Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 5)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
””نکاح اسپیشل ![]()
وہائٹ شلوار کرتے پر بلیک ویسٹ کوٹ پہنے براٶن بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے گرے آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح چمک لے کشادہ سفید پیشانی پر سجی مسکراہٹ وہ اپنے دراز قد کے ساتھ بھاری قدم اٹھاتے ہال کے اندر آ رہا تھا ۔۔۔۔۔
سوچ سمجھ کر بولنا مسٹر نعمان ورنہ زرجان طفر شاہ منٹوں میں تمہاری یہ زبان کاٹ کر کتوں کو ڈال سکتا ہے ۔۔۔۔۔
جس کے لیے بکواس کر رہے ہو بیوی ہے میری عزت ہے اور ایک غیرت مند شوہر کو پتہ ہے اپنی بیوی کی عزت کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے ۔۔۔۔
زرجان نعمان کے پاس آتا غصہ سے غرایا تھا ۔۔۔۔
یہ کیا تماشہ ہے کوئ سمجھاۓ گا صام تم بھی چپ ہو ۔۔۔۔
آفندی صاحب ناسمجھتے ہوۓ دھاڑے تھے ۔۔۔۔۔
بابا یہ سب آپ کو زرجان بتاۓ گا ۔۔۔۔
صام اپنے ہاتھ کھڑے کرتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
زرجان بیٹا آپ ہی بتا دو اس نکمے نے کچھ نہیں بتانا ۔۔۔
جی ضرور ایک انکل پر پہلے اس نعمان کو بتا دو میری بیوی اکیلی نہیں ہے ۔۔۔۔
لے جاۓ اسے جیل میں رکھے تب تک جب تک اس کو عقل نہیں آ جاتی۔۔۔۔
زرجان اپنے ساتھ لاۓ پولیس آفسر کے حوالے نعمان کو کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
میں نے کچھ۔۔۔۔۔
میری بیوی کو تنگ کر رہے تھے اتنے دنوں سے بار بار ایک ہی بات کر کے تنگ کرتے تھے ۔۔۔۔
نعمان جو گھبراتے بول رہا تھا جب زرجان دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
چار ماہ پہلے ۔۔۔۔
شکریہ جان اندر آو چاۓ پی لینا ۔۔۔
یافی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
ارے نہیں تمہارا شوہر گھر ہو گا ویسے بھی رات بھی کافی ہو رہی ۔۔۔۔
جان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
نعمان گھر نہیں وہ آوٹ آف سٹی گے ہے ۔۔۔۔۔
ایک کپ چاۓ سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔
یافی اس کی گرے آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
ویسے تمہیں چاۓ کچھ زیادہ پسند نہیں کافی دفعہ دیکھ چکا میں ۔۔۔
جان اس کے ساتھ ہال انٹر ہوتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔۔
ہاہاہاہہا میری جان ہے چاۓ مجھے بہت پسند تمہیں نہیں پسند کیا ۔۔۔۔
یافی قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔
اتنی نہیں بس سر درد کرے تب پیتا میں ۔۔۔۔
جان سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔۔
ویسے شکریہ جان تم نے مجھے گھر تک چھوڑ دیا مجھے نہیں پتہ تھا سنسنان راستے پر گاڑی رک جاۓ گی ورنہ میں ہاسپیٹل سے سیدھا بابا کے گھر چلی جاتی ۔۔۔۔
یافی اپنا لیپ ٹاپ صوفے پر رکھتی ہوئ بولی ۔۔۔۔
کوئ بات نہیں اب گھر تو آ گی آپ ویسے یہ ٹی وی کچھ زیادہ پسند نہیں ۔۔۔۔
جان بلیک کلر کے لیپ ٹاپ کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
ویسے جان تم لک اور انداز سے غریب نہیں لگتے ایسے لگتے ہو جیسے کوئ امیر زادے ہو شاہ ٹائپ کے ۔۔۔۔۔
