Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 12)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
یافی یافی یار بات سن لو پھر چاہے بات مت کرنا مجھ سے ۔۔۔۔
زرجان یافی کو بازو سے پکڑتے منت کرتے بولا تھا ۔۔۔۔
کیا بات سن لو میں اس دن سمجھی تھی تم نے مدد کی میری لیکن افسوس تم تو چچچچچ۔۔۔۔
یافی دکھ سے آنسو کنٹرول کرتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔
کچھ غلط نہیں کیا میں نے جو بھی کیا اچھا کیا کوئ افسوس نہیں تمہیں میں نے جہنم سے باہر نکلا ہے ۔۔۔
اس دن نعمان بزنس کی وجہ سے آوٹ آف کنٹری نہیں کیا گیا وہ تمہیں وہاں بیچنے والا تھا پیسوں کی ہوس میں پھر چاہے وہ طلاق دیتا تمہیں یا نہیں ۔۔۔
صام سب کچھ جانتا تھا اسی رات اس نے ہی کہا تھا میں تمہارے گھر جاٶ نعمان غصہ کا اتنا تیز تھا تمہیں طلاق دے دی ہماری چھوٹی سے بات پر بعد میں اسے یاد آیا تھا تم تو سونے کی مرغی تھی تبھی تمہارے پیچھے دوبارہ لگ گیا کیونکہ جن لوگوں سے تمہارے لیے پیسے لے چکا تھا اب وہ اسے دھمکیاں دے رہے ہے ۔۔۔
زرجان سنجیدہ شکل لے بولا تھا ۔۔۔
یافی ہکا بکا آنکھیں پھاڑے سب سن رہی تھی ۔۔۔
م۔می۔میں ک۔کتنی پاگل ہو تمہیں ہی غلط کہہ رہی حالانکہ نعمان کی نیت سے میں بھی واقف تھی ۔۔
ہاےےے کتنی زور سے مارا ہے ۔۔۔
یافی زرجان کا چہرہ ہاتھوں میں لیتی آنسو بہاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
چپ تو کرو یار جو ہونا تھا ہو گیا یہ ہمارا خوبصورت ٹائم ہے بس کبھی شک مت کرنا بھروسہ کرنا مجھ پر یافی میں بہت محبت کرتا ہو تم سے ۔۔۔
زرجان یافی کو اپنے سینے سے لگاۓ عقیدت سے بولا تھا ۔۔۔
ت۔تو نعمان کو پکڑ ا ن۔۔
نعمان کو پکڑ لے گے صام دیکھ لے گا یہ طلاق والا آئیڈیا بھی اسی کا تھا ورنہ میں تو جانتا تک نہیں تھا ۔۔۔
زرجان یافی کی بات کاٹتا پیار سے بولا تھا ۔۔۔
اچھا کچھ زیادہ سے زور سے مار دیا میں نے ۔۔۔
یافی زرجان کی سرخ گال دیکھتی ہنسی کنٹرول کرتی بولی تھی ۔۔۔
بہت زور سے یار مانتا ہو تمہارے بھای باڈی بلڈر ہے اس کا مطلب یہ نہیں تم بھی ویسا ہی تشدید مجھ معصوم پر کرو ہاے میرا گال ۔۔
زرجان یافی کو اپنے بے حد قریب کرتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
بہن ان کی ہو تو ویسی ہی ہو گی اچھا معاف۔۔۔
یافی جو بول رہی تھی جب زرجان اچانک اپنے لب اس کے ہونٹوں پر رکھتا بولتی بند کروا چکا تھا ۔۔۔
معافی نہیں چاہے مجھے بس تمہاری تھوڑی سی محبت چاہے فیا بس تھوڑی سی ۔۔۔
زرجان اسے نرمی سے چھوڑتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔
یافی کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔۔
م۔میں ہاسپٹل جا رہی انیجل ایویں میرے بھائ کو ٹھرکی کہتی ہے ٹھرکی تو تم ہو ۔۔
یافی روم سے جلدی سے جان بچاتی ہکلاتے ہوۓ کہتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔
یافی کی حرکت پر زرجان کا بھرپور قہقہ گونجا تھا روم میں ۔۔
ہاہاہااہاہاہااہاہاہاہاہاہااہاہہہاہاااہ۔۔۔۔
————————————————————
تو آپ ہمیں پہلے نہیں بتا سکتے تھے ۔۔۔
صام روحا کو زبردستی پکڑتے اپنے قریب بیٹھاتے اسے سب کچھ بتا چکا تھا ۔۔۔۔
تبھی روحا منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
یار غصہ کی اتنی تیز ہو میری جان نکل جاتی ہے تمہارا غصہ دیکھ کر ۔۔۔۔
صام روحا کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوا بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔
ٹھرکی شروع ہو گی اور اپنے غصہ کا پتہ ہے رات کیسے غصہ کیا آپ نے اور ہمارے غصہ سے ڈرتے ہے توبہ ہے بندہ جھوٹ بولتے وقت دیکھ لے ۔۔۔۔
