339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 2)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

السلام و علیکم لالہ ۔۔۔۔

روحا لیپ ٹاپ کے آگے بیٹھی اہان آفندی سے ویڈیو کال پر بات کر رہی تھی ۔۔۔۔

وعلیکم السلام انیجل کیسی ہے میری گڑیا۔۔۔

اہان نے مسکراتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔۔

ہم بلکل ٹھیک آپ کیسے اور جلدی سے پاکستان آ جاۓ ۔۔۔۔

روحا چہرے پر مسکراہٹ لاتے بولی تھی ۔۔۔۔

ہممم چلو میں اس دفعہ اپنی انیجل کی بات مان کر پاکستان آ جاٶ گا اب خوش ۔۔۔۔

اہان روحا کو خوش کرنے کے لیے ایسا بولا تھا ۔۔۔

جبکہ وہ جانتا تھا اب دوبارہ پاکستان نہیں جاۓ گا ۔۔۔۔

ہرگز نہیں آپ ہمیشہ جھوٹ بولتے ہے اب ہم تب ہی بات کرے گے جب آپ سچی والا پاکستان آ جاۓ گے ۔۔۔۔۔

روحا روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہاہ سچی بات نہیں کرو گی اچھا پھر تو میرے لیے اچھا ہے اب نہ تو کوئ پوچھے گا لالہ آپ نے کھانا کھایا لالہ یہ کام کیا بلا بلا شکر میرے کان بچ جاۓ گے یہ الفاظ نہ سنتے ہوۓ ۔۔۔

اہان روحا کا پھولا ہوا منہ دیکھتا قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔

کوئ نہیں آپ کے کان ہم کھاۓ گے انیجل ہے ہم چلے بتاۓ سارا دن کیسا گزرا ہماری یاد آتی آپ کو ۔۔۔۔

روحا جلدی سے منہ ٹھیک کرتی دوبارہ بولی تھی ۔۔۔۔

اب روحا اور اہان کی نہ ختم ہونے والی باتیں سٹارٹ ہو چکی تھی ۔۔۔

اہان اور یافی ہی تھے روحا کے لیے جن سے وہ اپنے دل کی ہر بات کر لیا کرتی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

اووو ڈراک چاکلیٹ چھوڑو میرا لیپ ٹاپ کالا کر دو گی ۔۔۔۔۔

صام ہال میں آتا روحا سے لیپ ٹاپ لیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کیا مسئلہ ہے آپ کا ہم لالہ سے بات کر رہے تھے ۔۔۔۔

روحا غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔۔۔

تمہارا لالہ بعد میں پہلے میرا ہے جاٶ یہاں سے کام کرو نوکرانی ہو ۔۔۔۔

صام روحا کے چہرے کو دیکھتا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

لالہ ہم بعد میں بات کرتے پہلے اس ٹھرکی سے بات کر لے ۔۔۔۔

روحا صام کو زور سے لات مارتی وہاں سے جاتی ہوئ غصہ سے بولی تھی ۔۔۔۔

اہہہہہ ظالم توڑ دو ٹانگ میری ۔۔۔

صام صوفے پر بیٹھا جان بوجھ کر بولا تھا۔۔۔۔

دیکھنا ایک دن ہم یہ آپ کا میدہ جیسا منہ بھی توڑ دے گے ۔۔۔۔

روحا صام کی طرف کشن مارتی ہوئ بولی ۔۔۔۔

ہاں شوق سے کالی کلوٹی ۔۔۔

صام بھی دانت نکالتا ہوا بولا ۔۔۔۔

ہاہاہاہا ۔۔۔

کیوں تنگ کرتے ہو یار بچی ہے ۔۔۔۔

اہان قہقہ لگاتا بولا جو کب سے دونوں کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔۔

توبہ لالہ یہ بچی نہیں آفت کالی چاکلیٹ ۔۔۔

صام منہ بناتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ایسے نہیں بولتے چمپین وہ کتنی پیاری ہے سب کا خیال رکھتی ہے خاص کر ماما کا ا۔۔۔۔۔

بس کر دے لالہ سارا دن اس کالی کا نامہ سنتا ہو اب آپ شروع ہو گے ۔۔۔۔

ہماری کوئ بات نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔

صام اہان کی بات کاٹتا بیزار ہوتا بولا ۔۔۔۔۔

اگر اپنی بات کرنا چاہتے ہو تو پہلے یہ بتاٶ کومل نام کی لڑکی کیوں گھر آتی ہے اور یہ چکر کیا ہے ۔۔۔۔

