484.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 39)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

فل اندھیرے میں بیڈ پر بلیک سیو لیس نائٹی پہنے جس کا فرنٹ اور بیک گلا کافی ڈیپ تھا اور نائٹی اس کی تھائ تک آ رہی تھی ۔۔۔

روحا کے دونوں ہاتھ کمر سے باندھے ہوۓ تھے ۔۔۔

جبکہ وہ اندھیرے میں نائٹی پہنے سسک رہی تھی ۔۔۔

ص۔صام۔۔۔۔

روحا کو اندھیرے میں کوئ اپنے پیچھے بیٹھتے محسوس ہوا تھا تبھی وہ روتے بولی تھی ۔۔

اس نے بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن ملازمہ اسے نائٹی پہناۓ باندھ کر چلی گی تھی ۔۔۔

لیکن روحا کی جان تب لبوں پر آئ تھی جب کسی کی ٹھنڈی انگلیاں اس کی نائٹی کے اندر گی تھی ۔۔۔۔

صاممممممم۔۔۔۔

روحا اب زور لگاۓ چیخی تھی کیونکہ اسے اب وہ انگلیاں اپنے سینے پر محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔

صا۔م۔کدھر ہ۔۔۔۔

روحا ایک دفعہ پھر پھوٹ پھوٹ کر روی تھی ۔۔۔

جب اس کے پیچھے شخص نے اس کا چہرہ پکڑے پیچھے کی طرف کرتا اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

روحا کا جسم کانپا تھا یہی سوچ کر کوئ اور اس کے نزدیک آیا تھا ۔۔۔۔

جب اسے اپنی سانسوں میں سگریٹ کی سمل محسوس ہوئ تھی ۔۔۔۔

ص۔ام۔آپ ہے کی۔۔۔۔۔

شششش میری جان تمہارا ہی ہو بلکل چپ رہو۔۔۔۔۔

روحا پیچھے ہوتی ایک دفعہ پھر اٹکتے بول رہی تھی جب اسے سرگوشی سنائ دی تھی ۔۔۔۔

صام کی بھاری سنجیدہ آواز سنتے روحا پر سکون ہوئ تھی ۔۔۔۔

———————————————————-

اچھا ڈرامہ تھا تمہارا اے ڈی اور یہ پٹی کیوں کی ہے ۔۔

صام بھاگا بھاگا اپنے پرسنل پلیس آیا تھا جہاں اے ڈی شدید طش میں چکر کاٹ رہا تھا ۔۔۔

تیری بیوی نے حملہ کیا ڈیول یہ اچھا نہیں کیا بتا کیوں نہیں دیتے تم ہی ڈیول ہو ۔۔

اےڈی صام کی سرخ گرین آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہا میری انیجل شیرنی ہے تجھ جیسوں کو پاس بھی نہیں آنے دیتی تم کیوں اس کے قریب گے تھے۔۔۔۔

اچانک صام قہقہ لگاتا اسے گردن سے دبوچے بولا تھا ۔۔۔۔

کہہ رہا ہو بندہ بشر ہو بہک سکتا ہو بس بہک گیا تھا لیکن یہ چوٹ کھاتے ہوش آیا تھا میں کرنے جا رہا ہو ۔۔۔

اےڈی صام کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔۔

تو جانتا ہے میں کہاں تھا پھر بھی میری انیجل پر گندی نظر رکھی انجام کا پتہ ہے یا بھول گے ۔۔۔

تبھی تجھے بلایا ہے کہ یہ خوبصورت حسنہ تم ہنیڈل کرو یہ تو کسی کو بھی بہکا سکتی ہے ۔۔۔۔

بلکل ٹھک جنونی ہو اس کے لیے ڈیول تم اب چھوڑ مجھے اتنا خیال رکھا ہے اس کا میں نے ۔۔۔

اےڈی اپنی گردن چھڑاٶۓ بولا تھا ۔۔۔

اسی لیے چھوڑ رہا ہو تو بھی کیا یاد کرے گا ڈیول کتنا سخی ہے ۔۔۔

صام اسے چھوڑے سکون سے بولا تھا ۔۔۔

لیکن تم بتاتے کیوں نہیں مس کھڑوس کو ۔۔۔

کیونکہ انیجل کو ڈیول سے نفرت ہے وہ صرف اپنے ٹھرکی صام سے عشق کرتی ہے ۔۔۔

میں نے پورے چار سال بعد اتنی محنت سے انیجل کا عشق پایا ہے ۔۔۔

وہ چاہے ڈیول سے عشق نہ کرتی ہو لیکن وہ صام سے کرتی ہے میرے لیے یہی کافی ہے ۔۔۔

میری انیجل میری ہی رہے گی ۔۔

میں نہیں چاہتا اسے کبھی بھی پتہ چلے میجر صام آفندی برائ کے راستے پر چلنے والوں کے لیے ڈیول ہے ۔۔۔۔

اگر اسے پتہ چلا صام ہی ڈیول ہے وہ نفرت کرے گی مجھ سے ۔۔۔

اس لیے میں اسے کبھی نہیں بتاٶ گا صام ہی ڈیول ہے وہ ڈیول جس کے ہاتھ ہر وقت خون سے رنگے رہتے ہے ۔۔۔

صام سکون سے کھڑا بولا تھا ۔۔۔۔

چلو میں چلتا ہو پھر میرا کام ہوا ۔۔۔۔

اےڈی صام کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔

شکریہ یار میری انیجل کو برداشت کیا میرا ہیلی تمہیں پہنچا د۔۔۔۔۔

یہ ہیلی مجھے دے گفٹ کے طور پر تیری اس جنگلی انیجل سے مار بھی کھائ ہے ۔۔۔۔

صام اس کا شکریہ ادا کرتا بول رہا تھا جب اےڈی شطانی مسکراہٹ لاۓ باہر کھڑے بلیک ہیلی کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

یہ انیجل کے لیے لی۔۔۔

تمہارے پاس اتنی دولت ہے ڈیول کہ تمہاری سات نسلیں بھی کھاۓ تو بھی دولت کم نہ ہو اور ایسے ہیلی تو انیجل کو روز گفٹ کر سکتا ہے ۔۔۔۔

صام اب غصے میں آتا بول رہا تھا جب اےڈی سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

تو بھی ایک سیاست دان ہے اےڈی تیرے لیے بھی ایسے ہیلی لینا آس۔۔۔۔

ارے یار جو مزہ فری میں ہے وہ مزہ پیسے لینے کا نہیں اچھا میں چلتا ہو ۔۔۔۔

صام اور وہ دونوں باہر نکل کر ہیلی کے پاس آتے بولا تھا جب اےڈی بات ٹوکتا ہوا آنکھ ونک کرتا بھاگتا ہیلی میں سوار ہوا تھا ۔۔۔۔

لے جا اپنی انیجل کے لیے ایسے ہزار وار دو ویسے بھی تیرا احسان ہے مجھ پر اور ڈیول ادھار نہیں رکھتا۔۔۔۔

صام ہیلی کے قریب کھڑے ہوتا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔

اچھا سن کبھی اپنی انیجل کو چھوڑنا ہوا میرے بارے میں سوچنا میں شادی کرنے کو تیار ہو ۔۔۔۔

ہیلی سٹارٹ ہو چکا تھا اس کی ہوا سے صام کے شولڈر تک آتے بال اُڑ رہے تھے ۔۔۔۔

جب ہیلی تھوڑا سا اوپر کو اُڑا

تبھی اےڈی مسکراتے ہوۓ چلایا تھا ۔۔۔۔

اے ڈی کے بچےےےےےے دعا کرنا کبھی ہماری یہ ملاقات دوبارہ نہ ہو ورنہ ڈیول تیرا یہ منحوس چہرہ اُڑا دے گا ۔۔۔۔

جب تک صام کو اےڈی کی بات سمجھ آئ تب تک ہیلی اُڑ چکا تھا ۔۔۔

تبھی صام دانت پیستے غصہ سے غرایا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہہہ۔۔۔

روحا ویسے ہی بیڈ پر باندھی بیٹھی تھی صام اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔۔۔

کب سے وہ بیٹھی اندھیرے میں اس کا ویٹ کر رہی تھی جب روم کی اچانک ساری لائٹس آن ہوئ تھی ۔۔۔۔

