انہہ۔۔۔

روحا اسے زبان دیکھاتی روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔

———————————————————–

کاش صامے ہوتا تو دیکھتا ہمارے بچوں کو ۔۔۔

رات کے وقت سارے ہال میں بیٹھے تھے جب منان اداس ہوتا بولا تھا ۔۔۔

وہ رات کے ڈنر پر وہاں آیا تھا ۔۔۔

ہاں بلکل ٹھیک کہہ دیکھو مجھے بھی اللہٌنے رحمت دی ہے ۔۔۔

آہان بھی اپنی دو ماہ کی بیٹی کو گود میں لیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جو بلکل ہیر کی کاربن کاپی تھی ۔۔۔

جس کا نام انھوں نے وانیہ رکھا تھا ۔۔۔

ہمممم کیا کہہ سکتے ہے اب۔۔۔

مستقیم بھی آبدیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

مستقیم زرجان منان آہان مسٹر این دیکھو یہ ننھے معصوم سے بچے جیسے میری روحا اور صامے ہو ۔۔۔

وردہ بیگم ہال میں آتی چہکتے ہوۓ بولی تھی جہاں اب آفندی صاحب زیدی صاحب اور حیدر صاحب بھی بیٹھے تھے ۔۔۔

کہاں ہے ننھے سے بچے ۔۔

آفندی صاحب انہیں خوش دیکھتے بولے تھے ۔۔۔

یہ دیکھو کوئ میرے روم میں چھوڑ گیا شاہد کسی کے بچے ہے کتنے سویٹ ہے ۔۔۔

وردہ بیگم اپنے پیچھے لاتی ملازمہ کے ہاتھوں سے حازم سوہا حدید کو لیتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں بچے تو واقعی بڑے خوبصورت ہے ۔۔۔

سارے بچوں کو دیکھتے خوش ہوتے بولے تھے ۔۔۔

ظاہر سی بات ہے صام آفندی کے بچے ہے خوبصورت تو ہو گے ۔۔۔

مستقیم زرجان منان آہان سارے بچوں کو گود میں لیتے خوش ہوتے بولے تھے جب ہال میں انٹر ہوتا صام اور روحا ایک ساتھ بولے تھے ۔۔

صامے انیجلللللل۔۔۔۔

سب ان دونوں کو زندہ دیکھتے چلاۓ تھے ۔۔۔

————————————————————

تو زندہ ہے بغیرت انسان ذلیل سانڈ گنڈے جانور وحشی ۔۔۔۔

مستقیم زرجان منان نوفل آہان سب صام کو سامنے دیکھتے دانت پیستے ہوۓ اس پر حاوی ہوتے وہی گراتے مارنا شروع کر چکے تھے ۔۔۔

جبکہ روحا سب سے ملتی ہنستی مسکراتی ان سب کی ہاتھا پائ دیکھ رہی تھی ۔۔۔

یہ۔یہ میرے صامے کے بچے ہے میرے بچے ہے ۔۔۔

وردہ بیگم روحا اور صام سے ملتی بچوں کے

چہرے کو دیوانہ وار چومتی ہوئ روتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔

یہی حالت آفندی صاحب اور زیدی صاحب کی تھی ۔۔۔

پتہ نہیں کہاں سے آ گے آپ ہی رکھ لے مجھے بس انیجل چاہے ۔۔۔

صام ان سب سے ملتا اپنی حالت ٹھیک کرتا صوفے پر سکون سے بیٹھتے منہ بناتا بولا تھا۔۔۔

ان کی نہ سنا کرے یہ پاگل ہے آپ بتاۓ ماما کیسی ہے ۔۔۔

وردہ بیگم ہکا بکا سی منہ کھولے دیکھ رہی تھی جب روحا بھی بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

ان دونوں کی تکرار پر سب کا قہقہ گونجا تھا ۔۔

———————————————————–

ارے ہمارا ڈمپل بواۓ کتنا بڑا ہو گیا ۔۔۔

روحا سامنے سے آتے سنجیدہ سی شکل بناۓ چلتے آتے احمد کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ادھر آٶ ملو انیجل سے ۔۔۔

احمد آنکھیں پھاڑے سامنے روحا کو دیکھتے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔

جب آہان پیار سے اسے بلایا تھا ۔۔۔

م۔موم۔انیج۔انیجل ۔۔۔

احمد ہکلاتا ہوا کہتا بھاگ کر روحا کے سینے سے لگے محبت سے بولا تھا ۔۔۔

وہی صام نے برا سا منہ بنایا تھا ۔۔۔۔

جبکہ سوہا حدید حازم تینوں نے رونا شروع کر دیا تھا کیسے برداشت کرتے اپنی موم کو کسی سے شیئر ہوتے دیکھ ۔۔۔

بس یہ کم تھے جو تم بھی سٹارٹ ہو گے ہاے کون سا ٹائم تھا جو یہ نمونے پیدا ہوۓ ۔۔۔

صام کی حد ختم ہوئ تھی جب روحا احمد کے ساتھ اپنے بچوں کو بھی اپنی گود میں بیٹھا چکی تھی ۔۔

تبھی آگ بگولہ ہوتا کہتا وہاں سے واک آٶٹ کر چکا تھا ۔۔۔

————————————————————

م۔مامامممماااا۔۔۔

روحا تینوں کو روم میں لے آئ تھی تاکہ انہیں سولا سکے ۔۔۔

جب صام بھی اس کی مدد کرتا سوہا کو سلا رہا تھا جب وہ بھاں بھاں کرتی روی تھی ۔۔۔

کیا ہے صام ابھی ہم نے کتنی دیر سے ان سب کو فیڈ کروا کر سولانے کی کوشش کر رہے ایک کو چپ کرواۓ تو دوسرا رو پڑتا ہے ۔۔

روحا غصہ میں آتی صام کو مکہ مارتی بولی تھی ۔۔۔

میرا کیا قصور جیسے تم سولا رہی میں تو ویسے ہی تھپکی دیتا سولا رہا تھا ۔۔

صام معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

یہ ہاتھ دیکھے اپنے سانڈ جیسے بھاری ہے اور ہمارے ہاتھ دیکھے کتنے چھوٹ۔۔۔۔

اور ملائم نازک خوبصورت سے ہے ۔۔۔

روحا صام کا بھاری سفید ہاتھ پکڑتی اپنے سرخ سفید ہاتھ دیکھاتی بول رہی تھی جب صام اس کا ہاتھ پکڑے اس پر لب رکھے محبت سے بولا تھا ۔۔۔

توبہ ہے آپ کو بس چھونے کا بہانہ چاہے چھوڑے ہمیں سونے دے ان سب کو ۔۔۔

روحا اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ اب اس کے تینوں بچے آنکھیں پھاڑے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔

یار دیکھو میں ان کو سولا سکتا ہو بس یہ گولی دو ان کو ایک ایک ہو سکے تو دو دو دینا۔

صام ڈراز سے نیند کی گولیاں نکالے روحا کو دیتا بولا تھا ۔

صام آپ باپ ہے ان کے ایسے نہ کرے جیسے سوتیلے بچے ہو افففففف۔

ہمارا سر پھٹ جاۓ گا ۔۔۔

روحا صام کی بات سنتی صدمے میں جاتی ہوئ چیختی بولی تھی ۔۔۔

تم ان سب کو چھوڑو پہلے مجھے سولا دو ۔۔۔

صام ان تینوں کو اس سے دور کرتا جلدی سے اپنا سر اس کی گود میں رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

صام باز آۓ ہم آپ کو روم میں نہیں آنے دے گے ۔۔۔

روحا صام کا سر دور کرتی بولی تھی ۔۔۔

ل۔۔۔

جب ہم آۓ سو جانا آپ۔۔

صام بول ہی رہا تھا جب روحا تینوں کو اٹھاتی روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔

———————————————————–

کہاں رہ گی تھی اتنی دیر ۔۔۔

آدھی رات کو روحا آہستہ آہستہ قدم آٹھاتی روم میں آ رہی تھی جب سگریٹ پیتا صام سردپن سے بولا تھا ۔۔

آپ سوۓ نہیں ۔۔۔

روحا زیرو بلب جلاتی وڈراب روم کی طرف جاتی بولی تھی ۔

تاکہ نائٹ ڈریس پہن سکے

تمہارے بنا میں سوتا کہاں ہو ۔

صام اسے جاتا دیکھ بولا تھا ۔

ہم باتوں میں مصروف رہے کافی عرصے بعد سب سے ملے تو بھول گے آپ کا ویسے بھی آپ نے بچے اتنے تنگ کیے سب کو فیڈ کروا کر دوبارہ سلویا۔

روحا وڈراب سے باہر نائٹی پہنے آتی بیڈ کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔

مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کوئ تمہارے قریب بھی آۓ ۔۔

روحا ابھی بیڈ تک بھی نہیں آئ تھی جب صام اسے بازو سے پکڑتے اپنے سینے پر گراتے سگریٹ کا دھواں چھوڑتے بولا تھا ۔۔۔۔۔

صامممممم۔۔۔۔۔کبھی جو اس محبوبہ کو چھوڑ دیا کرے جانتے بھی ہے ہمیں نہیں پسند یہ ۔۔۔

اپنے چہرے پر پڑتے دھواں کو روحا کھانستی ہوئ برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

لیکن اس میں اتنا نشہ نہیں جیتنا تمہاری ان سانسوں میں نشہ ہے ۔۔۔۔

صام اس کے لبوں کو سہلاتے گمبیر لہجے سے بولا تھا ۔۔۔۔

س۔سونے دے ہمیں۔۔۔

روحا اس کی نظروں میں اپنے لیے طلب دیکھتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

چلو جاٶ سو جاٶ۔۔۔۔

اچانک صام سرد مہری سے کہتا روحا کو اپنی گرفت سے نکالتا کروٹ لیے لیٹ چکا تھا ۔۔۔۔

جانتے ہے ہم آپ کے بنا اب ایک پل نہیں رہتے تبھی ایسا کرتے ہے ۔۔۔

روحا جلدی

اس کی طرف آتی زور سے ہگ کیے اپنے لب اس کی تھوڑی پر رکھے بولی تھی ۔۔

تمہیں تو سونا تھا اور میرا ارادہ کوئ سونے کا نہیں تھا ۔۔۔۔

صام روحا کو کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے زور سے لگاۓ اپنی مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔۔

اگر ہم نہ آتے تو آ۔آپ آ جاتے ہمارے پاس ہم جانتے ہے ۔۔۔

روحا ہکلاتے ہوۓ بولی تھی کیونکہ صام اس کی نائٹی کی بیک زپ اوپن کر چکا تھا ۔۔۔۔

اچھی بات ہے انیجل تمہیں پتہ ہے ڈیول کا نشہ ہو تم جب تک میں یہ نشہ نہ لے لو تب تک سکون سے نیند نہیں آتی ۔۔۔۔

صام بہکے ہوۓ انداز سے پہلے اس کے کان کی لو کو چومتا پھر لب اس کی بیوٹی بون پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

صام کی شدت پاتے ہی روحا کی سانسیں تیز ہوئ تھی ۔۔۔۔

سو۔۔ن۔نے دے ورنہ بچے جاگ جاۓ گے ۔ویسے بھی آپ کی وجہ سے ہم انہیں الگ روم میں سولا کر آۓ ہے ۔۔۔

روحا اس کی گرفت سے نکلتی سیدھی لیٹتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

شیر کی غار میں خود آئ ہو میں معصوم تو سو رہا تھا ۔۔۔۔

صام اسے دوبارہ اپنی گرفت میں لیتا اس کے سینے پر منہ رکھے سر گوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔

آپ جیسے معصوم اگر اور ہو جاۓ تو دنیا ہی ختم ہ۔۔۔

دنیا میں صرف ایک ہی ڈیول ہے اس کی کاپی نہیں ہو سکتی میں ہی کافی ہو مائ انیجل ۔۔۔

روحا سرخ چہرہ لیتی اسے دیکھتی بول رہی تھی جو اپنے کام میں مگن ہوتا اس کے جسم پر اپنے جنون کے نشان چھوڑ رہا تھا ۔۔۔

تبھی ایک بھی لمحہ ضائع کیے بنا وہ اسے کہتا اس کے ہونٹوں پر اپنے دہکنے لب رکھ چکا تھا ۔۔۔۔

روحا گھبرائ تھی اس کے عمل پر جس میں شدت اور جنون تھا وہ ایسے اس میں مدہوش تھا جیسے سالوں کا اس کی قربت کے لیے پیاسا ہو۔۔۔۔

ک۔کچھ ۔شر۔م کرے۔۔۔

روحا اسے خود سے دور کیے گہرے گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔

جو دور ہونے کی بجاۓ اس کی تھوڑی پر لب رکھے اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

لو اس میں شرم والی کیا بات ہوئ ۔۔

صام اپنے دانت اس کی شہ رگ پر گاڑتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔

صام ایسا نہ کرے۔۔۔

روحا سے جب کوئ بات نہ بنی تبھی رونی شکل بناۓ وہ بولی تھی ۔۔۔

سارا قصور تمہارا ہے جب بھی سامنے آتی ہو میں بہک جاتا ہو تمہیں دیکھ کر میرا جنون دن با دن بڑھتا ہی رہتا ہے ۔۔۔

