Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 16)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
اب کیسی طیبعت ہے شعیب ۔۔
روحا اس کے سامنے بیٹھتی بولی تھی ۔۔
ہاں اب کافی بہتر ورنہ تمہارے سانڈ جیسے شوہر نے مجھے مار ہی دینا تھا ۔۔
شعیب منہ بناتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
آج وہ دو ہفتے بعد آفندی پلیس آیا تھا۔۔۔
پاگل ہے وہ شکر کرو بچ گے ویسے مارا کیوں اس نے اتنا زیادہ بس سانسیں ہی چھوڑی تھی ۔۔۔
روحا پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہ۔ہا۔ہاں وہ بزنس ڈیل ایک کینسل ہو گی بس اس لیے تم یہ چھوڑو تمہارا ڈمپل بواۓ کہاں ہے ۔۔۔
شعیب ہکلاتے بات بدلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
وہ سو رہا ہے تم دیکھو گے تو خوش ہو جاٶ گے ۔۔
روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
“ستا سترگے سمے خکلئی دی“ ۔۔۔
م۔مطلب کیا کہا ۔۔۔
شیعب روحا کی طرف مسلسل دیکھتا پیشتو میں بولا تھا ۔۔
جب روحا ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
“ستا سترگے سمے خکلئی دی“ ۔کا مطلب ہے ”تمہاری آنکھیں کتنی پیاری ہے ۔۔ ““
ہاے کیا سچی اففف ہمیں پشتو بہت پسند ہے تم ہمیں سکھاٶ گے ۔۔۔
روحا خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ضرور بلیک بیوٹی بتاٶ کیا سکھنا ہے ۔۔۔
شعیب خوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ مسلسل اپنی ہوس بھری نظروں سے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔
ہم تمہیں بتاتے ہے ۔۔
روحا سوچتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
نہیں یہی بیٹھ کر سن لے پاس مت آنا ۔۔۔
شعیب جو اٹھ کر روحا کے پاس آ رہا تھا جب روحا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
صام بھی تو تمہارے پاس بیٹھتا ہے ہم تو ویسے ہی دوست و۔۔۔۔
صام ہمارے شوہر ہے ان کا حق ہے اور ہم نے کبھی بواۓ کو دوست نہیں بنایا آپ خان ہے تبھی ہم عزت سے بات کر لیتے ہے ۔۔۔
شعیب جو ویسے ہی گھورتا بول رہا تھا جب روحا غصہ سے کھڑی ہوتی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا سکھ ت۔۔۔۔
ہم بعد میں آتے ہے ڈمپل بواۓ جاگ گیا شاہد ۔۔۔
شعیب اسے روکتا جب روحا جاتی ہوئ بات کاٹتی چلی گی تھی ۔۔۔۔
بہت اکڑ ہے تم میں بلیک بیوٹی اور یہ تمہارا نکما آوارہ شوہر صرف نام کا رہ جاۓ گا بہت جلد تمہیں خود سے دور کرے گا وہ ۔۔
شعیب دل میں غصہ سے سوچتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
ارے ہمارا پوتا کتنا پیارا ہے ۔۔۔
وردہ بیگم احمد کے ساتھ کھیلتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
جو ان کی گود میں لیٹا اپنی گرین آنکھوں سے گھور رہا تھا ۔۔۔
میرے پر گیا ہے پوتا جو میرا ہے ۔۔
آفندی صاحب خوشی سے چہکتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔۔
ہاے کتنی خوشی فہمی ہے یہ مجھ پر گیا ہے ۔۔۔