روحا اس کے پاس سے اٹھتے روکھے پن سے بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں رات تم نے غصہ دلایا تھا مجھے چلو کمر پر میڈیسن لگاٶ آو ۔۔۔
صام پھر روحا کا درد یاد کرتا سب بھولتا اسے باہوں میں بھرتے بیڈ کی طرف جاتے بولا تھا ۔۔۔
چھو۔چھوڑے چھوڑے ٹھرکی کیا بے ہودگی ہے یہ ہم خودی میڈیسن لگا لے گے ۔۔۔
روحا حیران پریشان ہوتی اسے مکے مارتی چلائ تھی ۔۔۔
لیکن صام شان بے نیازی سے چلتا اسے بیڈ پر گرا چکا تھا ۔۔۔۔
میرے غصہ سے سارے ڈرتے ہے مس کالی ایک تم ہو جس پر اثر نہیں ہوتا اور کم چلایا کرو جو مجھے میرے کام سے روکتا ہے میں اس کا بہت برا حشر کرتا ہو ۔۔۔۔
صام روحا کے اوپر جکھتے ہوۓ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔۔
یاد رکھنا ٹھرکی وہائٹ چاکلیٹ روحا زیدی ادھار نہیں رکھتی آپ ہمیں رات سے درد دے رہے جب ہم درد دینے پر آۓ تو تڑپے گے آپ ۔۔۔
روحا صام آفندی نام ہے تمہارا سمجھی ورنہ تمہارے دل پر میں یہ نام لکھ سکتا ہو ۔۔۔
صام روحا کا ڈوپٹہ اس سے الگ کرتا دانت پیستے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
ہم کر لے گے ٹھرکی رات ہم نے برداشت کر لی تھی اب ہم ایسا کچھ نہیں کرے گے مار دے گے ۔۔
روحا غصہ سے صام کے سر کے بالوں کو پکڑتی جنجھوڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاےےے تمہاری یہ ادا مجھے بہت پسند ہے ۔۔۔
جان بھی حاظر ہے تمہارے لیے مس کالی کلوٹی ۔۔
صام روحا کی گردن پر لب رکھتا ہوا بولا تھا
س۔ر۔سر ۔۔
کیا ہے ۔۔۔
صام جو روحا کے اوپر جکھے اپنی پیاس بجھا رہا تھا جب روم کے باہر کھڑی ملازمہ نے ڈرتے ہوۓ آواز دی تھی ۔۔۔
وہی غصہ میں آتے صام نے ویسے ہی دھاڑتے ہوۓ پوچھا تھا ۔۔۔
چھوڑے ہمیں ٹھرکی دیکھنا ہم بھی آپ کو ایسا درد دے گے ۔۔۔
روحا شکر ادا کرتی بولی تھی کیونکہ صام اسے کسی بھی صورت نہیں چھوڑ رہا تھا ۔۔۔
وہ۔سر شعیب سر آۓ ہے آپ سے ملنے ۔۔
ملازمہ نے گلا تر کرتے اٹکتے ہوۓ بتایا ۔۔۔۔
آہہہہہ شعیب خان آیا ہے نیلی آنکھوں والا ۔۔۔
صام نے بات سنتے برا سا منہ بنایا تھا جبکہ روحا طنزیہ مسکراہٹ لائ بولی تھی ۔۔۔
خبردار کالی کلوٹی اگر اس کورنا کی جعلی ویکسین کے پاس گی تم مجھ سے برا کوئ نہیں ۔۔
صام روحا کی آنکھوں میں دیکھتا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہم نہیں ڈرتے آپ سے سمجھے ٹھرکی ہم بات بھی کرے گے اس سے جاۓ یہاں سے ۔۔
اچانک روحا صام کو خود سے دور کرتی دھکا دیتی بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔
دیکھو مس ڈراک چاکلیٹ ہماری لڑائ روم تک ہے یار جو بھی کرنا ہے یہاں کرو یہ مت کرو میں جلیس ہوتا ہو ۔۔۔
صام بچوں جیسی شکل بناۓ روحا کا ہاتھ پکڑتا بولا تھا ۔۔۔
ہم تو کچھ نہیں کر رہے مسٹر ٹھرکی ۔۔
روحا ویسے ہی طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی ۔۔
دیکھو روحا مس کالی کلوٹی ڈراک چاکلیٹ مس کھڑوس تم اس کورنا کی جعلی ویکسین کو بلاٶ گی میں نے قتل کر دینا اس کا ۔۔۔
صام روحا کو روکتے ہوۓ چلایا تھا جبکہ وہ ان سنی کرتی روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔
اس جعلی ویکسین کا علاج کرنا پڑے گا ۔۔۔
صام بے بس ہوتے خود سے بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
بزنس کیسا جا رہا آپ کا ۔۔
روحا شعیب کے سامنے صوفے پر بیٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھا جا رہا بلیک بیوٹی ابھی ایک ڈیل کی پچاس کڑوڑ کی ۔۔
شعیب روحا کے چہرے کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔
ارے یہ تو بہت اچھی بات ہے آپ صام کو بھی سکھا دے یہ سب ۔۔
روحا اپنے پاس بیٹھے صام کی طرف دیکھتی بولی تھی جو دونوں کو اگنور کیے فون میں بزی تھا ۔۔۔
ہاں تو ہم بزنس پارٹنر ہے صام ہی آفس نہیں آتا ورنہ یہ سکھ جاۓ سب ۔۔۔
