Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 46)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 46)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
بھاگو یہاں سے پاگل لڑکی ۔۔۔
روحا بیڈ پر گہری نیند سو رہی تھی جب اسے کومل نے بازوں سے پڑتے جاگاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
ک۔کو۔کون ہو۔۔۔
روحا نیند سے جاگتی پریشان ہوتی کومل کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
میں دوست تمہاری اب جاٶ یہاں سے جلدی ۔۔
کومل اسے بازو سے پکڑے روم کی کھڑکی کے پاس لاتی بولی تھی ۔۔۔
کیوں۔۔
روحا نے ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔۔
یار وہ ہری بلا تمہیں پاگل خانہ چھوڑنے جا رہا ہے تو یہاں سے بھاگ جاٶ۔۔۔
کومل اسے کھڑکی سے باہر نکالتی جلدی جلدی بولی تھی ۔۔
لیکن ہم پاگل نہی۔۔۔
میں جانتی ہو تم پاگل نہیں تبھی کہہ رہی جاٶ یہاں سے ۔۔
روحا کھڑکی کے ساتھ بنی چھوٹی سی روش پر کھڑی ہوتی پریشان ہوتی بول رہی تھی جب کومل سکون سے بولی تھی ۔۔۔
جھوٹے سب ہم کسی سے بات نہیں کرے گے اچھا بتاٶ یہاں سے کیسے جاۓ اتنی برف ہے ۔۔
روحا شدید غصے میں آتی اب نیچے دیکھتی بولی تھی جہاں برف ہی برف تھی ۔۔۔
اسے ڈر تھا کہ وہ کیسے نیچے جاۓ گی ۔۔۔
ایسے ۔۔۔
کومل نے کہتے ساتھ ہی روحا کو زور کا دھکا دیا تھا ۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ۔۔۔
ڈیو۔ڈیول۔دوس۔دوست۔۔۔
روحا حیران پریشان چیختی ہوتی چلاتی اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔
ہ۔م۔ب۔بچ گے۔۔۔۔
روحا نے جیسے ہی محسوس کیا وہ کسی کی باہوں میں ہے تبھی حیران ہوتی چیختے بولی تھی۔۔۔
جہاں اسے وحشت سے بھری سرخ گرین آنکھیں دیکھائ دی تھی جو اسے شعلہ بار نظروں سے اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔
کیا کر رہی تھی ۔۔۔
صام نے سردپن سے پوچھا تھا ۔۔۔
ہم اُڑ ر۔۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ۔۔۔
روحا مسکراتی ہوئ بول رہی تھی جب صام نے اسے برف پر گرایا تھا ۔۔۔
وہی وہ آنکھیں پھاڑے اسے گھورتی چلائ تھی ۔۔۔
کیا پاگل ہو جو ہر کسی کی بات میں آ جاتی ہو بار بار میں ہی تمہاری حفاظت کے لیے نہیں آ سکتا اتنی ضدی اور نخرے والی ہو چکی ہو ۔۔
ایک دفعہ کہا ہے کومل سے دور رہو تم ہر دفعہ اس کی باتوں میں آ جاتی ہو ۔۔۔
تمہیں دیکھائ نہیں دیا تھا اتنی اُونچائ سے گر رہی ہو ہڈیاں بھی نہیں ملنی تھی تمہاری ۔۔
میں تو یہاں ایک فون کال سننے آیا تو دیکھا تم نیچے گر رہی ہو حد ہے لاپرواہی کی روحا صام آفندی ۔۔۔
برف پر گری روحا کو شدید غصہ سے دیکھتے صام آپے سے باہر ہوتا دھاڑا تھا ۔۔۔
غصے سے صام کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔
آ۔آپ۔گن۔۔۔
میں جو بھی خبردار آج کے بعد اس کومل کے پاس بھی گی جان نکال دو گا تمہاری میں سمجھی ۔۔۔۔
روحا بڑی مشکل سے برف سے اٹھتی بول رہی تھی جب صام اس کی بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ناراض ہے آپ ۔۔۔
روحا معصوم سی شکل بناۓ اٹھتی ہوئ اس کے پاس جاتے بولی تھی ۔۔۔۔
تم کیا چاہتی میں ناراض بھی نہ ہو میرا اتنا حق بھی نہیں بنتا ہے کیا ۔۔۔
