339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 45)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

جان میں بلکل ٹھیک ہو تم نے ڈاکٹر کیوں بلا لیا ۔۔

یافی لیڈی ڈاکٹر کو دیکھتی زرجان کی طرف دیکھتے بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ رات برف باری کی وجہ سے ڈاکٹر نہیں آ سکی تھی ۔۔

تبھی اب صبح اسے دیکھتی یافی بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

ضرورت تھی میری جان کیونکہ ساری رات تمہاری ایسی ہی طیعبت ایسی رہی تھی ۔۔۔

زرجان اسے نرمی سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

اچھا۔۔

یافی اب خاموش ہو چکی تھی ۔۔۔

———————————————————–

بڑی بات ہے دلبر جانی مسکرا رہا ہے ۔۔۔

ناشتے کی ٹیبل پر سب بیٹھے تھے جب مستقیم زرجان کو مسکراتے دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔

خوش ہو جاٶ سالے صاحب آپ لوگ ماموں بنے والے ہو ۔۔۔

زرجان دانت نکالے مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

جبکہ یافی نے شرماتے ہوۓ اپنا چہرہ جھکا دیا تھا ۔۔۔

کییییییااا ہاے میرے دلبر جانی کے بچے ہو گے ۔۔۔

دیکھا میں کہتا تھا ایک دن تو مجھے ماموں بناۓ گا ۔۔۔

مستقیم شوخ ہوتے اپنا ڈرامہ شروع کر چکا تھا ۔۔۔

وہی سب ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی ۔۔۔

سارے اب یافی اور زرجان کو مبارک باد دے رہے تھے۔۔۔

دیکھنا اب سوتیلی ناگن میں بھی تیرے بچوں کو مارا کرو گا اب تو میں ماموں بنے والا ۔۔۔

مستقیم یافی کے سر پر ہاتھ رکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

میں بھی تیرے گھر فساد ڈالا کرو گی روزانہ دیکھنا تیرے بچے تجھے گھر سے نکال دیا کرے گے ۔۔۔

یافی بھی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

میں بہت خوش ہو میرے بھی بھانجے ہو گے ۔۔

آہان بھی خوش ہوتا اسے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔۔

کس کے بچوں کے ماموں بنے والے لالہ ۔۔۔

صام سیڑھیاں اترتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

تو سڑیل انسان ماموں بنے والے ہو ۔۔۔

زرجان صام کی طرف دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

مبارک ہو میری سویٹ سی بہنا ۔۔۔

صام مسکراتا ہوا یافی کو اپنے سینے سے لگاۓ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

بس تم پیچھے رہ گے ڈیول ۔۔۔

منان صام کو دیکھتا گہری مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔

ہاں ایک بیوی ضدی کھڑوس ملی اوپر سے حالات ایسے ہو جاتے ہے ہاۓ میرے ظالم بچے لیٹ ہو رہے ۔۔۔

صام منان کے کان میں سرگوشی کرتا بیزار سی شکل بناۓ اپنی چیئر پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔

جبکہ صام کی بات کا مطلب سمجھتے منان کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

کس کے بے بی ہو رہا۔۔۔

روحا صام کی ہی شرٹ اور جیکٹ پہنے سیڑھیوں سے اترتی سب کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

بلیک بیوٹی ۔۔۔۔

ہیر جلدی سے بے تاب ہوتی روحا کے پاس جاتی دیوانہ وار اس کا منہ چومتے بولی تھی ۔۔۔

اپنی بہن کو معاف کر دو میری جان میں اچھی بہن نہ بن سکی ۔۔

ہیر اسے گلے لگاۓ روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

روحا حیران پریشان تھی یہ ہے کون ۔۔۔

ی۔یہ کون ہے دوست۔۔۔

روحا حیران نظروں سے صام کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

وہی سارے پریشان ہو چکے تھے روحا کی بات پر تبھی سب نے صام کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

روحا کی یاداشت چلی گی ہے بس کبھی کبھی اسے یاد آتا ہے اسی لیے آج ہم دونوں آسٹریلیا جا رہے اس کا علاج وہی ہو گا ۔۔۔

