Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 47)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 47)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
اہہہہ روحا بے بی تو میرے پاس ہے ۔۔
افسوس بہت جلد تمہاری یہ عزت جاۓ گی ۔۔۔
یہ خوبصورتی جاۓ گی بڑے عاشق بن کر گھومتے ہے صام شعیب اور شہروز ۔۔
اسی خوبصورتی کی وجہ سے ان تینوں نے مجھے اگنور کیا اب تمہارا کیا ہو گا اب تو صام بھی تمہارے قریب نہیں ۔۔۔
کرسیوں سے بندھی بے ہوش روحا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں دبوچتے کومل نے نفرت سے کہا تھا ۔۔۔
کیا کرنا اس کے ساتھ ۔۔۔
چار پانچ مرد روم میں آتے کومل کے سامنے کھڑے ہوتے بولے تھے ۔۔۔
وہی جو ایک ہوس پرست درندہ اپنے سامنے نازک پری کو دیکھ کر کرتا ہے ۔۔۔۔
مجھے اس کی موت چاہے ۔۔۔۔
اسی کی موت سے صام کو موت آۓ گی اسے بھی پتہ چلنا چاہے اس کی پیاری سی بیوی کتنی خوبصورت ہے ۔۔۔
کومل شطانی مسکراہٹ لاۓ ان سب کو کہتی روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔
جبکہ وہ حیوان صفت انسان ہوس پرست نظروں سے بے ہوش روحا کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
———————————————————–
“““آٹھ ماہ بعد۔۔۔
بڑا مشکل کام تھا آپ کی مسز کی یاداشت واپس آنا لیکن میجر صام آپ نے کر دیکھا ۔۔۔
میں تو ابھی تک حیران ہو اتنے جنونی آپ تھے مسز صام کے لیے پورے آٹھ ماہ آپ یہاں اس کے ساتھ ہاسپٹل رہے ۔۔۔
ڈاکٹر صام کے ساتھ چلتی بول رہی تھی جبکہ وہ سنجیدہ شکل بناۓ چلتے بس سن رہا تھا ۔۔۔
اس آٹھ ماہ میں صام نے روحا کے ساتھ ہی اسی کے روم میں رہا تھا جو وہ کھاتی وہی وہ کھاتا اس کی ہر اچھی بری بات کو سن کر تحمل سے اگنور کر دیتا ۔۔۔۔
اس آٹھ ماہ میں سب لوگ ڈیول کے قہر سے بچ کے رہے تھے کیونکہ سب جانتے تھے ڈیول اپنی انیجل کے ساتھ آسٹریلیا چلا گیا تھا ۔۔۔
پاکستان میں بھی اس کا رابطہ بس فون تک ہوتا تھا صام نے آج تک کسی کو نہیں بتایا تھا وہ آسٹریلیا کس جگہ پر رہ رہا ہے ۔۔۔
کبھی کبھی روحا شدید غصے میں آتی صام اور باقی ڈاکٹروں کو بھی مارنا شروع کر دیتی تھی ۔۔۔
لیکن وہ پیار سے اسے ہنیڈل کر لیتا تھا ۔۔۔
انیجل کو کب گھر لے کر جا سکتا ہو ۔۔۔
روحا کے روم کے آگے کھڑے ہوتے صام نے دو ٹوک سوال کیا ۔۔۔
جی لے جاۓ اب آپ کی مسز بلکل ٹھیک ہے بس ان کی حالت کا خیال رکھے ویسے بھی کافی ویک ہو گی ہے ان کی صحت کا خیال رکھے تبھی وہ اپنا بے بی کیری کر سکے گی ۔۔۔۔
دو ماہ پہلے صام کو گڈ نیوز ملی تھی وہ بابا بنے والا ہے ۔۔۔
صام خوش تو ہوا تھا لیکن وہ پریشان زیادہ ہو چکا تھا کیونکہ روحا چڑچڑی ہوتی جا رہی تھی جیسے ہنیڈل کرنا صام کے لیے کافی مشکل تھا ۔۔۔
لیکن سب کچھ بھلاۓ اس نے صرف روحا کی دیکھ بھال کی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر اسے دیکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاسپٹل کے کافی نرسیں کھڑی اس خوبصورتی کا منہ بولتے ثبوت کو دیکھ رہی تھی جو سب کو اگنور کیے اس کی نظریں بس اپنی اندر بیٹھی انیجل پر ٹکی تھی ۔۔۔۔
جی میں ہنیڈل کر لو گا اب اجازت دے آپ نے ہمارے ساتھ اچھا تعاون کیا ۔۔۔
صام مسکراتا ہوا اپنا سفید بھاری ہاتھ ڈاکٹر کے ساتھ کرتا بولا تھا ۔۔۔
ڈاکٹر نے اس آٹھ ماہ میں پہلی دفعہ صام آفندی کو مسکراتے اور اس کے ڈمپل دیکھے تھے ۔۔۔
