339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 13)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

ارے واہ آج یافی لیپ ٹاپ کے ساتھ کچن میں ۔۔

بیلو تھری پیس پہنے بالوں کو اچھا سا سیٹ کیے گرے آنکھوں میں چمک لاۓ صاف شفاف چہرے پر مسکراہٹ لاۓ وہ ناشتہ کرنے کچن میں آیا تھا ۔۔۔

تبھی زرجان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جب یافی کچن ایپرن پہنے بالوں کا جوڑا بناۓ سادہ سی شرٹ کیپری پہنے وہ ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔۔

جبکہ لیپ ٹاپ کچن شلیف پر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔

جی میں نے سوچا آج خود ناشتہ بناٶ آو بتاٶ کیسا بنا ہے ۔۔۔

یافی ٹیبل پر ناشتہ رکھتی زرجان کا ہاتھ پکڑتی کرسی پر بیٹھاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

بہت مزے کا ہو گا میں سمجھتا تھا تمہیں بس لیپ ٹاپ ہی یوز کرنا آتا ہے ۔۔۔

زرجان کرسی پر بیٹھتے یافی کا ہاتھ پکڑتا اپنی گود میں بیھٹاتے بولا تھا ۔۔۔

ناشتہ کرنا ہے تم ن۔۔۔

بچہ نہیں ہو کر لو گا تم یہی بیٹھو ۔۔

یافی جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب زرجان بات کو ٹوکتا ہوا بولا ۔۔۔

افففف اتنا یمی ہے مزہ آ گیا ایسا امی بناتے تھے میرے لے ۔۔۔

زرجان آلو کا پراٹھا کھاتے خوش ہوتے بولا تھا ۔۔۔

کہاں ہے تمہاری امی ۔۔۔

یافی کو خوشی ہوئ تھی اسے ناشتہ پسند آیا تھا ۔۔۔

وہ گاٶں رہتی ہے وہاں ہماری کافی زمینں ہے بس وہی رہتی ہے ابو کے جانے کے بعد وہ شہر آئ ہی نہیں تھی ان کو گاٶں پسند تھا اور وہاں ابو کی یادیں بھی تھی ۔۔۔

زرجان اچانک اداس ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ابو کو کیا ہوا تھا ۔۔۔

یافی اس کی آنکھوں میں اداسی نہیں دیکھ سکتی تھی تبھی خود اسے ناشتہ کرواتی بولی تھی ۔۔۔

وہ آرمی آفسر کرنل ظفر شاہ تھے ایک میشن کو پورا کرتے شہید ہو گے تھے ۔۔۔

زرجان ناشتہ کرتے بولا تھا ۔۔۔

ہم دونوں امی کو اپنے پاس لے آتے ہے مجھے بھی اچھا لگے گا ویسے بھی اکیلی ہوتی جب تم گھر نہیں ہوتے ۔۔۔

یافی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔

واقعی کیا تمہیں برا نہیں لگے گا ۔۔۔

زرجان یافی کے ہاتھ پکڑتا خوش ہوتا بولا ۔۔۔

مجھے برا کیوں لگنا تمہاری امی ہے تو میری بھی ہوئ جیسے تم عزت مجھے دیتے ہو میں اتنا تو کر سکتی ہو ۔۔۔

یافی زرجان کے ہونٹوں کو نرمی سے ٹشو سے صاف کرتی بولی تھی ۔۔۔

مجھے اپنی امی کے بعد تم سے محبت ہے یافی میں جیتنا شکریہ ادا کرو اللہٌکا وہ بھی کم ہے ۔۔