اور انیجل یہ آپی ہے تمہاری ۔۔۔

صام سکون سے جوس پیتا ہوا سب پر بمب پھوڑتا اب روحا سے مخاطب ہوا تھا ۔۔۔۔

اچھا۔۔۔

روحا اپنے دماغ پر زور دیتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

یہاں آٶ انیجل ناشتہ کرو ۔۔۔

صام نے جب دیکھا روحا پریشان سی سب سے مل رہی ہے تبھی وہ اسے آپنے پاس بلایا تھا ۔۔۔

ہم آتے ہے دوست۔۔۔

روحا اب خوشی سے چہکتے ہوۓ سب کے سامنے صام کی گود میں جا بیٹھی تھی ۔۔۔۔

ہم یہ سب روم میں کر سکتے ہے انیجل یہاں نہیں یہاں سب ہے ۔۔۔۔

صام نے جب دیکھا اب سارے منہ کھولے دیکھ رہے تھے تبھی وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے بولا تھا ۔۔۔

آپ سب کو برا لگا کیا یہ ہمارے دوست ہے ہم رات بھی ایس۔۔۔۔۔

روحا صام کی بات سنتی غصے سے منہ بناتی سب کو دیکھتی بول رہی تھی جب صام نے جلدی سے جوس کا گلاس اس کے لبوں سے لگایا تھا ۔۔۔۔

وہی سب کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔

روحا سب کچھ بھولے اب صام کی گود میں بیٹھی اسی کے ہاتھوں سے ناشتہ کر رہی تھی ۔۔۔

———————————————————–

کیا دیکھ رہی ہو انیجل ۔۔۔۔

مرحا روحا کے روم میں آتی اسے دیکھتی بولی تھی جو ونڈو کے پاس کھڑی چھپ کر کچھ دیکھ رہی تھی ۔۔۔

وہ ہم اس ہری بلا کو دیکھ رہے کافی غصے والے ہے ۔۔۔

روحا بہت ہی آہستہ آواز سے بولی تھی ۔۔۔

جیسے کوئ سن لے گا ۔۔۔

کون ہری بلا ہے ۔۔

مرحا نے پاس جاتے حیران ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔

یہ والی بلا جب بھی دیکھتے ہے ایسے لگتا کھا جاۓ گے ہمیں اور پتہ رات کیا ہوا ۔۔۔

روحا کھڑکی کے پاس مرحا کو باہر دیکھاتے منہ

بناتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں فارم ہاوس سے باہر کھڑا صام منان کے ساتھ کوئ بات کرنے میں بہت حد مصروف تھا ۔۔

چہرے پر انتہا کی سنجیدگی تھی ۔۔۔

ارے میرا دیور بہت پیارا ہے اور تم سے محبت بھی بہت کرتا ہے ۔۔۔

مرحا باہر دیکھتی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

اچھا ہمیں نہیں یاد آپ کو ہم بتاۓ یہ دوست واقعی پیار کرتے ہے اور رات وہ سب۔۔

روحا رات کے بارے میں سوچتی سرخ چہرہ لیتی مرحا کو سب کچھ بتا چکی تھی ۔۔۔

ہاہہاہااہا انیجل اگر اس دیور سانڈ کو پتہ چل گیا تم نے مجھے رات والے سارے سین بتا دے وہ جان سے مار دے گا ۔۔۔

اس لیے کہہ رہی ایسی باتیں صرف دیور کے سامنے کرنا سب کے سامنے نہیں ۔۔

مرحا روحا کے گال پر ہاتھ رکھتی قہقہ لگاتی اسے سمجھاتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔

اسے ڈر تھا کہی صام اسے ہی نہ مار دے ۔۔

————————————————————

ہری بلا ۔۔۔

ہری بلا۔۔۔

صام اور منان دونوں بات کرنے میں مصروف تھے جب دونوں کو یہ آواز سنائ دی ۔۔۔

منان نے سامنے دیکھا تو مسکرا اٹھا کیونکہ روحا کھڑکی سے منہ باہر نکالے صام کو آوازیں دے رہی تھی ۔۔۔

ڈیول تمہیں انیجل بلا رہی ہے ۔۔

منان نے صام کی توجہ روحا کی طرف کروائ ۔۔۔

ہاے دوست ڈیول ۔۔۔

صام نے گردن موڑے ایک لمحہ کے لیے دیکھا تھا جب روحا اپنا ہاتھ ہوا میں لہراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

