339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 43)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

ہاہااہاہاہاہا۔۔۔

کومل اپنے روم میں بیٹھی قہقہ لگا رہی تھی ۔۔۔

جب اس کا فون رنگ ہوا۔۔۔

ہاں کام ہو گیا بس ایک ڈوز رہ گی پھر روحا کی ساری یاداشت چلی جاۓ گی ۔۔۔۔

وہ بھول جاۓ گی اپنے صام بے بی کو پھر پتہ چلے گا صام کو کیسے کسی سے محبت کرے اور وہ دور ہو جاۓ ۔۔۔۔

کومل فون پر بات کرتی زہر اُگلتی بولی تھی ۔۔۔

سائلنٹ بیوٹی مجھے چاہے ہر حال میں ۔۔

میں اسے پاکستان سے لے جاٶ گا ۔۔۔

شہروز فون پر غصے سے بولا تھا ۔۔۔

اس میں ایسا کیا ہے جو تم سب اس کے لیے پاگل ہو گے باقی لڑکیاں بھی ہے ۔۔۔

کومل شہروز کی بات سنتی دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔

وہی جو تم جیسی لڑکیوں میں نہیں ہے ۔۔۔

پہلے ہی اس کے جسم سے چیپ نکال دی ہے اس میجر نے ۔۔۔

شہروز کو غصہ آیا تھا کومل کی بات سنتے تبھی غصے سے غراتے بولا تھا ۔۔۔

بہت شوق ہے تم سب کو روحا لینے کا اگر روحا رہے ہی نہ تو یہ تینوں میرے قبصے میں ہو گے ۔۔۔

چلو جہاں دو ڈوز دینی تھی وہاں میں چار ڈوز دو گی ۔۔۔

ہاہااہاہاہہاہااہاہ روحا بے بی بچا سکتی ہو خود کو تو بچا لو۔۔۔۔

کومل ڈرگز کی شیشی ہاتھ میں پکڑتی شطانی سوچ سوچتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔

———————————————————–

آہان احمد بڑا ہو رہا اب یہ سب بلیک بیوٹی کی وجہ سے ہوا ۔۔۔

ہال میں احمد روحا کے ساتھ کھیل رہا تھا جیسے دیکھتے ہیر آہان کے شولڈر پر سر رکھے بولی تھی ۔۔۔

ہیر کیا ہماری بیٹی ہو گی ۔۔۔

آہان کھوۓ ہوۓ لہجے سے بولا تھا ۔۔۔

ضرور ہو گی آپ نے ایسا کیوں کہہ۔۔۔

ہیر مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ جو گناہ مجھ سے ہوا تھا پتہ نہیں اللہٌمجھے ایسی رحمت دیتا ہے یا نہیں ۔۔۔

مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔

آہان ہیر کی آنکھوں میں دیکھتا پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ایسی بات کیوں کی آہان آپ جانتے ہے اس بات کی معافی آپ کو مل گی ہے ۔۔

جب ہم اپنے رب سے رو کر تڑپ کر معافی مانگتے ہے وہ ہمیں معاف کر دیتا ہے ۔۔۔۔

ہمارا رب بہت رحیم کریم ہے آپ بھروسہ رکھے ہمیں یہ خوبصورت تحفہ ضرور ملے گا ۔۔۔۔

ہمیں بھی رحمت ملے گی ۔۔۔۔

ہیر آہان کی آنکھوں کو چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

شکریہ میری جان تمہاری باتیں سن کر میرے دل کا بوجھ کم ہو جاتا ہے ۔۔۔

آہان بھی ہیر کی آنکھوں کو چومتے عقیدت سے بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

انیجل یہ جام پکڑنا ۔۔۔

سارے ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جب مستقیم گم صم بیٹھی روحا کو مخاطب کرتا بولا تھا ۔۔۔

انیجل میری بات سنو۔۔۔

مستقیم نے جب دیکھا روحا کوئ رسپانس نہیں دے رہی تبھی وہ دوبارہ بولا تھا ۔۔۔

آپ کون۔۔۔

روحا نے اپنے چکراتے سر کو پکڑتے بولا تھا ۔۔۔

اس کی بات سنتے سب نے ناشتہ چھوڑ دیا تھا ۔۔۔

مذاق اچھا ہے انیجل ۔۔۔

مرحا جلدی سے مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

آپ کون ہے اور یہ سب کون ہے ۔۔۔

روحا ویسے ہی بولی تھی ۔۔۔۔

صامے ادھر آو یار ۔۔۔۔

آہان نے پریشان ہوتے صام کو آواز دی تھی جو فارم ہاوس کے باہر جم کر رہا تھا ۔۔۔

جی لالہ خریت ۔۔۔

صام جلدی سے شرٹ لیس بھیگے سینے سے اندر آتا فکر مند سے بولا تھا ۔۔۔

یہ انیجل کو کیا ہوا ۔۔۔

آہان نے روحا کی طرف اشارہ کرتے بولا تھا ۔۔۔

جو آنکھیں پھاڑے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

کیا ہوا میری جان کو ۔۔۔

صام مسکراتا ہوا روحا کے چہرے کو نرمی سے چھوتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