صام غصے سے روحا کا ہاتھ اپنے گال سے جھٹکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہم منا لے گے آپ کو ۔۔۔
روحا صام کی گردن میں بائیں حائل کیے اس سے جھولتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
میں ہرگز نہیں مانو گا ۔۔۔۔
صام روحا کو جھولتا ہوا اس کی کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔
ہمارا قصور نہیں ہم تو معصوم ہے دیکھے ہماری طرف ۔۔۔
روحا معصوم سی شکل بناۓ اسے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
بلیک فراک پہنے کھولے بال جو کمر سے نیچے جا رہے تھے بنا میک اپ کے سردی کی وجہ سے سرخ گال ناک ہونٹ لے آنکھوں میں معصومیت لاتی بولی تھی ۔۔۔۔
نہیں تم بجلی کا جٹھکا ہو ۔۔۔
صام اسے ایک ہی پل میں چھوڑتے دور جاتے بولا تھا ۔۔۔۔
کہاں سے بجلی دیتے ہم دم صام چام شام ڈم کام ڈیش ڈیش جھوٹ بولتے آپ ۔۔۔
روحا بھاگ کر اس کی کمر سے لگتی روٹھی ہوئ بچی کی طرح منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ت۔د۔۔۔
صام نے رخ موڑتے شدید غصے سے کہنے والا تھا جب روحا نے جلدی سے اس کے گال پر لب رکھے تھے ۔۔۔۔
کیا کہہ رہے آپ ۔۔۔
روحا صام کی حالت انجواۓ کیے اس کے گال پر لب رکھتے مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
م۔میں کہہ رہا ۔ت۔ھا۔۔۔
صام نے ایک دفعہ بولنے کی کوشش کی تھی جب روحا اپنے پاٶں اس کے پاٶں پر رکھتی اپنی جیکٹ اتار کر اپنے دونوں کے سرٶں پر رکھتی نرمی سے اپنے لب صام کے لبوں پر رکھ چکی تھی ۔۔۔۔
وہی صام کا غصہ جاگ کی طرح بیٹھتے شدت سے اسے کمر سے پکڑے دونوں برف پر گرے تھے ۔۔۔۔
————————————————————
ٹ۔ٹو۔ٹو۔۔۔۔
روحا اور صام سب بھلاۓ دونوں مگن تھے جب صام کا فون رنگ ہوا تھا ۔۔۔۔
اہہہہ بزدل انسان ۔۔
صام روحا کو نرمی سے چھوڑے اسے وہی اپنے سینے سے لگاۓ فون پر سردپن سے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاہااہاہہا بزدل میں نہیں ڈیول بزدل تم ہو گے جب اپنی موت سامنے دیکھو گے ۔۔۔
شہروز قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔
جانتے ہو میں کون ہو ۔۔۔
صام نرمی سے روحا کا ماتھا چومتے بولا تھا ۔۔۔
تم ڈیو۔۔۔۔
نہیں میں ڈیول نہیں ہو بلکہ تم جیسوں کے دل میں بسنے والا خوف ہو جس پر تم جیسے لوگ تھر تھر کانپتے ہے ۔۔۔
تبھی مجھے کال کی ۔۔۔
صام سردپن سے شہروز کی بات کاٹتا بولا تھا ۔۔
بڑا ہے غرور ہے تجھ میں ایسی موت دو گا پانی بھی نہیں مان۔۔۔۔۔
چلو دینا شوق سے موت مجھے اپنے بارے میں بھی سوچ لینا ۔۔۔
شہروز دمھکی دیتا بول رہا تھا جب صام برف سے اٹھتا روحا کو اپنے شولڈر پر ڈالتے بولا تھا ۔۔۔
دیکھنا جس دوستی اور جنون کو بچانے کے لیے تم نے مجھ سے ٹھکر لی ہے ایک وقت ایسا آۓ گا جب اپنی دوستی اور جنون میں تمہیں ایک کو بچانا پڑے گا ۔۔۔۔
تم تڑپو گے اس دن بے بس ہو گے ۔۔۔
ویسے بھی سائلنٹ بیوٹی میری ہے ۔۔
شہروز شدید طش میں آتا بولا تھا ۔۔۔
ہو گی بکواس شکریہ مزہ نہیں آیا ۔۔۔
تم جو مرضی کرو ڈیول ڈرتا نہیں تم جیسے بزدل لوگوں سے ۔۔۔
صام روحا کی طرف دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جو سکون سے اسے کمر سے پکڑے اپنا سر اس کی کمر سے ٹھکاۓ آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔۔
ت۔۔۔
بلا بلا بلا۔۔۔۔
اس سے پہلے شہروز کچھ کہتا جب صام بات کاٹتا فارم ہاوس کے اندر جاتے بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ہاۓ مس روحا ۔۔۔
ڈاکٹر روحا کو دیکھتی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
صام نے اس کے چیک اپ کے لیے ڈاکٹر فارم ہاوس بلا لیا تھا ۔۔۔
ہاے۔۔۔
روحا نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا تھا ۔۔۔
ہال میں سبھی بیٹھے تھے ۔۔۔
آپ جانتی ہے سب کو ۔۔
ڈاکٹر نے سوال کیا تھا ۔۔۔
جی یہ سب ہمارے بھائ ہے ۔۔۔
روحا صام کی طرف دیکھتی سب کا بتا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ صام سنجیدہ سی شکل بناۓ سب سن رہا تھا ۔۔۔
یہ آپ کے دوست ہے ۔۔
ڈاکٹر نے صام کی طرف اشارہ کرتے کہا تھا ۔۔
جی دوست ہمارے ۔۔
روحا بات مانتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
یہ شوہر ہے ۔۔
ڈاکٹر نے ایک دفعہ پھر سے کہا تھا ۔۔۔
اچھا آپ کہتی ہم مان لیتے ہے ۔۔۔
روحا نے سکون سے جواب دیا تھا۔۔۔
صام کو کافی دکھ ہوا تھا روحا کی بات پر ۔۔۔
اچھا یہ دشمن ہے آپ کے سارے ۔۔۔
ڈاکٹر نے پھر اسے دیکھتے کہا تھا ۔۔۔
یہ دشمن تو ہمارے بابا کدھر ہے ہم یہاں کیوں ہے پھر ۔۔۔
روحا یہ سنتی اب شدید غصے سے چلائ تھی ۔۔۔
ریلکس انیج۔۔۔۔
نہیں ہم نے ہمارے گھر جانا ہے بات ختم پتہ نہیں کہاں رہ رہے ہم ۔۔۔
ہماری ماما بابا ویٹ کر رہے ہو گے ہمیں جانا ہے یہاں سے ۔۔۔
آہان جو اسے دیکھتا بول رہا تھا جب روحا طش میں آتی چلاتی ہوئ اپنے روم میں بھاگ گی تھی ۔۔۔
وہی سب پریشان کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔
————————————————————
آپ کی مسز کو کوئ ہیوئ ڈرگز دی گی ہے ۔۔۔
جس کا ان پر کافی گہرا اثر ہوا ہے ان کو جو بھی کچھ کہے گا وہ وہی مانے گی ۔۔۔
اپنے اچھے برے کا ان کو نہیں پتہ ۔۔۔
اس کے دو علاج ہے ۔۔
ہمیں ان کے دماغ کی سرجری کرنی پڑے گی پ۔۔۔
پر کیا ڈاکٹر ۔۔۔
ڈاکٹر جو سب کو پریشان ہوتی بتا رہی تھی جب صام بے تاب ہوتا بولا تھا ۔۔۔
سرجری ہو جاۓ گی اس سے پکا نہیں یہ بلکل ٹھیک ہو جاۓ گی بلکہ ان کا دماغ بلکل مفلوج ہو جاۓ گا ۔۔۔
مطلب کوما میں جا سکتی ہ۔۔۔
دوسرا علاج۔۔۔
ڈاکٹر ابھی بول رہی تھی جب صام سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
آپ میں سے کوئ اس کے پاس ہر وقت رہے ایک ایک منٹ کی بات اسے یاد کروائ جاۓ شاہد اس کو یاد آ جاۓ سب کچھ پر اس میں صبر کرنا پڑے گا۔۔۔
کوئ یقین نہیں کب یاداشت واپس آۓ ۔۔۔
سالوں مہنیوں ہفتے لگ سکتے ہے ۔۔۔
بس آپ کو یہ سب برداشت کرنا پڑے گا ۔۔۔
ڈاکٹر صام کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
میں کرو گا یہ سب چاہے مجھے پوری زندگی اپنی انیجل کے ساتھ ایسے ہی رہنا پڑے ۔۔۔
صام دو ٹوک لہجے سے بولا تھا ۔۔۔
لیکن چپمین یہ سب یہاں بھی ہو سک۔۔۔۔
نہیں لالہ میں اب انیجل کو یہاں نہیں رکھو گا ویسے بھی شہروز بھی اسے نقصان دے گا ہمیں یہاں سے جانے دے ۔۔۔
آہان اسے سمجھا رہا تھا جب صام سکون سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہوا میری جان کو ۔۔۔
صام روم میں آتا روحا کے قریب بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔
جہاں سرخ آنکھیں ناک لے بکھرے بالوں سے رونے میں مصروف تھی ۔۔۔
ہم ناراض ہے جاۓ یہاں سے ۔۔۔
روحا سوں سوں کرتی بولی تھی ۔۔۔
کیوں ناراض ہے میری جان یہی پوچھ رہا ۔۔۔
صام نرمی سے ہاتھ پکڑے بولا تھا ۔۔۔
آپ۔سب ہمارے دشمن ہے ۔۔۔
روحا اسے اجنبی نگاہوں سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
دیکھو میری جان ہم سب دشمن نہیں ہے میں صام تمہارا شوہر اور دوست بھی ہو ۔۔۔
صام نرمی سے اس کا گال سہلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
لیکن ہمیں یاد نہیں آ رہا تبھی ہم ناراض ہے ۔۔۔
روحا ابھی بھی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا رات کو کھانا کھا کر روم میں آنا میں تمہاری ناراضگی ختم کر دو گا ۔۔۔
صام اس کا موڈ ٹھیک کر
نے کے لیے شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
جس میں کامیاب ہوا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں ہمیں بھوک ہی نہیں ہم سو رہے ۔۔
روحا صام کی بات کا مطلب سمجھتے ہوۓ جلدی سے بیڈ پر لیٹتی بولی تھی ۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے تمہیں بھوک نہیں میں تمہیں منا سکتا ہو جیسے تم نے مجھے منایا تھا ۔۔۔
صام روحا کے اوپر جھکے اس کے گلابی ہونٹ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
نہیں ہم کہہ رہے تھے ہمیں بھوک لگی ہے ۔۔۔
روحا جلدی سے اسے دور کرتی گھبراتے ہوۓ کہتی روم سے باہر بھاگ گی تھی ۔۔۔
ہاہااہاہ انیجل ۔۔
صام کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا انیجل بھوک زیادہ لگی ہے کیا ۔۔
رات کا کھانا سب کھا رہے تھے جب روحا نے جان بوجھ کر دو پلیٹیں کھانے سے بھری اپنے پاس رکھی تھی ۔۔
وہی صام روحا کی حرکت پر مسکراہٹ روکے اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ روحا کھا کچھ بھی نہیں رہی تھی ۔۔۔
ت۔تم کون ہو ۔۔۔
روحا اسے اگنور کیے سامنے بیٹھے شعیب کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
می۔۔۔
یہ بھائ تمہارا ۔۔۔
اس سے پہلے شعیب کچھ کہتا جب صام دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
تم بھائ ہو ہمارے تو بابا کدھر ہے ۔۔۔
روحا خوش ہوتی اسے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
توبہ لڑکی میں تمہارا کوئ بھائ نہیں ہو ۔۔۔
شعیب غصہ ہوتے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
یہ بھائ ہے تمہارا بس ناراض ہے ۔۔۔
صام شعیب کی حالت انجواۓ کرتا روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
بلیک بیوٹی کھانا کھاٶ گی تو ہی ختم ہو گا ۔
سب دیکھ رہے تھے روحا بہت سلو سلو کھانا کھا رہی تھی جبکہ سارے کھا چکے تھے ۔۔
تبھی ہیر اسے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
جی ہم ایسے ہی کھاتے ہے ۔۔۔
روحا منہ بناتی بریانی منہ میں ڈالتی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ اس کا دل بلکل نہیں کر رہا تھا کھانے کو پر جان بھی تو بچانی تھی صام سے ۔۔۔
بھابھی آپ نے انیجل کو بتایا نہیں بریانی میں ڈالا تھا ۔۔۔
