Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 15)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
گرے کلر کا پیارا سا سوٹ پہنے اپنے کالے بالوں پر بیلو کیپ پہنے گرین آنکھوں میں چمک اور گالوں پر پڑتے ڈمپل وہ مسلسل روحا کو دیکھتا مسکرا رہا تھا ۔۔۔
آہہہہ ہمارا پیارا بیٹا کیسا ہے ۔۔
روحا مسلسل آنکھوں میں آنسو لاتی اسے چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔
جہاں تین سال کا لڑکا اپنے ننھے قدموں پر کھڑا تھا ۔۔
واٹ یہ ڈمپل بواۓ ہے ۔۔
صام منہ کھولے حیرت سے بولا تھا ۔۔۔
آو موم آپ کو ڈیڈ کے پاس لے کر جاتی ہے ۔۔
روحا صام کو اگنور کیے احمد کو گود میں آٹھاۓ بولی تھی ۔۔
م۔مو۔ی۔ی۔یہ۔ت۔تو۔ن۔ہے۔۔
موم یہ کون ہے ۔۔
احمد اپنی ننھی سی انگلی صام کی طرف آٹھاۓ روحا سے پوچھا جو ان دونوں کو گھور رہا تھا ۔۔
یہ ٹھرکی ہے ۔۔
روحا غصہ سے منہ بناتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
فیتنہ ایلفی چونا انہہ۔۔۔
صام برے برے منہ بناتا بڑبڑایا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
مل لیا اپنی موم سے ۔۔۔
آہان سامنے سے آتی روحا کی گود میں احمد کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
ی۔ش۔د۔اد۔
یش داد۔۔۔(یس ڈیڈ)..
چلو اب میرے پاس آ جاٶ انیجل کو سونے دو ۔۔
آہان روحا کی سرخ براٶن آنکھیں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ارے لالہ ہمیں کہاں نیند آنی اب ہمارا ڈمپل بواۓ آیا ہے ۔۔
روحا احمد کے گال پر کس کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہممم یہ بھی ٹھیک کہا تم یہاں سو جاٶ یہ بھی سفر کر کے آیا ہے ۔۔
آہان احمد کو دیکھتا بولا تھا جو اپنا منہ روحا کی گردن میں چھپاۓ ہوۓ تھا ۔۔۔
آپ کہاں جاۓ گے ۔۔
روحا نے فکر مندی سے پوچھا تھا ۔۔۔
اپنے چپمین کے پاس تم سو جانا ۔۔۔
آہان احمد کو کس کرتا روم سے باہر جاتے بولا تھا ۔۔۔
ہاےےے کتنے پیارے ہے لالہ ایک وہ ٹھرکی ہے ۔۔
آہان لالہ واقعی کتنے پیارے ہے ہماری ہر دفعہ ہیلپ کرتے ہے کاش ہم ہیر آپی کی شادی ان سے کروا دیتے ۔۔۔
روحا اداس ہوتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
ان۔ج۔ی۔م۔مو۔
انیجل موم نیند آی ۔۔۔
احمد نیند میں جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
آو ہم سوتے ہے اپنے بیٹے کے ساتھ ۔۔۔
روحا بیڈ کی طرف جاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
مس کالی کہاں ہے آپ کہاں سے آ رہے ہے ۔۔۔
صام بیڈ پر لیٹا ہوا تھا جب روم میں آتے آہان کو دیکھتا منہ بناتا بولا تھا ۔۔۔
وہ احمد کے ساتھ ہے آج وہی سوۓ گی میں اپنے چمپین کے ساتھ سوٶ گا ۔۔۔
آہان صام کے پاس آتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
یہ بلا اب کون ہے ۔۔۔
صام بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔
احمد بیٹا ہے میرا ۔۔۔
آہان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
یہ چونا کب پیدا ہوا ۔۔۔