د۔دور رہے کون ہے آپ ۔۔۔

روحا اپنی چیئر سے کھڑی ہوتی چلائ تھی ۔۔۔

وہی صام کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی کسی نیے خطرے کے لیے ۔۔۔

کیا کھایا تھا ابھی ۔۔۔

صام نے کومل کی طرف دیکھتے سردپن سے پوچھا تھا ۔۔۔

و۔وہ کافی پی تھی ویسے بتایا نہیں کون ہے آپ لوگ۔۔۔

روحا ابھی بھی سب کو اجنبی نظروں سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

میں صام ہو صرف تمہارا یہ تمہارے لالہ یہ مستقیم لالہ یہ منان زرجان ہانیہ مرحا ہیر احمد یافی ہم سب تمہارے ہے ۔۔۔

صام نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑے بولا تھا۔۔۔

اچھا آپ صام ہے ہم جانتے ہے بتا کیوں رہے ۔۔۔

آپ سب کیوں کھڑے ہو گے چلے ناشتہ کرتے ہے ۔۔۔

روحا کا سر چکرانا بند ہو چکا تھا تبھی وہ نارمل ہوتی سب کے پریشان چہرے دیکھتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔۔

تمہیں ناشتے کی نہیں نیند کی ضرورت ہے روحا بے بی ۔۔۔

اس سے پہلے روحا بیٹھتی جب کومل اسے گھورتی ہوئ بولی تھی ۔۔

اچھا ہمیں نیند آئ ہے ۔۔۔

روحا اس کی سنتی وہاں سے اٹھ کر چلی گی تھی ۔۔۔۔

کیا کیا ہے روحا کو ۔۔۔

صام روحا کی حالت دیکھتا شدید طش میں آتا کومل کی گردن پکڑے بولا تھا ۔۔۔

ہماری دوستی ہو گی بس۔۔۔

کومل سکون سے بولی تھی ۔۔۔

چھوڑو گا نہیں میں تمہیں سمجھی ۔۔۔۔

صام بے بس ہوتا اس کی گردن چھوڑے اپنے روم کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔

————————————————————

تم یہی ہو ابھی بھی ۔۔۔

شعیب نیند سے جاگا تھا جب اسے اپنے سامنے حجاب میں دیکھتے غصہ سے بولا تھا ۔۔۔

ہاں تم یہی ہو اس لیے ۔۔

وہ مسکراتی ہوئ اس کے قریب آتی بولی تھی ۔۔۔

ہمم جاٶ اب۔۔۔

شعیب اس کا بھیگا چہرہ دیکھتا بولا تھا ۔۔

وہ جانتا تھا جب تک اسے ماتھے پر کس نہیں کرے گی تب تک وہ نہیں جاۓ گی ۔۔۔

تبھی وہ بیڈ سے اٹھتا اپنا سر اس کے سامنے جھکاۓ بولا تھا ۔۔۔

تاکہ وہ اسے چوم سکے ۔۔۔۔

کیوں پیارے ہو تم ۔۔۔

وہ اپنے پاٶں سے اوپر اٹھتی شعیب کے ماتھے پر لب رکھتے بولی تھی ۔۔۔

دھیان سے جانتی ہو کسی حالت میں ہو ابھی گر جاتی ۔۔۔

شعیب نے جلدی سے پکڑا تھا اگر نہ پکڑتا وہ گر جاتی ۔۔۔

تم ہو میرے پاس اس لیے مجھے کچھ نہیں ہوتا اچھا ناشتہ تیار ہے ۔۔۔

وہ سکون سے شعیب کے سینے پر لب رکھے بولی تھی ۔۔۔

تم نے ناشتہ کیا ۔۔۔

ناچاہتے ہوۓ بھی شعیب کی زبان سے لفظ آ ہی گے تھے ۔۔۔۔

بھوک نہیں مجھے اب میں چلتی ہوئ ورنہ انیجل کو پتہ چل جاۓ گا ۔۔۔

وہ جلدی سے روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔

وہی شعیب کے لبوں پر مدھم مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔

———————————————————–

تم کہاں سے آ رہی ہو ۔۔۔

زرجان راضیہ کو فارم ہاوس انٹر ہوتا دیکھ بولا تھا ۔۔۔

وہ سر باہر برف گر رہی وہی دیکھنے گی تھی آپ بھی دیکھے گے کیا ۔۔۔

راضیہ مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اچھا جاٶ اب۔۔۔

زرجان اس کی مسکراہٹ دیکھتا اسے جانے کا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

