Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 14)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
تم آج کے بعد آفندی پلیس نہیں جاٶ گے ۔۔
نومی کے باپ نے اسے گھر لاتے غصہ سے کہا تھا۔۔۔
کیوں ابو میرا دوست ا۔۔۔
تم جیسے لوگوں کے دوست نہیں ہوتے بلکہ میں تمہیں خواجہ سرا کی ٹیم کو دے رہا ہو ۔۔
نہیں رکھ سکتا تمہیں گھر تمہاری دو بہنیں ہے اور ایک بھائ بھی بس کل جاٶ گے ۔۔۔
اس کا باپ بے حس ہوتا اس کی گرین آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
نہیں ابو ایسا مت کرے آپ مجھے گھر رکھ لے پر میں وہاں نہیں جاٶ گا ۔۔
نومی روتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ایسا مت کرنا نومی کے ابا جب تک میں زندہ ہو میرا نومی کہی نہیں جاۓ گا سمجھے بیٹا ہے میرا ۔۔
نومی کی ماں بھی روتے ہوۓ آتی نومی کو گلے لگاۓ بولی تھی ۔۔۔
نہیں ہے بیٹا ہمارا کب تک یہاں رہے گا مجھے برداشت نہیں ہوتا بس بات ختم یہ وہی جاۓ گا ۔۔
کون سا میرے خاندان کا وارث ہے جو کما کر کھلاۓ گا سب کو ۔۔۔
نومی کا باپ طش سے چلایا تھا ۔۔۔
بس کرو خون ہے میرا تمہیں پرواہ نہیں تو مت کرو میرا بیٹا اتنا پیارا ہے ۔۔۔۔
نومی کی ماں بھی غصہ سے چلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
آہان لالہ آپ تیار ہو گے ۔۔
روحا آہان کے روم میں آتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔
جو گرے شلوار کرتے کے اوپر بلیک کوٹ پہنے تیار کشادہ صاف شفاف چہرہ لیے گرین آنکھوں میں چمک لیے وہ روحا کی طرف آیا تھا ۔۔۔
ہاں میں تیار انیجل تم بتاٶ چمپین تیار ہو گیا ۔۔۔
پتہ نہیں کہا تو تھا ہم نے کون سا ہماری بات مان لیتے ہے ۔۔۔
روحا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہہا وہ صرف تمہاری ہی مانتا ہے ورنہ وہ ضدی ایک نمبر کا ہے ۔۔۔
آہان قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جی یہ بات تو ہے ۔۔
اچھا ہمارے ڈمپل بواۓ سے بات کروا دے لالہ ہم نے دیکھنا ہے ۔۔۔
روحا نے بے چین ہوتے کہا ۔۔۔
وہ ابھی سو رہا ہے ویسے بھی شام تک وہ خودی پاکستان آ رہا ہے ۔۔۔
تم ویٹ کرو اس کا ۔۔
آہان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہاے لیکن ہم سے ویٹ نہیں ہونا کتنے سال سے ہم ملے نہیں لالہ یہ غلط بات ہے ۔۔۔
روحا اداس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
کوئ بات نہیں انیجل وہ آ جاۓ گا پھر چاہے جو مرضی کرنا ۔۔۔
آہان روحا کے سر پر ہاتھ رکھتا ہوا مسکرا کر بولا تھا ۔۔۔
ہاۓ ویٹ نہیں ہونا ہم سے آپ ساتھ لے آتے اپنے ۔۔۔
روحا بے تابی سے بولی تھی ۔۔
ہاہہاہا چلو صام کو دیکھو کہاں ہے ۔۔
آہان پھر قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔
دیکھتے ہے ٹھرکی کیا کرتا ہے ۔۔
روحا بھی منہ بناۓ بولی تھی ۔۔
————————————————————
ہاےےے کتنا خوبصورت موسم ہے ۔۔
مستقیم پارک میں فارغ بیٹھے بولا تھا ۔۔۔
ہیلو بولو دلبرجانی کیسا ہے ۔۔
مستقیم فون کال سنتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔
ہاں میں گھر ہی جا رہا ہو ٹھرکی سو رہا ہو گا میں گھر جا کر بات کروا دو گا ۔۔۔
مستقیم فون کال پر زرجان کی بات سنتا بولا تھا ۔۔۔
سانڈ بھائ ۔۔۔
سانڈ بھائ ۔۔۔
مستقیم فون پر بات کر رہا تھا جب اسے آواز سنائ دی ۔۔۔
بعد میں بات کرو گا ۔۔
مستقیم سامنے چھوٹی سے لڑکی کو دیکھتا فون کاٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔
