Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 26)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
محبت نہیں ہمددری تھی تم۔۔۔
یہ کیا کر رہے ۔۔۔
یافی اپنے آنسو کنٹرول کیے بول رہی تھی جب زرجان کو اس کے پاٶں باندھتے دیکھ چلائ تھی ۔۔۔
ہمددری کرنے والا تمہارے باقول ۔۔
زرجان طنزیہ مسکراہٹ لاے اب یافی کے دونوں ہاتھ بیڈ کے ساتھ باندھتے بولا تھا ۔۔۔
تم ایسا کچھ ب ۔۔۔۔
یافی کی ریڑ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئ تھی جب زرجان اس کے ہاتھ پاٶں باندھنے کے بعد اس کے منہ کو بھی باندھ چکا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا یافی جان ڈر گی ۔۔۔
زرجان اس کے اوپر جھکتے اس کی گردن پر کاٹتے طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
یافی خاموشی سے زرجان کا ایسا روپ سہہ رہی تھی جبکہ آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ۔۔
یافی کو اپنے جسم کے ہر حصے پر زرجان کے لبوں اور کاٹنے کا لمس محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
دانتوں میں ہونٹ دباۓ وہ ہر درد برداشت کر رہی تھی ۔۔۔
تم میری پہلی نظر کی محبت تھی فیا ۔۔
جب تمہیں دیکھا تو دل میں خیال آیا پتہ نہیں کبھی ایسی خوبصورت لڑکی میری زندگی میں آۓ گی یا نہیں ۔۔۔
لیکن آئ تم میری زندگی میں بلکہ میرے خیالوں میں رہنے لگ گی ۔۔۔
زرجان اپنا چہرہ یافی کے چہرے کے قریب لاتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے وہ بولا تھا ۔۔۔
مجھ آج بھی یاد ہے ہماری پہلی ملاقات ۔۔
زرجان دکھی ہوتا سوچ رہا تھا ۔۔
یافی اس کی آنکھوں میں صاف آنسو دیکھ سکتی تھی ۔۔۔
———————————————————-
““کچھ سال پہلے۔۔۔۔
مشعوق وہ لڑکی کون ہے ۔۔۔
چاکلیٹ کلر کی پینٹ شرٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے وہ ہشاش بشاش سا تیار زرجان مستقیم کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
کون سی لڑکی ۔۔۔
مستقیم کولڈرنک پیتے بولا تھا ۔۔۔
یار وہ والی جو اکیلی ٹیبل پر بیٹھی لیپ ٹاپ یوز کر رہی ہے ۔۔۔
زرجان سامنے ریڈ ٹاپ بیلو جنیز پہنے براٶن بالوں کا بے بی کٹ بال جو اس کے صاف شفاف ماتھے کو چھو رہے تھے ۔۔
جبکہ بڑی بڑی براٶن آنکھوں میں چمک لیے وہ ساری پارٹی کو اگنور کیے لیپ ٹاپ یوز کر رہی تھی ۔۔۔
ارے پاگل یہی ڈاکٹر فیا آفندی دی ہارٹ سرجن ہے ابھی کچھ دن پہلے امریکہ سے آئ ہے ڈاکٹر بن کر تبھی آج بابا نے پارٹی دی ہے ۔۔۔
مستقیم یافی کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا ۔
زرجان مگن ہوا بس اتنا بول سکا ۔۔
اچھا تم مل لو میں زرا آیا ۔۔۔
مستقیم زرجان کو دیکھتے بولا تھا جو مسلسل یافی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
مبارک ہو فیا ۔۔
یافی کی دوست اسے مبارک دیتی بولی تھی جبکہ وہ دل میں جل رہی تھی ۔۔۔
تھینک یو یار ۔۔
یافی لیپ ٹاپ پر بزی ہوتی بنا دیکھے بولی ۔۔۔
یار کبھی یہ چھوڑ بھی دیا کرو تمہارے بابا نے اتنی بڑی پارٹی رکھی ہے اور ت۔۔۔
ہو گی بکواس شکریہ اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔
یافی اسے غصے سے گھورتی بولی تھی ۔۔۔۔