وردہ بیگم اترتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
آپ پر جاۓ یا مجھ پر پوتا تو ہمارا ہے ۔۔
آفندی صاحب وردہ بیگم کا ہاتھ چومتے پیار سے بولے تھے ۔۔
کیا کر رہے ہے بچے بڑے ہو گے آپ کا رومنیس آج بھی شروع ہو جاتا ۔۔۔
وردہ بیگم سرخ چہرے سے شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
تو میں ابھی بھی جوان ہو ہاں بچے سانڈ جیسے بڑے ہو گے ا۔۔۔۔
اووووو میں غلطی سے آ گیا بندہ روم بند کر لیے جب رومنیس کر رہے ہو ۔۔۔
آفندی صاحب ویسے ہی پاس لیٹے بولے رہے تھے جب صام اندر آتا شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
تو کیوں آے ہو اندر جب پتہ تھا منہ آٹھا کر آ گے ۔۔۔
آفندی صاحب روکھے پن سے دیکھتے بولے تھے ۔۔۔
ویسے ماما اپنی اس کھڑوس بہو کو بھی سکھا دے شوہر سے کیسے محبت کی جاتی ہے ۔۔۔
دیکھ لے آج تک بابا کو دیوانہ کیا آپ نے ۔۔۔
صام پاس بیٹھتے ہوۓ شرارتی انداز سے بولا تھا ۔۔۔
آج پتہ چلا باپ بے شرم ہے تو بیٹا ٹھرکی روحا صیح کہتی ہے تم انتہا کے ٹھرکی ہو ۔۔۔
وردہ بیگم شرمندہ ہوتی اسے ہلکا تھپڑ مارتی بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا غصہ کیوں کر رہی ہے جانتا ہو ڈسٹرب کر دیا ایک بات کہنے آیا تھا ۔۔۔۔
صام احمد کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہوا بولا تھا ۔۔
کیا حرکت ہے بچہ ہے ابھی رون۔۔۔
بھاں بھاں بھاں ۔۔۔
وردہ اور آفندی صاحب دونوں بولے تھے جب احمد گلا پھاڑے رونے لگ گیا تھا ۔۔۔
میں آج آفس آو گا بابا آپ میرا کیبن صاف کروا دینا ۔۔۔
صام ویسے ہی سنجیدہ شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
ارےے واہ ہ ہ یہ بھی احسان ہو گا تمہارا مجھ پر ۔۔
آفندی صاحب طنز کرتے بولے تھے ۔۔۔
شکریہ تعریف کے لیے ویسے بھی بہت کچھ کر لیا آپ نے میرے لیے ۔۔۔
صام سرخ گرین آنکھوں میں سردپن لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
دی۔ک۔۔۔
میں آ جاٶ گا ۔۔۔
آفندی صاحب بات کا مطلب سمجھتے بولتے جب صام سنجیدہ شکل بناۓ کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
آوارہ نکما ٹھرکی ہڈ حرام پتہ نہیں کون سا ٹائم تھا جب یہ پیدا ہوا مجھے ہی قصوروار سمجھتا ہے ۔۔۔
آفندی صاحب دکھ اور غصہ سے بڑابڑے تھے ۔۔۔
بابا رات کا ٹائم تھا جب میں اس دنیا میں آیا ۔۔۔
باقی ماما سے پوچھ لے ۔۔
صام اپنی گردن دروازے کے اندر کرتا بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔
توبہ ہے ایسی اولاد سے روحا ٹھیک کہتی ہے یہ ٹھرکی ہو چکا ہے پتہ نہیں کیا بنے گا اس کا سب بچے اتنے شریف ہے ایک یہ ہی نمونہ رہ گیا تھا ۔۔۔۔
تم جانتی ہو بچپن میں کبھی یہ روتا ہنستا کھیلتا بولتا نہیں تھا بس ربوٹ بنے رہتا تھا ۔۔
کبھی کبھی تو شک ہو جاتا یہ انسان نہیں کوئ بت ہے جس کے اندر کوئ احساس نام کی چیز ہی نہیں ہے ۔۔۔
اب بھی ویسا ہے بس روحا کے لیے بول لیتا ہے ۔۔۔
آفندی صاحب غصہ سے چکر لگاتے بول رہے تھے ۔۔