زرجان یافی کے ماتھے پر لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔

اچھا بس کرے جاۓ آفس ۔۔

یافی اس کی گود سے آٹھتی ہوئ بولی ۔۔۔

تم نے جانا نہیں کیا ہاسپٹل ۔۔

زرجان یافی کو ایسے رف حلیے میں دیکھتا بولا ۔۔

نہیں آج کوئ آپریشن نہیں ویسے بھی میں نے انیجل کے پاس جانا ہے گھر رہو گی ۔۔۔

یافی کچن سے باہر آتی بولی تھی ۔۔

یہ ناانصافی ہے میں بھی گھر رہو گا ۔۔۔

زرجان بچوں جیسا منہ بناۓ بولا تھا ۔۔۔

بلکل نہیں جاۓ آفس اور یہ گرے آنکھوں میں اداسی مت لایا کرو ۔۔۔

یافی زبردستی اسے گھر سے بار نکالتی ہوئ بولی ۔۔۔۔

اسے لیے کہہ رہا میں گھر رہ جاتا ا۔۔۔

جاۓ جان یہاں سے ورنہ گھر میں آنے نہیں دو گی ۔۔۔

زرجان دوبارہ اندر آتے بول رہا تھا جب یافی نے دمھکی دی ۔۔۔

جا رہا اب ایک گڈ باۓ کس دو ۔۔۔

زرجان منہ بناتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جاٶ جلدی آنا مجھے تمہاری یہ گرے آنکھیں بہت پسند ہے ۔۔۔

یافی جلدی سے اس کی دونوں آنکھوں کو چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اور مجھے تمہارے یہ گلابی ہونٹ ۔۔۔

زرجان اسے کمر سے پکڑتے اس کے لبوں پر جھکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

لیکن ت۔۔۔

یافی جو دور ہوتی بول رہی تھی جب زرجان اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا ۔۔۔

ج۔جاۓ اب یہاں سے جان ۔۔

یافی خودی اسے دور کیے بامشکل بولی تھی ۔۔۔

جا رہا ہو رات کو ویٹ کرنا میرا ۔۔۔

زرجان بھی ترس کھاتا اس کے ماتھے کو چومتا چلا گیا تھا ۔۔۔۔

افففف پاگل پتہ نہیں کیوں محبت کرتا ہے مجھ سے ۔۔۔

یافی طنزیہ مسکراہٹ لاۓ سوچا تھا ۔۔۔

———————————————————–

ت۔تم کب آے میں انتظار کرتی سو گی تھی ۔۔۔

ہانیہ ابھی نیند سے جاگی تھی جب اسے اپنے اوپر وزن محسوس ہوا تھا تبھی آنکھ کھولی تو دیکھا منان گہری نیند میں اسے گلے لگاۓ سو رہا تھا ۔۔۔

جبھی وہ اسے جاگتے پوچھا تھا ۔۔۔

جب تم سو رہی تھی پھر سوچا سو جاٶ تنگ نہ کرو ۔۔

منان آدھ کھلی آنکھوں سے بولا تھا ۔۔۔

ت۔تم۔واقعی خواجہ سرا نہیں ہو نہ ۔۔

ہانیہ نے پتہ نہیں کیا سوچ کر پوچھا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہا کیا یار اچھے بھلے ڈی ایس پی کو کیا بنا رہی ہو ۔۔۔

وہ جیسٹ میشن تھا ۔۔

منان کروٹ چیج کیے قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔

اب ہانیہ نیچے اور منان اس کے اوپر جھکا ہوا تھا ۔۔۔

پ۔پاپا سے ملنا ہے ۔۔

ہانیہ بات بدلتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

مل لینا پہلے ہم جرمنی جاۓ گے وہاں تمہارے چہرے کی سرجری ہو گی پھر پاپا کے پاس چلی جانا ۔۔۔

منان ہانیہ کے جلے ہوۓگال پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

کیوں تمہیں بھی خوف آتا میری شکل دیکھ کر ۔۔

ہانیہ روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔

مجھے محبت ہے تم سے تو نہ بھی کرواو سرجری فرق نہیں پڑتا پر سرجری کروانے کی سہولت ہمارے پاس ہے تو پھر کیوں نہیں ۔۔

میں چاہتا ہو سرجری ہو کیونکہ تم اپنی اس احساس کمتری سے باہر آو گی ۔۔۔

منان اپنے لب اس کی تھوڑی پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔

میں ہرگز نہیں کرواو گی پہلے اس لڑکے کو پکڑو گی جس کی وجہ سے میرا چہرہ ایسا ہو ۔۔

ہانیہ اچانک غصہ میں آتی بولی ۔۔

چلو سوچو وہ تمہارے سامنے ہے تو کیا کرو گی اس کے ساتھ ۔۔۔

منان ویسے ہی اپنے کام میں مصروف اس کی گردن پر لب رکھتے بولا تھا ۔۔۔

میں جان سے مار دو گی اسے ا۔۔۔۔

ہانیہ جو بول رہی تھی منان اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔

ہانیہ کو آج منان کی گرفت اور لمس میں سختی محسوس ہوئ تھی ۔۔۔

تبھی آنکھوں میں آنسو لاتی وہ اسے شولڈر سے پکڑ چکی تھی ۔۔۔

😍😍 طلب ہے تو ہے نشہ۔😘

ہر لمحے دل یہ تیرا ۔😍

“کھل کر ذرا جی لو تجھے ۔😍

آجا میری سانسوں میں آ ۔😘

“مریضِ عشق ہو میں کر دے دعا ۔👐❤

ہاتھ رکھ لے تو دل پر ذرا “✋❤

بہت جلد تمہارے چہرے کی سرجری ہو جاۓ گی اب یہ فضول سا سوچنا بند کرو ۔۔۔

منان نرمی سے اسے چھوڑتے لب کو سہلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

لیکن می۔۔۔

ششششش اب مت بولنا جو کہا وہ کرو ورنہ اس سے بھی برا کر سکتا ہو میں ۔۔۔

ہانیہ جو سرخ چہرہ لیے بول رہی تھی جب منان بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔۔

اچھا اب اٹھو کتنے موٹے ہو تم ۔۔۔

ہانیہ منہ بناتی ہوئ بولی ۔۔۔

ہاہاہاہا اگر نہ اٹھو ۔۔۔

منان تنگ کرتے قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔

میں بات نہیں کرنی پھر ۔۔۔

ہانیہ منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا اٹھ رہا ہو بس بات کر لیا کرو مجھ سے ۔۔۔

منان اس کے ماتھے پر لب رکھتا اٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہانیہ اب سکون سے آٹھتی واش روم چلی گی تھی ۔۔

————————————————————

شکر ٹھرکی جاگ گیا صبح صبح شکل نہیں دیکھنی پڑی ہمیں ۔۔۔

روحا جب نیند سے جاگی روم میں صام کو نہ دیکھتی شکر ادا کرتی بولی تھی ۔۔

تبھی آئنیہ کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کا جوڑا بنا رہی تھی ۔۔۔

ہم نے ڈیول کو کہہ دیا اسے مارے اگر سچ میں اسے مار دیا پھر ۔۔۔

روحا اچانک یاد کرتے سوچا تھا ۔۔۔

نہیں مارے گا وہ اور ویسے بھی صام کون سے بچے ہے جو مار کھا لے گے اففف ہم کیا سوچ رہے ہے ۔۔۔۔

روحا اکتاۓ ہوۓ سوچتی بولی تھی ۔۔۔

ص۔صام آپ ۔۔۔

روحا اپنے خیالوں میں مگن تھی جب اسے اپنی گردن پر صام کے لبوں کا لمس پاتے گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاں یار بہت مارا اس نے ۔۔۔

صام ویسے ہی اپنے لب رکھتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔

کس نے مارا آپ کو صام ۔۔۔

روحا اپنا رخ اس کی طرف کرتی بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ صام اس کی شرٹ کی زپ اوپن کرنے والا تھا ۔۔۔

تمہارے اس ڈیول نے ۔۔۔

صام نے منہ بناتے کہا تھا ۔۔۔

چہرے پر زخم کے نشان تھے جبکہ لبوں سے خون نکل رہا تھا شرٹ بھی پھٹی ہوئ تھی بکھرے بال جبکہ آنکھوں میں وہی سردپن تھا ۔۔۔

ایک ہاتھ پر سوجن ہوئ تھی ۔۔۔

آہہہہ تو یہ سانڈ جیسا جسم لے کر کیوں گھومتے ہے آپ بھی مارتے اسے ہاے کتنا مارا ہے اس نے ظالم ۔۔۔

روحا کو ترس آیا تھا اس کی حالت پر تبھی اسے بیڈ پر بیٹھاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

واک پر گیا تھا جب مارا اس نے اور تم نے ہی کہا تھا اب اتنی مار تو کھا سکتا تھا ۔۔۔

صام روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا جو اب پریشان ہوتی اس کے پاس بیٹھی چہرے روئ سے صاف کر رہی تھی ۔۔۔