شعیب صام کی طرف دیکھتا بولا جو اب سرخ گرین آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔
ویسے آپ کی آنکھیں پیاری ہے ہمیں پسند آئ ۔۔۔
روحا صام کو سکون سے بیٹھے دیکھ جان بوجھ کر بولی تھی ۔۔۔
شکریہ بلیک بیوٹی تم نے تعریف کر دی اب مجھے خود بھی پسند آئ ۔۔۔۔۔
شعیب روحا کو ہی مسلسل دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
کیا مسئلہ ہے تم لوگوں کو کام پر رکھا ہے ہر وقت فری رہتے ہو ۔۔
صام بڑی مشکل سے کنٹرول کیے بیٹھا تھا جب کافی دیتے ملازم کو بلاوجہ غصہ سے بولا تھا ۔۔۔
سوری سر ۔۔۔
ملازم ناسمجھی سے بولا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا مسٹر ٹھرکی جل گے چچچچ ہمیں سمپل آ رہی جلنے کی افففف ٹھنڈا پانی پیے ۔۔۔
روحا صام کے کان میں سرگوشی کرتے بولی تھی ۔۔۔
اففف بےبی یہ باتیں ہم روم میں کر سکتے ہے دیکھو ابھی گیسٹ آیا ہے ۔۔۔
صام شعیب کی طرف دیکھتا ہوا اُونچی آواز سے بولا تھا ۔۔۔
یہ کیا بکواس ہے ہم نے کچھ نہیں کہا ۔۔
روحا غصہ سے سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ صام کی بات پر شعیب کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
افففف بے بی تم واقعی رات میری شرٹ میں پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔
صام پھر سکون سے بولا تھا ۔۔۔
جب صام کی بات سنتے شعیب اور روحا کو جھٹکا لگا تھا ۔۔۔
ک۔کی۔کیا یہ ب۔۔۔
دو گھنٹے سے تڑپ رہا ہو تم اس جعلی ویکسین کے ساتھ بات کرنے میں مصروف تھی اب میری باری ہے مس کالی کلوٹی تم دیکھو اس کو میں اب بلکل نہیں چھوڑو گا ۔۔۔۔
روحا ہکابکا ہوتی جو بول رہی تھی تبھی صام سردپن سے بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں میں جانتا ہو کتنی پیاری لگ رہی تھی اور اگر لا۔۔۔
صاممممممم پلیز ۔۔
صام جو دوبارہ بول رہا تھا جب روحا اپنا ہاتھ اس کے لبوں پر رکھتی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ شعیب اب شوک ہوتا اپنی جگہ سے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔
چلو باقی باتیں روم میں کرتے ہے ویسے شعیب تم نے آفس نہیں جانا صبح صبح یہاں آ گے تم کام کون کرے گا ۔۔۔
صام دونوں کی حالت انجواۓ کرتا بولا تھا ۔۔۔
روحا تو بت بن کر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔۔
وہ صام کو تنگ کر رہی تھی جبکہ صام ایک ہی بات کہہ کر اس کی بولتی بند کروا چکا تھا ۔۔۔
ہ۔ہاں جانا ہے میں چلتا ہو ۔۔۔
شعیب ہکلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
آو میں چھوڑ دو تمہیں ۔۔۔
صام بھی ساتھ چلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
تم گاڑی میں بیٹھو میرا موبائل رہ گیا ۔۔۔
صام گاڑی کے پاس آتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
لیکن موبائ۔۔۔۔۔
سوچ سمجھ کر بولا کرو بیوی ہے میری وہ تو دور رہو یہ نہ ہو دنیا سے ہی چلے جاٶ تم ۔۔۔
شعیب اس کے ہاتھوں میں موبائل دیکھتا بول رہا تھا جب صام اچانک سردپن اور آنکھوں میں وحشت لاۓ بولا تھا ۔۔۔
شعیب کی ریڑ کیکی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئ تھی ۔۔۔۔
مس کالی کلوٹی اچھی بات ہے میرے بارے میں سوچ رہی تھی کیا بھول جاتی ہو اگر تم اتنی چالاک ہو تو میری چالاکی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں تمہاری ختم ہو ۔۔۔
اب بتاٶ کون تڑپا ہے اتنا بھی بے خبر نہیں ہو میں تم سے میرے ساتھ چاہے کچھ بھی کرو جان بھی لے لو گی تو اففف بھی نہیں کرو گا بس میری سانسوں کے قریب رہا کرو ۔۔۔۔
صام دوبارہ ہال میں آتا روحا کے پاس قدموں میں بیٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔
روحا ویسے ہی بت بنی بیٹھی تھی ۔۔۔
