Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Last updated: 10 November 2025

339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania 

ہم چاہتے ہے آپ آفس جاۓ اچھا انسان بنے ۔۔۔

روحا اپنے دونوں پاٶں صام کے پاٶں پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔

اور۔۔۔

صام ویسے ہی آہستہ آہستہ بیڈ کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔

آپ یہ بال کٹوا لے ہمیں نہیں پسند اچھے سے بال بناۓ ۔۔۔

روحا بھی مگن ہوئ اس کے بال پونی کی قید سے آزاد کرتی بولی تھی ۔۔

اور۔۔

صام بہکے ہوۓ انداز سے روحا کو بیڈ پر لیٹاتے بولا تھا ۔۔۔

آپ غصہ نہیں کرے گے اور کام اچھے سے کرے گے ٹائم سے سویا کرنا آپ نے بابا کو تنگ نہیں کرنا ۔۔۔

روحا سکون سے لیٹی ویسے ہی بولی تھی ۔۔۔

اور ۔۔۔

صام اپنا سر اس کے سینے پر رکھے بچوں کی طرح ہر بات مانتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

بس اتنا کر لیے اور۔۔۔

روحا اپنا ہاتھ صام کے بالوں میں رکھتی آہستہ آہستہ انگلیاں چلاتی بول رہی تھی ۔۔

جبکہ صام ہر چیز بھولے بچوں کی طرح آنکھیں بند کیے سن رہا تھا ۔۔۔

آپ سن رہے ہماری بات صام۔۔۔

روحا خاموش سر رکھے صام کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

سن رہا ہو تمہارے دل کی دھڑکن بہت ہی سریلی آواز ہے مس لائف تم ساری زندگی ایسے ہی اپنے سینے سے لگا کر مجھے سمجھاٶ گی میں ہر کام کر لیا کرو گا ۔۔۔

صام اپنے لب روحا کے دل کے مقام پر رکھتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔

پاگل ٹھرکی سو جاۓ آپ آفس جانا صبح ۔۔

روحا پہلے شوک ہوئ تھی لیکن پھر سکون میں آتی بولی کیونکہ جانتی تھی دنیا کے لیے وہ ایک ایٹیٹوڈ بواۓ تھا پر روحا کے سامنے ایک چھوٹا بچہ بن جاتا تھا ۔۔۔

ہاں پاگل ہو تمہارے عشق میں مس لائف تمہارے ساتھ رہ کر مجھے سکون کی نیند آتی ہے ۔۔۔

صام اپنے لبوں سے روحا کی تھوڑی چومتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔

روحا بھی خاموشی سے آنکھیں بند کر چکی تھی اسے خوشی ہوئ تھی صام اس کی بات مان گیا تھا ۔۔۔

جیسے جیسے صام گہری نیند میں جا رہا تھا ویسے ہی روحا کو اس کی گرفت اپنے کمر پر سخت ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔

اففف یہ انسان کیا ہے سمجھ سے باہر ایسے پکڑا ہے جیسے بھاگ جاۓ گے ہم ۔۔

روحا صام کا چہرہ دیکھتی دل میں سوچتی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔

روم میں صرف دونوں کی سانسیں گونج رہی تھی ۔۔۔