339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 23)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

““شادی اسپیشل 💕💕

تین کڑور کیوں چاہے تمہیں مجھ سے لے سکتی تھی ۔۔۔

صبح ناشتے پر ٹیبل پر بیٹھے زرجان فیا مس رابعہ تھے جب زرجان یافی کی طرف دیکھتے نارمل انداز سے بولا تھا ۔۔۔

و۔وہ مجھے چاہے تھے ۔۔

یافی ایکدم اٹکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

تو بیٹا یہ پیسے بھی تمہارے ہے جو جان اتنی محنت سے کما رہا ہے آگے جا کہ تم نے اور میرے پوتے پوتی نے ہی استعمال کرنے ہے ۔۔

رابعہ بیگم مسکراتی ہوئ بولی ۔۔

ج۔جی بچے۔۔

آہہہہہ یافی تم تو ایسے بات کر رہی جیسے ہمارے بچے ہونے ہی نہیں ۔۔

یافی جو اپنا گلا تر کرتی بولی تھی جب زرجان شوخ ہوتا اسے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

و۔وہ امی میں کہہ رہی انیجل کے گھر جلدی چلی جاٶ وہ اکیلی ہے تو مدد کر دیتی میں ۔۔۔

یافی سرخ چہرہ لیے زرجان کی بات اگنور کرتی اٹکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاں بیٹا جاٶ بلکہ وہی رہ لیتی بھائ کی شادی تھی یہ پاگل بھی ساتھ لے آیا تمہیں ۔۔۔

رابعہ بیگم مسکراہٹ روکے بولی تھی ۔۔۔

اچھا امی میں پھر تیار ہو جاتی ہو ۔۔

یافی زرجان کی شوخ نظروں کو اگنور کیے جلدی سے بولی تھی ۔۔۔

ہاہااہاہہا کتنے شرارتی ہو گے ہو بچی کو کیسے تنگ کیا ہے تم نے دیکھو ناشتہ بھی نہیں کیا اس نے ۔۔۔۔

رابعہ زرجان کے کان پکڑتی موڑوتی ہوئ بولی ۔۔۔

ہاہہاہہا امی آپ نہیں جانتی اس بچی نے مجھے کتنا پریشان کیا ہے ۔۔۔

زرجان قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔

————————————————————

شام کو یہ میکسی پہنا جانِ منان ۔۔

منان ہانیہ کو کمر سے پکڑے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

جہاں ہانیہ وڈراب میں سے ڈریس نکالتی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

لیکن مانی یہ میکسی کو دیکھے ساری بیک لیس ہے اور اس کے ساتھ ڈوپٹہ بھی نہیں ہے ۔۔۔

ہانیہ اپنا رخ منان کی طرف کرتی پریشان ہوتی بولی ۔۔

پریشان مت ہو یہ دیکھو اس کے ساتھ اپر بھی ہے تم یہ پہن لینا ۔۔۔

منان اسے ایک خوبصورت سا بیلو کلر کا اپر دیتے بولا تھا ۔۔

واہ ہ ہ ہ ۔۔۔

کتنا خوبصورت ہے ۔۔

ہانیہ ڈراک بیلو کلر کا اپر دیکھتی خوش ہوتی بولی تھی جس کی بیک پر خوبصورتی سے جانِ منان لکھا تھا ۔۔۔۔

پیارا ہے ۔۔۔

ہانیہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا پھر مجھے بھی گفٹ دو ۔۔۔

منان ہانیہ کا چہرہ ہاتھوں میں پکڑے بولا تھا ۔۔۔

کیا گفٹ چاہے ۔۔۔

ہانیہ اس کی کالی گہری آنکھوں میں دیکھتا بولی تھی ۔۔۔

تمہاری تھوڑی سی محبت ۔۔

منان ہانیہ کی تھوڑی پر لب رکھتے بولا تھا ۔۔۔

تھوڑی کیوں میں تم سے بہت محبت کرتی ہو ۔۔۔

ہانیہ اپنے دونوں ہاتھ منان کی آنکھوں پر رکھتی نرمی سے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکی تھی ۔۔۔۔۔

بند آنکھوں سے منان ہانیہ کا لمس پاتے اسے کمر سے پکڑ چکا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ کیا تھا ایم شوک ۔۔۔

منان ہانیہ کو چھوڑے گہرا سانس لیتے حیران ہوتے بولا تھا ۔۔۔۔

اگر پولیس والا بے شرم ہو سکتا ہے تو اس کی بیوی بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔

ہانیہ شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاں یہ تو ہے اچھا پھر آج شادی پر نہیں جات۔۔۔

کوئ نہیں ہم دونوں جاۓ گے چلے ڈریس نکال دیا ہے ۔۔۔۔

ہانیہ جلدی سے منان کو دھکا دیتی باہر بھاگتی بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

بابا ہیر آ گی ۔۔۔

صبح آہان آفندی صاحب کے بیڈ روم میں آتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