تمہارے جیسی لڑکیاں ہوتی ہے جو اتنی امیر بھی ہو اتنے پیارے پیارے بھائ ہو ماں باپ بھی اتنے اچھے ہو اور اب ڈاکٹر بن چکی ہو۔۔۔۔
یافی کی دوست مستقیم آہان صام کو دیکھتی بولی تھی ۔۔
جو اپنی بے تحاشہ خوبصورتی لے تینوں محفل کی رونق بنے تھے ۔۔۔۔
ہاں خوش قسمت ہو میں مجھے اتنی پیاری فمیلی ملی ۔۔۔۔
یافی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
تم جانتی ہو میں ڈر گیا تھا تم تین بھاہیٶں کی لاڈلی بہن تھی ۔۔۔
بھائ بھی ایسے جو سانڈ لگتے ہے اپنی جسمانیت کی وجہ سے ۔۔۔۔
زرجان خیالوں میں کھوئ یافی کے اوپر سے آٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
اتنا بھی گرا ہوا انسان نہیں ہو فیا جو تمہارے ساتھ اتنا ظلم کر کے اپنا حق لو ۔۔۔۔
اگر مجھے تمہارے جسم کی ہوس ہوتی تو کب کی یہ طلب پوری کر چکا ہوتا میں ۔۔۔
زرجان یافی کی آنکھوں میں سوال دیکھتا اس کے ہاتھ پاٶں کھولتے بولا تھا ۔۔۔۔
تم اتنی بے حس ہو چکی ہو یافی کہ میرا یہ ظلم بھی آرام سے سہہ لیتی کیونکہ تمہیں طلاق چاہے ۔۔۔۔۔
زرجان خاموش سی یافی کو پکڑے اپنے سینے پر لیٹاتے وہ خودی لیٹ چکا تھا ۔۔۔۔
یافی آنسو بہاتی اپنا سر اس کے دل کے مقام پر رکھتی اس کی ہارٹ بیٹ سن رہی تھی ۔۔۔۔
تمہارے لیے سب کچھ کیا میں نے رشتہ بھیجا لیکن تمہاری شادی ہو چکی تھی میرا دل ٹوٹ گیا ۔۔۔
پھر میں پاکستان چھوڑ کے چلا گیا ۔۔۔۔
لیکن تم میری قسمت میں تھی ا۔۔۔۔۔
یافی یافی ۔۔۔
زرجان جو مگن ہوا بول رہا تھا جب اسے یافی کی سوتی مدھم سی سانسیں سنائ دی ۔۔۔
آہہہہ سو گی تمہاری بھول ہے یافی میں اتنا ظالم بن سکتا ہو ایسا میں کبھی نہیں بنو گا تمہیں طلاق چاہے میں دے دو گا ۔۔۔
زرجان سوتی یافی کا ماتھا چومتے اپنی بھی آنکھیں بند کر چکا تھا ۔۔۔۔
سوری جان میری مجبوری ہے ۔۔۔
یافی اچانک آپنی آنکھیں کھولے زرجان کا خوبصورت چہرہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
ارے میری بیٹی جاگ گی ۔۔۔
صبح ناشتے پر آتی یافی کو دیکھتے رابعہ بیگم مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔
کیسی ہے امی آپ ۔۔۔
یافی ان کے قریب آتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔
میری بیٹی ٹھیک ہے میں بھی ٹھیک آو ناشتہ کرتے ہے ۔۔۔
رابعہ بیگم مسکراتی بولی تھی ۔۔
ارے جان بیٹا تم خاموش کیوں ہو ۔۔۔
وہ اب زرجان کی سرخ گرے آنکھوں کو دیکھتی بولی تھی جو خاموشی سے ناشتہ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
بس امی اب بولنے کو دل نہیں کرتا ۔۔۔
زرجان کے کاٹ دار لہجے کو سنتی یافی کے دل کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔۔۔
کیوں میرے شہزادے بیٹے کو کچھ ہوا ہے اتنا پیارا بیٹا ہے میرا ۔۔۔
ان کا دل بھی دکھا تھا آج تک انھوں نے صرف زرجان کو ہنسی مذاق کرتے دیکھا تھا بس ۔۔۔۔۔
امی کیا میں واقعی شہزادہ ہو اگر شہزادہ ہوتا تو مجھے بھی شہزادی ملتی لیکن میں کتنا بد قسمت ہو مجھے وہ بھی نہیں ملی ۔۔۔۔
زرجان اپنے دل کا دکھ کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
ی۔یہ۔کیا بات کہی اس نے ۔۔۔
رابعہ بیگم شوک ہوتی بولی تھی ۔۔۔
