Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 24)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
““ولیمہ اسپشیل ![]()
![]()
![]()
مرحا بیٹا مستقیم کدھر گیا ہے ۔۔
وردہ بیگم پریشان سی ہوتی پاس آتی بولی تھی ۔۔۔
پ۔پتہ نہیں ماما م۔۔۔
اچھا ریلکس رہو فیا دیکھ لیتی ہے ۔۔
زرجان منان ہانیہ آہان ہیر آفندی صاحب یافی سارے اسیٹچ پر آ چکے تھے جب وردہ بیگم روتی ہوئ مرحا کو چپ کروایا ۔۔۔
صام کم تھا جو یہ بھی ایسے کام کرنے لگ گیا ہے وہ بھی نہیں دیکھ رہا اور یہ مستقیم مجھے امید نہیں تھی یہ ایسی حرکت کرے گا رخصتی کا ٹائم ہو رہا ۔۔۔
شدید غصے میں آتے آفندی صاحب بولے تھے ۔۔۔
ریلکس رہے بابا آپ کی طعیبت نہیں ٹھیک ۔۔
آہان ان کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا ۔۔۔
کیا کرو میں سارے نمونے ملے مجھے بڑے نے لندن جا کر شادی کر لی بیٹا بھی پیدا کر لیا ۔۔
دوسرے نے لڑکی کو شادی سے بھاگا کر ساتھ لے آیا ۔۔
اور ایٹیٹیوڈ کنگ نے تو حد ہی کر دی زبردستی نکاح کر کے جان بچا کر بھاگ گیا تین سال بعد آ بھی گیا پہلے روحا بیٹی کے سامنے شرمندہ ہوتا تھا اب اس بچی مرحا کے سامنے ہو گیا شرمندہ ۔۔
صوفے پر آفندی صاحب بیٹھے غصے سے پھٹ پڑے تھے ۔۔۔
جبکہ آہان شرمندگی کے مارے سر جھکاۓ کھڑا تھا ۔۔
پلیز بابا وہ چوزہ آ جاۓ ۔۔۔
یافی دکھی ہوتی بولی تھی کہاں دیکھ سکتی تھی اپنے جان سے پیارے بابا کو اتنی تکلیف میں ۔
فون کرو اس جاہل انسان کو ا۔۔۔۔
آفندی صاحب ابھی بول رہے تھے جب پورے ہال کی لائٹس آف ہوئ ۔۔
———————————————————–
“”بالیکا تمہارے سپنوں کا راجکمار، آ رہا ہے
ورملا ڈولی بارات سجا کے دلہا چھا رہا ہے
شُب منگل ساودان
ہے یہ ہے یہ“![]()
“ہے یہ ہیریئیے سہرا باندھ کے میں تو آیا رے
ہے یہ ڈولی بارات بھی ساتھ میں میں تو لایا رے
اب تو نہ ہوتا ہے اک روز انتظار
سوہنی آج نہیں تو کل ہے تجھکو تو بس میری ہوئی رے
تینوں لے کے میں جاواں گا
دل دے کے میں جاواں گا
تینوں لے کے میں جاواں گا
دل دے کے میں جاواں گا“![]()
![]()
“آ کہ دے زمانے سے تو میرے عشق کی ہے داستان
او جانی یا کہہ دے بہانے سے
میں تیرا جسم ہوں، توں میری جان
کچھ نہ چھپا
مشکلوں سے ملتا ہے ایسا سوہنا پیار
سوہنی چیز تیرے جیسی نہ مجھ کو نہ مجھ کو کھونی رے“![]()
![]()
“تینوں لے کے میں جاواں گا
دل دے کے میں جاواں گا
تینوں لے کے میں جاواں گا
دل دے کے میں جاواں گا
جان ایسے نہ تڑپا کہ دیکھ لے مد بھرے انداز سے
او جان تُوں آواز کو اپنی آ ملا اب میری آواز سے“![]()
![]()
“ارے ہاں کہ دے ہاں
کر دیا ہے تو نے مجھ کو یوں بے قرار
ماہی کہ دیا دنیا سے میں تیری میں تیری ہو گئی رے
تیرے نال میں آواں گی
سسرال میں جاواں گی
تیرے نال میں جاواں گی
سسرال میں جاواں گی
ہے تینوں لے کے میں جاواں گا
دل دے کے میں جاواں گا
ہے تینوں لے کے میں جاواں گا
دل دے کے میں جاواں گا””“![]()
![]()
![]()
![]()
سپاٹ لائٹ کی روشنی میں مستقیم گھوڑے پر بیٹھا اسیٹچ کے قریب آیا تھا ۔۔
جبکہ پورے ہال میں یہی سونگ گونج رہا تھا ۔۔۔