صام اس کی آنکھوں کو چومتا عقیدت سے بولا تھا ۔۔۔۔

روحا صام کے لفظ سنتی پر سکون ہوئ تھی ۔۔۔

بہت برے ہے آپ۔۔۔

روحا شرماتی ہوئ اس کے سینے پر مکہ مارتی بولی تھی ۔۔۔۔

تم بہت اچھی ہو مائ انیجل ۔۔۔

صام روحا کو دوبارہ اپنی گرفت میں کرتا اس کے نازک گلابی ہونٹوں کو قید کرتا بولا تھا ۔۔۔

اب وہ آہستہ آہستہ اس کی سانسوں میں اپنی سانس منتقل کر رہا تھا ۔۔

————————————————————

لالہ آپ بچوں کو کیوں نے پکڑتے ۔۔۔۔

صبح سب نے مل کر ناشتہ کیا تھا ۔۔۔

جب ہال میں بیٹھے نوفل کو دیکھتی روحا بولی تھی۔۔

جو قالین پر سب کے بیٹھے بچوں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

ہاں ہم نے بھی اتنی دفعہ کہا ہے یہ سنتا ہی نہیں ۔۔۔

مستقیم زرجان منان آہان صام بھی آتے ایک ساتھ بولے تھے ۔۔۔

و۔ہ۔وہ انیجل بات یوں ہ۔ہے کہ میں ایسا تو تم سب کے بچے کتنے پیارے ہ۔۔۔۔۔

کیوں آپ کو کیا ہوا عجیب بات ہے چلے سب کو اٹھاۓ یہ بچے آپ کے بھی ہے لالہ ۔۔۔

نوفل گھبراتا اپنی انگلیاں موڑوتے ہوۓ بول رہا تھا جب روحا اس کی بات کا مطلب سمجھتی زرا سختی سے بولی تھی ۔۔۔

سچی انیجل ۔۔۔

نوفل خوش ہوتا اپنے آنسو صاف کرتا بولا تھا ۔۔۔

سب اس کی فیلیگز سمجھ سکتے تھے ۔۔۔

ہاں یار آٹھاٶ پہلے میری بیٹی کو ۔۔۔

مستقیم مسکراتا ہوا اپنی روشانے کو گود میں آٹھاتے ہوۓ نوفل کی گود میں دیا تھا ۔۔۔۔

یہ غلط ہے میری بیٹی کو پکڑو میں سب سے بڑا ہو۔۔۔

آہان بھی اپنی وانیہ کو نوفل کی گود میں دیتا بولا تھا ۔۔۔

اب سب کے بچے نوفل کی گود اور پاس بیٹھے اس کی بیڈ بجا رہے تھے ۔۔۔۔

ہاہاہااہاہاہااہاہہاہا تو ایسا کر میرے یہ تین بچے لے جا سچی مجھے بس انیجل چاہے ۔۔۔

صام نوفل کی حالت دیکھتا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

کیونکہ جہاں وہ ایک اچھا خاصا تیار سا نوفل تھا اب وہ بگڑی حالت میں بیٹھا تھا ۔۔۔

سوہا اور حازم نے نوفل کے بالوں کا حشر نشر کر دیا تھا ۔۔۔۔

میں ان سب کو اپنے پاس رکھو گا جب بھی تم سب نے ملنا ہوا میرے گھر آ جایا کرنا ۔۔۔۔

نوفل آبدیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

شکریہ انیجل مجھے یہ فیل کروانے کے لیے کہ میں بھی بچے پکڑ سکتا ہو۔۔۔۔

تم جانتی ہو ہم جیسے لوگ ساری زندگی سب کو خوش کرنے میں بزی رہتے ہے جہاں کسی کی شادی ہو یا بچہ ہم وہاں خوش ہوتے ناچتے ہے لوگ بھی خوش ہوتے لیکن کبھی وہ لوگ سمجھ نہ سکے ہم اپنا دکھ درد بھلا کر سب میں خوشیاں بانٹتے تھے ۔۔۔۔

ہم جیسے ادھورے لوگ پوری زندگی روح اور جسم کی جنگ میں لڑتے رہتے ہے ۔۔

روز مرتے اور جیتے ہے کبھی کسی کو

اپنا غم نہیں سناتے نہ ہی کوئ سنے والا ہوتا ہے ۔۔۔

لوگ تو اتنے بے حس ہو جاتے ہے کہ اپنے بچوں کے لیے ہم سے دعا تو لیتے ہے لیکن ہمیں پکڑاتے کبھی نہیں کہی ان کے بچے بھی ہمارے جیسے نہ ہو جاۓ ۔۔۔

یہ تو اللہٌ نے ہمیں ایسے بنایا ۔۔۔

جہاں ہمارا جسم شکوہ کرتا ہے اللہٌنے اسے ایسا کیوں بنایا اس سے اچھا تھا وہ پیدا ہی نہیں ہوتے وہی ہماری روح اس بات پر راضی ہوتی ہے کہ چلو ہر کام میں اللہٌکی مصلحت ہوتی ہے ۔۔۔۔

آج تم سب نے مجھے وہ خوشی دی ہے جو میں نے کبھی فیل نہیں کی تھی ان چھوٹے چھوٹے بچوں کی صورت میں دیکھو کتنے پیارے اور معصوم ہے ۔۔۔

نوفل آنسو بہاتہ ان سب کو دیکھتا اپنے دل کی بات بتا رہا تھا۔۔۔۔۔

وہی روحا کے آنکھوں سے آنسو نکلے تھے ۔۔۔

لالہ آج سے ان سب کو آپ ہنیڈل کرے گے یہ آپ کے ہے ۔۔۔

روحا نوفل کا ہاتھ پکڑتی پیار سے بولی تھی ۔۔۔

میں بہت خوش ہو جیسے میرا ڈیول پیارا ہے ویسی ہی انیجل بھی پیاری ہے ۔۔

نوفل روحا کے سر پر ہاتھ رکھتا ہوا پیار سے بولا تھا۔۔۔

مستقیم آہان زرجان منان صام کو فخر تھا نوفل ان سب کا دوست ہے ۔۔۔

ویسے یار صامے تو ٹھیک رہا ایک سال میں پورے تین بچے کر لے واہ ایک ہمیں دیکھ ہمارے ایک ہی ہے ۔۔

مستقیم ماحول کو ٹھیک کرنے کے لیے مذاق کرتا بولا تھا۔۔۔

جس میں کامیاب بھی ہوا تھا۔۔۔

ڈیول سب سے یونیک کام کرتا ہے سمجھا کر مشعوق ۔۔

صام بے شرمی سے آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہہاہاہااا۔۔۔

وہی سب کا قہقہ گونجا تھا جبکہ روحا شرم سے سرخ چہرہ لیتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

