484.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 21)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

دیکھو ککڑ میں اندر جا رہا اگر انیجل کے ہاتھوں سے بچ گیا تو سہی ورنہ میری موت پکی ہے آج ۔۔۔

ریڈ کلر کی لونگ فراک پہنے بالوں پر بگ لگاۓ ہلکے میک اپ کیے بامشکل مستقیم لڑکی بنا کھڑا تھا ۔۔۔

ہاہااہااہاہا سچی گنڈے لگ رہے ہو لگتے ہی لڑکی ہو روحا نے پہچان لینا ۔۔۔

منان مستقیم کا میک اپ زرہ چہرہ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

بکواس نہ کر میں یہ ماسک لگا لو گا آج کل کورنا ہے بس یہ بتا ماں کیسے بنو یار ایسا بکواس جھوٹ میں کیسے بول پاٶ گا ۔۔۔

مستقیم پریشان سا کھڑا سوچ رہا تھا ۔۔۔۔

اتنا پریشان نہ ہو کوئ مسئلہ کشمیر نہیں ہے جو ت۔۔۔

وہ جو اندر سانڈ ہے وہ مسئلہ کشمیر سے بڑا ہے جانتا ہے تو ۔۔۔

منان مسکراہٹ روکے بول رہا تھا جب مستقیم منہ بناتا بولا تھا ۔۔۔۔

ویسے تمہاری یہ حسین آنکھیں بہت پیاری لگ رہی ہے مجھے تو خود تم پیارے لگ رہے ہو ۔۔۔

منان اس کی ریڈ میک اپ کیے آنکھیں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

أستغفر الله أستغفر الله أستغفر الله

توبہ توبہ یہ بھی زمانہ آنا تھا ۔۔۔

مستقیم اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔

ا۔۔۔

یہ اتنی پولیس فورس اندر کیوں جا رہی کہی صام نے کچھ کر تو نہیں دیا ۔۔۔

منان اور مستقیم جو کب سے آفندی ہاوس کے سامنے کھڑے تھے جب پولیس وین آتی اور پولیس کو اندر جاتے دیکھ مستقیم پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔۔

ڈی آی جی ۔۔۔۔

منان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا ۔۔۔۔۔

میں نہیں چھوڑو گا اس ڈی آی جی کو مانی صام کو اب نہیں کھو سکتا میں ۔۔

مستقیم اچانک غصے میں آتا اندر کی طرف بھاگتے بولا تھا ۔۔۔

افففف رکو ۔۔

منان بھی پیچھے بھاگتے بولا تھا ۔۔۔

———————————————————–

پھر آپ تو خوش ہو گے صام باپ بننے والے ۔۔

روحا صام کی گرین آنکھوں میں دیکھتی سردپن سے بولی تھی ۔۔۔

ہاں تو خوش ہو گا او۔۔۔۔

کل سے آپ اپنی بیوی کے ساتھ رہے گے صام ۔۔۔

روحا صام کی بات کاٹتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔

مطلب ۔۔۔

صام اب ناسمجھی سے بولا تھا ۔۔۔

دونوں بھول چکے تھے پولیس سامنے کھڑی نمونوں کو دیکھ رہی تھی جو اتنے سکون سے کھڑے بات کر رہے تھے ۔۔۔۔

یہ رہی رپوٹ ۔۔

روحا اسے لفافے دیتی بولی تھی ۔۔

آہہہہہہ سچی کیا ہاےےےے لیکن مس لائف ہمارے درمیان ایسا کوئ سین نہیں پھر ی۔۔۔۔۔

مسٹر صام ہم آپ کو اریسٹ کرنے آۓ ہے ۔۔۔۔۔

صام بنا لفافے کو دیکھتے خوش ہوتے بول رہا تھا جب ڈی آی جی دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

سن لیا میں نے تمہاری یہ دو ٹکے کی بکواس اب خاموش رہ سکتے ہو ۔۔۔

صام غصہ سے غرایا تھا ۔۔۔۔

بتاٶ مجھے یہ سب کب ہوا اور کون سی بیوی روحا ۔۔۔۔

صام روحا کا بازو پکڑے غصہ سے بولا تھا ۔۔۔

روحا جانتی تھی صام جب غصے میں ہوتا تبھی اس کا پورا نام لیتا تھا ۔۔۔

کومل آپ کی بیوی ہے اور آپ باپ بھی اسی کے بچے کے بنے والے ہے اب یہ ڈرامہ بند کرے ۔۔۔

روحا اس کی آنکھوں میں دیکھتی اپنا بازو جھٹکتے ہوۓ بولی ۔۔۔

کوئ نہیں م۔۔۔

یہ کیا ہو رہا ۔۔۔

صام جو بولنے والا تھا جب آفندی صاحب ہال میں انٹر ہوتے دھاڑے تھے ۔۔۔۔

آپ کے بیٹے نے قتل کیا ہے ہم اریسٹ کرنے آۓ ہے ۔۔۔

کیییییی۔۔۔۔۔۔

آفندی صاحب غصہ سے چلاۓ تھے ۔۔۔

دیکھو روحا تم غلط ۔۔۔۔

صام سب کچھ بھولے روحا کی طرف دیکھتا بول رہا تھا جب آفندی صاحب نے اسے تھپڑ مارا ۔۔۔۔