صام سے اب برداشت نہیں ہوا تھا روحا کب سے اگنور کیے بس کھانا کھانے میں مصروف تھی جبکہ وہ جانتا تھا جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہے ۔۔
تبھی ہیر کو اشارہ کرتا کہتا روم کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔
ک۔کیا ڈالا آپ نے اس ۔می۔۔۔
روحا بھرے منہ سے بامشکل بولی تھی ۔۔
وہ چیکلی گر گی تھی ا۔۔۔۔
آہہہہہ آہہہ کییییااا۔۔۔
ہیر مسکراہٹ روکے بول رہی تھی جب روحا چیختی ہوئ چلاتی اوپر روم کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہااہااا۔۔۔
وہی سب کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
————————————————————
ہا۔ے۔گ۔گندی۔۔۔
روح جلدی سے روم میں آتی واش روم کی طرف بھاگی تھی الٹی کرنے جب صام نے اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔
اہہہہ کیا ہوا روحا بے بی کو ۔۔۔
صام روحا کے پھولے ہوۓ گال پر انگلی رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
آ۔آپ ج۔۔۔
روحا رونی شکل بناۓ بول رہی تھی جان گی تھی صام کے جال میں پھس چکی ہے ۔۔
تبھی صام نے بنا ٹائم ضائع کیے شدت سے روحا کے چہرے کو پکڑے اس کے ہونٹوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
روحا نے مضبوطی سے اس کی شرٹ پکڑی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے صام اس کے لبوں کو چھوڑے اس کی گردن تک کا سفر طے کرتا جب روحا اسے دھکا دیتی واش روم بھاگ گی تھی ۔۔۔۔
اب تو ناراض نہیں میری جان ۔۔
صام واش روم کے دروازے کے پاس کھڑے ہوتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جہاں دروازے کے دوسری طرف کھڑی گہرے سانس لیتی اس کے لبوں پر مسکراہٹ اور چہرے پر حیا کے رنگ آۓ تھے ۔۔۔
————————————————————
آ۔آپ سب یہاں ہو ۔۔۔
کافی دیر روحا واش روم میں کھڑی یہی ویٹ کرتی رہی صام کب روم سے باہر جاۓ گا ۔۔
جیسے ہی لائٹس آف ہوئ ویسے ہی وہ اپنے روم سے بھاگتی باہر ہال میں آئ تھی ۔۔
اپنے موبائل کی ٹارچ آن کیے اس نے ہال میں سب کی طرف دیکھتے پوچھا تھا ۔۔
جہاں قالین پر مٹیرس بچھاۓ رضائ لیے آہان ہیر ۔مستقیم مرحا ۔زرجان یافی ۔منان ہانیہ ۔۔
کومل شعیب سارے اپنے اپنے مٹیرس پر لیٹے ہوۓ تھے ۔۔۔
آتشدان اور ہیٹر چل رہا تھا ۔۔۔
جبکہ باہر بارش اور برف باری جاری تھی ۔۔۔
طوفانی بارش سے لائٹس آف ہو چکی تھی ۔۔۔
تم بھی یہاں آ جاٶ ۔۔۔
یافی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ہم کہاں آۓ جگہ ہی نہیں ۔۔۔
روحا سب کی طرف دیکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
یہاں آ جاٶ اگر موڈ ہوا تو ۔۔۔
صام اپنے مٹیرس کی طرف اشارہ کرتا بے نیاز سا ہوتا بولا تھا ۔۔۔
جانتا تھا وہ اسی کے پاس آۓ گی ۔۔۔ہال میں نیم روشنی تھی کسی کو کچھ صاف نہیں دیکھائ دے رہا تھا ۔۔۔
ہم نہیں آ رہے ہم روم میں جا رہے ۔۔۔
روحا شرم سے کہتی اپنے روم کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔
بھابھی جنگل میں بھیڑیا آیا ہے ۔۔۔
صام اُونچی آواز سے بولا تھا ۔۔۔
وہی روحا یہ سنتی سیڑھیوں سے بھاگتی سب کو اگنور کیے صام کے مٹیرس پر آئ تھی ۔۔۔۔
————————————————————
“تمہیں عشق بنا کر کے روح دل میں ملا لے ۔۔۔۔۔۔“![]()
”رکھو ا کے تیرے سر پر تمہیں اپنا بنا لے گے “
“