آپ جانتے ہے اس دن اگر ہم صام کو اس سے دور نہ کرتے ت۔۔۔
تو کیا جواب دیتے اس معاشرے کو کہ آفندی صاحب کے چھوٹے اور لاڈلاے بیٹے کا ایک دوست خواجہ سرا تھا ۔۔۔
اس کے ساتھ رہ کر یہ بھی ویسا بن جاتا ۔۔
جو کیا صیح کیا پر ایک غلطی ہو گی صام اپنے آپ سے جدا ہو گیا یہ تو وہ صام ہے ہی نہیں ۔۔۔
وردہ بیگم پریشان ہوتی بول رہی تھی جب آفندی صاحب اپنا ماتھا پکڑتے پریشانی سے بولے تھے ۔۔
———————————————————–
کیا بات ایسی جو یافی کو پریشان کر رہی ہے ۔۔
صبح زرجان نیند سے جاگا تو حیران رہ گیا یافی ابھی بھی اسے ہگ کیے سو رہی تھی ۔۔
جبکہ وہ جلدی جاگ جایا کرتی تھی ۔۔
تبھی اس کے ماتھے سے بال ہٹاتے وہ سوچ رہا تھا ۔۔۔
لگتا ہے میری جان نے اپنی جاگنا نہیں ہے ۔۔۔
یافی کی نیم وا آنکھیں دیکھتا وہ پیار سے بولا تھا ۔۔۔
ابھی دل نہیں کر رہا ۔۔۔
یافی اپنا چہرہ زرجان کی گردن میں چھپاۓ کمسائ سے بولی تھی ۔۔۔
تمہارا دل تبھی کرتا ہے جب مجھے کوئ کام ہو کل میں فری تب جو مرضی کرنا ۔۔۔
زرجان یافی کو باہوں میں آٹھاتے واش روم کی طرف جاتے بولا تھا ۔۔۔
یہ ناانصافی ہے جان مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔
یافی منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کوئ نہیں میں جاگ رہا تو تم بھی جاگو گی ورنہ میں میٹنگ کینسل کروا دو گا ۔۔۔
زرجان ویسے ہی اسے شارو کے نیچے کھڑا کرتا دمھکی دیتے بولا تھا ۔۔۔
دیکھیں جاگ تو رہی میں اب ۔۔۔۔
یافی دوبارہ اس کے سینے لگی بولی تھی ۔۔۔۔
ز۔ر۔ج۔جان۔۔۔
زرجان بس میں اب جاتی ہو تم باتھ لو ۔۔۔
چلتے شارو کے نیچے وہ دونوں کب سے بھیگ رہے تھے جب اپنی کمر پر اسے زرجان کے ہاتھ محسوس ہوۓ تبھی گلا تر کرتی وہ بولی تھی ۔۔۔
نہ جاٶ یافی پلیز ہر دفعہ بھاگ جاتی ہو ۔۔۔
زرجان بہکے ہوۓ بولے انداز سے اس کی گردن پر لب رکھتا بولا تھا۔۔۔
“سانسوں کو جینے کا سہارہ مل گیا “
“ڈوبا میں تجھ میں تو کنارہ مل گیا ”![]()
“سانسوں کو جینے کا سہارہ مل گیا “
“ڈوبا میں تجھ میں تو کنارہ مل گیا ”![]()
“سانسوں کو جینے کا سہارہ مل گیا “
“زندگی کا پتہ دوبارہ مل گیا ”![]()
“تو ملا تو خدا کا سہارہ مل گیا “
“غم ذادہ غم ذادہ دل یہ تھا غم ذادہ “![]()
یافی کو اسے ہگ کیے کھڑی تھی جب زرجان نے اس کی شرٹ کی بیک زپ اوپن کی ۔
ز۔ر۔جان۔پلیز۔
مج۔مجھے ٹائم چاہ۔ہے ۔۔۔
یافی گھبراتے ہوۓ بامشکل بولی تھی ۔۔۔
ریلکس یافی میں کچھ نہیں کر رہا بس یہ شرٹ گیلی ہو گی تھی تمہاری اور میں تمہاری اجازت کے بنا کوئ کام نہیں کرو گا ۔۔۔
زرجان جو بہکا ہوا تھا یافی کی رونی آواز سنتا ہوش میں آتا اس کا چہرہ ہاتھوں میں پکڑتا ایک ایک نقش چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ت۔تم بہت اچھے ہو زرجان ۔۔۔
یافی آنسو لاتی بولی تھی ۔۔۔
تم مجھ سے بھی زیادہ اچھی ہو جان ۔۔۔
زرجان یافی کے لبوں سے پانی ٹپکتا ہوا دیکھتا وہاں اپنے لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
