339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 1)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

“““جب مارتا تو مجھ پر ٹرایاں 😉

“شرما کہ پلکیں میری جھکتی“😉

”جب پکڑے میری کلائیاں ““

”ہارٹ بیٹ کبھی بڑھے کبھی روکتی “🔥

““جب مارتا تو مجھ پر ٹرایاں “

“شرما کہ پلکیں میری جھکتی “🔥

”جب پکڑے میری کلائیاں “

“ہارٹ بیٹ کبھی بڑھے کبھی روکتی “🔥

“تجھے جلدی سے وائفی بناٶ گا ““

““تو موڈ بنا تو سہی 😂

“دل دیا ہے جان بھی تجھے دے گے ””

““تو ایک واری آ تو سہی “💃💃😂

افففف ٹھرکی کا کام شروع ہو گیا ۔۔۔۔۔

وہ اس کے روم کے باہر کھڑی بیزار ہوتی بولی جبکہ ہاتھوں میں جوس کی ٹرۓ تھی ۔۔۔

جو کہ اندر روم سے میوزک کی آونچی آواز سنتی بیزار ہوئ تھی ۔۔۔۔۔

جوس ۔۔۔

منہ بناتے وہ اندر انٹر ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں صام آفندی اپنے پاس کھڑی لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈالے ڈانس کر رہا تھا ۔۔۔۔

اوووو ڈراک چاکلیٹ آو جوس دو کومل کو ۔۔۔۔۔

صام روحا کی طرف دیکھتا طنز کرتا ساتھ کھڑی خوبصورت لڑکی کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

روحا خاموشی سے اگنور کیے کھڑی تھی ۔۔۔۔

صام بے بی یہ بولتی نہیں کیا اتنا ۔۔۔۔

کومل صام کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔۔

نہیں یار یہ مس کھڑوس ہے کالی کلوٹی بولتی کم ہے جب دل کرتا تبھی بولتی ہے ۔۔۔۔

صام کو اپنا آپ اگنور ہونا برا لگا تھا تبھی روحا کو اپنی گرین آنکھوں سے گھورتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ روحا سکون سے ویسے ہی اپنی ڈراک براٶن آنکھوں سے دیکھتی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔

یہاں آو کالی چاکلیٹ جوس کا گلاس میرے ہاتھ میں دو ۔۔۔

وہ جانتا تھا جب تک جوس نہیں پیے گا وہ یہاں سے نہیں جاۓ گی ۔۔۔۔

کیوں ہاتھ ٹوٹ گے آپ کے ہم نہیں آے گے ۔۔۔۔

روحا تحمل سے بولی تھی ۔۔۔۔

افففف یہ تمہارا ہم اچھا کتنی فوج ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔۔

صام روحا کے آس پاس دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

آپ سے مطلب جوس پیے ماما کے پاس جانا ہم نے ۔۔۔

روحا اپنے بالوں کو جھٹکا دیتی شان بے نیازی سے بولی ۔۔۔۔

لے جاٶ میں تمہارے اس کالے ہاتھ سے جوس نہیں پیو گا ۔۔۔۔

صام اسے چڑانے کے لیے بولا تھا ۔۔۔۔

جی ٹھیک ہم جا رہے ۔۔۔۔

روحا سکون سے کہتی باہر جا رہی تھی ۔۔۔۔۔

کالی کی اکڑ کتنی ہے توبہ ۔۔۔۔

صام اسے باہر جاتا ہوا دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

جبکہ موڈ اس کا خراب ہو چکا تھا ۔۔۔۔

تم جاٶ یہاں سے ۔۔۔۔

وہ کومل کو چھوڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

لی۔ک

آی سے گو ناٶ ۔۔۔۔

کومل جو بول رہی تھی جب صام غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔۔۔

ہاہاہاہا کیا ہوا نکال دیا ٹھرکی نے ہاےےے۔۔۔۔

روم سے باہر کھڑی روحا باہر آتی کومل کو دیکھتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔۔

آنہہ تمہاری وجہ سے ہوا یہ ۔۔۔۔

کومل منہ بناتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

بلیک روم کی ہر چیز بلیک کلر کی تھی سارا فرنیچر روم کے پردے قالین ہر چیز بلیک کلر میں ڈوبی ہوئ تھی ۔۔۔۔۔

بلیک کلر کی ٹی شرٹ پہنے جس میں اس کے ہیوی مسلز نظر آ رہے تھے کالے گہرے بال جو کشادہ صاف شفاف ماتھے پر بکھرے ہوۓ تھے ۔۔۔