چٹاخخ۔۔۔

نالائق نکما ہڈ حرام آوارہ یہ کیا حرکت کی ہے تم نے قتل ہی کر دیا مجھے امید نہیں تھی تم سے ۔۔۔۔

آفندی صاحب صام کو دیکھتے چلاۓ تھے ۔۔۔

بابا روحا کو کہے وہ غلط سوچ رہی ہے او۔۔۔۔

کیا چیز ہو تم یہاں پولیس اتنے بڑے کیس پر تمہں اریسٹ کرنے آئ ہے تمہیں روحا کی پڑی ہے ۔۔۔

آفندی صاحب پھر چلاۓ تھے ۔۔۔۔

کیونکہ مجھ صرف مس لائف کی پڑی ہے کیا کہہ رہے قتل کیا میں نے تو صیح کیا میں نے قتل اب خوش ۔۔۔۔

صام یہ کہتے ہی روحا کے پاس جاتا سب کے سامنے اس کندھے پر ڈالتے روم میں لے گیا تھا ۔۔۔۔۔

کیا تکلیف ہے ٹھرکی آوارہ جاہل انسان بابا بچاۓ ہمیں کچھ شرم ہوتی ہے کچھ لحاظ افففف کہاں پھس گے ہم ۔۔۔

روحا کو جب تک سمجھ آیا اس کے ساتھ ہوا کیا تبھی وہ مکے اور لاتیں مارتی غصہ سے جنھجلائ تھی ۔۔۔

———————————————————–

کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔۔۔

ارے اوہ ہ ہ میک اپ کی دوکان آج بنا میک اپ اور ی۔۔۔

ایم پریگنٹ روحا ۔۔۔

روحا ابھی جاگی تھی روم میں صام کو نہ دیکھتی وہ سکون سے آٹھتی واش روم کی طرف جا رہی تھی جب کومل کو اندر آتے دیکھ وہ طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

تبھی کومل اداس سی شکل لے بولی تھی ۔۔۔

واٹٹٹ تو ہمیں کیوں بتا رہی ۔۔۔۔

روحا کو پہلے جھٹکا لگا تھا تبھی قابو پاتے وہ نارمل انداز سے بولی تھی

۔۔۔

ہاں میں سچ کہہ رہی اور اس بچے کا باپ صام ہے کچھ ماہ پہلے ہم نے نکاح کیا تھا ۔۔۔

کومل اسے رپوٹ اور نکاح نامہ دیکھاتی بولی تھی ۔۔

اچھا اب کیا چاہتی ہو ۔۔۔

روحا سکون سے بولی تھی۔۔۔

تمہیں دکھ نہیں ہوا ۔۔۔

کومل نے اسے اتنا پر سکون دیکھتی حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔

تم جانتی ہو جوڑے آسمان پر بنتے ہے ۔۔۔

قسمت میں وہی ملتا ہے جو لکھا ہو اگر ہماری قسمت میں صام آفندی ہوا تو مل جاۓ گا ۔۔۔

روحا سکون سے بولی تھی ۔۔۔

تو کیا کہتی ہو یہ جھوٹ بول رہی م۔۔۔

نہیں یہ سچ ہو گا ہمیں ٹیشن نہیں ہوئ صام ہمارا ہوا تو ہمارے پاس آے گا ورنہ تمہارے پاس ۔۔۔

خیر تم گھر آ جاٶ تمہیں حق مل جاۓ گا ۔۔۔۔

روحا بے نیازی سے واپس واش روم کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔

تمہیں اتنا یقین کیوں ہے صام تمہیں ہی ملے گا ۔۔۔

کومل شوک میں جاتی بولی تھی وہ تو اسے شوک کرنے آئ تھی یہاں روحا اسے ہی شوک کر چکی تھی ۔۔۔

ٹائم آنے پر بتاٶ گی پر یہ بھی سن لو ۔۔۔

جو انسان اپنی سانسوں کی آواز اتنی مدھم کر لے جیسے یہ پتہ ہو ہم خاموشی میں سوتے ہے زرا سے شور سے جاگ سکتے ہے تو سوچو وہ ہمارے لیے کیا کیا کر سکتا ہے ۔۔۔