یافی نے مضبوطی سے اس کے شولڈر کو پکڑا تھا وہ محسوس کر سکتی تھی زرجان کتنی نرمی سے اسے چوم رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
سوری جان کام نہ ہوتا تو ضرور تمہیں جرمنی گھومتا ۔۔۔
منان ہانیہ کو گھر لاتے دکھی ہوتا بولا تھا ۔۔۔
کوئ بات نہیں مانی کام بھی ضروری ہے ہم پھر کبھی چلے جاۓ گے ۔۔۔
ہانیہ اپنا سامان رکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھا اب تو پولیس اسٹیشن جا رہا میں شام کو ملتے ہے ۔۔۔۔
منان ہانیہ کے ماتھے پر لب رکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں جاٶ ا۔۔۔۔
آہہہہ آہہہ ۔۔۔
ہانیہ جو مسکراتی ہوئ بولی رہی تھی جب اس کے پاٶں پر پرفیوم کی شیشی گری تھی جو پاٶں پر لگی ۔۔۔
کیا کر دیا یہ پاٶں دیکھاٶ ۔۔۔
منان اس کے پاٶں سے خون نکلتا ہوا دیکھ وہی قدموں میں بیٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں تم جاٶ شیشہ اندر چلا گیا میں نکال لو گی ۔۔۔
ہانیہ اسے اپنے قدموں سے آٹھاتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
پاگل ہو گی ہو دیکھو کتنا خون نکل رہا ہے ۔۔۔۔
منان کاٹن سے خون صاف کرتا پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
پر یہ شیشہ نہیں نکلے گا ۔۔
ہانیہ خون آلود پاٶں میں اندر کو دھنسا شیشہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
نکلنا پڑے گا تم ایسا کرو میرا بازو زور سے پکڑو پین کم ہو گا ۔۔۔۔
منان ہانیہ کا ہاتھ پکڑتے اپنے بازو پر رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
آہہہہہ آہہہہہہ۔۔۔۔
ہانیہ منان کی گردن میں بازوں حائل کیے اپنا منہ اس کی گردن میں چپھا چکی تھی ۔۔۔
جیسے ہی منان نے شیشہ نکالا ویسے ہی ہانیہ اپنے دانت اس کی گردن پر گاڑھ چکی تھی ۔۔۔
جب منان چلایا تھا ۔۔۔۔۔۔
س۔سو۔ر۔سوری وہ پین تھا ت۔۔۔۔
ششش چلو ریسٹ کرو اب ۔۔۔۔
ہانیہ اس کی گردن پر اپنے دانتوں کے نشان دیکھتی شرمندہ ہوتی بول رہی تھی ۔۔۔
جب منان مسکراتا ہوا اسے آٹھا کر بیڈ پر لیٹاتے ہوۓ بات کاٹتا بولا ۔۔۔۔
خون نکل رہا تمہارے ۔۔۔
ہانیہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
تو صاف کرو اپنے لبوں سے ۔۔۔
منان اس کے اوپر جکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ج۔جی اچھا ۔۔۔
ہانیہ اتنی گھبرائ ہوئ تھی سمجھ ہی نہیں آیا اسے وہ کیا بول گی تھی ۔۔۔
تبھی بنا سوچے سمجھ وہ اپنا چہرہ اس کی گردن کی طرف لائ ۔۔۔۔
جب اچانک منان اس کا چہرہ پکڑتے اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر چکا تھا ۔۔۔
““کیسے کہو میں عشق میں تیرے کتنا بے تاب میں “
“آنکھوں سے آنکھیں ملا کہ چھڑا لو تیرے خواب میں “![]()
“““کیسے کہو میں عشق میں تیرے کتنا بے تاب میں “
“آنکھوں سے آنکھیں ملا کہ چھڑا لو تیرے خواب میں “![]()
“میرے سایے ہے ساتھ میں یارا جس جگہ تم ہو ““
““میں جو جی رہا وجہ تم ہو “![]()
![]()