آپ کی انیجل شاہد برا نہ مان جاۓ ۔۔۔
ڈاکٹر مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ کچھ ماہ پہلے صام کا ہاتھ ایک نرس نے جان بوجھ کر پکڑ لیا تھا وہی روحا شدید غصہ میں آتی اسی نرس کا ہاتھ کاٹ چکی تھی اس کا کہنا تھا ڈیول اس کا دوست ہے ۔۔۔
اس دن کے بعد کوئ بھی نرس صام کے نزدیک نہیں آئ تھی ۔۔۔
انیجل کچھ نہیں کہے گی ویسے بھی آپ مجھ سے بڑی ہے ۔۔۔
صام مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ڈاکٹر بھی مسکراتی ہوئ اس سے ہاتھ ملا چکی تھی ۔۔۔
———————————————————–
یہ کیا انیجل کپڑے کیوں نہیں چینج کیے ۔۔۔
صام روم میں انٹر ہوتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں روحا صام کے بیڈ پر بیٹھی چاکلیٹ کھانے میں مصروف تھی ۔۔۔
صام نے اپنا الگ بیڈ روحا کے بیڈ کے ساتھ رکھا تھا وہ رات کو وہاں اکیلا سوتا تھا لیکن روحا تب بھی رات کو اٹھ کر اسی کے پاس جاتی سوتی تھی ۔۔۔
ہم یہ کھا لے پھر کپڑے چینج کرے گے ۔۔۔
روحا بھرے منہ سے بولی تھی ۔۔۔
روحا ویک ہو چکی تھی لیکن خوبصورتی میں فرق نہیں آیا تھا بلکہ اور حسین ہو چکی تھی ۔۔۔
بکھرے بال چاکلیٹ چہرے گردن منہ ہاتھوں پر لگی ہوئ تھی ۔۔۔۔
اچھا چاکلیٹ ایسے کھاتے کیا آٶ فیس واش کرواٶ ۔۔۔
صام اسے پکڑتا اپنے سامنے کھڑا کرتا بولا تھا ۔۔۔
ہم پاکستان کب جاۓ گے ۔۔۔
روحا اپنے چاکلیٹ والے ہاتھ اس کی گردن میں حائل کرتے جھولتی ہوئ بولی تھی ۔۔
چلے جاۓ گے جب ہمارا بے بی دنیا میں آ جاۓ گا ۔۔۔
صام ٹشو سے اس کا چہرہ صاف کرتا مگن انداز سے بولا تھا ۔۔۔
بے بی آنے میں پورے سات ماہ باقی ہے ہم یہاں اکیلے
کیسے رہے گے ۔۔۔۔
روحا اپنے گال کو اس کے گال پر سہلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
باز آٶ اپنی ان اداٶں سے انیجل میں بہکنے والا نہیں ہم دوست ہے ۔۔۔
صام سمجھ گیا تھا روحا کے کیا ارادے ہے تبھی اسے سختی سے گھورتا ہوا اس کی گردن صاف کر رہا تھا ۔۔۔۔
کہہ تو ایسے رہے جیسے ان آٹھ ماہ میں بہکے نہیں ہم دوست نہیں ہے آپ شوہر ہے ہمارے ٹھرکی والے ہمیں سب یاد ہے ۔۔۔
روحا باز نہ آتی دوبارہ اپنا گال اس کے گال سے سہلاتے بولی تھی ۔۔۔
صام کے چہرے پر بھی چاکلیٹ لگ رہی تھی ۔۔۔
کیا چاہتی ہو۔۔۔
صام اپنا کام چھوڑتا اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔
ہم پاکستان جانا چاہتے ہے صام ہم سب کو مس کر رہے ہے ۔۔۔
روحا اپنا چہرہ اس کے چہرے کے پاس لاتی اس کے گلابی ہونٹ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
مطلب رشوت دے رہی ہو مجھے ۔۔۔
صام اسے تھوڑا سا اوپر اٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔
جب روحا کی سانسیں اس کے چہرے پر ٹکرائ تھی ۔۔۔
ہمارا عشق آپ کو رشوت لگ رہا ہے ۔۔۔
روحا اپنے چاکلیٹ سے بھرے ہاتھ صام کی گردن پر رکھتی زرا روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
مجھے تمہارے ارادے خطرناک لگ رہے انیجل کیوں ڈیول کو بے بس کرنا چاہتی ہو ۔۔۔
صام روحا کے بالوں میں منہ چھپاۓ بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔
شوہر ہے ہمارے ہم بیوی تو کچھ بھی کر سکتے ہے ۔۔۔
روحا نے اپنے لب اس کی ناک پر رکھتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
جہاں روحا کو چاکلیٹ میں گندہ ہوتے دیکھ صام کو الجن ہو رہی تھی اب وہ بھی چاکلیٹ سے بھرا سب بھلاۓ بس روحا کی قربت میں مدہوش ہو رہا تھا ۔۔۔