————————————————————

“””پانچ سال بعد۔۔۔۔

مسٹر این آپ کو کیسا فیل ہو رہا آج پوری دنیا کے چالیس ممالک آپ کی فانڈیشن میں پیسے ڈونٹ کرنے آئ ہے ساتھ ہی انہی ممالک میں آپ کی الگ الگ برانچ ہے ۔۔۔۔۔

کچھ کہنا چاہے گے ۔۔۔۔

ایک نیوز انیکر نوفل کے سامنے کھڑی ہوتی بولی تھی جو اپنے فانڈیشن کے فکشین میں سب کو مل رہا تھا۔۔۔

بلیک کلر کا فل تھری پیس پہنے بالوں کا اچھا سا سٹائل بناۓ خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ لاۓ جبکہ گرین آنکھوں میں سکون لاتا وہ سب کی نظروں میں ایک بیسٹ انسان تھا ۔۔۔

اس کی پرسنلٹی دیکھ کر کوئ نہیں کہتا تھا نوفل ایک خواجہ سرا ہے ۔۔

فیل تو کچھ نہیں ہو رہا مجھے کیونکہ یہ سب میں اپنے دوستوں کی وجہ سے یہاں تک آیا ہو ۔۔۔

کیونکہ جب ایک ناکام سا آدمی ہوتا ہے اس کے پیچھے کوئ نہیں آتا لیکن جب ایک کامیاب آدمی ہوتا وہاں سب بھاگے بھاگے آے گے ۔۔۔۔

یہ تو مجھے پتہ تھا یہ سب یہاں آۓ گے ۔۔۔

نوفل مائیک لیتا اسیٹچ پر کھڑا اپنی خوبصورت آواز میں بولا تھا ۔۔۔

لیکن اس مقام پر مجھے میرے دوست لاۓ ہے یہ ساری محنت سب میرے دوستوں کی ہے ۔۔۔

کہتے دوستی وہ نہیں ہوتی جو کچھ پل کی ہو اور پھر چھوڑ دی جاۓ ۔۔

دوستی وہ ہوتی جو اپنے دوست کو ہر خوبی خامی کے ساتھ قبول کرے ۔۔۔

اسے بات بات پر یہ مت جتاۓ کہ تم یہ ہو وہ ہو بلا بلا۔۔۔

جو ہر پریشانی میں اس کا ساتھ دے جو ہر دکھ درد میں شریک ہو اسے حوصلہ دے کہ فکر مت کرو میں تمہارے ساتھ ہو۔۔۔

جو برے کام سے روکے اچھے کاموں کی طرف اس کی صلح کرے ۔۔

پوری دنیا اس کے خلاف ہو جاۓ لیکن دوست وہی کھڑے رہے یہ کہا کر وہ اپنے دوست کا ساتھ نہیں چھوڑے گے ۔۔۔۔

کہتے خواجہ سرا کا کوئ دوست بہن بھای ماں باپ نہیں ہوتے ا۔۔۔

آپ خواجہ سرا ہے ۔۔۔

نوفل سب کی طرف دیکھتا بول رہا تھا جب نیوز انیکر شوک ہوتی چلائ تھی ۔۔۔۔

جی میں ایک خواجہ سرا ہو یہ کہتے ہوۓ مجھے شرمندگی نہیں ہوئ کیونکہ اللہٌ نے مجھے اتنی پیاری دوستی دی ہے ۔۔۔

میرے جیسوں کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ ناچے گاۓ بلکہ کچھ محنت کر کے کما بھی سکتے ہے ۔۔۔

جیسے میں اس مقام تک آیا ۔۔۔

اگر مجھے میرے دوست نہ ملتے تو آج میں یہاں ہونے کی بجاۓ کہی ناچ گا رہا ہوتا ۔۔۔

میں اپنے دوستوں کو بلانا چاہو گا ۔۔۔

ڈی آی جی منان کھوکھر۔۔۔

ڈی یس پی مستقیم آفندی ۔۔

بزنس ٹائکون ڈبل زی آف زرجان ظفر شاہ۔۔

مین آف دی بزنس مین کا آیورڈ لینے والے آہان آفندی۔

کرنل صام آفندی ۔۔

نوفل ان سب کو دیکھتا مسکراتا ہوا آپنے پاس بلایا تھا۔۔۔

بلیک تھری پیس پہنے وہ چاروں سیم لک میں بھاری قدم آٹھاتے ہوۓ اسٹیچ پر آۓ تھے ۔۔۔

جبکہ ان پانچ سالوں میں صام کے چہرے پر گلاسز کا کا اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔

جو اور بھی حسین لگ رہا تھا۔۔

وہی سب کا حیرت سے منہ کھولا تھا یہ دیکھ کر مسٹر این خواجہ سرا کے اتنے بڑے بڑے امیر کیبر دوست تھے ۔۔۔

دیکھو میری سویٹ سی بہنوں اور بھاہیٶں یہ شخص کچھ زیادہ بول گیا ہے ایسا کچھ بھی نہیں تھا اس نے ہمیں بتایا تھا دوستی ہوتی کیا ہے ۔۔۔

اچھے وقت میں تو سارے ساتھ ہوتے مزہ تو تب ہے جب برے وقت میں بھی ساتھ ہو ۔۔۔

صام مائیک لیتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔

وہی فکیشن پر بیٹھی لڑکیاں بہنیں نام سن کر ان کا دل ٹوٹا تھا ۔۔۔

صام کی بات پر سامنے بیٹھی روحا کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔۔

“وقت کی دوستی ہر کوئ کرتا ہے “

“مزہ تو تب ہے “

“جب وقت بدل جاۓ پر دوستی نہ بدلے ““

مستقیم آہان منان زرجان صام نوفل سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے اُونچی آواز سے یہ کہا تھا ۔۔۔

وہی فکیشن میں آیا ہر شخص ان سب کا عہدِوفا دیکھ کر ایسی دوستی دیکھ کر تالیاں بجائ تھی ۔۔۔

وہ سارے بھی خوش تھے آج کہ انھوں نے اپنا عہدِوفا نبھایا تھا۔۔۔۔

بڑے پاپا بڑے پاپا۔۔۔۔

وہی سوہا حازم حدید احمد وانیہ روشانے فارس امن سب جوش سے اپنے ننھے ہاتھوں کی تالیاں بجاتے بولے تھے ۔۔۔۔

نوفل کے دل کو سکون آیا تھا چاہے اپنے بچے نہ سہی لیکن وہ ان کو باپ جیسی ہی محبت دیتا تھا ۔۔۔

وہ بھی بڑے خوش ہوتے نوفل کے ساتھ رہتے تھے ۔۔۔۔

————————————————————

چٹاخخخ۔۔۔

بھاں بھاں۔۔۔۔

سارے رات کو گھر آتے ہال میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب سائیڈ پر بیٹھے بچے آپس میں کھیل رہے تھے ۔۔۔