کیا دیکھ رہی میری بیوی ۔۔۔

منان روم میں آتا ہانیہ کو شیشے کے سامنے کھڑے دیکھ پیار سے بولا تھا ۔۔۔

مانی اگر میں موٹی ہو گی پھر تمہیں پسند آٶ گی ۔۔۔

ہانیہ منان کی طرف دیکھتی پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔

یہ سب کس نے کہا میری جان کو ۔۔۔

منان ہانیہ کو کمر اس کے شولڈر پر تھوڑی رکھے بولا تھا ۔۔۔

ہیر نے کہا کہ میں موٹی ہو جاٶ گی ۔۔۔

ہانیہ معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاہااہااہاہا ایسی کوئ بات نہیں ہیر بھابھی مذاق زیادہ کرتی ہے تم تو تب بہت خوبصورت لگو گی ۔۔۔

اور میں پاگل ہو کیا جو اپنی پیاری سی بیوی کو پسند نہ کرو ۔۔۔

منان ہانیہ کی بات کا مطلب سمجھتا قہقہ لگاتا اسے بیڈ کی طرف لاتا بولا تھا ۔۔۔

پکا۔۔

ہانیہ نے پھر پوچھا ۔۔۔

پکا میری جان تو مجھے ہر صورت میں خوبصورت لگتی ہے ۔۔۔

منان ہانیہ کے لبوں کو نرمی سے قید کیے بولا تھا ۔۔۔

ہانیہ منان کا لمس پاتے شرمائ تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا کر رہی ہو ٹڈی آرام سے کھاٶ ۔۔۔

مستقیم روم میں آیا تھا جب مرحا کو فروٹ جلدی جلدی کھاتے بولا تھا ۔۔۔

کی۔کی ۔کیا ۔ہوا ہیر بھابھی نے کہہ رہے میں پیٹ بھر کر کھاٶ ۔۔

مرحا اپنے بھرے منہ سے مشکل سے بولی تھی ۔۔۔

تو آرام سے کھا لو۔۔۔

مستقیم اس کے قریب بیٹھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ہیر بھابھی نے کہا تھا میں جیتنے فروٹ کھاٶ گی بے بی بڑا ہو گا مطلب بونا نہیں ہو گا ۔۔۔

مرحا اب سیب کھاتی بولی تھی ۔۔۔

اللہٌ یار وہ بھابھی نے یہ کہا تھا کہ کھاٶ اچھے سے تاکہ تمہاری صحت اچھی رہے پھر ہی بےبی ہو گا ۔۔۔

مستقیم مرحا سے سیب لیتا اس پر بائٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔

یہ کیا اپنا کھاٶ یہ میرا ہے ۔۔

اپنا سیب مستقیم کو کھاتے دیکھ مرحا چیخی تھی ۔۔۔

اچھا یہ بھی کھا لو ۔۔۔

مستقیم سیب کی بائٹ لیتا مرحا کو گردن سے پکڑے اپنی طرف جھکاتے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا ۔۔۔۔

گندے سانڈ ۔۔۔

مرحا پیچھے ہوتی منہ بناتی سیب کھاتی مستقیم کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔

وہی مستقیم کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔

————————————————————

ک۔کیا کر رہے صام چھوڑے ہمیں ہم کافی بنا رہے ہے ۔۔۔

روحا کچن میں کھڑی سب کے لیے کافی بنا رہی تھی جب اسے اپنے پیٹ پر صام کے ہاتھوں کی مضبوط گرفت محسوس ہوئ تھی ۔۔

تبھی وہ کچن سے باہر دیکھتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

نہیں چھوڑ رہا اور یہ کافی کیوں بنا رہی ہو ۔۔۔

صام اپنے لب روحا کی بیک نیک پر رکھے بولا تھا ۔۔۔

ص۔صام جاۓ ہمیں پیسنہ آ رہا ہے آپ کو بدبو آۓ گی ۔۔۔

روحا نے جب دیکھا صام کسی طور بھی جانے کو راضی نہیں تبھی اپنے حساب سے بہانہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

جس میں وہ بری طرح فیل ہوئ تھی ۔۔۔

کہاں آ رہی خوشبو میرے قریب آٶ ۔۔۔

صام روحا کا رخ اپنی طرف کرتا اپنی سانسوں کے قریب لاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

پ۔پا۔گ۔ل۔ہو۔گے۔۔۔

روحا نے جب دیکھا صام کی انگلیاں اس کی شرٹ کے اندر جاتی چین پر گھوم رہی تھی تبھی وہ تیز تیز سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں پاگل ہو اور کچھ ویسے اب طعیبت کیسی ہے میری جان کی ۔۔۔

صام اب روحا کے لب سہلاتا ہوا بولا

تھا۔۔۔

ہمیں کیا ہوا تھا بلکل ٹھیک ہے ۔۔

روحا نے ناسمجھی سے بولی تھی ۔۔۔

تمہارا سر درد ہو رہا تھا اس لیے ۔۔۔

صام اپنی انگلی سے روحا کی گردن سے ہوتا اس کی شرٹ کے اندر لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔

سر درد ہمارا نہیں آپ کا ہے چلے چھوڑے آپ کو کس دے ہم ۔۔۔

روحا شطانی مسکراہٹ لاۓ صام کو زرا خود سے دور کرتی بولی تھی ۔۔

ہاں ضرور ۔۔۔

صام خوش ہوتا اپنی آنکھیں بند کرتا بولا تھا ۔۔۔

صام کو اپنے لبوں پر گرم گرم چیز محسوس ہوئ تھی ۔۔۔

اہہہ۔اہہہ۔۔

یہ کیا تھا مس لائف ۔۔۔

روحا صام سے زرا دور ہوتی جلدی سے گرم گرم کافی کا مگ اس کے لبوں سے لگا چکی تھی ۔۔

تبھی وہ آنکھیں کھولے چیخا تھا ۔۔۔

روکو انیجل تم نے ڈیول سے پنگا لیا ہے ۔۔۔

لیکن ڈیول اپنی انیجل کو کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔

صام اس کے پیچھے بھاگتے بولا تھا جب روحا جلدی سے جواب دیتی کچن سے بھاگ گی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیسی بنی کافی شعیب ۔۔

روحا سب کو کافی دیتی سکون سے بیٹھی تھی ۔۔

جب صام کو ہال میں آتا دیکھ وہ شرارتی انداز سے بولی تھی ۔۔۔

بہت مزے کی ہے بلیک بیوٹی ۔۔

شعیب روحا کی طرف دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

سارے صوفے پر بیٹھے کافی انجواۓ کر رہے تھے ۔۔

روحا سمجھی تھی صام کومل کے پاس بیٹھے گا لیکن وہ غلط تھی جب صام کو اپنے ہی صوفے پر اتنا قریب بیٹھتے دیکھ حیران ہوئ تھی ۔۔۔۔

وہ بلکل چیپک کر اس کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔

زرا مزے کی نہیں تھی مجھے پسند نہیں آئ ۔۔

سب نے جب تعریف کی وہی صام برا سا منہ بناۓ روحا کو کمر سے پکڑے بولا تھا ۔۔۔

ت۔تو نہ پیتے ہم نے کون سا گن پوائنٹ پر کہا تھا پینے کو ۔۔۔

روحا نے جب صام کی ٹھنڈی انگلیاں اپنے پیٹ پر محسوس کی تبھی وہ گھبراتے بولی تھی ۔۔

ساتھ اسے گھورا بھی تھا ۔۔۔

صام نے کندھے اچکاۓ اسے آنکھوں سے اشارہ کیا تھا ۔۔۔

وہ ڈرتا نہیں اس سے “““۔۔

تبھی روحا چپ ہو چکی تھی جانتی تھی وہ کتنا ضدی ہے ۔۔۔

گن پوائنٹ پر ہی مجھے دی تھی کافی ۔۔۔

صام شوخ ہوتا اپنا ہاتھ اس کی شرٹ کے اندر لے کر جاتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

وہی روحا کا سکون برباد ہوا تھا ۔۔۔

زہر تھا کافی میں مزہ آیا آپ کو ۔۔۔۔

روحا صام کا ہاتھ واپس باہر نکالتے دانت پیستے ہوۓ اسے گھورتی بولی تھی ۔۔۔

صام کی حرکتوں سے روحا کو گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔۔۔

کتنی دفعہ کہا ہے اپنی زہریلی انگلیاں مت ڈالا کرو کافی میں ۔۔۔

صام اب اس کے پیٹ پر چٹکھی کاٹتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔

کچھ شرم ہوتی ہے صام لیکن آپ افففففف۔۔۔۔

روحا اب بے بس ہوتی اپنے شولڈر سے چادر اپنے پورے جسم پر پھیلاتے دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ صام کا ہاتھ کوئ بھی دیکھ سکتا تھا ۔۔۔

ہاےےے یہی ادا مجھے تمہارا دیوانہ بناتی ہے میری جان ۔۔۔

صام آرام سے روحا کے کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ویسے میرے لب ابھی تک جل رہے ہے اگر کوئ مرہم م۔۔۔۔

صام نے جب دیکھا روحا اسے اگنور کیے اس کی گستاخیاں برداشت کر رہی ہے وہی اپنے لب اس کے گال پر رکھتے ہوۓ بول رہا تھا ۔۔

جب روحا اب کنٹرول سے باہر ہوتی اسے گھورتی غصے سے واک آوٹ کر چکی تھی ۔۔۔

ہاہاہاہاہہاہاہاا۔۔۔

سارے کب سے روحا صام کی حرکتوں کو دیکھ رہے تھے جب اب کنٹرول سے باہر ہوتے سب کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔۔

صام تو بے شرموں کی طرح خود بھی دانت نکال رہا تھا ۔۔

جبکہ سیڑھیوں کی طرف جاتی روحا کا شرم کے مارے چہرہ سرخ انار بن چکا تھا ۔۔۔

———————————————————-

کیا واقعی ہمارے اتنے بے بی ہو گے ۔۔۔

ہاے ہم ہنیڈل کیسے کرے گے اتنے سارے نہیں نہیں ہم ایسا کچھ نہیں کرے گے ۔۔۔۔

روحا حیران پریشان سی ہوتی شیشے کے سامنے کھڑی ہوتی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

کیا سوچ رہی میری جان ۔۔

صام روحا کے روم میں آتا اسے بیک ہگ کیے پیار سے بولا تھا ۔۔۔

ہ۔ہم کچھ نہیں اور کیوں آۓ ہے آپ یہاں جانتے ہے ہم نے ڈرامہ کرنا تھا لڑائ کا ۔۔۔

روحا صام کے ہاتھ پکڑتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ارے یار میں تنگ آ گیا ۔۔۔

یہ ساونڈ سسٹم چلا دیا اب اس سے ایسے لگے گا ہم لڑ رہے جبکہ روم میں ہم تو پیار کر رہے ۔۔۔

صام روحا کو کمر سے پکڑے اپنے قریب لاتا نرمی سے اس کے ہونٹوں کو قید کرتے بولا تھا ۔۔۔

واقعی اب روم میں بس ان کے چلانے کی آوازیں ساونڈ سسٹم سے آ رہی تھی ۔۔۔۔

چ۔چلے اب بس۔۔۔

روحا جلدی سے اس سے دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔

یہ کیا میری جان ابھی تو میری پیاس بھی پوری نہیں ہوئ تم صبح سے مجھے کس نہیں دے رہی کچھ ہوا کیا۔۔۔

صام روحا کو دوبارہ پاس لاتے پیار سے بولا تھا ۔۔۔۔

جی آپ اتنے کس کرے گے ہمارے اتنے ہی بےبی ہو گے ۔۔

ہم کیسے ہنیڈل کرے گے اتنے سارے بچے بس اب ایک ہی کس کرے گے ۔۔۔۔

روحا دوبارہ دور جاتی گھبراتے ہوۓ جلدی جلدی بولی تھی ۔۔۔

روحا کے لوجک پر صام کا منہ حیرت سے کھولا تھا ۔۔۔۔

مطلب۔۔۔

صام نے ناسمجھی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔

آپ کو مطلب سمجھ نہیں آیا کیا ۔۔

روحا نے جواب دینے کی بجاۓ الٹا سوال کر دیا تھا۔۔۔۔

یہ فتور کس نے ڈالا دماغ میں یہ بتاٶ ۔۔۔

صام روحا کو بیڈ پر بیٹھاتے اسے آرام سے پوچھا تھا ۔۔۔

وہ ہیر آپی کیوٹ لیڈی باس مرحا ہانیہ سب نے ہمیں بتایا ایسے بے بی ہوتا ہے ۔۔۔۔

آپ نے تو کتنی کس کی ہمیں ڈر ہے اتنے سارے بے بیز ہو جاۓ گے تو ہم ہنیڈل کیسے کرے گے ۔۔۔

روحا اب معصوم سی شکل بناۓ اپنا دکھ سنایا ۔۔۔

وہی صام کا شدت سے دل کیا اپنا سر دیوار پر پھوڑ لے ۔۔۔

تم کہہ رہی ہو میں تمہیں کس کرو گا ۔۔۔

تو بے بی ہو گے ۔۔۔

صام نے اب روحا کو کمر سے پکڑے اپنے قریب لاتے اس کے لبوں کو سہلاتے پوچھا تھا ۔۔۔

ہممم۔۔۔

روحا نے معصوم سی شکل بناۓ حامی بھری تھی ۔۔۔

بے بی ہو یا نہ ہو میں تو بھرپور کس کرو گا۔۔۔

تم مجھے نہیں روک سکتی میری جان ۔۔۔۔

صام نے اپنی انگلیاں روحا کی انگلیوں میں پھساۓ روحا کو سمجھنے کا موقع دیے بنا اس کے ہونٹوں کو لاک کر چکا تھا ۔۔۔۔

روحا گھبراتی ہوئ صام کے شولڈر پر مکے مارے تھے ۔۔۔

چ۔چھ۔ب

بے ہم۔ک۔کی۔س۔

روحا مسلسل دبا دبا چیخ کر اسے مکے مار رہی تھی ۔۔۔

جنگلی وحشی ہے آپ چھوڑے آپ سمجھتے نہیں ہم سے بے بی اتنے ہینڈل ہو گے۔۔

روحا جلدی سے جان چھڑواتی روم کے دروازے کی طرف بھاگتی گہرے سانس لیتی غصہ سے بول رہی تھی ۔۔۔۔

یہاں آو میں تو نہیں چھوڑو گا تمہیں ہر حال میں تمہاری عقل ٹھکانے لاتا ہو میں ۔۔۔

صام جلدی سے روحا کو کمر سے پکڑے بیڈ پر گراتا خود اس پر اپنا سارا وزن ڈالتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