منان ہانیہ کو نرمی سے چھوڑے اس کے کان میں سرگوشی کرتے گنگنایا تھا ۔۔۔۔
جب ہانیہ شرماتے ہوۓ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا گی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
آہہہہہ ہمارا بیٹا کیسا ہے ۔۔۔
روحا گود میں لیتی احمد کو فیڈر سے دودھ دیتی پیار سے بولی تھی ۔۔۔
جو اپنی گرین آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ویسے یہ ٹھرکی کہاں سے ہمیں دیکھ نہیں رہا ۔۔۔
ویسے دو ہفتے سے اگنور کیا ہے اسے ۔۔۔
روحا روم میں اتنی خاموشی دیکھتی دل میں سوچا تھا ۔۔۔۔
ہاۓے ہمارے بیٹے کے ڈمپل ہے ۔۔
روحا احمد کے گالوں پر کس کرتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
م۔مو۔موم۔ا۔انیج۔انیجل ل۔لو یو۔
احمد آپنے ننھے ہاتھ روحا کے گال پر رکھتا اٹکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہم بھی اپنے بیٹے سے محبت کرتے ہے چلو آپ دادو کے پاس جاٶ ہم آتے ہے ۔۔۔
روحا احمد کو گود سے اٹھاتی کوڈ میں لیٹاتی ہوئ بولی ۔۔۔
ن۔نہی۔نہیں موم ۔می۔میں آپ کے ساتھ رہو گا ۔۔۔
اچانک احمد روتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
دیکھو بیٹا اس ٹھرکی کو دیکھنا ہے پتہ نہیں کہاں ہے ۔۔۔
روحا اب نے چین ہوتی بولی تھی ۔۔
اسے خود سمجھ نہیں آیا وہ اتنا بے چین کیوں تھی ۔۔۔۔
راضیہ اسے لے جاٶ ۔۔۔
روحا ملازمہ کو آواز دیتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ احمد بھی منہ بناۓ چلا گیا تھا ۔۔۔
اسٹڈی روم میں بیٹھا صام لیپ ٹاپ پر روحا کے مسلسل چکر دیکھ رہا تھا جو پریشانی سے پورے روم میں چکر کاٹ رہی تھی ۔۔۔۔
ص۔ا۔م۔صام ۔کدھر تھے۔۔۔۔
روحا روم میں چکر کاٹ رہی تھی جب اچانک روم میں اندھیرہ ہوا اور اسے اپنی کمر پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا تبھی ہکلاتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔
میں نے کہاں ہونا مس کالی اپنی سانسوں کے پاس ہو ۔۔۔
صام روحا کا رخ اپنی طرف کرتا اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔
روحا کو صام کے لمس میں نرمی محسوس ہوئ جیسے وہ کوئ نازک پھول ہو ۔۔۔۔
صام آ۔۔۔۔
بلیک کلر کا فل تھری پیس پہنے اپنے خوبصورت بالوں کا فوجی کاٹ کیے سرخ سفید شفاف چہرے پر ہلکی شیو گرین آنکھوں میں وحشت لے اپنے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ لاۓ گالوں پر پڑتے ڈمپل اپنی وجہہ پرسلیٹی لے وہ تیار سا روحا کے سامنے کھڑا تھا ۔۔
روحا جو غصہ سے صام سے دور ہوتی بولنے والی تھی جب لائٹ واپس آن ہوتے سامنے صام کو تیار دیکھتی منہ کھولی کھڑی ہو گی تھی ۔۔۔
کیا ہوا مس کالی ہکا بکا کیوں ہو گی تمہارا ہی ہو پاس آو ۔۔
روحا کے نیم وا لبوں کو ہلکے سے چھوتے صام نے اسے کمر سے پکڑتے اپنے قریب لاتے کہا ۔۔۔
صام تہ سماہ خئستہ یے ۔۔۔
روحا کھوۓ ہوۓ انداز سے بولی ۔۔۔
واٹ کیا دماغ آوٹ ہو گیا یہ کیا بولی ہو ۔۔۔۔
صام روحا کی گردن پر اپنی انگلیاں چلاتے منہ بناتا بولا ۔۔۔۔