تبھی روشانے نے زور سے پاس سیریس بیٹھے حازم کو کاٹا تھا ۔۔۔

وہی حازم نے بھی شدید غصے میں آتے اس کے تھپڑ مارا تھا وہی وہ بھاں بھاں کرتی روی تھی ۔۔

ارے یہ کیا ہو گیا ۔۔۔

تم یہاں امن کے پاس بیٹھو۔۔۔

مستقیم روشانے کو چپ کرواتا امن کے پاس بیٹھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔

تم یہاں آٶ ۔۔۔

حازم چار سال آٹھ ماہ کی وانیہ کو دیکھتا اپنی گرین آنکھوں سے گھورتا بولا تھا جو امن سے بار بار مار کھا رہی تھی ۔۔۔

م۔میں نہیں ۔آ۔ر۔رہی ہری بلا۔۔۔

وانیہ حازم کو زبان دیکھاتی کہتی سوہا کے پاس چلی گی تھی ۔۔۔

ہاہااہاہااہہاہاہااہا دیکھ سوتیلی ناگن میری بیٹی تیری بیٹی کو مار رہی ہے ۔۔۔

مستقیم روشانے اور امن کو ایک دوسرے سے لڑتا دیکھ قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔

جو آپس کے بالوں کو کھیچ رہی تھی ۔۔۔

یہ کیا چوزے پھوپھو میں ہو یہ کام تیری بیٹی کر رہی ہے ۔۔۔

یافی بھی حیران ہوتی بولی تھی کیونکہ امن کو نیچے گراے روشانے اب اسے مار رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ امن چلا رہی تھی ۔۔۔

یہ دیکھو میرا پیارا بھائ آیا فوجی۔۔

وانیہ دس سالہ احمد کو فوجی یونفارم میں دیکھتی سوہا کو دیکھاتی بولی تھی ۔۔۔

سوہا اور حازم روحا صام کی کاپی تھے دونوں تب ہی بولتے تھے جب ان کا دل کرتا ورنہ وہ کھڑوس بنے گھومتے تھے ۔۔۔

ابھی بھی سوہا سب کو اگنور کیے بس سامنے بیٹھے اپنے ماں باپ کو دیکھتی خوش ہو رہی تھی ۔۔۔

مجھے نہیں پسند یہ فوجی انہہ۔۔۔

سوہا منہ کا زوایہ بناتی کہتی ہوئ منہ موڑ گی تھی ۔۔۔۔

تو میں کون سا تمہارے لیے فوجی بنا تھا جل ککڑی ۔۔۔

احمد بھی سیریس ہوتا وانیہ کو اپنی گود میں بیٹھاتا ہوا دوٹوک بولا تھا ۔۔

انہہ جانور۔۔۔

سوہا منہ بناتی بولی تھی۔۔۔

ہاے کتنی پیاری لڑکیاں ہے میں تم سے شادی کرو گا تم میری دوست بن جانا اور ہاں تم میری گرل فرنیڈ بن جانا ۔۔۔

حدید وانیہ روشانے امن کو دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

توبہ توبہ صامے تیرا یہ بیٹا ٹھرکی بن گیا کیسے میری بیٹی کو یہ سب کہہ رہا اتنی کم ایج میں ۔۔

زرجان اس کی باتیں سنتا حیرت سے بولا تھا ۔۔

مجھ سے بھی کوئ شادی کر لینا۔۔

فارس معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔

تیرے کو کوئ پانچ روپے نہ دے لڑکی کون دے گا ۔۔

حازم جلے دل سے بولا تھا کیونکہ وانیہ اب فارس کے گال پر لب رکھتی اسے ہنسا رہی تھی ۔۔۔

کیونکہ وانیہ اور فارس کی دوستی زیادہ تھی ۔۔

مامامممممما باببابااباباابابااب۔۔۔۔

امن روشانے حدید فارس وانیہ سب اب ہاتھاپائ کرتے لڑتے چیخ رہے تھے ۔۔۔

جبکہ سکون سے بیٹھے حازم سوہا احمد ایٹیٹوڈ میں ایک دوسرے کو اگنور کرتے سامنے ان سب کا کھیل دیکھ رہے تھے ۔۔۔

ارے ارے بچوں بس کرو چلو رات ہونے والی روم میں چلتے ہے ۔۔

نوفل بھاگتا ہوا آتا سب کو الگ الگ کرتا بولا تھا ۔۔

جب سارے اچھے بچوں کی طرح کھڑے ہوتے نوفل کے پاس آ چکے تھے ۔۔۔

بڑے پاپا آج میں سوٶ گی آپ کے ساتھ ۔۔

امن اپنے بکھرے بالوں کو ٹھیک کرتی جلدی سے بولی تھی ۔۔

نہیں میں نے سونا ہے بڑے پاپا کے ساتھ۔۔

روشانے بھی جلدی سے اپنے بالوں کو ٹھیک کرتی بولی تھی ۔۔

اپنا یہ چڑیا جیسا گھونسلہ تو ٹھیک کر لے ۔۔

حدید روشانے کو ٹانگ مارتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

چل ٹھرکی چپ کر ۔۔

روشانے اسے مکہ مارتی ہوئ بولی تھی ۔۔

تم میرے ساتھ سونا۔۔۔

چٹاخخ۔۔

حازم جلدی سے وانیہ کو گود میں اٹھاۓ سکون سے بولا تھا جبکہ وانیہ نے غصے سے اس کے چہرے پر تھپڑ مارا تھا ۔۔۔

جو حازم سکون سے کھاتا اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔۔

ہری بلا بڑے پاپا بچاٶ مجھے۔۔۔

وانیہ اس کی گرفت سے نکلتی ہوئ چیختی نوفل کی ٹانگ پکڑتے بولی تھی ۔۔۔

کبھی کبھی لگتا اگر میں نوفل کو صامے سے الگ نہ کرتا تو وہ بھی آج مسٹر این کی طرح یہاں ہوتا ۔۔۔

سامنے کا منظر دیکھتے آفندی صاحب بولے تھے ۔

وہی روحا اور صام نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا ۔

اچھا بابا اب ہم سوتے ہے آپ بھی سو جاۓ ۔

آہان بات بدلتا ہوا اٹھتے بولا تھا ۔

سب اپنے اپنے روم میں چلے گے تھے ۔

————————————————————

بابا کے پاس جانا ضروری ہے کیا۔

رات کو ہانیہ روم میں آتی منان کے پاس بیڈ پر بیٹھتی ہوئ بولی تھی ۔

ہاں میری جان بابا کے ساتھ صبح جرمنی چلی جانا فارس کو لے کر میں اپنا کام کر سکو گا اب تو تم لوگوں کی جان کو خطرہ ہو گا۔

