339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 17)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

ارے واہ دو ٹکے کے پولیس والے مجھے بچانے آۓ ہے ۔۔۔

ڈیول راسیوں سے باندھا ہوا تھا جب سنسنان وحشت ناک ہال نما کمرے میں منان اور مستقیم کو انٹر ہوتے دیکھ طنز کرتے بولا تھا۔۔۔۔

بکواس کروا لو تم سے ڈیول بس تجھے سکون ہی نہیں ہے بتا پاشا کدھر ہے ۔۔۔

منان دانت پیستا ہوا گن لوڈ کیے آس پاس دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

پتہ نہیں کہاں ہے خودی دیکھ لے ۔۔

ڈیول ویسے ہی سکون سے بیٹھا بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

مطلب تجھے پاشا نے نہیں پکڑا تھا ۔۔۔

مستقیم حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔

پکڑا تھا اسے نے تبھی مجھے باندھ دیا ۔۔۔

ڈیول ویسے ہی سکون سے بولا تھا ۔۔۔

اتنے سکون سے کیسے ہو سکتے ہو تم اگر وہ یہاں ہے تو نظر کیوں نہیں آ رہا ۔۔۔

منان غصہ سے چلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

لائٹ بہت کم ہے یہاں کی مجھے تم لوگوں کی شکل نظر نہیں آ رہی ۔۔۔

ڈیول چھت کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

اوووو شیٹٹٹٹ پاگل ہو گے کیا اسے کیوں مار دیا ڈیول ویٹ کر سکتے تھے ہم بچانے کے لیے آ سکتے تھے ۔۔۔

منان اور مستقیم چھت کی طرف دیکھتے ایک ساتھ چلاۓ تھے کیونکہ پاشا کے ایک ایک جسم کا ٹکڑا لٹک رہا تھا ۔۔۔

وہاں کھڑے منان اور مستقیم کا دل کیا وہ الٹی کر دے کیونکہ چھت سے خون ٹپک رہا تھا ۔۔۔۔

مجھے ویٹ کرنا پسند نہیں او۔۔۔

اگر یہ مر گیا ہے تو تمہیں باندھا کس نے ہے ۔۔۔

ڈیول جو سکون سے بیٹھا بول رہا تھا جب مستقیم کچھ سوچتا بولا تھا ۔۔۔۔

ارے یہ تمہارے دو ٹکے کے پولیس والے دیکھو ابھی آتے ۔۔۔

ڈیول منہ بناتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

جبکہ سرخ گرین آنکھیں خون آلود ہوئ تھی ۔۔

پاشا کو مرنا ضروری ہو گیا تھا وہ خواجہ سراوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا تھا آج صبح ایک خواجہ سرا کے ساتھ زیادتی کر کے اس نے اسے کاٹ کر مار دیا تھا ۔۔۔

بس ڈیول نے وہی کیا ہاں اس کا دل میرے پاٶں کے نیچے ہے دیکھو یہاں ۔۔۔

ڈیول شوک میں کھڑے منان اور مستقیم کو دیکھتا اپنے پاٶں کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا۔۔

جہاں اس کے بلیک لونگ شوز خون آلود ہوۓ تھے جبکہ دل کا قیمہ بنا ہوا تھا ۔۔۔

میرا سوال وہی ک۔۔۔۔

یہ کیا طریقہ ہے جانتے نہیں ہو کیا ہم کون ہے ۔۔

منان جو بول رہا تھا جب مستقیم اور منان کو پولیس کے کچھ آفسرز سے پکڑا تھا ۔۔۔

تبھی مستیقم چلایا تھا ۔۔۔

ڈی ایس پی منان اور ایس پی مستقیم جہاں تم جیسے اور ڈیول جیسے لوگ ہو گے وہاں ہمارے جیسے رشوت خور انسانوں کا کچھ نہیں ہو سکتا مطلب ہم کوئ برا کام نہیں کر سکتے ۔۔۔

بس سوچا تم تینوں کو مار دیا جاۓ ۔۔۔

پولیس آفسر گن اس کے سر پر رکھتا ہوس لیے بولا تھا ۔۔۔

کیسے پولیس والے ہو ہمیں ہی جان سے مارنا چاہتے ہو جانتے ہو اگر ہم بچ گے تو کیا ہو گا ۔۔۔۔

