Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 18)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
س۔سر یہ فائل دیکھ لیتے۔۔۔
صام کا سکیٹری ڈرتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
جہاں فل بلیک کلر شیشے کا بے حد خوبصورت آفس تھا جہاں وہ دنیا سے بے نیاز تیار سا آفس ٹیبل پر پاٶں رکھے فون میں بزی تھا ۔۔۔
سارا آفس سٹاف آج خاموش تھا کیونکہ اس آفس کا اونر ایٹیٹوڈ صام آفندی آج آیا تھا ۔۔۔
تو تم کس لیے ہو ۔۔کام کرو اور جاٶ یہاں سے ۔۔
صام ایٹیٹوڈ سے ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔
س۔سر میں نے اپنے حصے کا کام کر لیا اب یہ فائل پر آپ کے سائن چاہے ۔۔۔
سکیٹری دوبارہ اٹکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
بابا اور ڈبل اے کہاں ہے ۔۔۔
صام اپنی سرخ گرین آنکھوں سے گھورتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ سر میٹنگ روم میں ہے اسیپن سے ایک ڈیل آفر آئ ہے پر آفندی سر مان نہیں رہے ۔۔۔
سکیٹری ڈر کے مارے فر فر بولا ۔۔۔
تم کیوں اٹک رہے ہو کیا سانس نہیں آ رہی ۔۔۔
صام اس کے ماتھے پر پیسنہ دیکھتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
و۔ہ۔چلو چھوڑو میں زرا میٹنگ روم جا رہا ہو ۔۔
صام اس کی بات کاٹتا اپنی چیئر سے کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔
لی۔لیکن سر یہ فائل پر سائن کر دے ۔۔
کس کی فائل ہے ۔۔۔
صام ریڈ فائل دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
س۔سر وہ شعیب خان کی وہ کہہ ر۔۔
چھوڑو اس کورنا کی جعلی ویکسین کو میں جا رہا ۔۔۔
صام اس کی بات کاٹتا بے نیاز سے چلا گیا تھا ۔۔۔
ہاے پتہ نہیں کیا ہونا ۔۔۔
————————————————————
مسٹر آہان ہم آپ کو پچاس کڑور کی رقم دے گے آپ بس یہ ڈیل مان لے ۔۔۔
مسٹر شہزاد چوہان نے ان کو لالچ دیتے کہا تھا ۔۔۔۔
سوری ہم یہ ڈیل نہیں کر سکتے ۔۔
آہان تحمل سے بولا تھا ۔۔۔۔
کیوں نہیں کر سکتے آپ لوگوں کو کرنا پڑے گا اسپین میں ہمارا اتنا بڑا بزنس ہے آپ کو بھی ف۔۔۔
اوےےے پٹر پٹر بولنے والے جب ڈبل اے نے کہہ دیا وہ یہ ڈیل نہیں کر سکتے تو کیوں فری میں اپنا یہ ننھا سا دماغ ضائع کر رہے ہو ۔۔۔
میٹنگ روم میں بیٹھا صام بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔۔
یہ کون ہے سانپ جیسی آنکھوں والا ۔۔۔
شہزاد نے غصہ سے چلاتے پوچھا تھا ۔۔۔
یہ بیٹا ہے میرا چھوٹا ۔۔
آفندی صاحب دانت پیستے بولے تھے ۔۔۔
اہہہہ ابھی تم بچے ہو بڑوں کو بات کرنے دو ۔۔۔
شہزاد مذاق اُڑاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ہاہاہاہاہااہاہاا صام آفندی کو ہلکا لے رہے ہو تم بندر ۔۔۔
صام طنزیہ قہقہ لگاتا اپنی چیئر سے آٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
کیا طریقہ ہے بات کرنے کا جانتے نہیں ہو میں کون ہو ایک منٹوں میں تمہاری یہ کمپنی بند کروا سکتا ہ۔۔۔۔