آو بیٹا خوشی ہوئ اپنی بڑی بہو کو دیکھ کر ۔۔۔

کالے لمبے بال جو ڈراک براٶن ہائ لائٹ کیے تھے ۔۔۔براٶن آنکھیں جن میں اداسی تھی سادہ سے کپری شرٹ میں ڈوپٹہ لیے وہ آہستہ آہستہ قدم آٹھاتی اندر آی تھی ۔۔۔

جب آفندی صاحب اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے ۔۔۔۔

ج۔جی ۔۔۔

ہیر بامشکل اتنا بول سکی ۔۔۔

جیسے روحا بیٹی ویسے تم آج سے یہی رہو گی ۔۔۔

اگر کوئ لڑائ ہوئ میرے بیٹے کے ساتھ تو ختم کر لو اور اپنا گھر سبنھالو ۔۔۔

وردہ بیگم بھی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔

آہان نے بہانہ بنایا تھا ہیر سے اس کی لڑائ ہوئ تھی ۔۔۔

جی اچھا ماما ۔۔۔

ہیر آہان کی طرف دیکھتی بولی جو اپنی سرخ گرین آنکھوں میں چمک لاۓ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

چلو جاٶ احمد بیٹے کو دیکھو ۔۔

وردہ بیگم ہیر کی طرف دیکھتی بولی ۔۔

جی ۔۔

ہیر حامی بھرتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔

روحا کو پتہ ہے ہیر کا ۔۔۔

وردہ بیگم خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جی ماما انیجل کو پتہ تھا ۔۔۔

آہان سر جھکاۓ بولا ۔۔۔

————————————————————

ہاےےے کیا کرے اندر کاروچ ہے اور ہم نے کپڑے چیج کرنے ہے ۔۔۔

روحا پریشان ہوتی سوچ رہی تھی ۔۔

صبح صام کی گرفت سے نکلتی وہ بامشکل کامیاب ہوئ تھی۔۔

جبھی جلدی سے باتھ لینے چلی گی تھی لیکن واش روم میں کاروچ دیکھتے وہ جلدی سے ٹاول سے خود کو کور کیے باہر آ گی تھی ۔۔۔

صام گہری نیند میں سو رہا تھا ۔۔۔

یہی چیج کر لیتے ہے ویسے بھی ٹھرکی سو رہا ۔۔۔

روحا صام کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ایک دفعہ چیک کر لیتے ہے ۔۔۔

روحا اپنے ٹاول کو پکڑتی ہوئ بیڈ کے پاس آتے سوچا تھا ۔۔۔

ص۔ا۔م۔صام۔ٹ۔ٹھ۔رک۔کی ٹھرکی سا۔سانڈ ۔۔۔

وحش۔وحشی ۔۔۔سو رہا ۔۔۔

روحا صام کی بند ہوتی آنکھیں دیکھتی ڈرتے ڈرتے بولی تھی کیونکہ اسے یہی لگا تھا صام بند آنکھوں سے بھی جاگ رہا ہے ۔۔۔

شکر سو رہا ۔۔۔

روحا واپس بیڈ سے دور جاتی بولی تھی پر وہ بھول گی تھی روحا کے لمس کی خوشبو سے ہی صام نیند سے جاگ چکا تھا ۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہے ۔۔۔

صام اپنی سرخ گرین آنکھوں کو کھولتا سامنے روحا کو صرف ٹاول میں دیکھتا شوک ہوتا سوچا تھا ۔۔۔

ابھی تک روحا کو پتہ نہیں چلا تھا صام جاگ چکا ہے ۔۔۔

————————————————————

““تمہیں عشق بنا کر کے روح دل میں ملا لے گے “

“رکھوا کے تیرے سر پہ تمہیں اپنا بنا لے گے “💕💕

“تمہیں عشق بنا کر کے روح دل میں ملا لے گے “

“رکھوا کے تیرے سر پہ تمہیں اپنا بنا لے گے “💕💕

روحا خوشی سے جھومتی ہوئ گا رہی تھی ۔۔۔

واہ ہ مس لائف گاتی بھی ہے میرے سامنے تو ایسی ہی رہتی ہے ۔۔۔

صام اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ چکا تھا وہ کب سے دیکھ رہا تھا روحا ابھی اپنے بال خشک کر رہی تھی ۔۔۔

ٹاول سے نظر آتی اس کی برہنہ گوری ٹانگیں اور شولڈر صام کو صاف نظر آ رہی تھی جبکہ

باقی ٹاول سے کور تھی وہ سب سے نیاز اپنے بالوں کو خشک کر رہی تھی ۔۔۔

میں بتاٶ اسے میں جاگ رہا لیکن پھر غصہ کرے گی میں لیٹ جاتا ہو ۔۔۔

صام روحا کا حسن دیکھتا پاگل ہوتا سوچ رہا تھا جانتا تھا اگر اسے پتہ چلا تو غصہ کرے گی ۔۔۔