شعیب سے سکھی تھوڑی سی پشیتو ہے ۔۔۔
روحا صام کے ڈمپل پر ہاتھ رکھتی بولی ۔۔
ککککککیییااا ۔۔
اس کورنا کی جعلی ویکسین ک ۔۔۔
صام جو غصہ میں آتا بول رہا تھا جب اس اپنے گال پر روحا کے لب محسوس ہوۓ ۔۔۔
صام کس کا ہے ۔۔۔
روحا جانتی تھی وہ غصہ میں آ گیا تبھی اسے کنٹرول کرتی اس کے گال پر لب رکھتی بولی تھی ۔۔
جس میں کامیاب ہوئ ۔۔۔
مس لائف کا ۔۔۔۔
صام آپنی آنکھوں کو بند کیے بولا تھا ۔۔۔۔
اور صام ہماری بات مانے گا آپ نے لڑائ نہیں کرنی نہ ہی غصہ کرتا ۔۔۔
روحا اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتی سرگوشی کرتے بولی تھی ۔۔۔۔
مس لائف یہ ناانصافی ہے اپنی قربت سے مجھے بہلا لیتی ہو جب میں نے تمہیں اپنی قربت دی تو تڑپو گی تم ۔۔۔
صام روحا کو اپنے ساتھ زور سے لگاۓ بولا ۔۔
روحا کو اپنی کمر ٹوٹتی محسوس ہوئ ۔۔۔۔
تو ہم کون ہے آپ ٹھرکی ۔۔
روحا دوبارہ اپنے لب اس کے گال پر رکھتی بولی ۔۔۔
میری سانس ہو تم مس لائف ۔۔۔
صام بھی سب کچھ بھولے اپنے لب اس کی گردن پر رکھے بولا تھا ۔۔۔۔
تو سانس کو تکلیف نہیں دیتے ورنہ سانس ختم ہو جاۓ گی اس لیے کوئ تماشہ مت کرنا اچھے بچوں کی طرح کام کرنا بس ۔۔۔
روحا اپنے دانت صام کی تھوڑی پر گاڑھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
تم جو کہو گی میں ویسا ہی کرو گا مس ڈارک چاکلیٹ ۔۔۔
صام روحا پر اپنی گرفت ہلکی کیے بولا تھا ۔۔
چھوڑا اسے بلکل نہیں تھا ۔۔۔
گڈ بواۓ اب آپ کام کرے گے اور ہم خوش ہو گے بابا اور لالہ کا ساتھ دے گے ا۔۔۔
روحا صام کی ٹائ صیح کرتی بولی تھی مقصد صرف اتنا تھا وہ آفس چلا جاۓ ۔۔۔۔
ابھی وہ بول رہی تھی جب صام اپنی انگلی سے اس کی تھوڑی کو اُونچا کیے اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے لاک کر چکا تھا ۔۔۔۔
روحا آنکھیں پھاڑے اس کی گرین آنکھوں میں دیکھ رہی تھی وہ دیکھ سکتی تھی اس کی قربت میں صام کی آنکھوں کا وحشی پن ختم ہو جاتا تھا ۔۔۔۔
اتنی لمبی تقریر کا فائدہ آرام سے پاس آتی یہاں کس کرتی اور جو چاہے کروا لیتی جانتی ہو صام آفندی صرف تمہاری سنتا ہے پھر کیوں اپنی ننھی سی جان کو ہلکان کرتی ہو ۔۔۔
صام اسے نرمی سے چھوڑے اس کے گیلے لبوں پر انگلی پھیرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
کی۔کیوں کرتے محبت جبکہ جانتے ہے ہم کالی ہے۔۔۔۔
روحا گھبراتے ہوۓ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
جب تمہیں پہلی نظر میں دیکھا تب محبت بن گی پھر تین سال بعد جب پاکستان آیا تھا تب عشق بن گی اور اب۔۔۔۔
اور اب کیا ۔۔۔۔
صام روحا کو چھوڑے اپنا لیپ ٹاپ آٹھاتا بولا تھا ۔۔
جب روحا کی بے تابی سے پوچھے سوال پر وہ مسکرایا تھا ۔۔۔
اور اب یہ روز تمہاری قربت تمہاری اس سانسوں کے نشے سے مسٹر ایٹیٹوڈ بواۓ پلس ٹھرکی آوارہ نکما ہڈ حرام کا تم جنون بن چکی ہو مس کالی کلوٹی ۔۔۔۔
صام اچانک روحا کے اوپر جھکتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔
جبکہ روحا بیڈ پر گری اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اسے ایسا محسوس ہوا جیسے دل باہر آ جاۓ گا روحا کو اپنے دل کی دھڑکنے کانوں میں سنائ دے رہی تھی ۔۔۔
ٹھ۔ٹھرکی انہہ۔۔۔
روحا سے کوئ جواب نہ بن سکا تبھی منہ بناۓ وہ بولی تھی ۔۔۔
مس ڈارک چاکلیٹ میٹھا کم کھایا کرو بہت میٹھی ہو مجھے نمکین پسند ہے ۔۔۔
صام روحا کی دونوں آنکھوں کو چومتا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
ٹھرکی بابا کی وجہ سے ہم برداشت کرتے ہے ۔۔۔
روحا باہر جاتے صام کو دیکھتی منہ بناتی بولی جبکہ صام کی سانسوں کی خوشبو اسے اپنے آس پاس محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
””ماضی ۔۔۔
ہیر آپی کیا مرد واقعی ہوس پرست ہوتا ہے ۔۔۔
رات کو روحا ہیر کی گود میں سر رکھے بولی تھی ۔۔۔
شاہد بلیک بیوٹی کیونکہ میں نے یہی دیکھا ہے ۔۔۔
ہیر کھوۓ ہوۓ انداز سے بولی تھی ۔۔۔
کیا مرد کے لیے خوبصورتی زیادہ ضروری ہے ۔۔
روحا نے پریشان ہوتے پھر پوچھا ۔۔۔
مرد ہوتا ایسا ہے جہاں خوبصورت لڑکی دیکھی وہی اپنی ہوس پوری کر لی ۔۔۔
بس تم اپنا خیال رکھنا تم تو ہو ہی خوبصورت ۔۔۔
ہیر روحا کا گال چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
آپ ہے ہمارے ساتھ ہمیں کچھ نہیں ہونا ۔۔۔
روحا مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
میں پوری زندگی تو نہیں رہ سکتی تمہاری شادی بھی ہو گی اور۔۔۔
ہم شادی نہیں کرے گے بات ختم۔۔
روحا ہیر کی بات کاٹتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہہاہا بلیک بیوٹی تم روز با روز میری ہوس کو بڑھا ہی ہو بس ایک موقعہ چاہے مجھے ۔۔۔
مالی کاکا ان دونوں کے روم کے باہر کھڑا قہقہ لگاتا خبابث سے سوچتے بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
“حال۔۔۔۔۔
میں جانتا ہو تم شادی شدہ ہے مجھ معصوم کو کیوں جلا رہا ہے ۔۔۔
مستقیم منان کو دیکھتا طنز کرتا بولا ۔۔
کیوں میں نے اب کیا کر دیا ۔۔۔
منان حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔
دونوں ڈیول کیس کو ڈسکس کر رہے تھے جب مستقیم اس کی گردن دیکھتا بولا تھا ۔۔
خودی دیکھ لے مجھے شرم آتی ہے ۔۔۔
مستقیم شرماتے ہوۓ بولا ۔۔۔
چل بس کر اتنے تم ننھے کاکے یہ بس ایس۔۔۔
منان اس کو دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہاں تو اپنی حرکتوں پر بھی زرا کنٹرول رکھو ۔۔۔
مستقیم پھر اسے شوخ نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔
ہاں بس وہ یہ پتہ نہیں چل چھوڑ کام کرے ۔۔۔
منان اب واقعی شرمندہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا تم ہانیہ کو بتا دو کہ اس دن کی۔۔۔۔
میں نہیں بتا سکتا کیونکہ مجھے محبت ہے اس سے یہ راز ہی رہنے دو ۔۔۔
منان مستقیم کی بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
چلو میں چلتا ہو تم کام کرو ۔۔۔
منان فون کال سنتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