روحا بنا دیکھے بولی تھی ۔۔۔

صام نے جب مجھ سے نکاح کیا تھا تب بھی وہ وہی کرتا تھا کوئ انوکھی بات نہیں ۔۔

کومل طنز کرتی بولی ۔۔۔۔

اگنور اور ٹائم پاس میں کیا فرق ہے تم جانتی ہو کیا ۔۔۔

روحا اسی کی طرف دیکھتی بولی ۔۔۔

مطلب ۔۔۔۔

چلو ایک گیم کھیلتے ہے ۔۔۔

ہم اگنور کرتے ہے تم ٹائم پاس کرو ۔۔۔

خودی دیکھ لو گی صام آفندی کیا چیز ہے ۔۔۔

انجواۓ یور ٹائم آج سے صام تمہارا ہوا سامان گھر لے آو ۔۔۔

روحا واش روم جاتی دو ٹوک بولی تھی ۔۔۔

انہہ ۔۔۔

کومل اپنا پاٶں ٹیچتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

———————————————————–

زرجان یہ غلط ہے صام ایسا کام نہیں کر سکتا ۔۔۔

یافی یہ سنتے پریشان ہوتی بولی ۔۔۔

ہم جانتے ہے پر اپنے بھائ کو بھی تو دیکھو اتنے ایٹیٹوڈ میں ہے زرا فکر ہی نہیں اسے ا۔۔۔۔

میں نے جانا ہے تم لے جاٶ مجھے ۔۔۔

زرجان جو یافی کا چہرہ پکڑے پیار سے بول رہا تھا جب یافی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں چلتے ہے تم تیار ہو جاٶ ۔۔۔

زرجان جانتا تھا وہ کتنی پریشان ہو چکی ہے تبھی حامی بھرتا بولا ۔۔۔

میں تیار ہی ہو چلے ۔۔۔

یافی کھڑے ہوتے بولی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

اب بولو کیا بکواس کر رہی تھی باہر ۔۔

صام روحا کو روم میں لاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

کومل بیوی ہے آپ کی اب تو بے بی ہونے والا تو اسے گھر لے آۓ ہے ۔۔۔

روحا تحمل سے بولی تھی ۔۔۔

ایسا کچھ نہیں ہوا جھوٹ ہے ۔۔۔۔

ج۔۔

کوئ بھی لڑکی اپنی عزت داٶ پر نہیں لگاتی مسٹر ٹھرکی اور وہ بھی اتنا بڑا جھوٹ ہم نہیں مانتے ۔۔

روحا اس کی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

دیکھو مس لائف کچھ بھی کہو پر اتنا بڑا الزام مت لگاٶ ۔۔۔

پوری دنیا سے مجھے امید ہے وہ ایسے الفاظ کہے گے پر تم سے نہیں ۔۔۔

ہماری بھی پرواہ مت کرے ہم جو کہہ رہے وہی کرے جا کے ۔۔۔

روحا صام کے سرخ گال کو دیکھتی بولی تھی جہاں آفندی صاحب نے تھپڑ مارا تھا ۔۔

تم چاہتی ہو کومل اس گھر میں آے ۔۔۔

صام سردپن سے بولا تھا ۔۔۔

ہاں ۔۔۔

روحا تحمل سے بولی ۔۔۔

کیوں کر رہی ہو تم یار تمہارے علاوہ میں کسی کو سوچ بھی نہیں سکتا۔۔

اچانک صام غصہ میں آتا روحا کو کندھوں سے پکڑتے دیوار کے ساتھ پن کرتے بولا تھا ۔۔۔۔

باہر پولیس آی ہے انھوں نے آپ پر قتل کا الزام لگایا ہے آپ اس بات پر پریشان ہونے کی بجاۓ اتنی چھوٹی بات پر بحث کر رہے ہے ۔۔۔

روحا صام کی نظروں میں کرب دیکھتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔۔۔

مجھے پرواہ نہیں تم جانتی ہو اچھے سے مس لائف اگر فکر ہے تو تمہاری ا۔۔۔۔

ہاہاہاہہااہ کومل کو بھی یہی کہہ ہو گا جاۓ یہاں سے ہم مر نہ۔۔۔۔۔

روحا طنزیہ ہنسی ہنستے ہوۓ بول رہی تھی جب صام نے غصہ سے اس کے ہونٹوں پر لب رکھے ۔۔۔

روحا کو اس کے عمل پر غصہ محسوس ہوا تھا اسے اپنے پاٶں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔

چ۔چھو۔چھوڑے ہمیں باہر پولیس آی او۔آپ ۔۔۔

روحا ہمت جمع کرتی صام کو دور کرتی گہرے سانس لیتی بولی رہی تھی جب صام نے دوبارہ اس کی بولتی بند کی ۔۔۔۔

اتنی تکلیف پر روحا کی آنکھوں سے آنسو آۓ تھے۔۔۔۔

ایسی موت میں تمہیں دو گا مس لائف کیونکہ اتنا تو جان گیا میں تمہیں بس میری قربت ہی تڑپاتی ہے ۔۔۔۔

صام روحا کے آنسو اپنے گال پر محسوس کرتے اسے چھوڑتے وہ غصہ سے بولا تھا ۔۔۔۔

اتنی جلدی نہیں مرنے والے ہم بھی موت دے گے آپ کو دیکھ لینا تڑپے گے ۔۔۔

روحا بھی غصہ سے چلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

واہ۔ہ۔ہ چلو موت کا کھیل دیکھتے ہے کون جیتا ہے کون ہار مانتا ہے ۔۔۔۔

صام روحا کو دوبارہ کمر سے پکڑتے قریب لاتے بولا تھا ۔۔۔۔۔

آپ ہارے گے مسٹر ٹھرکی کیونکہ روحا صام آفندی نے کبھی ہار نہیںں مانی ۔۔۔

روحا اس کی سرخ گرین آنکھیں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ہار تو تم مانو گی مس لائف جب میں تمہاری نس نس میں بسو گا تم کہو گی تمہیں صام آفندی سے جنون ہے ۔۔۔