یافی بھی جواب دیے شرمندہ سی وہاں سے آٹھ کر چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
ا۔امی میں نے گھر جانا تھا آپ اجازت دے مجھے ۔۔۔
یافی کافی دیر بعد رابعہ بیگم کے روم میں آتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
ادھر آو بیٹا ۔۔۔
رابعہ بیگم پریشان سی ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
دیکھو تم دونوں میاں بیوی کی آپس کی بات ہے میں نہیں جانتی کیا بات ہوئ ہے جو میرا بیٹا کتنے سالوں بعد پھر اداس ہو گیا ۔۔۔۔
ایسا اداس میں نے اسے بارہ سال کی عمر میں دیکھا تھا جب صام کو تم لوگوں نے لندن بھیج دیا تھا ۔۔۔
وہ پریشان ہوتی بولی ۔۔۔
آپ فکر مت کرے امی وہ ٹھیک ہے بس بزنس کی وجہ سے تھوڑے پریشان ہے اچھا میں جاتی ہو ۔۔
یافی جلدی سے بہانہ بناتی کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
———————————————————–
ارے آج تو ہماری بہن آئ ہے ۔۔۔
آہان خوش ہوتا یافی کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔
کیسے ہے لالہ اور یہ چوزہ کدھر ہے ۔۔
یافی ان سے ملتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
لو وہ آ گیا زرجان بھی ساتھ ہے ۔۔
آہان ہال میں انٹر ہوتے زرجان اور مستقیم کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
جب یافی اور زرجان دونوں ہکا بکا ہوۓ تھے ایک دوسرے کو دیکھ کر ۔۔۔
ارے سوتیلی ناگن کیسی ہو میرے دوست کو تنگ زیادہ تو نہیں کرتی ۔۔۔
مستقیم بھی یافی کے سر پر ہاتھ رکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
تم کیسے ہو چوزے اور تمہاری چوزی کدھر ہے ۔۔۔
یافی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ارے یہی کہی بیٹھی ہو گی چھوٹی جو اتنی ہے ۔۔۔
مستقیم لاپروہ سا ہوتا بولا تھا ۔۔۔
یافی زرجان دونوں ایک دوسرے کو اگنور کر رہے تھے ۔۔۔۔
————————————————————
ہاےےے میرے اسے سانڈ جیسے بھائ ہوتے تو میرے مزے تھے ۔۔۔
مرحا آہان مستقیم صام کے درمیان بیٹھی یافی کو دیکھتی خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
جہاں تینوں بھائ اپنی بہن کے لاڈ اٹھا رہے تھے ۔۔۔۔
کون سے مزے ۔۔۔
روحا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
آہان یافی کو جوس جبکہ مستقیم اسے برگر اور صام اس کے لیے منگو شیک لیے تینوں باری باری اسے کھانے کو دے رہے تھے جبکہ یافی برے برے سے منہ بناتی سب کی سن رہی تھی ۔۔۔
ہاے میں پنگا لیتی اور میرے ایسے بھائ سب کو مارتے یافی آپی کے مزے ہے جو اتنے پیارے بھائ ملے ہے اور اب شوہر بھی اتنا پیارا ہے ۔۔۔
مرحا زرجان کو دیکھتی بولی جو خاموشی سے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔
ہاں کیوٹ لیڈی باس قسمت والی ہے ۔۔۔
روحا اس بات پر حامی بھرتی بولی تھی ۔۔۔۔
بس کر دے چوزے میں نے الٹی کر دینی ۔۔۔
یافی اب برے سے منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں کر دے الٹی میں اس دلبرجانی کو پیک کر کے دے دو گا ۔۔۔
مستقیم دانت نکالتا بولا تھا ۔۔۔
چچچ گندہ ۔۔۔
یافی دل خراب کرتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