اتنی تیز روشنی دیکھتے روحا کی آنکھیں درد ہوئ تھی تبھی وہ چلائ تھی ۔۔۔۔

سانسیں تو اس کی تب اٹکی اپنے سامنے صام کو دیکھ کر ۔۔۔۔

سرخ گرین آنکھیں سرخ وحشت زدہ چہرہ لیے پونی سے نکلے بال جو شولڈر پر آۓ تھے ۔۔۔

شرٹ لیس سینہ جہاں سرخ اور نیلی رگیں صاف دیکھائ دے رہی تھی ۔۔۔۔

دو دن بعد صام کی ایسی مضبوط باڈی دیکھتے روحا کا پیسنہ پھوٹا تھا ۔۔۔۔

کیونکہ اسے صام ایک انسان نہیں چٹان لگا تھا جو اتنا مضبوط ہو چکا تھا ۔۔۔۔

ک۔کیا۔ہوا۔۔۔۔

روحا اپنے ہونٹ تر کرتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔

کچھ نہیں میری جان ۔۔۔

صام ریلکس ہوتا روحا کو گہری نظروں سے دیکھتا بیڈ پر اس کے بے حد قریب بیٹھا تھا ۔۔۔۔

پ۔پھر ک۔۔۔

روحا اپنی ٹانگوں کو فولڈ کیے بامشکل بول رہی تھی کیونکہ نائٹی اس کی تھائ تک مشکل سے آرہی تھی ۔۔۔

وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب صام نے نرمی سے اس کے باندھے بازوں کھولتے ہاتھوں میں لیتے چوما تھا ۔۔۔۔

وہی روحا کو سکون آیا تھا ۔۔۔

ص۔صا۔م۔۔۔

روحا خود سے کنٹرول کھوتی اس کے سینے سے لگی بولی تھی ۔۔۔

وہی صام اسے لیے بیڈ پر سکون سے لیٹا تھا ۔۔۔

———————————————————–

“”کچھ دن پہلے۔۔۔۔

ص۔صام آپ ہم جا۔۔۔۔

شششش۔۔۔۔

روحا بارش میں بھیگتی بکھری حالت لیے گھاس پر رو رہی تھی جب اسے صام کے سفید زخمی پاٶں دیکھائ دے تبھی وہ روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

جب صام اسے ایک ہی جھٹکے سے اٹھاۓ اپنی گود میں لیے سرگوشی کرتا آفندی پلیس سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ روحا اس کی گردن میں منہ چھپاۓ سسکیاں لے رہی تھی ۔۔۔۔

———————————————————-

صام ہم بدکردار نہ۔ہیں آپ یقین ۔کرے ہم صرف آپ س۔عشق ۔ہے ۔۔۔

صام چلتا ہوا اسے اپنے پرسنل پلیس لایا تھا ۔۔۔۔

جب روحا روتے اٹکتے بولی تھی ۔۔۔

ششش چپ ۔۔۔

مجھے پورا یقین ہے میری مس لائف ایسی بلکل نہیں ہے ۔۔۔

میں جانتا ہو جو لڑکی اپنا حسن اس ہوس پرست لوگوں سے چھپانے کے لیے کالی بنی تھی ۔۔۔

میری بیوی ہونے کے بادجود آج تک تم نے مجھے اتنا قریب نہیں آنے دیا وہ لڑکی اپنے کردار کی کتنی پکی ہو گی ۔۔۔۔

مجھے اپنی جان سے زیادہ تم پر یقین ہے اب یہ فضول سوچنا بند کرو ۔۔۔۔

صام روحا کی پیشت اپنے سینے سے لگاۓ بڑے آرام سے سرگوشیاں کر رہا تھا ۔۔۔

روحا کو سکون اترتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

گرم سانسیں اسے اپنے کان پر محسوس ہو رہی تھیں۔۔

رخ موڑنے کی ہمت نہیں تھی اب اس میں ۔

روحا کو اب شرم آ رہی تھی صام سے کیونکہ وہ آدھی پھٹی ساڑھی میں بنا پلو کے اس کے سینے سے لگی کھڑی تھی ۔۔۔

اسکی پیٹ پیچھے موجود صام کے سینے سے لگی تھی وہ۔

روحا کی سانسیں تیز ہوئ تھی جب

دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں اس نے اپنی انگلیاں پھنسائی تھیں ۔۔۔

ٹھوری اسکے کندھے پر رکھے وہ دلچسپی سے اسکا کانپتا وجود محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔

پیٹ سے پکڑے صام نے زور سے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔

روحا کی زبان اسکی تالوں سے چپک کر رہ گئی تھی ۔۔

مس لائف ۔۔۔

صام بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔

غصہ نہیں کرو گی

۔

اسے ٹھنڈا پڑتا دیکھ فکر مندی سے آگے آیا اور اسکا ہاتھ تھام کر سہلاتے وہ بولا تھا ۔۔۔

د د دور۔۔۔۔

کانپتے ہوئی بولتی وہ اسے پیچھے دھکا دیتی بولی تھی ۔۔۔

جس کا اس پر رتی برابر فرق نہیں پڑا تھا ۔۔

بلکہ دوسرا ہاتھ بھی صام نے تھام لیا تھا

ڈونٹ بی ہائپر!!۔۔

صام روحا کا سرخ چہرہ کانپتا جسم بھیگی ساڑھی دیکھتا ہوا اس کے

ہاتھوں کو سہلاتا وہ نرم نظروں سے اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے بولا تھا ۔۔

ص۔ا۔

روحا کے ہونٹ ہلے تھے مگر آواز وہ کہیں اندر ہی دب گئی۔۔۔۔

مس لائف میری موجودگی میں یہ ڈر اور خوف تمھارے لیے ٹھیک نہیں اگر اس دنیا میں تمھارے لئے کوئی ہے ہر لمحہ ہر پل ہے تو وہ میں ہوں۔۔

میں ہو جو تمہاری ان گرم نرم چلتی سانسوں پر راج کرتا ہو ۔۔۔

اسکی سرخ گرین آنکھوں میں جو سچائی تھی وہ اسکی لفظوں کا بھرپور ساتھ دے گئی تھی۔۔

۔۔یو ۔۔۔ ہرٹ می ۔

سب جھوٹے ہیں۔۔

آپ نے ہم پر یقین نہیں کیا اور اب جھوٹ بول رہے ۔۔

۔۔۔یو آر آ لائر ۔یس۔ یو۔ آر ۔آئی ہیٹ یو ۔

آپ بہت بہت برے ہے ۔۔

آپ نے ہمیں مارا آپ نے ہمیں دھکا دیا یہاں پین ہو رہا ہمیں یہ ہونٹ آپ کی وجہ سے زخمی ہوۓ آپ جھوٹے ہے ۔۔۔

روحا شدید طش میں آتی پاگلوں کی طرح اسے مارنا شروع کر چکی تھی ۔۔۔

اسکے چوڑے سینے ہر مکہ برساتی وہ آپے سے باہر ہوتی چیختی ہوئے کہتی چلی گئی تھی ۔۔

ارے میری شیرنی واپس آ گی بس ایسی چاہے مجھے تم ۔۔۔۔

صام حیران رہ گیا تھا ۔۔

تبھی اس کے کان میں سرگوشی کرتا اسکی کمر کے گرد بازو باندھے پر سکون سا اس سے مار کھا رہا تھا۔۔۔

وہ کوئی بچی لگ رہی تھی جو اسی کی شکایت اسی سے لگا رہی تھی ۔۔

آپ برے ہے صام ہمیں نفرت ہے آپ سے کوئ ایسا بھی کرتا ہے آپ ایک دفعہ ہمیں جان سے مار دے یوں پل پل مرنے سے اچھا ہے ۔۔۔

صام نے جیسے ہی روحا کے پیٹ پر لگی چین پر انگلیاں چلائ تھی وہی روحا سکون میں آتی اسی کے سینے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔

صام ایسے ہی عام سا شکار نہیں کرتا تھا ہر کمزوری سے واقف ہو کر اس پر پاؤں رکھتا تھا

صام آفندی کا دل ہو تم میرے دل کی دھرکن ہو ۔

میری سانس ہو نس نس میں بستی ہو ۔۔

بٹ آی نو تمھارے ٹھرکی صام نے تمھیں ہرٹ کیا اسکے لئے وہ دل و جان سے شرمندہ ہے۔۔۔

صام بڑے نرم طریقے سے اس کے کانوں میں سرگوشیاں کرتا

پیشانی پر محبت سے بوسہ دیتا وہ اسے تھورا پرسکون کر گیا تھا۔۔۔

ی۔ہ۔یہ کیا۔۔۔

صام نے پرسکون روحا کو خود سے دور کیے ہاتھ میں ایک پیپر دیا تھا ۔

جیسے دیکھتے وہ حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔

کھولو ۔۔

صام نے دوٹوک بات کی ۔۔۔

شعیب نے تمہارے جسم پر تین چیپس لگائ ہے ۔۔

ایسی چیپس جس سے وہ ہماری ہر بات سن سکتا ہے ۔۔۔

مجھے بلکل بھی یہ نہیں پتہ وہ چیپس تمہارے کس حصے پر لگی ہے ۔۔۔

مجھے پتہ تھا شعیب یہ سب ڈرامہ کرے گا تبھی تمہیں ایسے الفاظ کہے ۔۔۔

جس کے لیے میں بہت شرمندہ ہو ۔

یہی پتہ کرنے کے لیے تمہارے پاٶں پر زخم دے جب وہاں سے نکلا خون تھوڑا سا گرین ہوا میرا شک یقین میں بدل گیا کہ واقعی چیپس تمہارے جسم میں ہے ۔۔۔۔