منان غصہ سے غرایا تھا ۔۔۔

ارے اس ڈیول نے بچا لیا تم دونوں کو ورنہ جرمنی میں تمہارا قتل ہوتا اور اس مستقیم کا آج قتل کرتے جب یہ گھر جاتا پتہ نہیں تم دونوں کو کیسے پتہ چل گیا ڈیول کو پاشا نے پکڑ لیا اور یہاں بھاگے بھاگے آ گے ۔۔۔۔

پولیس آفسر افسوس کرتا بولا تھا ۔۔۔

ابے یار جلدی مارو میں بور ہو رہا یہ خون کی سپمل بہت آ رہی ہے میری انیجل کو محسوس ہو جاۓ گی جلدی مارو دونوں کو اس مستقیم کو زیادہ مت مارنا اس نے تھوڑی سی شادی کرنی او۔۔۔

ٹھاہہہہہہ چپپپپ۔۔۔

ڈیول نے اپنی گردن ٹیڑھی کیے بول رہا تھا جب آفسر نے غصہ سے چلاتے گولی چلائ تھی ۔۔۔

سب سے پہلے اس ڈیول کو مارو گا بہت بولتا ہے تو مارو اس کو ۔۔

آفسر نے غصہ سے گن ڈیول کی طرف کرتے اپنے ساتھ لاۓ آفسر کو آڈر دیا تھا ۔۔۔

بیس آفسر گن لوڈ کیے ڈیول کے آس پاس کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔

آہہہہہہ صبح نیوز آۓ گی بہت ہی قابل آفسر ایک مشین کو پورا کرتے بمب بلاسٹ میں مر گے ہاےےے افسوس بہت ہوا ۔۔۔

ڈیول اپنی گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔

مطلب۔۔

آفسر نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔۔۔۔

کچھ نہیں ۔۔

ڈیول نے اپنے کندھے اچکاۓ تھے ۔۔۔

منہ کیا دیکھ رہے ہو شوٹ کرو ڈیول کو ۔۔۔

آفسر اپنے ساتھیوں کو خاموش کھڑے دیکھ غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔

دیکھو تمہاری دشمنی ہمارے ساتھ ہے پھر ڈیول کو کیوں ما۔۔۔۔۔

یہ لائٹس بند کی کچھ دیکھائ کیوں نہیں دے رہا ۔۔۔

منان جو بول رہا تھا تبھی لائٹس آف ہوئ تھی ۔۔۔

———————————————————–

شکر ہے لائٹ آی تم لو۔۔۔۔۔

ہال میں دوبارہ روشنی دیکھتے وہ آفسر بول رہا تھا جب سامنے کا منظر دیکھتا اس کے رونگھٹے کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔

اس کے ساتھ لاۓ آفسر زمین پر کاٹے ہوۓ ٹکڑوں میں پڑے تھے ۔۔۔

جبکہ ایک طرف منان اور دوسری طرف مستقیم اور سینٹر میں ڈیول کھڑا تھا ۔۔۔۔

کیا ہوا چپ کیوں ہوۓ وہ کتنی فعہ کہہ چکا مجھے ٹائم ویسٹ کرنا اچھا نہیں لگتا چلو اچھے بچوں کی طرح مار جاٶ ۔۔۔۔

ڈیول ویسے ہی سکون سے کھڑا اپنی گردن میں لاکٹ پہنے اسے گھومتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

ی۔ی یہ کی۔کیسے ۔۔۔

آفسر اپنا پیسنہ صاف کرتا ڈرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

دوستی کا مطلب سمجھتے ہو ۔۔۔

ڈیول اسے دیکھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

وہ پورا خون سے لت پت کھڑا تھا جبکہ چھت سے بھی خون ٹپک کر اسے کے اوپر گر رہا تھا ۔۔۔

ن۔معا۔ف ۔۔

نہیں ڈیول کی فہرست میں معافی نہیں موت ہوتی ہے تم نے میرے دوستوں کو موت دینے کا سوچا تھا ڈیول اپنی دوستی بچانے کے لیے سب کچھ کرے گا ۔۔۔

میں جانتا ہو یہ مجھے دوست نہیں مانتے لیکن ڈیول مانتا ہے عہدِوفا کیا تھا ڈیول اپنی جان سے بڑھ کر دوستی بچاۓ گا تم کیا سمجھے تھے تم لوگوں کے قابو میں آ گیا ڈیول غلط ۔۔