منان ہانیہ کو اپنے سینے پر لیٹاۓ سکون سے بولا تھا ۔

جان کو خط۔

عہدہ بڑا مل گیا تو خطرہ بھی ہے اس لیے تم لوگوں کو وہاں بھیج رہا۔۔

ہانیہ ناسمجھی سے بول رہی تھی جب منان اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔

میں کیسے رہ۔۔۔

ہانیہ اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب لاتی بول رہی تھی جب منان نے اس کے ہونٹوں کو قید کیا تھا ۔۔۔

وہ کامیاب ہوا تھا ہانیہ کا مائنڈ بدلنے میں ۔۔

جو سب کچھ بھولتی اس میں مگن ہو چکی تھی ۔۔

————————————————————

شکریہ جان اس چاے کے لیے ۔۔

یافی بیڈ پر لیٹی ہی تھی جب زرجان کو گرم گرم چاے لاتے دیکھ وہ خوش ہوتی بولی تھی ۔۔

تمہیں چاے پسند ہے کیا روز رات کو بنا کر دیت۔۔۔۔

مجھے چاۓ نہیں تم پسند ہو یہ تمہاری سارے دن کی تھکن اتارنے کے لیے میں بناتا ہو چاۓ ۔۔

یافی چاۓ کا مگ لیتی بول رہی تھی جب زرجا ن مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

شکریہ جان مجھے اتنی محبت دینے کے لیے اتنی پیاری بیٹی دینے کے لیے ۔۔

یافی اپنی چاے چھوڑتے زرجان کے سینے پر لب رکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

یہ چاۓ کیوں چھوڑی ۔۔

زرجان مسکراتا ہوا اس کی بات سنتا بولا تھا۔۔

کیونکہ میری ساری تھکن تمہارے لمس سے اتر جات۔۔۔۔

یافی اپنا چہرہ اُونچا کیے بول رہی تھی جب زرجان نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے اس کے لبوں کو قید کرتا اس کی بات ختم کر چکا تھا۔۔۔

یافی مسکراتی ہوئ سکون سے آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔

———————————————————–

دیکھو ہیر اللہٌنے مجھے بیٹی دی میں کتنا خوش نصیب ہو۔۔۔

حالانکہ میری اتنی اوقات نہیں تھی میں ایک بیٹی کا باپ بن سکتا ۔۔۔

شیشے کے سامنے کھڑی ہیر کو بیک ہگ کیے آہان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

کیوں ایسا سوچتے ہے آپ تو بہت اچھے ہے ۔۔

ہیر اپنا رخ اس کی طرف کرتی ہوئ بولی تھی ۔۔

لی۔۔

چلے بس کرے مجھے سونا ہے ۔۔

آہان بول رہا تھا جب ہیر بات بدلتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

مجھے بھی سونا ہے ۔۔

آہان اسے گود میں اٹھاتے ہوۓ بیڈ پر لیٹاتے اس پر جھکے بولا تھا ۔۔۔

آہان ہمارے بچ۔۔۔

ہیر بہانہ بناتی بول ہی رہی تھی جب آہان اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔

وہی وہ خود سپردگی دیتی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔

———————————————————–

دیکھو سانڈ ہماری بیٹی بڑی ہو رہی میں بہت خوش ہو۔۔

مرحا مستقیم کی گود میں آتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

چلو شکر ہے تم خوش تو ہوئ ورنہ تمہارا رونا ہی شروع تھا روشانے کا قد تمہارے جیسا نہ ہو۔۔۔

مستقیم اسے کمر سے پکڑتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔۔

او۔۔۔

مرحا بول رہی تھی جب مستقیم بنا ٹائم ویسٹ کیے اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔

مرحا بھی خوش ہوتی اپنی بائیں اس کی گردن میں حائل کر چکی تھی ۔۔۔

———————————————————-

نہیں تم روم میں جاٶ انیجل میری ہے ۔۔۔

روحا واش روم سے نائٹ ڈریس پہنے باہر آئ تھی جب اسے صام کی رعب دار آواز سنائ دی جو دروازے کے قریب کھڑا تھا۔۔

لیکن باب۔۔۔

بس بیٹا دن کو انیجل تم لوگوں کے پاس ہوتی ہے رات کو میرے پاس ہوا کرے گی ویسے بھی اتنے بچے نہیں رہے تم لوگ جاٶ سو جاٶ۔۔۔

سوہا رونی شکل بناۓ بول رہی تھی جب صام دوٹوک بولا تھا۔۔۔

سوہا ہر وقت روحا کے پاس رہتی تھی تبھی اپنے روم سے باہر آتی وہ روحا کے پاس آئ تھی جب صام نے اسے روکتے بولا تھا۔۔

صام یہ کیا طریقہ ت۔۔۔

چھوڑو تم مجھے چین دیکھاٶ کہا تھا نہ روز رات کو سونے سے پہلے دیکھایا کرو۔۔۔

روحا نے جیسے ہی دیکھا صام سوہا کو ڈانٹتا روم سے باہر نکال چکا ہے تبھی وہ پاس آتی بول رہی تھی ۔۔۔

جب صام اسے کمر سے پکڑتے اپنے قریب لاتا بولا تھا۔۔۔

ہم ماما ہے ان او۔۔۔

میں بھی باپ ہو لیکن ان کی ماں سے پہلے میری انیجل ہو۔۔۔

روحا منہ بناتی ہوئ اس سے دور جاتی بول رہی تھی جب صام اسے بیڈ پر دھکا دیتے خود اس کے اوپر جھکتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ص۔صام کچھ شرم کرے ہمارے بچے بھی بڑے ہ۔۔۔

بچے بڑے ہو رہے میں تو بوڑھا نہیں ہوا نہ جو شرم کرو۔۔۔

صام جو خودی روحا کی شرٹ پیٹ سے اٹھاتے وہاں لگی چین پر لب رکھے تھے ۔۔

جب روحا اس کے لبوں کا لمس اپنے پیٹ پر محسوس کرتی ہکلاتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام اپنے لبوں کو اس کے پیٹ سے اوپر تک لاتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا۔۔۔

روحا کی جب چین ٹوٹی تھی وہ بہت روی تھی کہ صام نے اسے بنا کر دی ہے ۔۔۔

تبھی صام نے اسے دوسری سیم اس جیسی چین بنوا کر اس کے پیٹ پر پہنا دی تھی ۔۔

جیسے روز رات کو وہ دیکھ کر سوتا تھا۔۔

ان پانچ سالوں میں صام کے جنون میں کمی نہیں آئ تھی بلکہ وہ بڑھتا ہی گیا ۔۔

روحا کبھی کبھی اس کے جنون کی شدت دیکھتی ڈر جاتی تھی ۔۔۔

وہ تو بچوں کو بھی اس کے پاس نہیں آنے دیتا تھا ۔۔۔

جیسے بھی ہے ہمیں اچھے لگتے ہے شکریہ ہمیں مکمل کرنے کا اتنے پیارے بچے دینے کا اور اپنا یہ جنون والا پیار دینے کا۔۔۔۔