ہمیں سمجھ نہیں آ رہا آپ کا شکریہ کیسے کہے پہلے تو آپ ہمارا عشق تھے لیکن اب تو جنون بن رہے آپ کے لیے ہم اپنی جان بھی دے سکتے ہے اگر آپ کی نس نس میں مس لائف بستی ہے تو ہماری سانسوں میں یہ ٹھرکی صام بستا ہے ۔۔۔
ہم اپنا آخری سفر بھی آپ کے ساتھ طے کرنا چاہتے ہے جانِ روحا ۔۔
روحا صام کے کان میں سرگوشیاں کرتی اپنے دل کی ہر بات کہتی آہستہ سے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکی تھی ۔۔۔۔
روحا کے کھلے اظہار پر صام آفندی کے دل کو سکون محسوس ہوا تھا ۔۔۔
وہی روحا کا لمس پاتے صام بھی سب کچھ بھلاۓ اس کے لمس کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
———————————————————–
دو دن بعد۔۔۔
جاٶ یہاں سے ہمہیں نہیں چاہے یہ فوج ۔۔۔
روحا اپنے پلیس میں پندرہ بیس نرسیں دیکھتی شدید غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔
میم ہم آپ کی حفاظت کرنے ک۔۔۔۔
ہمیں نہیں چاہے ہم بیمار نہیں ہے چل سکتے ہے صام کدھر ہے ۔۔۔
ایک نرس ابھی بول رہی تھی جب روحا چلائ تھی ۔۔۔۔
کیا ہو کیا انیجل یہ تمہارے لیے میں نے رکھی ہے تم پہلے ہی کافی ویک ہو مجھے تمہاری فکر ہے ا۔۔۔
ہماری فکر ہوتی تو کبھی بھی پاکستان اکیلے نہیں جاتے ہمیں ساتھ لے کر جاتے ۔۔۔
صام تیار سا بلیک شرٹ پینٹ پہنے اپنے بالوں کا اچھا سا سٹائل بناۓ اپنی خوبصورتی سے بے نیاز سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ بول رہا تھا جب روحا اس کی بات کاٹتی وہاں کھڑی سب نرسوں کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
جو منہ کھولے آنکھیں پھاڑے صرف صام کو دیکھ رہی تھی ۔۔
میری مجبوری ہے میرا جانا ضروری ہے ۔۔۔
صام نے نظریں چڑاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔
پھر ہمیں بھی یہ فوج نہیں چاہے ویسے بھی یہ رنگ برنگ گوریاں آپ کو گھورتی رہتی ہے ہر وقت آپ کو تو مزہ آتا ہو گا ٹھرکی جو ہے ۔۔۔
روحا ان نرسوں کو دیکھتی پیشتو میں بولی تھی تاکہ وہ نرسیں نہ سن لے ۔۔۔
ہاہااہاہہا میری مس لائف میری شیرنی یہ ٹھرکی صام کی بس تم آخری سانس ہو مجھے یہ مصنوعی سانس نہیں پسند۔۔۔۔
صام روحا کو کمر سے پکڑے اپنے قریب لاتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
روحا صام کی بات کا مطلب سمجھتی ہوئ شرمائ تھی ۔۔۔
ص۔صام مرحا ہانیہ اور کومل کے بے بی ہونے والا ہے ہمیں ساتھ لے جاۓ ۔۔۔
روحا نرسوں کو دیکھتی تھوڑا ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
تم بس اپنے بے بی کا خیال رکھو میری جان ہم جلدی جاۓ گے ۔۔۔۔
صام روحا کو گود میں اٹھاۓ بیڈ روم میں لاتا ہوا بیڈ پر بیٹھاتے بولا تھا ۔۔۔
صام کیا واقعی کومل کا بے بی آپ ک۔۔۔۔
کومل جھوٹ بول رہی ہے مجھے یہ پتہ چلا تھا کومل فرحان کے گینگ کی ہے تبھی دوستی کی تھی ایک دن میں اپنے میشن کے لیے بار کلب گیا تھا ۔۔۔
وہاں کومل نے مجھے جوس میں کوئ نشہ آور چیز ڈال کر بے ہوش کر دیا ۔۔۔
اگلے دن میں جب جاگا تو کومل کا ڈرامہ رونا دھونا سٹارٹ میں نے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے بلا بلا بلا ۔۔۔
جبکہ مجھے یاد ہے وہ لڑکی کسی تھی ۔۔۔۔
اگر ابھی تک وہ کچھ سانسیں لے رہی ہے تمہاری وجہ سے ۔۔۔
روحا پریشان ہوتی بول رہی تھی جب صام اس کے گال کو سہلاتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔
اگر ہم یہ کہے آپ نہ جاۓ ۔۔۔