آہہہہ میری شیرنی ابھی تک شوک میں ہو ہوش میں آو مس کالی ۔۔۔
صام روحا کے لبوں کو ہلکا سا چھوتے ہوۓ مسکراتے بولا تھا ۔۔۔
اپنے لبوں پر صام کا لمس پاتے روحا ہوش میں آئ تھی ۔۔
ٹھرکی ہم ڈرتے نہیں آپ سے ہم بات کرے گے اس سے آپ ہمیں روک نہیں سکتے انتہا کے بے شرم انسان ہے ۔۔۔
روحا صوفے سے آٹھ کر جاتی منہ میں بڑبڑائ تھی ۔۔۔
ہاہاہاہہاا میری شیرنی پہلے اس جعلی ویکسین کو دیکھ لو تمہیں رات کو دیکھو گا ۔۔۔
صام روحا کی حالت انجواۓ کرتا قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
مستیقم لالہ آپ تو یونفارم میں گے تھے اب شرٹ کے بنا کیوں آ رہے ہے ۔۔۔
روحا اپنے روم کی طرف جا رہی تھی جب مستیقم کو اپنے روم میں انٹر ہوتے دیکھ اس کے قریب جاتی پریشان ہوتی بولی ۔۔۔
ہاں انیجل وہ شرٹ خون سے بھر چکی تھی اگر میں ایسے ہی آ جاتا تم ڈر جاتی اس لیے ایسے ہی آ گیا ۔۔۔
مستیقم مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کالی بنیان پہنے اس کے مضبوط شولڈر دیکھ رہے تھے جبکہ کالی گہری آنکھیں مسکرا رہی تھی ۔۔۔
کیا ڈیول کو پکڑ لیا ۔۔۔
روحا حیران ہوتی بولی تھی ۔۔
ہاہاہہاہاہا ہمیں بچایا اس نے ۔۔
مستیقم قہقہ لگاتا اسے سب بتا چکا تھا ۔۔۔
کیا ڈیول سب کو ٹھیک کر دیتا مطلب برے انسان کو بھی ۔۔۔
روحا سب سنتی کچھ سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاں سب کو ٹھیک کر دیتا ہے کیوں تم نے ملنا کیا ۔۔۔
مستیقم سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
جی ہمیں ملنا ہے ان سے ہمیں کام ہے ایک آپ ان کو کہے ہم ملنا چاہتے ہے ۔۔۔
روحا سنجیدہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہمممم چلو میں بات کرتا اس انسان سے جس نے اسے ہمارے لیے بھیجا تھا کیونکہ ہم بھی معصیبت میں پھس چکے تھے ۔۔
جب ڈیول سے مدد مانگی تھی ۔۔۔
مستیقم کچھ سوچتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔
آپ کپڑے چیج کرے ہم جوس لے کر آتے ہے ۔۔
روحا مسکراتی ہوئ روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
انیجل ملنا چاہتی ہے تم سے ڈیول ۔۔۔
وہ ڈیول کے روم میں آتا ہوا بولا تھا جو اپنے ہاتھ میں سانپ پکڑے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔
ضرور ڈیول اپنی انیجل سے ملنے کو تیار ہے ۔۔
اسے انتظار کیوں کروا رہے ہو کہو ڈیول ملنے کو تیار ہے ۔۔
میرے ڈیول پلیس کو بلیک روز سے سجاٶ اور سب کو کہو خاموشی رکھے پلیس میں کیونکہ انیجل کو خاموشی پسند ہے ۔۔۔
ڈیول نے سانپ کو چھوڑتے ہوۓ کہا ۔۔۔
میں سب تیار کر چکا ہو بس آنے والی ہو گی تم کیسے ملو گے اس سے ۔۔۔
وہ ڈیول کی گرین آنکھیں دیکھتا بولا تھا جس میں چمک تھی ۔۔
سامنے بیٹھ کر ملو گا فکر مت کرو ۔۔
ڈیول سکون سے آنکیھں بند کیے بولا تھا۔۔۔
———————————————————–
اگر تم نے ایسے ہی رہنا تھا تو گھر رہ لیتے ۔۔
شعیب صام کو گاڑی میں چپ بیٹھا دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
ہاں میں گھر ہی جا ر۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔
صام فون پر بزی ہوتے بولا تھا جب اچانک گاڑی روکی تھی ۔۔۔۔
جب گاڑی کے سامنے کافی غنڈے کھڑے تھے ۔۔۔
یہ کیوں یہاں آے ۔۔
شعیب ان سب کو سامنے دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
جب ان سب نے گاڑی پر حملہ کر دیا تھا ۔۔
صام اور شعیب کو گاڑی سے باہر نکال چکے تھے ۔۔
چھوڑو ہمیں ہمارا کیا قصور ۔۔۔
شعیب چلاتا ہوا بولا تھا جبکہ صام سکون سے کھڑا تھا ۔۔۔
صام ت۔۔۔۔
آہہہہہہہہ اہہہہہہ۔۔
شعیب صام کو دیکھتا بول رہا تھا جب ایک آدمی نے اس کے چہرے پر کالا کپڑا باندھتے مارنا شروع کیا تھا ۔۔۔
ارے چھوڑو اس کو یہ میرا بزنس پارٹنر ہے ۔۔۔