اب میں واقعی ڈر چکا تھا کیونکہ تم پوری اس شعیب کے قبصے آ چکی تھی ۔۔۔۔

میرے لیے تمہاری جان بچانا زیادہ ضروری تھا بس اس لیے درد دیا ۔۔۔۔

تمہارے ہر درد کی دوا میں بنو گا میری جان ۔۔۔۔

صام روحا کو لیے بیڈ پر اپنی گود میں بیٹھتا اس کی زخمی کمر پر اپنے دہکنے لب رکھ رہا تھا ۔۔۔

جبکہ روحا سانس روکے پیپر پر لکھے صام کے الفاظ پڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن ۔ص۔۔۔۔

شعیب ہماری ہر بات سن رہا ہے خاموش رہو ۔۔۔

اس سے پہلے روحا بولتی جب صام اس کے کان میں سرگوشی کرتا اس کے کان کی لو چومتا بولا تھا ۔۔۔۔

یہ چیپس تمہاری جان کے لیے خطرناک ہے کیونکہ تم جیتنا بولو گی یہ آہستہ آہستہ تمہارے دماغ کو قابو کرے گی ۔۔۔۔

جیسے ہی یہ چیپس تمہارے دماغ تک رسائ پا سکے گی تبھی شعیب تمہارے دماغ کو قابو کرتا کچھ بھی غلط کام کروا سکتا ہے ۔۔۔۔

روحا کی آنکھیں پٹھی تھی یہ سب پڑھ کر ۔۔۔۔

اس لیے جیتنا ہو سکے خاموش رہو ۔۔۔

تاکہ وہ چیپ تمہارے دماغ تک رسائ نہ پا سکے ۔۔۔۔

اس لیے اتنا درد دیا اب ہمیں شعیب کے سامنے یہ ڈرامہ کرنا ہے جب تک مجھے یہ چیپ نکالنے کا حل نہ مل جاۓ ۔۔۔

تم سے زیادہ میری سانسیں اٹکی ہے کیونکہ شعیب تم سے کچھ بھی کروا سکتا ہے ۔۔۔۔

روحا اب آنسو بہاتی صام کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

جو اپنے کام میں مگن اس کی گردن پر لب رکھے مدہوش ہوا تھا ۔۔۔۔

———————————————————-

لیکن صام اس وحشی نے ہمیں یہاں کاٹا یہاں چھوا ہم سے برداشت نہیں ہو رہا یہ سب اس کا گندہ لمس ہمارے جسم پر موجود ہے ۔۔۔

ہم چاہتے ہے اپنے جسم کو نوچ دو ہمیں آگ لگ رہی ہے آپ اتنے سکون م۔۔۔۔

اچانک روحا اٹھ کر کھڑی ہوتی پاگلوں کی طرح اپنے جسم کو نوچتے بول رہی تھی جب صام اسے گود میں آٹھاۓ واش روم لاتے شاور کے نیچے کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔

ششش ریلکس کچھ دن بس کچھ دن اگر یہ لڑائ میرے ساتھ ہوتی تو میں بنا ڈرے لڑ پڑتا لیکن شعیب جان بوجھ کر تمہیں نشانہ بنایا ۔۔۔

کیونکہ جانتا ہے صام آفندی کی کمزوری روحا صام آفندی ہے ۔۔۔۔

لیکن وہ بھول گیا تم میری کمزوری نہیں طاقت ہو ۔۔۔

تبھی میری سانسوں کے قریب کھڑی ہو ۔۔۔۔

صام آہستہ آہستہ اس کے جسم پر ہاتھ پھیڑتا بول رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ روحا خاموش آنسو بہا رہی تھی ۔۔

واش روم میں پانی کے گرنے کی آواز کا شور اتنا تھا کہ صام اب آرام سے بول سکتا تھا ۔۔۔۔

ہم ایسا کچھ بھی کرے گے ۔۔۔

روحا ضدی انداز سے اس کی گردن پر لب سہلاۓ بولی تھی ۔۔۔

تم سب کچھ کرو گی ہم لڑے گے تاکہ شعیب کو پتہ چلے تم مجھ سے خوش نہیں ۔۔

جب کبھی بے بس ہو جاٶ میرے

سامنے تو کوٹ ولڈ میں مجھے آسٹریلیا کا بندر کہنا اور میں افریقہ کی بندری ۔۔۔۔

پھر ہم اپنی یہ ڈرامہ بازی ختم کر دیا کرے گے ۔۔۔

لیکن یہ بہت ضروری ہے میرے لیے مس لائف ۔۔

رہ گی یہ بات وہ وحشی تمہیں چھوۓ گا ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔۔۔

تمہاری یہ چین میں نے ایکٹو کر دی ہے ۔۔۔

اس چین میں کرنٹ آیا کرے گ۔۔۔

تو آپ کو کرنٹ لگے گا کیا ۔۔

صام بول رہا تھا جب روحا پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

تمہیں جو غیر محرم چھوۓ گا اسے زبردست جٹھکا لگے گا ۔۔۔

بس میں ہی تمہیں چھو اور محسوس کر سکو گا ۔۔۔۔

بس جب تک مجھے پتہ نہیں چل جاتا تم کم بولا کرو گی ۔۔۔

اتنا تو اپنے ٹھرکی صام کے لیے کر سکتی ہو ۔۔۔۔

صام روحا کے پیٹ پر اپنی انگلیوں سے چین پر لگے ڈائمنڈز کو گھومتا وہاں لب رکھے بولا تھا ۔۔۔۔

ل۔لکی۔لیکن ہم کیسے صا۔۔۔۔۔

تم سب کچھ کرو گی لڑو گی مجھ سے جو دل میں بھڑاس ہو گی نکالو گی ۔۔۔۔

روحا اسے خود سے دور کیے بول رہی تھی ۔۔۔

جب صام واپس اس کے قریب آتا اس کے زخمی ہونٹوں کو قید کیے بولا تھا ۔۔۔۔

وہی روحا اس کی قربت پاتے ہار مان گی تھی ۔۔۔

———————————————————-

اتنا درد دے کر کہتے ہے ہم چپ رہے ۔۔۔

روحا اس کے سینے سے لگی رو رہی تھی جب صام اس کی کمر پر انگلیاں چلای تھی وہی روحا بات کا مطلب سمجھتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔

ہاں تو سہہ ہے اور نہیں یہ دوری برداشت ہوتی یہ نکال دے ۔۔۔

روحا واپس اٹھ کر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔

درد ہو گا ۔۔۔

صام نے آنکھوں سے اشارہ کرتے بتایا تھا ۔۔۔۔

یہ جو درد ہم اتنے دنوں سے سہہ رہے اس سے کم نہیں ہو گا ۔۔۔

روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔

وہی صام کے لبوں پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔

یہ پیو۔۔۔

صام اسے ایک نیلے رنگ کا پانی دیتے اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔

چچچچ صام گندی بدبو ہے ہم نہ۔

روحا گلاس میں پانی دیکھتی الٹی جیسا منہ بناۓ بول رہی تھی جب صام نے اس کے ہونٹوں کو پکڑے زبردستی سارا پانی اندر کی طرف منتقل کیا تھا ۔۔۔

گن۔گندے صام۔۔۔

روحا سارا پانی پیتی برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

شکریہ میری جان تعریف کے لیے ۔۔۔

صام روحا کے لبوں کو نرمی سے چومتے بولا تھا ۔۔۔

———————————————————-

دو حل ہے یہ چپیس نکالنے کا مس لائف ۔۔۔

ایک یہ انجکشن لگواٶ اس سے جگہ سن ہو جاۓ گی پھر درد نہیں ہو گا دوسرا ہ ۔۔۔۔

ہمیں دوسرا ٹھیک رہے گا یہ انجکشن نہیں ۔۔

صام روحا کو بیڈ پر لٹاتا مدھم آواز سے بول رہا تھا جب روحا جلدی سے بولی ۔۔۔

پاگل لڑکی دوسرے میں درد زیادہ ہو گا یہ نائٹی بھی تبھی پہنائ ہے تاکہ مجھے دیکھ جاۓ چیپس ہے کہاں ۔۔۔