صام اپنا سر آہان کی گود میں رکھے بولا تھا ۔۔۔
ہاہاہاہہاہا بتاٶ گا سب کو ۔۔۔
ابھی سو جاٶ ۔۔
آہان قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کہاں نیند آنی وہ چونے کے پاس چلی گی ۔۔۔
صام برا سا منہ بناۓ بولا ۔۔
شرم کرو میرا بیٹا ہے وہ بھی اتنا پیارا ننھا سا بچہ ہے تمہیں کیا کہتا ہے ۔۔
آہان سمجھ سکتا تھا اس کی حالت تبھی بولا ۔۔۔
یار ڈبل اے میرے بھی ڈمپل ہے مس کالی کو کوئ بتاۓ ۔۔
صام اپنے ڈمپل پر ہاتھ رکھتا بچوں جیسی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
تم کھڑوس ایٹیٹوڈ بواۓ ہو تبھی اسے نظر نہیں آتے ۔۔
آہان اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
آپ اپنا چونا رکھے مجھے مس کالی چاہے ڈبل اے ۔۔۔
صام اپنی آنکھوں میں غصہ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
چلو سو جاٶ اب شاباش ۔۔۔
آہان اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
انہہ چونا ایلفی چھوڑو گا نہیں ۔۔۔
صام نیند میں جاتے بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
بلیک کلر کے نائٹ ڈریس پہنے براٶن کھولے بال اپنے سینے پر لیٹاۓ احمد کو وہ گہری نیند میں سو رہی تھی ۔۔۔
انیجل تم صرف میری ہو یہ چھوٹا پیکٹ تمہارا نہیں ہمارے اپنے بےبی ہو گے ۔۔۔
ڈیول آہان کے روم میں آیا گہری نیند سو رہی روحا کے پاس بیٹھا وہ مدھم آواز سے بول رہا تھا ۔۔۔
چلو بچہ جاٶ یہاں سے انیجل میری ہے کیسے سو رہے ہو آی فیل جلیس ۔۔۔
ڈیول احمد کو پکڑتا روحا سے الگ کرتا منہ بناتا بولا تھا ۔۔۔
انیجل کو عزیز نہ ہوتے تم تو کب کا موت دے چکا ہوتا کیسے چیپک کر سو رہا ہے ۔۔
ڈیول احمد کو پکڑتا بولا جو روحا کو چھوڑے بنا ویسے ہی سویا تھا ۔۔۔
چلو تم بھی کیا یاد کرو گے ڈیول کسی کسی پر رحم کرتا ہے ۔۔۔
تمہاری یہ انیجل میری سانس ہے اور انسان اپنی سانس کے بنا نہیں رہ سکتا۔۔۔۔
ڈیول ویسے ہی روحا اور احمد کو گود میں آٹھاۓ جاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
““دو ہفتے بعد ۔۔۔۔
مانی کیا واقعی میرا چہرہ ٹھیک ہو گیا ۔۔۔
ہانیہ اپنے چہرے پر پٹی باندھے دیکھپریشان ہوتی بولی ۔۔۔
ہو گیا ٹھیک یار چہرہ پریشان کیوں ہوتی ہو ۔۔۔
منان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہانیہ کے چہرے کی سرجری ہو چکی تھی آج اس کی پٹی اترنی تھی ۔۔۔
ماما کدھر ہے ۔۔
ہانیہ پریشان ہوتی بولی ۔۔۔
یہی ہے ماما لو دیکھو آ گی ۔۔۔
منان روم میں انٹر ہوتے اپنی ماما کو دیکھ وہ بولا تھا ۔۔۔۔
مرتضٰی کھوکھر صاحب ایک بزنس ٹائکون مین تھے ان کی بیوی یاسمین بیگم اور ان کا اکلوتا بیٹا منان تھا ۔۔۔
دونوں ہی بہت اچھے تھے جرمنی آ کر ان کو ہانیہ سے مل سے کوئ مسئلہ نہیں ہوا تھا ۔۔
بلکہ وہ خوش تھے منان نے شادی کر لی ہے ۔۔۔
ہانیہ بھی ان سے مل کر بہت خوش ہوئ تھی ۔۔
پہلے وہ پریشان ہوئ تھی پر ان سے مل کر وہ خوش تھی کیونکہ انھوں نے کچھ بھی نہیں کہا تھا ۔۔۔
یہ لو جوس پیو بیٹا ۔۔