صام سب کو اشارہ کرتا خود اسے مارتا بولا تھا ۔۔
ابے یار نہ مارو دیکھو درد ہو گا ۔۔۔
صام نے پھر کہتے زور سے لات شعیب کے پیٹ میں ماری جب وہ درد سے کرایا تھا ۔۔۔۔
شکل تو وہ کسی کی دیکھ نہیں سکا تھا ۔۔۔
جو غنڈے تھے وہ سکون سے کھڑا دیکھ رہے تھے جبکہ صام وحشی بنا مسلسل اسے مار رہا تھا ۔۔۔۔
کوئ تو بچاۓ مجھے ہاے میری کمر ۔۔۔
شعیب درد سے چلایا تھا ۔۔۔۔
کوئ بچانے والا نہیں ہو گا تم نے میری مس لائف پر نظر رکھی سوچا بھی کیسے تم نے آج کے بعد اس کے آس پاس بھی مت آنا ورنہ تمہاری سانسیں چھین لو گا ۔۔۔۔۔
صام زمین پر گرے خون سے لت پت شعیب کے پاس بیٹھتے غصہ سے غرایا تھا ۔۔۔
ت۔تم۔نے ایسا کیوں کیا صام ۔۔
شعیب کے چہرے سے وہ کپڑا ہٹا چکا تھا ۔۔
تبھی وہ درد سے تڑپتے صام کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
تو کیا سمجھا تھا صام آفندی کی زندگی کو چھین لے گا سوچ ہے تیری ۔۔۔
مس لائف زندگی ہے میری اور جب کوئ آپ سے زندگی چھین لیتا ہے تب آپ کو موت دیکھائ دیتی ہے ۔۔۔
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جب کوئ روحا کو مجھ سے دور کر دے ۔۔۔۔
آج چھوڑ رہا ہو اگر اب دیکھے تو بھول جانا اگلی سانس بھی آۓ گی تمہیں ۔۔۔
صام زور سے لات مارتا ہوا غصہ سے دھاڑا تھا ۔۔۔
اب تو بلکل اس کے قریب آو گا دیکھتا ہو تمہاری وہ مس کالی تمہارے پاس آتی ہے یا میرے پاس مسٹر صام آفندی ۔۔۔
شعیب خون کی الٹی کرتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
ضرور دیکھنا وہ کس کے پاس جاۓ گی اب دفع ہو یہاں سے ۔۔۔
صام اپنے ہاتھ اوپر کو کرتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
صاف اشارہ تھا اب وہ بولنا نہیں چاہتا ۔۔۔
اچھا نہیں کیا تم نے صام اب موت پکی تیری ۔۔
دور جاتے صام کو دیکھتے شعیب نے دل میں سوچا تھا جبکہ وہ اکیلا سنسنان سڑک پر پڑا تھا ۔۔۔
———————————————————–
کہاں جا رہی ہو ۔۔۔
صام ابھی ہال انٹر ہوا تھا جب روحا تیار ہوتے جاتے دیکھ پوچھا تھا ۔۔۔
ہم ڈیول سے ملنے جا رہے آپ بھی آۓ ۔۔۔
روحا صام کا چہرہ دیکھتی بولی تھی جو سنجیدہ ہوا کھڑا تھا ۔۔۔۔
جاٶ تم یہ سکیوڑٹی گارڈز جاۓ گے ساتھ ۔۔۔
صام چالیس گاڈرز کو دیکھتا بولا تھا جو اس کے ساتھ باہر ہی کھڑے تھے ۔۔۔
ہم جنگ پر نہیں جا رہے جو اتنی فوج دے رہے ۔۔۔
روحا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
تمہیں فوج کچھ زیادہ پسند نہیں ۔۔۔
صام روحا کی ڈراک براون آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہاے فوج ہماری کرش ہے ہمیں بہت پسند ہے ۔۔۔
روحا خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی ۔۔۔
اگر میں فوجی بن جاٶ تم مجھے پسند کرو گی ۔۔۔
صام ویسے ہی اس کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہاہاہاہا فوجی اور آپ کبھی نہیں آپ صرف ٹھرکی بن سکتے ا ۔۔۔
اچھا اچھا بس کرو جاٶ یہاں سے سر نہ کھاٶ ۔۔
کیسے پٹر پٹر بولتی ہو ۔۔۔
صام روحا کو روکتا بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں تو جا رہے ہم بھی آپ کے منہ نہیں لگنا چاہتے پاگل ۔۔۔
روحا برا سا منہ بناۓ کہتی ہال سے باہر چلی گی ۔۔۔
مس کالی ۔۔
صام بھی منہ بناتا کہتا روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
ی۔یہ ڈیو۔ل ڈیول کا پلیس ہے ۔۔۔
روحا سامنے ڈیول پلیس دیکھتی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
جو کہ ایک بلیک کلر کی فل عمارت تھی جس کے باہر تقربیاًسو سے زیادہ گاڈرز سکیوڑٹی کر رہے تھے ۔۔۔
جی میم آپ اندر آۓ ۔۔۔
ایک بلیک ہڈی پہنے آدمی نے سر جکھاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
روحا کا منہ حیرت سے کھول چکا تھا ۔۔۔