صام کو اچھا لگا تھا روحا نے اپنے نام کے ساتھ اس کا نام جوڑا تھا تبھی سارا غصہ بھولے وہ طنزیہ مسکراہٹ لیے بولا تھا ۔۔۔

بھول ہے آپ کی مسٹر ٹھرکی جس دن ہم نے یہ کہا اسی دن ہمارا آخری دن ہو گا ۔۔۔۔

روحا نڈر ہوتی بولی تھی ۔۔۔

وہی کہہ رہا تمہاری موت ہو گی تب تم روحا نہیں جنون عشق بنو گی صرف صام آفندی کی ۔۔۔

صام روحا کی بیوٹی بون پر لب رکھے بولا تھا ۔۔۔

مطلب۔۔۔

روحا نے برا سا منہ بناۓ بولی ۔۔۔

وقت بتاۓ گا تمہیں اور میری موت کی بات کرتی ہو میری موت اسی دن ہو گی تھی مس لائف جس دن تمہیں پہلی دفعہ دیکھا تھا ۔۔۔

صام روحا کی ناک کو چومتا ہوا تھا ۔۔۔

روحا کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔

اس ساری بکواس کا مطلب ۔۔۔

روحا اسے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

بکواس یہ صام آفندی تمہارا ہے تمہارا تھا تمہارا ہی رہے گا چاہے لاکھوں کومل نام کی لڑکیاں آ جاۓ صام بس اپنی روحا کا ہے یہ بات اپنے ننھے دماغ میں بیٹھا لو ۔۔۔

صام روحا کے ماتھے پر لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔

م۔۔۔

اس سے پہلے وہ بولتی جب باہر چلانے کی آوازیں آ رہی تھی ۔۔۔

————————————————————

دیکھیں سر ابھی کوئ ثبوت نہیں ملا تو صام کو کیسے اریسٹ کر سکتے ہے ۔۔

مستقیم اندر آتا غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔۔

ثبوت ملے تو ہے ہم اسی کی بنا پر آۓ ہے لیکن صام کو فکر ہی نہیں کب سے ویٹ کر رہے ہم ا۔۔۔

تم سمجھ کیوں نہیں رہے صام بے گناہ ہے ا۔۔۔۔

دیکھو ایس پی جانتے نہیں ہو مجھے ابھی نوکری سے نکال سکتا ہو ۔۔۔

ڈی آی جی جو بول رہا تھا مستقیم اسے گریبان سے پکڑتا چلایا تھا جب ڈی ای جی بولا تھا ۔۔

تو یہ مشعوق چھوڑ دے گا تم جانتے نہیں اس کے اکاوئٹ میں کتنے پیسے ہے اسے یہ دو نمبر کی نوکری نہیں کرنی پڑے گی ۔۔۔

صام سیڑھیوں سے اترتا ہوا بے نیاز ہوتا بولا تھا ۔۔۔

اریسٹ کرو ہمارا ٹائم ضائع ہو رہا ۔۔

ڈی آی جی آڈر دیتا بولا تھا ۔۔۔

ریلکس اتنی جلدی کیوں ہے اوےےے ککڑ تم بھی پریشان ہو گے کیا ۔۔۔

صام پرسکون سا ہوتا منان کی طرف آتا بولا تھا ۔۔۔

ٹھرکی تم سکون سے کیسے۔۔۔

یہ فراک نہیں اچھی پہنی مجھے پسند نہیں آی ۔۔۔

صام مستقیم کی بات کاٹتا اسے کندھوں سے پکڑتا بولا تھا ۔۔۔

جبکہ مستقیم غصہ سے بس اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔

ویسے قتل کس کا کیا میں نے ۔۔۔

سب خاموش تھے بس صام کی آواز گونج رہی تھی ۔۔

روحا سیڑھیٶں کے پاس سپاٹ چہرہ لیے کھڑی تھی ۔۔

صام اسے ہی دیکھتا بول رہا تھا ۔۔۔

مسٹر شہزاد چوہان کا آپ نے اسے دمھکی دی تھی ۔۔۔

ڈی آی جی بولا تھا ۔۔۔

کہو نہیں دی تھی ۔۔۔

منان اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا ۔۔۔

ہاں دی تھی اسے تعمیز ہی نہیں تھی بابا اور لالہ سے کسے بات کی جاتی ہے ۔۔۔

صام ریلکس ہوتا بولا تھا ۔۔۔

اس کا کل رات قتل ہو گیا لاش کے جسم پر آپ کے فنگر پرنٹ ملے ہمیں اور جس گن سے شوٹ کیا گیا وہ بھی آپ کی تھی ۔۔