ناراض کر دیا تم نے مشعوق اس نے اپنی شیک پینا تھا ۔۔۔۔
صام غصہ سے دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
تو مجھے دے میں بھی بھائ ہو تیرا ٹھرکی ۔۔۔
مستقیم اس سے شیک کا گلاس لیتے بولا تھا ۔۔
لو ٹھوس لو تم شاہد کچھ عقل مل جاۓ ۔۔
صام غصہ سے گلاس اسے دیتا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں دے میری فکر ہی کسی کو نہیں ہے ۔۔۔
مستقیم گلاس لیتا سامنے بیٹھی مرحا کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
جس کو سنا رہا ہے اسی کے منہ پر کہو ۔۔۔
صام طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔
انہہہ ٹھرکی انسان ۔۔۔
مستقیم سکون سے جوس پیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
یار میں یافی کو خوش نہ رکھ سکا سوچ رہا
ہو طلاق دے دو ۔۔۔
زرجان سامنے مرحا ہیر کومل روحا کے درمیان بیٹھی یافی کو قہقے لگاتے دکھی ہوتا مستقیم کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ زرجان ۔۔۔
مستقیم اور صام دونوں ایک ہی آواز سے دھاڑے تھے ۔۔۔
بکواس نہیں سچ ہے پتہ نہیں یافی کو کون سی چیز اتنی تنگ کر رہی ہے جو الگ ہونا چاہتی ہے ۔۔۔
زرجان بنا ڈرے بولا تھا ۔۔۔
دیکھو ایسا کچھ نہیں جب وہ پریشان ہوتی ہے ت۔۔۔
نہیں یار وہ تم تینوں کی لاڈلی بہن ہے ۔۔۔
تم لوگ زرا سی آنچ نہیں آنے دیتے اسے اور میں کیسا شوہر ہو ۔
جو تکلیف پر تکلیف دے رہا ہو ۔۔۔
زرجان صام کی بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے ہماری بہن بچی ہے کیونکہ ہم سب کے لاڈ میں ایسی ہو گی ہے جبکہ تم جانتے ہو یافی دل کی اچھی ہے ۔۔۔
مستقیم اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے بولا تھا ۔۔۔
ہر بھائ کو اپنی بہن عزیز ہوتی ہے خاص کر وہ بھائ جو اپنی پلکوں پر بیٹھاتے ہے میں نے دیکھا ہے تم تینوں کی محبت اس کے لیے میں ایسی محبت نہیں دے سکتا اسے وہ میرے ساتھ خوش نہیں میں بس طلاق د۔۔۔۔
زرجانننننننن۔۔۔
زرجان مایوس ہوتا بول رہا تھا جب صام اسے گردن سے پکڑے دھاڑا تھا ۔۔۔
تم طلاق دے کے دیکھو چوفی کو۔۔
گولیوں سے بھون دو گا سمجھے اگر میری بہن کو چھوڑنے کا سوچا بھی تم نے ۔۔۔
صام دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
لڑکیاں ساری پریشان ہوتی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
میں دو گا طلاق تمہاری بہن کو تم گولی کیا بمب سے اُڑا دو میں اففف نہیں کرو گا ۔۔
ویسے بھی مجھے ایسی زندگی چاہے ہی نہیں جس میں یافی نہ ہو ۔۔۔۔
زرجان بھی غصے سے پھٹتا کہتا وہاں سے واک آوٹ کرتا جا چکا تھا ۔۔۔۔
سمجھاٶ اسے ورنہ میں صرف ایک زبان میں سمجھاتا ہو ۔۔
صام شدید طش میں آتے بولا تھا ۔۔۔۔
اچھا تم ریلکس کرو میں دیکھتا ہو ۔۔۔
مستقیم اسے پرسکون کرتا وہاں سے بھاگ گیا تھا ۔۔۔
زرجان کو بھی اسے دیکھنا تھا ۔۔۔
———————————————————–
لالہ آپ میرے روم میں آۓ ۔۔۔۔
یافی رات کو سونے والی تھی جب اس نے آہان کو اپنے روم میں آتے دیکھا تھا ۔۔۔
میری بیٹی ڈسٹرب تو نہیں ہوئ ۔۔۔
آہان اپنی گرین آنکھوں میں مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں لالہ بس سونے والی تھی ۔۔۔