آج ہم اچھا سا تیار ہو گے کیونکہ ۔۔۔

روحا آئنیے کی طرف دیکھتی سوچتی اٹک چکی تھی ۔۔۔

کیا ہم جلیس ہوۓ نہیں ہم کیوں جلیس ہو گے صام جس کو مرضی بلاۓ ۔۔۔

روحا اپنے چہرے کو چھوتی سوچ رہی تھی ۔۔۔

کیا سوچ رہی ہے مس لائف ۔۔۔

صام روحا کو سوچوں میں مگن کھڑی اسے دیکھتے بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ روحا اب واقعی بھول چکی تھی وہ روم میں ٹاول لگاۓ کھڑی ہے ۔۔۔

افففف یہ لڑکی مجھے سیدھی موت دے گی۔

میں جان گیا ہو ایسا روپ میں نے کبھی دیکھا نہیں اور یہ ظالم ایسے ہی کھڑی ہے زرا رحم نہیں اسے مجھ معصوم پر ۔۔۔

صام جو بڑی مشکل سے کنٹرول کیے بیٹھا تھا جب روحا کا ٹاول شولڈر سے سرکتے دیکھ وہ دل میں بولا تھا ۔۔۔

بول دیتا ہو میں جاگ گیا ہاں ۔۔

صام ہمت جمع کرتا دل میں سوچا تھا ۔۔

انہہ ہم نہیں جلتے کسی سے ہماری جوتی کو پرواہ نہیں ۔۔۔

روحا اچانک خیالوں سے باہر آتی غصے سے اپنا ٹاول جھٹکتی اتارتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اب واقعی وہ بھول چکی تھی صام روم میں ہے ۔۔

آہہہہہ آہہہہہہ۔۔۔۔

صام جو روحا کو دیکھتے اٹھ کر کھڑا ہوتا اس کے پاس آ رہا تھا جب روحا کو بنا ٹاول کے دیکھتے وہ منہ کھولے چلایا تھا ۔۔۔

صام کے چودہ کیا پورے سو طبق روشن ہوۓ تھے ۔۔۔

آہہہہہ آہہہ آپ ۔۔۔۔

روحا واپس موڑتی صام کو منہ کھولے اور آنکھیں پھاڑے دیکھتی وہ بھی چلاتی اس کے پاس آئ تھی ۔۔۔۔

بے شرم ٹھرکی اگر جاگ گے تھے تو بتا دیتے ہاۓ ہم نے تو کپڑے ہی نہیں پہنے ۔۔۔

روحا ویسے ہی چلتی صام کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی غصہ سے بولی تھی ۔۔

جب صام ابھی تک شوک ہوا اسے کمر سے پکڑے بیڈ پر گرا تھا ۔۔۔۔

کس نے کہا تھا مجھے یہ صبح صبح نظارہ دیکھاٶ میں معصوم سو ہی رہا تھا ۔۔۔

صام روحا کے ہاتھ ہٹاۓ اپنی آنکھوں کو بند کیے اسے کمبل سے کور کیے بولا تھا ۔۔۔۔

آ۔آپ ب۔بتا دیتے صام ۔۔۔

روحا کو اچھا لگا تھا صام کا یہ انداز وہ شوہر تھا کچھ بھی کر سکتا تھا لیکن اس نے روحا کو بنا دیکھے کور کیا تھا ۔۔۔

بتانے والا تھا کہ یہ تمہارا روپ دیکھ لیا ہاےےے کیا نظارہ تھا تم واقعی ایک جھٹکا ہو جو تم۔۔۔

صام ابھی بھی شوک ہوۓ روحا کا سرخ چہرہ دیکھتے بول رہا تھا جب روحا نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔

اچھا ب۔بس کرے ٹھرکی لائٹ آف کرے ہم نے وڈراب جانا ہے ۔۔۔

روحا اپنی آنکھیں بند کیے بولی تھی کیونکہ وہ صام کی آنکھوں میں اپنے لیے اتنی جنونی محبت دیکھتی ڈر چکی تھی ۔۔۔

مس لائف ۔۔۔

روحا جو آنکھیں بند کیے صام کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی جب خمار آلود آواز اسے صام کی سنائ دی ۔۔۔

روحا کا دل لبوں پر آیا تھا صام کی آواز سنتے ۔۔۔

ج۔جی۔۔۔

روحا اپنے خشک ہوۓ ہوے لبوں کو تر کرتی بولی تھی ۔۔۔

میری ہارٹ بیٹ اتنی تیز ہو رہی ہے جیسے دل باہر آ جاۓ گا کیوں ایسا کرتی ہو میرا ننھا سا دل ہے ۔۔۔

ایک ہی بار جان لے لو تم یہ روز روز کیوں مارتی ہو مجھے ۔۔۔

صام اور روحا دونوں ایک ہی کمبل میں کور تھے جب صام بیڈ سے آٹھتا روحا کو گود میں آٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔

پل۔ز۔۔۔پلیز صام ۔۔۔

گود میں آٹھانے سے روحا کا کمبل گردن سے

نیچے آیا تھا تبھی روحا شرماتے گھبراتے صام کے شولڈر کو پکڑتی بولی تھی ۔۔۔

ریلکس مس لائف ۔۔

صام روحا کی حالت سمجھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

زرا رحم کیا کرو ۔ مجھ معصوم پر ننھا سا دل ہے آج چھوڑ رہا اگر آج کے بعد ایسے سامنے آی تو چھوڑو گا نہیں میری جان ۔۔۔

صام روحا کو وڈراب کے روم میں اتارتا ہوا اس کے سرخ ٹماٹر جیسا چہرہ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

آپ۔بت۔۔۔

میں اگر بتا دیتا تو جو آج روپ دیکھا وہ کہاں دیکھتا ۔۔۔

روحا شرمندہ ہوتی بولی تھی جب صام روحا کے لبوں کو کاٹتے پیچھے ہوتا گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

ص۔صام۔جاۓ جنگلی ۔۔۔۔

روحا اپنے اوپر پھر صام کی گہری نظروں کو دیکھتی طش میں آتی بولی تھی ۔۔۔

———————————————————–

انیجل انیجل میری بات سنو ۔۔۔

مرحا چہکتے ہوۓ روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔

کیا ہو گیا شور کیوں مچا رہی ہو ۔۔۔

روحا بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی وہ ابھی تک روم سے باہر نہیں گی تھی ۔۔۔

آو تمہیں کچھ دیکھاٶ میں ایویں مستقیم کو سانڈ کہتی ہو میں نے اس سے بڑا سانڈ دیکھا ہے ہاےےے تم بھی دیکھو گی تو ڈر جاٶ گی ۔۔

خاص کر اس کی گرین آنکھیں ۔۔۔

مرحا ابھی بھی خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاےے کیسے ہوتی ہو ٹڈی سی ہو اور کام دیکھو تمہارے تمیں پتہ ہیر آپی بھی ایسی ہے ۔۔

روحا اچانک اداس ہوتی بولی ۔۔۔

اچھا آو تو سہی باہر ۔۔

مرحا اسے ہاتھ سے پکڑتی باہر لے جا کر بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

بلیک شارٹس پہنے شرٹ لیس ہوۓ پورا پیسنے سے بھیگا ہوا وہ چمپنگ بیگ پر مسلسل بوکسنگ کر رہا تھا ۔۔۔

ہر چیز سے بے نیاز وہ اپنے کام میں مصروف تھا ۔۔۔

۔یہ۔ٹھ۔ٹھرکی ہے ہاے ہم نے کبھی دیکھا کیوں نہیں ۔۔

روحا جم روم کے باہر لگے شیشے کے اندر صام کو جم کرتے دیکھ منہ کھولے بولی تھی ۔۔۔

مضبوط کشادہ سینہ سکس پیک مضبوط مسلز جہاں سینے اور مسلز کی نیلی رگیں صاف دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جبکہ پیسنہ اس کے جسم سے ٹپک رہا تھا گرین آنکھوں میں وحشت ٹپک رہی تھی ۔۔۔

کون ہے یہ کتنا خوبصورت ہے میں نے ایسا بندہ نہیں دیکھا ہاے جس کی قسمت میں یہ ہو گا اس لڑکی کی موجے ہے ۔۔

مرحا خوشی سے پاگل ہوتی بول رہی تھی ۔۔

کیا اول فول بول رہی ہو شوہر ہے ہمارا ۔۔۔

روحا جلدی سے غصہ میں آتی بولی تھی ۔۔

کیییییییییااااااا۔۔۔۔۔

کتنی خوش قسمت ہو یہ تمہارا ہے ہاے یہ ایٹیٹوڈ کا کنگ مسٹر صام آفندی ہے میں نے مستقیم سے سنا تھا اس کا ذکر ۔۔۔

مرحا خوشی سے چلاتے بولی تھی ۔۔۔

یہاں کیوں آی ہو تم دونوں ۔۔۔

صام چیخ کی آواز سنتا جم روم سے باہر آتا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔

سامنے روحا اور مرحا کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

وہ سانڈ بھائ سوری مطلب صام میں تمہاری بھابھی ۔۔۔

مرحا خوشی پر قابو پاتی اپنا ننھا سا ہاتھ اس کے سامنے کرتی بولی تھی ۔۔۔

واٹ مشعوق کی بیوی اتنی چھوٹی سیرسیلی ۔۔۔

صام مرحا کو دیکھتے آپنی آی برو آٹھاۓ بولا تھا جو بامشکل اس کی ٹانگ تک آ رہی تھی ۔۔۔

جی میں ہو ۔۔

مرحا برا مناۓ منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

سہی جاٶ پھر تیار ہو جاٶ ۔۔۔

صام روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا جو اس کے سکس پیک ہی دیکھ رہی تھی جبکہ چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔

انہہ جا رہی ہو دونوں میں ایٹیٹوڈ ہے دیکھ لو گی ۔۔۔

مرحا دونوں کی طرف دیکھتی بالوں کو جھٹکتی ہوئ کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

ہاتھ لگا کر دیکھ لو پورے کا پورا تمہارا ہو ۔۔۔

صام روحا کا کاپتا ہاتھ پکڑے اپنے سینے پر رکھتے بولا تھا ۔۔

دونوں کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔

مس لائف پلیز یہ شادی رک دو میں نہیں رہ سکتا تمہارے بنا ۔۔

صام روحا کو ایک ہی جھٹکے میں اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔

روحا کی شرٹ اس کے پسینے سے بھیگ گی تھی ۔۔۔

آ۔پ آپ کرے گے شادی ہم کہہ رہے ہے ۔۔

روحا نظریں چڑاتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا جاٶ ہیر آپی آ ۔۔۔

کییییییییییااااا آپی آ گی ہمیں پتہ ہی نہیں ہاےےےےے ہم کتنے خوش ہے ۔۔۔

صام بات بدلتا ہوا ابھی بول رہا تھا جب روحا خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

کاش مس لائف کبھی تم میرے لیے ایسے خوش ہو کاش ۔۔۔

صام روحا کا چہرہ پکڑے اوپر کرتے بولا تھا ۔۔۔۔

آپ بہت اچھے ہے صام ہم دل سے عزت کرتے ہے ۔۔

روحا اپنے لب اس کے گال پر رکھتی بولی تھی ۔۔

تم بہت چالاک ہو یار جانتی ہو تمہارے اس لمس اس قربت سے میں بہک جاتا ہو پھسل جاتا ہو پھر بھی جاٶ یہاں سے ورنہ کنٹرول کھو دو گا پھر کون سی شادی کون سے مہمان مجھے سب بھول جاۓ گا ۔۔۔

اگر یاد رہے گا تو صرف تمہارا یہ لمس ۔۔۔

صام واقعی سب کچھ بھولے اسے کمر سے لگاۓ اس کی ڈراک براٶن آنکھوں میں دیکھتے بولا تھا ۔۔۔

ج۔جی۔۔

روحا ڈرتے اپنی سانس روکے بامشکل بولی تھی ۔۔۔

ہمممم۔۔۔

صام اپنا چہرہ موڑے اسے چھوڑتے بولا تھا ۔

جبکہ روحا اپنی بھیگی شرٹ لیے وہاں سے بھاگ چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

بابا ہم نے آپ کو بہت مس کیا ۔۔۔

روحا زیدی صاحب کے سینے لگی روتے بولی تھی ۔۔

میں نے بھی اپنی بیٹی کو مس کیا ۔۔

زیدی صاحب مسکراتے بولے تھے ۔۔۔

اچھا بس کرو بلیک بیوٹی کب سے رو رہی ہو ۔۔

ہیر روحا کو الگ کیے مسکراتی بولی تھی ۔۔

آپییییی ہم بہت خوش ہے ۔۔

روحا ہیر سے ملتی ہوئ بولی تھی جہاں وہ اورنج کلر کی لونگ مکیسی پہنے ہلکے میک اپ کیے تیار سی کھڑی تھی ۔۔۔

میں نے بھی ۔۔

ہیر اسے ہگ کرتی بولی تھی ۔۔۔

یہ غلط ہے انیجل آپی کیا آی تم اپنے لالہ کو بھول گی ۔۔۔

آہان بھی قریب آتے مسکراتے بولا تھا ۔۔

لالہ آپ کو بیسٹ ہے ہمارے لیے ۔۔۔

گرے کرتا شلوار میں خوبصورت سا تیار ہوے آہان کو دیکھتی روحا مسکراتی بولی تھی ۔۔

ہاہاہہاا اچھی کہو ۔۔۔

ہیر کا طنزیہ قہقہ گونجا تھا جسے سنتے روحا اور آہان کے چہرے کا رنگ اُڑا تھا ۔۔۔

جی آپی آ۔۔۔

احمد کدھر ہے انیجل ۔۔۔

روحا جو بول رہی تھی جب آہان بات بدلتا بولا ۔۔۔

جی لالہ دیکھے اپنے دادا کے پاس ہے ۔۔

روحا سامنے دیکھتی بولی جہاں احمد آفندی اور وردہ بیگم کے ساتھ بیٹھا کھیل رہا تھا ۔۔

سیم آہان جیسی ڈرسنگ کیے وہ چھوٹا آہان ہی لگ رہا تھا ۔۔۔

———————————————————–

اپن کو لگتا ہے یہ انیجل اپن سے جلتی ہے ۔۔

بلیک جنیز ریڈ شرٹ پہنے اپنے بوب کٹ بگ لگاۓ دھڑکن صام کے قریب کھڑے وہ بولی تھی ۔۔

ارے نہیں یار وہ بس ایسی ہی ہے ا۔۔

جنرل داٶد میر کی بیٹی ہے اپن تو مجھے ہلکے میں لے رہا ٹھرکی ۔۔

دیکھ کیسے تجھے ہی دیکھ رہی بار بار ۔۔

دھڑکن صام کی بات کاٹتی سامنے دیکھتی بولی تھی جہاں روحا آہان ہیر زیدی صاحب کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی جبکہ وہ دیکھ انہیں ہی رہی تھی ۔۔۔