صام اب اور زیادہ لائٹس روم کی جلاۓ بولا تھا ۔۔۔۔

روحا نے شرم سے آنکھیں بند کی تھی کیونکہ ایک تو وہ نائٹی پہنے ایسی لیٹی تھی جہاں صام کو اتنی تیز روشنی میں اس کے جسم کا ہر حصہ عیاں ہو رہا تھا ۔۔۔

صام آسانی سے روحا کے گورے بدن پر سرخ نیلی رگیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔

لیکن کہی نہ کہی وہ دل میں ڈر رہا تھا کہ وہ چیپس نکال پاۓ گا یا نہیں ۔۔۔

ٹوٹل چار چیپس تھی ایک لاکٹ میں جو اےڈی نے اتار دیا تھا باقی بچی تین ۔۔۔

تمہارے جسم پر ریڈ مارک بنے ہے ایک شہ رگ پر دوسرا گردن سے زرا نیچے ۔۔۔

پکا دوسرے طریقے سے نکال لو گی درد سہہ لو گی ۔۔۔

صام روحا کے اوپر جھکے پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہم سب کچھ سہہ لے گے جہاں آپ ہے وہاں یہ درد کچھ نہیں ۔۔۔

بس ہم دور نہیں رہ سکتے آپ کے صام ۔۔۔

روحا نے آنکھیں کھولے صام کے ماتھے سے آتے پیسنے کو اپنے ہاتھ سے صاف کیے پیار سے بولی تھی ۔۔۔

بلکل پاگل لڑکی ہو تم میں تمہیں درد نہیں دینا چاہتا تبھی کہہ تھا انجکشن لگا لو پھر نکل جاتی ۔۔۔

صام اب واقعی بے بس ہوتا اس کی شہ رگ پر جھکتا بولا تھا ۔۔۔۔

س۔سسی۔۔۔۔

روحا اپنی شہ رگ پر صام کے دانت محسوس کرتی سسکی تھی ۔۔۔۔

صام نے اپنے دانت گھاڑے تب تک کاٹا تھا جب تک اس کی شہ رگ سے خون کے ساتھ صام کے منہ میں ایک بلکل چھوٹی سی چاول کے برابر چیپ نہیں آ گی تھی۔۔۔۔

نہیں کر پاٶ گی درد برداشت یار اتنے سے درد سے یہ حالت ہو گی ۔۔۔۔

صام اپنے منہ سے چیپ نکالے ایک باٶل میں رکھتا روحا کی آنسووں سے بھری آنکھیں دیکھ دکھ سے بولا تھا ۔۔۔۔

جو زرا سے درد سے آنکھیں سوج چکی تھی ۔۔۔

ن۔نہیں ہم سہہ لے گے۔۔۔

آپ کرے۔۔۔

روحا اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرۓ اٹکتے بولی تھی ۔۔

صام دوبارہ اس کی گردن کے نیچے جھکے اب دانت گھاڑے تھے ۔۔۔

آہہہہہہہ۔۔۔

اس سے پہلے وہ وہاں بھی کاٹتا جب روحا درد سے تڑپتے چیختی اسے کمر سے مضبوطی سے پکڑ چکی تھی ۔۔۔

بہت ضدی ہو تم پہلے کیا کم درد میں ہو تبھی کہہ رہا تھا انجکشن لگا لیتی تو میں آسانی سے چاقو کے ساتھ نکال لیتا تمہیں درد بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔

دانتوں سے اس لیے کاٹ کر نکال رہا ہو کیونکہ مجھے وہ محسوس ہو سکے ورنہ چیپ حرکت کرتی تمہارے کسی بھی حصے میں جا سکتی ہے ۔۔۔

صام اب غصے سے روحا کو بیٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔

و۔وہ زیادہ درد دے گا آپ یہی کرے جل۔جلدی اب پکا وعدہ نہیں چلاٶ گی ۔۔۔

روحا بچوں جیسی شکل لے بناۓ بولی تھی ۔۔۔

صام نے روحا کے بالوں میں انگلیاں پھساۓ آہستہ سے اپنے دانت اس کی گردن کے نیچے گھاڑے تھے ۔۔۔۔

اس کی آہستہ آہستہ انگلیاں بالوں میں گھوم رہی تھی وہی روحا کو سکون میں دیکھتے صام نے کاٹا تھا ۔۔۔۔

صام کے منہ میں خون آنے کے ساتھ دوسری چیپ بھی آ چکی تھی ۔۔۔

جیسے ہی صام نے روحا کو چھوڑا وہی روحا گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی ۔۔۔۔

تیسرا نشان نہیں ملا مجھے تم ایسا کرو جاٶ نائٹی ریمو کر کے دیکھو کہاں مارک ہے پھر میں تمہیں انجکشن چاقو دو گا خودی نکال لینا ۔۔۔۔

صام روحا کو وڈراب روم کے سامنے کھڑا کرتا پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ اسے ابھی بھی ڈر تھا دو چیپ نکالنے پر روحا کی حالت ایسی ہو گی تھی تیسری تو پھر بڑی چیپ تھی ۔۔۔۔

ج۔جی۔۔۔

روحا جلدی سے اندر جاتی بولی تھی ۔۔

————————————————————

ص۔صام۔۔۔

کیا ہوا ملی جگہ کدھر ہے ۔۔۔

روحا گھبراتے ہوۓ باہر آتی بول رہی تھی جب صام بے تابی سے بولا تھا ۔۔۔

جی دل کے نیچے چیپ ہے ہم نے دیکھ لی ۔۔۔

روحا گھبراتے بولی تھی ۔۔۔

وہی ہوا جس کا ڈر تھا وہی چیپ تمہارے دماغ کے ساتھ جوڑی ہے اچھا یہ انجکشن اور چاقو لو خودی نکال لینا ۔۔۔

صام اپنے کانپتے ہاتھوں سے چاقو انجکشن دیتا بولا تھا ۔۔۔

اگر کوئ دیکھ لیتا ڈیول اپنی انیجل کے سامنے کیسے بے بس ہوا ہے تو سب پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹتے۔۔۔

۔ی۔یہ۔ہم نہیں آپ کرے گے اتنا گھبرا کیوں رہے بیوئ ہے ہم آپ کے باقی آپ سمجھے گے تو گے ۔۔۔

روحا صام کے قریب آتی اس کے کانوں میں سرگوشی کرتی اسے صاف مطلب سمجھا چکی تھی ۔۔۔

صام ہمت کرتا روحا کو پکڑے بیڈ پر لٹاۓ اب ساری لائٹس کو آف کر چکا تھا ۔۔۔

ص۔صام ی۔۔۔

نائٹی ساری اتارنی پڑے گی اس لیے لائٹس آف کی ۔۔۔

روحا اندھیرہ دیکھتی ڈرتے بول رہی تھی جب صام نے اس کی نائٹی کی ڈروی کھولتے کہا تھا ۔۔۔

روحا صام دونوں کو کچھ بھی دیکھائ نہیں دے رہا تھا ۔۔

بس اپنی چلتی سانسیں سنائ دے رہی تھی دونوں کو ۔۔۔۔

۔ص۔ام۔۔۔

روحا کو اپنے دل کے نیچے مقام پر صام کے گرم لب محسوس ہوۓ تھے ۔۔۔

تبھی وہ ڈرتے اپنی آواز دبا چکی تھی ۔۔۔۔

مس لائففف۔۔۔

صام اندھیرے میں ہی بے بس ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

ص۔صام آپ کتنے ڈرپوک ہے ہمیں ایسے اچھے نہیں لگتے ایک چیپ نہیں نکالی جا رہی آپ سے ایسا تو آرمی آفسر نہیں ہوتا۔۔۔۔

روحا جانتی تھی صام کس بات کے لیے ڈر رہا ہے تبھی وہ اپنا لہجہ مضبوط کرتی زرا غصہ سے بولی تھی ۔۔۔۔

صام روحا کی بات سنتا اپنی انگلیاں اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں پھساۓ ایک دفعہ پھر جھکا تھا ۔۔۔۔