روحا صام کی گردن پر لب رکھتے بولی تھی ۔۔۔
وہی صام نے اپنی آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔
خیال رکھنا اپنا نوفل یہی ہو گا پریشان ہرگز مت
میرا وعدہ ہے جیسے ہی پاکستان سے آٶ گا پھر ہم چلے جاۓ گے بابا ماما کے پاس تب تک تو اپنی حفاظت کر سکتی ہو میری شیرنی ہو ۔۔۔
صام اس کے جال سے نکلتا اچانک اٹھ کر کھڑا ہوتا رخ موڑے بولا تھا ۔۔۔۔
ہمممم ہمیں نیند نہیں آۓ گی ۔۔
روحا اسے بیک ہگ کرتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
مجھے ہنس کر دیکھاٶ تاکہ میں جا سکو ۔۔۔
صام روحا کی بات اگنور کیے اسے سامنے لاتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
ہمیں ہنسی نہیں آ رہی ۔۔۔
روحا آنکھوں میں آنسو لاتے بولی تھی ۔۔۔
خیال رکھنا میری جان اور ہمارے بے بی کا بھی میں جلد ہی واپس آٶ گا ۔۔۔
صام پہلے نیچے جھکے نرمی سے روحا کے پیٹ کو چومتے پھر اس کا ماتھا چومتے بولا تھا ۔۔۔
بہت برے ہے آپ ۔۔
روحا اس کے سینے پر مکا مارتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
چاکلیٹ مجھے نہیں پسند میٹھی ہوتی ہے مجھے نمکین چیزیں پسند ہے ۔۔۔
صام روحا کی گردن میں ہاتھ ڈالے اس کا چہرے اپنے قریب لاتے نرمی سے اس کے لب لاک کرتے بولا تھا ۔۔۔۔
روحا کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے ۔۔۔
میری شیرنی ہو تم ۔۔۔
صام اسے چھوڑتے اس کے آنسو صاف کرتے کہتا جلدی سے چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
“””دو دن بعد۔۔۔
آٶ آٶ ببلی ان سے ملو یہ بھی نیو آئ ہے ۔۔۔
خواجہ سراٶں کے آڈے پر اس کی سردار اپنے سامنے خوبصورت سی تیار کھڑے خواجہ کو اپنے ساتھ کھڑے خواجہ سے ملوا رہی تھی ۔۔۔
اس کا نام چم چم ہے یہ دلبر ہے یہ میرو ہے یہ چمک چھلو ہے ۔۔
خواجہ سرا سب سے ملواتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
جبکہ ببلی نے اپنی مسکراہٹ روکی تھی سب کو دیکھ کر ۔۔۔
اچھا تم لوگ بیٹھو یہاں رات کو بات ہو گی ۔۔۔
وہ سردار کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔
ارے صامے یہ بیگ تیری صیح نہیں ہے ۔۔۔
مستقیم مسکراتا ہوا ببلی کی بیگ کھیچتا ہوا بولا تھا ۔۔
بکواس نہ کر تم یہاں کیوں آۓ ہو ۔۔۔
صام شدید غصہ سے دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جہاں تم ہو گے وہاں ہم بھی ہو گے آج یہ کام ہم کر کے رہے گے ۔۔۔
زرجان بھی اپنی فراک ہنیڈل کرتا بولا تھا ۔۔۔
تم لوگوں کو آنا نہیں چاہے تھا جانتے ہو مرحا ہانیہ کی حالت کیسے ان کو تمہاری ضرورت ہےا۔۔۔۔
ہم نے سنا تو بھی باپ بنے والا ہے ۔۔
آہان بھی اپنی فراک کو پکڑے صام کے قریب آتا بولا تھا ۔۔
جی لالہ صیح سنا آپ نے میں بس یہ کام کر کے انیجل کو پاکستان لانا چاہتا تھا ۔۔۔
صام مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
اچھا چلو آو اپنا کام کرے پھر سکون سے اپنے گھر جاتے ہے ۔۔۔
منان ان سب کو متوجہ کرواتے بولا تھا ۔۔۔
کہ کہی کسی کو شک نہ ہو جاۓ وہ سب خواجہ سرا کے سردار کو پکڑنے آۓ ہے ۔۔
————————————————————
چلو ہانیہ مرحا یافی یہ فروٹ کھاٶ ۔۔
ہیر سب کو فروٹ دیتی سختی سے بولی تھی ۔۔۔
بھابھی سچی دل نہیں کر رہا ۔۔۔
مرحا معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
کھاٶ کھاٶ بچوں ۔۔۔
روحا آفندی پلیس میں انٹر ہوتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ساتھ بچاری سی شکل بناۓ نوفل بھی ساتھ تھا ۔۔