ڈیول کے قابو میں تم لوگ آے دیکھو سب کو گہری نیند سو رہے ۔۔۔

ڈیول چلتا اس کے قریب آتا بولا تھا ۔۔۔

چ۔ل۔۔

اچھا بہت بات ہوئ چلو ہم چلتے ہے ۔۔۔۔

اس کے بولنے سے پہلے ڈیول اپنی گردن میں پکڑے لاکٹ کو آفسر کے دل کے مقام پر ٹچ کرتا بولا تھا ۔۔۔

روکو روکو ۔۔۔

آفسر دور جاتے ان تینوں کو روکتا بولا تھا ۔۔۔

وہ تو حیران تھا کیوں بچ گیا ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہہاہاہاہہااہاہہاہااہاہاہااہاہاا۔۔۔

ڈیول کو ہلکا لے لیا تھا بچارے نے چچچچچچ۔۔۔

ڈیول نے قہقہ لگاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

دیکھو ڈیول شکریہ تم نے جان بچائ ہماری پر یہ کام چھوڑ دو ۔۔۔

منان اور مستقیم نے نرمی سے کہا تھا۔۔۔

دنیا کی نظر میں ہم دشمن ہے پر حقیقیت میں اچھے دوست ہے ۔۔۔

سوری مانی میں یہ کام نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔

جاٶ یہاں س۔۔۔۔

ٹھھھھھھاااااا۔۔۔۔

ڈیول منان مستقیم تینوں اس جگہ سے کافی دور آ گے تھے جب پیچھے دھماکے کی آواز سنائ دی تھی ۔۔۔۔

مر گیا وہ ان جیسے لوگوں نے پولیس کو بدنام کیا ہے جاٶ دیکھو تم لوگوں کے بہادر آفسرز مارے گے جو دنیا کی نظر میں اچھے تھے ۔۔

تم لوگوں کا کام آسان کر دیا ۔۔۔

یاد رکھنا ڈیول کی آٹھ آنکھیں ہے۔۔

جو اپنے سارے دوستوں پر رکھتا ہے ۔۔۔

ڈیول طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔

لیکن وہ تو بچ گیا تھا پھر یہ بلاسٹ کیسے ۔۔

مستقیم حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔

اس کے دل پر بمب فٹ کیا تھا میں نے بلکل چاول کے دانے جیسا تھا بس پھر ٹھھھھھااا ہی ہونی تھی پاگل انسان ۔۔۔

ڈیول مستقیم کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

چلو گھر ہ۔۔۔۔

میرا گھر ہے میں وہی جا رہا ۔۔۔

مستقیم بول رہا تھا جب ڈیول بات کاٹتا وہاں سے جا رہا تھا ۔۔۔

منان کیا ہم نے واقعی ڈیول کے ساتھ غلط کیا تھا ۔۔۔

مستقیم دور جاتے خون میں لت پت ڈیول کو چلتے دیکھ وہ بولا تھا ۔۔۔

پتہ نہیں یار لیکن غلطی ہو گی ڈیول نے ہر موڑ پر دوستی نبھائ ہے ۔۔۔

منان دکھی ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہممم چل چلتے ہے ویسے اچھا کیا ڈیول نے ہمیں ہی نہیں پتہ تھا غدار ہمارے پاس رہتے ہے ۔۔۔

منان اور مستقیم چلتے ہوۓ جا رہے تھے جب مستقیم بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

کیوں ایسا کر رہے ہو جانتے ہو میری شادی ہو چکی ہے ۔۔۔

میں ایسی نہیں ہو ۔۔۔

یافی فون پر بات کرتی چلائ تھی ۔۔۔

ہاہاہاہہا یافی بے بی کرو گی تم وہی جو میں کہو گا ۔۔۔

نعمان قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔

جیسٹ شیٹ اپ ۔۔

زرجان تمہارے جیسا گھیٹا نہیں ہے ا۔۔۔

ہاہاہاہہاہاہااہاہاہ وہ بھی ایسا ہی مرد ہے جیسے ہم ہے وہ یقین ہی نہیں کرے گا تم وہی کرو جو میں کہہ رہا ۔۔۔۔

نعمان اس کی بات کاٹتا قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

بھاڑ میں جاٶ تم۔۔۔

یافی غصے سے چلاتی بولتی فون کاٹ کر چکی تھی ۔۔۔

کیا ہوا میری جان کو غصہ میں لگ رہی ۔۔۔

زرجان روم میں آتا بولا تھا ۔

ک۔کھچ کچھ نہیں بس نیند آ رہی ۔۔۔

یافی اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی بیڈ پر لیٹتی ہوئ بولی تھی ۔۔