”کسی اور میں مت کھونا تم جیتے جی ہم مر جاۓ گے “۔۔![]()
“”””اے دعا بن میرا تو میرا ہے رہنما““![]()
““““۔۔۔۔۔““میری دھڑکن تم کو چاہے میرا دل بنا جانا تم کبھی روٹھ جو چاہے دل تو سینے سے لگانا تم ““۔۔![]()
““میری دھڑکن تم کو چاہے میرا دل بنا جانا تم کبھی روٹھ جو چاہے دل تو سینے سے لگانا تم ““۔۔![]()
“““مجھے اپنا بنا کے رکھنا اپنوں کی طرح ہر دم میرا دل تو جدا ہے تم سے جیسے سر سے جدا سے سرگم ۔۔۔“![]()
“نہ پیار میرا جسمانی سیدھا روح میں اتارا ہے”![]()
” نہ ہوش رہا اب جانی اب تو ہی سہارا ہے ““““اے دعا بن میرا تو میرا رہنما “![]()
““مجھے اپنا بنا کے رکھنا اپنوں کی طرح ہر دم میرا دل تو جدا ہے تم سے جیسے سر سے جدا سے سرگم ۔۔۔“![]()
“نہ پیار میرا جسمانی سیدھا روح میں اتارا ہے”![]()
” نہ ہوش رہا اب جانی اب تو ہی سہارا ہے ““““اے دعا بن میرا تو میرا رہنما “![]()
روحا ڈرتی ہوئ صام کے ساتھ لیٹ چکی تھی جب صام اسے کمر سے پکڑے اس کی کمر کو اپنے سینے سے لگایا تھا اور اپنی بھاری ٹانگیں روحا کی ٹانگوں پر رکھی تھی ۔۔۔
روحا کی دھڑکن تیز ہوئ تھی صام کی حرکت پر ۔۔۔
آ۔آپ ن۔نہ کر۔ے سب د۔دیکھ رہ۔ہے ہے ۔۔۔
روحا گھبراتے ہوۓ صام کے ہاتھ پیچھے کرتی بولی تھی ۔۔۔
کون دیکھ رہا ہے اس اندھیرے میں بتاٶ مجھے میری جان یہ بہانے نہ بناٶ۔۔۔
صام روحا کے کان کی لو کو چومتا بھاری گمبیر آواز سے بولا تھا ۔۔۔
روحا کا دل باہر آنے کو تیار ہو گیا تھا اتنی سردی میں بھی اسے پیسنے آ رہے تھے ۔۔۔۔
۔ک۔کیا چاہتے ہے آپ۔۔۔
روحا نے جیسے ہی محسوس کیا صام کے ہاتھ پیٹ سے ہوتے اوپر کی طرف جا رہے تبھی اپنا رخ صام کی طرف کرتی بے بس ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
تمہاری سانسیں تمہاری قربت چاہے مجھے انیجل ۔۔۔
صام سکون سے روحا کی فراک کی بیک ڈرویاں کھولتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ی۔ہ یہ کیا کر رہے وہ چڑیل دیکھ لے گی ۔۔۔
روحا اپنی فراک کو شولڈر سے پکڑتی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
کوئ نہیں دیکھ رہا میری جان فکر مت کرو بس مجھے محسوس کرو جیسے میں کر رہا ہو یہ بارش کا حیسن موسم برف باری اندھیری رات تمہاری خوشبو تمہاری قربت کو ۔۔۔
صام اس کی فراک کو شولڈر سے نیچے کرتا وہاں لب رکھے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔
لی۔۔۔
روحا پھر سے جان چھڑوانے کے لیے بولنے والی تھی کیونکہ وہ اس کی گرفت میں بڑی بری طرح پھس چکی تھی ۔۔۔۔
تبھی صام نے کروٹ چینج کیے روحا کو اب دیوار کے ساتھ لگایا تھا ۔۔۔۔۔
اب بولو کوئ نہیں دیکھ رہا ڈسٹرب مت کرو ۔۔۔
صام دوبارہ اپنے لب اس کی گردن پر رکھے بولا تھا۔۔۔
روحا کو جو فرار کا راستہ دیکھ رہا اب دیوار سے لگتے اس کی ساری ہمت جواب دے گی تھی ۔۔۔
کیوں ضدی ہے ایک تو ہمیں کچھ یاد نہیں آ رہا۔۔۔
روحا صام کے لبوں پر ہاتھ رکھتے اسے گستاخی سے روکتے بولی تھی ۔۔۔
میرے ساتھ رہو میں سب یاد کروا دو گا ۔۔۔
مجھے ضدی پاگل جنونی بنانے والی بھی تم ہو ورنہ میں بڑا وحشت ناک بندہ ہو ۔۔۔
صام روحا کے ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں قابو کیے اس کے لبوں کو قید کیے بولا تھا ۔۔۔
چ۔چھ۔ھ۔ڑ۔ے۔۔۔۔