کون سانڈ بھائ ۔۔۔
مستقیم اسے غصہ سے دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جی آپ سانڈ ہے ۔۔
وہ معصوم سی شکل بناۓ اس کے کسرتی جسم پر طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔
چلو میں سانڈ ٹھیک پر یہ بھائ نہ کہو ۔۔۔
مستقیم اس کا شفاف چہرہ دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
وہ سانڈ میری ہلیپ کرو وہاں کچھ لڑکے مجھے تنگ کر رہے تھے ۔۔۔
وہ اپنے پیچھے دیکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
واٹ تم جیسی ننھی لڑکی کو کوئ تنگ کر سکتا ہے چھوٹی سی بچی ہو یار ۔۔
مستقیم اس کے منہ کے بگڑے زاویے دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
پنک کلر کا ٹاپ بیلو کلر کی جینز پہنے اپنے بالوں کا بن بناۓ سفید رنگ گلابی چھوٹے سے ہونٹ بڑی بڑی کالی گہری آنکھیں چھوٹا قد جو بامشکل چار فٹ تھا جو مستقیم کے چھ فٹ تین انچ کے سامنے ایک چھوٹی بچی لگتی تھی ۔۔۔
میں بچی نہیں ہو سمجھے لڑکی ہو پورے بیس سال کی ہو گی ۔۔
وہ بگڑے موڈ سے بولی تھی کیونکہ اسے برا لگتا تھا اپنے قد کی وجہ سے وہ واقعی بچی لگتی تھی ۔۔۔۔
اوووو وہ ہ ہ کیا بات بتائ ہے ویسے نام کیا ہے تمہارا ۔۔۔
مستقیم کو مزہ آیا تھا اپنے سامنے کھڑی لڑکی سے بات کرنے میں جو پٹر پٹر بول رہی تھی ۔۔۔
مرحا نام میرا ۔۔۔
مرحا اپنی چھوٹی سی گردن آٹھاۓ اکڑ کر بولی تھی ۔۔۔
وہ دیکھو آ گیا یہ کون ہے جاٶ ان کے ساتھ ۔۔۔
مستقیم سامنے سے آتے دو لڑکوں کو دیکھتا بولا تھا ۔۔
آو جانمن ہم چلتے ہے ۔۔۔
لڑکا خباثت سے اسے آٹھتے بولا تھا ۔۔
چھوڑو چھوڑو مجھے اوےےے سانڈ بچاٶ مجھے ۔۔
مرحا تڑپتے ہوۓ چیختی ہوئ بولی تھی ۔۔
جبکہ مستقیم اپنی جگہ سے انجان بنا آٹھ کر جا رہا تھا ۔۔۔
ہاہاہااہا کس کو مدد کے لیے بلا رہی تھی وہ بزدل ہے اتنی باڈی ہونے کا فائدہ جو ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔۔
لڑکا مرحا کو کندھے پر آٹھاۓ جاتا ہوا بول رہا تھا ۔۔۔
سانڈ نے مدد نہیں کی کتنا برا لڑکا تھا ہاے چھوڑو ۔۔۔
مرحا مسلسل اپنے ننھے ہاتھوں کے مکے بناۓ مارتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاا کت۔۔۔
آہہہہہ آہہہہہہ۔۔۔
اس سے پہلے لڑکا کچھ کہتا جب اس کی دونوں ٹانگوں پر گولیاں لگی تھی ۔۔۔
سامنے مستقیم سنجیدہ چہرہ لیے ہاتھ میں گن لے شوٹ کر رہا تھا ۔۔۔
گولیاں لڑکے کی دونوں ٹانگوں پر لگی تھی جب لڑکے درد سے تڑپتا نیچے کو جھکا تبھی مرحا اس کے کندھے سے گرتی سامنے کھڑے مستقیم کے اوپر گری تھی ۔۔۔
چلو آٹھو اب دیکھو لڑکی کو ۔۔۔
اتنا بھی کمزور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے ایس پی مستقیم آفندی نام ہے میرا ۔۔۔
مستقیم ویسے ہی زمین پر گرے اپنی اوپر گری مرحا کو پکڑتے غصہ سے دوبارہ شوٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔
ہاےےے کتنا پیارا ہے سانڈ غصہ بھی کرتا ہے ۔۔
مرحا ویسے ہی اس کی گہری کالی آنکھوں میں دیکھتی دل میں سوچتی بولی تھی ۔۔۔
ک۔کیا ا۔ایس پی۔۔
دوسرا لڑکا ڈرتا ہوا بولا تھا جبکہ پہلا لڑکا زمین پر گرا اپنی خون آلود ٹانگ پکڑے بھی ڈر گیا تھا ۔۔۔
مع۔معاف کر دو سر ۔۔
لڑکا ڈرتا ہوا کہتا دوسرے کو سہارا دیتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
آٹھو تم موٹی آئنیدہ اکیلی نظر نہ آو تم۔۔
مستقیم اسے اوپر سے آٹھاتے غصہ سے بولا تھا ۔
سانڈ تمہیں امریکہ ہونا چاہے تھا ۔۔۔
مرحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔
کیوں ٹڈی ۔۔
مستقیم منہ بناۓ بولا تھا ۔۔
کیونکہ مجھے بوکسنگ بہت پسند ہے میں روز دیکھتی تھی یونی سے واپس آ کر ۔۔
مرحا اچانک اداس ہوتی بولی تھی ۔۔
یہاں کیوں آئ ہو ۔۔۔
مستقیم اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو آس پاس دیکھتا گھومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بس آ گی تمہیں پتہ موم ڈیڈ بھی آ رہے پھر میں تم سے ملنے آٶ گی ۔۔
مرحا خوش ہوتی بولی تھی ۔۔
اففف ٹڈی سی ہو زبان پٹر پٹر چلتی ہے جاٶ یہاں سے چھوٹی بچی لگتی ہو ۔۔۔
مستقیم اسے گھورتا ہوا بولا تھا جو مسلسل اسی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔
ہاں تو جا ہی رہی کون سا تمہارے گھر آ رہی ہو سانڈ ۔۔۔
مرحا برا سا منہ بناتی واپس جاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھا سنو اپنا فون نمبر دو مجھے ۔۔۔
مستقیم جو خود بھی مسکراتا واپس جا رہا تھا جب اسے مرحا کی آواز پیچھے سے سنائ دی ۔۔۔
ہاں لکھو پندرہ ۔۔۔
مستقیم بنا واپس موڑے بولا تھا ۔۔۔
یہ تو پولیس کا کا نمبر ہے ۔۔
مرحا جلدی سے موبائل پر نمبر ڈائل کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں تو پولیس کا نمبر لو توبہ ہے آج کل کی لڑکیوں کا کوئ حال نہیں قد کی اتنی چھوٹی اور دماغ چیک کرو ۔۔
جاٶ یہاں سے اب ورنہ جیل لے جاٶ گا ۔۔۔
مستقیم دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
سانڈ انہہ اتنے بھی خوبصورت نہیں تم سانڈ گنڈہ ۔۔۔
مرحا بھی برے برے منہ کے زوایے بناۓ بولتی وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
ہاں دلبر جانی تیرا کام ہو گیا یار کتنا بولتی ہے بلکل میری ٹھکر کی ہے ۔۔
ہاں تو نے کہا تھا مدد کرو اس کی تبھی یہاں بیٹھا تھا میں ۔۔
مستقیم دور جاتی مرحا کو دیکھتا زرجان کو فون کرتا بولا تھا ۔۔۔
شکریہ یار وہ میرے بزنس پارٹنر کی بیٹی ہے امریکہ سے آئ ہے ۔۔
بس جان کو خطرہ تھا اس کے اور یہ بات مجھے صام نے بتائ تھی ۔۔
زرجان بھی مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
ایک تو اس ٹھرکی نے ہر کام مجھ سے کروانا ہوتا ہے خود بس انیجل کے پاس رہتا ہے ۔۔
اچھا سن میں سوچ رہا تھا تھوڑی سی شادی کر لو ۔۔
مستقیم جلدی سے بات کرتے مسکرایا تھا ۔۔۔
واٹ تھوڑی سی شادی کا مطلب ۔۔۔
زرجان حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔
چھوٹی بچی لگتی ہے اس کے حساب سے تھوڑی سی شادی بس بابا مان جاۓ ۔۔
مستقیم مذاق کرتا بولا تھا ۔۔
اففف توبہ پہلا پولیس والا ہے جو اتنا فنی ہے ورنہ کھڑوس ہوتے ہے ۔۔۔
زرجان اس کی بات سنتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔
دیکھ کھڑوس صرف انیجل اور ٹھرکی ہے مجھ سے سیریس نہیں رہ جاتا چل پھر بات ہوتی ہے ۔۔
مستقیم آہستہ آہستہ چلتا ہوا جاتا بولا تھا ۔۔
جبکہ پارک میں آئ کافی لڑکیاں اس کی وجاہت دیکھتی پاگلوں کی طرح دیکھتی خوش ہو رہی تھی جبکہ وہ بے نیاز چلتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ہم کہاں جا رہے ۔۔
ہانیہ روم میں آتی منان کو دیکھتی بولی تھی تو کیری میں کپڑے رکھ رہا تھا ۔۔
ہاں جان ہم جرمنی جا رہے ہے تمہاری سرجری ہے پھر یہ چہرہ اور خوبصورت ہو جاۓ گا ۔۔۔
منان ہانیہ کو کمر سے پکڑتے اپنے قریب لاتے بولا تھا ۔۔۔
لیکن کیوں مانی میں نہیں جانا ایسے ہی ٹھیک ہے ا۔۔۔
ششش چپ ایک لفظ نہیں بولو گی ورنہ ابھی ایسے ہی لے جاٶ گا تم یہ سرجری کرواۓ گے ڈی ایس پی منان کھوکھر کی بیوی ہو ۔۔۔