—————————————————————- “”تکیاں سی تینو جدوں پہلی واری
ہویا سی میں اک تیرا فین
جگ تُوں لکا کے تینوں سانب سانب رکھنا
کیتا سی میں فیوچر پلین““
““تکیاں سی تینو جدوں پہلی واری
ہویا سی میں اک تیرا فین
جگ تُوں لکا کے تینوں سانب سانب رکھنا
کیتا سی میں فیوچر پلین””
””آج نہیں تے کل میری بن ہی تو جانا اے
گل میری آج من جا
گل میری آج من جا
تو میری فیوچر وائف بن جا
میری فیوچر وائف بن جا““
””تیری میری جوڑی گریٹ آ
جلدی سے کر دے ہاں
کاہے کو ہو رہی لیٹ ہے
ان سٹیبل دونوں کا میٹل سٹیٹ ہے
تجھ کو بنانا میں نے سول میٹ ہے““
““نہ گرل فرینڈ والا چکر
نہ بے بی شو ھنا ہو گا
آج سے آپکی لائف میں نہ رونا دھونا ہو گا
قدموں میں رکھ دوں سب
مالک ہیں ہم کھلے دل کے
چین ہے فرار جب سے دیکھا آپ کو ہنستے کھیلتے““
““سجدے میں سر جھکتا ہے میں مانگتا ہوں رب سے یہ دعا
دنیا چاہے ہو جائے فنا
پر تو مجھ سے نہ ہو جدا
یہ میرا ہے وعدہ نہ چھوڑوں گا تمہیں
کر کے دیکھ مجھ پہ یقین
میں تیری باتوں پہ مر مٹا ““
““تیری خوبصورتی پہ آفرین
سیدھی سی بات ہے نہ کرتا ڈرامے
منا لوں ڈیڈی ممی چاچے تایا مامی
سارا گلاں چھوڑ سوہنیے نی چل من جا
چھڈ ساریاں نو میری فیوچر وائف بن جا
برائیدل میک اپ میں بیسٹ تو کراواں
لے کے دواں لہنگا نومی انصاری دا
منگے جے تو خوشیاں ہزار لکھاں دیواں
سب صدقہ اے سمائل تیری پیاری دا“
“““ویڈنگ ریسیپشن مالدیو ہونا
اوناں ساریاں نے اوتھے گج وج کے
دس ممی ڈیڈی نو کہ ٹینشن نی لینی
چکوں خرچہ میں فیملی ساری دا
تیرے گھر دیاں نے وی انج رکھ ریا نی ہونا
جیوں ٹریٹ میں تینوں کراں گا””
““تُوں میری فیوچر وائف بن جا
تُں میری فیوچر وائف بن جا
تُوں میری فیوچر وائف بن جا
تُں میری فیوچر وائف بن جا
تُوں میری فیوچر وائف بن جا
تُں میری فیوچر وائف بن جا
تُوں میری فیوچر وائف بن جا
تُں میری فیوچر وائف بن جا ![]()
![]()
![]()
مستقیم اپنے کیبن میں انٹر ہوتی مرحا کو دیکھتا سونگ گنگنایا تھا ۔۔۔۔
یہ تم مجھے پرپوز کر رہے کیا ۔۔۔
منہ میں ببل ڈالے مرحا شان بے نیازی سے بولی تھی ۔۔۔
ہاں یہی سمجھ لو کیا کہتی ہو ویسے یہاں کیوں آی ۔۔۔
مستقیم مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہاں میرا دل چھوڑی ہو گیا وہی ڈھونڈ دو ۔۔
مرحا اس کی کالی گہری آنکھوں میں گھورتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاں ضرور میں ڈھونڈ د۔۔۔۔
ڈیول کو پاشا نے پکڑ لیا ہمیں جلدی وہاں جانا ہو گا ڈیول کو پکڑنے گو فاسٹ مستقیم ۔۔۔
اس سے پہلے مستقیم کچھ کہتا جب منان جلدی سے انٹر ہوتا گھبراتے ہوۓ آڈر دیتا بولا تھا ۔۔۔
وہ کیسے مطلب ڈیول قابو میں اچھا ٹڈی بعد میں ملتے ہے زرا کام کر لو ۔۔۔
مستقیم مرحا کو دیکھتا اپنی کیپ پہنے جلدی سے جاتا بولا تھا ۔۔۔
سانڈ ہاے کتنا پیارا لگتا ہے بس موم ڈیڈ آ جاۓ پھر شادی کی بات کرو گی ۔۔۔
مرحا باہر جاتے مستقیم کو دیکھتی دل میں سوچتی بولی تھی ۔۔۔