ڈی ای جی غصہ سے بولا ۔۔

صام سے نو ۔۔

منان نے پھر دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔

جی میرے ہی ہو گے شاہد آگے بھونکو ۔۔۔

صام پھر سکون سے بولا تھا ۔۔۔

قتل آپ نے کیا ۔۔۔

ڈی ای جی مسکراہٹ لاۓ بولا ۔۔۔

دمھکی میں نے دی فنگر پرنٹ اور گن میری پر اس سے کیسے ثابت ہوتا قتل میں نے کیا الزام بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔

صام کندھے اچکاتے بولا تھا ۔۔۔

آفندی صاحب اپنا سر پکڑے بیٹھے تھے کیسا نمونہ بیٹا ملا تھا جو مان بھی رہا تھا اور نہیں بھی ۔۔۔

آپ کو اور ثبوت چاہے ہم اتنا ویٹ نہیں کر سکتے اریسٹ کرے کب سے یہی تماشہ لگایا ہے ۔۔۔

ڈی آی جی غصے میں آتا بولا تھا ۔۔۔

جس دن ثبوت مل جاۓ اریسٹ کر لینا مجھے یہ فضول کے کام مت کرو ورنہ جانتے نہیں ہو میں ہو کون ڈی آی جی ۔۔۔

صام کو جو پولیس والا ہاتھکڑی لگانے آیا تھا صام وہی ہاتھکڑی توڑتے طش میں آتا بولا تھا ۔۔۔

بہت ٹائم ویسٹ کیا میرا اب جاٶ ثبوت لے کر آٶ ۔۔۔

صام سب کو ہکا بکا چھوڑتا آرام سے اپنے روم کی طرف جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

ہاہاہااہاا ہاے مجھے تو سن کر ہنسی آ رہی ہے ۔۔۔

لیٹ آیا میں ۔۔۔

زرجان مستقیم یافی ہانیہ منان صام روحا آہان احمد سارے اکھٹے بیٹھے تھے ۔۔۔۔

جب زرجان ساری بات سنتا قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔

ایک اور نیوز سنو۔۔۔

مستقیم اپنی ٹون میں واپس آتا کھڑے ہوتا بولا ۔۔۔

ہاں ہاں بتاٶ ۔۔۔

زرجان بے تابی سے بولا تھا ۔۔۔

سب ہنس رہے تھے سواۓ روحا اور صام کے ۔۔۔

یہ ٹھرکی بابا بننے والا ہے ایک مجھے دیکھ لو جس کی شادی بھی نہیں ہوئ ۔۔۔

مستقیم مذاق کرتےبولا تھا ۔۔۔

ارے واہ ہ انیجل مبارک ہو یعنی میں پھوپھو بنے والی ۔۔۔

یافی روحا کے ہاتھ پکڑتی خوش ہوتی بولی ۔۔

یافی کی بات سنتی روحا کا چہرہ سرخ ہوا تھا جیسے صام نے غور سے دیکھا تھا ۔۔۔

نہ۔نہیں کومل صام کی بیوی ہے کیوٹ لیڈی باس ا۔۔۔

روحا جلدی سے گھراہٹ پر قابو پاتی بول رہی تھی جب مستقیم بولا ۔۔۔

ہاں اب اس ٹھرکی کی شادی ہو گی بابا نے کہہ دیا ہے کومل کی رخصتی ہو گی ویسے سوتیلی ناگن تم پھوپھو کا کردار اچھا نبھاٶ گی پھپا کٹنی ۔۔۔

مستقیم مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

نہیں چوزے پھپا کٹنا تو تم ہو ۔۔

یافی بھی طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔

ارے پھپا کٹنی سے یار آیا ڈی ڈی کو شادی پر بلاۓ مزہ آ جاۓ گا ۔۔۔

مستقیم کچھ یاد کرتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں ضرور یار کافی عرصہ ہو گیا اسے دیکھا نہیں ۔۔

منان بے تاب ہوتا بولا تھا ۔۔۔

جب ہانیہ نے اس کی بے تابی دیکھتے جلیس ہوتے اسے گھورا تھا ۔۔۔

ہاں بلاٶ اسے ایک وہی ہے جو مزے کی باتیں کرتی ہے ورنہ یہاں تو لوگ سڑی ہوئ شکل لے بیٹھے ہے ۔۔۔۔

زرجان بھی بے تاب ہوتا بولا تھا ۔۔۔

یافی اور ہانیہ دونوں جل رہی تھی کیونکہ چاروں کا ڈی ڈی نامہ شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔

چلو فون کرتے ہے ۔۔۔

مستقیم فون سکپیر پر کرتا بولا تھا ۔۔۔

بھونکو جلدی ۔۔۔

سب خاموشی سے بیٹھے تھے جب ایک رعب دار آواز سنائ دی ۔۔۔

ہم یہ بھونکا چاہا رہے تھے ٹھرکی کی شادی ہے تم آ جانا ۔۔۔

زرجان دانت نکالتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

یافی زرجان کی ایسی حالت دیکھتی پہلو بدلا تھا ۔۔۔۔

کیااااا اس ٹھرکی نکمے آوارہ کی دوسری شادی پہلی راس نہیں آئ کیا ۔۔۔

ڈی ڈی کی چلانے کی آواز سنائ دی ۔۔

دیکھو ڈی ڈی تم ہی ہو جو مجھ معصوم کو انصاف دالاو گی یہاں میری ایک بھی نہیں ہوئ اس کی دوسری ہو رہی ہے ۔۔۔

مستقیم اپنا پرانا دکھ لیے بولا ۔۔۔

سنو گنڈے تمہاری شادی تو ہو جانی چاہے تھی یہ ظلم ہو گیا اپن تمہارے دکھ میں شریک ہے اپن آتا ہے ابھی اپن ملائشیا آیا ہے ڈیڈ کے ساتھ ۔۔۔

ڈی ڈی ببل چباتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اچھا یہ ککڑ کیوں چپ ہے دیکھو بے ہوش تو نہیں ہو گیا ۔۔۔

ڈی ڈی کی دوبارہ آواز گونجی تھی ۔۔۔

دیکھو پہلی محبت تھی اس کی تو ۔۔۔

بکواس نہ کر دیکھو ڈی ڈی میری شادی ہو گی سمجھاٶ اس گنڈے کو بیوی کے سامنے ہی ذلیل کر رہا ۔۔۔

منان جلدی سے ہانیہ کی طرف دیکھتا بولا تھا جو اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔

ہاہاہہاہاہہاہہا مذاق تھا تم سیریس ہو گے ۔۔۔

ڈی ڈی کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔

اچھا ٹھرکی سے بات کرواٶ ۔۔۔

ڈی ڈی پھر بولی تھی ۔۔۔

کیوں بات کر رہی ہو تمہارے جلاد باپ نے اجازت دے دی کیا ۔۔۔

صام فون پکڑتا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔

و۔م۔۔۔

ٹھاہہہہہہہ۔۔۔

اس سے پہلے ڈی ڈی کچھ بولتی جب گولی کی آواز گونجی ۔۔۔

آہہہآہہہہہ۔۔۔

گولی کی آواز سنتی روحا چلائ تھی ۔۔۔

تم ٹھیک ہو ۔۔

صام نے روحا کا زرد چہرہ دیکھتے فکرمندی سے پوچھا ۔۔

ج۔جی۔۔۔

روحا قابو پاتی بولی ۔۔

یہ گولی کیوں چلائ ۔۔

صام اب فون پر ڈی ڈی کو بولا ۔۔

جبکہ مستقیم زرجان منان مسکراۓ تھے جانتے تھے وہ کتنی غصے والی تھی ۔۔۔

ابے اپن کی کافی میں چینی ڈال دی اس نوکر نے اپن نے گولی مار کے ہاتھ اُڑا دیا اب تڑپ رہا ہے ۔۔۔

ڈی ڈی غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔

کیوں اپنے کھڑوس جلاد باپ کی طرح ہو ا۔۔۔

ابے چھوڑ دماغ فرائ نہ کر یہ بتا کیوٹ سی آواز سنائ دی کوئ بچی ہے کیا ۔۔۔

ڈی ڈی صام کی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں بچی ہے چھوٹی سی صام کی روحا بے بی ۔۔

صام روحا کا سرخ چہرہ دیکھتی بولی تھی ۔۔

چل پھر اپن آتا ہے تیری اس بے بی سے ملنے ۔۔

ڈی ڈی فون پر بات کرتی فون کاٹ چکی تھی ۔۔۔

جبکہ روحا گھبراہٹ پر قابو پاتے بھاگ گی تھی ۔۔۔

———————————————————–

کیا کہہ رہے ہے بابا میں یہ شادی کیوں کرو جبکہ ۔۔۔

تم وہی کرو گے جو میں نے کہہ دیا ذلیل کروا دیا مجھے بس مجھے فون کر کے پوچھ رہے آپ کا بیٹا نکما آوارہ کم تھا جو اب ایک قاتل بھی بن گیا اب یہ دوسری شادی والا شوشا اگر کومل سے شادی کرنی تھی تو روحا سے نکاح کیوں کیا تین سال پہلے ۔۔

اس معصوم بچی کو دیکھ کر ترس آتا تھا اب یہ کومل کو دیکھ کر جو تمہارے بچے کی ماں بنے والی ہے ۔۔۔

بس بہت ہوا کومل کی رخصتی ہو گی نکاح تو کر چکے ا۔۔۔

میں نے نکاح نہیں کیا نہ ہی یہ سب سچ ہے سب جھوٹ ہے ۔۔

آفندی صاحب جو غصہ سے پھٹ پڑے بول رہے تھے جب صام بات کاٹتا چلایا تھا ۔۔۔

روحا چاہتی ہے یہ رخصتی ہو تو بس ہو گی جاٶ دفع ہو جاٶ دنیا جہان کے نکمے بیٹے ہو ذلیل کروا دیا تم نے اس سے اچھا تھا پیدا ہی نہ ہوتے ۔۔۔