منان اس کے لبوں پر انگلی رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
چلے جیسے آپ کی مرضی میں کچھ نہیں کہتی ۔۔
ہانیہ حامی بھرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
پکا کچھ نہیں کہو گی مجھے اگر میں کچھ کر دو ۔۔۔
منان ہانیہ کی گردن کی طرف دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کوئ نہیں چلو کام کرو ۔۔۔
ہانیہ اس سے دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ایسے کیسے میں نے گفٹ لیا ہے وہ تو لے لو ۔۔
منان ہانیہ کو بیک ہگ کرتا اس کی گردن پر لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔
بہتتتت پیارا ہے مانی مجھے بہت پسند آیا ۔۔۔
منان ہانیہ کے گلے سے ڈوپٹہ دور کرتا وہاں اس کی سفید گردن پر لاکٹ پہنا چکا تھا ۔۔۔
جو ہارٹ شیپ میں ایچ اور ایم ڈائمنڈ سے لکھا تھا ۔۔۔
لاکٹ بہت ہی نازک تھا تبھی ہانیہ آنکھوں میں آنسو لاتے بولی تھی ۔۔۔
پاپا کے بعد صرف تم نے محبت کی مجھ سے ورنہ میری کزنز بھی نفرت کرنے لگی تھی مجھ سے ۔۔۔
ہانیہ روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
کہاں دیکھا تھا ایسا شوہر جو اپنی بیوی کے جلے چہرے کے بادجود اس سے محبت کرتا ہو ۔۔۔
تم بہت خوبصورت ہو تمہارا دل خوبصورت ہے چہرہ بھی ٹھیک ہو جاۓ گا تم بس میرا سوچا کرو ۔۔۔
منان ہانیہ کا رخ اپنی طرف کرتا اس کی گردن پر لب رکھتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔
ڈی ایس پی رومانٹک بھی ہوتے ہے کیا میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہے ۔۔۔
ہانیہ منان کی گردن پر بازو حائل کرتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اسے سکون ملا تھا منان اس سے محبت کرتا ہے ۔۔۔
ابھی تو میں رومانٹک ہوا ہی نہیں بتاٶ تمہیں کتنا رومانٹک ہو ۔۔
منان اپنے لب اس کی تھوڑی پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں م۔میں کہہ۔رہی تھی کھانا کھا لے ۔۔۔
ہانیہ اس کی بات کا مطلب سمجھتی ہکلاتے ہوۓ اس کی گرفت میں مچلتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاں چلو کھانا کھاتے ہے پہلے سویٹ ڈش بھی ہو پھر کھانا ۔۔۔
منان اس کے لبوں کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہرگز نہیں مانی می۔۔۔
ہانیہ اس کی نظروں کا مطلب سمجھتی بول رہی تھی جب منان اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔
اب منان اسے اپنی گود میں آٹھاۓ روم سے باہر لے کر جا رہا تھا جبکہ اس نے ہانیہ کے لبوں کو ویسے ہی قید کیا ہوا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ہاے اللہٌشام ہو گی پر تم یہی لیپ ٹاپ کے پاس بیٹھی ہو ۔۔۔
زرجان روم میں آتا یافی کے پاس بیٹھتا بولا تھا ۔۔
جو نائٹ ڈریس پہنے لیپ ٹاپ یوز کر رہی تھی ۔۔
ہاں بس کچھ ملیز آی تھی وہی چیک کی تم سناٶ کیسا دن گزرا ۔
یافی لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
بور یار میں تو اداس ہو گیا اپنی یافی کے بنا ۔۔۔
زرجان اپنی شرٹ اتارتا یافی کو کمر سے پکڑتا اپنی گود میں بیٹھا چکا تھا ۔۔
یہ کیا حرکت ہے جان شرٹ کیوں اتار دی ۔۔
یافی نظریں چڑاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
رات ہو گی سونا ہے اچھا بتاٶ انیجل کے پاس گی تھی ۔۔۔۔
زرجان یافی کے ماتھے پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔
جی گی تھی صام سے نہیں ملی وہ شاہد اپنے روم میں تھا ۔۔۔