کیوں کر رہے ایسا ۔۔۔

روحا صام کی قربت میں بے بس ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ تم میرے جنون کی آگے وہ حد ہو مطلب موت ۔۔۔۔

صام روحا کی کیپ اتارے اس کے کھولے بالوں میں اپنا چہرہ چھپاۓ مدہوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

دیکھنا ہم سچی والی موت دے گے آپ کو ۔۔

روحا نے جب محسوس کیا صام اس کی جیکٹ کے بٹن کھول رہا وہی روحا صام کے سر کے بالوں کو پکڑے دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔۔

کبھی کبھی ہمارے لفظ سچ ہو جاتے ہے یہ بہت جلد روحا کو پتہ لگنے والا تھا ۔۔۔۔

میری موت تو تبھی ہو گی جب میری سانسوں سے تم دور ہو گی میری جان ۔۔۔

صام روحا کی آنکھوں میں دیکھتا شدت بھرے انداز سے اس کے لبوں پر جھکا تھا ۔۔۔۔

روحا کو احساس ہو چکا تھا وہ اپنی بات سے کیسے صام کو دکھ دے چکی تھی ۔۔۔

کیونکہ اسے صام کے عمل میں شدت کے ساتھ غصہ جنون بھی ظاہر ہوتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔

————————————————————

بلیک بیوٹی ۔۔۔

روحا اور صام دونوں ہی ایک دوسرے میں مگن تھے جب انہیں روم کے باہر شعیب کی آواز سنائ دی تھی ۔۔۔

روحا جلدی سے پیچھے ہوتی ساونڈ سسٹم کی طرف دیکھا تھا جو بند پڑا تھا ۔۔۔

ص۔صام باہ۔باہر شعیب ہے چھو۔چھوڑے ہمیں۔۔۔

روحا صام کو خود سے دور کرتی گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔

کیونکہ صام اس کے لبوں کو چھوڑے اب اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے میں مصروف تھا ۔۔۔

ص۔صام کوئ ہوش ہے آپ کو۔۔۔۔

روحا صام کی گرفت سے سے بڑی مشکل سے پیچھے ہوئی گہرے سانس لیتی بولی تھی۔۔

ہونٹ لال سرخ ہوئے تھے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے بھیگے۔۔۔۔

روحا گہرے سانس لیتی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی تھی کے صام نے اس کی کوشش کو ناکام بناتے اس کی گردن میں منہ چھپایا تھا اور بیوٹی بون پر لب رکھے تھے۔۔۔

وہ کسی صورت اسے چھوڑ نہیں رہا تھا۔۔۔۔

ص۔صام ۔پلی۔لیز چ۔ھوڑے شعیب ہے باہر۔۔۔

اس نے پریشانی سے کہا تھا لبوں پر زبان پھیرتے مگر وہ سننے کو تیار ہی کب تھا۔۔۔

ایک لمحے کے لیے بھی گرفت ڈھیلی نہیں کی تھی۔۔۔

خبردار جو تم ایک انچ بھی ہلی یہاں سے صام نے کڑے تیوروں سے کہا تھا۔۔۔

ش۔شعیب تم جاٶ ہم آتے ہے ہم کپڑے چینج کر رہے ۔۔۔

روحا نے بگڑے تنفس کو بحال کرتے اس کی گرفت سے آزاد ہوتے کہا تھا۔۔۔

اہہہہ میری جان کو جھوٹ بھی بولنا آ گیا ۔۔۔

صام نے اس کے کان کی لو کو دانتوں تلے دباتے کہا تھا۔۔۔۔

کورنا کی جعلی ویکسین باہر ہی کھڑا ہے ابھی بھی ۔۔۔۔

صام روحا کی تھوڑی کو چومتے بولا تھا ۔۔۔

ش۔شعیب جا۔جاٶ۔ت۔م۔۔۔۔

روحا نے اس کا گردن سے نیچے رینگتا ہاتھ غصے سے حیا سے لال ہوتے پیچھے کرتے کہا تھا۔۔۔۔

جاو اس کورنا کی جعلی ویکیسن کو کہو وہ بہت جلد ماموں بنے والا ہے ۔۔۔

روحا کے ہونٹوں کو نرمی سے چھوتے صام نے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔

م۔ما۔موں ۔لیک۔لیکن۔کیو۔ں۔کو۔۔۔۔

روحا حیران پریشان ہوتی پتہ نہیں کیا بول رہی تھی۔۔

جب صام نے اس کی گال کو دانتوں تلے دبایا تھا۔۔۔

وہ ستم پر ستم کر رہا تھا۔۔

اور روحا ہلکان ہو رہی تھی اس کی بے باک جسارتوں پر۔۔۔۔

صام پلیز جائیں یہاں سے۔۔۔

اس کی بڑھتی بے باک جسارتوں پر روحا اب سسکنے لگی تھی۔۔۔۔

کیوں۔۔۔

صام نے اس کی پانیوں بھری آنکھوں میں دیکھتے کہا تھا۔۔۔۔

آپ سوچ سکتے ہیں اگر آپ کو یہاں کسی نے دیکھ لیا تو کیا ہو گا۔۔

کب سے اپنی مرضیاں چلا رہے ہیں ہم سے ایک بار بھی پوچھا ہم کیا چاہتے ہے ۔۔

روحا نے رندھی ہوئی آواز میں کہا تھا۔۔۔۔

تو اب تمہارے قریب آنے کے لیے مجھے تم سے پوچھنا پڑے گا۔۔۔

صام آئی برو اچکاتے سخت لہجے

لہجے میں بولا تھا۔۔۔

ہاں پوچھنا پڑے گا ہماری بھی کوئ مرضی ہوتی ہے صام ۔۔

روحا بیڈ سے اٹھ کر بیٹھتی نظریں چڑاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کیا ب۔۔۔

جاۓ یہاں سے اپنی ہوس پوری کر لی آپ نے۔۔۔

اس سے پہلے صام بولتا جب روحا نے غراتے ہوئے کہا تھا اور بیڈ سے نیچے اتری تھی۔۔۔

کیا کہا تم نے یہ جو میں تمہیں روز اپنے جنون کا بتاتا ہو اپنی سانسوں کے قریب کرتا ہو تمہیں ۔۔۔

تمہیں اپنے لمس کی حرارات دی وہ سب تمہیں ہوس لگا۔۔۔۔

صام نے اس کی بازو کو کھینچ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کرتے کہا تھا۔۔۔۔

جی یہ ہوس تھا۔۔۔

اور یہ گندے عمل آپ ہمارے ساتھ نہیں کر سکتے۔۔۔

روحا کو شدید چکر آیا تھا تبھی وہ غصہ سے چلائ تھی ۔۔

اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔

چپ ایک دم چپ اب آواز نا آئے تمہاری۔۔

تمہیں پتہ بھی ہے کیا کہہ رہی ہو تم ہوش میں تو ہو۔۔۔۔

صام پھنکارا تھا۔۔۔

ہمیں طلاق چاہے ۔۔۔

روحا اپنے سر کو پکڑتی چلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔

کیا کھایا تھا ابھی تم نے ۔۔۔

صام نے شدید غصے سے روحا کے بالوں کو پکڑے اپنے چہرے کے قریب اس کا چہرہ لاتے غراتے کہا تھا ۔۔۔

گول گپ۔۔۔۔

روحا کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے صام اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

روحا روتے سسکتے دبا دبا چلا رہی تھی ۔۔۔

لیکن وہ ستم گر بنا اس کے اندر اپنا جنون غصہ شدت سب کچھ اس نازک جان میں انڈیلنے لگا تھا ۔۔۔۔

روحا بے بس ہوتی روتی ہوئ اسے خود سے دور کر رہی تھی ۔۔۔

لیکن صام بنا اس کے سسکتے وجود کی پرواہ کیے ہر سکینڈ کے بعد اس کی سانسوں کو قید کرتا رہا تھا ۔۔۔۔

صام اس کی روح فنا کر رہا تھا ۔۔۔

جب اچانک روحا نے اس کی جھکڑی شرٹ کو اپنے ہاتھوں سے چھوڑی وہی صام ہوش میں آتا روحا کا کانپتا جسم محسوس کرتے لمحے میں بیڈ پر گرایا تھا ۔۔۔۔

روحا نیم بے ہوش بیڈ پر گری گہرے گہرے سانس لے رہی تھی جبکہ ہونٹوں سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔

کیوں طلاق کا نام لیا جانتی ہو میں پاگل ہو جاتا ہو پھر بھی ایسا کام کرتی ہو ۔۔۔

صام اپنا سارا غصہ اس پر اتارے اب سکون سے اس کے قریب بیٹھتا ہوا نرمی سے اس کے گال کو سہلاتے بولا تھا ۔۔۔۔

وحشی جنگلی۔حیوان۔۔۔

روحا آنکھوں میں آنسو لاتی اسی کی گود میں منہ چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کر روی تھی ۔۔۔۔

اچھا میری جان س۔سور۔سوری۔۔۔

روحا کو ایسے روتے دیکھ صام پریشان ہوتا اس کے لبوں سے خون صاف کیے بولا تھا ۔۔۔۔

آپ کو۔کون ہے ۔۔۔۔

روحا جلدی سے پیچھے ہوتی اجنبی نظروں سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

تمہارا ڈیول اپنا خیال رکھنا ۔۔۔

صام ایک دفعہ پھر اس کے لبوں پر جکھے شدت بھرا لمس چھوڑے روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔

وہ سمجھا تھا روحا مذاق کر رہی جبکہ وہ واقعی ابھی بھی بیٹھی سوچ رہی تھی یہ ڈیول کون تھا ۔۔۔