یافی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
یہاں کیوں روک گی زرجان کے ساتھ جاتی ۔۔۔
آہان پاس بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔
کیا میں نہیں رہ سکتی یہاں ۔۔
یافی بچوں جیسی شکل بناۓ آہان کے سینے پر سر رکھے بولی تھی ۔۔۔
ارے بیٹی ہو ہماری اور بیٹی کا جب دل چایے رہ سکتی ہے ۔۔۔
دیکھو بیٹا میں نہیں جانتا کیا ہوا ہے لیکن یہ کہو گا زرجان بہت اچھا لڑکا ہے اس سے لڑائ کیوں کرتی ہو ۔۔۔۔
آہان اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا آرام سے بول رہا تھا ۔۔۔۔
لالہ صرف آج کی رات رک رہی میں آپ کو اچھا نہیں لگا تو چ۔۔۔
ارے ارے میری گڑیا ناراض ہی ہو جاتی ہے تم رہو یہاں اب ٹھیک ۔۔۔
یافی جو روٹھے پن سے کہتی دور ہوتی بول رہی تھی جب آہان اس کے ہاتھ پکڑے جلدی سے بولا تھا ۔۔۔
اچھا لالہ صبح چلی جاٶ گی ۔۔۔
یافی ساری بات گول کرتی جلدی سے بولی ۔۔۔
ہاں میرا بیٹا ضرور چلی جانا آج کے بعد آٶ تو زرجان کو ساتھ لانا ۔۔۔
آہان مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
لالہ آپ اتنے سویٹ کیوں ہے سب کا خیال رکھتے ہے ۔۔۔
یافی اپنے خوبصورت بھائ کی طرف دیکھتی پیار سے بولی تھی ۔۔۔
اس نے آج تک آہان کو مستقیم اور صام کی طرح غصہ کرتے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔
میں اس لیے سویٹ ہو میری بہن بہت سویٹ ہے ۔۔۔
آہان مسکراتا ہوا یافی کا ماتھا چومتے بولا تھا ۔۔۔
یہ سویٹ ہے حد ہے لالہ کوئ ایسا سویٹ نہیں ہوتا کسی کو درد دے کر ۔۔۔
صام اندر انٹر ہوتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔
مطلب کون درد میں ہے ۔۔۔
آہان پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
زرجان درد سے تڑپ رہا ہے یہ اتنی ناشکری ہے اتنے پیارے شوہر سے طلاق لینا چاہتی ہے ۔۔۔
صام بھی طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
کیا لیکن کیوں یافی بیٹا یہ ٹھیک کہا رہا کیا ۔۔۔۔
آہان یافی کی طرف دیکھتے بولا تھا جو رونے میں مصروف تھی ۔۔۔
لالہ آپ نہیں جانتے ن۔۔۔۔
ہم سب جانتے ہے نعمان نے تمہیں یہ غلط پکس سنیڈ کی تم اس لیے طلاق لینا چاہتی ہو ۔۔۔
صام دانت پیستا بات کاٹتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
آپ لوگ بھائ ہو تبھی سمجھ گے لیکن وہ ش۔۔۔
کوئ بھی شوہر کسی ایسی لڑکی سے شادی نہیں کرتا جو طلاق یافتہ ہو ۔۔۔
سچ کڑوا ہے لیکن تمہیں منانا پڑے گا کبھی لگا تمہیں زرجان نے طعنہ دیا ہو کبھی ظلم کیا ہو ۔۔۔
وہ تو اتنا سویٹ ہے مجھے نہیں لگتا اس نے کبھی درد دیا ہو تمہیں ۔۔۔
بہت سی ایسی لڑکیاں ہے جو دوسری شادی کر کے بھی خوش نہیں رہ پاتی لیکن تم خوش قسمت ہو جو اتنی محبت کرنے والا شوہر ملا ہے ۔۔۔
میں گواہ ہو زرجان کی تڑپ کا جو وہ تمہارے لیے تڑپتا تھا ۔۔۔۔
یافی جو شرمندہ ہوے بول رہی تھی
جب آہان بولا تھا ۔۔۔۔
دیکھو چوفی زرجان بارہ سال کا تھا جب اس کے بابا شہید ہو گے وہ ٹوٹا بکھرا ہم سب نے ہینڈل کیا ۔۔۔۔
ہماری دوستی اتنی تھی۔۔
ہم نے عہد کیا تھا کبھی اپنی دوستی کو ٹوٹنے نہیں دے گے ۔۔۔
لالہ میں زرجان منان مستقیم نوفل کی ۔۔۔۔