یافی اس کی گرے آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
کیوں نہیں ملا ۔۔۔
زرجان اپنے لب اس کی گردن پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔
یا رومینس کر لے یا پھر بات سن لے ۔۔۔
یافی جنجھلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاں تو بات کو دفع کرو ہم رومینس کرتے ہے ۔۔۔
زرجان اپنے لبوں سے اس کے کان کی لو لو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
صام سو رہا تھا اور انیجل سے بات ہوئ پتہ وہ اتنی خوش تھی اس کا ڈمپل بواۓ آ رہا ہے ۔۔
یافی خودی بولی تھی کیونکہ زرجان اپنے کام میں مصروف تھا ۔۔۔
جان میں نے ابھی کیا بتایا ۔۔۔
یافی زرجان کا چہرہ ہاتھوں میں لیتی دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
جو مسلسل اس کی گردن اور چہرے کو چوم رہا تھا ۔۔
آفندی انکل نے ٹھرکی کی انسلٹ کی شاہد یا انیجل اور ٹھرکی کی لڑائ ہو گی آگے مجھے نہیں پتہ یار ۔۔۔
زرجان اپنی گرے آنکھوں میں معصومیت لاتے بولا تھا ۔۔۔
افففف تمہارا دھیان کدھر ہے حد ہے جان ۔۔۔
یافی جنجھلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
تمہارے اوپر دھیان میرا بس پھر کوئ خبر نہیں رہتی مجھے ۔۔۔
زرجان یافی کو بیڈ پر لیٹاتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔
سارا دن ویٹ کیا تمہارا کہ تم ص۔۔۔۔
یافی جو منہ بناۓ بول رہی تھی جب زرجان اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا ۔۔۔
زرجان کے عمل کو محسوس کرتے یافی جان گی تھی وہ کتنا ترستا تھا یافی کی قربت کے لیے ۔۔۔۔
———————————————————–
نہیں آپ آفس سارا دن روم میں رہے آپ ۔۔۔
روحا روم میں آتی صام کو دیکھتی بولی تھی جو بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا ۔۔۔
ہاں نہیں کیا گیا صبح جاٶ گا تم بتاٶ اتنی خوش کیوں ہو ۔۔۔
صام برا سا منہ بناۓ بولا تھا ۔۔۔
وہ ہمارا ڈمپل بواۓ آ رہا ہے آپ کو پتہ ۔۔
روحا خوشی سے چہکتے ہوۓ بیڈ پر آتی بولی تھی ۔۔۔
کون ہے یہ ۔۔
صام سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
روحا اپنی باتوں میں اتنی گم تھی اگر تھوڑی توجہ دیتی تو دیکھتی صام آج کتنا سیریس ہوا ہے ۔۔۔
ہم بتاۓ گے بلکہ ابھی آنے والا ہو گا ۔۔
آپ کو پتہ اسے ریڈ کلر پسند ہم وہی پہنے گے ۔۔۔
اور اسے روز بھی پسند ہے اور ۔۔۔
روحا سب بھولتی نان سٹارپ شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔
جبکہ صام بس اس کے ہلتے لب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ریڈ کلر کا ٹاپ پہنے ساتھ بیلو جینز براٶن بالوں کو کھلا چھوڑے جو کچھ آگے اور کچھ پیچھے کمر پر جھول رہے تھے ۔۔۔
جبکہ کافی عرصے بعد اس کی ڈراک براٶن آنکھوں میں چمک آئ تھی ۔۔
بنا میک اپ کیے روحا صام کے سامنے بیٹھی مسلسل پٹر پٹر اپنے ڈمپل بواۓ کی باتیں کر رہی تھی ۔۔
یہ جانے بنا صام کتنا جلیس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
صام ٹھرکی وہائٹ چاکلیٹ کیا ہوا آپ کو یہ آنکھیں ریڈ کیوں ۔۔
روحا جو بول رہی تھی جب نڈھال ہوۓ صام کو دیکھتی بولی تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کچھ نہیں گرمی لگ رہی شاہد میں باتھ لے کر آیا ۔۔۔
صام اپنی شرٹ اتارے بیڈ سے کھڑا ہوتے بولا تھا ۔۔۔
سوری صام آپ کو اس گندے ڈیول نے مارا تھا ۔۔
ہمیں آپ کا خیال رکھنا چاہے تھا طیبعت زیادہ خراب ہے کیا آپ کی ڈاکٹر کو بلا لیے ۔۔۔