انیجل تم یہاں آ گی یاہوووو۔۔۔
مرحا جلدی سے کھڑی ہوتی چہکتی ہوئ بولی تھی ۔۔
دھیان سے ہم آ رہے پاس ۔۔
روحا سب سے ملتی ہوئ مسکراتے بولی تھی ۔۔۔
صام کو پتہ تم پاکستان آ گی ۔۔۔
یافی نے پریشان ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔
انیجل نے غلط کیا مجھ معصوم کو دمھکی دے کر یہاں پاکستان لے آئ اگر ڈیول کو پتہ چل گیا مجھ کون بچاۓ گا اس کے قہر سے ۔۔۔
نوفل رونی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
ہم بچا لے گے لالہ آپ کو ڈیول سے بچ جاتے آپ لیکن انیجل سے نہیں بس ہم اب ان سب کے ساتھ رہے گے ۔۔۔
روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
رات ہو گی تھی نوفل کو صام نے فون کر کے پوچھا تھا روحا کیا کر رہی وہی نوفل نے جھوٹ بولا تھا کہ وہ سو رہی یہ نہیں بتایا تھا روحا پاکستان آ گی ہے ۔۔۔
اچھا ہم تو سونے لگے کدھر سے آپ کا دیور ۔۔۔
روحا ہیر کی طرف دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
سو رہا ہے کہتا تھا ایک ضروری کام کے لیے جانا ہے تھوڑی دیر بعد۔۔۔
ہیر نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
مستقیم کیا تمہارا جانا ضروری ہے ۔۔۔
مرحا بیڈ سے اٹھتی بامشکل چلتی ہوئ اس کے پاس آتی بولی تھی جو خواجہ سرا بنا ڈوپٹہ پن کر رہا تھا ۔۔۔
ارے میری جان میں تمہارے پاس ہی ہو بس یہ کام ہو جاۓ پ۔۔۔۔
تم جانتے ہو کبھی بھی ہمارا بے بی آ سکتا ہے مجھے اکیلے کو چھوڑ کر جا رہے ۔۔۔
مستقیم مرحا کو نرمی سے شولڈر سے پکڑے بول رہا تھا جب مرحا آنکھوں میں آنسو لاتی بولی تھی ۔۔۔
فکر بلکل مت کرو میں جلدی آ جاٶ گا ویسے بھی سب یہی ہے جب بھی درد محسوس ہو بھابھی کو بلا لینا ۔۔۔
مستقیم اس کے گال کو چومتا بولا تھا ۔۔۔۔
پکا آ جاٶ گے تم ۔۔۔
مرحا اداس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں میری جان ۔۔۔
مستقیم مرحا کے لبوں کو قید کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
مانی میرا دل گھبرا رہا ۔۔۔
ہانیہ منان کی طرف دیکھتی بولی تھی جو تیار ہو رہا تھا ۔۔۔
کیا ہوا ڈاکٹر کو فون کرو۔۔۔
منان پریشان ہوتا ہانیہ کے پاس آتا بولا تھا ۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہو بس یہی کہہ رہی تھی تم نہ جاٶ ۔۔۔۔
ہانیہ منان کے ہاتھ پکڑتی زبردستی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
میرا جانا ضروری ہے تم خیال رکھنا ۔۔۔
منان نرمی سے اس کا ماتھا چومتے اور پھر لبوں کو چومتے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ہاۓ کتنا اندھیرہ کیا ہے روم میں ۔۔۔
روحا روم میں انٹر ہوتی اتنا زیادہ اندھیرہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
خودی اپنے اندازے سے چلتی وہ بیڈ کے قریب آئ تھی ۔۔
جہاں اسے بیڈ پر گہری نیند سوتے صام کی بھاری سانسیں سنائ دے رہی تھی ۔۔۔
ارے ہماری ننھی سی جان سو رہی ۔۔۔
روحا جلدی سے صام کے سینے پر نرمی سے لیٹتے مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
دو دن بعد وہ صام کی قربت محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
صام بلکل نیند میں مدہوش ہوتا سو رہا تھا اسے بس نیند میں ہی روحا کی سانسوں کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی وہ سمجھ رہا تھا یہ ایک خواب ہے ۔۔۔
ہاے کتنا مس کیا ہم نے کیوں اتنے پیارے ہے ۔۔۔