روحا اب اپنی گردن شولڈر کان پر صام کے لبوں کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔

تبھی اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتی اس کی آنکھوں کو چومتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔

شکریہ تمہارا انیجل تم نے اپنے ڈیول کو ہر روپ میں اپنایا ہے ۔۔

صام بھی فل بہکا ہوا روحا کے گلابی ہونٹوں کو اپنے لبوں میں قید کرتا بولا تھا ۔۔۔

۔ب۔ش۔ٹ۔ھ۔رکی۔۔۔

روحا آج بھی اس کا شدت والا عمل پاتے ڈرتے گھبراتے شرماتے وہ اس سے دور ہوتی گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔

بے شرم ٹھرکی جو بھی اب تو صرف ڈیول اپنی انیجل کا ہے ۔۔۔

صام اسے دوبارہ اپنی گرفت میں کرتا اس کے لبوں کو لاک کرتا سر گوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔

روحا اس کی ساری گستاخیاں خاموشی سے سہہ رہی تھی ۔۔۔

آہستہ آہستہ وہ اس کے جنونی عشق میں بھیگ رہی تھی ۔۔۔

———————————————————–

صام یہ اچھی بات نہیں بچے ابھی چھوٹے ہے اور آپ ان کو بوئٹنگ سکول بھیج رہے ابھی ان کو بڑا تو ہونے دے ۔۔

روحا رونی شکل بناۓ صام کے شولڈر پر ہاتھ رکھے بولی تھی ۔۔

کیونکہ صام حازم سوہا حدید کو لندن بوئنٹگ سکول بھیج رہا تھا ۔۔

اس لیے وہ سارے ائیرپورٹ آۓ تھے ۔۔

مس لائف میں بھی تو گیا ت۔۔۔

تب آپ کی ایج دس سال تھی ہمارے بچے دیکھے ابھی پانچ سال کے بھی ممکل نہیں ہوۓ ۔۔

صام سردپن لاۓ بول رہا تھا جب روحا اسے دور ہوتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔

یہ جاۓ گے تاکہ اکیلا سب کچھ فیس کرنا سکھے ۔۔۔

صام حازم سوہا حدید تینوں کو اپنے شولڈر پر بیھٹاتے بولا تھا ۔۔

روحا کی طرح صام کو بھی اپنی اولاد سے بے حد محبت تھی وہ بلکل ان سے دوست اور باپ بن کر محبت کرتا تھا ۔۔

لیکن تب تک جب تک روحا اس سے دور رہتی جیسی ہی اسے روحا نظر آتی وہی وہ سب کچھ بھول جاتا تھا ۔۔۔

ماما جانے دے ہمیں ہم بابا جیسے بناۓ گے موٹے والے ۔۔۔

حدید صام کے بازو سے جھولتا اس کے ہیوی مسلز دیکھتا خوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔

چلو جاٶ پھر تم سب ۔۔

روحا ہار مانتی ہوئ بولی تھی ۔۔

اہہہ می۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہو تم ۔۔

صام روحا کے گال پر ہاتھ رکھتا پیار سے بول رہا تھا جب روحا کو بھی اپنا بیگ لاتے دیکھ اب وہ زرا سختی سے بولا تھا ۔۔

ہم بھی ان کے ساتھ رہے گے رہے آپ اکیلے ۔۔

انہہ۔۔

روحا صام کو دیکھتی برا سا منہ بنا بولتی ائیرپورٹ کے اندر چلی گی تھی ۔۔

یہ غلط ہے یار اچھا میں ان دشمنوں کو نہیں بھیج رہا بات ختم۔۔۔

صام جلدی سے روحا کو کمر سے پکڑتے ہوۓ پیار سے بولا تھا۔۔

ا۔۔

اہہہہ۔۔

صام اس سے پہلے کچھ کہتا جب کسی نے اس کی ٹانگ پر کاٹا تھا ۔۔

وہی وہ نیچے کی طرف دیکھتا غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔

ش۔شوری انتل (سوری انکل )…

ایک چھوٹی کی گولو سی لڑکی اپنے کالے بالوں کی اُونچی پونی ٹیل بناے پھولے سرخ گالوں والی نیلی آنکھوں والی رعنا معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔

جبکہ آنکھوں میں شرارت واضح تھی ۔۔

کون ہو تم بیٹا۔۔۔

صام ویسے ہی کھڑا اس کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

انتل آپ کشے بلے ہو گے اتنے موٹے ہے الو میں تو آپ جشی بلتل نہیں ہو۔۔۔

(انکل آپ کیسے بڑے ہو گے اتنے موٹے ہے اور میں تو بلکل آپ جیسی نہیں ہو )…

رعنا اس کی بات اگنور کیے پھر سے بولی تھی ۔۔۔

یہ کس کی ب۔۔۔۔

میری ہے یہ بچی ۔۔۔

صام شدید غصہ میں آس پاس دیکھتا بولا تھا ۔۔

کیونکہ اسے برا لگا تھا اتنی سی بچی اس کی ہر بات اگنور کر رہی تھی ۔۔۔

تبھی شعیب مسکراتا ہوا رانیہ کے ساتھ آتا بولا تھا۔۔۔

تم۔راضیہ اس کے ساتھ مجھے پہلے ہی شک تھا تم اس کے ساتھ م۔۔۔

ارے بس کر یار یہ میری بیوی ہے ۔۔۔

صام رانیہ کو دیکھتا غصہ سے بول رہا تھا جب شعیب مسکراتا ہوا اسے سب کچھ بتا چکا تھا ۔۔

یہ اچھی بات ہے تم کم از کم مس لائف کے کہنے پر سب کچھ ٹھیک کر چکے ۔۔

اور ہاں کورنا کی جعلی ویکسین دور رہنا ہم سے پھر بھی ۔۔۔

صام ساری بات سنتا سکون سے بولا تھا ۔۔

صام آپ کیوں کہ۔۔۔

بس کرو مس لائف تمہارے معاملے میں کتنا ٹچی ہو تم جانتی ہو ۔۔

اچھا جاٶ جہاں بھی جانا ہے میں امید کرو گا تمہاری یہ منحوس شکل دوبارہ نہ دیکھنی پڑے اچھے انسان بن گے ہو لیکن مجھے یقین نہیں تم پر ۔۔۔