یاسمین بیگم جوس لاتی بولی تھی ۔۔
ماما میرا چہرہ ٹھیک ہو جاۓ گا نہ ۔۔۔
ہانیہ پریشان ہوتے دوبارہ بولی تھی ۔۔۔
ارے بیٹا کیوں پریشان ہو بس ڈاکٹر آنے والا ہو گا تم یہ جوس پیو ۔۔
یاسمین بیگم مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
جی ماما ۔۔۔
ہانیہ جوس کا گلاس پکڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاے کتنی محبت کرتی ہے ماما بابا اور مانی کتنے پیارے ہے ۔۔۔
ہانیہ خاموشی سے جوس کا گلاس پیتی منان کی طرف دیکھتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
خیر تو ہے میری ماما کے سامنے ہی دیکھیں جا رہی ہو ویسے اکیلے میں کبھی دیکھا نہیں تم نے ۔۔۔
ہانیہ نے موبائل پر منان کا مسچ پڑھتی مسکرائ تھی ۔۔۔۔
ہاں تو ماما کو بتاٶ ان کا بیٹا سامنے شریف دیکھنے والا اکیلے میں کیسا ہوتا ہے ۔۔۔
ہانیہ نے مسکراتے ہوۓ ٹائپ کیا تھا ۔۔۔
ماما ہانیہ کچھ کہنا چاہتی ہے ۔۔۔
منان جلدی سے مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ج۔جی۔نہیں ماما یہ۔جھوٹ بول ۔۔۔
ارے رہنے دو یہ مذاق کرتا ہے ۔۔۔
ہانیہ گھبراتی ہوئ اٹکتے بولی رہی تھی جب یاسمین بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔
اب کیوں نہیں بولی ۔۔۔
منان دوبارہ اسے مسیج کرتا بولا تھا ۔۔۔
میں بات ہی نہیں کرتی بس ۔۔۔
ہانیہ غصہ سے ٹائپ کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہا میری کیوٹ بیوی ۔۔
منان نے قہقہ لگاتے سوچا تھا ۔۔۔
———————————————————–
کیا مسئلہ ہے کیوں فون کیا ۔۔۔
یافی اپنے کیبن بیٹھی تھی جب اسے نعمان کا فون آیا تبھی وہ غصہ سے بولی تھی۔۔
اففف ابھی بھی غصہ کرتی ہو میں تو سمجھا تھا اب ٹھیک ہو گی ہو ۔۔۔
نعمان طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔
بکواس ہی کرو میں فون بند کر رہی ۔۔۔
یافی طش میں آتی فون کاٹتے بولی تھی ۔۔
چچچچ فیا آفندی ڈر۔۔۔
فیا زرجان نام ہے میرا سمجھے تم جانتے نہیں اسے ۔۔۔
نعمان جو بول رہا تھا جب یافی دانت پیستی ہوئ بولی ۔۔۔
چلو اب اس زرجان کی نہیں رہو گی اپنا فون چیک کرو جو تمہیں سینڈ کیا وہ تمہارے اس زرجان کو بھی سینڈ کر دیا یافی ڈارلنگ ۔۔۔
نعمان خباثت سے بولا تھا ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔ٹو۔ٹو۔ٹو۔۔۔۔
یافی جو بولنے والی تھی جب فون کاٹ ہو چکا تھا ۔۔۔
ی۔یہ۔کی۔کیسے۔افففف زر۔زرجان ۔۔۔
یافی آنکھیں پھاڑے فون میں کچھ دیکھتی وہ پیسنے سے شرابور ہوتی بولی تھی ۔۔۔
میم میم آپریشن میم ۔۔۔
نرس جو اندر آتی بول رہی تھی جب یافی پریشان سے بنا کچھ سنتی باہر چلی گی تھی ۔۔
اسے کوئ ہوش نہیں تھا لیپ ٹاپ بھی ویسے ہی پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
امی آپ کو کچھ نہیں ہو گا آپ چلے ڈاک۔۔۔
نہیں بیٹا مجھے پتہ میرا ٹائم آ رہا بس تمہارے لیے پریشان ہو ۔۔۔
اگر میں مر گی تو یہ تمہارا باپ گھر سے نکال دے گا ۔۔۔
نومی کی امی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