ویسے نیند میں بچے لگ رہے ویسے کھڑوس ہے ایک نمبر کے ۔۔۔
روحا نرمی سے صام کے چہرے کو پکڑے دیوانہ وار چومتے بول رہی تھی ۔۔۔
اچھا سو جاۓ ایویں جانور بن جاۓ گے ۔۔۔
صام نے جب دیکھا صام نیند سے جاگ رہا ہے تبھی جلدی سے اس کے لبوں کو چومتی بیڈ سے اٹھتی وڈراب روم کی طرف بھاگی تھی تاکہ وہ دیکھ نہ لے اسے ۔۔۔
افففف انیجل میری نیندوں میں بھی تم بسی ہو اتنا نشہ ہے تمہارا مجھے ایسے لگ رہا تم ابھی بھی میرے قریب تھی ۔۔۔
صام لائٹ آن کرتا جلدی جلدی سے روم کو دیکھتا بولا تھا جہاں اسے روحا کہی بھی دیکھائ نہیں دی ۔۔۔
تبھی اپنا خواب سمجھتا وہ اپنے سینے پر پڑی روحا کی بلیک کلر کی شرٹ اپنے ناک سے لگاۓ اس کی خوشبو سونگھتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
صام کی حرکت پر روحا نے ہنسی روکی تھی وہ چھپ کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
ک۔کو۔ن۔ہے آ۔پ لوگ۔۔۔
روحا ہوش میں آتی اپنے پاس اتنے آدمی دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
اسے یاد ہے وہ صام کے روم سے باہر آئ تھی جب کسی نے ناک پر رومال رکھ کر اسے بے ہوش کر دیا تھا ۔۔۔
کتنی خوبصورت ہو تم آج تو تم بلکل نہیں بچو گی ہم سے ۔۔۔
سب اسے حیوانیت سے دیکھتے پاس جاتے بولے تھے ۔۔
د۔دور رہو ۔۔
روحا کرسی پر بندھی بے بس ہوتی چلائ تھی ۔۔۔
اہہ اہہہ اہہہ۔۔۔
ان سب نے جیسے ہی روحا کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا وہی ان سب کو کرنٹ کا جٹھکا لگا تھا ۔۔۔
تبھی وہ چلاۓ تھے ۔۔۔
ارے یہ تو کرنٹ دیتی ہے ایسے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔۔
ایک آدمی اپنا ہاتھ پکڑتا ڈرتا ہوا بولا تھا ۔۔
یہ تو دھوکا ہو گیا اس لڑکی نے ایسا کیا ۔۔۔
نشے سے جھولتے ایک آدمی نے شدید غصے سے کہا تھا ۔۔۔
ان حیوان پرست آدمیوں نے اپنی ہار نہ مانتے روحا سے کرنٹ کھاتے بھی اس کے شرٹ پھاڑی تھی ۔۔۔
جبکہ روحا اب پچھتا رہی تھی کیوں صام کو بنا بتاۓ پاکستان آ گی تھی ۔۔
————————————————————
یہ اندھیرہ کیوں اتنا۔۔۔
خواجہ سرا کا سردار مستقیم لوگوں کو آج اپنے خفیہ آڈے پر لگایا تھا۔۔۔
جہاں خواجہ سرا کے گیٹ اپ میں تیار سب اندر جاتے حیران ہوتے بولے تھے ۔۔۔
ہاہااہاہا کیا سمجھا تھا میجر صام تم یہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ آٶ گے ہم سب کو مار کر چلے جاٶ گے ۔۔۔
اچانک روشنی ہوئ تھی تبھی سردار اپنی سربراہی کرسی پر بیٹھتے قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔
درمیان میں کھڑے صام مستقیم زرجان منان حیران تھے ان سب لاکھوں خواجہ سراٶں کے درمیان ۔۔
تمہیں پتہ چل گیا ہے تو ہماری بات مان لو ۔۔۔
صام اپنی بیگ اتارتا سامنے کھڑے خواجہ کو گھورتا ہوا غصے سے بولا تھا ۔۔۔
جان گیا تھا کہ کسی نے تو ان سب کے بارے میں مخبری کی تھی ۔۔۔
تم فوجی ہو میں ابھی بھی کہتی ہو جاٶ یہاں سے ورنہ موت ملے گی ۔۔۔
تم جیسے مرد ہوتے ہے جو ہم جیسے آدھے ادھورے لوگوں کا مذاق بناتے ہے ۔۔۔
پھر ہمدردی کرنے آ جاتے ہو ابھی بھی وقت ہے جاٶ ۔۔۔
سردار سب کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہم یہاں سے بلکل نہیں جاۓ گے چاہے موت نصیب ہو ہمارا ایک فانذیشن ہے وہاں تم جیسے لوگ رہتے ہے اچھا کام کرتے ہے پیسے ملتے ہے ۔۔۔
تم یہ کام چھوڑ دو کیوں لاکھوں زندگیوں کے گناہگار بن رہے ہو ہمارے ساتھ تعاون کرو ۔۔۔