سارے مستقیم کو دیکھتے ہکا بکا رہ گے تھے ۔۔
جبکہ وہ سکون سے بیٹھا پریشان سی مرحا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ارے واہ تم گھوڑا لے کر آۓ اپن بیٹھے گا یہاں ۔۔۔
ڈی ڈی جلدی سے اسیٹچ سے نیچے اترتی گھوڑے کے پاس آتی خوش ہوتی بولی ۔۔۔
کیا طریقہ ہے یہ چڑیل اترو میں یہاں پر ٹڈی کو بیٹھاٶ گا نکلو یہاں سے پتہ نہیں کیوں مجھ معصوم کے پیھچے پڑی ہو ۔۔۔
مستقیم ڈی ڈی کا ہاتھ پکڑے نیچے گراتے بولا تھا ۔۔
جو منٹوں میں گھوڑے پر بیٹھی تھی ۔۔۔
گنڈے کی شکل والے تم نے اپن کو گرایا دیکھ میں کیا کرتی ہو ۔۔۔۔
ڈی ڈی زمین سے اٹھتی غصے سے بولی تھی نیلی آنکھیں غصے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔
جاٶ یہاں سے شادی کے لیے آئ تھی وہ ہو گی شکر میرا نکاح ہو گیا ورنہ تم نے وہ بھی نہیں ہونے دینا تھا ا۔۔۔
مستقیم جو مسکراتا ابھی بھی بول رہا تھا جب ڈی ڈی اسے ٹانگ سے پکڑتی فرش پر گرا چکی تھی ۔۔۔
دونوں کی ہاتھا پائ دیکھتے ہال میں قہقہ گونجے تھے ۔۔۔
دلبر جانی پکڑ اسے میں ابھی اس کو شوٹ کرو گا ۔۔
فرش سے اٹھتے مستقیم نے اپنی سیکرٹ پاکٹ سے منی گن نکالتے غصے سے کہا تھا ۔۔۔
ہاں کر شوٹ اپن ڈرتا نہیں تیرے سے صرف صام بے بی کے لیے آیا تھا اپن لیکن تم لوگ ۔۔
جانتے نہیں ہو اپن ہے کون خاص کر تو گنڈے ۔۔۔
ڈی ڈی بھی اپنی گن لونگ شوز سے نکالتی غصے سے بولی تھی ۔۔۔
ہال میں سارے ہکا بکا رہ چکے تھے ۔۔۔
دیکھو ڈی ڈی اس مشعوق کو جانتی ہو وہ مذاق کرتا ہے تم تو عقل والی ہو اس کا دماغ تو نکل گیا ہے ۔۔۔
زرجان اور منان جلدی سے پاس آتے بولے تھے ۔
جانتے تھے دونوں غصے میں پاگل ہو جاتے ہے ۔۔۔
چھوڑ چوزے یہ اور سبنھال اس ٹڈی کو دیکھ کیا شکل بنا لی اس نے ۔۔
یافی مستقیم کے ہاتھوں سے گن لیتی اس کے شولڈر
پر مکا مارتی بولی تھی ۔۔
سوتیلی ناگن اس نے میرا سارا موڈ خراب کر دیا کبھی دیکھا ہے کوئ دلہا غصہ سے پاگل ہوا ہو لیکن آج اس نے مجھے کر دیا ۔۔۔
مستقیم ڈی ڈی کی طرف دیکھتا بولا تھا جو سرخ چہرہ لیے اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔
جو پہلے پاگل ہو اسے کیا پاگل کرنا ۔۔
ڈی ڈی طنز کرتی کندھے اچکاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
تم پاگل تمہارا وہ جلاد ڈیڈ پاگل تمہارا وہ سڑی شکل والا ماموں پاگل تمہارا وہ فیورٹ چاچو پاگل تم۔۔۔۔۔
اےےےے اپن کے ڈیڈ کو کچھ مت بول گنڈے آج پکا تو مرے گا ۔۔۔
مستقیم جو بول رہا تھا جب ڈی ڈی غصے سے پھٹتی اس کی طرف آی تھی ۔۔
چل بچا مجھے سوتیلی ناگن دیکھ میری بیوی بیوہ ہو جاۓ گی مار اس کو ثابت کر تو ایس پی مستقیم کی بہن ہے ۔۔۔
مستقیم جان بچاتا فیا کو آگے کرتا بولا تھا ۔۔۔
چھوڑو یافی باس اپن اس کا دماغ نکال دے گا ۔۔
ڈی ڈی یافی کو دیکھتی دانت پیستی بولی تھی ۔۔۔
دیکھو تم میری بہن ہو چھوٹی سی اسے معاف کر دو پاگل ہے ۔۔
یافی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ ڈی ڈی کسی کی نہیں سن رہی تھی ۔۔۔
می۔ا۔۔۔