آفندی صاحب صام کو روم سے باہر نکالتے غصے سے چلاۓ تھے ۔۔۔۔

روحھھھھھھااا۔۔۔۔

صام روم سے باہر آتا دکھ سے چلایا تھا ۔۔۔

————————————————————

بڑا شوق ہے تمہیں میری شادی کروانے کی ۔۔

مس لائف جبکہ جانتی ہو میری سانسوں کو تم ضروری ہو پھر بھی ۔۔۔۔

روحا جو نائٹ ڈریس پہنے آہینہ کے سامنے کھڑی ہاتھوں کو لوشن لگا رہی تھی جب صام اسے پیچھے سے حصار میں لیتا غصہ سے بولا تھا ۔۔۔۔

ظاہر سی بات ہے اب شادی ہی کرے گے صام کیونکہ کومل م۔۔۔۔

شیٹ اپ جیسٹ شیٹ اپ کیا اتنا یقین تھا تمہیں مجھ پر یا میرا کردار اتنا ہلکا تھا کسی بھی لڑکی کے ساتھ یہ کرو ۔۔۔

تم جانتی ہو میں صرف تمہارا ہو پھر بھی اس جھوٹی مکار لڑکی پر یقین کر لیا مجھ پر نہ کیا جو ہم تین سال اس نکاح کے رشتے میں رہے ۔۔۔

روحا جو پرسکون ہوتی بول رہی تھی جب صام اسے گھومتے دیوار کے ساتھ پن کرتے بولا روحا کا منہ دیوار کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا جبکہ اس کی دونوں کلاہئوں کو صام نے اپنے دونوں مضبوط ہاتھ میں پکڑی تھی ۔۔۔۔

رخصتی کرواۓ آپ ۔۔۔

روحا درد برداشت کرتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔۔

دیکھ لو گی مجھے تم ہاہاہہاہااا ۔میں کہہ بھی کیسے رہا جو بے حسی کی مثال ہے میں ہی پاگل ہو جو تم جیسی لڑکی سے جنون والا عشق کر چکا ہو ۔۔۔۔

صام روحا پر اپنا سارا وزن ڈالتا ہوا طنزیہ قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

چھ۔چھوڑے ہمیں پین ہو۔رہ۔۔۔

تمہیں پین واہ ہ ہ مس لائف مس کھڑوس کو پین ہو رہا میرے درد کی تمہں کوئ فکر نہیں ہے جو پل پل دیتی ہو ۔۔۔

روحا جو آنسو کنٹرول کرتی بول رہی تھی جب صام اس کا رخ اپنی طرف کرتا بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔

ص۔صا۔صام۔آپ پلیز ر۔

کر لو گا رخصتی میں اب خوش ہو ۔۔۔

روحا صام کی سرخ گرین آنکھوں میں آنسو دیکھتی اٹکتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام اسے ایک ہی جھٹکے میں چھوڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہاں تو کرنی پڑے گی اب ایسے ری ایکٹ کر رہے جیسے زبردستی کر رہے ہم کومل ہے بھی اتنی حسین اپنی ہوس پوری کر لی اس سے تو ایسے بن رہے جیس ۔۔۔۔

روحھھھھھھھھاااا۔۔۔

روحا جو نڈر ہوتی بول رہی تھی جب صام اس کی طرف دیکھتا دھاڑا تھا ۔۔۔

کیوں چلا رہے ہے یہی سچ ہے چار ماہ پہلے نکاح کیا تب آپ جانتے ہی نہیں تھے ہم کالی نہیں یہ تو کچھ دن پہلے پتہ چلا آپ نے سوچا ہو گا چلو دوسری بیوی بھی حسین مل گی پہلی کو چھوڑ دیتا ہو ۔۔۔

تبھی وہ میرے پاس آ گی کل کومل تھی آج روحا ہے پرسوں کوئ۔۔۔

روحححاااااا۔۔۔۔

روحا اب بھی نڈر ہوتی نان سٹاپ بول رہی تھی جب صام طش میں آتا ہاتھ اٹھا چکا تھا ۔۔۔۔

مارے ہمیں ہاتھ کیوں رک دیا اب یہی کرے گے آپ ۔۔۔

آہہہہآہہہہہہ۔۔۔

روحا جو اب واقعی ڈر کے مارے آنکھیں بند کیے ایک منٹ کے لیے سانس روکے کھڑی ہو چکی تھی جبھی آنکھیں کھولتی حیران ہو کر بولی کیونکہ صام نے اسے مارا نہیں تھا ۔۔

تبھی پھر وہ بول رہی تھی جب صام نے وہی ہاتھ گھوما کر شیشے پر مارا تھا ۔۔۔

سارا شیشہ ٹوٹ کر بکھر چکا تھا جبکہ صام کا ہاتھ بھی زخمی ہوا خون بہا رہا تھا ۔۔۔

ص۔صام آپ کا ہاتھ خ۔خون۔۔

روحا صام کا خون آلود ہاتھ دیکھتی ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی جب وہ بولا ۔۔۔