لیکن ہم اپنے بچپن میں وہ عہدِوفا نہ نبھا سکے ۔۔۔
وہ ٹھیک ہو گیا ہمارے ساتھ رہ کر لیکن جب مجھے دس سال کی عمر میں سب سے دور اکیلا لندن بھیج دیا ۔۔۔۔
میں جانتا ہو زرجان کتنا رویا اور تڑپا تھا ہم سب کو جدا کرنے والے تم سب لوگ تھے ۔۔۔۔
ہم اتنے طاقتور نہیں تھے جو اپنی دوستی بچا سکتے ۔۔۔
روتے تڑپتے ہم سارے جدا ہو گے ۔۔۔۔
اور آج اگر مجھے میری دوستی مل گی میں اب اسے الگ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔
تب چھوٹا تھا میں کچھ نہ کر سکا لیکن اب زرجان کو تکلیف ہوئ تو میں بھول جاٶ گا تم میری بڑی اور لاڈلی بہن ہو ۔۔۔۔
اب صام اپنا عہدِوفا نبھاۓ گا چاہے مجھے اپنی جان سے جانا پڑے ۔۔۔۔
صام سردپن سے یافی کو ورننگ دیتا وہاں سے واک آوٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔
لالہ ۔۔۔
کییییییاااا ۔۔
یافی جو بولنے والی تھی جب آہان کو فون آیا تھا ۔۔۔
جیسے سنتے وہ چلایا تھا ۔۔۔۔
ک۔کیا ہوا لالہ ۔۔۔
یافی پریشان سی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
زرجان کو ہارٹ اٹیک آیا ہے ۔۔۔
آہان جلدی سے کہتے روم سے باہر بھاگا تھا ۔۔۔
———————————————————–
کیا اندھی ہو جاہل عورت ۔۔۔
صام جو غصے سے اپنے روم میں انٹر ہوا تھا جب نائٹی میں ملبوس کومل اس سے ٹکڑائ تھی ۔۔۔
ہاں اندھی ہو گی میں صام بے بی تمہاری یہ باڈی دیکھ کر ۔۔۔
کومل صام کی شرٹ کے بٹن توڑتے بے ہودگی سے بولی تھی ۔۔۔
کتنی دفعہ بکواس کرو ہماری شادی نہیں ہوئ ۔۔۔
صام غصہ کنٹرول کیے بولا تھا ۔۔۔۔
ارے شادی ضروری ہے ویسے بھی روحا تمہیں ٹھرکی کہتی ہے ۔۔۔۔
کومل صام کو بیڈ پر دھکا دیتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
لڑکی ذات ہو تم ورنہ کب کا شوٹ کر چکا ہوت۔۔۔۔
ارے روحا بے بی یہ روم اب تمہارا نہیں ہے جو منہ اٹھا کر آ گی ۔۔۔
صام جو بول رہا تھا جب روم میں انٹر ہوتی روحا کو دیکھتی کومل طنز کرتی بولی تھی۔۔۔۔
اوووو ہاں ہم بھول گے تھے یہ تم لوگوں کا روم ہے خیر ہم جاتے ہے ۔۔۔
روحا دانت پیستی ہوئ غصہ سے وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
آ گی آگی ۔۔۔
مستقیم اور منان زرجان کو کندھوں سے پکڑتے بیڈ پر زبردستی لیٹاتے بولے تھے ۔۔۔
کون آ گی یار اور مجھے کیوں لیٹا رہے ہو ۔۔۔
زرجان پریشان سا ہوتا بولا تھا ۔۔۔
سوتیلی ناگن آ گی اور تمہیں ہارٹ اٹیک آیا ہے سیدھے لیٹ جاٶ ۔۔۔
مستقیم جلدی سے اسے لیٹاتے بولا ۔۔۔
واٹ ہارٹ اٹیک مجھے آیا ہے اور مجھے ہی نہیں پتہ ۔۔۔
زرجان سکون سے لیٹے بولا تھا ۔۔۔
زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ایک تو ہم تیری ہلیپ کر رہے ۔۔۔
منان منہ بناتا بولا تھا ۔۔۔
ت۔۔۔
چل چپ کر جا مریض اتنا بولتے نہیں ۔۔
اس سے پہلے زرجان کچھ کہتا جب مستقیم بولا تھا ۔۔
کہاں ہو زرجان تم لوگ اسے ہاسپٹل لے جاتے یہاں کیوں آ گے ۔۔۔
یافی پریشان سی گھر واپس آتی روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر گھر ہے تو ہم ہاسپیٹل کیوں لے کر جاتے چلو آو دیکھو۔۔۔
مستقیم یافی کو بازو سے پکڑے بیڈ کی طرف لاتے بولا ۔۔۔
تمہیں ہارٹ اٹیک آیا ہے مجھے نہیں لگتا ۔۔۔