مسٹر شہزاد چوہان دنیا کی نظر میں ایک دہشتگرد جو کہ پاکستان سے باہر بھاگ گیا تھا ۔۔۔
وہاں اپنی بلیک منی سے یہ سو کولڈ بزنس کھڑا کر لیا ۔۔۔
وہی اپنی بلیک منی کو محفوظ کرنے کے لیے تم پاکستان آ کر سب سے ڈیل کرتے ہو ۔۔۔
پر افسوس ہم حرام کی کمائ ہرگز نہیں لیتے اگر جان بچانا چاہتے ہو تو یہاں سے بھاگ جاٶ ورنہ ایک فون کرو گا ساری پولیس یہاں آ جاۓ گی ۔۔۔۔
شہزاد جو غصہ سے بول تھا جب صام غصہ سے اسی کی گردن پکڑے شیشے کی ٹیبل پر اسے گرتے وہ بولا تھا ۔۔۔۔
شیشے کا ٹیبل سارا ٹوٹ گیا تھا جبکہ شہزاد بھی خون سے لت پت لیٹا ہوا تھا ۔۔
یہ سب اتنا اچانک ہوا آفندی صاحب اور آہان کو سمجھ ہی نہیں آیا ہو کیا رہا ۔۔۔
صام آفندی چھوڑو گا نہیں میں تمہیں۔۔۔
شہزاد زمین پر گرے ہی درد سے چلاتے بولا تھا ۔۔۔
پہلے خود کی حالت ٹھیک کر پھر مجھے پکڑ لینا بھاگ جا یہاں سے ورنہ بس سانیسں چھوڑی ہے تیری ۔۔۔
صام دوبارہ اسے گردن سے دبوچتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
م۔مسٹ۔مسٹر آفندی یہ پاگل ہے جھوٹ بول رہا اسے پاگل خانے بھیج دو ۔۔
شہزاد اپنی جان بچاتا آٹکتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔
کیا طریقہ ہے اس لیے تم یہاں آفس آے تھے خون خرابہ کرنے میں نے لندن اس لیے نہیں بھیجا تھا وہاں سے حیوان جنگلی بن کر آٶ حد ہے کیا حالت کی اس کی ا۔۔۔
کم بولا کرے بابا صرف آپ لوگوں کی وجہ سے بچ گیا وہ ورنہ جان نکال دیتا میں ۔۔۔
آفندی صاحب صام کو شولڈر سے پکڑتے بولے تھے جب صام بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
دفع ہو جاٶ یہاں سے ۔۔۔۔
آفندی صاحب غصہ سے چلاۓ تھے ۔۔۔
جی ضرور بس مس کالی کی وجہ سے میں آ گیا تھا اب جا رہا میں ۔۔۔
صام بے نیاز سا ہوتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
بابا یہ غلط ہے اچھا کیا اس نے آپ نے دیکھا کیسے صام کے چہرے پر زخم آیا ہے آپ پیار کی بجاۓ غصہ کر رہے ۔۔۔
آہان بھی غصہ سے بولا تھا ۔۔۔
کیا کرو ایسا میں یہ ٹھیک ہو جاۓ تمہارے سامنے ہے کیسے اس وحشوں کی طرح مارنے والا تھا ۔۔۔
لیکن بابا آپ بھی غلط کرتے ہے جانتے ہے دس سال کا تھا جب آپ نے اسے لندن اکیلے کو بھیج دیا تھا اور اب یہ ایسا بن گیا بس انیجل ہے جو اسے ٹھیک کر سکتی ہے صام کو محبت چاہے آپ وہ محبت دے جو محبت وہ انیجل سے لینا چاہتا ہے وہی آپ دے ۔۔
آہان نے سمجھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔
جبکہ آفندی صاحب چپ ہو گے تھے ۔۔۔
———————————————————–
کیا مسئلہ ہے یافی میں یہاں تمہیں اس لیے نہیں لایا تم سوتی رہو ترکی آنا تمہاری خواہش تھی اب کیوں ایسا کر رہی ہو ۔۔۔
زرجان نیند میں جاتی یافی کو دیکھتا غصہ سے بولا تھا ۔۔۔
مجھے طلاق چاہے ۔۔
یافی اس کی گرے آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
میں دے دو گا طلاق پہلے میرا حق دو ۔۔۔
زرجان یافی کے اوپر جکھتے دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ل۔لو ۔اپنا حق میں نہیں روک رہی ۔۔۔