دھڑکن بیٹا میری جان آپ ایسی تو نہیں تھی سویٹ سی ہے کیوں مستقیم پر غصہ کر رہی ہو جس کام کے لیے آئ ہو وہی کرو میں تو ویسے ہی اس نکمے ہڈ حرام آوارہ کے گھر نہیں آنے دے رہا تھا ۔۔۔
اگر ابھی آپ نے اپنا غصہ کنٹرول نہیں کیا تو پوری آرمی فورس کو بھیج کر آپ کو بلا لو گا ۔۔۔
ویسے بھی داٶد پلیس آٶ ہماری رونق تو آپ ہے ۔۔۔
اس سے پہلے ڈی ڈی کچھ کہتی جب پورے ہال میں ڈی ایم کی رعب دار آواز گونجی تھی ۔۔۔
جہاں زرجان موبائل پر ویڈیو کال پر ڈی ایم کی آواز سن رہا تھا ۔۔۔
سب جانتے تھے ڈی ڈی کو کنٹرول صرف اس کا جلاد باپ ڈی ایم کر سکتا تھا ۔۔
جلاد ڈیڈ آپ ۔۔۔
ڈی ڈی سب کچھ بھولتی موبائل لیے خوشی سے چہکی تھی ۔۔۔
جی میری جان آپ تنگ مت کرے سب کو سب کیا سوچے گے کسی بیٹی ہ۔۔۔
اپن سب کے دماغ اُڑا دے گا جو ایسا سوچے گا ۔۔۔
ڈی ایم جو آرام آرم سے سمجھا رہا تھا جب ڈی ڈی دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہاہاا میرا پیارا بیٹا آپ سکون سے رہے ورنہ آپ جانتے ہے مجھے میں کیسا ہو ۔۔
ڈی ایم قہقہ لگاتا بول رہا ۔۔
چلو چلے جلدی وہ چڑیل بزی ہو گی چلو ۔۔۔
مستقیم ڈی ڈی کو بزی دیکھتے جلدی سے اسیٹچ سے مرحا کا ہاتھ پکڑے بولا تھا ۔۔
ی۔۔۔
بابا گھر جا کر بات کرے گے ۔۔
آفندی صاحب جو بولنے والے تھے جب مستقیم جلدی سے بولتا مرحا کا ہاتھ پکڑے گھوڑے پر بیٹھاۓ وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
ہاہہاہہا بھاگ گیا بزدل ۔۔۔
ڈی ڈی مستقیم کو جاتے قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
چھوڑے ہمارا ہاتھ ٹھرکی انسان ۔۔
صام جو شدید غصہ سے روم میں لایا تھا جب روحا اپنا ہاتھ غصہ سے چھڑواتے بولی تھی
تم ہاتھ کی بات کرتی میں تمہیں نہیں چھوڑو گا ۔۔
صام غصے سے روحا کے شولڈر پکڑے بولا تھا ۔۔۔
کیا دیکھ لیا تھا ہم گر رہے تھے اس نے بچایا ا۔۔۔
میں اس بارے میں بات نہیں کر رہا بس مجھے نہیں پسند تم کسی کے ساتھ بھی رہو ۔۔۔
صام روحا کو پکڑے دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
روحا کو اپنے شولڈر پر پین ہوا تھا ۔۔۔
ہاں ہم کسی کے ساتھ نہ رہے آپ چاہے کچھ بھی کرے دوسری شادی کی پھر بے بی بھی آنے والا ہم نے کچھ کہا آپ کو تو آپ کیوں ہمیں بول رہے ہے ہم کو اپنے جیسے سمجھ لیا ہے کیا ۔۔
جیسے آپ ہر لڑکی کے ساتھ رہتے ویسے ہم بھی ہر لڑکے کے سات۔۔۔
روحااااااا کین یو شیٹ اپ ۔۔۔۔
روحا غصہ سے پاگل ہوتی بنا سوچے سمجھے وہ بول رہی تھی جب صام بات کاٹتا دھاڑا تھا ۔۔۔
ایک پل کو روحا کا سانس رک چکا تھا اس کی دھاڑ سنتے ۔۔۔
ایسا کیا غلط کہا ہم نے جو اتنا تڑپ رہے آپ جو سچ وہی ہے۔
جاۓ اپنی ہوس پوری کرے جا کہ ہمارے منہ نہ لگے ۔۔
کومل بیوی ہے آپ کی جاۓ وہ روم میں آ گی ہو گی ۔۔
روحا اپنا رخ چیج کیے سکون سے بولی تھی ۔۔
کتنی دفعہ کہا ہے اپنے ان ننھے ہونٹوں کو تکلیف مت دیا کرو بلکہ بولا ہی نہ کرو ۔۔۔
صام روحا کو کمر سے پکڑے غصے سے اپنی طرف کرتا بولا ۔۔۔
جب روحا کا بن کھولتا سارے بال بکھر چکے تھے ۔۔۔
جبکہ گلے میں ویسے ہی ڈوپٹہ تھا ۔۔۔
جاۓ یہاں سے ٹھرکی آپ کی مرضی نہیں چلنی یا ہم جانور ہے جس پر زور زبردستی کر کے اپنی ہوس پوری کرے گ۔۔۔