صام نے دانت گھاڑتے دو دفعہ زور سے کاٹا تھا ۔۔۔

روحا نے بڑی مشکل سے ہونٹ دباۓ چیخ روکی تھی ۔۔۔

صام کو ناکامی ہوئ تھی دونوں دفعہ کاٹنے پر خون تو آیا تھا لیکن چیپ نہیں ۔۔۔

مس لائف میں ن۔۔۔۔

صام ہم چھوڑ دے گے آپ کو پکے والا پھر کبھی آپ کے پاس نہیں آۓ گے ۔۔۔

اتنا درد سہا لیا ہے یہ بھی سہہ لے گے ہم بس آپ نکال دے چیپ ورنہ ہم نہیں بولے گے ۔۔

صام آفندی کی کمزوری روحا نہیں بلکہ طاقت ہے آپ پھر کیوں حوصلہ چھوڑ رہے پہلے بھی دو نکال لی ہے اب بھی نکالے ۔۔۔

صام جو دوبارہ اٹھتے ہار مانتا بول رہا تھا جب روحا نے صام کو کمر سے پکڑے زرا سخت لہجے سے کہا تھا ۔۔۔

ہممم۔۔۔

صام کچھ سوچتا دوبارہ جھکا تھا وہ ٹھیک کہہ رہی تھی طاقت تھی روحا اس کی پھر وہ کیسے حوصلہ ختم کر سکتا تھا ۔۔۔۔

اہ۔۔۔۔

صام نے دو دفعہ پھر کاٹا تھا جب روحا نے جلدی سے چیخ روکی تھی ۔۔۔۔

تیسری دفعہ کاٹنے پر صام کے منہ میں خون کے ساتھ چیپ آئ تھی ۔۔۔۔

صام خوشی سے پاگل ہو چکا تھا بلآخر وہ کامیاب ہوا تھا روحا کی جان بچانے میں ۔۔۔

مجھے معاف کر دو میری جان میں نے ہمیشہ تمہیں دکھ دیا درد دیا ۔۔۔

ہر دفعہ میری وجہ سے تم نے درد سہہ ہے ۔۔۔

اتنے دن درد میں رہی اب تو انتہا ہو گی میں نے تمہیں جان بوجھ کر زخمی کیا مس لائف میں اچھا شوہر نہیں بن سکا ۔۔۔

مجھے معاف کر دو میری جان اتنی تکلیف میں نے تمہیں دی میری وجہ سے میں نہیں جانتا تھا میرے جنون میں تم اتنا تڑپو گی ۔۔۔۔

بات اگر میری ہوتی تو کبھی مجھے ڈر نہ لگتا میں نے وہ گولی بھی اسی لیے دی تھی تاکہ میں جان سکو چیپس تمہارے دماغ کے ساتھ اٹچ ہوئ یا نہیں لیکن میری وجہ سے تمہارے سر میں درد ہوا خون آیا ۔۔۔

تم مجھے چھوڑ دو ہاں یہ ٹھیک ہے تاکہ میرے پاس نہیں رہو گی تو سکون میں رہو گی ت۔۔۔۔۔

صام اسے اپنی شرٹ پہناتا لائٹس آن کیے

روحا کی سرخ براٶن آنکھوں کی سوجن آنسوٶں سے بھرا چہرہ دیکھ اب پچتھاٶۓ سے اسی کے سینے پر سر رکھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ۔۔۔۔

ایسے تو بچے بھی نہیں روتے تھے جیسے صام آفندی اب بچوں جیسا رو رہا تھا ۔۔۔

وہ ڈیول جس نے کتنوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا وہ تب بھی نہیں رویا تھا ۔۔۔

آج اپنی روحا کے سامنے وہ رویا تھا ۔۔۔

تبھی روحا نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے اس کے آنسو اپنے لبوں سے صاف کیے تھے ۔۔

کیسے بچوں جیسے رو رہے ہے اب تو سب ٹھیک ہو گیا ہم بلکل ٹھیک ہے صام اور یہ کیا طریقہ ہے ہمیں خود سے دور کرنے کا ہمیں آپ سے عشق ہے سنا آپ نے ۔۔۔

روحا اسے اپنے لمس سے پر سکون کر رہی تھی ۔۔۔

آج واقعی میرا جنون تمہارے عشق کے آگے ہار گیا مس لائف اتنی ثابت قدم تمہاری جگہ کوئ اور لڑکی ہوتی وہ تو مجھے چھوڑ کر بھاگ جاتی ۔۔۔

تم نے بدکردار جیسے لفظ سننے میرے منہ سے مار کھائ زخمی ہوئ ابھی بھی تمہاری حالت ٹھیک نہیں پھر بھی اپنے عشق کا اعتراف کر رہی ہو ۔۔۔

تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ خوبصورت ہو ۔۔۔

صام اب دیوانہ وار روحا کا چہرہ پکڑے چومتا بولا تھا ۔۔۔

یہ بہت کم ہے صام ہم آپ کے جنون تک پہنچنا چاہتے ہے ۔۔

اگر کبھی آپ کو بچانے کے لیے ہمیں موت کو بھی گلے لگانا پڑا ہم لگاۓ گے کیونکہ یہ ضدی روحا اب اپنے صام کے بنا ایک منٹ بھی نہیں دور رہ سکتی پہلے ہی اتنے دن ہم نے یہ دوری بہت مشکل سے سہی ۔۔۔

روحا صام کی آنکھوں پر لب رکھتی بولی تھی ۔۔۔

تبھی میں تمہیں مس لائف کہتا ہو میری پوری زندگی ہو ۔۔

تمہیں بچانے کے لیے اگر مجھے اپنی سانسیں بھی دینی پڑتی میں کر لیتا ۔۔۔

رات کی تنہائ روحا کا خوبصورت لمس اپنی من چاہی بیوی کا ساتھ پاتے صام اب بہکنے لگا تھا ۔۔

تبھی روحا کی زخمی شہ رگ پر لب سہلاتے وہ بولا تھا ۔۔۔۔

روحا آنکھیں بند کیے صام کے لبوں کا لمس اپنی گردن سے نیچے محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

وہی اس کی سانسیں تیز ہوئ تھی ۔۔۔

ص۔صاممم۔۔۔

روحا نے جب صام کے لب اپنی تھوڑی پر محسوس کیے تبھی وہ تڑپتی بولی تھی ۔۔۔۔

مس لائف کس کی ہے ۔۔۔

صام روحا کے بالوں میں انگلیاں چلاۓ اپنے لب اس کی گال پر رکھے بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔

آ۔آپ کی ۔۔۔

روحا بامشکل بول پائ تھی کیونکہ صام کی قربت سے اس کی جان جا رہی تھی ۔۔۔

صام کس کا ہے ۔۔

صام اب اپنے لب اس کے شولڈر پر رکھتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔

ہ۔ہمارا ۔۔۔

روحا صام کے سر پر اپنی انگلیاں چلاتے بہکے ہوۓ انداز سے بولی تھی ۔۔۔

روحا ڈرتی ہے کیا صام سے ۔۔۔

صام کے لب اس کی بیوٹی بون پر آۓ تھے۔۔۔

جب وہ وہاں اپنے لب سہلاتا بولا تھا ۔۔۔

ہم نہیں ڈرتے آپ سے ٹھرک۔۔۔۔۔

روحا صام کا چہرہ اپنے قریب چہرے کے لاتے بول رہی تھی ۔۔۔

اس وقت دونوں کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی ۔۔

جب صام سب کچھ بھولے اپنے دہکنے لب اس کے نرم ملائم گلابی لبوں پر رکھے تھے ۔۔۔۔

صام اپنی آج پوری شدت جنون پاگل پن سب کچھ روحا کی سانسوں میں لٹا رہا تھا ۔۔

وہی صام فل بہکا ہوا اپنی ساری حدیں پار کر چکا تھا ۔۔۔

روحا نے بھی کوئ مزاحمت نہیں کی تھی جانتی تھی وہ کتنا جنونی ہے تبھی خاموشی سے خود سپردگی دے وہ مسکراتی اپنی باہیں اس کی گردن میں حائل کیے آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔۔

صام روحا کی رضامندی پاتا اپنا شدت جنون اس پر لٹانے لگ گیا تھا ۔۔

ساری رات روحا اس کا ہر شدت بھرا عمل دیکھ کر کبھی ڈرتی گھبراتی شرماتی اسی کے سینے سے پناہ مانگتی رہی ۔۔۔

آہستہ آہستہ رات گزر رہی تھی وہی روحا کو پکا یقین ہو چکا تھا اس کا صام اس کے لیے کتنا جنونی بن چکا ہے ۔۔۔