یافی اس کی گرے آنکھوں میں دیکھتی بولی ۔۔۔۔
ہاہہاہاہاہہاہا ایسی بات نہیں وہ میری امی نے ۔۔۔۔۔
تالیاں واہ ہ ہ میری غیرموجودگی میں تم یہ کام کر رہی ہو ۔۔۔۔۔
میں کیسے بھول گیا جو لڑکی اپنے ماں باپ بھاہیٶں کی لاڈلی ان کی سالوں کی محبت چھوڑ کر میری محبت پر یقین کر سکتی ہے وہ لڑکی مجھے بھی دھوکا دے سکتی ہے ۔۔۔۔۔
جان جو بول رہا تھا تبھی نعمان انٹر تالیاں مارتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ تم غلط م۔۔۔۔۔
اوے مسٹر میں تم سے نہیں اپنی اس بیوی سے پوچھ رہا جو بت بن گی ہے ۔۔۔۔
جان جو غصہ سے غرایا رہا تھا نعمان اس کی بات کاٹتا یافی کو دیکھتا بولا جو ہکا بکا کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
ک۔کیا بکواس کی تم نے میں کیا جاہل عورت ہو جو تم بلاوجہ بولوں گے میں چپ چاپ سن لو گی ہرگز نہیں مسٹر نعمان فیا آفندی نام ہے میرا ۔۔۔۔
یافی اپنے براٶن آنکھوں میں غصہ لاتی بولی تھی ۔۔۔۔۔
منہ بند رکھو اپنا ابھی کہ ابھی طلاق دے دو گا ۔۔۔۔
نعمان گھبراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں تو دو مجھے میری غلطی تھی جو تم جیسے انسان سے محبت کر لی ارے تم سے اچھا رشتہ صام کے دوست کا آیا تھا ۔۔۔
پر افسوس تمہاری محبت میں پاگل ہو گی تھی تم سے شادی کر لی کتنا بڑا گناہ تھا تم نے تو پیسوں کے لیے شادی کی تھی ۔۔۔۔
یہ دو سال میرے لے اذیت بھرے تھے چپ رہی کیونکہ لو میرج جو کی تھی اپنے ماں باپ کو درد دیا تھا ۔۔۔۔
اتنی سزا تو بنتی تھی میری پر اب نہیں تم نے میرے کردار کو ہی غلط سمجھ لیا ۔۔۔۔۔
کردار تو تمہارا ٹھیک ن۔۔۔۔
یافییییییییی۔۔۔۔۔۔
نعمان نے ہاتھ آٹھاتے چلایا تھا ۔۔۔۔۔
اب غلطی بھی مت کرنا کہ میں چپ رہو گی ۔۔۔۔
محبت کرنے کی سزا میں پا چکی ہو سمجھے اب تھک گی میں ۔۔۔۔
ان دو سالوں میں کتنا پیسہ کھایا تم نے مجھے سے الگ لیتے میرے بھاہیٶں سے الگ پیسے لیتے ۔۔۔
میرے ماں باپ سب خوش تھے ان کی بیٹی خوش ہے پر افسوس میں تو ایک دن بھی خوش نہیں رہ سکی ۔۔۔۔۔
یافی ان دو سالوں میں پہلی دفعہ پھٹ پڑی تھی ۔۔۔۔
کوئ گھیٹایا انسان تھے تم نے انیجل پر بھی گندی نظر رکھی ۔۔۔۔۔
جانتے تھے نہ وہ کون ہے کیا تمہیں خوف نہیں آیا ۔۔۔۔
یافی غصہ سے اس کا کالر پکڑتی ہوئ بولی ۔۔۔۔
م۔میں۔و۔۔۔۔
کیا ہوا زبان بند ہو گی اگر صام کو پتہ چل جاۓ تو سوچو وہ کیا کرے گا ۔۔۔۔۔
یافی اس کی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں تو جیسا بھائ ٹھرکی ویسی ہی بہن اور یہ رات کے اس وقت یہاں ک۔۔۔۔۔۔۔
چٹاخ ۔۔۔۔
پہلے ہی کہا تھا میں چپ رہنے والی لڑکی نہیں ہو جو تم بولتے جاٶ گے تو میں سن لو گی ۔۔۔۔
نعمان جو بول رہا تھا جب یافی نے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔۔۔
تم نے مجھے تپھڑ مارا چھوڑو گا نہیں ذلیل کر دو گا ۔۔۔۔۔
میں تمہیں طلاق دیتا ہو ۔۔۔
طلاق دیتا ہو ۔۔
طلاق دیتا ہو ۔۔۔۔
نعمان یافی کو کندھوں سے پکڑتا غصہ سے چلاتا جان کی طرف دھکا دیا تھا ۔۔۔۔۔
دفع ہو جاٶ یہاں سے اپنے اس یار کے ساتھ ۔۔۔۔