کیونکہ اندر انٹر ہوتے اس ہر چیز بلیک کلر کی دیکھ رہی تھی بلکہ جو آدمی وہاں چل پھیر رہے تھے سب بلیک ہڈی پہنے آ اور جا رہے تھے ۔۔۔
سب کی لک سیم تھی ہزاروں کی تعداد میں آدمی چلتے پھیرتے نظر آ رہے تھے ۔۔
ڈ۔یو۔ل۔ڈیول کدھر ہے ۔۔۔
روحا نے ہکلاتے ہوۓ ایک آدمی سے پوچھا تھا ۔۔۔
سر وہاں بیٹھے ہے ۔۔۔
آدمی نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا ۔۔۔
جہاں فل اندھیرہ کیے صرف دو کرسیاں پڑی تھی جبکہ سنٹر میں ٹیبل تھا ۔۔۔
————————————————————
یہ ڈیول پاگل ہے کیا افففف کہاں پھس گی ٹھرکی آ جاتا تو ہمیں حوصلہ ہوتا ۔۔۔
روحا نے جیسے ہی اس بتائ گی جگہ پر پاٶں رکھا تو اسے نرم نرم سا فیل ہوا جب اپنے پاٶں کو دیکھا تو حیران رہ گی جہاں بلیک کلر کے سوفٹ قالین پر بلیک روز بچھاۓ گے تھے ۔۔
تبھی روحا نے کنفیوژ ہوتے سوچا۔۔۔
کیا کام ہے ۔۔۔
روحا ابھی کرسی پر بیٹھی تھی جب اچانک بھاری مردانہ آواز سنتی ایک بار کرسی سے ڈر کے مارے کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔
و۔وہ کا۔کام یہ ہے آپ میرے شوہر کو اپنے پاس بلا کر سمجھا دے گے وہ کام کرے ہر وقت گھر بیٹھے رہتے ہے ۔۔۔۔
روحا حوصلہ کرتی بامشکل بولی تھی جبکہ کھڑی وہ ویسے ہی تھی ۔۔۔
روحا کی یہ بچوں جیسی بات سنتے ڈیول مسکرایا تھا ۔۔۔
اچھا بیٹھو تو سہی مجھے پوری بات بتاٶ ۔۔۔
ڈیول تھوڑی سے روشنی کرتا بولا جانتا تھا انیجل کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔
روحا کو اب صرف ڈیول کے بھاری سیفد ہاتھ جو کہ ٹیبل پر رکھے اور اس کی گرین آنکھیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کیونکہ روشنی بس اتنی ہی پڑ رہی تھی اس پف باقی شکل وہ دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔
بابا چاہتے ہے وہ کام کرے بس ہم نے سنا آپ سب کو ٹھیک کر دیتے ہے ت۔۔۔
میں ٹھیک دوائ سے نہیں مار کر کرتا ہو بولو منظور ہے تمہارے شوہر کو مار سکتا ہو ۔۔۔
روحا جو سوچتے ہوۓ بول رہی تھی جب ڈیول بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔
جی مارنا آپ پر تھوڑا سا ۔۔۔
روحا مسلسل ڈیول کے ہاتھ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
چلو کام ہو جاۓ گا تمہارا شوہر آفس چلا جاۓ گا ۔۔۔
اور کچھ کہنا ہے ۔۔۔
ڈیول روحا کی نظریں دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہ۔ہاں و۔وہ آپ کے ہاتھ خوبصورت ہے۔۔
روحا اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتی اٹکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
شکریہ انیجل۔۔۔
ڈیول اپنی ہنسی کنٹرول کیے بولا تھا ۔۔۔
انیجل۔۔۔
روحا حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
ہاں تم انیجل ہو اچھا بتاٶ صام آفندی کو کتنا مارنا ہے مطلب ٹانگ ہاتھ پاٶں توڑنے اس کے یا نہیں ۔۔
ڈیول اپنی بے خودی پر مسکرایا پھر بات بدلتے بولا جس میں کامیاب ہوا ۔۔۔
اسے روحا کی شکل بہت کم نظر آ رہی تھی ۔۔۔
اتنا مارنا اسے کہ دماغ میں عقل آ جاۓ بس ۔۔
روحا ویسے ہی ہاتھوں کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ایسے ہاتھ تو ٹھرکی کے ہے سفید پنک ناخن والے جیسے لڑکیوں کے ہوتے ہے او۔۔۔
افففف روحا سارا دن اس کے ساتھ رہتی ہو تبھی ہمیں وہ یاد رہتا ہے ۔۔۔
روحا مسلسل ہاتھوں کو دیکھتی خودی اپنے خیال کو جھٹکتی ہوئ بولی تھی ۔۔
اور کچھ ۔۔۔
ڈیول یہ کہتا اچانک اٹھ کر کھڑا ہوتا روحا کے قریب آیا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں اب ہم چلتے ہے ۔۔۔
روحا اپنے قریب بھاری قدموں کی آواز سنتی ہکلاتے کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
صام کو تم اپنے طریقے سے سمجھا سکتی ہو بیوی ہو تم امید ہے اب مجھے بتانا نہیں پڑے گا کیسے سمجھاٶ گی ۔۔۔