آج کی رات میری ہی مرضی چلے گی روحا بے بی اور کیا ہوس ہوس لگائ ہے جانتی ہو ہوس ہوتی کیا ہے آج میں بتاتا ہو ہوس ہوتی کیا ۔۔۔
اچانک صام آنکھوں میں سردپن لاۓ اپنی گردن ٹیرھی کیے بولا تھا ۔۔۔
جبکہ روحا کی ریڑ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئ تھی ۔۔
انہہ بکواس کرتے بس آپ جاۓ یہاں سے ۔۔
روحا اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی اسے دور کرتی بولی تھی ۔۔
ہوس اسے کہتے ہے ۔۔۔
صام روحا کا ڈوپٹہ اتارتے اس کے دونوں ہاتھ پیچھے کمر سے لگاے
باندھے بولا تھا ۔۔
ی۔یہ کیا طریقہ ہے جاہل انس۔۔۔۔
روحا بے بی ہوس کسے کہتے ہے وہی بتا رہا ۔۔
روحا شوک ہوتی اٹکتے بول رہی تھی جب صام اسے کمر سے پکڑے بولا تھا ۔۔۔
آ۔آپ اب ہمارے ساتھ ی۔یہ کرے گ۔۔۔
یس روحا بے بی دیکھو اب دوسری شادی بھی کروا دی تم نے تو پہلے اپنی پہلی بیوی سے حق لے لو پھر دوسری کے پاس جاٶ گا ویسے بھی تمہیں میرا عشق ہوس لگتا ہے ۔۔
صام روحا ک بات کاٹتا اس کی میکسی کے اوپر لے اپر کو ایک ہی جھٹکے میں پھاڑتے بولا تھا ۔۔
ص۔۔صامممم آپ غلط کر رہے ۔۔۔
روحا اپنے خشک لیے ہونٹوں پر زبان پھیرتی ہوئ بولی تھی ۔۔
کیونکہ بنا ڈوپٹے اور اپر کے اسے عجیب فیل ہو رہا تھا مکیسی کے بازو سلیو لیس تھے جبکہ گلا کافی گہرا تھا تبھی اس نے اپر پہنا تھا ۔۔
غلط مس روحا سیرسیلی اور جو تم طنز کے تیر چلاتی ہو مجھ پر وہ غلط نہیں کیا ۔۔
صام روحا کو بیڈ پر گراتے دانت پیستے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
اہہہ صام ہم بابا کو بلاۓ گے یہ کیا طریقہ ہے ہم کومل نہیں ہے جو آپ کا یہ برتاٶ سہے گے سمجھے ۔۔۔
روحا بیڈ پر گرتی درد سے چلاتے چیخی تھی ۔۔۔
یہی فرق میں تمہیں بتاٶ گا روحا بے بی کہ تم روحا ہو کومل نہیں ۔۔۔
کومل میری شدت کبھی بھی برداشت نہیں کرے گی جبکہ تم کرو کیونکہ جانتی ہو کیوں ۔۔
صام اپنی شرٹ ایک ہی جھٹکے میں اترتا اس کے اوپر جھکتے بولا تھا ۔۔۔
ک۔کیوں۔۔۔
روحا کی اب جان لبوں میں آئ تھی صام کو اپنے اتنے قریب آتے دیکھ تبھی وہ چہرہ موڑے بولا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ تم میری سانس ہو میری بیوی میرا عشق تم سب کچھ برداشت کرو گی تم جانتی ہو میں صرف تمہارے پاس ہی آو گا ۔۔
صام روحا کا چہرہ اپنی طرف کرتے اس کے گال پر لب رکھتے کہا ۔۔
ن۔نہیں پلیز صا۔م ۔۔
روحا صام کا ہاتھ اپنی مکیسی کے گلے کی زپ پر محسوس کرتی بولی تھی ۔۔
ہاتھ تو اس کے باندھے تھے ۔۔
کیا ہوا ڈر گی آہہہہی ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں ۔۔۔
صام روم کی لائٹ آف کرتا زیرو بلب آن کیے طنز کرتا بولا ۔۔۔
بڑا شوق ہے تمہیں اس کورنا کی جعلی ویکسین کے پاس جانے کا آج میں بتاٶ گا تمہیں تم صام آفندی کا عشق ہو تمہارے اوپر صرف میرا حق ہے ۔۔۔
صام روحا کی مکیسی اتارتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ص۔صام ہم کبھی آپ کو معاف نہ۔نہیں ک۔کرے ۔گ۔۔۔
روحا اپنے آنسو کنٹرول کیے بامشکل بولی تھی ۔۔