ایک منٹ کے لیے یافی بھی گھبرا گی تھی لیکن ہمت جمع کرتی وہ بامشکل بولی تھی ۔۔۔۔
یہ تو ٹھیک ہو گیا ۔۔۔
زرجان اب یافی کی گردن پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
یافی بلکل بت بنی لیٹ رہی تھی ۔۔۔
اب اسے زرجان کے لب گردن سے نیچے محسوس ہو رہے تھے ۔۔
جیسے جیسے زرجان کا لمس وہ اپنے جسم پر محسوس کر رہی تھی ویسے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی ۔۔۔۔
بڑا شوق ہے تمہیں مجھ سے جان چھڑوانے کی امی گھر آئ ہے جب تک امی ہے تب تک ساتھ رہو اس کے بعد خودی چھوڑ دو گا تمہیں مس فیا۔۔۔۔
زرجان اپنے لبوں سے یافی کے آنسو صاف کرتا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
اتنا ٹائم نہیں تم اب۔۔۔۔
یافی جو چہرہ موڑے بول رہی تھی جب زرجان نے غصہ سے اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے اس کے لبوں پر لب رکھے ۔۔۔
تم نے صرف زرجان شاہ کی محبت اور نرمی دیکھی تھی آج سے میرا غصہ دیکھو گی بڑا شوق ہے تمہیں مجھ سے دور جانے کا تمہیں مجبور کر دو گا کہ تم میری سانسوں کے لیے ترسو گی تمہاری ان سانسوں کے پاس آ کر دور چلا جاٶ گا ۔۔۔
زرجان یافی کے لبوں کو کاٹتے بولا تھا ۔۔۔
یافی درد سے تڑپی تھی ۔۔۔۔
د۔دور ۔۔
نہیں مس فیا اب کیوں دور رہنا ۔۔۔
یافی درد سے چلاتے اسے خود سے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔
جب زرجان اس کے کان کی لو کا کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔
جی امی کسی ہے ۔۔۔
اس سے پہلے یافی بولتی جب زرجان کو فون آیا تھا تبھی وہ فون سننے بیڈ سے آٹھ چکا تھا ۔۔۔
کیسے ہوا یہ کہا بھی تھا خیال رکھنا امی آپ کی وجہ سے میں یہاں آیا ورنہ جانتی تھی میں آپ کو نہیں چھوڑتا ۔۔۔
زرجان پریشان ہوتا بول رہا تھا ۔۔۔۔
ہم۔آ رہے ہے ۔۔۔
زرجان فون کاٹ کرتے بولا تھا ۔۔۔
ک۔کیا ہوا ۔۔
یافی نے ڈرتے ہوۓ پوچھا تھا ۔۔۔
امی سیڑھیوں سے گر گی تم جانتی ہو امی ہی میری پوری دنیا ہے ہمیں جانا ہو گا ۔۔۔
زرجان بچوں جیسی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔۔
کیوں یہ اتنا اچھا ہے ابھی اتنے غصے میں تھا اور اب ایک بچہ لگ رہا ہے افففف کتنا غلط کر رہی میں ۔۔۔
یافی زرجان کا پریشان چہرہ دیکھتی ہوئ دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
میں تو پہلے ہی نہیں مانی تھی چلو چلتے ہے امی کو ضرورت ہے ۔۔۔
یافی بھی اسے غصہ دیکھاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
س۔سوری یافی یہ ب۔بس غصہ تھا ۔۔۔
زرجان یافی کو کمر سے پکڑتے اپنے قریب لاتے اس کے لبوں پر بنے زخم کو دیکھتا شرمندہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
گ۔ھ۔گھر چلے ہم ۔۔۔۔
یافی نظریں چڑاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
“ماضی ۔۔۔
یہ بارش بھی آج ہی ہونی تھی افففف کیا کرے رات بھی ہونے والی ۔۔۔۔