آہان صلح جو انداز سے بولا تھا ۔۔۔
اپنی ایج سے زیادہ باتیں کرتے ہو سب یہ دیکھو میرے ایک اشارے پر یہ سب تم سب کو بھون دے گے لیکن ابھی بھی ڈھیٹ بنے کھڑے ہو۔۔۔
سردار ان سب کے وحشت ناک چہرے دیکھتا غرایا تھا ۔۔۔
ہم نہیں جاۓ گے تم جو مرضی کرو ان بےگناہوں کا کیا قصور ہے جو تم سزا دے رہے ۔۔۔
دیکھو تم لوگوں کو اللہٌ نے پیدا کیا ہے وہی تم سب کو عزت اور رزق دینے والا ہے ۔۔۔
یہ نفرت والا کام تو وہ کم ظرف لوگ کرتے ہے جو تم جیسوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہے ہم ایسے نہیں تم ہماری طرف ایک قدم بڑھاٶ ہم تمہیں اچھی جگہ دے گے ۔۔۔
صام نے جب دیکھا کافی ہٹے کٹے پہلوان گنز لے ان سب کے چاروں طرف کھڑے ہو چکے تھے تبھی وہ بولا تھا ۔۔
ورنہ اس کے ایک اشارے پر آڈے سے باہر آرمی اور پولیس کھڑی تھی جو اندر آتی حملہ بھی کر سکتی تھی ۔۔۔
چلو تم لوگ جیت گے میں تیار ہو ان سب کو تمہارے حوالے کرنے کے لیے ۔۔۔
سردار کچھ سوچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ صام کے کان میں ائیر پیس سے گونجتے الفاظ سے اس کے ماتھے پر پیسنہ پھوٹا تھا ۔۔۔
————————————————————-
یی ۔کیا طریقہ ہے۔۔۔
کومل اپنے کارنامے پر خوش ہوتی کرسی پر بیٹھی تھی جب اپنے سامنے وہ سارے آدمی دیکھتی بولی تھی جو نشے سے جھولتے اس کا بازو پکڑے اپنے سامنے کھڑا کر چکے تھے ۔۔۔
ہمی۔ہمیں وہ لڑکی دی تم نے جو کرنٹ دیتی ہے اب ہماری ہوس اس سے پوری نہیں ہو پاۓ گی کیونکہ ہم سب اسے چھو بھی نہیں سکتے لیکن تو بھی تو لڑکی ہے تو پوری کرے گی ۔۔۔۔
آدمی نے کہتے ساتھ ہی کومل کی شرٹ پھاڑی تھی ۔۔۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ا۔۔۔۔
کومل اپنے بھاری جسم کو سنھبالتی بول رہی تھی جب دوسرے آدمی نے اسے دھکا دیتے فرش پر گرایا تھا ۔۔۔۔
اہہہہ اہہہ رحم کرو دیکھو میرا بچہ ہونے والا می۔۔۔۔
ارے تم جیسی لڑکیاں دوسری لڑکیوں کی عزت کی پرواہ نہیں کرتی تو اپنی دفعہ یاد آ جاتی ہے عزت ۔۔۔۔
کومل درد سے تڑپتے ہوۓ بول رہی تھی جب سارے اس پر جھکتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔
چھ۔چھوڑے س۔سب۔۔۔
روحا کو وہ چھوڑ چکے تھے تبھی وہ ہمت کرتی اپنی کرسی سے رسی کھولتی باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔۔
لیکن سامنے والا منظر دیکھتی روحا ہاتھ میں ڈنڈا لیتی ان سب کو مارتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
جہاں وہ سارے فرش پر گری کومل کو برہنہ کیے اپنی ہوس پوری کرتے اسے نوچ رہے تھے ۔۔۔
جبکہ کومل درد سے تڑپتے روتے ہوۓ ان سب کو دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
ر۔رو۔روحا مجھے بچا۔بچاٶ پلیز۔۔۔
کومل نیم بے ہوشی میں جاتی روحا کی طرف دیکھتی بولی تھی وہ سارے آدمی بے ہوش ہو چکے تھے ایک تو نشے کی وجہ سے سارے گم تھے باقی ڈنڈا کھاتے وہ نڈھال سے وہی گر پڑے تھے ۔۔۔۔
آٶ ہم جاتے یہاں سے ۔۔۔
روحا اپنا حجاب اتارتی کومل کے جسم پر دیتی جلدی سے ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔
کومل پھوٹ پھوٹ کر روی تھی روحا کو دیکھ کر جس لڑکی کی عزت خراب کرنی چاہی اسی لڑکی نے اسے بچایا تھا ۔۔۔۔
تمہاری شرٹ پھٹی ہے ۔۔۔۔
ہماری شرٹ ٹھیک ہے تمہارے تو کپڑے بھی پھ۔۔۔
کومل روحا کی برہنہ شولڈر دیکھتی بول رہی تھی جب روحا اس سے نظر چڑاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