روحا اچانک پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
نہیں طیبعت ٹھیک ہے بس ویسے ہی نیند آ رہی ہے تم کرو اپنے اس ڈمپل بواۓ کی باتیں ۔۔
صام ویسے ہی اس کے قریب آتا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جاۓ اب یہ بنا شرٹ کے پاس کیوں آ رہے ۔۔
روحا ڈرتے اسے اپنے قریب آتے دیکھ بیڈ سے اترتی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ ہم۔دونوں باتھ لے گے ۔۔
صام ایک جست میں روحا کے پاس پہنچتا اسے باہوں میں بھرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
یہ غلط ہے ٹھرکی ہم نے باتھ نہیں لینا ہمارا ڈمپل بواۓ آنے والا ہے بس آپ ۔۔۔
روحا غصہ سے اختجاج کرتی بولی تھی ۔۔
جبکہ صام بنا کوئ سنے واش روم کی طرف چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
““کیا جانے تو میرے ارادے“
“لے جاو گا سانسیں چوڑا کے“![]()
“دل کہہ رہا ہے گہنگار بن جا“
“بڑا چین ہے ان گناہوں سے آگے “![]()
“میں گم شدہ سی رات ہو “
”میری خوش نما صبح تم ہو “![]()
![]()
““میں جو جی رہا ہو وجہ تم ہو “
“میں جو جی رہا ہو وجہ تم ہو“![]()
![]()
ص۔صام دیکھے یہ غلط ہے اتنی مشکل سے تیار ہوۓ ہے ۔۔
روحا رونی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
صام اسے نیچے اتارتا شارو کے نیچے کھڑا کر چکا تھا ۔۔۔
اہہہ۔آہہہ ٹھنڈا پانی کیوں صام یہ برف ہے ہمیں سردی لگ جانی ہم جا رہے ۔۔
صام فل برف والا شارو آن کر چکا تھا جب روحا اپنے اوپر گرتے پانی کو محسوس کرتی تڑپتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
مجھے ٹھنڈے پانی کی ضرورت ہے مس کالی تم بس پاس رہو یہ پانی تمہیں نہیں چھوۓ گا ۔۔۔
صام روحا کو اپنے ساتھ لگاۓ بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔
کالے لمبے بال جو بھیگ کے شولڈر کے ساتھ چپکے ہوۓ تھے ڈراک گرین آنکھوں میں ویسی ہی وحشت لاۓ کسرتی جسم مضبوط سینہ سکس پیک جس پر روحا کی بار بار نظر جا رہی تھی ۔۔۔
وہ اوپر روحا کو قابو میں کیے اوپر جھکا تھا جس کی وجہ سے روحا سے زیادہ وہ برف والے پانی میں بھیگ رہا تھا ۔۔۔
صام کے چہرے سے پانی آتا روحا کے چہرے پر گر رہا تھا ۔۔۔
ص۔ا۔م۔ آپ ک۔سکس پیک بھی ہے ۔۔
روحا اپنی حالت پر قابو پاتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔
ہاں ہے تم چھو کے دیکھو مجھے پورا کا پورا تمہارا ہو ۔۔۔
صام ویسے ہی بہکے ہوۓ انداز سے روحا کا ہاتھ پکڑتا اپنے سینے پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں ہم کیوں صام ہمیں سردی لگ رہی ۔۔۔
روحا اپنی حالت پر قابو پاتی بہانہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
کوئ بات نہیں میں ہو تمہارے لیے ہی تو صام آفندی ہے ۔۔
صام روحا کو اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔
ص۔ام۔صام آپ کی طیبعت نہ۔نہیں ٹھیک ۔لگ۔لگتا بخار ۔ہو۔ا آپ ۔کو۔
روحا اٹکتی سانسوں کے درمیان اپنی بات پوری کر سکی تھی کیونکہ وہ اپنی گردن پر صام کی گرم سانسیں محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔
ہاں بخار ہوا مجھے تمہارے عشق کا مس لائف ۔۔
صام روحا کے ٹاپ کے بٹن کھولتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا ۔۔۔۔
ن۔نہیں ۔صا۔صام پلیز یہ ڈ۔۔۔
جو بھی تمہارا ڈمپل بواۓ ہے یاد رکھنا تمہاری زندگی میں صرف صام آفندی ہونا چاہے
اور یہ ریڈ کلر مجھے نہیں پسند بلیک کلر میں زیادہ پیاری لگتی ہو ۔۔۔