جبکہ نومی بھی گرین آنکھوں میں آنسو لاتے رو رہا تھا ۔۔۔۔
نہیں امی آپ ۔۔۔
ت۔ت۔تم۔ایسا کرو اپنے دوست صام کے ساتھ کہی چلے جاٶ بیٹا ایک وہی ہے جو تم سے محبت کرتا ہے۔۔
نومی جو رو رہا تھا جب اس کی امی اٹکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
نہیں سمی چھوٹا ہے ویسے بھی اس کے بابا بولتے ہے اسے ۔۔
نومی منہ بناۓ بولا تھا ۔۔۔
لیکن میں چاہتی ہو بیٹا تم یہاں سے بھاگ جاٶ تمہارے بہن بھائ تم کو بلاتے نہیں ہے ویسے بھی گیارہ سال کے ہونے والے کچھ دنوں بعد ۔۔
نومی کی امی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
میں نہیں چھوڑ کر جاٶ گا آپ کو آپ بھی ساتھ جاۓ میرے میں اپنی امی کا خیال رکھو گا ۔۔
نومی اپنی امی کا ماتھا چومتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
کافی دن سے وہ بیمار تھی غریب اتنے تھے ڈاکٹر کو چیک کروا ہی نہ سکے تبھی نومی کی امی بیمار سی چارپائ پر ویسے ہی نڈھال سی پڑی تھی ۔۔۔
ن۔نہیں بی۔بیٹا ت۔تم بس یہا۔یہاں سے ۔بھا۔گ جا۔نا ص۔صام کو کہو۔وہ ل۔جاۓ تمہ۔تمہیں ۔۔
کبھی کسی کو واپس موڑ ک۔کر مت ۔دیکھ۔دیکھنا یہ ہو۔ہو۔ہوس سے بھری دنیا ہے تمہارے جیسوں کی کوئ عزت نہیں کرتا بیٹا اپنا خیال رکھنا ۔۔
ہو سکے ۔تو مجھ۔معاف کر دینا شا۔شاہد میرا یہا۔ی
یہاں تک ساتھ تھا ۔۔
نومی کی امی تیز تیز سانسوں کے درمیان بولی تھی ۔۔۔
نہیں آپ کو کچھ نہیں ہونا میں ابھی صام کو لایا امی ۔۔
نومی جلدی سے روم سے باہر جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ام۔امی امی دیکھیں صام آ گیا امی امی بولے تو سہی ۔۔
سمی تو دیکھ یہ بول نہیں رہی ۔۔
نومی اپنے ساتھ لاۓ صام کو دیکھتا روتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جو بلیک ٹی شرٹ بلیک ہی پینٹ پہنے گرین آنکھوں میں ویسا ہی سردپن لاۓ اونچا لمبا قد اور صحت مند جسم کی وجہ سے وہ نو سال کی عمر میں بھی پندرہ سالہ لگتا تھا ۔۔۔
صام سمجھ گیا تھا نومی کی امی اس دنیا میں نہیں رہی ۔۔۔
ی۔یہ مر چکی ہے نومی ۔۔۔
صام ہکلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔
آہہہہ آہہہہ آہہہہہ ۔۔۔
نہیں نہیں امی مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی میں اکیلا رہ گیا سمی مجھے بھی مرنا ہ۔۔۔۔
نومی جو دھاڑے مارے رو رہا تھا جب اچانک وہ بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔۔۔
نومی نومی ۔۔۔
دیکھ تو مجھے چھوڑ نہیں سکتا ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ۔۔
چھوٹی عمر ہونے کے بادجود بھی صام کمزور سے نومی کو گود میں آٹھاۓ باہر کی طرف جاتا غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔
دونوں ہی نہیں جانتے تھے وہ کتنی جلدی ایک دوسرے سے جدا ہونے والے تھے ۔۔۔
————————————————————
کیا دیکھ رہے آپ مالی کاکا ۔۔۔
روحا روم سے باہر آتی غصہ سے چلاتی بولی تھی جہاں ان کے فارم ہاوس کا مالی اس کے روم کے باہر کھڑا تھا ۔۔۔
و۔وہ۔کچھ نہیں م۔۔۔۔