تبھی اسے اگنور کیے منان سے بات کرنے میں مصروف ہو چکا تھا ۔۔۔

بات کیوں نہیں کر رہے اس سے ۔۔۔

منان نے صام کی طرف دیکھتے کہا تھا جو اگنور کیے بات کر رہا تھا ۔۔

میں ناراض ہو اس سے ہر دفعہ بچانے کی کوشش کرتا ہو یہ ہر دفعہ کوئ غلطی کر جاتی ہے ۔۔۔

صام چہرے پر سرد پن لاۓ بولا تھا ۔۔۔

آپ ڈیول دوست نہیں بات کرے گے تو ٹھیک ہے ہم بھی آپ جیسی ہری بلا سے بات نہیں کرے گے ۔۔۔

کیا سمجھتے ہے ہمیں آپ پیارے کیا لگتے آپ ہمیں اگنور کرے گے انہہہ۔۔۔

روحا کب سے اسے بلانے کی کوشش کر رہی تھی جو اگنور کیے پہاڑ بنا کھڑا تھا ۔۔۔

تبھی شدید طش میں آتی وہ چلائ تھی ۔۔۔

وحشی ۔حیوان سانڈ موٹے ۔بندر۔ڈیول۔۔۔

ہری بلا ۔کتنے موٹے ہے رات آپ نے ہمارے ساتھ کیا کیا جاۓ اب ہم آپ کو کس بھی نہیں دے گے ۔۔۔

روحا اب اُونچا اُونچا بول رہی تھی منان سے ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔

وہی روحا کی باتیں سنتے صام کے کان کھڑے ہوۓ تھے تبھی وہ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔

چپ کرو ت۔۔۔

کیوں چپ کرے ہم سب کو بتاۓ گے آپ رات کو کیا کرتے ہے مانی لالہ آپ جانتے ہے رات کیا ہوا تھا ۔۔

تبھی روحا بھی منہ بناتی منان سے باتیں کرنی سٹارٹ کر چکی تھی ۔۔۔

وہی صام اب شدید غصے سے فارم ہاوس کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔

تم روکو یہی میں تمہارا علاج کرتا ہو ۔۔۔

صام اسے سرخ گرین آنکھوں سے گھورتا ہوا اندر جاتے بولا تھا ۔۔۔

ہم نے نہیں دیکھنا آپ کو ہری بلا ۔۔۔

اہنہہ۔۔۔

روحا اسے تنگ کرنے میں کامیاب ہوتی کھڑکی کو بند کرتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

———————————————————–

کھولو دروازہ اب ۔۔۔

صام روحا کے دروازے کو لات مارتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔

نہیں کھولے گے کیا کرے گے ہری بلا ۔۔۔

انہہ۔۔

روحا دروازے پر اپنا نازک سا ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔۔

اہہہ انیجل ڈر گی اچھا ویسے والا پیار کرو گا ۔۔۔

صام اسے بہلاتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔

ہم نے نہیں کرنا سمجھے۔۔۔

روحا دروازہ تھوڑا سا کھولے بولی تھی ۔۔۔

وہی صام نے تھوڑا سا دروازے کو دھکا دیتے زبردستی اندر گھس گیا تھا ۔۔۔

ایسی بہکانے والی حرکتیں نہ کیا کرو جانتی ہو میں کتنا بڑا جنونی سائیکو ہو تمہارے لیے ۔۔

میری کوئ ناراضگی نہیں ہے تم سے میری جان میں بس تنگ کر رہا تھا ۔۔۔

تم چاہے کسی بھی دنیا میں چلی جاٶ وہ دنیا بھی میری ہی ہو گی ۔۔۔

اس سے پہلے روحا بچاٶ کے لیے بھاگتی جب صام اسے پیٹ سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ اس کی گردن میں منہ چھپاۓ بولا تھا ۔۔۔

روحا کے ہاتھوں میں پسینہ آیا تھا صام کی قربت سے ۔۔

ہ۔ہم۔ب۔بھی مذاق کر رہے تھے ۔۔۔

روحا بھی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

اس کے لمس میں نا جانے ایسی کیا حرارت تھی کہ اسے اپنا جسم جلتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا ۔۔

“اااا۔۔۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔آپ کیا کر رہے ہیں؟”۔۔

روحا نے دھڑکتے دل اور بگڑتے تنفس سے ہکلاتے ہوئے اس سے پوچھا تھا جو اسکے گرد اپنا حصار بنائے اسے ساکت کر گیا تھا۔۔۔