اندھیرے میں صرف اسے سرخ گرین وحشت سے بھری آنکھیں دیکھائ دے رہی تھی بس ۔۔۔
معاف تم میں بھی نہیں کرنا چاہتا بہت تڑپا لیا تم نے مزہ آتا ہے تمیں آج تم تڑپو گی ۔۔۔
صام روحا کی گردن پر کاٹتے ہوۓ بولا تھا ۔۔
سسی۔۔
درد کو برداشت کرتے روحا اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا چکی تھی ۔۔۔
کیا ہوا درد ہوا ارے بے بی یہ تو بہت کم درد ہے جیتنا میں نے درد برداشت کیا ہے تم جانتی نہیں ہو جو روز دیتی ہو ۔۔۔
تمہیں ہوس ہی بتا رہا میں تاکہ تم جان سکو ۔۔۔
صام اب بے رحم بنا اس کی بیوٹی بون پر کاٹتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
روحا بے بس ہوتی سب سہہ رہی تھی صام کے لبوں کا لمس وہ اپنے جسم پر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
ج۔جا۔جانو۔۔۔
خبردار روحا اگر ایک بھی آنسو نکالا یہ تو درد دے رہا بہت کم ہے ایسا درد دو گا تڑپو گی ۔۔۔
صام اندھیرے میں ڈراک براٶن آنکھوں میں آنسو دیکھتا سردپن سے اس کی بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔
ج۔جانور ہے آپ جنگلی وحشی ۔۔۔
ٹھرکی انسان ہے ۔۔
روحا اپنی سرخ براٶن آنکھوں میں آنسو کنٹرول کیے بولی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہہاہہاہاہا کتنے اچھے سے جانتی ہو ہاے افسوس پھر بھی میرے عشق کو نہیں سمجھتی تم ۔۔۔
صام اپنا چہرہ روحا کے چہرے کے سامنے لاتا بولا تھا ۔۔۔
ہ۔ہمیں درد ہو رہا صاممممم۔۔۔
روحا بے بس ہوتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بالاخر بول پڑی تھی ۔۔۔
اچھی بات ہے درد فیل کرو کیونکہ جب تک میں یہ درد تمہیں نہ دیتا تمہاری عقل ٹھکانے نہیں آنی تھی ۔۔۔
جو لمس میں نے تمہارے اوپر چھوڑا ہے یہ زخم دیکھ کر تمہیں یاد رہے گا میری ہو صرف میری اور رہ گی اس کورنا ویکسین کی بات اسے میں اس دنیا سے ایسے گم کرو گا کوئ بھی جان نہیں سکے گا ۔۔۔
صام اب نرمی سے اپنے لب اس کی آنکھوں پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔
روحا کو شوک لگا تھا صام کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ۔۔۔
ہم صرف پشتو سکھنے کے لیے اس سے بات کرتے تھے ۔۔۔
روحا بچوں جیسی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
پشتو کے لیے میں تمہارے پاس ٹیچر بھیج دو گا صبح آج کے بعد مت اس کے آس پاس جانا ۔۔۔
صام اپنے لب اس کی گردن پر بنے زخم پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔
ہمارے ہاتھ ۔۔۔
روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ابھی نہیں کھولو گا پہلے اس کومل کو دیکھ لو ۔۔۔
صام بیڈ پر پڑی اپنی شرٹ روحا کو پہناتے اٹھتے بولا تھا ۔۔۔
لیکن ہمی۔۔۔
ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں میں نے بس اپنا لمس چھوڑا ہے اتنے سے پین میں ہو روحا بے بی چچچچچ۔۔۔
صام ویسے ہی دروازے کے قریب جاتے طنز کرتا
بولا تھا ۔۔۔
صاممممصاممممم ہماری حالت دیکھے کوئ روم می۔۔۔
کوئ روم میں نہیں آے گا بے بی ریلکس رہو ۔۔