یافی زرجان کا فریش چہرہ دیکھتی حیران ہوتی بولی ۔۔۔
ارے بیٹا اسے آیا ہے تم چیک کرو ۔۔۔
آہان اندر آتا ہنسی کنٹرول کرتا بولا تھا ۔۔
جی لالہ ۔۔۔
یافی پریشان اتنا ہو چکی تھی اسے پتہ نہیں چلا سب مذاق کر رہے ہے
دانت اندر کر کوئ مریضوں والی شکل بنا لے ۔۔۔
زرجان جو دانت نکالے یافی کو دیکھ رہا تھا جب منان سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
تم شرٹ اتار دو اور پلیز سب رش مت ڈالیں۔۔۔
یافی اپنا میڈیکل بوکس وڈراب سے نکالے جلدی سے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔۔
اہہہہ۔۔۔
کیا طریقہ ہے یہ ۔۔۔
زرجان جو مگن انداز سے بنا کچھ سنے یافی کو دیکھ رہا تھا جب مستقیم نے اس کے دل پر مکا مارا تھا جب زرجان ہوش میں آتا چلایا تھا ۔۔۔
سوتیلی ناگن کہہ رہی شرٹ اتار دو ۔۔۔
مستقیم دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کیوں اچھا ہاں ہارٹ اٹیک آیا ہے ۔۔۔
زرجان پہلے ناسمجھی سے دیکھتے بولا پھر یاد کرتے وہ چلایا تھا ۔۔۔
بس کرو ہمیں پتہ چل گیا ۔۔۔
منان اپنے کانوں پر ہاتھ رکھتے بولا تھا ۔۔۔
یافی نے زرجان کی شرٹ کے بٹن اوپن کیے تھے ۔۔۔
یافی چہرے کی جانب جیسے ہی جھکی تھی شرٹ کے بٹن اوپن کرنے کے بعد دل کی جگہ پر اس کی انگلیاں اور پھر ہاتھ کی نرم ہتھیلی جیسے ہی ٹچ ہوئی تھی ۔۔۔
زرجان کو شدید کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
اسی وقت پاس کھڑے مستقیم کی کان میں سرگوشی کی ۔۔۔
جس سے کھانسی اور زیادہ ہوگئی تھی۔۔۔
ہم ہاسپٹل لے کر جاتے ہے زرجان کی طعیبت زیادہ خراب ہو رہی ۔۔۔
یافی زرجان کو کھاستے ہوۓ دیکھ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ زرجان مستقیم سب سے لاپرواہ ہوۓ لڑنے میں مصروف تھے ۔۔۔
“نیٹ اینڈ کلین ہوکر نہیں لیٹ سکتے تھے ۔۔۔۔
کیوں مجھے پتہ تھا تم میرا ہارٹ اٹیک کرواو گے وہ بھی بنا بتاۓ ۔۔۔
زرجان مستقیم کی بات سنتا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہئیری چیسٹ سیریسلی زرجان ۔۔۔
مستقیم دان نکالے اسے کے مضبوط سینے کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
“آہ۔۔۔ویل یو شٹ اپ پلیز۔۔۔ مجھے ایسے ہی پسند ہے۔۔۔”۔
زرجان دانت پیستا دھاڑا تھا ۔۔۔۔
اُونچا مت بولو زرجان پین ہو گا ۔۔۔
یافی جلدی سے پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
“سامنے والے کو نہیں ہوتی پسند خاص کر لیڈیز کو۔۔۔
دیکھو کتنی ہیسیٹیٹ ہورہی سوتیلی ناگن ۔۔۔
مستقیم یافی کا سرخ چہرہ دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
وہاں کھڑے آہان منان اور مستقیم کی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ سینے پر ہاتھ رکھے یافی نے پمپ کرنے کی کوشش کی تھی۔۔
اور یہاں مستقیم اس کو ایک اور ہارٹ اٹیک کروا رہا تھا اپنی باتوں سے۔۔۔
تم کو اب سانس لینے میں مشکل تو نہیں آ رہی ۔۔۔
یافی اس کے اوپر جھکی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
۔
۔
پہلے ان سب کو نکالو ورنہ میرا سانس روک جانا ۔۔۔
زرجان منان آہان مستقیم کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
ہاں جا۔۔۔
جا رہے ہم سب تم خیال رکھو ۔۔۔