واہ ہ آپ کا ٹھرکی پن اگر ہم کہے زہر کھا لو تب بھی کھا لیے گے حد ہے ویسے ٹھرکی ۔۔۔

روحا اس کے چہرے پر مرہم لگاتی غصہ سے بولی تھی جبکہ نظریں صام کے عنابی ہونٹوں پر تھی جہاں سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔

میں زہر کھانے کو بھی تی۔۔۔

ص۔م صام خون۔۔۔

صام جو روحا کی تیز چلتی گرم سانسوں میں مدہوش ہوتا بول رہا تھا روحا گھبراتے بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

پھر صاف کرو مس کالی ۔۔۔

صام سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

ہم کیسے ی۔ت۔چک۔۔۔۔

تمہیں یاد ہماری پہلی ملاقات تب تم پیاری تھی سفید رنگ تھا اب پتہ نہیں کیوں کالی ہو گی ۔۔۔

روحا جو اپنی اٹکتی سانسوں سے بول رہی تھی جب صام بات بدلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

افففف ہماری بھی شادی کروائ جاۓ ہیر آپی ۔۔

روحا خوشی سے چکہتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ملتان آۓ انہیں کچھ دن ہوۓ تھے ہیر ٹھیک ہو رہی تھی پر وہ ہنسی مذاق بلکل نہیں کرتی تھی ۔۔

تبھی روحا اپنی نیچر سے ہٹ کر ہیر کو ہنسانے کے لیے مذاق کر رہی تھی ۔۔۔

ہاں ضرور میری بلیک بیوٹی اتنی خوبصورت ہے دیکھنا تمہارا شوہر بھی ایسا ہی خوبصورت ہو گا ۔۔۔

ہیر اور روحا دونوں کافی کیفے آئ تھی ۔۔۔

ہاں ہم آپ کو بتاتے ہے ہمیں کیسا شوہر چاہے ۔۔۔

روحا اپنی کرسی سے آٹھ کر کھڑی ہوتی بولی ۔۔

ہاں بتاٶ میں ڈھونڈو گی ۔۔۔

ہیر خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

روکے ہم بتاتے ہے ۔۔۔

روحا اب کھڑی ہوتی بتا رہی تھی ۔۔۔

ہمارے جیسا ہو ایٹیٹوڈ والا ہماری ٹھکر کا مزہ بھی آۓ بے حد خوبصورت ہو نیلی یا گرین آنکھیں ہو باڈی بلڈر ہو اور ہاں ڈمپل بھی ہو اور سب سے بڑی بات فوجی ہو افففف ۔۔۔

روحا اب اپنی ایک ایک خواہش بتاتی ہوئ مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔

غصہ والا ہو ہماری ہر بات مانے اور۔۔۔۔

روحا ہیر کے لیے مسلسل کھڑی مختلیف پوز دیتی بتا رہی تھی ۔۔۔

یار صام کہاں کھوۓ ہو کافی پیو ۔۔۔

زرجان صام کو سامنے دیکھتا کھوۓ ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جو منہ کھولے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

سو بیوٹی فل گرل میں نے اپنی لائف میں اتنی پیاری لڑکی نہیں دیکھی زی ۔۔۔

صام سامنے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

جہاں بلیک ٹاپ بلیک ہی جینز پہنے براٶن بالوں کی پونی ٹیل بناۓ جو اس کی پتلی کمر کے ساتھ جھول رہی تھی ۔۔۔

بڑی بڑی ڈراک براٶن آنکھیں جن پر موڑی ہوئ پلکوں کی جھاڑ تھی ۔۔۔

عنابی ہونٹ جو مسلسل مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔

جبکہ ہائ ہیلز لونگ بلیک شوز پہنے وہ کیٹ واک کرتی روحا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

تمہیں پسند آئ کیا ۔۔۔

زرجان بھی روحا کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

افففف زی میری ٹھکر کی ہے پسند کیا مجھے تو عشق ہو گیا ہاۓ کیا خطرناک روپ ہے اس کا روکو میں مل کر آتا ہو ۔۔۔

صام جلدی سے آٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

صام اور زی کافی پینے آے تھے جبکہ صام مسلسل اپنے سامنے بیٹھی روحا اور ہیر کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہااہاہاہااہا افففف بلیک بیوٹی بس کرو یار میرا پیٹ درد کرنے لگ جانا ۔۔۔