اگر میری زندگی نہ ہوتی تم تو سو ٹکڑے کرتا میں تمہارے یہ جو پٹر پٹر زبان آج چلی اس کو بھی کاٹ دیتا پر افسوس میں اتنی جلدی مرنا نہیں چاہتا ۔۔

تم میری زندگی ہو مس لائف اور میں اپنی زندگی کے بنا ایک موت ہو ۔۔۔

تمہیں درد دینے سے اچھا خود کو دے لو ۔۔۔

آج کے بعد اگر تم نے یہ بکواس کی تو وہاں مارو گا جہاں تمہیں کوئ بچا بھی نہ سکے ۔۔۔

اب اگر سامنے آئ تو اس منہ کو بند رکھنا ورنہ مجھے بند کروانا آتا ہے ۔۔۔

صام روحا کو دھکا دیتا روم سے باہر جاتا بولا تھا ۔۔

جبکہ اس کے ہاتھ سے خون ٹپک رہا تھا ۔۔۔

صام صام صام ۔۔

روحا روتے ہوۓ چلائ تھی آج تک اس نے صام کا یہ جلالی روپ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

رات ہو گی تھی پر صام کا کچھ پتہ نہیں تھا روحا کو گھبراہٹ ہو رہی تھی تبھی وہ نیچے ہال میں آ چکی تھی ۔۔

بیٹا سوچ لو صام ن۔۔

بابا آپ فکر مت کرے صام مان گیا ہے آپ مہندی کا فکشین رکھ لے ۔۔

آفندی صاحب روحا کا پرسکون چہرہ دیکھتے بول رہے تھے جب وہ مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔

ہمممم بیٹا تمہاری وجہ سے کر رہا م۔۔

لالہہہہہ۔۔

آفندی صاحب بول رہے تھے جب روحا سامنے آتے مستقیم کو دیکھتی شوک ہوتی بولی تھی ۔۔

کون ہے یہ لڑکی ۔۔۔۔

آفندی صاحب گرج دار آواز سے سامنے دیکھتے بولے تھے ۔۔

بیٹا اپنے ساتھ دلہن بنی چھوٹی سی لڑکی لے کھڑا تھا ۔۔۔

و۔وہ۔بابا۔۔۔۔۔

مستقیم لڑکھڑاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

کیا وہ وہ لگا رکھی ہے بتاٶ کون سے۔۔۔۔

آفندی صاحب پھر بولے ۔۔۔۔

م۔میں بتاتی ہو ۔میری شادی ہونے وال۔لی تھی یہ مجھے بھاگا کر لے آے ۔۔۔۔

خاموش کھڑی مرحا نے ہمت مجع کرتی بولی تھی ۔۔۔

بکواس ہے یہ تم جھوٹ بول رہی ہو بتاٶ بابا ک۔۔۔۔

مستقیم گھبراتا اپنی کالی آنکھوں میں غصہ لاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔

جب آفندی صاحب نے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔

چٹاخخخخ۔۔۔۔۔

تم تو میرے اچھے اور قابل بیٹے تھے میں نہیں جانتا تھا اتنی گری ہوئ حرکت کرو گے ۔۔۔۔

پہلے کیا صام نے کم بدنام کروایا اب تم شروع ہو گے ۔۔۔۔

آفندی صاحب طش سے چلاۓ ۔۔۔

بابا میری بات سن لے پہلے ی۔۔۔

بہت سن لی بات چھوٹے بھائ کو دیکھتے تم بھی ایسے ہو گے ہو صبح منہدی ہے تمہاری اور صام کی پھر رخصتی بس یہ شادی ہو گی دونوں کی حرکتیں دیکھو ۔۔

ایک ویسے نکاح کر کے لے آیا اور دوسرا لڑکی بھاگا کے لے آیا ۔۔۔

تمہاری شادی اب اس سے ہو گی ۔۔۔

لیکن۔ با۔۔۔۔

جو کہہ دیا وہی ہو گا بس ۔۔۔۔

وہ

مستقیم جو ہکابکا اپنے چہرے پر ہاتھ رکھتا بول رہا تھا جب انھوں نے اپنا فصیلہ سنایا ۔۔۔۔

سب تمہاری وجہ سے ہوا چھوڑو گا نہیں ۔۔۔

مستقیم بے بس ہوتا مرحا کا بازو پکڑتے بولا ۔۔۔

جو گھبراتی ہوئ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

می۔میں وہ ۔۔۔

چپ بلکل چپ جاٶ انیجل کے پاس ۔۔۔

مرحا جو بول رہی تھی جب مستقیم اسے روحا کی طرف دھکا دیتا چلایا تھا ۔۔۔

جبکہ آفندی صاحب اپنا سر پکڑے بیٹھ چکے تھے ۔۔۔

روحا پریشان ہو چکی تھی ہوا کیا ہے اس کا لالہ تو ایسا نہیں ۔۔۔