روحا جو بیڈ پر لیٹی چیخ رہی تھی جب صام اس کی بات کاٹتا ہوا بولتا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
مجھے پہلے ہی پتہ تھا تم دلہن بن کر ویٹ نہیں کرو گی ۔۔۔
مستقیم روم میں آیا تھا جب مرحا کو سادہ سے سوٹ میں ملبوس واش روم سے باہر آتے دیکھ طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔
ت۔تم کب آے ۔۔
مرحا سامنے مستقیم کو دیکھتے ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ڈر تو ایسے رہی ہو جیسے کتنی معصوم ہو تم الزام لگاتے تو ڈری نہیں ۔۔
مستقیم مرحا کا صاف شفاف چہرہ دیکھتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
نہیں تم غلط سمجھ رہے ہو مستقیم مجھے صفائ کا موقع د۔۔۔
مرحا گھبراتی کاپتی ہوئ جلدی سے چلتی بیڈ کی طرف آ رہی تھی جب کپیری سے اٹکتے پاٶں کی وجہ سے وہ سیدھی مستقیم کے سینے پر گری تھی ۔۔۔
کیا صفائ دو گی تم نے ایک دفعہ بھی سوچا تھا میں تمہاری عزت بچانے کے لیے اپنے گھر لایا تھا ۔۔
سوچو اگر اس رات میں نہ ہوتا پھر کیا ہوتا تمہارے ساتھ اور تم نے مجھ پر ہی الزام لگا دیا میرے بابا کی نظروں سے گرا دیا ۔۔۔
مستقیم غصے سے کروٹ چینج کیے بولا تھا ۔۔
مرحا نیچے اور مستقیم اس کے اوپر حاوی ہوا تھا ۔۔۔
میں تمہاری شکرگزار ہو تبھی تم سے شاد۔۔۔۔
ہاہاہہااہ دیکھ لیا کتنی شکرگزار تھی ا۔۔۔
مستقیم اس کی بات کاٹتا بول رہا تھا جب مرحا اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکی تھی ۔۔۔
مستقیم مرحا کی آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو دیکھ سکتا تھا ۔۔۔
جبکہ مرحا اسے ہی دیکھتی اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں منتقل کر رہی تھی ۔۔۔
مستقیم اس کے لبوں کو نرمی سے چھوڑے اس کی گردن پر لب رکھے تھے ۔۔۔
مرحا مسکراتی اپنی آنکھوں کو بند کر چکی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے مستقیم بہک جاتا جب ایک جھٹکے سے مرحا کو چھوڑتا وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔
اس گھر میں رہنے کے لیے الزام لگایا تھا اب رہو خوشی سے ۔۔۔
مرحا نے فورًا آنکھیں کھولی تھی جب مستقیم دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔
مرحا کے دل میں چھن کر کے کچھ ٹوٹا تھا ۔۔۔
مستقیم دیکھو تم غلط مستقیم مستقیم ۔۔۔
مرحا جلدی سے آٹھ کر اس کے پاس آتی ہاتھ پکڑتی بول رہی تھی جب وہ ہاتھ جھٹکتا ہوا روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔
مرحا وہی بیڈ پر روتے ہوۓ چلائ تھی ۔۔
———————————————————–
ارے واہ مجھے نہیں پتہ تھا صام بے بی کو اپنی گولڈن نائٹ کی اتنی جلدی ہے ۔۔۔
صام جیسے ہی اپنے روم میں انٹر ہوا تو بیڈ پر ریڈ نائٹی میں بیٹھی کومل کو دیکھا تھا جو مسکراتی ہوئ اسی کی طرف آتی بولی تھی ۔۔۔
شرٹ لیس صام کی باڈی دیکھتے کومل خوشی سے پاگل ہو گی تھی اسے پانے کے لیے ہی اس نے اتنا کچھ کیا تھا ۔۔۔۔
بہت ہینڈسم ہو افففف آج تک میں نے ایسا خوبصورت لڑکا نہیں دیکھا ۔۔۔
کومل صام کے سینے سے لگی خوشی سے بولی تھی ۔۔۔
صام بت بنا ویسے ہی کھڑا تھا ۔۔