نعمان چپ کھڑی یافی اور جان کو دھکا دیتے بولا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
اتنا کچھ ہو گیا کیسی نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔۔
آفندی صاحب دکھ سے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔۔
بابا مجھے معاف کر دے می۔۔۔۔
ششش بیٹیاں کبھی معافی نہیں مانگتی اچھا کیا اس نعمان نے چھوڑ دیا ۔۔۔۔
اب رونا بند کرو میری بہادر بیٹی نہیں ہو تم اتنی پیاری ہو فیا ۔۔۔۔
آفندی صاحب یافی کے ماتھے کو چومتے آنسو صاف کرتے بولے تھے ۔۔۔۔
چار ماہ یافی ہاسپٹل کے ہاسٹل میں رہتی رہی کسی کو نہیں بتایا تھا سواۓ ہمارے ۔۔۔۔
پھر کچھ دن پہلے پتہ چلا کہ یافی نے نکاح کر لیا ہے جان بھائ سے یہ بھی ہمیں پتہ تھا بابا ۔۔۔۔
روحا آفندی صاحب کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔
صام مستقیم زرجان خاموش کھڑے تھے ۔۔۔۔
مطلب زرجان سے نکاح کیا پر کب ۔۔۔۔
وردہ بیگم شوک ہوتی بولی ۔۔۔۔
ماما یہ جان ہے ایک غریب سا لڑکا صام نے میرا نکاح اس سے کروایا کیونکہ نعمان مجھے تنگ کرنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔
وہ کہتا تھا اس نے مجھے طلاق دی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔
یافی جان کی طرف دیکھتی بولی تھی جو مسکراتا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ک۔کیا صام نے نکاح کروایا ۔۔۔۔
روحا شوک میں آتی صام کی طرف دیکھتی بولی جو اسے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ہاں صام بھی پہلے دن سے سب کچھ جانتا تھا ۔۔۔
ا۔۔۔۔۔
جو ہونا تھا ہو گیا بابا اب میں اپنی عزت کو لینے آیا ہو اگر میں چپ تھا تو صام کی وجہ سے پر اب نہیں ۔۔۔۔
زرجان یافی کی بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
لیکن ایسے بیٹا ہم نے کوئ تیار۔۔۔۔۔
ارے ماما چھوڑے آپ کی بیٹی ہی مل گی مجھے یہی بہت ہے اور کسی چیز کی کمی نہیں ہے بس آپ کے گھر کی رونق چاہے مجھے ۔۔۔۔
زرجان وردہ بیگم کی بات کاٹتا ہوا بولا ۔۔۔۔
ارے انیجل جاٶ میری بیوی کو تیار کرو یار ہم ابھی رخصتی کرے گے ۔۔۔۔
زرجان روحا کی طرف دیکھتا بولا جو منہ کھولے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ارے سالے صاحب منہ بند کرو ۔۔۔۔
زرجان مسکراتا مستیقم کے پاس آتا بولا ۔۔۔
یہ کتنا میسنا ہے یار لاپروہ دیکھنے والا اکڑ والا مسٹر صام آفندی جو کسی کا خیال نہیں کرتا اندر سے سب جانتا ہے ۔۔۔۔
ہاےےےے مجھے بھی بتا دیتا میں چھوراے کھا لیتا ۔۔۔۔۔
مستیقم صام کو گردن سے دبوچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
چل چھوڑ مجھے بہن ہے میری اور اتنا تو بنتا تھا ویسے بھی تو جانتا ہے یہ ڈبل زی کتنی محبت کرتا تھا یافی سے ۔۔۔۔
صام زرجان کو گلے لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں یہ تو ہے اچھا میری بات سن یہ مارتی بہت ہے تو بچ جانا اس کے ہاتھوں سے ا۔۔۔۔۔
مستیقم زرجان کے شولڈر پر ہاتھ رکھے یافی کی باتیں بتانے لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔
————————————————————