ہممم چلو تم کہہ رہی تو ایسا ہی سہی ۔۔۔

زرجان بھی بیڈ پر لیٹتا اس کا سر اپنے سینے پر رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

میں یہی کرو گی نعمان کی بات ماننی ہی پڑے گی ورنہ۔۔۔

نہیں نہیں ۔۔۔

یافی اپنی آنکھوں میں آنسو لاتی سوچتی زور سے آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔

میری جان کیوں پریشان ہے ۔۔

زرجان اسے زور سے اپنے ساتھ لگاۓ بولا تھا ۔۔۔

نہیں وہ بس نیند آ رہی تم سونے دو مجھے ۔۔

یافی ویسے ہی منہ بناتی اس کی گردن میں منہ چھپاۓ بولی تھی ۔۔۔

ہممم۔۔

زرجان بھی اپنی آنکھیں بند کر چکا تھا ۔۔۔

————————————————————

کتنا لیٹ آۓ تم ا۔۔۔۔

یہ خون کہاں سے لگا مجھے بتاۓ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہے ۔۔۔

ہانیہ روم میں آتے منان کو دیکھتی بول رہی تھی جب اس کی وردی پر لگے خون کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ارے کچھ نہیں ہوا بس یہ کام تھا تبھی ایسا ہو تم فکر مت کرو ۔۔۔

منان سکون سے بولا تھا ۔

کیا فکر نہ کرو تم بھی تو کرتے ہو ۔۔۔

یہاں آو ۔۔۔

ہانیہ منان کو ڈاٹتی ہوئ بیڈ پر بیٹھاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

زرا خیال نہیں رکھتے تم حد ہے منان ویسے ۔۔۔

ہانیہ اس کی شرٹ ریمو کیے کاٹن سے اس کے سینے پر لگے خون کو صاف کرتی غصہ سے بولی تھی ۔۔۔

اچھا نہ اب نہیں کرتا ۔۔

منان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

خیال رکھا کرو مانی تمہارے علاوہ کوئ نہیں میرے پاس ۔۔۔

ہانیہ آنکھوں میں آنسو لاۓ بولی تھی ۔۔

اففف پاگل لڑکی جاب ایسی ہے تبھی یہ سب ہوتا تم بہادر بنو ۔۔۔

منان اسے کمر سے پکڑتا بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

س۔سو۔سوری۔۔۔

منان ہانیہ کو اپنے سینے سے لگاۓ لیٹا تھا جب ہانیہ کے لب اس کے سینے پر ٹچ ہوۓ تبھی وہ گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

کوئ بات نہیں جان ہو میری پورا کا پورا تمہارا ہو ۔۔

منان مسکراتا ہوا اسے زور سے گلے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

آج تم آفس نہیں جاٶ گے کیا ۔۔

یافی زرجان کے سامنے ناشتہ رکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

نہیں آج امی سے ملنے جانا میں نے ۔۔

زرجان نے چاۓ پیتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔

ہممم سہی چلو ناشتہ کرو ۔۔۔

یافی زرجان کے سامنے بیٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کوئ بات ہوئ کیا مجھے بتاٶ میں ساتھ دو گا ۔۔۔

زرجان یافی کا ہاتھ پکڑتے پیار سے بولا تھا ۔۔۔۔

نہ

نہیں ۔وہ بس ایک بات کہنی تھی ۔۔۔

یافی کچھ سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاں کہو میری جان ۔۔۔

زرجان اس کے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔

و۔وہ۔مھ۔وہ مجھے طلاق چاہے ۔۔۔۔

یافی اپنے آنسو کنٹرول کرتی ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ گی تھی ۔۔۔۔۔

کیوں وجہ ۔۔۔

زرجان یافی کا ہاتھ زور سے پکڑتے اچانک غصہ سے بولا تھا ۔۔۔

مجھے چاہے بس۔۔۔

یافی ہمت جمع کرتی بولی تھی ۔۔۔

نہیں ملے گی اور کچھ چاہے۔۔۔۔

زرجان ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔۔

مر جاٶ پھر تم ۔۔

یافی بے بس ہوتی بولی تھی ۔۔۔

تمہارے ساتھ مرو گا ۔۔۔

زرجان اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

دیکھنا لے کر رہو گی بات ختم ۔۔

یافی اپنا ہاتھ چھڑواتی اٹھ کر جاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