ڈراک گرین آنکھیں جو ایک سرد پن ظاہر کرتی تھی ۔۔۔عنابی ہونٹ گالوں پر پڑتے ڈمپل ہلکی سی شیو لے وہ بیڈ پر لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔

جب روحا روم میں دوبارہ انٹر ہوئ تھی ۔۔۔۔

کیوں آی ہو اب ۔۔۔

وہ ویسے ہی آنکیھں بند کیے بولا تھا ۔۔۔۔

روحا خاموشی سے کھڑی تھی ۔۔۔۔

کیوں کرتی ہو ایسا تم کالی چاکلیٹ ۔۔۔۔

وہ دوبارہ اسے دیکھتا بولا تھا جو چپ جوس کا گلاس لیے کھڑی تھی ۔۔۔۔

بلیک کلر کے شارٹ شرٹ کپری کے ساتھ بلیک ڈوپٹے کو اپنے پورے جسم کو کور کیے کالے چہرے پر بے نیازی لیے ڈراک براٶن آنکھوں میں عیجب اداسی لیے وہ کھڑی تھی ۔۔۔۔۔

جوس پیو ہم نے جانا ہے ۔۔۔۔

روحا اس کے قریب جاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔

اکڑ کس بات کی تم میں کالی چاکلیٹ ۔۔۔۔

صام روحا کی کالی کلائ پکڑتے ہوۓ دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جوس ۔۔۔

روحا دو ٹوک بولی تھی ۔۔۔۔

بہت برا کرتی ہو ایسا اگنور کر کے تڑپا لو جیتنا تڑپانا ہے پھر میں تمہیں اچھے سے بتاٶ گا صام آفندی تڑپانے پر آ جاۓ تو کیا ہوتا ہے ۔۔

صام روحا کو ایک ہی جھکٹے سے اپنے قریب لاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

اووو مسٹر ٹھرکی تڑپ رہے ہے واہ ہمیں بہت مزہ آیا ۔۔۔۔

روحا اس کی گرین آنکھوں میں دیکھتی طنز کرتی بولی تھی جو سرخ ہوئ تھی ۔۔۔۔۔

ہو کون تم ایک ب۔۔۔۔۔

نوکررانی ہے ہم اس گھر کی مسٹر صام آفندی ۔۔۔۔

صام جو روحا کے کالے چہرے پر ہاتھ رکھتا بولا تھا جب روحا اسے دور جاتی چلائ تھی ۔۔۔۔

ت۔۔۔۔۔۔

آہہہ آہہہہ۔۔۔۔

اس سے پہلے صام کچھ کہتا جب باہر چیخنے کی آواز سنتے دونوں باہر چلے گے تھے ۔۔۔۔

———————————————————–

ہاے مجھ معصوم پر ظلم ہو رہا ۔۔۔۔

کوئ توبچا لے مجھے ہاے میں نے کنوارہ ہی مر جانا ۔۔۔۔

چھوڑ مجھے سوتیلی ناگن ۔۔۔۔

وہ زمین پر لیٹا دہائ دیتا بول رہا تھا ۔۔۔

چپ کر چوزے ہمت کیسے ہوئ میرے لیپ ٹاپ کو ہاتھ لگانے کی ۔۔۔۔

یافی مستقیم کو لات مارتی غصہ کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

لو یہ والا ہاتھ لگایا تھا ناگن اب چھوڑ دے شرم کر چھوٹا ہو ۔۔۔۔

مستقیم اپنا ہاتھ دیکھاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

یہی ہاتھ توڑ دینا میں نے ۔۔۔

یافی اس کا سفید ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتی بولی تھی ۔۔۔

ارے ٹھرکی بچا مجھے دیکھ مجھ پر ظلم ہو رہا ۔۔۔

مستقیم سامنے سے آتے صام کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

چوفی تم ٹھیک کر رہی ہو اور مارو اس مشعوق کو ۔۔۔۔

صام صوفے پر بیٹھتا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔

شرم کر بڑا ہو میں چاہے دو منٹ ہی سہی بچا تو لے ٹھرکی تم لوگ پاکستان کے اتنے قابل ایس پی کو مار رہے ہو ۔۔۔

مستقیم صام کی ٹانگ پکڑتا دہائ دیتا بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہای پہلے پاس تو ہو جا چوزے پکا فیل ہونا تو نے آیا بڑا ایس پی شکل دیکھی ہے ۔۔۔