تم نہیں جانتے مجھے آج کتنی خوشی ہو رہی ۔۔
کومل اپنا ہاتھ صام کے سینے پر پھیرتی اس کے سکس پیک تک لا رہی تھی ۔۔۔
کیسی بیوی ہے روحا جو تمہیں محبت نہیں دے رہی صام بے بی میرے ساتھ رہو میں روز محبت دو گی ۔۔۔
کومل اب اپنے لب اس کے لبوں کے پاس لاتی بولی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے وہ چھو پاتی صام کے لب جب صام نے اسے زور سے دھکا دیا تھا ۔۔۔
آہہہہ کیا طریقہ ہے بیوی ہو تم۔۔۔
جھوٹی بیوی ہو کوئ بیوی نہیں میری یہ تم بھی جانتی ہو میں بھی اور یہ بےبی والا ڈرامہ یہ بھی میرا نہیں ۔۔
کومل زمین پر گرتی بول رہی جب بیڈ سے ٹکراتی اس کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔
جب صام غصہ سے دھاڑا تھا ۔۔۔
ہاہہاہہاہا چلو اب ڈرامہ نہیں کرنے پڑے گا مجھے ہاں ہماری شادی نہیں ہوئ وہ نکاح نامہ جھوٹا تھا جو روحا کو دیکھایا ۔۔
لیکن یہ جھوٹ نہیں ۔۔۔
کومل قہقہ لگاتی اٹھ کر بیڈ سے فون لیتی صام کے قریب آتی بولی تھی ۔۔۔
بکواس ہے یہ سب کومل یہ لڑکا میں نہیں اور میں جانتا ہو روحا بھی نہیں مانی ہو گی ۔۔۔
صام فون میں اپنی اور کومل کی غلط پکس دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں یہ نقلی ہے ویسے تمہاری بیوی بھی یہی بولی تھی کتنا یقین کرتے ہو دونوں ایک دوسرے پر لیکن یہ اصلی پکس ہے ۔۔
کومل دوبارہ فون لیتی اور پکس دیکھاتی بولی تھی ۔
بکواس ہے کومل یہ میں تمہارا خون کر دو گا ۔۔۔
صام فون میں پکس دیکھتا فون غصے سے توڑتے اس کی گردن دبوچے بولا تھا ۔۔۔
ارے یہ اصلی ہ ۔۔۔
فوٹو شاپ کیا ہے تم نے جس کے ساتھ مل کر تم یہ گیم کھیل رہی ہو بتا دو ورنہ اگر خود پتہ کروایا تو تمہارا قتل اپنے ہاتھوں سے کرو گا ۔۔۔
کومل جو سکون میں آتی بول رہی تھی جب صام اس کی گردن پر دباٶ دیتا بولا ۔۔۔
ارے اگر مجھے مار دیا تو کیسے پتہ چلے گا اس کی اصلی پکس
کدھر ہے ۔۔
کومل سکون سے بولی تھی ۔۔
خبردار اگر یہ پکس کہی بھی گی ابھی تم میرے قہر سے واقف نہیں ہو یہ دولت یہ گھر چاہے تھا تمہیں مل گیا رہو سکون سے ۔۔۔
صام کومل کا سر پکڑے دیوار پر مارتے جنونی انداز سے بولا تھا ۔۔۔
حیوان جنگلی کہاں جا رہے اب ۔۔
کومل اپنا سر پکڑتی درد سے چلاتے بولی تھی اس کے سر سے خون نکل رہا تھا ۔۔
اپنے سکون کے پاس اور تم یہی مرو ۔۔
بہت جلد پتہ کروا لو گا اس سارے گیم کے پیھچے کون ہے ۔۔۔
صام غصے سے روم سے نکلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
کیوں آے ہے اب ۔۔۔
روحا اپنے کمبل میں اندر گھستے صام کو دیکھتی بولی ۔۔
سکون لینے ۔۔
صام آرام سے اس کے سینے پر سر رکھے بولا تھا ۔۔۔
کیا چیز ہے آپ ابھی اتنا غصہ اور ابھی یہ طریقہ کومل کے پاس جاۓ ۔۔
روحا اسے اتنا پرسکون دیکھتی بولی تھی ۔۔
کیسے غصہ میں تھا اب اور یہ سکون میں کیسے ہوا ۔۔
روحا اپنے دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔
سکون چاہے مجھے اور بیوی صرف تم ہو میری یہ تم بھی جانتی ہو ۔۔۔
صام روحا کی تھوڑی چومتے بولا تھا ۔۔۔
ہمارے ہاتھ ۔۔