———————————————————–

ارے ہانیہ تمہارا شوہر تو واقعی اتنی محبت کرتا ہے ۔۔۔

دیکھو تو سہی کیسے ابھی تک تمہیں اپنی بیوی بنایا ہے ورنہ کون ایسی بیوی رکھتا ہے ۔۔

ہانیہ کی یونی دوست طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں وہ محبت کرتا مجھ سے دیکھو میرا چہرہ بھی ٹھیک ہو گیا ۔۔۔

ہانیہ خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

اس کی یونی دوست نتاشا اسے ملنے گھر آئ تھی ۔۔۔۔

تبھی ہانیہ کو اتنا خوشحال دیکھتی وہ جلتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاہاہااہا واٹ محبت ۔۔۔

یہ محبت نہیں کچھ اور ہے اکثر دیکھا نہیں کیسے شوہر اپنی بیوی کو بیج دیتے ہے وہ بھی تو محبت کرتے تھے اور میں کہتی ہو اسے چ۔۔۔۔

مجھ سے ملنے آئ تھی تم نے مل لیا اب جاٶ یہاں سے ۔۔

نتاشا جو مذاق کرتی قہقہ لگاتی بول رہی تھی جب ہانیہ غصہ سے بولی تھی ۔

یہ کیا طریقہ ہے میں تو تمہاری بھلائ کے لیے ب۔۔۔

میری بھلائ کے لیے بول رہی ہو تب تمہاری یہ دو نمبر کی بھلائ کہاں گی تھی جب میرا چہرہ جلا ہوا تھا تب ساری لڑکیوں کے ساتھ مذاق اُڑاتی تھی مجھ سے دوستی ختم کر لی تھی تم نے ۔۔۔

کبھی میرے پاس آ کر تم نے میرا دکھ سنا تھا کیا کبھی مجھے حوصلہ دیا تھا نہیں نہ تو آج کیوں ۔۔

تم جیسی لڑکیاں ہوتی ہے جو نہ خود خوش رہتی ہے نہ ہی کسی کو خوش رہنے دیتی ہے ۔۔

بہت ہو گیا اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔

ہانیہ غصہ سے پھٹتی ہوئ بول پڑی تھی ۔۔۔

جبکہ نتاشا اپنا سا منہ لے وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

———————————————————–

آ۔پ کو۔کون ۔۔

آپ کون ۔۔۔

یافی ہال میں انٹر ہوتی ایک خوبصورت گرے آنکھوں والی عورت کو دیکھتی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

فیا زرجان ہو تم ۔۔۔

عورت مسکراتی ہوئ بولی تھی جبکہ اس کے پیچھے آۓ دس بارہ نوکر گفٹس لاۓ اندر آ رہے تھے ۔۔۔

جی میں فیا زرجان کی بیوی ہو آپ آۓ یہاں ۔۔۔

یافی پریشان سی ہوتی بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ وہ اس عورت کو جانتی نہیں تھی ۔۔۔۔

ارے می۔۔۔

واہ ہ ہ امی جان کب آئ آپ مجھے بتا دیتی ویسے بھی آج میں آپ کے پاس آنے والا تھا ۔۔۔

مہرون کلر کی فل شلوار کرتا پہنے بالوں کو سیٹ کیے گرے آنکھوں میں سنجیدگی لاۓ زرجان مسکراتا ہوا آتا بولا تھا ۔۔۔

یافی کو وہ اگنور کر چکا تھا ۔۔۔۔

میں تم سے نہیں اپنی بیٹی سے ملنے آئ ہو ۔۔۔

رابعہ بیگم مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ام۔امی آپ مطلب و۔۔۔

اتنا کیوں گھبرا رہی ہو بیٹا مجھے تو دیکھ کر ہی دل خوش ہو گیا تم میرے پیارے بیٹے کی محبت ہو ۔۔۔

یافی کو سمجھ نہیں آیا کیا بولے تبھی رابعہ بیگم مسکراتی ہوئ اسے گلے لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

میرا بیٹا بہت اچھا ہے بس مجھے خوشی بہت ہوئ ویسے جان تم لے کر نہیں گے فیا بیٹی کو ہنی مون پر ۔۔۔

رابعہ بیگم مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ن۔نہین وہ میں کھانا تیار کروا لو۔۔۔