صام روحا کی بات کاٹتا ٹاپ کے سارے بٹن اوپن کر چکا تھا ۔۔۔
انتہا کے ٹھرکی اور بے شرم ہے آپ نفرت ہے ہمیں آپ سے پتہ اس سے اچھا تھا ڈیول کے پاس ہی نہ جاتے نہ وہ آپ کو مارتا نہ ہی آپ پاگل ہوتے ۔۔
روحا بے بس ہوتی صام کے شولڈر پر دانت گاڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھی بات ہے میں عشق کرتا ہو بلکہ اب تو جنون بن رہی ہو میرا ۔۔
صام واش روم کی لائٹ آف کرتا روحا کا ٹاپ اتار چکا تھا۔۔۔۔
اب تو چھوڑ دے ٹھرکی انسان حد ہے کتنا جلیس ہوتے ہے ۔۔
اندھیرے میں ہی کھڑے صام اپنے ساتھ لائ بلیک شرٹ روحا کو پہنا چکا تھا ۔۔۔
تبھی روحا منہ بناتی بولی تھی ۔۔
کیونکہ روحا صام کی انگلیاں اپنی کمر اور پیٹ پر محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔
مجھے اچھا نہیں لگتا مس کالی میرے علاوہ تم کسی اور کا سوچو ۔۔
صام روحا کو گود میں آٹھاۓ اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب لاتا بولا تھا ۔۔۔
ٹھرکی تو ہے آپ آج پکا یقین ہو گیا اور ہم بچے نہیں ہے جو ایسے شرٹ چیج کرواتے ہے ہماری ۔۔
روحا اس کی گرین آنکھوں میں دیکھتی منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
میرے لیے بچی ہی ہو چھوٹی سی دیکھو کوئ وزن ہی نہیں ہے ۔۔
صام ایک ہاتھ سے لائٹ آن کرتا بولا تھا ۔۔۔
ص۔ا۔م صام آپ کے ہونٹ نیلے کیوں ہو رہے ۔۔۔
روشنی ہوتے وہ صام کے نیلے ہونٹ دیکھتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
کیونکہ صام اب فریش نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔
شاہد سردی لگ گی مجھے ۔۔۔
صام روحا کو ویسے ہی گود میں آٹھاۓ روم میں آتا بولا تھا ۔۔۔
ص۔آم ہمیں۔صام ہمیں چھوڑے باقی کے کپڑے گیلے ہے بیڈ گیلا ہو جاۓ گا ہمیں چیج کرنے دے ۔۔۔
روحا صام کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ صام اسے بیڈ پر گراتا خود بھی ساتھ لیٹ گیا تھا ۔۔۔
اچھا چھوڑو یہ تو پوچھو میرے ہونٹ کیسے پنک ہو گے ۔۔۔
صام بنا کچھ سنے کروٹ چیج کیے بولا تھا ۔۔۔
جب روحا نیچے اور صام اوپر آیا تھا ۔۔۔۔
ص۔صام بہت کر لیا اب چھوڑے واقعی گیلا ہو گیا بیڈ ہم سوۓ گے کہاں ۔۔۔
روحا صام کے ادارے دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی کیونکہ صام پھر بہکے ہوۓ اس کی بیوٹی بون پر لب رکھ چکا تھا ۔۔۔۔
صام کیا ہو گیا ہے آپ ہمیں تنگ کر رہے ہے ۔۔۔
روحا بے بس ہوتی بولی تھی ۔۔
کیونکہ صام بلکل مدہوش ہو چکا تھا ۔۔۔
اچھا چلو سو جاٶ اب ٹھیک ۔۔۔
صام روحا کو دوبارہ باہوں میں بھرتا بیڈ سے نیچے اترتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
پہلے چھوڑے ہم چیج کرے گے ۔۔۔
روحا دور ہوتی غصہ سے بولی تھی ۔۔
ہاں تو کرو یہی اپنی شرٹ ریمو ۔۔
صام بے نیاز ہوتا بولا تھا ۔۔۔
افففف انتہا کے ٹھرکی ہے ۔۔۔
روحا اپنا پاٶں ٹیچتی ہوئ وڈراب روم میں چلی گی ۔۔۔۔
———————————————————–
شکر ہے ڈیول تم ٹھیک ہو گے میں تو ڈر گیا تھا ۔۔
وہ روم میں آتا بولا جہاں ڈیول شرٹ لیس ہوۓ لیپ ٹاپ یوز کرتا بیٹھا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہونا ہی تھا ڈیول کی موت اتنی جلدی نہیں آنی کہ ایک معمولی سے سانپ سے مر جاتا ۔۔۔۔
ہاں ڈیول اپنی انیجل کے ہاتھوں مر سکتا ہے ۔۔۔
ڈیول مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
بڑی بات ہے ڈیول آج مسکرایا اور ڈمپل بھی شو ہوۓ ۔۔۔
وہ ہاتھ نچاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہاں انیجل کو ڈمپل پسند ہے بہت بس اس لیے ۔۔۔