یافی اسے چھوڑتی قہقہ لگاتی صام کے پاس جاتی بیٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

دیکھنا پاس ہو جاٶ گا میرے پاس ہونے کی خبر سن کر یہ ٹھرکی بے ہوش ہو جانا ۔۔۔۔

مستقیم اپنے کالے بالوں کو ماتھے سے ہٹاتے اترا کر بولا تھا ۔۔۔۔۔

پہلے پاس ہو جا تو پکا میں بے ہوش ہونے کو تیار ہو ۔۔۔۔

صام سکون سے اس کی حالت دیکھتا بولا جو ابھی بھی ویسے فرش پر لیٹا تھا ۔۔۔۔

جوس لالہ ۔۔۔۔

روحا مستقیم کو جوس کا گلاس دیتی بولی تھی ۔۔۔

ہاےے میری انیجل کتنی پیاری ہے خوش رہو ۔۔۔

مستقیم مسکراتا ہوا روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

میرا جوس دو گرا دیا تھا ۔۔۔۔

صام روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا جو یافی کے پاس آ رہی تھی ۔۔۔۔

آپ کب آی کیوٹ لیڈی باس ۔۔۔۔

روحا یافی کو جوس کا گلاس دیتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔

ہاہاہاہاہہاہاہا مزہ آ گیا ہاے دل میں ٹھنڈ پڑ گی ۔۔۔۔

دنیا کی یہ پہلی لڑکی ہے جو صام آفندی کو اگنور کرتی ہے ۔۔۔۔

مستقیم اٹھ کر صام کے قریب بیٹھتا قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔

بکواس نہ کر مشعوق منہ توڑ دو گا ۔۔۔۔

صام جلتا ہوا اپنا بھاری ہاتھ کا مکا بناتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

میں ابھی آئ انیجل کیسی ہو ۔۔۔

یافی روحا کے چہرے کو چھوتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

ہم ٹھیک ۔۔۔

روحا بس اتنا بول سکی ۔۔۔۔

ویسے چوفی اور مشعوق تم دونوں اس کالی کو انیجل کیوں کہتے ہو جبکہ یہ تو کالی ہے شکل بھی اچھی نہیں اس کی ۔۔۔۔

صام روحا کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جو سکون سے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ ٹھرکی تو جانتا نہیں انیجل کو جس دن جان گیا اس کو تب تمہیں پتہ چلے گا یہ انیجل ہے کالی نہیں ۔۔۔

مستقیم اپنے جوس کا گلاس لیتا وہاں سے جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

انہہ ڈراک چاکلیٹ ۔۔۔۔

صام منہ بناتا بولا تھا ۔۔۔

———————————————————-

ہاے میری بلیک بیوٹی تو ہی ماما کو سمجھا دے میں اب بڑی ہو گی میری شادی کروا دو ۔۔۔۔

ہیر روحا کے گلے میں باہیں ڈالے شرارتی انداز سے بولی ۔۔۔

اففف کیا ہو گیا آپی ہر وقت شادی شادی کرتی رہتی ہو ۔۔۔۔

روحا کوفت سے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں تو شادی کرواٶ یار میرا دلہا انتظار کر رہا ہو گا ۔۔۔

ہیر پھر ویسے ہی بولی تھی ۔۔۔۔

آپی کبھی جو سیریس ہو جاۓ ۔۔۔

روحا اپنی کتابوں کو بند کرتی بولی تھی ۔۔۔

ہاے تم کھڑوس سیریس ہو نہ ۔۔پھر میں کیوں بنو چلو چھوڑو یہ بتاٶ میرا دلہا کب آے گا ۔۔۔۔

ہیر روحا کے گال چومتی ہوئ بولی ۔۔۔

ہاہاہہاہا ماما کو بتاتے ہے ہم آپ ایسا کہہ رہی ہے ۔۔۔

روحا بھی قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔

ہاےےے میری بلیک بیوٹی ہنستی ہوئ کتنی پیاری لگتی ہو کاش تو میری بہن نہ ہوتی ہاے دلہا ہوتی میری میں شادی کر لیتی ۔۔۔۔۔

ہیر مسکراتی ہوئ روحا کو گلے لگاتی بولی تھی ۔۔۔

سارا دن ہیر روحا کو ہنسانے کے لیے ایسی الٹی سیدھی باتیں کرتی رہتی تھی ۔۔۔۔

اچھا بتا نہ کب میرا دلہا آۓ گا ۔۔۔۔

ہیر دوبارہ روحا کو کتابوں میں گھم دیکھتے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاے آپی آپ ماما سے بات کر لے ہمیں نہیں پتہ ۔۔۔