گاڈرن کا کام ہوتا آپ کا وہی کیا کرے گھر کے اندر انٹر نہ ہوا کرے ورنہ ہم بابا کو بتا دے گے ۔۔
اب کھڑے کیوں ہے جاۓ یہاں سے ۔۔۔
مالی جو بول رہا تھا تب روحا غصہ میں آتی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔
س۔سو۔
ہمیں کچھ نہیں سنا کہا ہے جاۓ یہاں سے تو جاۓ آپ کیوں چاہتے ہے آپ کے ساتھ برا سلوک کرے ۔۔
مالی ویسے ہی اسے ہوس بھری نظروں سے دیکھتا بول رہا تھا ۔۔
جب غصہ سے سرخ ہوتی روحا پھر چلائ تھی ۔۔۔
ج۔جی اچھا ۔۔۔
مالی نظریں نیچے کرتا جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
افففف کیا لڑکی ہے اتنی سی عمر میں اتنا غصہ ۔۔
ویسے اکڑ تو ہو گی خوبصورت جو اتنی ہے پر ہے کھڑوس سی ۔۔۔
مالی منہ میں بڑبڑاتا ہوا لان میں آیا تھا ۔۔۔
کس کی بات کر رہے مالی کاکا ۔۔
ہیر وہاں لان کے جھولے میں بیٹھی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
و۔وہ آپ کی چھوٹی بہن کی بہت غصہ کی ہے اور کھڑوس بھی مجھے ہی ڈانٹ دیا ۔۔۔
مالی کاکا ڈرتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ہاہاہااہاہا بلیک بیوٹی ایسی ہی ہے جب اسے غصہ آے گا تو چھوٹی سی بات پر آ جاۓ گا ورنہ جیتنی مرضی بڑی بات ہو وہ غصہ نہیں کرے گی تبھی غصہ کرتی جب کنٹرول سے باہر ہو جاۓ ۔۔
آپ نے کچھ کہا اسے کیا ۔۔۔
ہیر اسے گھورتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
نہیں وہ میں دیکھنے گھر کے اندر گیا تو بس ۔۔
مالی کاکا جھوٹ بولا ۔۔۔
اندر مت جایا کرے آپ کوئ کام ہو مجھے بتا دیا کرے ۔۔
بلیک بیوٹی کے سامنے مت آنا اب ۔۔۔
ہیر بھی سنجیدہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
اکیلی ہو تم سامنے آو اس کے ۔۔۔
مالی اپنے دل میں سوچ سکا تھا ۔۔۔
———————————————————–
زرجان زرجان زرجان زرجان ۔۔۔۔
یافی بھاگتے ہوۓ گھر انٹر ہوتی اُونچی آواز سے پکار رہی تھی ۔۔۔
جان جان کدھر ہو ویسے تو ہر وقت میرا سر کھاتے ہو اب میں بلا رہی کہاں ہو ۔۔
یافی اب روم میں آتی پریشان ہوتی بول رہی تھی ۔۔۔
شکر اسے پتہ نہیں چلا ۔۔۔
یافی بیڈ پر پڑے زرجان کا موبائل چیک کرتی شکر ادا کرتی بولی تھی ۔۔۔
کیا پتہ نہیں چلا اور تم اتنی جلدی آ گی ۔۔۔
یافی جو فون چیک کرتی ابھی سکون کا سانس لے رہی تھی جب اسے زرجان کی آواز سنائ دی ۔۔۔
جان جان کدھر تھے میں پریشان ہو گی تھی میں نے سوچا تم نے مجھے چھوڑ دیا ۔۔۔
یافی پیچھے موڑتے زرجان کو ہگ کیے بے تابی سے بولی تھی ۔۔۔
گیلے بکھرے بال گیلا چھوڑا سینہ وہ شرٹ لیس سا کھڑا تھا یافی اس کے گلے لگی ۔۔۔
کیا ہوا میری جان کو اور میں چھوڑو گا یار بیوی ہو محبت ہو میری ۔۔۔
زرجان مسکراتا ہوا یافی کی کمر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں وہ ویسے ہی تم می۔میرے پاس رہنا ۔۔۔۔
اچانک یافی پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
اففف کیا ہوا ہے بتاٶ مجھے کسی نے کچھ کہا ہے یہ بھی بتاٶ میں زبان کاٹ دو گا سب کی رو کیوں رہی ہو ۔۔۔