یافی آپی آپ نے ہمیں کیوں نہیں بتایا کہ اس ٹھرکی نے یہ نکاح کروایا تھا ۔۔۔۔
روحا روٹھے پن سے بولی ۔۔۔
ارے میری سویٹ سی انیجل اب صام اتنا بھی برا نہیں ویسے شوک میں ہو یہ تو جان ہے تو زرجان شاہ کیسے ہو گیا ۔۔۔۔
یافی اپنی پریشانی لیے بولی تھی ۔۔۔۔
چھوڑے ویسے بھی جان بھائ ہے بہت پیارے ہمیں بہت اچھے لگے ۔۔۔۔
روحا یافی کے گلے لگتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کتنی خوش ہو تم انیجل ایسے ہی خوش رہا کرو اور یہ صام کو سچ ب۔۔۔۔۔۔
یافی آپی ہمارا موڈ بہت مشکل سے ٹھیک ہوا ہے آپ چاہتی ہے ہم موڈ خراب کرے ۔۔۔
روحا یافی کے ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا اب میں نہیں بولتی ۔۔۔
یافی ہار مانتی بولی ۔۔۔۔
اہہہ میری کیوٹ لیڈی باس کتنے پیارے ڈمپل ہے ۔۔۔۔
روحا یافی کے ڈمپل کو چومتی ہوئ بولی ۔۔۔
بلیک براٶن بال جو شولڈر سے نیچے تک آتے تھے بڑی بڑی براٶن آنکھیں جو ہر وقت چمکتی رہتی تھی ۔۔۔۔
سفید لال چہرہ گالوں پر پڑتے ڈمپل عنابی ہونٹ جو مسکراتے رہتے تھے ۔۔۔۔
سکن کلر کی شارٹ شرٹ کپری پہنے بنا کوئ میک اپ کیے
یافی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہ انیجل تمہیں ڈمپل پسند ہے کیا ۔۔۔
یافی قہقہ لگاتی ہوئ بولی ۔۔۔
ہمممممم۔۔۔۔
روحا بس اتنا بول سکی ۔۔۔
افففف جب ہممم کہتی ہو صاف مطلب تمہاری باتیں ختم ہو گی ہے ۔۔۔۔
یافی روحا کو گلے ملتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
دیکھو زرجان تم ہمارے دوست ہو کبھی میری بہن کو یہ طعنہ مت دینا کہ اس نے لو میرج کی تھی تو اس کی سز۔۔۔۔۔
بس کر دے ٹھرکی مجھے کیا جانتا نہیں ہے تو یافی کا رشتہ مانگا تھا جب اس نے انکار کر دیا تھا تو بھی جانتا ہے میں کتنا دکھی ہوا تھا محبت تھی میری تبھی سب کو چھوڑ کر باہر ترکی چلا گیا ۔۔۔۔
جیسے ہی پاکستان آیا یافی کی شادی کا سن کر دکھ ہوا کافی پر جب تم نے مجھے کہا نکاح کرنے کو مجھے ایسے لگا زندگی مل گی ہو ۔۔۔۔
اور کوئ اپنی زندگی کو تکلیف نہیں دیتا ۔۔۔۔
زرجان صام کی بات کاٹتا تحمل سے بولا ۔۔۔۔
وہ تو ہم سب جانتے ہے پر بچ کر رہنا ایس پی مستیقم آفندی نام ہے میرا ۔۔۔۔
مستیقم اتراتے ہوۓ بولا ۔۔۔
ہاں مشعوق جانتے ہے تجھے بھی ہم جو ایک ڈیول کو تو پکڑ نہ سکا تو ۔۔۔۔
زرجان اس کا مذاق بناتے ہوۓ بولا ۔۔۔
اےے دلبر جانی میری ابھی شادی ہونی ہے میں کیوں پکڑو گا ڈیول کو ابھی موڈ نہیں مرنے کا ۔۔۔
ہاں اسے وہ ککڑ مطلب ایم کے پکڑ لیے گا ۔۔۔۔
مستیقم جلدی سے سکون سے بولا ۔۔۔۔
ہاہہااہا ڈر گیا ۔۔۔
زرجان قہقہ لگاتے ہوۓ بولا ۔۔۔
ارے ڈرنا تو تم نے ہے اس سوتیلی ناگن سے بہت برا مارتی ہے ہاے میری کمر ۔۔۔۔
مستیقم سامنے سے چلتی ہوئ آتی یافی کو دیکھتا دہائ دیتا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
یافی اپنے ماں باپ بھاہیوں کی دعا لیتی رخصت ہوتی زی مینشن آگی تھی ۔۔۔
افففف یہ مجھے گھبراہٹ کیوں ہو رہی ہے ۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھی یافی اپنی انگلیوں کو موڑوتی ہوئ دل میں سوچا ۔۔۔۔
میرا گھر آ گیا ۔۔۔
گاڑی روکتے ہی زرجان نے یافی کے قریب آتے سرگوشی کرتے کہا ۔۔۔۔