” پیار”۔۔

صام نے سرگوشی کرتے کہا تھا ۔۔

اسکے یک لفظی جواب نے تو مانو روحا کے پیروں تلے سے زمین کھینچی تھی۔ کانوں سے دھواں سا نکلا تھا۔۔۔

” آ۔پ ۔۔۔۔آپ ہمیں بہت تنگ کرتے ہیں۔”۔۔

روحا نے منہ بناتے ہوۓ اس کے مقابل کھڑے ہوتے کہا ۔۔

تو وہ اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا تھا۔۔

” اچھا بتاؤ میرے جسم میں تمہیں کیا چیز سب سے زیادہ پسند ہے؟”۔۔

صام نے اسے دیکھتے گمبھیر آواز میں سوال کیا۔۔

صام کی بات سنتے اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑے تھے۔۔۔

وہ تو حیران رہ گئی تھی اس کا یہ بے باکانہ روپ دیکھ کر۔۔۔

” بتاؤ۔”

وہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی جب اس نے پھر پوچھا۔۔

مگر وہ تو چپ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی کچھ بول ہی نہیں رہی تھی۔۔۔

” بتاٶ انیجل ۔”۔۔

صام اگلے ہی لمحے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگائے محبت سے چور لہجے میں بول رہا تھا۔ ۔۔۔

روحا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمودار ہونے لگی تھی۔۔

اب کیا ہوا میری انیجل کو۔۔۔

وہ اسکی پلکوں کو کبھی آنکھوں کو چھپاتا تو کبھی آنکھوں سے اوپر اٹھتے دیکھ پوچھ رہا تھا۔۔

“ڈیول دوست آپ بے شرم ہے “۔۔

وہ اسے دیکھتی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے بتا رہی تھی ۔۔۔

جب صام کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ ابھری۔۔۔

” ہاۓ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا ۔۔۔

چلو اب بتاؤ میرے جسم میں سب سے اچھی چیز کیا ہے؟”

وہ اپنی سرخ گرین آنکھیں اسکی ڈراک براؤن آنکھوں میں ڈالے پوچھ رہا تھا۔۔۔

روحا نے اسکے چہرے پر دیکھا تو وہ کسی شاہکار سے کم نہ تھا۔ ۔خدا کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ مردانہ وجاہت کا مکمل شاہکار۔ سرخ گرین وحشت سے بھری گہری آنکھیں، اس پر مغرور ناک اور قیامت ڈھاتا گورا رنگ جس پر اپنی جانب کھینچ لینے والی کشش تھی۔ ۔۔۔

وہ اسے دیکھتی رہی پھر اچانک اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دئیے بغیر اس نے اپنی انگلی اسکے سینے پر دل کے مقام پر رکھی۔۔

صام جو اسے تنگ کر رہا تھا۔ اسکے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔۔

روحا نے اپنی انگلی وہاں رکھی اور پھر اگلے ہی لمحے اٹھا لی۔

وہ تو حق دق سا اسکی دیدہ دلیری دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔

” تمہیں میری خوبصورتی کو چھوڑ میرا دل پسند آیا؟ بہت بے وقوف ہو تم کیونکہ اگر تمہاری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اسکا انتخاب ضرور میری آنکھیں ہوتی۔ جن میں کسی کو بھی ڈوبا دینے کی سکت رکھتا ہوں میں۔”۔۔

صام ہوش میں آتا اسے دیکھتا بول رہا تھا۔۔

جبکہ اسکی بات اسکے سینے سے لگی روحا کو بری لگ گئی تھی۔ ۔۔

روحا نے پیچھے ہوتے روٹھے پن سے گھورا تھا اسے ۔۔

آپ کی یہ ہری بلا والی آنکھوں سے وحشت آتی ہے ۔۔۔

” خوبصورتی کا کیا ہے وہ ایک دن ختم ہو جائے گی۔ حسن لازوال نہیں۔ ہاں اگر کوئی چیز لازوال ہوتی ہے تو ۔۔۔۔تو وہ ہے دل جہاں خدا بستا ہے۔ ہمیں کبھی بھی آپ کی خوبصورتی نے متاثر نہیں کیا۔۔

ہمیں آپ کا دل خوبصورت لگتا ہے تبھی ہم آپ کی محبت میں گرفتار ہو گے ۔۔۔

روحا پیار سے صام کی آنکھوں میں دیکھتی ادھوری بات کرتی مسکرائ تھی ۔۔

اور ہاں۔۔۔۔۔”