اہان سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔۔

اففف اس کالی نے شکایت لگائ اس کو تو میں بتاتا ہو اچھے سے ۔۔۔

صام اہان کی بات سنتا غصہ سے کال کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

چمپین چمپین یار بات تو سنو ۔۔۔۔۔

اہان اسے پکارتا ہی رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔

آفندی صاحب کا بڑا بیٹا اہان آفندی ۔۔۔

بزنس ٹائیکون جس نے مین اف دی بزنس مین کا ایورڈ لیا تھا ۔۔۔۔۔

چار سال سے وہ لندن رہ رہا تھا۔۔۔

براٶن گہرے بال ڈراک گرین آنکھیں جو ہر وقت مسکراتی تھی ۔۔۔

چہرے پر پڑتے ڈمپل جو اس کے مسکرانے سے شو ہوتے تھے ۔۔۔۔

صاف اور نرم دل کا مالک ہر کسی کے دکھ میں دکھی ہونے والا اہان آفندی ۔۔۔

سب سے محبت کرنے والا ۔۔۔

————————————————————

تم آج پھر آ گے جان وجہ ہاسپٹل ہے میرا۔۔۔۔

یافی اپنے سامنے بیٹھے مسکراتے جان کو دیکھتی غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔۔

ہاں تو میں آ سکتا ہو تم مجھے منع نہیں کر سکتی ۔۔۔۔

جان ڈھیٹ ہوتا دانت نکالتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

افففف جان چھوڑ دو میری پہلے ہی کم اذایت میں ہو میں کیا جاٶ یہاں سے ۔۔۔۔

یافی غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔۔

فیا بھول جاتی ہو میں کون ہ۔۔۔۔۔

ہاں بھول جاتی میں تم کون ہو پہلے ہی ایک سزا جھیل رہی ہو اب تم تو مجھے معاف کرو ۔۔۔

جان سنجیدہ ہوتا کہہ رہا تھا جب یافی بات کاٹتی کوفت سے بولی تھی ۔۔۔۔

بلکل اب تو یہ جان نہیں چھوٹنے والی تمہاری اچھے سے بتاٶ گا میں ہو کون ۔۔۔۔

جان یافی کے قریب آتا سرد پن سے بولا تھا۔۔۔۔

ایک منٹ کے لیے یافی بھی ڈر گی تھی کہاں دیکھا تھا اس نے یہ لہجہ جان کا ۔۔۔۔

م۔میں ڈرتی نہیں ہو سمجھے۔۔۔

یافی خود پر قابو پاتی بامشکل بولی تھی ۔۔

ڈرنا بھی نہیں چاہے میری ہو صرف میری اور تم جانتی ہو جان ایسا ہرگز نہیں جو اپنی محبت کو ڈراۓ ۔۔۔

جان یافی کے ماتھے پر لب رکھتا شدت سے بولا ۔۔۔

می۔میں شادی شدہ ہو جان دور رہو ۔۔۔

یافی ہمت جمع کرتی اسے خود سے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔

لیکن تم بھول جاتی ہو کس کی بیوی ہو تم بہت جلد میں تمہیں یاد کرواٶ گا کس کی بیوی ہو ۔۔۔۔

جان یافی کے سرخ سفید چہرے کو دیکھتا ہوا کہتا کیبن سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔

اففففف انیجل کہاں پھسا دیا مجھے ۔۔۔

یافی اپنا سر پکڑتی روحا کو یاد کرتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

تم کتنی پیاری ہو ہانیہ ۔۔

منان اپنا ہاتھ ہوا میں لہراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جی۔۔۔۔

ہانیہ نے اپنی نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھتے پوچھا ۔۔

ہاں ایک تم ہی ہو جو ہر وقت میرے ساتھ رہتی ہو ورنہ یہاں تو میرے قریب کوئ بیٹھتا ہی نہیں جیسے میں چھوت ہو ۔۔۔