مستقیم اور منان کا ارادہ زرجان کو تنگ کرنا تھا پر آہان اپنی ہنسی کنٹرول کیے دونوں کو ساتھ لے کر جاتے بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
زرجان اب سکون سے لیٹ ۔۔
زرجان زرجان آنکھیں کھولو ۔۔
یافی روم کا ڈرو بند کرتی بیڈ کے پاس آتی بول رہی تھی جب زرجان کو بے ہوش ہوتا پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاے ہاسپٹل لے جاتی میں کیسے ہوش میں لاٶ ۔۔۔
یافی اس کے دل پر کان رکھتی ہارٹ بیٹ چیک کرتی بولی تھی کیونکہ ہارٹ بیٹ صیح چل رہی تھی ۔۔۔
ہاں سی پی آر دو ۔۔۔
یافی کچھ سوچتی زرجان کے لبوں پر جھکی تھی ۔۔۔۔
وہ ڈرتے ڈرتے آہستہ آہستہ اپنی سانسیں زرجان کی سانسوں میں منتقل کر رہی تھی ۔۔۔۔
کیوں ہوش میں نہیں آ رہے ۔۔۔۔
یافی زرجان کو ویسے ہی لیٹے دیکھ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
یافی اب اس کے اوپر پوری آتی دوبارہ اپنے لبوں کو زرجان کے
لبوں کے قریب لاتی رکھ چکی تھی ۔۔۔
یافی جو آنکھیں بند کیے وہی عمل دوہرا رہی تھی جب اسے زرجان کے ہاتھوں کا لمس اپنی کمر اور لبوں کا لمس اپنے لبوں پر محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔
مطلب یہ ڈرامہ تھا زرجان میری جان چلی جا۔۔۔۔
یافی جلدی سے دور ہوتی زرجان کی مسکراتی گرے آنکھوں میں دیکھتی مکہ مارتی بول رہی تھی جب زرجان نے اس کے لبوں کو قید کیا تھا ۔۔۔
اب وہ اپنی سانسیں یافی کی سانسوں میں منتقل کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
————————————————————
روحا روحا روحاااااا۔۔۔۔۔
کیا ہو گیا کیوں چلا رہے ہو آدھی رات کو ۔۔۔
صام ہال میں غصے سے دھاڑ رہا تھا جب آفندی صاحب روم سے باہر آتے بولے ۔۔۔
روحا کدھر ہے بابا میں نے پورا آفندی پلیس دیکھ لیا ہے ۔۔۔۔
صام واقعی آج پریشان ہوا تھا روحا کو نہ دیکھتے ۔۔
کیا بکواس ہے یہی ہو گی ا۔۔۔۔
مجھے مس لائف چاہے ورنہ آگ لگا دو گا سب کو ۔۔۔
صام غصے سے ٹیبل کو لات مارتا گھر سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
اہہہہہہ آہہیہہہ چھوڑو مجھے بزدل انسان ۔۔۔
ڈیول غصہ سے دھاڑا تھا ۔۔۔
وہ اپنے روم میں تھا جب اسے فون آیا تھا اس کی انیجل کو فرحان نے کڈنپ کر لیا ہے ۔۔۔
ڈیول بنا سوچے سمجھے بنا اپنی جان کی پرواہ کیے وہ بتائ ہوئ جگہ پر آیا تھا ۔۔۔۔
لیکن وہاں پہنچ کر اسے احساس ہوا تھا وہ کتنی بڑی غلطی کر چکا تھا ۔۔۔۔
ڈیول کو کرنٹ کی تاروں سے بار بار شوک دیتے تھے جس کی وجہ سے سنسنان جگہ پر بس ڈیول کی دھاڑ سنائ دے رہی تھی ۔۔۔۔
تمہاری موت انیجل کے ہاتھوں آۓ گی ۔۔۔۔
جب تمہیں پتہ چلے گا تمہاری زندگی بچ جاۓ گی تبھی وہی زندگی تمہیں موت دے گی ڈیول ۔۔۔۔
ڈیول نیم بے ہوشی میں جا رہا تھا جب یہ آواز گونجی ۔۔۔۔
ابھی صبح ہی ایک نجومی نے اس کا ہاتھ دیکھتے بتایا تھا جب ڈیول نے قہقہ لگاتے اگنور کیا تھا ۔۔۔۔
لیکن اب اسے احساس ہوا تھا اس کی زندگی اس سے دور اور موت اس کے قریب آ چکی ہے ۔۔۔۔
آنکھوں کو بند کرنے سے پہلے اسے روحا کی ڈرام براٶن آنکھیں دیکھائ دی تھی ۔۔۔۔
لیکن وہ جلدی سے آنکھیں کھول چکا تھا جب سامنے اپنے چار سایے لہراۓ تھے ۔۔۔۔