یافی کو کرنٹ لگا تھا ۔۔۔۔
اس کے قریب آنے سے ۔۔۔۔
ی۔یہ کیا کر رہے ہو جان م۔۔۔۔
شششش میری محبت ہو تم یافی اور میں اپنے محبت کو ایسے ہی روم میں لے کر جاٶ گا ۔۔۔۔
زرجان چپ بیٹھی یافی کو اپنی گود میں آٹھاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
یافی یہ گھر اور میں صرف تمہارا ۔۔۔
میں جانتا ہو کافی سوال ہو گے تمہارے پوچھ لینا پر ابھی نہیں رات ہے اور تم تھک چکی ہو ۔۔۔۔
ایک بات کہو گا ہم چاہے میاں بیوی کا رشتہ ابھی نہ رکھ سکے پر ہم اچھے دوست بن سکتے ہے ۔۔۔۔
زرجان روم میں آتے بیڈ پر یافی کو بیھٹاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
م۔میرا لیپ ٹاپ ۔۔۔۔
یافی ہمت جمع کرتی بولی تھی ۔۔۔
کییییییااااا لیپ ٹاپ چاے افففف مشعوق ٹھیک کہتا تھا جو بھی ہو جاۓ تم یہ لیپ ٹاپ نہیں چھوڑتی ۔۔۔۔
زرجان حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
لو اب ہم دوست ہے تو ۔۔۔۔
یافی اتراتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔
اوکے میری جان میں لیپ ٹاپ لے کر آیا تو چیج کر لو۔۔۔
زرجان خوش ہوتا اس کا ماتھا چومتے ہوۓ باہر چلا گیا تھا۔۔۔
یافی مسکراتے ہوۓ شرما گی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
لیکن پاپا میں ایسا نہیں کر سکتی آپ کو اکیلا چھوڑ دو ا۔۔۔۔۔
ہانیہ جو حیدر صاحب کی بات سنتی شوک میں بول رہی تھی جب وہ بولے ۔۔۔
دیکھو بیٹا تمہیں اپنے پاپا پر یقین نہیں ہے کیا ۔۔۔
حیدر صاحب مسکراتے ہوۓ بولے ۔۔۔
آپ پر ہی یقین ہے پاپا لیکن میرا چہرہ اور منان کیسے قبول کرے گا ۔۔۔۔
ہانیہ اپنا جلے ہوۓ چہرے پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
منان بہت اچھا لڑکا ہے بیٹا وہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا ۔۔۔۔
تم بس ہاں کر دو ۔۔۔۔
حیدر صاحب ہانیہ کو گلے لگاتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔۔
جیسا آپ کو بہتر لگے پاپا ۔۔۔۔
ہانیہ نے اپنے اللہٌ پر بھروسہ کرتے فصیلہ کر لیا تھا ۔۔۔
————————————————————
ہانیہ تم خوش تو ہو میں جانتا ہو تمہارے دل میں کتنے سوال ہے ۔۔۔۔
منان ہانیہ کو اپنے ساتھ روم میں لاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
حیدر صاحب دونوں کا نکاح کروا چکے تھے ۔۔۔۔
م۔۔۔۔ویٹ میں زار فون سن لو ۔۔۔
ہانیہ بولنے والی تھی جب منان کو فون آیا تبھی ٹوکتا ہوا ہاتھ لہراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
دیکھو اس کا چہرہ پتہ نہیں کون شادی کرے گا اس لڑکی سے ۔۔۔۔
اففف خوف آتا ہے تمہارا چہرہ دیکھ کر کوئ حوصلے والا ہی ہو گا جو تم سے شادی کرے گا ۔۔۔۔
ہانیہ آئنیہ کے سامنے کھڑی اپنے جلے ہوۓ چہرے پر ہاتھ رکھتی ان سب باتوں کو سوچ رہی تھی جو اس نے سننی تھی ۔۔۔۔
کالے بال جو شولڈر تک آتے تھے شربتی آنکھیں سفید رنگ جو کہ جلے ہوۓ چہرے
کی وجہ سے عجیب سا لگ رہا تھا ۔۔۔
پرپل کلر کا شارٹ شرٹ اور کپری میں تیار ہانیہ اپنی قسمت کا سوچ رہی تھی ۔۔۔
کیا میں اتنی بری تھی میری شادی اس خواجہ سرا سے کروا دی شاہد میرے چہرے کی وجہ سے ۔۔۔۔