روحا باہر برستی ہوئ بارش دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
کیوٹ لیڈی باس کے گھر چلی جاتی ہاے ہمیں ڈر لگ رہا ۔۔۔
روحا پریشان سی ہوتی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
ہیر آپی کہاں ہے دیکھے ہم اکیلے رہ گے کوئ بھی ہمارے پاس نہیں ۔۔
اچانک روحا روتے ہوۓ سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
ک۔کون ہے ۔۔۔
ہال میں انٹر ہوتے کسی کو دیکھتی روحا ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
ت۔تم۔تم۔دور رہو ۔۔۔
روحا اسے سامنے دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
بہت ویٹ کروایا تم نے بلیک بیوٹی آج کوئ بھی تمہیں بچانے والا نہیں تمہاری وہ ماں جیسی بہن بھی نہیں رہی دنیا میں ۔۔۔
وہ خبابث سے قہقہ لگاتا روحا کے قریب آتا بولا تھا ۔۔۔
چھ۔چھوڑ ۔چھوڑو ہمیں جان سے مار دے گے ہم ۔۔۔
روحا نے جلدی سے والز آٹھا کے اسے مارتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
بہت اکڑ ہے تم میں آج بتاٶ گا میں ہو کون کوئ بھی نہیں بچاۓ گا تمہں ۔۔۔
وہ ایک ہی جھٹکے سے روحا کو شولڈر سے پکڑے ہوس لیے بولا تھا ۔۔۔۔
جاہل انسان وحشی درندے جان سے جاٶ گے تم یہ جان لو ایک لڑکی کا فائدہ آٹھا رہے تم ۔۔۔
روحا غصہ میں آتی اسے تھپڑ مارتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہا کتنے نرم ہاتھ ہے تمہارے ویسے ہو ایسی ہی کوئ تمہیں دیکھے تو ہوش ہی کھو دے ۔۔
اب مجھے ہی دیکھ لو روز میری ہوس کو آگ لگاتی تھی آج میری ہوس پوری ہو گی ۔۔۔
اس نے روحا کی شرٹ کا بازو پھاڑتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
دفع ہو جاو یہاں سے ۔ہ۔ہم ابھی لالہ کو فون کرتے ہے ۔۔۔۔
روحا اسے دھکا دیتی وہاں سے بھاگتی ہوئ بولی
تھی ۔۔۔
بچ پاٶ گی تبھی فون کرو گی اسے ۔۔۔
وہ اسے کلائ سے پکڑتا زمین پر گراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بچاٶ بچاٶ ۔۔۔
روحا بے بسی سے چلائ تھی ۔۔۔
ہاہاہااہاہ اور چلاٶ ویسے بھی بارش ہو رہی کوئ نہیں سننے گا ۔۔۔
وہ روحا پر جھکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں۔۔۔۔آپپپپپپپپیییییی ۔۔۔
وہ روحا کی شرٹ پھاڑ چکا تھا جب روحا درد سے چلائ تھی ۔۔۔۔
جبکہ وہ خوش ہوتا قہقہ لگا رہا تھا ۔۔۔
————————————————————“حال ۔۔۔۔
ارے بڑے دنوں بعد میک اپ کی دوکان آئ ہے ۔۔
روحا کومل کو دیکھتی طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔
میں تو کافی دن بعد آئ لیکن تم ویسی ہی ہو افریقہ کی بندری ۔۔۔
کومل بھی طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔
اہہہہ کیا نیم ہے ہمیں اچھا لگا ویسے کیوں آئ ہو وہ ٹھرکی تو یہاں نہیں ۔۔۔
روحا احمد کو گود میں لیے بولی تھی ۔۔۔
یہ کون ہے ۔۔۔
کومل احمد کو دیکھتے بولی تھی ۔۔۔
لالہ کا بیٹا ہے ۔۔۔
روحا خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا میں زرا صام کے روم میں جا رہی ۔۔۔