ہیر دل کھول کر قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ایسے ہی ہنستی مسکراتی رہا کرے ہماری آپی کے ساتھ ماں بھی ہے ہمیں اپنی ہیر آپی پہلے جیسی چاہے ۔۔۔

روحا ہیر کو گلے ملتی ہوئ بولی تھی ۔۔

جبکہ ایک آنسو روحا کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا تھا ۔۔

جیسے سامنے سے آتے صام نے دیکھ لیا تھا ۔۔۔

چلے اب گھر چلے آپ گاڑی میں بیٹھے ہم آۓ ۔۔

روحا جلدی سے ہیر کو خود سے دور کرتی آنسو کنٹرول کیے بولی تھی ۔۔۔

““تیرے سامنے آ جانے سے “

“یہ دل میرا دھڑکا ہے “❤

“یہ غلطی نہیں ہے تیری “

“قصور نظر کا ہے “❤

“جس بات کا تجھ کو ڈر ہے “

“وہ کر کے دیکھا دو گا “❤

““ایسے نہ مجھے تم دیکھو““

““سینے سے لگا لو گا “❤

“تم کو چوڑا لو گا تم سے “

“دل میں چھپا لو گا ““❤❤

ہاۓ میرا نام صام آفندی ۔۔۔

صام چلتا ہوا روحا کے پاس آتا بولا تھا ۔۔۔

روحا جو دور جاتی ہیر کو دیکھتی آنسو بہا رہی تھی جب اسے یہ آواز سنائ دی ۔۔۔

تم ہم کیا کرے اگر آپ مسٹر صام ہے ۔۔

روحا اپنا رخ صام کی طرف کرتی ریڈ براٶن آنکھوں سے دیکھتی سردپن سے بولی تھی ۔۔۔

تمہارا نام کیا ہے مس بیوٹی فل ۔۔۔

صام مسلسل اس کی آنکھوں اور لبوں کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

آپ سے مطلب ٹھرکی جہاں لڑکی دیکھی وہی آ جاتے ہے انہہ۔۔۔

روحا ایٹیٹوڈ سے بولتی اپنی بالوں کو جھٹکتی ہوئ کہتی وہاں سے چلی گی ۔۔۔۔

افففف مس کھڑوس ہاے میرا دل لے گے پہلی لڑکی ہے جو اتنے ہینڈسم کول لڑکے کو اگنور کر گی اففف مزہ آۓ گا میری ٹھکر کی مل گی لڑکی ۔۔۔

صام بجاۓ برا مناۓ دل پر ہاتھ رکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

چ۔ھ۔چھوڑے ہمیں ۔۔

روحا جو اپنا ماضی سوچ رہی تھی جب اسے اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس ہوا پتہ نہیں کب سے صام اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں منتقل کر رہا تھا ۔۔۔

تبھی ہوش میں آتی صام کو دور کرتی بولی ۔۔۔۔

کیا چیز ہو تم مس کالی ڈراک چاکلیٹ کچھ تو بات ہے جو مجھ جیسا ایٹیٹوڈ بواۓ صرف تمہارے سامنے ہی بے بس ہوتا ہے ۔۔۔

صام ویسے ہی روحا کو اپنے قابو میں کیے بیڈ پر گراتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا ۔۔

ٹھرکی ہے آپ اور کچھ نہیں ورنہ ہ۔۔

صاممممممممم خبردار اگر اب ہاتھ لگایا آپ نے مجھے ۔۔۔

روحا اپنے اوپر جھکے صام کو دیکھتی منہ بناتی بول رہی تھی ۔۔

جب صام نے اپنے دانتوں سے اس کی شرٹ کے بٹن توڑے تبھی روحا چلائ تھی ۔۔۔

ہاتھ کہاں لگا رہا میں تو بس تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہو ۔۔

صام روحا کی بیوٹی بون پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

روحا کے پورے جسم کو کرنٹ لگا تھا ۔۔

ٹھرکی بے شرم انسان بن چکے ہے پہلے ہم اس ڈیول کے بچے کو پوچھتے ہے دماغ نکال دیا کیا آپ کا جو پاگل ہو چکے ہے ۔۔