صام پہلے روحا کی بات

کاٹتا اسے کہتا پھر شعیب سے ہاتھ ملاتا آگے جاتا بولا تھا ۔۔

انتل تایا میں کش کل لو آپ تو۔۔

(انکل کیا میں آپ کو کس کر لو)…

رعنا شعیب کی گود میں تھی جب وہ دور جاتے صام روحا کو دیکھتی چلائ تھی ۔۔۔

نہیں بابا ہمارے ہے دور رہو ۔۔

سوہا حازم زرا غصے سے بولے تھے ۔۔۔

وہ میں کہہ رہا تھا اگر بابا کس نہیں دیتے تم میری کس لے لو۔۔۔

حدید شرماتے ہوۓ بولا تھا ۔۔

ہاہاہہاہاہہاہاا۔۔۔

رانیہ اور روحا کا قہقہ گونجا تھا ۔۔

نہیں ٹم کو دیکھ کے مجھے الٹی آٹی ہے ۔۔

(نہیں تم کو دیکھ کر مجھے الٹی آتی ہے )…

رعنا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔

شعیب صام کے پاس آیا تھا ۔۔

وہ تینوں ابھی بھی اس کے شولڈر پر بیٹھا تھا ۔۔۔

روحا کی طرف دیکھتے صام نے برا سا منہ بناۓ رعنا سے کس لی تھی ۔۔۔

ٹم بہت پیلاے ہو۔۔

(تم بہت پیارے ہو)..

رعنا حازم کے گال پر زبردستی لب رکھتی بولی تھی ۔۔

حازم نے بھی صام کی طرح برا سا منہ بناۓ روحا کو گھورا تھا ۔۔

ٹم بھی پیلائ ہو۔۔

(تم بھی پیاری ہو)..

رعنا اب سوہا کے گال پر لب رکھتی بولی تھی ۔۔

سوہا بھی پہلی دفعہ مسکراتی اس کے گال کو چوم چکی تھی ۔

میرے بھی کرو۔۔

حدید بلش کرتا ہوا بولا تھا وہ صام کے بازو سے ویسے ہی جھول رہا تھا ۔۔۔

نہیں ٹم بولے ہو۔۔

(نہیں تم برے ہو)..

رعنا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔

میں بتاتا ہو کتنا برا ہو ۔۔

حدید غصے میں آتا رعنا کی گال پر دانت گاڑتے کاٹ چکا تھا ۔۔

بھاں بھاں بھاں۔۔

وہی وہ گلا پھاڑے چیختے ہوۓ روی تھی ۔۔

اس سے پہلے بچے لڑے ہمیں چلنا چاہے ۔۔

شعیب مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔

کیونکہ صام کا حیرت سے منہ کھول چکا تھا اپنے بیٹے کی حرکت پر ۔۔

چلو بچوں میں تمہاری ماما کے بنا نہیں رہ سکتا بس اس لیے تم لوگوں کو اپنے پاس رکھ سکتا ہو۔۔

صام روحا کو کمر سے پکڑتے اپنے ساتھ جاتے بولا تھا ۔۔۔

جبکہ صام کے شولڈر سے لٹکتے حدید کی براٶن آنکھیں دور جاتے شعیب کے شولڈر پر سر رکھے روتی رعنا کی نیلی آنکھوں سے نکلتے آنسو پر تھی ۔۔۔

زہ تاسرہ مینہ کوم ۔۔۔

(آئ لو یو )..

صام روحا کا ماتھا چومتا ہوا عقیدت سے بولا تھا ۔۔۔

تہ زماہ بدی شی۔۔

(آئ ہیٹ یو)..

وہی روحا شرماتے مسکراہٹ روکے اس کے سینے پر مکا مارتی بولی تھی ۔۔۔

ہاہاہاہہاہااہاہہاہاہہا۔۔۔

مائ انیجل مائ لو۔۔۔

صام قہقہ لگاتا روحا کے پیٹ پر لگی چین میں پر آہستہ سے انگلی چلاتے بولا تھا ۔۔

بے شرم ۔۔

روحا سوہا کو اپنی گود میں لیتی اب دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

روحا نے آہان کو کبھی نہیں بتایا تھا کہ وہ جانتی ہے اس کی بہن کے ساتھ زیادتی کرنے والا وہی ہے ۔۔۔

گھر میں بھی مستقیم زرجان منان آہان صام نے کبھی نہیں بتایا تھا مسٹر این ہی نوفل ہے ۔۔

کبھی کبھی کچھ باتوں پر پردہ ڈالنا ضروری ہوتا ہے ایسے ہی کچھ پردے سب نے ڈالے تھے ۔۔

جیسے ہمارا رب ہماری کچھ غطلیوں پر پردہ ڈالتا ہے تاکہ ہماری عزت بچی رہے ۔۔۔

اور شعیب خان اپنا سب برا کام چھوڑ کر اپنا بزنس میں خوش تھا وہ بے حد شکر گزار تھا روحا کا جس کی وجہ سے وہ گناہ سے معافی مانگی تھی۔۔

روحا کی وجہ سے وہ برے انسان سے اچھا انسان بنا تھا۔۔۔

““تمہیں عشق بنا کر کے روح دل میں ملا لے ۔۔۔۔۔۔“❤

”رکھو ا کے تیرے سر پر تمہیں اپنا بنا لے گے “❤

”کسی اور میں مت کھونا تم جیتے جی ہم مر جاۓ گے “۔۔❤

“”””اے دعا بن میرا تو میرا ہے رہنما““❤

““““۔۔۔۔۔““میری دھڑکن تم کو چاہے میرا دل بنا جانا تم کبھی روٹھ جو چاہے دل تو سینے سے لگانا تم ““۔۔❤

““میری دھڑکن تم کو چاہے میرا دل بنا جانا تم کبھی روٹھ جو چاہے دل تو سینے سے لگانا تم ““۔۔❤

“““مجھے اپنا بنا کے رکھنا اپنوں کی طرح ہر دم میرا دل تو جدا ہے تم سے جیسے سر سے جدا سے سرگم ۔۔۔“❤

“نہ پیار میرا جسمانی سیدھا روح میں اتارا ہے”❤

” نہ ہوش رہا اب جانی اب تو ہی سہارا ہے ““““اے دعا بن میرا تو میرا رہنما “❤

““مجھے اپنا بنا کے رکھنا اپنوں کی طرح ہر دم میرا دل تو جدا ہے تم سے جیسے سر سے جدا سے سرگم ۔۔۔“❤

“نہ پیار میرا جسمانی سیدھا روح میں اتارا ہے”❤

” نہ ہوش رہا اب جانی اب تو ہی سہارا ہے ““““اے دعا بن میرا تو میرا رہنما “❤

ختم شد❤