————————————————————

ہم کہیں جا رہے کیا ۔۔۔

آہان کو اتنا سامان پیک کرتے دیکھ آفندی صاحب پاس آتے بولے تھے ۔۔۔

جہاں سارے تیار ہوۓ تھے ۔۔۔

جی بابا ہم ساجن کے فارم ہاوس جا رہے ہے پیکنگ کرنے آپ جا رہے کیا ۔۔۔

آہان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔

کیا دماغ چل گیا ہے صامے کا پتہ نہیں دو دن ہو گے کہاں ہے روحا کا نہیں پتہ تم لوگوں ک۔۔۔

بابا آپ کے صامے نے ہی آڈر دیا ہے اب آپ اس سے پوچھ لینا ہم سب وہی جا رہے آپ نے جانا ہے کیا ۔۔۔۔

آفندی صاحب غصے سے بول رہے تھے جب آہان مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔

آنے دو اس ہڈ حرام کو اس کی ہڈی میں چین ہی نہیں ہے ہر وقت موج مستی میں رہتا ہے ۔۔

جاٶ سارے میں زیدی کے ساتھ لندن جا رہا ہو میٹنگ کے لیے تمہاری ماما بھی میرے ساتھ ہو گی ۔۔

آفندی صاحب دانت پیستے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔

بابا آپ بھی تو ہماری معصوم سی ماما کو ساتھ لے کر جا رہے پھر کیوں صامے کو الزام لگا رہے ہے ۔۔۔

آہان یہ بات کہتا اوپر روم کی طرف بھاگ گیا تھا ۔۔۔

جب تک آفندی صاحب کو سمجھ آیا وہ ہال میں اکیلے کھڑے تھے ۔۔۔

ہاےے میرے ساتھ بچے بگڑ رہے ہے اس صامے کی وجہ سے ۔۔۔

آفندی صاحب مسکراہٹ روکے

بولے تھے ۔۔۔

جب پیچھے کھڑی ملازمہ کو دیکھ اب بولے ۔۔

جاٶ ناشتہ لگاٶ سب کے لیے یہاں منہ اٹھا کر کھڑی ہو ۔۔

راضیہ کو مسکراہٹ روکے دیکھ وہ اپنا غصہ اس پر اتار کر چلے گے تھے ۔۔۔

راضیہ اب مسکراتے ہوۓ ناشتہ لگانے لگی تھی ۔۔۔

———————————————————–

کیا ہے صا۔م۔۔۔

نہ تنگ کرے رات بھی سونے نہیں دیا ۔۔۔

صبح روحا بکھری حالت میں صام کی شرٹ پہنے ایک روٹھی ہوئ بچی لگتی صام کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی ۔۔۔

جب اسے دوبارہ صام کی انگلیاں اپنی شرٹ کے اندر محسوس ہوئ تھی ۔۔

تبھی وہ نیند میں بولی تھی ۔۔۔

کیوں سو رہی ہو اگر میں جاگ رہا ہو ۔۔۔

صام روحا کے کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

آپ کو نیند نہیں آئ صام ۔۔۔

روحا اب بامشکل آنکھیں کھولتی بولی تھی ۔۔

میں تو پتہ نہیں کتنے دن سے نہیں سویا رات سونے کا موڈ تھا لیک۔۔۔

لیکن کیا صام ۔۔

صام کو اچانک پریشان ہوتے روحا جلدی سے بولی تھی ۔۔

لیکن یہ میں نے رات سب حد پار کر لی مس لائف میں ایسا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔

تمہیں دیکھ کر میں ہمیشہ بہک جاتا ہو اور رات بھی ایسا ہی ہوا ۔۔۔

میں بہت شرمندہ ہ۔۔۔۔۔

کیا بولے جا رہے ہے دماغ ہل گیا کیا رات جو بھی ہوا آپ کا حق تھا اور یہ شرمندہ ہونے والی کیا بات ہے ہماری رضامندی شامل تھی ۔۔

چلے چھوڑے ہم ناشتہ بنا کر آتے ہے ۔۔

روحا صام کی گرفت سے بڑی مشکل سے نکلتی ہوئ اٹھ کر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔

ناشتہ تم کیوں بناٶ گی ملازمہ بنا لے گی ۔۔۔

تم یہی رہو میرے پاس سانسوں کے قریب ۔۔۔

صام روحا کو کمر سے پکڑے دوبارہ بیڈ پر لٹاۓ اس کے سینے پر اپنا بھاری بازو اور ایک ٹانگ اس کی ٹانگوں پر رکھے وہ بولا تھا ۔۔۔

کیا ہے صاممممممم کیا کھاتے ہے پورے چٹان جیسے ہے ہمارا سانس رک جاتا ہے کیا پتھر کھاتے ہے ۔۔۔

روحا صام کا وزن خود پر پاتی دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

روحا کا سانس روکا تھا ۔۔۔

میں کھاتا ہو تمہیں میں پیتا ہو تمہاری سانسیں بس اس لیے ایسا بن گیا میری جان ۔۔۔

صام اسے زور سے اپنے سینے سے لگاۓ جنونی انداز سے بولا تھا ۔۔۔

ہ۔ہم۔بھوک لگی ہے ص۔صام۔۔۔

روحا صام کو رات والی ٹون میں واپس آتے دیکھ جلدی سے گھبراتے بولی تھی ۔۔۔

بھوک تو مجھے بھی لگی مس لائف ۔۔۔

صام اپنی انگلی اس کی گردن پر پھیرتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔

صامممممم۔۔۔۔

ہم مارے گے آپ کو صاممممم۔۔

روحا نے جب اس کی انگلی شرٹ کے اندر جاتی دیکھی تبھی دانت پیستی اسے مکا مارتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا یہ شرٹ تو واپس کرو جو پہنی ہے پھر چلی جانا ۔۔۔

صام اب شرارتی انداز سے اس کی شرٹ کھیچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

اتنے بے شرم ہو گے آپ حد ہے اففففف۔۔۔

روحا جلدی سے بیڈ سے اٹھتی جان بچاتی وہاں سے بھاگتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاے مس لائفففف۔۔۔

کیوں دن با دن میری نس نس میں بس رہی ہو ۔۔

صام روحا کی حرکت پر مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

———————————————————–

اووو ہیلو کون ہو تم لوگ منہ اٹھا کر کہاں جا رہی ہو ۔۔۔

روحا جب روم سے باہر نکلی پورا ہال خاموش پڑا تھا ۔۔

تبھی جلدی سے ویسے ہی بالوں کا جوڑا بناۓ کچن میں ناشتہ بنانے چلی گی تھی ۔۔۔

جب وہ ناشتہ بنا رہی تھی تب اسے کھسر پھسر کی آواز آئ ۔۔

ہال میں دو مارڈن لڑکیاں دیکھ روحا غصے سے بولی تھی ۔۔۔

یہ خوبصورت بچی کون ہے فاطمہ ۔۔۔

کینزہ نے فاطمہ کے کان میں سرگوشی کرتے پوچھا تھا ۔۔۔

جو صام کی شرٹ میں روحا بچی لگ رہی تھی ۔۔۔

بچی نہیں ہے ہم مسز صام آفندی ہے اور آپ دونوں کیوں آ گی یہاں ۔۔۔

روحا اس کی سرگوشی سنتی زرا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔

واٹٹٹ۔۔۔

دونوں لڑکیاں حیران ہوتی چلائ تھی ۔۔۔

یس آپ لوگ جاۓ یہاں سے صام ابھی سو رہے ہے ۔۔۔

روحا اب مزہ لیتا بولی تھی ۔۔

کیونکہ دونوں کی شکلیں رونے والی ہوئ تھی ۔۔۔

لیک۔لیکن میم ہم نے س۔کو فائل چیک کروانی ت۔۔

ہم نے کہا دیا نہ وہ سو رہے آپ لوگ جاۓ کام ہی باتیں وہاں آفس میں کیا کرے ۔۔

دونوں اٹکتے بہانہ سوچتی بول رہی تھی جب روحا دوٹوک بولی تھی ۔۔۔

ہاۓ ایک جھلک ہی دیکھ لیتے کتنی مشکل سے آئ تھی ہم دونوں یہ ناک چڑی لڑکی نے ہمیں ملنا ہی نہیں دیا ۔۔۔۔

میں نے سر کے بال دیکھنے تھے کتنے خوبصورت بال ہے سر کے ہاے کاش ہماری قسمت میں ایسا شوہر ملنا چاہے تھے ۔۔۔