روحا اپنے ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتی بولی جو باندھنے کی وجہ سے سرخ ہو چکے تھے ۔۔
کیا ہوا تمہارے ہاتھ کو سکون سے سو جاٶ ۔۔۔
صام اس کے باندھے ہاتھ اپنی گردن میں حائل کرتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
اب دونوں کی گرم سانسیں ایک دوسرے کے چہرے پر ٹھکرا رہی تھی ۔۔۔
کھول دے پلی۔۔۔
اگر اب تم بولی تو ڈیپ کس کرو گا پھر بولتی رہنا بعد میں ۔۔
روحا جو منمناتی بول رہی تھی کیونکہ صام کی قربت سے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا جب اس کی بات کاٹتے وہ بولا تھا ۔۔۔
ٹھرکی جاہل انسان ا۔۔۔۔
روحا برے برے سے منہ بناۓ بول رہی تھی جب صام نے غصے سے اپنی ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھے تھے ۔۔۔۔
روحا بے بس ہوتی سب کچھ برداشت کر رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
منہ سیدھا نہیں کر سکتی تم شکل ایسی بنائ ہے جیسے میں ظالم شوہر ہو ۔۔۔
ہال میں بیٹھے مستقیم نے مرحا کی شکل دیکھتے کہا ۔۔
وہ دونوں اپنے ولیمے کے لیے اسیٹچ پر اچھے کپل کی طرح بیٹھے تھے ۔۔۔
تمہیں کیا مسئلہ ہے میرا منہ ہے سانڈ ۔۔۔
مرحا منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔
سکرین کلر کی میکسی پہنے خوبصورت سی تیار ہوئ وہ مستقیم پر بجلیاں گرا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ گرے کلر کے فل تھری پیس سوٹ میں بالوں کا سٹائل بناۓ وجہہ پرسلنٹی لیے وہاں کھڑی ساری لڑکیوں کا دل دھڑکا رہا تھا ۔۔۔
اہہہ ٹڈی کا چھوٹا سا منہ ۔۔۔
مستقیم طنز کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اپنا دیکھا ہے منہ سانڈ جیسا ہے توبہ سانڈ ہی لگتے ہو ۔۔۔
مرحا رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ایسٹیچ سے دور بیٹھے سارے زرجان فیا منان ہانیہ کومل آہان ہیر سب یہی سمجھے تھے مستقیم اور مرحا سکون سے بیٹھے باتیں کر رہے ہے ۔۔۔
جبکہ وہ نہیں جانتے تھے وہ دونوں لڑانے میں مصروف تھے ۔۔۔
سانڈ۔۔
کیا تکلیف ہے اب ۔۔
دونوں لڑ لڑ کر خودی چپ ہو گے تھے جب اسے مرحا کی رونی آواز سنائ دی ۔۔۔
تبھی مستقیم پھاڑ کھانے کو بولا ۔۔۔
میری کمر میں درد ہو رہا کافی اب بیٹھا بھ۔۔۔
تو کھڑی ہو جاٶ۔۔۔
جاٶ میرے لیے جوس لے کر آو ۔۔۔
مرحا جو رونی شکل بناۓ بول رہی تھی جب مستقیم ریلکس ہوتا بولا ۔۔۔
بھاڑ میں جاٶ پتہ نہیں کیوں تم سے شادی کی زندگی عذاب کر د۔۔۔
مرحا غصہ سے آنسو کنٹرول کرتی اٹھ کر کھڑی ہوتی بول رہی تھی جب مستقیم اسے گود میں آٹھاۓ اسیٹچ سے نیچے اترتا بنا دیکھے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
دیکھ ککڑ بچہ بگڑ گیا ہے ۔۔
زرجان منان کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
ہاہاہہاہہاہاہ میں شوک میں ہو چوزہ ایسا بھی ہو سکتا ہے مجھے جوس پلاٶ ۔۔۔
یافی بھی مستقیم کو ہال سے باہر جاتے دیکھ قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔
جبکہ آفندی صاحب اپنا سر پکڑے بیٹھ چکے تھے ۔۔۔
انہیں یقین نہیں ہو رہا تھا صام کا اثر مستقیم پر کیسے پڑ گیا ایسی حرکیتں وہ کرتا تھا ۔۔۔