ہانیہ روم میں کھڑی آئینہ کی طرف دیکھتی اپنی شکل پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
جو ایک سائیڈ سے جلا ہوا تھا ۔۔۔
ارے تم آرام کر لو ۔۔۔۔
منان روم میں آتا مسکراتا ہوا اپنا ہاتھ لہراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ج۔جی ۔۔۔۔
ہانیہ بس دکھ سے اتنا بول سکی جبکہ وہ اپنے کپڑے لیے واش روم کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
کیسے رہو گی میں اس کے ساتھ ۔۔۔۔
وہ ویسے ہی کپڑوں کو چیج کیے بنا بیڈ پر بیٹھی روتے ہوۓ سوچ رہی تھی ۔۔۔
اففف رو کیوں رہی ہو یار ہم ہرگز ایسا نہیں کرتے اگر تمہارے پاپا کو جان کا خطرہ نہ ہوتا ۔۔۔
منان بیڈ پر آتا ہانیہ کے ہاتھ پکڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
پاپا کی ج۔
ہاں تمہارے پاپا کو جان کا خطرہ تھا تبھی تمہاری حفاظت کے لیے یہ نکاح کروایا ۔۔۔
میں نے انہیں سیف ہاوس بھیج دیا ہے ۔۔۔۔
ابھی سو جاٶ باقی باتیں صبح کرو گا ۔۔۔۔
پھر سب کچھ بتا دو گا میں جانتا ہو تم میرے بارے میں غلط سوچ رہی ہو ۔۔۔
منان ہانیہ کے ہاتھوں کو لبوں سے چھوتے ہوۓ بولا ۔۔۔
م۔میج۔مجھے نیند آ رہی ۔۔۔
ہانیہ گھبراتے ہوۓ جلدی سے بولی تھی ۔۔۔
ہاں سو جاٶ آرام سے ۔۔۔۔
منان اس کی حالت سمجھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
ہاے شکر یافی آپی کی شادی ہو گی ۔۔۔۔
ہماری دعا ہے اب وہ ہمیشہ خوش رہے آمین ۔۔۔
روحا روم میں آتی بیڈ پر بیٹھی خوش ہوتی بولی ۔۔۔
ہاے واہ ڈراک چاکلیٹ کتنی خوش ہے ۔۔۔
صام روم میں آتا مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔۔
کیا مسئلہ ہے آپ کا کتنی دفعہ کہہ ہے روم میں مت آیا کرے ۔۔۔۔
روحا ڈوپٹہ گلے میں لیتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
میں تو آو گا مس کالی دیکھو بیڈ پر بیٹھ بھی گیا ۔۔۔۔
صام بیڈ پر بیٹھتے ہوا بولا ۔۔۔
کوئ انتہا کے ڈھیٹ اور ٹھرکی ہے ۔۔۔۔۔
روحا منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
بتاٶ پھر کتنا ٹھرکی اور ڈھیٹ ہو ۔۔۔
صام روحا کا پاٶں پکڑتے اپنی طرف کھیچتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔
روحا بیڈ پر سیدھی لیٹ گی تھی ۔۔۔
کیا بتمیزی ہے یہ ک۔۔۔۔
ششششش۔۔۔
پہلے بھی کہا تھا لڑکیوں کی عزت کرنا میں جانتا ہو ۔۔۔۔
کبھی کسی لڑکی کے ساتھ برا نہیں کیا جو میری بہن کے ساتھ غلط ہوتا ۔۔۔۔
اتنا بھی غافل نہیں ہو کسی سے بھی بہت جلد یہ بھی بتاٶ گا کون کون سی بات جانتا ہو اور کتنی گہری سے بات جانتا ہو سمجھی مس ڈراک کالی چاکلیٹ ۔۔۔۔
صام روحا کے اوپر جکھتے ہوۓ اس کی ڈراک براٶن آنکھوں میں دیکھتا چبا چبا کر بولا ۔۔۔۔
د۔دور رہے ہم سے ورنہ ہاتھ اٹھ جاۓ گا ہمارا مسٹر صام آفندی ۔۔۔
روحا نڈر ہوتی اس کی ڈراک گرین سرخ آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
اففف تمہارا یہ ہمممم کسی دن تمہارے اس ہم کی علاج کرو گا اچھے سے مس ڈراک چاکلیٹ ۔۔۔
صام ڈھیٹ ہوتے روحا کی آنکھوں میں پھونک مارتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔
ٹھرکی ۔۔۔۔۔
روحا آنکھیں بند کرتی بولی ۔۔۔۔