————————————————————

ہم سب جا رہے ہے اپنے کام کے لیے باہر طوفانی بارش ہونے والی ہے ساتھ برف باری بھی تم سب اپنا خیال رکھنا اور انیجل کا بھی آج ناراض ہے مجھ سے کافی ۔۔۔

آہان مستقیم زرجان منان صام تیار ہوۓ کہی جانے کو تیار تھے جب صام نے سب کو بتایا تھا ۔۔۔

وہ دو دفعہ روحا سے ملنے گیا تھا لیکن اس نے روم کا دروازہ نہیں کھولا تھا ۔۔۔

تم لوگ جاٶ ہم خیال رکھ لے گی بس رات کو آ جانا سب ۔۔

یافی سب کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہم آ جاۓ گے تم سب خیال رکھنا ۔۔۔

سب نے اپنی بیویوں کے ماتھے چومتے کہتے فارم ہاوس سے باہر چلے گے تھے ۔۔۔۔

کیا ہوا دیور جی لگتا بلیک بیوٹی زیادہ ناراض ہے ۔۔۔

ہیر نے جب دیکھا صام وہی بے چین سا کھڑا روحا کے روم کی طرف ایک دو دفعہ دیکھ چکا تھا تبھی وہ اس کے پاس آتی اسے پرسکون کرتی بولی تھی ۔۔۔

بھابھی آپ خیال رکھنا وہ واقعی ناراض ہو گی جو میں کیا اس کا ناراض ہونا بنتا ہے بس باہر مت جانے دینا برف دیکھ کر پاگل ہو جاتی ہے ۔۔۔

باہر موسم بھی خطرناک ہوا ہے ۔۔۔

صام اپنے بوجھل دل سے کہتا جلدی سے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔

———————————————————-

ان۔انیجل موم۔۔۔

انیجل موم ۔۔۔

احمد روحا کو چوری چھپے فارم ہاوس سے باہر جاتا چلایا تھا ۔۔۔

جب ہانیہ بولی تھی ۔۔

میں ابھی انیجل کو دیکھ کر آئ ہو وہ سو رہی ہے ۔۔۔

ہانیہ کی بات سنتے ساری دوبارہ مووی دیکھنے میں بزی ہو گی تھی ۔۔۔

کسی نے بھی احمد کی بات پر دھیان نہیں دیا تھا ۔۔۔

کہ روحا سو نہیں رہی تھی بلکہ وہ فارم ہاوس سے باہر نکل گی تھی ۔۔۔

———————————————————–

ہاے کتنی خوبصورت جگہ ہے ہاے برف ۔۔۔

روحا فارم ہاوس سے زرا دور آتی آس پاس برف ہی برف دیکھتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

ہم آگے جاۓ ہاےےے تتلی ۔۔۔

روحا سامنے جنگل کی طرف اُڑتی رنگ برنگ تتلیاں دیکھتی بھاگی تھی ۔۔۔

ایسے تو

ہم راستہ بھول جاۓ گے ہاں یہ اتار دیتے ہے ۔۔

روحا اپنے پیچھے فارم ہاوس کی طرف دیکھتی سوچتی ہوئ اپنی کیپ اتاری تھی ۔۔۔

جیسے جیسے وہ آگے جا رہی تھی ویسے ویسے وہ اپنے جسم سے کپڑے اتارتے آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔

اب صرف وہ اپنی شرٹ اور کپیری میں تھی کورٹ کیپ دستانے لونگ شوز سب وہ اتار چکی تھی جو راستے پر گرے ہوۓ تھے ۔۔۔

ہاے سردی۔۔۔

باریک سی شرٹ میں روحا کے جسم پر سرد ہوائیں ٹکرائ تھی تبھی وہ بولی تھی ۔۔۔

بس یہ پکڑ لے پھر جاتے ہے ۔۔۔

برف پر بنا شوز کے بھاگتے روحا نے ایک تتلی پکڑی تھی ۔۔۔

ابھی وہ خوش ہو ہی رہی تھی جب روحا کا پاوں پھسلا اور وہ سیدھی ایک طرف کھودی زمین میں گری تھی ۔۔۔

ہاے ہم گر گے کوئ بچاۓ ہمی۔۔۔

روحا نیچے گری پوری برف میں دھسنی ہوئ تھی اس سے پہلے وہ بولتی جب برف کا بڑا سا گولا اس کھودی زمین پر گرا تھا ۔۔۔

ص۔صاممممم ڈیول ۔۔۔ہمیں بچاۓ ہم یہاں ہے ۔۔۔

برف کی زمین کے اندر روحا کی دبی دبی چیخے گونج رہی تھی ۔۔۔۔

سب بے خبر تھے کہ روم میں روحا نہیں سو رہی بلکہ فارم ہاوس کے باہر جنگل میں روحا برف کے نیچے دفن ہو چکی تھی ۔۔۔

جس کی چیخے کسی کو سنائ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