کومل کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں جاٶ پر ٹھرکی گھر نہیں ہے ۔۔۔۔
روحا ریلکس سی ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
ویسے کیسی بیوی ہو خودی بھیج رہی ہو اس کے پاس جبکہ تم جانتی ہو میں کتنی خوبصورت ہو اور تم بد صورت پھ۔۔۔۔۔
ہمیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ جو چیز آپ کے پاس ہو آپ کو پتہ ہوتا وہ آپ کے ہی پاس آے گی تو ہمیں ڈر نہیں تمہاری جیسی لڑکیوں سے چاہے لاکھوں لڑکیاں اس ٹھرکی کے پاس آ جاۓ ٹھرکی صرف روحا صام آفندی کے پاس ہی آۓ گا ۔۔۔
روحا کومل کی بات کاٹتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
بڑی اکڑ ہے ویسے ا۔۔۔۔
چلو جاٶ روم میں دیکھتے ٹھرکی کس کا ہے ویسے بھی آنے والا وہ ۔۔۔۔۔
روحا کومل کی بات کاٹتی پھر بولی تھی ۔۔۔۔
انہہ دیکھنا ابھی میرا حسن دیکھ کر وہ پاگل ہو جاۓ گا او۔۔۔۔
ہاں جاٶ شوق سے وہاں ہمارے ڈریس پڑے ہے پہن لینا ۔۔۔۔
روحا پھر بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ کومل تن فن کرتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
———————————————————-
واہ ہ مس کالی دن میں نائٹی پہنے کھڑی ہے ۔۔۔
آفس سے غصہ سے تن فن کرتا صام گھر آتا سیدھا روم میں آیا تھا ۔۔۔
جب اسے ریڈ نائٹی پہنے کھڑی روحا کی پشت دیکھی تبھی حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔
دفع ہو جاٶ یہاں سے کومل تم تو حد ہی پار کر رہی ہو۔۔۔
تھوڑا پاس جاتے صام تو حیران رہ گیا تھا کومل کو روحا کی نائٹی میں دیکھ تبھی غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔
حد تو ہم اس رات پار کر چکے تھے صام بے بی ۔۔۔
کومل صام کے سینے سے لگے پیار سے بولی تھی ۔۔۔
بکواس بند رکھو اس رات کچھ نہیں ہوا تھا آرام سے کہہ رہا دفع ہو ۔۔۔
صام کومل کو زور سے دھکا دیتے بولا تھا ۔۔۔
یہ کیا طریقہ ہے صام بے بی میں تو اس کالی سے کافی زیادہ پیاری ہو دیکھو مجھے اس میں کیا ہے جو مجھ میں نہیں ۔۔۔
کومل زمین پر گرتی ٹیبل سے ٹکڑای تھی تبھی طش میں آتی بولی تھی ۔۔۔
جاٶ یہاں سے کومل ورنہ بہت پچھتاو گی جس جسم پر تمہیں غرور ہے یہ نہ ہو صام آفندی تمہیں کتوں کے آگے ڈال دے رہ گی مس کالی کی بات جو اس میں ہے وہ دنیا کی کسی بھی لڑکی میں ہرگز نہیں ہے دفع ہو جاٶ اس سے پہلے میں بھول جاٶ تم لڑکی ہو ۔۔۔
صام چہرہ موڑے بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ کومل غصے سے اپنی نائٹی کھولے کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔
ہر مرد ایسے ہی کہتا ہے ا۔۔۔۔
ہر مرد ایسا کہتا ہو گا پر صام آفندی ہرگز ایسا نہیں ہے وہ صرف روحا صام آفندی کے لیے ہے جیسے ہر بیوی اپنے شوہر کے لیے اپنی آپ کو بچا کر رکھتی ہے ویسے ہی صام بھی صرف روحا کا ہے وہی ہے جس کے لیے صام نے آج تک اپنے آپ کو بچا کر رکھا ہے ورنہ وہ کب کا مر چکا ہوتا جاٶ یہاں سے اب۔۔۔۔