جانتا ہو اپنے جلاد باپ کا نام لینا ضروری ہوتا کیا ڈی ڈی چلو یہاں سے ۔۔

صام اچانک سنجیدہ ہوتا بولا تھا کیونکہ روحا کی طرف دیکھتے اسے صبح والا سین یاد آ جاتا تھا ۔۔

بلیک کلر کی شلوار کرتا پہنے اپنی وجہہ پرسلینٹی لے وہ بے نیاز سا کھڑا بس روحا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

ارے شعیب کہاں تھے تم کتنے دنوں بعد آۓ ہو ۔۔۔

روحا اسٹیچ کی طرف جا رہی تھی جب اسے شعیب آتا دیکھائ دیا تبھی بولی ۔۔

بلیک بیوٹی سو بیوٹی فل افففف میں نے آج تک ایسی لڑکی نہیں دیکھی ۔۔

شعیب روحا کو لونگ نیٹ کی بلیک میکسی میں ملبوس جس کے اوپر بلیک ہی نیٹ کا اپر تھا بالوں کا بن بناۓ ہلکے میک اپ کیے وہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔

شعیب اس کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔

ہاہہاہا سہی چلو نکاح ہونے والا اچھا تم مجھے پشیتو سکھاٶ گے ۔۔

روحا قہقہ لگاتی اسے ساتھ لے کر جاتی بولی تھی ۔۔۔

جبکہ صام نے دور کھڑے بڑی مشکل سے یہ منظر دیکھا تھا ۔۔۔

————————————————————

شاہد میرا نکاح ہے لیکن تم دونوں کو فرصت ہی نہیں مجھ پر دھیان دینے کی بس اپنی بیویوں کو دیکھ رہے ہو ۔۔

اسیٹچ کے درمیان میں نیٹ کا پردہ کیا تھا نکاح کے لیے تبھی لڑکے ایک طرف تو دوسری طرف لڑکیاں تھی ۔۔

وہائٹ کلر کی پینٹ شرٹ پہنے خوبصورت سا تیار اپنی گرے آنکھوں میں چمک لیے مسلسل زرجان سامنے لونگ وہائٹ مکیسی پہنے بالوں کا خوبصورت سٹائل بناۓ میک اپ کیے یافی کو دیکھ رہا تھا جو مرحا کے پاس بیٹھی تھی ۔۔۔

مہرون شرٹ بلیک پینٹ پہنے بالوں کا سٹائل بناۓ اپنی کالی گہری آنکھوں سے منان سامنے دیکھ رہا تھا جہاں ہانیہ بیلو مکیسی پہنے بالوں کو کرل کیے خوبصورت سا میک اپ کیے روحا کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔

مہرون شروانی پہنے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ لاۓ اپنی وجہہ پرسلینٹی لے وہ دلہا بنا بیٹھا تھا ۔۔۔

جبکہ مرحا مہرون بھاری لہنگے جیولری پہنے ڈراک میک اپ کیے وہ گھبرائ شرمائ سی وردہ بیگم کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔

اور تو دلہا ہو کر تجھے سکون نہیں تیری والی بھی بیٹھی ہے ۔۔۔

ڈی ڈی ببل چباتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

میں اپنی والی کو تب دیکھو گا جب بنے گی سمجھی اب چپ بیٹھ جا ۔۔۔۔

مستقیم دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

جی نکاح شروع کرے ۔۔۔

آفندی صاحب مولوی کو دیکھتے بولے تھے ۔۔۔

———————————————————-

کیا آپ کو قبول ہے ۔۔۔

مرحا نکاح قبول کر چکی تھی جب مولوی نے مستقیم سے پوچھا ۔۔۔۔

ہاے سچی نکاح ہو رہا میرا مجھے یقین نہیں آ رہا ۔۔۔

مستقیم منان کے کان میں سرگوشی کرتے بولا ۔۔۔

قبول ہے بول دے اس سے پہلے انکل تجھے شوٹ کر دے ۔۔۔

منان آفندی صاحب کی طرف دیکھتا دانت پیستے بولا ۔۔۔

جی مجھ ق۔۔۔

ہمیں قبول نہیں

اس سے پہلے مستقیم ہاں کرتا جب بیزار سی شکل بناۓ ڈی ڈی بولی تھی ۔۔۔

وہ صام کے شولڈر پر سر رکھے کھڑی تھی ۔۔

واٹ ٹ دماغ ہل گیا تمہیں کس نے کہا قبول کرو ۔۔۔

مستقیم کا دماغ بھک سے اُڑا تھا تبھی چلاتے وہ بولا ۔۔۔

پھر یہ رش کیوں ڈالا ہے اگر اپن نے قبول نہیں بولنا اپن نہیں جانتا شادی کیسے ہوتی ہے ۔۔۔