کومل کے بھاری جسم پر روحا کا حجاب بامشکل اسے ڈھانپ رہا تھا ۔۔۔
ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا روحا میں نے بہت برا کیا مجھ سے چلا نہیں جا رہا ۔۔۔
روحا اس کا ہاتھ پکڑے بھاگی جا رہی تھی جب کومل ساتھ جاتی درمیان میں کھڑی ہوتی پھولے سانس سے بولی تھی ۔۔۔۔
ہم نوفل لالہ کو فون کرتے ہے ۔۔
روحا جلدی سے کومل سے فون لیتی ہوئ بولی تھی ۔۔
ہیلو لالہ آپ یہاں ا۔۔۔۔
آہہہہ اہہہہہہ۔۔
روحا فون پر بات کر رہی تھی ۔۔
جب کومل کی چیخ سنتی فون کٹ کر چکی تھی ۔۔۔
ک۔کون ہو تم ۔۔۔
اپنے سامنے کومل کو زمین پر خون سے لت پت گرے اور شہروز کو گن لیے دیکھ روحا ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ہاے سائلینٹ بیوٹی اب صرف میری ہو ویسے بھی ڈیول تمہارے پاس نہیں ۔۔
شہروز بنا ٹائم ویسٹ کیے روحا کو بازو سے پکڑے اپنے شولڈر پر ڈالے خباثت سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
چھوڑو ہمیں ڈیول صام بچاۓ ہمیں ہاے کومل بھی مر گی تم وحشی درندے ہو جانور ۔۔۔
روحا سامنے درد سے تڑپتی کومل کو دیکھتی بے بس ہوتی روتے ہوۓ چلا رہی تھی ۔۔۔
جہاں اب سنسنان جگہ پر کومل کی لاش پڑی تھی ۔۔۔
ارے میری جان رو کیوں رہی ہے ویسے یہ کرنٹ کی رفتار زیادہ کر لی تم نے ۔۔۔
شہروز روحا کی چیخو پکار اگنور کرتا جاتا ہوا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
روحا کے جسم سے آتا کرنٹ اسے مسلسل جٹھکے دے رہا تھا جیسے وہ سکون سے برداشت کر رہا تھا ۔۔۔
———————————————————-
انیجل انیجل کدھر ہے ۔۔۔
صام آڈے سے باہر آتا نوفل کو فون کرتا پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
و۔ہ۔ڈ۔۔۔
ہاں یا نہ میں جواب دو فورًا ۔۔۔
نوفل گھبراتا ہوا بول رہا تھا جب شدید غصے سے صام دھاڑا تھا ۔۔۔
اسے روحا کی چین سے روحا کی چیخیں سنائ دی تھی تبھی وہ پاگلوں کی طرح اندر سب کو چھوڑے باہر آتے نوفل کو فون
ملایا تھا ۔۔۔
و۔وہ ڈیول انیجل کو شہروز چوہان نے اغواہ کر لیا ہے ۔۔۔
نوفل نے ڈرتے ہوۓ جلدی جلدی بتا دیا تھا ۔۔۔
ت۔۔۔
بمممممم۔۔۔۔
صام ابھی بولتا جب اس کے پیچھے دھماکہ ہوا تھا ۔۔۔۔
پیچھے موڑتے دیکھ صام کی روح فنا ہوئ تھی ۔۔۔
اندر اس کے دوست تھے سارے ۔۔۔
مستقیم زرجان منان آہاننننن۔۔۔۔
صام کے ماتھے پر پیسنہ آیا تھا تبھی وہ درد سے چلاتا آڈے کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔
کیسا لگا میرا گفٹ کہا تھا نہ کہ ایک دن آۓ گا ڈیول جب تمہیں اپنی دوستی اور جنون میں کسی ایک کو بچانا ہو گا ۔۔۔۔
اب خودی سوچ لو دوستی بچاتے ہو یا جنون ویسے تمہارا جنون میری باہوں میں ہے ابھی ۔۔۔۔
صام اس سے پہلے اندر جاتا جب اسے شہروز کی کال آئ تھی وہ خودی بول اٹھا تھا ۔۔۔
اس کی بات پر صام نے شدت سے آپنی آنکھیں بند کر کے کھولی تھی جو اب سرخ انگارہ بنی وحشت ناک بن چکی تھی ۔۔۔۔
ڈیول کو چلیچ کر کے تو نے اپنی موت کو دعوت دی ہے ۔۔۔۔
رہ گی یہ بات میں کس کو بچاتا ہو تو صام آفندی اپنے عہد کو بچاۓ گا وہی عہدِوفا جو اس نے اپنے دوستوں سے کیا تھا ۔۔۔۔
اور جنون میری سانس ہے جب تک میں زندہ ہو تو میرے جنون کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا ۔۔۔۔
اب میرے قہر سے بچ جانا ۔۔۔
صام سردپن سے کہتا فون کٹ کرتا اندر انٹر ہو چکا تھا ۔۔۔
اسے اپنی دوستی بچانی تھی جیسے بچانے وہ موت کے منہ میں چلا گیا تھا ۔۔۔