زرجان یافی کو روتا دیکھ غصے اور پریشانی سے بولا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہی، نہیں وہ آج تم نے تنگ نہیں کیا تو میں سمجھی کہ تمہارا دل بھر گیا مجھ سے ۔۔۔
یافی اچانک چپ ہوتی بات بدلتی بولی تھی ۔۔
کیا بکواس ہے یہ محبت سے کسی کا دل بھرا ہے بلکہ یہ تو روز بڑھتی رہتی ہے اس کی طلب روز بڑھتی ہے ۔۔۔
کچھ دن ریسٹ کرو عقل آ جاۓ گی ۔۔۔
زرجان غصہ سے یافی کو دور کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
آہہہہ میرا جان ناراض ہو گیا سوری جانو ۔۔۔
یافی اس کا غصہ دیکھتی کان پکڑتی بچوں جیسی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
نہ ایسا کہہ کرو مجھے ایسے لگتا جیسے تمہارے ساتھ زبردستی کرتا ہو ۔۔۔
زرجان دوبارہ یافی کو اپنی قید میں لیتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں تم زبردستی بھی کرو میں کچھ نہیں کہو گی ۔۔۔
یافی اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے اس کے کان پر کاٹتی بولی ۔۔۔
اففف جنگلی اب میں کاٹو گا ۔۔۔
زرجان یافی کے لبوں پر جھکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں چھوڑو پاگل ۔۔۔
یافی گھبراتے ہوۓ کہتی وہاں سے بھاگی گی تھی ۔۔۔
———————————————————–
ی۔یہ۔میرا چہرہ ہے مجھ مجھے یقین نہیں آ رہا ۔۔۔
ہانیہ آئنیہ کے سامنے کھڑی اپنا صاف شفاف چہرہ دیکھتی حیران ہوتے بولی تھی جو بلکل پہلے جیسا بن گیا تھا ۔۔۔
جی میری جان یہ تمہارا خوبصورت چہرہ ہی ہے ۔۔۔
منان اسے بیک ہگ کیے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔
ہاےےےے کتنا پیارا ہے تم کتنے پیارے ہو ۔۔
ہانیہ اپنا رخ منان کی طرف کرتی اس کی گردن میں بائیں حائل کیے مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں تو شکریہ کہو مجھے اب ۔۔۔
منان ہانیہ کو اپنے قریب کرتے اس کے لب دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
کوئ نہیں ۔۔
ہانیہ دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ن۔۔۔۔ہانیہ بیٹا زرا میری بات سنا ۔۔۔
منان جو بولنے والا تھا تب یاسمین بیگم کی آواز سنائ دی ۔۔۔
جی ماما آئ ۔۔
ہانیہ جلدی سے اپنی جان بچاتی منان کو منہ چڑاہاتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔
اففف پاگل ۔۔
منان اسے اتنا خوش اور چہکتے ہوۓ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
اوہ یہ تو پہلی دفعہ ہوا مس یافی نے اپنا لیپ ٹاپ بند کر کے رکھ دیا ۔۔۔
رات سونے کے لیے زرجان جب روم میں آیا تو یافی کو بیڈ پر لیٹے سکون سے دیکھتے طنز کرتے بولا ۔۔۔
موڈ نہیں تھا ۔۔۔
پرپل کلر کا نائٹ ڈریس پہنے جس میں یافی کا سفید رنگ چمک رہا تھا براٶن آنکھوں میں اداسی لاۓ وہ چھت کو گھورتی بولی تھی ۔۔۔
ہممم پھر کس بات کا موڈ ہے تمہارا ۔۔۔۔
زرجان بھی بیڈ پر آتا اس کے قریب لیٹتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
سونے کا ۔۔
یافی زرجان کے سینے پر سر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