کومل کو قریب چلتی آ رہی تھی جب صام پھر بات کاٹتے غصہ سے دھاڑا تھا ۔۔۔۔
تمہں میں بہت جلد بتاٶ گی صام جس روحا کالی افریقہ کی بندری پر اتنا مان ہے وہ کیسے تمہارا یہ مان تھوڑے گی وہ خود تمہیں میرے پاس لاۓ گی تب تم خون کے آنسو رو گے یاد رکھنا ۔۔۔
کومل اپنی اتنی ذلت توہین محسوس کرتی اپنے کپڑے چیج کیے روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
ہاہاہااہاہا کیا ہوا مس میک اپ کی دوکان ۔۔۔
روحا جو آہان کا فون سنتی روم میں آ رہی تھی کیونکہ آہان اسے بتا چکا تھا صام کتنے غصہ سے گھر آیا ہے ۔۔
تبھی کومل کو روم سے غصہ سے باہر نکلتے دیکھ طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔
تم مس کالی صبر کرو تم رو گی بہت جلد۔۔۔
کومل غصے سے دانت پیستی ہوئ کہتی وہاں سے واک آوٹ کر چکی تھی ۔۔۔
دفع ہاےے اب اس ٹھرکی کو دیکھ لو ۔۔۔
روحا بیڈ کے قریب کھڑے صام کی کمر دیکھتی بولی تھی جو شرٹ لیس سکون سے کھڑا تھا ۔۔۔
کیوں کرتی ہو ایسا مس ڈراک چاکلیٹ ۔۔
روحا ابھی انٹر ہوئ تھی جب صام بنا دیکھے سردپن سے بولا
تھا ۔۔۔
آج غصہ کیوں کیا آپ نے بابا پریشان ہے ۔۔۔
روحا منہ بناتی اسے بیک ہگ کیے بولی تھی جانتی تھی غصہ بھی ٹھنڈا کرنا تھا اس کا ۔۔۔
تم ایک ہی دفعہ کیوں نہیں میری سانسیں لے لیتی یہ روز روز کے تماشے سے اچھا ہے جب جانتی ہو مجھے یہ حسن دیوانہ نہیں کر سکتا مجھے صرف تمہارا جنون ہے پھر ایسا کیوں کرتی ہو مس کالی کلوٹی ۔۔۔
صام روحا کو ایک ہی جھٹکے سے پکڑے اپنے سامنے لاتے سرخ گرین آنکھوں سے بولا تھا ۔۔۔
یہ بدبو کسی ہے گندی سی جیسے خون اور سیگریٹ ہو صام آپ نے سیگریٹ پی ہے ۔۔۔
روحا ساری بات اگنور کیے منہ برا کیے بولی تھی ۔۔۔
کیوں ایسا کرتی ہو ت۔۔۔
ہمارا دل خراب ہو رہا صام سیگریٹ ہمیں اچھی نہیں لگتی آپ نے پھر بھی پی ہے ۔۔۔
روحا صام کی بات اگنور کیے اس کے ہاتھ سے سیگریٹ لیے غصہ سے بولی تھی ۔۔۔
تمہیں واقعی سیگریٹ اچھی نہیں لگتی کیا پر میری مجبوری ہے غصے میں پیتا میں ۔۔۔
صام اپنے ہونٹوں سے سیگریٹ کا دھواں روحا کے چہرے پر نکالتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
نہیں پسند یہ گندی ہوتی ہے غصہ ہے تو مجھ پر نکالے یہ کیا طریقہ ہ۔۔۔۔
روحا جو مسلسل برے منہ بناۓ بول رہی تھی ۔۔
جب صام اس کے ہاتھ سے سیگریٹ لیتا ایک لمبا کش لیے روحا کا چہرہ پکڑتے اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے لبوں سے قید کیے سارا سیگریٹ کا دھواں اس کے منہ میں چھوڑ چکا تھا ۔۔۔
اپنی سانسوں میں دھواں شامل ہوتے دیکھ روحا کی ڈراک براٶن آنکھوں سے آنسو آۓ تھے ۔۔۔
جبکہ وہ اسے مکے مارتی دور کر رہی تھی جیتنا وہ خود سے دور کرتی وہ مدہوش ہوا اس کی سانسوں میں سیگریٹ کا دھواں چھوڑ رہا تھا ۔۔۔
ص۔ص۔صام انتہا کے کوئ ٹھرکی انسان ہے آپ ہماری سانس ا۔۔۔۔