روحا جلدی سے اپنی جان چھڑاوتی ہوئ گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔
اپنی ایسی اداٶں سے مجھے ضدی اور جنونی بناتی ہو ہاے میری انیجل کیوں میری نس نس میں بس رہی ہو ۔۔۔
صام دوبارہ اسے اپنی گرفت میں لیتا ہوا اس کی بیوٹی بون پر ہونٹ رکھے بولا تھا ۔۔۔
آپ بہت برے ہے ڈیول ۔۔۔
روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
تم بہت اچھی ہو میری جان ۔۔۔
صام روحا کو ایک ہی جٹھکے سے اپنی گود میں آٹھاۓ اوپر اپنے روم کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔
روحا نے شرم کے مارے اپنا چہره اس کے ساتھ میں چھپا لیا تھا جانتی تھی اب اس سے بھاگ نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
ہمارا جانا ضروری ہے کیا ۔۔۔۔
جہاز پر بیٹھی روحا صام کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتی رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔
جانا بہت ضروری ہے تمہارے لیے ہم جلد ہی پاکستان آۓ گے ۔۔۔۔
صام روحا کا ماتھا نرمی سے چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
رات کے اندھیرے میں صام کسی ک بتاۓ بنا ہی روحا کو ساچن سے ائیرپورٹ لے آیا تھا جہاں انھوں نے آسٹریلیا کے لیے جانا تھا ۔۔۔۔
آپ ہم سے اتنی محبت کرتے ہے ڈیول اتنا تو ہم کر سکتے ہے ۔۔۔
روحا اداس دل لیتی صام کے شولڈر پر سر رکھے بولی تھی ۔۔۔۔
صام نہیں جانتا تھا اس سفر میں اسے انیجل دوبارہ ملے گی یا وہ ہمشیہ اپنی انیجل سے دور ہو جاۓ گا ۔۔۔۔
————————————————————
“””آٹھ ماہ بعد۔۔۔۔
تم سے ایک کام نہیں ہوا کومل پورے آٹھ ماہ سے میں ڈھونڈ رہا ڈیول
سائلینٹ بیوٹی کو ۔۔۔
کیا زمین کھا گی یا آسمان جو ابھی تک نہیں ملی یہ سارا قصور تمہارا ہے جان سے مار دو گا ۔۔۔
شہروز شدید طش سے کومل کو فون پر چلایا تھا ۔۔
صام نے وہاں جا کر سب کو بتا دیا تھا وہ کہاں سے سواۓ کومل کے ۔۔۔
اس آٹھ ماہ میں شہروز نے روحا کو پاگلوں کی طرح ڈھونڈا تھا لیکن اسے ملی نہیں تھی تبھی آج کومل پر غصہ کرتا دھاڑا تھا ۔۔۔
میں بھی ڈھونڈ رہی مارنا چاہتے ہو مار دو مجھے پرواہ نہیں ۔۔
انہہہ۔۔
کومل بیزار ہوتی بولتی فون بند کر چکی تھی ۔۔۔
اہہہہ روحا بے بی تو میرے پاس ہے ۔۔
افسوس بہت جلد تمہاری یہ عزت جاۓ گی ۔۔۔
یہ خوبصورتی جاۓ گی بڑے عاشق بن کر گھومتے ہے صام شعیب اور شہروز ۔۔
اسی خوبصورتی کی وجہ سے ان تینوں نے مجھے اگنور کیا اب تمہارا کیا ہو گا اب تو صام بھی تمہارے قریب نہیں ۔۔۔
کرسیوں سے بندھی بے ہوش روحا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں دبوچتے کومل نے نفرت سے کہا تھا ۔۔۔
کیا کرنا اس کے ساتھ ۔۔۔
چار پانچ مرد روم میں آتے کومل کے سامنے کھڑے ہوتے بولے تھے ۔۔۔
وہی جو ایک ہوس پرست درندہ اپنے سامنے نازک پری کو دیکھ کر کرتا ہے ۔۔۔۔
مجھے اس کی موت چاہے ۔۔۔۔
اسی کی موت سے صام کو موت آۓ گی اسے بھی پتہ چلنا چاہے اس کی پیاری سی بیوی کتنی خوبصورت ہے ۔۔۔
کومل شطانی مسکراہٹ لاۓ ان سب کو کہتی روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔
جبکہ وہ حیوان صفت انسان ہوس پرست نظروں سے بے ہوش روحا کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