ڈی ڈی ویسے ہی سکون سے بولی تھی ۔۔۔

جبکہ اسٹیچ پر بیٹھے سب افراد کے قہقہ گونجے تھے ۔۔۔

سواۓ روحا صام مستقیم مرحا کے روحا تو بس دھڑکن کو گھور رہی تھی ۔۔۔

شیٹ اپ اب مت بولنا یار صام چپ کروا اسے ورنہ شوٹ کر دو گا یہ میری تھوڑی سی شادی بھی نہیں ہونے دے گی ۔۔۔

مستقیم ڈی ڈی کی طرف دیکھتا بولا تھا جو نیلی آنکھوں میں حیرت لیے سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔

”کیا آپ کو قبول ہے “

مولوی نے دوبارہ پوچھا تھا ۔۔۔

قب۔۔۔

ابے تو دیکھ نہیں رہا وہ مان گیا بار بار بول کے دماغ کی دہی کر رہا جلدی کروا نکاح ورنہ ڈی ڈی شوٹ کر دے گی ۔۔۔۔

صام کے گھورنے پر وہ مجبور ہوتی چپ ہو گی تھی جب پھر ایک دفعہ زبان پر کھجلی ہوئ تھی ۔۔۔

ڈی ڈی کا کہیں اور بس نہ چلا تو وہ مولوی صاحب پر ہی چڑھ دوڑی۔

“بیٹا یہ ہر لڑکی اور لڑکے سے پوچھا جاتا ہے۔” مولوی صاحب نے نرمی سے کہا۔ ۔

ہاں تو مان گیا وہ اب کون سا انکار کرے گا جیسے وہ چپکلی کی شکل والی سکون سے بیٹھی ہے ۔۔۔

ڈی ڈی دلہن بنی کومل کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ہاہااہاہہاہاہہاایایای ہمیں بڑا مزہ آ رہا ہے مشعوق آج تک سب کو تنگ کیا آج تیرے ٹھکر کی آئ ہے ۔۔۔

مستقیم جو منہ کھولے حیرت سے ڈی ڈی کی شکل دیکھ رہا تھا جب منان اور زرجان نے قہقہ لگاتے کہا تھا ۔۔۔

بکواس بند کرو اسے میں ابھی بتاتا ہو ہو گی جنرل کی بیٹی میری کچھ نہیں لگتی یہ چڑیل ۔۔۔

مستقیم اپنی جگہ سے اٹھتا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ریلکس ڈی ڈی اب کچھ نہیں کہے گی ۔۔۔

صام ڈی ڈی کا بازو پکڑے سنجیدہ ہوے بولا تھا ۔۔۔

“چلو مولوی تم شروع کرو”

مستقیم دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔

اپن سوچ رہا ہے ایک بار پھر سے سوچ لیں نظرِ ثانی کر لو سانڈ کیا پتہ تجھے کوئ اچ۔۔۔

اچھا اچھا بس نہ گھور جانتا نہیں اپن کون ہے یہ گنڈے جیسی آنکھیں اپن کو نہ دیکھا ۔۔۔

ڈی ڈی جو ایک دفعہ پھر بول رہی تھی جب مستقیم کو گھورتے دیکھ منہ بناتی کہتی چپ ہو گی تھی ۔۔۔

صامممم بے بی ۔۔۔

“اب کیا تکلیف ہے؟”

صام ڈی ڈی کی معصوم سی آواز سنتا بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

اپن انیجل کو کچھ کہنا چاہتا ہے ۔۔۔

ڈی ڈی روحا کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

سارے اسٹیچ پر خاموشی سے بیٹھے سارا تماشہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔

تم بول لو میں نکاح بعد میں کروا لیتا ہو ۔۔۔

مستقیم اپنے ہاتھ جوڑتا ہوا بولا تھا ۔۔

اپن کو انیجل آج بہت پسند آی کیا لگ رہی ہو یار خاموش نہ رہا کرو بولتی رہا کرو ا۔۔۔

جیسے اس کی زبان بند نہیں ہو رہی کون سا وقت تھا جب تو یہاں آی غلطی ہو گی ہماری ۔۔۔

ڈی ڈی جو روحا کو پردے کی دوسری طرف دیکھتی اُونچی آواز سے بول رہی تھی جب مستقیم پھر بولا تھا ۔۔۔۔

شکریہ گنڈے اتنی تعریف پر اپن تجھ کو گفٹ دے گا وہ بھی تجھ شوٹ کر کے ۔۔۔۔

ڈی ڈی اچانک غصے میں آتی مستقیم کی طرف جاتی بولی ۔۔

بس کرو کیوں ریسلنگ شروع کی ہے جلدی بولو مس لائف کو کیا کہنا چاہتی ہو ۔۔۔

صام ڈی ڈی کو اپنے قابو میں کیے بولا تھا ۔۔۔

ہاں اپن بول رہا تھا تم بہت پیاری لگ رہی ہو ایک دم ہاٹ گ۔۔۔۔۔

ڈی ڈی جو بول رہی تھی جب صام نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے اس کے الفاظ روکے تھے ۔۔۔