ڈیول مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اچھا سنو فرحان صام کا قتل کروانا چاہتا ہے تو تم اس بارے میں کیا کہتے ہو ۔۔
وہ پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔
یہ تو اچھی بات ہے میرے ہاتھوں نہ سہی اس فرحان کے ہاتھوں ہی مر جاۓ صام آفندی ۔۔
تبھی روحا کی لائف میں ڈیول کی انٹری ہو پاۓ گی ۔۔۔
ڈیول طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
مطلب تم بھی چاہتے ہو صام مر جاۓ ۔۔
وہ حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں صام مرے تبھی ڈیول آے گا ۔۔
اب تم جاٶ انیجل سونے والی ہے ۔۔
ڈیول لیپ ٹاپ آف کرتا کہتا خودی بھی بیڈ پر لیٹ گیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ہم سوئیں گے کہاں۔۔
روحا بلیک کلر کا نائٹ ڈریس پہنے باہر آتی گیلے بیڈ کو دیکھتی پریشان ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔
میری باہوں میں۔۔۔
صام نے یہ کہتے ہی روحا کو باہوں میں بھر چکا تھا ۔۔۔
لی۔کین۔صام
لیکن صام ۔۔۔
بس چپ۔۔۔
روحا جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام بولا ۔۔
ص۔ص۔صام ہم نے سونا ہے ۔۔
صام چلتا ہوا روحا کو صوفے پر گرا چکا تھا جب روحا ڈرتے ہوۓ بولی ۔۔
ہاں سو جانا صبح کو۔۔۔
صام بھی صوفے پر لیٹتا ہوا بولا تھا ۔۔
لیکن صبح تو اٹھتے ھیں ۔۔
ہم ابھی سونے لگے ۔۔۔
روحا آج واقعی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
صام بلکل چپک کر لیٹ چکا تھا ۔۔
میں سونے دوں گا تو تم سوؤ گی نا۔۔۔
صام ایک دفعہ پھر روحا کو قابو کیے بولا تھا ۔۔۔
ص۔صام کیا ہوا ہے آپ کو سونے دے ہمارا ڈمپل بواۓ آ جاۓ گا کچھ دیر بعد ۔۔۔
روحا رونی سی شکل بناۓ بولی تھی نکل تو سکتی نہیں تھی صام کی گرفت میں جو تھی ۔۔
عشق ہوا ہے وہ بھی تمہاری ان سانسوں سے مس لائف تم بہت خوبصورت ہو ۔۔۔
صام نے یہ کہتے ہی اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اس کے منہ کو اونچا کیا اور اس کے ہونٹوں کو نرمی سے اپنے ہونٹوں میں لیا۔۔۔
روحا جو منہ کھولے سب سن رہی تھی صام کی اس حرکت پر اب وہ ہکابکا رہ چکی تھی ۔۔
ص۔ا۔م۔صام چھ۔چھوڑ۔چھوڑے ہمیں ۔۔
روحا دور ہوتی بامشکل گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔
کیا ہوا مس لائف ڈر گی اتنی قربت سے چچچچ ۔۔
ہم ڈرتے نہیں ہے آپ سے سمجھے ۔۔۔
صام اپنی سرخ آنکھوں میں طنز لاۓ بولا تھا جب روحا غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔
پھر دور کیوں ہوئ اگر اتنی بہادر ہو تو برداشت کرو میری قربت ۔۔
صام دوبارہ روحا کے لبوں کو قید کیے بولا تھا ۔۔
صام کے عمل میں روحا کو سختی محسوس ہوئ تھی جیسے وہ غصہ اتار رہا ہو ۔۔۔
ان۔نی۔انیجل موم۔۔۔
روحا جو مسلسل صام کے اوپر لیٹی مکے مار رہی تھی جب اسے روم میں یہ آواز سنائ دی ۔۔۔
ڈ۔م۔مپل۔ڈمپل بواۓ ۔۔۔
روحا جلدی سے دور ہوتی بامشکل بولی تھی۔۔
جبکہ صام بگڑے تیور لیے سامنے کھڑے ڈمپل بواۓ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جو اپنی گرین آنکھوں میں چمک لاۓ اور گالوں پر ڈمپل شو کیے سکون سے کھڑا تھا ۔۔۔
ان۔انیجل موم۔۔۔
وہ دوبارہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
آہہہہ مائ ڈمپل بواۓ ۔۔۔
روحا جلدی سے نیچے اترتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
جبکہ صام کے کان میں انیجل موم کے لفظ گونج رہے تھے ۔۔۔