روحا اسے دور کیے بامشکل گہرے سانس لیتی بولی رہی تھی جب صام اسے دوبارہ اپنی گرفت میں لیتا بیڈ پر گرتے اس کی سانسیں بند کر چکا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا مس ڈارک چاکلیٹ اب بولو ایسی ہی میری سانس جاتی ہے جب تمہارے علاوہ میرے قریب کوئ لڑکی آتی ہے چاہے دنیا کی ساری لڑکیاں میرے سامنے آے ۔۔۔
صام آفندی کو بس اپنی یہ مس کالی کلوٹی روحا صام آفندی کی ہی سانسیں چاہے ۔۔۔
صام روحا کو نرمی سے چھوڑے اس کا سرخ چہرہ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
دفع ہو جاۓ غلطی ہماری جو آپ کے پاس آ جاتے ہے ۔۔
روحا اسے دھکا دیتی بیڈ سے آٹھتے ہوۓ غصہ سے بولی تھی اسے ابھی تک سیگریٹ کی بدبو محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
تم کالی نہیں ہو چلو وہ بلیک ساڑھی پہنو ۔۔۔
صام ویسے ہی روحا کی گردن دیکھتا بولا تھا روحا بھول چکی تھی اس کا ڈوپٹہ کب سے اتر چکا تھا ۔۔۔
ہم نہیں پہن رہے آپ کیا کرے گے ہماری کالی کمر بازو دیکھ کر وہ میک اپ کی دوکان کو ہی ۔۔
پھر رات کو اس سے زیادہ سیگریٹ پلاٶ گا اگر میری بات نہ مانی ۔۔۔
صام کچھ سوچتا ہوا اسے دمھکی دیتا بولا تھا ۔۔۔
جان کے تو رہو گا تم کالی کیسے ہوئ اگر جسم کالا ہے تو گردن سفید اور ہونٹ کیسے گلابی ہو سکتے ہے ۔۔۔
روحا منہ بناۓ وڈراب چلی گی تھی جبکہ صام گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔
————————————————————
مالی کاکا یہ پانی دیکھ لے پودوں کو زیادہ لگ جاۓ گا ۔۔۔
روحا بلیک ساڑھی پہنے کھڑی مالی کو بول رہی تھی جبکہ صام کرسی پر بیٹھا مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
بلیک کلر کی ساڑھی پہنے بالوں کا بن بناۓ بنا میک اپ کیے وہ کھڑی تھی جہاں ساڑھی کا بلاوز بیک لیس تھا وہاں روحا نے ساڑھی کے پلو سے کور کیا ہوا تھا ۔۔
کیا کرو یہ مس کالی مجھ سے بھی زیادہ چالاک نکلی خود کو کور کیے کھڑی ہے کیسے پتہ کرواو یہ کالی نہیں ۔۔
صام مسلسل گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔
مالی کاکا آپ جاۓ ہم کر لے گے ۔۔۔
روحا پانی والا پائپ پکڑے بولی تھی ۔۔۔
آئیڈیا ۔۔۔
صام کچھ سوچتا روحا کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔
کیا مسئلہ ہے اب ۔۔
روحا اسے سامنے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
آو واٹر ڈے کھیلے ۔۔۔
صام پانی والا پائپ پکڑتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
م۔مط۔مطلب۔کیا۔۔
روحا ڈرتے ہوۓ بولی تھی سمجھ تو وہ بھی گی تھی صام کیا کرنے والا ہے ۔۔
مطلب یہ مس ڈراک چاکلیٹ میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہو ۔۔۔
صام نے یہ کہتے ہی فل پانی کا پائپ اس کی طرف کرتے کہا تھا ۔۔
ص۔صام صام کیا حرکت ہے صام روکے آپ سن رہے ہے ۔۔۔۔
روحا خود پر پانی گرتے محسوس کرتی غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔
جبکہ صام اب منہ کھولے ہکا بکا سا روحا کو پانی میں بھیگتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