روحا بیزار ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

اففف میری کھڑوس بلیک بیوٹی کیوں اتنا سڑیل ہو مزہ کیا کرو زندگی بار بار نہیں ملتی ۔۔۔۔

ہیر روحا کی کتابیں لے جا کر بھاگتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔

آپپپپپپپ مامامامممممممااااا۔۔۔۔

روحا وہی بیٹھی چیخی تھی ۔۔۔۔

جبکہ ہیر کے پورے میں قہقہ گونج رہے تھے ۔۔۔۔

————————————————————

فیا کتنے ماہ بعد آئ ہو گھر ۔۔۔۔

شادی کو دو سال ہو گے تمہارے لیکن اب تو پورے چار ماہ بعد آئ ہو گھر بیٹا ۔۔۔۔

وردہ بیگم یافی کو گلے لگاتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔۔

و۔وہ۔وہ ماما نعمان بزنس کے لیے باہر آوٹ آف کنٹری گے تھے تو میں بھی ساتھ ہی تھی ۔۔۔

یافی نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے بامشکل بولی تھی ۔۔۔

و۔۔۔۔ارے چھوڑے ماما آپ خوش ہو جاۓ یافی آپی گھر آئ ہے آپ شکوہ کر رہی پیار کرے آپی کو ۔۔۔۔

روحا دیکھ چکی تھی یافی کے چہرے پر گھبراہٹ تبھی جلدی سے وردہ بیگم کا ذہین بدلنے کے لیے بولی تھی ۔۔۔

آج سارا دن فیا میرے پاس رہے گی ۔۔۔

وردہ بیگم یافی کو دوبارہ گلے لگاۓ بولی تھی ۔۔۔

اچھا ماما یہ بتاۓ انیجل خیال تو رکھتی ہے نہ آپ کا ۔۔۔۔

یافی روحا کی طرف دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

ارے یہ تو میری چھوٹی سی بیٹی ہے بہت خیال رکھتی ہے ہاں بس صام اور اس کی نہیں بنتی زیادہ ۔۔۔

وردہ بیگم روحا کے ہاتھ پکڑتی مسکراتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔

ہاہاہاہااہا وہ ٹھرکی بھی بنا لے گا انیجل کے ساتھ آپ جانتی تو ہے دونوں کھڑوس ہے ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔۔

یافی قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

ہاےےے ماما میرا بھی پوچھ لے اس سوتیلی ناگن نے مجھے کتنا مارا ہے ۔۔۔۔۔

پنک ٹی شرٹ بیلو پینٹ پہنے کالے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ہلکی شیو کالی گہری آنکھوں میں شرارت لاتے وہ اندر آتا بولا تھا ۔۔۔۔

کسرتی جسم لے کشادہ چہرے پر مسکراہٹ لیے وہ بولا تھا ۔۔۔۔

کیوں کیا کر دیا فیا نے ۔۔۔

وردہ بیگم مستیقم کو دیکھتے بولی تھی ۔۔۔

اس نے مجھے مارا ماما ہاے میں بنے والا ایس پی ہو ۔۔۔۔

مستیقم ان کی گود میں سر رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہ پہلے پاس ہو جا ۔۔۔۔

یافی اس کے بالوں کو ہاتھوں سے پکڑتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہو جاٶ گا پاس دیکھنا ایس پی بنتا ویسے بھی ڈی ایس پی صاحب ہے ہی ۔۔۔۔

مستقیم اپنی آنکھ ونک کرتا ہوا بولا ۔۔۔۔

ت۔۔۔

لالہ جاۓ ڈبل زی کو لے آۓ اہیرپورٹ سے ۔۔۔

اس سے پہلے یافی کچھ کہتی جب صام روم میں آتا فون پر بزی ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

بلیک شرٹ پینٹ پہنے چہرے پر سرد پن لاۓ گرین آنکھوں میں وحشت ٹپک رہی تھی اس وقت جو سرخ انگارہ ہوئ پڑی تھی ۔۔۔۔۔