ڈیول روحا کو دوبارہ کرسی پر بیٹھے اس کے اوپر جھکتا ہوا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
ج۔جی۔
گڈ گرل اب جاٶ جیسے آئ تھی ویسے ہی جاٶ واپس موڑ کر مت دیکھنا ۔۔۔
ڈیول روحا کی سرگوشی سنتے ویسے ہی جھکے ہوۓ بولا تھا ۔۔
جی۔۔
روحا یہ کہتے وہاں سے بھاگ چکی تھی اس نے واقعی نہیں دیکھا تھا ڈیول کو یھیچے موڑ کر اگر دیکھ لیتی تو چکرا کر گر جاتی وہاں ۔۔
ڈیول کرسی پر پڑے سانپ کو اپنے ہاتھوں میں دبوچتے ہوۓ کھڑا تھا ۔۔۔
روحا ابھی بات کر رہی تھی جب ڈیول نے اس کے کندھے پر بیٹھے سانپ کو دیکھا تھا ۔۔
وہی سانپ تھا جس کو ڈیول چھوڑ چکا تھا ۔
تبھی روحا کو بتاۓ بنا وہ پاس آتے اسی سانپ کی گردن دبوچ چکا تھا ۔۔
اگر روحا تھوڑا سا ہی دیکھ لیتی ڈیول کرسی کے پیچھے سانپ پکڑے کھڑا ہے جس کی وہ گردن تک اپنے ہاتھوں سے کچل چکا تھا تو روحا الٹی کر دیتی ۔۔۔۔
کیا کرنے والے تھے میری انیجل کو ڈسنے جا رہے تھے کتنی محبت سے پالا تھا تمہیں لیکن تم تو میری زندگی کو نقصان پہنچانے والے تھے ۔۔۔
تمہارے ڈسنے سے وہ کتنا تڑپتی میں جانتا تھا اس لیے تجھ موت دے دی میں نے کیونکہ ڈیول کو صرف اپنی انیجل سے محبت ہے تم بے وفا نکلے سانپ والی اوقات دیکھا دی ۔۔۔
ڈیول ویسے ہی مردہ سانپ کو پکڑے طش سے چلایا تھا ۔۔۔
جبکہ سانپ کا نکلا سارا زہر اور خون ڈیول کے ہاتھوں پر گر گیا تھا ۔۔۔
جو میری انیجل کو تکلیف دے گا ڈیول اسے موت کی نیند سلاۓ گا چاہے وہ انسان ڈیول کو عزیز ہی کیوں نہ ہو ۔۔
ڈیول مردہ سانپ کو زمین پر گراتے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
کیا مسئلہ ہے مس کالی کب سے ہاتھ دیکھ رہی ہو ۔۔
صام تنگ آتا بولا تھا ۔۔
روحا کب سے اس کے ہاتھ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ ہمیں لگتا آپ ڈیول ہے ۔۔
روحا صام کے ہاتھ پکڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔
ہاہاہاہااا کیا پاگل ہو گی ہو آج مل کیا آ گی تو دی۔۔۔
یہ گرین آنکھیں یہ ہاتھ اور یہ بال بھی کیونکہ جب وہ میری کرسی پر جھکا تھا مجھے اس کے لمبے بال چہرے پر محسوس ہوۓ تھے ۔۔
قد بھی اتنا ہی تھا آپ چھ فٹ چار انچ ہے شاہد اتنا ہی تھا ۔۔۔
صام قہقہ لگاتا ہوا بول رہا تھا جب روحا کھوۓ ہوۓ انداز سے بولی تھی ۔۔۔
اففف پاگل ہو گی جاٶ یہاں سے سو جاٶ رات ہو گی میں بعد میں آو گا روم میں ۔۔۔۔
صام اچانک سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
دیکھنا ڈیول آپ کو مارے گا ۔۔۔
روحا غصہ سے مکا مارتی اٹھ کر روم میں جاتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہ مار لے جس نے مارنا ہے یہی بیٹھا ہو ۔۔
صام قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔
———————————————————–
بلیک کلر کے ٹروزر بلیک ہی شرٹ پہنے اپنے بکھرے بالوں کو پونی میں قید کیے وہ آئنیہ کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔
روحا روم میں ایک گھنٹے سے سوچ میں ڈوبی ہوئ تھی جب صام کو بھی روم میں آتے آئنیہ کے سامنے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
بیوی ہو کچھ بھی کر سکتی ہو ۔۔
بیٹا صام تمہاری ہر بات مانتا ہے تم مانا لو گی ۔۔
روحا صام کی طرف دیکھ رہی تھی جب یہ آواز کان میں سنائ دی ۔۔۔
بابا کے لیے اتنا تو کر سکتے ہم ۔۔۔
روحا کچھ سوچتی ہوئ بیڈ سے اٹھ کر چلتی صام کی طرف گی ۔۔۔۔
صام آپ ہماری بات مانے گے ۔۔۔
روحا آرام سے چلتی ہوئ صام کے قریب جاتی بولی تھی ۔۔۔
جی مس لائف میں تو تمہاری ہی مانو گا پہلی دفعہ میرے پاس آئ ہو ۔۔
صام پہلے حیران ہوا پھر مسکراتے ہوۓ اسے کمر سے پکڑتے بولا تھا ۔۔۔
وہ۔وہ بابا چاہتے ہے آپ آفس جوائن کرے ۔۔