افففف سب سے پیار سے کیا بات کر لے سارے سر پر چڑ جاتے ہے ہمارے ۔۔۔

روحا صام کو دھکا دیتی جلدی سے اٹھتی ہوئ غصہ سے بولی تھی ۔۔۔

ہاں پاگل ہو گیا میں تمہارے لیے ۔۔۔

صام اپنا سوجے ہوۓ ہاتھ پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔

جبکہ روحا تن فن کرتی روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔

————————————————————

ڈیول تم اپنے ہاتھ پر میڈیسن لگاٶ تو ہی ٹھیک ہو پاٶ گے ۔۔۔

وہ اس کے روم میں آتا بولا جہاں ڈیول نڈھال سا بیڈ پر لیٹا تھا ۔۔۔

میں ٹھیک ہو جاٶ گا بس غنودگی ہے ۔۔

ڈیول اپنی آنکھوں کو بند کرتا بامشکل بولا تھا ۔۔۔

جانتے تھے وہ سانپ کتنا خطرناک تھا اس کے زہر کو ختم کرنے والا ڈوز تم بھی نہ بنا سکے ۔۔۔

کیوں کرتے ہو ایسا چلو چلتے ہے ڈاکٹر کے پاس ۔۔

وہ اس کا سوجا ہوا ہاتھ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

جب مر گیا تھا تب ڈسا تھا اس نے مجھے بس تھوڑا سا زہر ہے وہ بھی چوبیس گھنٹے بعد خودی ختم ہو جاۓ گا تم فکر مت کرو ۔۔۔

جانتے ہو ان چوبیس گھنٹوں میں کتنا تڑپو گے تم میں کہتا ہو چلو ڈاکٹر کے پاس ۔۔۔

وہ اس کا ہاتھ پکڑتا بولا تھا ۔۔۔

جہاں سے ہاتھ نیلا ہو رہا تھا ۔۔۔

یہ درد تکلیف بہت کم ہے میرے لیے اگر یہ انیجل کو ڈس لیتا تو میں زندہ مر جاتا اسے تکلیف میں دیکھ کر ۔۔۔

ڈیول پھر غنودگی میں جاتے بولا تھا ۔۔۔

ت۔۔۔

ششش انیجل کی کال ہے تم جاٶ یہاں سے ۔۔۔

ڈیول اپنے فون پر روحا کی کال آتے دیکھ اسے چپ کرواتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

کہاں کے ڈیول ہو تم اسے پاگل ہی کر دیا جاہل انسان ۔۔۔

دماغ سے پیدل ہو گیا وہ آفس جوائن کرنے کو کہا تھا اور یہ اتنا کیوں مارا خون ہی نکال دیا حد ہے ویسے کیسے کیسے لوگ آ گے ہے ۔۔۔۔

ہماری غلطی تھی جو تم سے مدد لی مستقیم لالہ بھی جھوٹ بولے کوئ مدد نہیں کرتے بلکہ ہماری جان کو آ گیا وہ ٹھرکی ۔۔۔۔

روحا نان سٹاپ سٹارٹ ہوتی بولتی جا رہی تھی ۔۔۔

جبکہ ڈیول آنکھیں بند کیے خاموشی سے آواز سن رہا تھا ۔۔۔

سن رہے ہے ہماری بات افففف کہاں پھس گے ہم توبہ ہے یہ بھی لگتا بے ہوش ہو گیا ۔۔۔

روحا دوسری طرف خاموشی محسوس کرتی غصہ سے بولی تھی ۔۔۔۔

مائ انیجل ۔۔۔۔

ڈیول اس سے پہلے کچھ بولتا جب وہ گہری نیند میں بے ہوش ہوتا سو چکا تھا ۔۔۔

زہر نے اس پر اثر کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔

آہستہ آہستہ ڈیول کے ہاتھ پاٶں ہونٹ نیلے ہو رہے تھے ۔۔۔

ٹو ٹو ٹو ۔۔۔

ہم بھی بات نہیں کرتے جاۓ بھاڑ میں ۔۔

روحا اس چیز سے بے خبر جس نے اس کی جان بچائ تھی اب وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بنا موت کی سیڑھی پر کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