روحا نے اس کا گریبان پکڑتے اپنے قریب لاتے بات ادھوری چھوڑی تھی ۔۔۔

جب اسکی بات ادھوری چھوڑنے پر صام نے آبرو آچکا کر دیکھا جیسے اگلی بات جاننا چاہتا ہو۔۔۔۔

” آج یہ لفظ بول دیا ہے آئندہ کبھی بولا تو جان لے لوں گی۔ ہماری جگہ کوئی اور لڑکی نہیں ہو سکتی۔۔۔

نہ آج نہ کل اور نہ آئندہ کبھی۔ آپ یہاں بھی ہمارے ہیں اور آخرت میں بھی ہمارے ہی ہیں۔ یہاں تک کے حوروں کو بھی ہم آپ کے پاس بھٹکنے کی اجازت نہیں دے گے سمجھے آپ۔۔۔

آپ ہمارے تھے، ہمارے ہیں اور ہمیشہ ہمارے ہی رہیں گے۔”۔۔

وہ جنونی سے انداز میں اس پر اپنا حق جتاتی اسے بتا رہی تھی۔۔۔

صام حیران تھا کہ اچانک اسے ہوا کیا ہے۔ وہ جو اسکی ایک ہی زومعنی بات سے شرما کر رہ جاتی تھی آج مقابلے پر اتر آئی تھی۔۔۔

” میری جان تمہاری جگہ کوئی اور لے ہی نہیں سکتا۔ اب اتنی ہمت دکھا ہی دی ہے تو تھوڑی اور دکھا دو۔”۔۔

صام اسے ذو معنی انداز میں کہتا شرمانے پر مجبور کر گیا تھا۔ اس نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔

” آااا۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔

ششششش۔۔۔۔۔ چپ ۔”

ابھی وہ کچھ کہتی کہ اس نے اپنی انگلی اسکے ہونٹوں پر رکھے اسے کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا۔ ۔۔

آپ ہمیں بتاۓ کیسے ہماری شادی ہوئ ہمیں کچھ بھی یاد نہیں ہے ۔۔۔

روحا جلدی سے صام کو روکتے بولی تھی ۔۔۔

صام کو کافی دکھ ہوا تھا روحا کی بات سن کر پر

برداشت کر گیا تھا ۔۔۔

اسے کیسے بھی کر کے روحا کی یاداشت واپس لانی تھی ۔۔۔

———————————————————–

چار سال پہلے تمہیں میں نے کیفے میں دیکھا تھا بس وہی دیوانہ ہو گیا ۔۔۔

اس سے پہلے میں گھر بات کرتا کہ مجھے پتہ چلا کوئ فرحان نام کا دہشتگرد تمہارے پیچھے پڑا ہے نکاح کرنے کے ل۔۔۔

ہاےےے پھر ہمارا نکاح نہیں ہوا کیا ہماری بڑی خواہش تھی کوئ گینگسٹر ٹائپ آدمی ہم سے عشق کرے اور ہم بھی اس سے عشق کرے ۔۔

صام روحا کو اپنے سینے پر لیٹاۓ بول رہا تھا جب روحا بے تاب ہوتی چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

وہی صام نے جلیس ہوتے منہ بنایا تھا ۔۔۔

میں بھی ڈیول ہو یار ۔۔۔

صام نے معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

مطلب آپ مارتے سب کو یاہووووو۔۔۔

ڈیشوم ڈیشوم کر کے ۔۔۔

روحا صام کی بات سنتی اس کے گال پر لب رکھتے بولی تھی ۔۔۔

میں تم سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن اگر گھر کہتا تو بابا کی بات ہوتی کہ میں آوارہ نکما لڑکا ہو وہ میری شادی تم سے نہیں کرواۓ گے ۔۔

میں نے ڈرامہ کیا ترکی جانے کا کہ میں واپس نہیں آٶ گا بلا بلا ۔۔

پھر ہمارا نکاح ہو گیا میں اس دن بہت خوش تھا مجھے میرا عشق مل گیا تھا ۔۔۔

میں بہت خوشی سے تمہارے روم میں آیا تھا تاکہ مل سکو لیکن تم نے میری ایک نہ سن کر انسلٹ کر دی مجھے بھی غصہ آیا میں نے بھی تمہاری انسلٹ کرتے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔

لیکن ان تین سالوں میں کبھی بھی تم سے غافل نہ ہوا تھا ۔۔۔

ایک ایک پل کی خبر مجھے تھی تمہاری کب کھایا کیا پیا کہاں گی کیا پہنا سب کچھ مجھے پتہ تھا ۔۔۔

ہر چیز پر میری نظر تھی ۔۔۔

بلکہ آج بھی جو کچھ تم نے پہنا ہے چاہے پرسنل ہی سہی سب میری مرضی کا ہے میں ہر ایک چیز اپنے ہاتھوں سے لیتا تھا وہ پاکستان بھیج دیتا تھا ۔۔۔

بس تم سے بات نہیں کرتا تھا میں کہی تم مجھے یہ نہ کہو میں ہوس پرست ہو ۔۔۔

لیکن تم نے ایسا ہی سوچا تھا ۔۔۔۔

بڑی مشکل سے میں نے آج اپنا جنون چار سال بعد ملا ہے میں جیتنا خوش ہو میں بتا نہیں سکتا ۔۔۔

شکریہ میری انیجل مائ لو میری سانسوں میں بستی ہو تم ۔۔۔

صام روحا کا ماتھا چومتا ہوا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

مطلب ابھی بھی جو ہم نے پہنا وہ بھی آپ کی مرضی سے پہنا ہم۔نے ۔۔۔

روحا ساری بات سنتی اب سرخ چہرہ لیتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں میری جان جو بھی پہنا ہے میری مرضی کا پہنا ہے یہ ڈائمنڈز کی نوز رنگ یہ چین شرٹ کپیری ا۔۔۔۔

بس بس آپ تو زیادہ ہی بے شرم ہے توبہ توبہ ۔۔

صام اب شوخ ہوتا اسے گہری نظروں سے دیکھتا بول رہا تھا جب روحا دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ اس کی بات روک گی تھی ۔۔۔۔

ہاہااہا شرما گی ۔۔۔

صام اس کی حالت انجواۓ کرتا قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

کافی زیادہ بے شرم اور گندے ہے ۔۔

روحا اسی کے سینے میں چہرہ چھپاۓ بولی تھی ۔۔۔

اب جیسا بھی ہو تمہارا ہو ۔۔۔

صام اب کروٹ چینج کیے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔

اب وہ آہستہ سے روحا کی سانسیں پی رہا تھا ۔۔۔

———————————————————

بھاگو یہاں سے پاگل لڑکی ۔۔۔

روحا بیڈ پر گہری نیند سو رہی تھی جب اسے کومل نے بازوں سے پڑتے جاگاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

ک۔کو۔کون ہو۔۔۔

روحا نیند سے جاگتی پریشان ہوتی کومل کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

میں دوست تمہاری اب جاٶ یہاں سے جلدی ۔۔

کومل اسے بازو سے پکڑے روم کی کھڑکی کے پاس لاتی بولی تھی ۔۔۔

کیوں۔۔

روحا نے ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔۔

یار وہ ہری بلا تمہیں پاگل خانہ چھوڑنے جا رہا ہے تو یہاں سے بھاگ جاٶ۔۔۔

کومل اسے کھڑکی سے باہر نکالتی جلدی جلدی بولی تھی ۔۔

لیکن ہم پاگل نہی۔۔۔

میں جانتی ہو تم پاگل نہیں تبھی کہہ رہی جاٶ یہاں سے ۔۔

روحا کھڑکی کے ساتھ بنی چھوٹی سی روش پر کھڑی ہوتی پریشان ہوتی بول رہی تھی جب کومل سکون سے بولی تھی ۔۔۔

جھوٹے سب ہم کسی سے بات نہیں کرے گے اچھا بتاٶ یہاں سے کیسے جاۓ اتنی برف ہے ۔۔

روحا شدید غصے میں آتی اب نیچے دیکھتی بولی تھی جہاں برف ہی برف تھی ۔۔۔

اسے ڈر تھا کہ وہ کیسے نیچے جاۓ گی ۔۔۔

ایسے ۔۔۔

کومل نے کہتے ساتھ ہی روحا کو زور کا دھکا دیا تھا ۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ۔۔۔

ڈیو۔ڈیول۔دوس۔دوست۔۔۔

روحا حیران پریشان چیختی ہوتی چلاتی اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