وہ دونوں آہستہ آہستہ سرگوشیاں کرتی وہاں سے جا رہی تھی ۔۔

جب روحا نے سن لی تھی ۔۔۔

وہی وہ غصہ سے آگ بگولہ ہوتی گارڈ کو آواز لگائ تھی ۔۔۔

ج۔جی میم۔۔۔

گارڈ ڈرتا ہوا اندر آۓ سر جھکاۓ بولا تھا ۔۔۔

اب سے کوئ بھی اندر نہ آۓ یہ ہمارا آڈر ہے بس ۔۔۔

چاہے کوئ بھی ہو ۔۔۔

روحا حکم دیتی منہ بناتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

آج تو کاٹ کر رہے گے ۔۔

آج وہ دو چڑیلیں آ گی کل کو اور زیادہ آ جاے گی ۔۔۔

ہاۓ ہم کیسے ہنیڈل کرے گے بس ابھی کاٹے گے ان کے بال ۔۔۔

یہ جو اپنی زلفیں دیکھاتے سب کو نفرت ہے ہمیں ۔۔

روحا روم میں آتی ناشتہ سب کچھ بھول چکی تھی ۔۔

اگر یاد تھا تو بس اتنا اسے صام کے لمبے بال کاٹنے ہے ۔۔۔

تبھی ہاتھ میں قینچی لیے گھبراتے ہوۓ روم میں آتی بولی تھی ۔۔

جہاں فل سائز جہازی بیڈ پر بے سود ہوا صام گہری نیند میں سو رہا تھا ۔۔۔

نہیں یہ جاگ جاۓ ہم کہے گے بال کٹوا لیے اگر ہم نے خود کاٹے بال تو یہ جانور بن جاۓ گے ۔۔۔

نہیں روحا تم تو شیر کے غار میں جانے والی ہو ہاےے ہم نہیں بچے گے ہم یہی سے چلے جاتے ہے ۔۔۔

روحا دل سے سوچتی روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔

ہاے اللہٌہمیں بچا لینا ۔۔

روحا دوبارہ روم میں آتی اوپر منہ آٹھاۓ بولتی بیڈ کے قریب گی تھی ۔۔۔

بڑا شوق ہے اتنے بال رکھنے کا ہمیں نہیں پسند ۔۔۔

روحا صام کے سینے پر بیٹھی ہاتھ میں قینچی لیتی اس کے لمبے بال پکڑتی دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔۔

اب تو ہمیں مزہ آے گا ہاےےے لاکھوں لڑکیوں کے دل پر آگ لگے گی ۔۔۔

صرف ہمارے صرف ہمارے آپ کے ایک ایک حصے پر ہمارا حق ہے ۔۔

یہ میک اپ کی دوکانیں ادائیں دیکھاتی ہے ہمارے معصوم سے شوہر پر ۔۔۔

ہم کافی ہے یہ ادائیں دیکھانے کو بس یہ ہوۓ کٹ بال ۔۔۔۔

روحا منہ میں بڑابڑاتی جلدی جلدی اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتی بال کاٹتی خوشی سے پاگل ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاے اب پیارے لگ رہے بس ایسے ہی رہے صاف سے بلکل ایک بچے جیسے ۔۔۔

ہاےےےے کتنے پیارے ہے کیوں اتنے پیارے ہے یہ ڈمپل تو ہم کھا جاۓ گے ۔۔۔

روحا نے جب دیکھا صام ابھی بھی سکون سے سو رہا ہے تبھی بال کاٹتی اب اس کے چہرے پر جھکی پیار سے بول رہی تھی ۔۔۔

جبکہ وہ بھول چکی تھی صام تو اس کی خوشبو محسوس کرتے ہی جاگ کر کب سے اس کی کیوٹ سی حرکتیں نوٹ کر رہا تھا ۔۔۔

ہاے ہمارے ڈمپل ہوتے چلو کوئ بات نہیں یہ بھی ہمارے ہی ہے ۔۔۔

روحا اب اپنے لب اس کے گال پر رکھتی بار بار چومتی سرگوشی۔کرتی بولی تھی ۔۔۔

ہاہاہہاہہاہہا کیوں مجھ نا چیز کو بہکانے کا انتظام کر رہی ہو پھر کہو گی صام آپ بے شرم ہو گے ہے اب مجھ معصوم سے پوچھو کتنے ظلم ڈھاتی ہو ۔۔۔

پورا بہکانے کا چلتا پھرتا سسٹم ہو تم ۔۔۔

روحا اپنے کام میں مگن اپنے لب اس کی تھوڑی پر رکھے تھے جب آوٹ آف کنٹرول ہوتا صام اسے کمر سے پکڑے اچانک کروٹ چینج کیے قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔

روحا حیران تھی اس اچانک حملے پر ۔۔۔

آ۔آپ کب جاگ۔۔۔

روحا اب ڈرتے بول رہی تھی جب صام بولا ۔۔۔

بتا تو رہا جب اپنی یہ کیوٹ کیوٹ حرکتوں میں بزی میری دھڑکن تیز کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔

ویسے یہ بال کیوں کاٹے کوئ ایسے کاٹتا ہے کیا ۔۔۔

صام اب اپنے بے ٹگے سے کاٹے بال دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

ہم نے کاٹے آج کے بعد آپ کے بال لمبے نہ ہو اتنے پسند ہے ہمارے لے ہمارے اتنے لمبے بال ہے ۔۔

روحا سکون سے منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

اہہہ روحا بے بی جلیس ہو گی ۔۔۔

صام مزہ لیتا ہوا روحا کو پھولا چہرہ دیکھتے بولا تھا ۔۔

ہم ہوۓ جل۔۔۔

روحا ابھی بول رہی تھی جب صام نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا تھا ۔۔۔

روحا نے مکے اس کے سینے پر مارے تھے ۔۔۔

آ۔پ بے شرم ہ۔گے ص۔۔۔

روحا اپنا آپ چھڑواتی ہوئ گہرے سانس لیتی بول رہی تھی جب دوبارہ صام نے اس کی سانس قید کی تھی ۔۔۔۔

خ۔ب۔د۔ار۔اگ۔۔۔

روحا پھر سے اسے دور کیے گہرے گہرے سانس لیتی بول رہی تھی جب صام نے شطانی مسکراہٹ لاۓ روم کی لائٹس آف کیے اس کی شرٹ اتارے اس پر حاوی ہوا تھا ۔۔۔

روحا اس ٹائم کو پچھتا رہی تھی کیوں وہ شیر کے غار میں ہاتھ دے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ اب وہ صام کو رات والی ٹون میں واپس آتا دیکھ چکی تھی ۔۔۔

جہاں سے جان چھڑوانا اب اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔۔

ٹ۔ھ۔کر۔کی۔۔۔

روحا کو جیسے ہی صام نے چھوڑا روحا برے برے منہ بناتی اپنے اوپر کمبل لے چکی تھی ۔۔۔۔

جب صام بھی کمبل میں آتا دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔

————————————————————

صام یہ اتنی عوام کیوں باہر بیٹھی ہے آپ کے پلیس کے باہر۔۔۔

ایسا لگتا پاکستان کی عوام پوری یہاں آ گی ہے ۔۔

روحا ٹیرس پر کھڑی نیچے اتنے آدمیوں کو دیکھتی صام سے بولی تھی ۔۔۔

کہاں ہے۔۔۔

صام ویسے ہی شرٹ لیس اسے بیک ہگ کیے اس کے شولڈر پر تھوڑی رکھے بولا تھا ۔۔۔

کیا ہے صام آپ کو ابھی بھی سکون نہیں اور یہ کیا شرٹ کے بنا گھوم رہے جاۓ پہن کر آۓ بے شرم زیادہ ہو گے ۔۔۔

روحا صام کے پیٹ میں کہنی مارتی برا سا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

میرے پاس شرٹ نہیں ۔۔

صام نے روحا کے کان کی لو کو چومتے معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

توبہ ہے اتنا جھوٹ یہ اتنی عوام بیٹھی ہے ان سے شرٹ لے آپ ۔۔

روحا دوبارہ نیچے دیکھتی بولی

تھی ۔۔۔

یہ میرے ورکرز ہے جو روز آتے ہے شاہد تم نے منع کر دیا اندر آنے سے تبھی وہ باہر ویٹ کر رہے تم ان کو کہو گی تب ہی اندر آۓ گے ۔۔۔

صام روحا کو پیٹ سے پکڑے اس کی گردن پر لب رکھے سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ہاےے بچارے ہم نے ان کو باہر روک دیا ان کے بچے بیوی ہو گے ویسے ان کو آفس جانا چاہے آپ کون سا کام بتاتے ہے جو یہاں کرتے یہ۔۔۔

روحا اب افسوس کرتی بول رہی تھی۔۔۔۔

جبکہ صام نے ہنسی مشکل سے کنٹرول کی تھی کیونکہ ایک وہی جانتا تھا یہ سارے آدمی صام کے لیے کون سا کام کرتے تھے اور ان کے بیوی بچے بھی نہیں تھے ۔۔۔