جبکہ روحا کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔۔

جبکہ سب کے قہقہ گونجے تھے ۔۔۔۔

ڈی ڈی کا منہ بند ہوتے دیکھ مستقیم جلدی سے نکاح قبول کر چکا تھا ۔۔۔

جبکہ ڈی ڈی صام کی گرفت میں پھڑپھڑا رہی تھی ۔۔۔

————————————————————

ارے ڈمپل بواۓ کدھر چلے گے ہو یار آ جا۔۔۔۔

ہلیو انیجل ۔۔

نکاح ہو چکا تھا جب احمد نے روحا کو کہا تھا وہ واش روم جانا چاہتا ہے جب روحا اسے لے کر آئ لیکن اچانک ہی وہ گم ہو گیا تھا ۔۔

تبھی روحا پریشان ہوتی ڈھونڈ رہی تھی جب اس کا فون رنگ کیا ۔۔۔

جی لالہ ڈمپل بواۓ پتہ نہیں کہاں چلا گیا ۔۔۔

روحا رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

احمد ہیر کے پاس بیٹھا ہے تم آ جاٶ رخصتی ہونے والی ۔۔۔

آہان فون پر بولا ۔۔۔

جی اچھا ہم آتے ہے ۔۔

روحا پرسکون ہوتی بولی تھی ۔۔۔

اہہی آہہہ۔۔

روحا جو واپس جانے والی تھی جب ہلیز پہنے کی وجہ سے وہ

لڑکھڑائ تھی جب شعیب نے اسے پکڑا ۔۔۔

شکریہ تمہارا پتہ نہیں کیسے ہوا ۔۔۔

روحا جلدی سے دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔

کوئ بات نہیں بلیک بیوٹی تم بچ گی یہی بہت ہے ۔۔۔

شعیب اپنے ہاتھوں کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔

پہلی دفعہ اس نے روحا کو چھوا تھا ۔۔۔

چلے باہر ہم ۔۔

روحا جلدی سے گھبراہٹ پاتے بولی تھی ۔۔۔

اسے بس صام کا چھونا اچھا لگتا تھا کسی غیر مرد کا ایسے چھونے پر وہ عیجب فیل کر رہی تھی ۔۔۔

ت۔۔۔۔

کیا ہو رہا یہ ۔۔

اس سے پہلے شعیب کچھ کہتا جب واش روم کے باہر کھڑے صام نے غصے سے دھاڑا تھا ۔۔۔

ص۔صام آپ ۔۔۔

چلو یہاں سے اور تم کورنا کی جعلی ویکسین قابو میں رہو ورنہ کاٹ کر رکھ دو گا ۔۔۔

پہلے تو قتل نہیں کیا لیکن تیرا ضرور ہو گا قتل تو میری مس لائف سے دور رہ ورنہ ایسا کاٹ کر پھیکو گا کہ کتے بھی ڈھونڈ نہیں سکے گے تجھے ۔۔۔

روحا جو سرخ گرین آنکھیں لے صام کو دیکھتی بول رہی تھی جب صام شعیب کی آنکھوں میں دیکھتا روحا کو بازو سے پکڑے وہ لے کر جاتا بولا تھا ۔۔

ص۔صام آپ غلط سمجھ رہے ہے صام ہماری بات تو سن لے ۔۔۔

روحا ساتھ جاتی منت کرتی بول رہی تھی جبکہ صام ہر چیز سے بے نیاز ہوۓ سب کو اگنور کیے وہ گاڑی میں بیٹھتا ہوا چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

ہاے کتنے پیارے لگ رہے ۔۔

مرحا سامنے دیکھتی بولی جہاں منان ہانیہ اور زرجان یافی بیٹھے تھے جب یافی اور ہانیہ کسی نے کسی بات پر شرما جاتی تھی ۔۔۔

ہاں تو پیار ہے ان چاروں میں ۔۔

مستقیم ساتھ بیٹھے سردپن سے بولا ۔۔

پیار تو مجھ بھی ہے ا۔۔۔

ہاں دیکھ لیا پیار تمہارا الزام لگا کر شادی کروا لی ۔۔۔

مرحا مسکراتی ہوئ بول رہی تھی جب مستقیم طنز کرتا بات کاٹتا بولا ۔۔۔

تم غلط سمجھ رہے ہو مستقیم مستقیم ۔۔

مرحا جب بول رہی تھی تبھی مستقیم بنا بات سنے اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

اسٹچ پر صرف مرحا اور کومل بیٹھی تھی ۔۔۔

مرحا نے کافی پکارہ تھا اسے لیکن وہ ان سنی کیے چلا گیا ۔۔۔