تم چلے جاتے میں ماما کے پاس ہو ۔۔۔

مستقیم سست ہوتا بولا ۔۔۔۔

لالہہہہ جانا ہے آپ نے ۔۔۔

صام نے دانت پیستے ہوے کہا تھا ۔۔۔

مستقیم جانتا تھا وہ لالہ تب ہی کہتا تھا جب کوئ سیریس بات ہوتی تھی ۔۔۔

اچھا چلا جاتا ہو ویسے بھی میرا دلبر جانی آ رہا ہے ۔۔۔۔

مستقیم مسکراتا ہوا اٹھ کر کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

س۔سر میں اندر آ جاٶ ۔۔۔۔

ہانیہ نے ہکلاتے ہوۓ کلاس میں انٹر ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔

جی مس ہانیہ آے ۔۔

سر نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔۔

آپ یہاں نہیں اس لڑکے کے پاس بیٹھے گی ۔۔۔۔

ہانیہ جو اپنا ڈوپٹہ سبنھالتی کرسی پر بیٹھ رہی تھی جب حیدر سر نرمی سے بولے تھے ۔۔

ج۔جی می۔۔۔

ہانیہ سامنے بیٹھے لڑکے کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

جو سادہ سی شلوار کرتا پہنے اپنی بڑی بڑی کالی آنکھوں کو گھومتا پوری کلاس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

جبکہ اس کا ہاتھ مسلسل ہوا میں لہرا رہا تھا ۔۔۔

چہرے پر ایک مخصوص مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔

جی آپ جاۓ وہاں بیٹھے گی یہ کلاس کے ٹاپر لڑکا ہے منان نام ہے ۔۔۔

حیدر سر ویسے سکون سے بولے تھے ۔۔۔۔

منان بیٹا یہ میری بیٹی ہے ہانیہ حیدر آج سے یہ آپ کے ساتھ بیٹے گی ۔۔

حیدر سر خودی ہانیہ کو منان کی کرسی کی طرف لے کر جاتے ہوۓ بولے تھے ۔۔

یہ تو اچھی بات ہو گی سر ورنہ آپ جانتے ہے کلاس میں کوئ مجھ سے بات نہیں کرتا میں بہت بور ہو رہا تھا ۔۔۔۔

منان جلدی سے کرسی سے کھڑا اپنا ہاتھ لہراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

تم اتنا نہ سوچا کرو ہمارے جیسے ہی ہو تم ۔۔۔۔

حیدر سر منان کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہ کیا مذاق ہے سر چلے مس ہانیہ آۓ یہاں بیٹھ جاۓ ۔۔

منان قہقہ لگاتا ہانیہ کی طرف دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔

جو اپنے چہرے پر ڈوپٹہ لے چھپا رہ رہا تھا ۔۔۔۔۔

وہ بیٹھ تو چکی تھی اس کے ساتھ پر دماغ میں ایک ہی سوال گھوم رہا تھا وہ ایسے انسان کے ساتھ بیٹھ سکتی تھی ۔۔۔۔

جو نہ تو مرد تھا نہ ہی عورت ۔۔۔۔

ایک خواجہ سرا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

خبردار نعمان مجھے فون دوبارہ کیا تو کیس کروا دو گی ۔۔۔۔

یافی اپنے کیبن میں بیٹھی فون پر چلائ تھی ۔۔۔۔

ہاہاہاہا میں وہی نعمان ہو یافی جی جس سے آپ نے محبت سے شادی کی تھی اور اب کیوں اتنا غصہ کر رہی ہے ۔۔۔

نعمان قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

غلطی تھی میری ایک جس کی سزا میں ابھی تک برداشت کر رہی ہو ۔۔۔

یافی اپنے سفید سرخ چہرے پر غصہ لاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

تو بتا کیوں نہیں دیتی تم گھر والوں کو کہ م۔۔۔۔۔

جیسٹ شیٹ اپ سمجھے یہ میری سزا ہے جس دن مجھے لگا میری سزا پوری ہو گی اسی دن اپنے گھر والوں کو میں بتا دو گی ۔۔۔۔

یافی غصہ سے غراتی ہوئ اس کی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔

چلو تب ایک کام کر دو میمیں نے سنا ہے تمہارے بھائ صام آفندی کسی چیرٹی فارم میں تین کڑوڑ ڈونیٹ کر رہا ہے ۔۔۔۔

وہ پیسے مجھے چاہے یافی جی ۔۔۔

نعمان کمنیگی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

ہرگز نہیں بھاڑ میں جاٶ سمجھے چار ماہ سے برداشت کر رہی میں ۔۔۔۔

یافی طش سے چلاتی فون کاٹ کر چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا کرو میں اففف گھر بتایا ماما کی طیعبت پہلے نہیں ٹھیک ۔۔۔