صامممم ہم آپ سے بات کر رہے ہے ۔۔۔

روحا نے جب دیکھا صام پھر بہکا ہوا اس میں مکمل مدہوش ہو چکا تبھی اس سے دور ہوتی دانت پیستی بولی تھی ۔۔۔

پوری دنیا کی فکر ہے تمہیں بس اپنے معصوم شوہر کی ہی فکر نہیں جاٶ میں بات ہی نہیں کرتا ۔۔

صام روحا سے دور ہوتا روٹھے پن سے بولا تھا ۔۔۔

ہاے سچی ہمیں تھوڑا سا سکون آۓ گا جاۓ یہا ں سے ہم زرا ان کو کہتے ہے یہ اندر چلے جاۓ ۔۔۔

صام نے سوچا تھا روحا اسے روکے گی لیکن وہ تو خوشی سے نچاتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔۔

ہاں منا۔۔۔

صام برا سا منہ بناتا بول رہا تھا جب روحا نے اپنے لب اس کے ڈمپل پر رکھے تھے ۔۔۔

اتنی ڈوز کافی ہے جاۓ اندر اب ۔۔۔

روحا جلدی سے شرماتے ہوۓ رخ موڑ گی تھی ۔۔۔۔

گارڈ انکل آپ ان کو اندر جانے دے کام کرواۓ ان سے ۔۔۔

روحا اب ٹیرس پر کھڑی اونچی آواز سے نیچے گارڈ ہیڈ سے بولی تھی ۔۔۔

سو سے زیادہ آدمی نیچے کھڑے تھے جب سب نے اوپر نظر آٹھا کر دیکھا تھا تو جان گے تھے یہ ننھی سی انیجل نما لڑکی ڈیول کی بیوی ہے ۔۔

وہی سب کی سرگوشیاں سٹارٹ ہو چکی تھی ڈیول کی انیجل کو دیکھ کر جو ایک نرم دل لڑکی تھی ۔۔۔

وہی ہیڈ آف گارڈ نے سب کو اندر جانے کی اجازت دے دی تھی ۔۔۔

وہ انیجل کی بات نہ مان کر ڈیول کا قہر نہیں لے سکتے تھے ۔۔۔

————————————————————

یہ کیا تماشا ہو رہا ہے یہاں صرف کام ہوتا ہے ۔۔۔

دوپہر کو جب صام اپنا کام کرتا روم سے باہر آیا تو ہکا بکا رہ گیا تھا ۔۔

اس کا پورا ہال ایک ہوٹل نما بنا ہوا تھا ۔۔۔

جو اس کے پہلوان جیسے آدمی سحلہ وغیرہ تیز کرتے تھے آج وہاں سکون سے بیٹھے بریانی چکن کڑاہی قیمہ نان اور بہت سی چیزیں تھی جو کھا رہے تھے ۔۔۔

تبھی وہ دھاڑا تھا غصہ سے ۔۔۔

ڈیول کی دھاڑ سنتے سب نے کھانا چھوڑ دیا تھا ۔۔

و۔۔ہ۔س۔سر انیجل نے ان سب کو کھانے پر بلایا تھا ورن۔ورنہ یہ بس کام بیسمنٹ میں کر رہے تھے انیجل میم نے بلایا۔۔۔

ایک آدمی ڈرتا ہکلاتا ہوا بولا تھا ۔۔

کدھر ہے تمہاری یہ انیجل میم ۔۔

ڈیول نے دانت پیستے پوچھا تھا ۔۔۔

س۔سر کچن میں ۔۔۔

آدمی نے سر جھکاۓ بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

یہ سب کھانا ان سب کو دینا یہ اپنے بچوں کے لیے لے جاۓ گے اور ہاں اگر انہیں اور چاہے ہو تو کھانا دینا ۔۔

صام آفندی کنجوس نہیں ہے آپ لوگ بھی جاۓ کھانا کھاۓ جا کر ۔۔۔

صام کچن میں آیا تو سب سے شوک اسے اب لگا تھا کچن کی ایسی بری حالت دیکھ کر ۔۔۔

جہاں روحا اسی کی شرٹ پہنے ساتھ جنیز پہنے سر پر حجاب لے وہ کھڑی ملازمہ کو آڈر دے رہی تھی ۔۔

جبکہ چولہے پر بڑی بڑی دیچیگیاں رکھی گی تھی جس کو روحا بڑے آرام سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جبکہ ایک جگہ پر سو سے زیادہ بوکس بھرے گے تھے کھانے کے ۔۔۔

ج۔جی می۔آپ باہر چلی جا۔جاۓ کب۔سے یہا۔۔۔

ملازموں نے جب روحا کے پیچھے کھڑے ڈیول کو دیکھا تبھی وہ ہکلاتے بول رہی تھی جب روحا بولی تھی ۔۔

ہمیں کچھ نہیں ہوا آپ لوگ جاۓ ہم یہی ہے ۔۔

ڈیول کے اشارے پر ساری باہر چلی گی تھی ۔۔۔

آپ بھی کھانا کھاۓ گے یا نہیں ۔۔۔۔

روحا بنا موڑے آرام سے بولی تھی ۔۔۔

جب صام کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔

ہاں میں تو تمہیں کھاٶ گا ۔۔۔

میری جان ۔۔۔

منٹوں میں صام کا غصہ ختم ہوا تھا اور اسے کمر سے پکڑے اپنے سے سینے سے لگاۓ سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ہاں کھا جاۓ ہمیں آپ کو سکون ہو گا حد ہے ٹھرکی پن کی صام کبھی جو آپ زرا سنجیدہ ہو جاۓ ۔۔۔

روحا اپنا رخ اس کی طرف کرتی بولی تھی ۔۔۔

آپ کو غصہ آیا کیا صام۔۔۔

روحا فکر مندی سے صام کی سرخ گرین آنکھیں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں پہلے آیا تھا لیکن اب نہیں ۔۔۔

صام روحا کا حجاب اترے اس کے کھلے بالوں میں چہرہ چھپاۓ بھاری آواز سے بولا تھا ۔۔۔

کیوں آ۔۔۔۔

اچھا یہ سب دیکھ کر آیا ہاے صام یہ کام کرتے ہم نے بس آج کے دن ان کو کھانا دیا ہمیں اچھا لگا ۔۔۔

روحا بول رہی تھی پھر سب سمجھتی صام کے سینے پر مکہ مارتی بولی تھی ۔۔۔۔

تھکن تو ہو گی تمہیں ۔۔۔

صام بنا کسی کی پرواہ کیے روحا کو اپنی گود میں آٹھاۓ بہکے انداز سے بولا تھا ۔۔۔

تھکن ہمیں نہیں آپ کو ہوئ ہے جاۓ نیند لے پتہ نہیں کتنے دنوں سے

سوۓ نہیں ۔۔۔

روحا نے جب دیکھا صام پھر وہی ٹون میں آنے والا تبھی اس کی گود سے اترتی کچن سے باہر نکالتے بولی تھی ۔۔۔

ہاۓ ظلم بیوٹی جب بھی آنکھیں بند کرو تمہارا رات والا حسین روپ سامنے آ جاتا ہے پھر میں بہک جاتا ہو ۔۔

بس اس لیے نہیں سو رہا ۔۔۔

صام نے شوخ ہوتے روحا کو کمر سے پکڑے کہا تھا ۔۔۔

صام کی بات کا مطلب سمجھتے روحا کے کانوں سے دھواں نکالنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔

تبھی سرخ چہرہ لیے وہ صام کے سینے پر مکے مارنے شروع کیے تھے ۔۔۔

ٹھرکی بے شرم وحشی جنگلی حیوان ڈیش ڈیش آسٹریلیا کے بندر نکلے باہر ہمیں آپ کی شکل نہیں دیک۔۔۔

روحا اسے باہر نکالتی بول رہی تھی جب صام بولا ۔۔۔

لیکن میں دیکھنا چاہتا ہو تمہارا وہ حسین روپ ویسے والا یار تمہاری چین میں جو کرنٹ چوڑا وہ کم ہے جو تم مجھے بنا بجلی کے جھٹکے دیتی ہو اس کا تمہیں بھی نہیں پتہ۔۔۔

صام روحا کے ہاتھوں کو پکڑے اپنا چہرہ اس کی شرٹ پر جھکاۓ شرٹ کی نیک پر اپنے دانت رکھتے اپنی طرف کھیچا تھا ۔۔۔۔

ٹھاہہہہ۔۔۔

سب آدمی کھانا کھاتے اٹھ رہے تھے جب انہیں کچھ گرنے کی آواز آئ تھی ۔۔

سب نے حیران ہوتے کچن