منان گہری کالی آنکھوں میں سنجیدگی لاۓ بولا تھا ۔۔۔

نہیں ایسی بات نہیں تم اچھے ہو بس ہر کسی کی اپنی سوچ ہوتی ہے ۔۔۔

ہانیہ اپنے چہرے پر ڈوپٹہ ٹھیک کرتی بولی تھی ۔۔

ارے یہ چہرہ مت چھپایا کرو ایسی پیاری لگتی ہو مجھے معصوم سی ۔۔۔

منان مسکراتا ہوا ہاتھ نچا کر بولا تھا ۔۔۔

کہاں پیاری تم بھی اس لیے بات کرتے کیونکہ میں تمہارے ساتھ بات کرتی ہو ۔۔۔

ہانیہ سنجیدہ ہوتی بولی تھی ۔

م۔۔۔

اچھا چھوڑو اگلی گلاس سٹارٹ ہونے والی چلو چلے ۔۔۔۔

منان کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے تبھی بات بدلتا وہاں سے جاتا ہوا بولا ۔۔۔

کیا یہ واقعی خواجہ سرا ہے اگر ہے تو پاپا نے کیوں مجھے اس کے ساتھ رکھا ہے ۔۔۔

ہانیہ دور جاتے منان کو دیکھتے سوچا جو اپنی کمر کو مٹھکاتے ہوۓ جا رہا تھا ۔۔

یونی آ کر اسے کافی لوگوں سے پتہ چلا تھا منان ایک خواجہ سرا ہے ۔۔۔

———————————————————–

کیا ہوا آپ کو یافی آپی ۔۔۔

روحا یافی کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔

جو آفندی پلیس آئ تھی ۔۔۔۔

کیا ہونا یار انیجل میں تنگ آ گی ہو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا کرو ۔۔۔

یافی بیزار ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

آپ ماما بابا کو سچ بتا دے بس یہی راستہ ہے ۔۔۔

روحا سکون سے بولی ۔۔۔۔

نہیں بتا سکتی تم جانتی ہو ماما ٹھیک نہیں اور پہلے جو کچھ میں نے کیا تھا وہ بھی میں بھولی نہیں انیجل میرے ماں باپ بھاہیٶں نے میری خاطر چپ رہے کہ میں خوش تھی لیکن اب کیا بتاٶ کہ می۔۔۔۔

زیادہ مت سوچا کرے سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔

بس کچھ دن اور یافی آپی ہم خود ماما بابا کو بتا دے گے آپ فکر مت کرے ۔۔۔۔

روحا اپنے کالے ہاتھوں میں یافی کے سفید ہاتھ لیتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔

کیسے رہ لیتی ہو اتنے سکون میں انیجل حالانکہ ہم سب جانتے ہے اندر سے کتنا دکھی ہو تم لیکن چہرے پر یہ ٹھہرا سکون ہم سب کو حیران کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔

یافی روحا کے چہرے کو چھوتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ آپ سب ہمارے ساتھ ہے آپ سب کی محبت ہے ہم خوش ہے ۔۔۔۔

روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

جبکہ آنکھیں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔

تم صام کو بتا کیوں نہیں دیتی کہ جو وہ سمجھ رہا وہ تم نہیں تم ایسی بلکل نہیں ہو یار جیسی دیکھتی ہو ۔۔۔۔

یافی روحا کے ہاتھوں کی کالی انگلیاں چھوتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

اس ٹھرکی کو ہم کچھ نہیں بتاۓ گے ویسے بھی انہیں فرق نہیں پڑتا آپ فکر نہ کرے ۔۔۔

روحا کھوۓ ہوۓ انداز سے بولی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

اووو لیپ ٹاپ ورم ہر وقت ہمارے گھر رہتی ہو نعمان نے نکال دیا کیا ۔۔۔۔

صام یافی کے روم میں آتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

یافی کا فیورٹ کام لیپ ٹاپ یوز کرنا تھا بلکہ وہ تو ہر وقت لیپ ٹاپ کے ساتھ رہتی تھی جہاں لیپ ٹاپ وہاں یافی ۔۔۔

اس کا بیڈ روم بھی اس طرح کا بنایا گیا تھا ۔۔۔

جہاں ہر چیز میں لیپ ٹاپ کی طرز کی ہوتی ۔۔۔

فل جہازی سائز بیڈ کی شیپ بھی لیپ ٹاپ جیسی تھی ۔۔۔۔

کیوں نہیں آ سکتی کیا میں ۔۔۔

یافی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔

ارے آ سکتی ہو پر اس کالی چاکلیٹ کے پاس کم رہا کرو کالی ہو جاٶ گی ۔۔۔

صام یافی کی گود سے لیپ ٹاپ نکال کر وہاں اپنا سر رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