اہان مستقیم صام تینوں غصہ کے تیز ہے ہاے کہاں پھس گی میں ایک محبت کی شادی ہی کی تھی ۔۔۔۔

کتنا سمجھایا تھا صام نے مجھے نعمان اچھا لڑکا نہیں لیکن میں اتنی پاگل تھی تب ۔۔۔۔

ہاےےے میرا سر ۔۔۔

یافی اپنا سر پکڑے سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

انیجل سے بات کرو کیا کہو گی اسے میں وہ سب جانتی ہے ۔۔۔

یافی روحا کا فون نمبر ملاتے سوچ رہی تھی ۔۔۔

م۔۔۔۔۔ڈاکٹر فیا آفندی ۔۔۔۔

اس سے پہلے یافی کچھ کرتی جب کیبن میں ایک خوبصورت لڑکے نے مسکراہٹ سجاۓ انٹر ہوتے کہا تھا ۔۔۔

جی کیا ہوا آپ کو ۔۔۔

یافی اپنے چہرے کے تاثرات ٹھیک کرتی بولی تھی ۔۔۔۔۔

یہ میرا بازو ٹوٹ گیا یافی جی ۔۔۔۔

وہ اپنی گرے آنکھوں میں شرارت اور چہرے پر مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔

آپ نے پڑھا نہیں میں ہارٹ سرجن ہو ۔۔۔۔

یافی منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

تو یہ ہاسپٹل تو آپ کا ہی ہے نہ اور ڈاکٹر تو ڈاکٹر ہوتا ہے ۔۔۔۔

وہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جبکہ مسلسل یافی کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

دیکھے مسٹر ب۔۔۔۔

مسٹر جان نام میرا ۔۔۔۔

وہ یافی کی بات کاٹتا جلدی سے بولا ۔۔۔۔

جان یہ کیا نام ہوا ۔۔۔

میری امی جی نے رکھا تھا ایک ہی بیٹا میں بس ایک پیاری سی بہو چاہے ہمیں ۔۔۔

جان گرے آنکھوں میں محبت کے رنگ لاتے بولا تھا ۔۔۔۔

مسٹر جان میں شادی شدہ ہو ۔۔۔۔

یافی اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھتی طش سے چلائ تھی ۔۔۔

تو کیا ہوا آپ مجھے آپنی جیسی ڈھونڈ دے ۔۔۔

وہ اپنے بازوں پر تھوڑی ٹکاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

افففف چوٹ کہاں لگی ہے ۔۔۔

یافی اپنا لیپ ٹاپ بند کرتی اسے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

دل پر ۔۔۔۔

جان دل پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔

مطلب۔۔۔۔

یافی نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔

مطلب دل پر مس یافی جی ۔۔۔

جان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔

پاگل ہے کیا ۔۔۔

یافی اس دفعہ مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاے آپ کے لیے دل پاگل میرا ۔۔۔۔

جان ڈھیٹ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

پاگل خانے جاۓ پھر ۔۔۔۔

یافی اب سنجیدہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا اب پکا بازو پر لگی چوٹ ۔۔۔۔

جان بھی جلدی سے بازو آگے کرتا بولا تھا جہاں چوٹ کا نام و نشان بھی نہ تھا ۔۔۔

یافی اسے گھورتی رہ گی تھی ۔۔۔

————————————————————

پکڑ یہ سب میں نہیں بن رہا خواجہ سرا اچھا بھلا لڑکا ہو میں ۔۔۔۔

وہ ڈیول کے سامنے چیزیں رکھتا غصہ سے بولا تھا ۔۔۔۔

جہاں وہ اپنی چوڑیوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

کیا بولا تو ۔۔۔۔

وہ اپنی وحشت سے بھری آنکھوں میں سردپن لاتے غرایا تھا ۔۔۔۔

یار تو یہ کام زی کو کہہ دے وہ کر لے گا ۔۔۔۔

نومی منمناتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

زی کا جو کام ہے وہ وہی کرے گا تم یہ کام کرو بس کچھ دن پھر اس انسان کو ڈیول کے قہر سے کوئ بچا نہیں سکے گا ۔۔۔۔۔

وہ اپنے بھاری سفید ہاتھوں میں چوڑیاں گھومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اس ٹارچر روم میں سارے نفوس کانپ گے تھے ڈیول کے اگلے وار کا سن کر ۔۔۔۔