طیعبت ٹھیک ہے میں دیکھ رہا صبح سے کھوئ کھوئ ہو ۔۔۔
زرجان اچانک پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں بس ٹھیک وہ تھک جاتی ہاسپٹل میں ۔۔۔
یافی زرجان کے لبوں پر ہاتھ پھیرتی ہوئ بولی ۔۔
اس کا دھیان نہیں تھا وہ کیا کر رہی ہے ورنہ اگر ہوش میں ہوتی تو ضرور جان جانتی کیا کر رہی ہے ۔۔۔
تو خیال بھی رکھا کرو یار اب کچھ دن ریسٹ کرو ۔۔۔
زرجان یافی کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
میں سوچ رہی تھی تمہاری امی کو میں پسند آ جاٶ گی کیونکہ میری تو یہ دوس۔۔۔۔
یافی کچھ سوچتے ہوۓ بول رہی تھی جب زرجان اسے تھوڑی سے پکڑتا اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔
ب۔ے ش۔رم۔انسان۔۔۔
بے شرم انسان ۔۔۔
یافی کو پہلے پتہ ہی نہیں چلا ہوا کیا تبھی مکے مارتی کروٹ چیج کیے وہ منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔۔
تمہارا ہی ہو اب تو ۔۔۔
زرجان اب مدہوش ہوا اس کی گردن کو چومتے بولا ۔۔۔۔
اگر زرجان کو پتہ چل گیا نہیں نہیں یہ بھی شک کرے گا اففف کیا کرو ۔۔۔
یافی اپنے خیالوں میں گم زرجان کے ہاتھ پکڑتی اپنے لبوں کو لگاتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
جبکہ زرجان مدہوش ہوئ کبھی اس کی گردن اور کبھی کمر کو چوم رہا تھا ۔۔۔۔
یافی زرجان کا شدت بھرا لمس اپنی کمر اور گردن پر محسوس کرتی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔۔۔
————————————————————
اب بتاٶ پہلے جان بچا کر کہاں بھاگی تھی ۔۔۔
منان ہانیہ کو بیک ہگ کیے اس کی گردن پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ۔ماما نے بلایا تھا ۔۔۔
ہانیہ گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
وہ سونے کے لیے نائٹ ڈریس پہنے روم میں آ رہی تھی جب منان نے اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔
یہی منہ چڑہا کے گی تھی ۔۔
منان ہانیہ کا رخ اپنی طرف کرتا اس کا چہرہ ہاتھوں میں پکڑتا بولا تھا ۔۔۔
م۔میں وی۔ویس۔۔۔
ہانیہ جو ہکلاتے بول رہی تھی جب منان اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتے بولتی بند کروا چکا تھا ۔۔۔
رنگ ۔رنگ۔۔۔۔
کون ہے جو اس وقت ڈسٹرب کر رہا ہے ۔۔۔
منان جو اپنی پیاس بجھا رہا تھا جب اس کا فون رنگ ہوا تبھی وہ غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔
ہانیہ نے شکر منایا تھا اس کی جان بچ گی ۔۔۔۔
بولو ۔۔۔
منان مستقیم کا فون سنتا برا سا منہ بناۓ بولا ۔۔۔
وہ ڈیول نے تمہارے پرسنل سیکٹری کا قتل کر چکا ہے جلدی پاکستان آ ۔۔۔
مستقیم بھی سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔
اچھا ۔۔
منان پریشان ہوتا بس اتنا بول کر فون کات کر چکا تھا ۔۔۔
ڈیوللللللللللل۔۔۔۔
ایک تو ہے جس نے جینا حرام کیا میرا جرمنی بھی سکون میں نہیں رہنے دیا ۔۔۔
منان دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔
کیونکہ ڈیول اس کا موڈ خراب کر چکا تھا ۔۔۔