اففف چمپین کیا کہتی ہے تمہیں انیجل ۔۔۔

یافی اس کے گہرے کالے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

یہی تو مسئلہ ہے مجھے کہتی کچھ نہیں جیسے آپ سب سے بات کرتی ہے میرے سامنے آتے ہی وہ ایک رابوٹ بن جاتی ہے ۔۔

صام برا سا منہ بناتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ایک تم اور انیجل کبھی جو ہو کہ دونوں کی بن جاۓ ۔۔۔۔

یافی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

بن سکتی ہے نہ اگر یہ کالی اپنی شکل کا کچھ کر لے پھر بات بن سکتی ہے ۔۔۔۔

صام روم میں انٹر ہوتی روحا کو دیکھتا جان بوجھ کر بولا ۔۔۔۔

ہماری شکل کی فکر مت کیا کرے ٹھرکی اپنی اس میک اپ کی دوکان کی فکر کیا کرے ۔۔۔۔

روحا منہ کے زوایہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

ہاےےےے زار سی شکل اچھی ہوتی تمہاری تو پتہ نہیں کیا کرتی اس کالی شکل پر اکڑ لے کر گھومتی ہو ۔۔۔

صام روحا کے چہرے کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

پورا چہرہ کالا تھا سواۓ ہونٹوں کے ۔۔۔۔

ویسے ایک بات بتاٶ شکل کالی ہے پر یہ لب تمہارے پنک کیوں ہے ۔۔۔۔

روحا اسے اگنور کیے جو سکون سے بیٹھی تھی جب صام خودی اسے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

یافی آپی آ جاۓ کھانا کھا لے ۔۔۔۔

روحا بنا کوئ جواب دے یافی کو مخاطب کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہااہا یار انیجل ایسا نہ کیا کرو میرا معصوم سا چمپین ہے تھوڑا توجہ دیا کرو ۔۔۔۔

یافی صام کا غصہ سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھتی روحا کے کان میں قہقہ لگاتی سرگوشی کرتے بولی ۔۔۔۔

چھوڑے ان کو یہ ہے ہی فضول ٹھرکی ہم بات نہیں کرتے ۔۔۔۔

روحا بھی منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

لیپ ٹاپ ورم کوئ میڈیسن بتاٶ جو اس کی کالی شکل کو تھوڑا گورا کر دے ڈاکٹر ہو تم۔۔۔

صام کو خاموشی برداشت نہیں ہوئ تبھی مجبور ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

اپنی یہ میدے جیسی شکل پر کالا رنگ کر لو اگر اتنا مسئلہ ہو رہا آپ کو ہمارے رنگ سے ۔۔۔۔

روحا صام کی طرف دیکھتی طش میں آتی بولی تھی ۔۔۔

ہاے کالی جل گی مزہ آ گیا ویسے تمہیں تنگ کرنے میں مزہ بڑا آتا دل کو سکون آ گیا ۔۔۔

صام روحا کی طرف دیکھتا آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔

ٹھرکی کہی کا ہم بابا کو بتاتے ہے آپ کا رک جاۓ ۔۔۔

روحا جنجھلاتی ہوئ کہتی وہاں سے واک آوٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔

کچھ شرم حیا ہے تم میں آپی یہاں بیٹھی اور میرے سامنے ہی میری انیجل کو آنکھ مار رہے ۔۔۔

یافی صام کے چہرے پر ہلکا سا تھپڑ مارتی ہوئ بولی جو مگن سا باہر جاتی روحا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

توبہ چوفی میں کیوں مارو گا ہاے میں کتنا معصوم ہو ۔۔۔

صام آنکھوں میں شرارت لاتا ہوا بولا ۔۔۔۔

تم سے کوئ جیت نہیں سکتا میں جانتی تھی ۔۔۔

یافی صام کا کان پکڑتی بولی تھی ۔۔۔

———————————————————–

ارے میرا دلبر جانی کب آے گا ہمارے گھر ۔۔۔۔

مستقیم فون پر بات کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں یہ صام گھر ہی ہے پتہ وہ ککڑ بھی آ گیا ہے سنا میں نے ۔۔۔۔

مستقیم بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

اچ۔۔۔۔اہہہہ اہہہہ ۔۔۔

کیا تکلیف ہے تجھ اب ۔۔۔۔

اس سے پہلے مستیقم کچھ کہتا جب صام روم میں آتا اس کی گردن دبوچ چکا تھا ۔۔۔۔

بابا کو میری شکایت کیوں لگائ ۔۔۔

صام دانت پستا ہوا بولا ۔۔۔

چھوڑ مجھے دو منٹ بڑا ہو میں تیرے سے اور یہ باڈی کسی اور کو دیکھا میری بھی ہے اچھا ۔۔۔