اٹھو اب سانڈ جیسے ہو ہمیں پین ہو رہا ۔۔۔
ڈیول سے کم نہیں آپ ۔۔۔۔
صام جو مگن ہوتا اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جب روحا طش میں آتی اسے دھکا دیتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہہاہاہاہہ۔۔۔۔۔
ننھی سی جان ابھی سے تھک گی ابھی تو بہت کچھ کرنا باقی ہے مس کالی چاکلیٹ ۔۔
صام آنکھ ونک کرتا قہقہ لگاتا ہوا بولا ۔۔۔
دفع ہو جاۓ صام ہم آپ کا قتل کر دے گے ۔۔۔۔
روحا صام کی معنی خیز بات سنتی غصہ سے چلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
تم کہاں جا رہے ہو اب صبح ہونے والی ہے ۔۔۔۔
وہ ڈیول کو باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بولا ۔۔۔
انیجل کے پاس اب تک سو گی وہ بس اس سے ملنے جا رہا ہو ایک نظر دیکھ لو تو دل کو سکون آ جاۓ گا ۔۔۔۔۔
ڈیول گاڑی سٹارٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
اففف پاگل ہو گے ہو کیا وہ سو چکی ہے اگر ایک رات اس کے پاس نہیں جاٶ گے تو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔
وہ بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
نشہ جانتے ہو کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔
ڈیول گرین سرخ آنکھوں میں سردپن لاۓ بولا ۔۔۔
نہیں تم بتا دو مجنوں ۔۔۔
وہ ہاتھ نچاتا ہوا بولا ۔۔۔۔
جس چیز کا نشہ ہو جاۓ تو انسان اس کا عادی ہو جاتا ہے اسے ہر حال میں وہ نشہ چاہے ہوتا ہے چاہے کم ہی سہی پر ملے ضرور اگر نہیں ملتا وہ انسان تڑپتا ہے بے چین ہو جاتا ہے اسے ایسے محسوس ہوتا اس کے جسم سے جان نکل رہی ہے سانسیس بند ہو جاۓ گیئں ۔۔۔
جسم اکڑنے لگ جاتا ہے دل کی دھڑکن بند ہو جاتی ہے ایسا لگتا موت قریب آ رہی ہے ۔۔۔۔
جب یہ سب محسوس ہونے لگ جاۓ تو وہ انسان اپنے نشے کے پاس جاتا ہے بنا یہ سوچے وہ نشہ اس کے لیے کتنا نقصان دہ ہے ۔۔۔۔۔
اس تقریر کا مقصد ڈیول ۔۔۔۔
وہجو ڈیول کی بات غور سے سن رہا تھا آخر میں بیزار ہوتا بولا ۔۔۔۔۔
مقصد یہ ڈیول کا نشہ انیجل ہے اور ڈیول بنا کوئ ڈر و خوف کے اپنے نشے کے پاس جا رہا ہے ۔۔۔
سمجھ آی اب ۔۔۔۔
یہ کہتے ہی ڈیول نے اپنی گاڑی کو جہاز کی سیپڈ سے بھاگا لی تھی ۔۔۔
————————————————————
کتنے آرام سے سو رہی ہے انیجل ۔۔۔
ڈیول روم میں آتا بیڈ پر گہری نیند سو رہی روحا کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔۔۔
کیوں اتنی پیاری ہو یار کہ مجھ جیسے ڈیول کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے ۔۔۔
ڈیول روحا کے ساتھ بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
ہیر آپی آپ ہمیں چھوڑے گی تو نہیں ۔۔۔۔
روحا اپنے ساتھ لیٹے ڈیول کو گلے لگاتی اس کا گال چومتی نیند میں بڑبڑائ تھی ۔۔۔۔۔
کوئ پاگل ہی ہو گا جو تم جیسی انیجل کو چھوڑے گا ۔۔۔۔
ڈیول روحا کی حرکت پر مسکراتا اسے کمر سے پکڑتے قریب کرتے بولا تھا ۔۔۔۔
روم میں صرف ڈیول اور روحا کی سانسوں کی مدھم آواز گونج رہی تھی ۔۔۔۔۔
جیسے ڈیول گہری نظروں سے اپنے قریب نیند میں سو رہی روحا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