روحا بھی اپنے بازوں صام کی گردن میں حائل کرتے بولی تھی ۔
اس نے صام کو منانا تھا چاہے اب کچھ بھی کرتی تبھی ایسا برتاو کر رہی تھی ۔۔۔
بابا چاہتے ہے بس تم کیا چاہتی ہو ۔۔۔
صام روحا کو اپنے اور قریب کرتا بولا تھا ۔۔۔
ہم چاہتے ہے آپ آفس جاۓ اچھا انسان بنے ۔۔۔
روحا اپنے دونوں پاٶں صام کے پاٶں پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
اور۔۔۔
صام ویسے ہی آہستہ آہستہ بیڈ کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔
آپ یہ بال کٹوا لے ہمیں نہیں پسند اچھے سے بال بناۓ ۔۔۔
روحا بھی مگن ہوئ اس کے بال پونی کی قید سے آزاد کرتی بولی تھی ۔۔
اور۔۔
صام بہکے ہوۓ انداز سے روحا کو بیڈ پر لیٹاتے بولا تھا ۔۔۔
آپ غصہ نہیں کرے گے اور کام اچھے سے کرے گے ٹائم سے سویا کرنا آپ نے بابا کو تنگ نہیں کرنا ۔۔۔
روحا سکون سے لیٹی ویسے ہی بولی تھی ۔۔۔
اور ۔۔۔
صام اپنا سر اس کے سینے پر رکھے بچوں کی طرح ہر بات مانتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بس اتنا کر لیے اور۔۔۔
روحا اپنا ہاتھ صام کے بالوں میں رکھتی آہستہ آہستہ انگلیاں چلاتی بول رہی تھی ۔۔
جبکہ صام ہر چیز بھولے بچوں کی طرح آنکھیں بند کیے سن رہا تھا ۔۔۔
آپ سن رہے ہماری بات صام۔۔۔
روحا خاموش سر رکھے صام کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
سن رہا ہو تمہارے دل کی دھڑکن بہت ہی سریلی آواز ہے مس لائف تم ساری زندگی ایسے ہی اپنے سینے سے لگا کر مجھے سمجھاٶ گی میں ہر کام کر لیا کرو گا ۔۔۔
صام اپنے لب روحا کے دل کے مقام پر رکھتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
پاگل ٹھرکی سو جاۓ آپ آفس جانا صبح ۔۔
روحا پہلے شوک ہوئ تھی لیکن پھر سکون میں آتی بولی کیونکہ جانتی تھی دنیا کے لیے وہ ایک ایٹیٹوڈ بواۓ تھا پر روحا کے سامنے ایک چھوٹا بچہ بن جاتا تھا ۔۔۔
ہاں پاگل ہو تمہارے عشق میں مس لائف تمہارے ساتھ رہ کر مجھے سکون کی نیند آتی ہے ۔۔۔
صام اپنے لبوں سے روحا کی تھوڑی چومتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
روحا بھی خاموشی سے آنکھیں بند کر چکی تھی اسے خوشی ہوئ تھی صام اس کی بات مان گیا تھا ۔۔۔
جیسے جیسے صام گہری نیند میں جا رہا تھا ویسے ہی روحا کو اس کی گرفت اپنے کمر پر سخت ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
اففف یہ انسان کیا ہے سمجھ سے باہر ایسے پکڑا ہے جیسے بھاگ جاۓ گے ہم ۔۔
روحا صام کا چہرہ دیکھتی دل میں سوچتی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔
روم میں صرف دونوں کی سانسیں گونج رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
سر اب ہم کیا کرے گے ۔۔۔
فرحان کا آدمی اس کے پاس آتا بولا تھا ۔۔۔
صام آفندی کی موت کیونکہ ڈیول کو میں بعد میں دیکھ لو گا پر اس کی موت پکی ہے ۔۔۔
بلیک بیوٹی کے پاس ہر وقت رہتا ہے وہ ۔۔۔
وہ اپنی کالی آنکھوں میں غصہ لاۓ بولا تھا ۔۔
لیکن سر ۔۔۔
صام کو موت میں دو گا بہت شوق ہے اسے سب کو مارنے کا اور بڑا اسے شوق ہے بلیک بیوٹی کے پاس رہنے کا دیکھنا اس کی آنکھوں کے سامنے لے جاٶ گا بلیک بیوٹی کو ۔۔۔
فرحان شراب کا گلاس پیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ابھی وہ ہوش میں نہیں تھا ورنہ جان جانتا کیسے موت دینے کی بات کر رہا ہے ۔۔۔
ہمممم پتہ نہیں اب سر کو کس سے خطرہ ہے اس صام سے یا ڈیول سے ۔۔
کیونکہ ڈیول اور صام دونوں ہی جنونی ہے اس کالی کے لیے ۔۔۔
صام اگر موت کا منظر دیکھاتا ہے تو ڈیول سیدھی موت دیتا ہے ۔۔۔
پتہ نہیں کیا چیز ہے اس کالی میں جو یہ تینوں پاگل ہو چکے ہے پتہ نہیں کس کو ملے گی ۔۔۔
ویسے ہے کھڑوس وہ ۔۔
آدمی خودی سے بات کرتا روم سے باہر جا رہا تھا ۔۔۔