مستیقم کروٹ چیج کیے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

اب صام نیچے اور مستقیم اوپر تھا اس کے ۔۔۔۔

بڑے ہو تبھی لحاظ کرتا میں ورنہ تم جانتے ہو مجھے غلطی پسند نہیں ۔۔

صام سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

اچھا معاف کر دے بابا کو میں نے بتایا تھا ۔۔۔

مستقیم بھی سنجیدہ ہوتا دور ہوتا بولا تھا ۔۔۔

غلط کیا تم نے اب بابا پوچھے گے مجھ سے ۔۔۔

صام اپنی گرین آنکھوں میں سردپن لاۓ بولا تھا ۔۔۔

تو بتا دے یار بابا ہے کچھ نہیں کہتے ۔۔۔

مستقیم معصوم سی شکل بناۓ بولا ۔۔۔۔

پھوپھو نہیں ہماری لیکن یہ پھپھا کٹنی والا کام تم بہت اچھے سے کرتے ہو ۔۔

صام دانت پیستا ہوا بولا ۔۔۔

دیکھو پھوپھو کا کردار کوئ تو پورا کرے وہ میں نے کر دیا اب شکریہ کہہ کر مجھ معصوم کو شرمندہ مت کرنا ۔۔۔

مستیقم اتراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

میری بددعا ہے ایسی کام میں پھس جاٶ جہاں تمہاری مدد کوئ نہ کرے ۔۔۔

صام اسے مکا مارتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔

ہاے دعا دے تو میری شادی ہو جاۓ ۔۔۔

مستیقم بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

تیری شادی تو میں کرواٶ گا مستیقم کے بچے بس یہ بابا کو ہنیڈل کر کے آ جاٶ میں ۔۔۔

صام اسے دیکھتا دانت پیستا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

ہاے ظالموں میری شادی تو ہوئ نہیں بچے کہاں سے ہو گے ۔۔۔۔

ہاے مجھ معصوم کو کوئ بتا دے میرے بچے کہاں ہے ۔۔۔

ہاہاہاہاہہاہ۔۔۔۔

مستیقم اپنے سینے سے سرہانے کو لگاۓ قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

جی بابا آپ نے بلایا ۔۔۔۔

صام آفندی صاحب کی اسٹڈی میں انٹر ہوتا بولا ۔۔۔

جی شہزادے صاحب آپ کو بلایا اگر برا نہ مناۓ تو مجھ نا چیز کو ٹائم دے گے آپ ۔۔۔

آفندی صاحب دانت پیستے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔۔

ہاہاہاہاا کیا بابا طنز کر رہے ۔۔۔۔

صام ڈھیٹ ہوتا قہقہ لگاتا ہوا بولا ۔۔۔۔

روحا کو تنگ تھوڑا کیا کرو تم جانتے ہو کہ و۔۔۔۔

اس کالی کے علاوہ کوئ بھی بات کر لے آپ ۔۔۔

صام ان کی بات کاٹتا منہ بناتا ہوا بولا ۔۔۔۔

پانچ لاکھ میرے اکاونٹ سے نکالے ہے تم نے وجہ حالانکہ تمہارا اپنا بینک اکاٶنٹ ہے وہ یوز کرتے ۔۔۔

آفندی صاحب غصہ کنٹرول کرتے بولے تھے ۔۔۔

وہ موبائل لیا میں نے ۔۔۔

صام لاپرواہ سا ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

پانچ لاکھ کا مموبائل وہ بھی اس لڑکی کے لیے جو تمہاری کچھ نہیں لگتی ۔۔۔

کیوں بیٹا ایسا کر رہے ہو اپنے بہن بھاہیٶں کو دیکھو ۔۔۔

اہان بزنس مین ہے فیا ڈاکٹر بن چکی ہے مستقیم جلد ہی ایس پی بن جاۓ گا اور ایک تم ہو نکمے جہان کے لاڈلے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کچھ کرو ہی نہیں ۔۔۔

کب اپنی زمہ داری کو سمجھو گے ۔۔۔۔

ترکی سے آۓ ہوۓ ایک ماہ ہو گیا پتہ نہیں وہاں تین سال رہ کے بھی کیا کیا تم نے اففففف کون سا ٹائم تھا جب تم پیدا ہوۓ ۔۔۔۔