ہنی مون کا نام سنتے یافی گھبراتے شرماتے وہاں سے آٹھ کر چلی گی تھی ۔۔۔

ہاہاہااہا بچی شرما گی ویسے ہے پیاری جان مجھے بہت پسند آئ بس بیٹا خیال رکھنا اس کا معصوم سی ہے ۔۔۔

رابعہ بیگم زرجان کا ہاتھ پکڑتی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

جی امی ۔۔۔

زرجان بس اتنا بول سکا ۔۔۔

————————————————————

ارے واہ آج بڑا پیار آ رہا مجھ پر ۔۔۔

منان ہانیہ کی حرکت دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وہ ابھی گھر آیا تھا جب ہانیہ نے اسے بیک ہگ کیا تھا ۔۔۔

ویسے ہی دل کیا میرا ۔۔۔

ہانیہ شرماتے ہوۓ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

تو میری جان سامنے آ کر مجھے ہگ کرو ۔۔۔

منان ہانیہ کا ہاتھ پکڑتے اپنے سامنے لاتے بولا تھا ۔۔۔

ہاں ضرور شوہر ہو میرے ۔۔۔

ہانیہ دوبارہ اس کے سینے سے لگاۓ مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہاے آج خیر نہیں لگتی کہی نیند میں تو نہیں ہو تم ۔۔۔۔

منان اسے کمر سے پکڑتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

نہیں پر ابھی سونا تو ہے یہ تو بس شکریہ کہہ رہی تم مجھ سے محبت کرتے ہو ۔۔۔

ہانیہ منان کے گال پر لب رکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔

تو اچھے سے شکریہ ادا کرو ۔۔۔

منان ہانیہ کو گود میں آٹھاۓ بیڈ کی طرف جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کر دیا شکریہ اب نیند آ رہی ۔۔۔

ہانیہ جلدی سے بیڈ پر لیٹتی کروٹ چیج کیے بولی تھی ۔۔۔

لیکن میرا شکریہ رہتا ہے میری زندگی میں آئ ہو تم ۔۔۔

منان اس کے اوپر جھکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

نہیں وہ۔۔۔

ہانیہ جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب منان نے اس کی سانسوں کو قید کیا تھا ۔۔۔

بے شرم پولیس والا ۔۔۔

ہانیہ منان سے دور ہوتی گہرا سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔۔

اب تمہارا ہی ہو ۔۔

منان مسکراتا ہوا اس کی گردن پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔

———————————————————–

ہم کہی جا رہے ہے کیا ۔۔۔

یافی نائٹ ڈریس پہنے روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں زرجان سامان پیک کر رہا تھا ۔۔

ہاں ہم ترکی جا رہے ۔۔

زرجان اس کے قریب آتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔

دماغ خراب ہے تمہارا میں تم سے طلاق لینا چاہتی ہو اور تم مجھے یہ سب حد ہے میں کہی نہیں جا رہی ویسے بھی امی آئ ہ۔۔۔۔

یافی یہ سب سنتی غصہ سے پھٹ پڑی تھی تبھی زرجان نے اسے کمر سے پکڑتے اس کے ہونٹوں کو اپنے لبوں سے قید کیا ۔۔۔

یافی زرجان کا لمس پاتی بلکل خاموش ہو چکی تھی ۔۔۔

مجھے مجبور نہ کرو یافی جان کہ میں غصہ کرو ہم ترکی جا رہے ہے چاہے تم مانو یا نہیں ۔۔۔

زرجان یافی کو نرمی سے چھوڑے اس کے دونوں ہاتھوں کو باندھتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

چھوڑو مجھے جان میں کہی نہیں جا رہی یہ غلط ہے امی یہاں او۔۔۔۔

یافی جو غصہ سے ایک دفعہ پھر چلا رہی تھی جب زرجان نے اس کے لبوں پر ٹپ چپکائ ۔۔۔۔

بہت بولتی ہو اب یہ ترکی جا کے ہی اترے گی یافی جان ۔۔۔

زرجان اس کے ٹپ لگے لبوں کو دوبارہ چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

غ۔غ۔غو۔۔۔۔

یافی بے بس ہوتی چلا رہی تھی جب زرجان اسے گود میں آٹھاۓ گھر سے باہر لے گیا تھا ۔۔۔۔

کیونکہ آج رات ان کی ترکی کی فلائٹ تھی ۔۔۔