آفندی صاحب تو غصہ سے پھٹ پڑے تھے ۔۔۔۔

صام سرخ انگارہ آنکھیں اور چہرہ لیے ضبط کرتا سن رہا تھا ۔۔۔۔

تم سے بات کر رہا میں اب کیوں رابوٹ بن گے ہو ۔۔۔

آفندی صاحب صام کو کندھوں سے پکڑتے چلاۓ تھے ۔۔۔۔

کل سے تم آفس جاٶ گے یہ میرا آخری فصیلہ ہے سمجھے۔۔۔۔

انہیں بھی دکھ ہوا تھا اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر پر مجبور تھے اگر اب نہ کچھ کہتے تو وہ بگڑ جاتا ۔۔۔۔

اور کوئ حکم بابا ۔۔۔۔

صام سردپن لے بولا تھا ۔۔۔۔

دیکھو بیٹا تم مجھے باقی بچوں سے زیادہ عزیز ہو تبھی میں بول لیتا ہو میرے سارے بچے کام کر رہے ایک تم ہی ہو جو آوارہ گردی کرتے ہو ا۔۔۔۔

میں صبح آ جاٶ گا بابا ۔۔۔۔

صام ان کی بات کاٹتا ان کے ہاتھوں کو چومتا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

کاش بیٹا تم جان سکتے میں کتنی محبت کرتا ہو تم سے پر تمہیں ایسی حالت میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔

آفندی صاحب نے دل میں سوچا تھا جبکہ آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

ڈ۔ی۔و۔ل

ڈیول ۔۔۔

زی نے ڈرتے ہوۓ پکارہ تھا ۔۔۔

ہمم بولو ۔۔۔

ڈیول اپنے ہاتھ میں تصویر لیے اسے دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔۔

اگر ہمیں یہ نہ ملی پھر ۔۔۔۔

زی اس تصویر کو دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کیوں نہیں ملے گی یہ انیجل صرف ڈیول کی ہے مجھے ہر حال میں چاہے ۔۔۔۔

ڈیول تصویر میں قید اس لڑکی کی ڈراک براٶن آنکھوں کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔۔

ایم کے تمہیں ڈھونڈ رہا ہے ڈیول اب آگے کیا کرنا ۔۔۔۔

زی نے پھر مداخلت کرتے ہوے کہا ۔۔۔۔۔

وہ دو ٹکے کا پولیس والا کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔

تم بس میری انیجل کو ڈھونڈ دو ۔۔۔۔

ڈیول کھوۓ ہوۓ انداز سے بولا ۔۔۔

———————————————————–

س۔سر اس لڑکی کو آپ جانتے ہے کیا ۔۔۔۔

فرحان کا خاص آدمی نے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔۔۔

ہاں یہ بلیک بیوٹی ہے افففف کتنی پیاری ہے مجھے یہ چاہے ۔۔۔۔

فرحان روحا کی پک دیکھتا ہوا کمنیگی سے بولا ۔۔۔۔۔

لیکن سر کیسے یہ تو صام آفندی کے گھر رہتی ہے اور میں نے سنا ہے اس کے گھر سیکیورٹی اتنی زیادہ ہے کوئ بنا پوچھے وہاں پاٶں بھی نہیں رکھ سکتا ۔۔۔۔

اس کا آدمی جلدی سے سب کچھ بتاتا ہوا بولا ۔۔۔۔

میں ڈرتا نہیں اس صام آفندی سے سنا وہ ٹھرکی لاپرواہ آوارہ سا لڑکا ہے ۔۔۔

اسے کیا خبر اس کی نوکرانی اگر گم ہو بھی گی ۔۔۔۔

وہ روحا کی پک پر اپنے گندے ہاتھ پھیرتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔

لیکن سر اس پر تو ڈیول کی بھی نظر ہے ۔۔۔۔

اس نے ایک اور بات سنائ ۔۔۔۔۔

ک۔کیا ۔ڈ۔ی۔۔و۔ل۔ڈیول ۔۔۔

فرحان اپک پل کے لیے ڈر گیا تھا ۔۔۔۔

لیکن مجھے یہ چاہے ہر حال میں بس ڈیول کو میں دیکھ لو گا ۔۔۔۔

وہ شراب کا گلاس ایک ہی سانس میں پیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