Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 49)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 49)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
ب۔بابا ایسا نہیں ہو سکتا یہ سب کیا ہوا میری بلیک بیوٹی اس دنیا میں نہیں رہے ۔۔
ہیر ہوش میں آتی زیدی صاحب کے سینے سے لگی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔
سب کی حالت ایسی ہی تھی ۔۔۔
سب پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔۔
ان کے ہنستے مسکراتے گھر کو نظر لگ گی تھی ۔۔
مستقیم آہان منان زرجان مرحا ہانیہ سارے ہاسپٹل ہے یافی بھی اب ہاسپٹل میں ہے ہیر کی طیبعت بھی خراب ہو رہی ۔۔۔
وردہ بیگم دھاڑے مارتی ہوئ روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہال میں دو لاشیں پڑی تھی جہاں ہیر آفندی صاحب زیدی صاحب وردہ بیگم ہی تھے یا باقی نوکر ہی تھے ۔۔۔
بس کرو میری جان ایک تم ہی میرے پاس رہ گی میری روحا مجھے چھوڑ کر چلی گی ۔۔۔
زیدی صاحب خود بھی روتے ہوۓ اسے چپ کرواتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔۔
جب ہیر غشی کھاتی دوبارہ بے ہوش ہوئ تھی ۔۔
میرے معصوم بچے چلے گے ہماری تو دنیا اجڑ گی ہے ۔۔۔
جنازہ اٹھاتا دیکھ وردہ بیگم ہمت ہارتی چیختے بولی تھی ۔۔۔
ہر آنکھ اشک بار تھی اتنی جوان موت پر ۔۔۔
————————————————————
بس کرو شعیب ان کی قسمت میں ایسا ہی لکھا تھا تم اداس مت ہو۔۔
وہ اسے اداس دیکھتی خود روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
میرے سامنے سب کچھ ہوا یار میری گناہ سے واپسی بھی بلیک بیوٹی کی وجہ سے کی تھی اب وہی نہیں رہی ۔
شعیب سگریٹ پیتا ہوا بولا تھا
سب جانتی ہو میں اس دن بلیک بیوٹی کس وجہ سے آئ تھی ۔۔۔
وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔
اسے بھی دکھ تھا ان دونوں کی کی موت پر ۔۔۔
———————————————————–
“چار دن پہلے ۔۔۔
شکریہ میری جان اس ننھی پری کا تحفہ دینے کے لیے مجھ گناہگار کو اللہٌکی رحمت ملی ہے میں جیتنا شکر ادا کرو کم ہے ۔۔۔
شعیب اپنے ہاتھوں میں خوبصورت سی ننھی سی پری پکڑے بیڈ پر نڈھال سی لیٹی اسے دیکھتا اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
تمہارا شکریہ تمہاری وجہ سے میں مکمل ہو سکی یہ احساس فیل کر سکی ۔۔۔
وہ کمزرو لہجے سے کہتی اس کا ہاتھ پکڑتی اس کو چومتی بولی تھی ۔۔۔
ارے اکیلے اکیلے ہی خوش ہو رہے ۔۔
روحا سیدھا آسٹریلیا سے شعیب کے گھر آئ تھی ۔۔۔
تبھی مسکراتے ہوۓ اس کے بیڈ روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔۔
ت۔تم یہاں ن۔۔۔
ارے چھوڑو بیٹی کے باپ بن گے ہمیں بتایا ہی نہیں ۔۔۔
شعیب شوک ہوتا بول رہا تھا جب روحا منہ بناتی اسے ڈانٹتی ہوئ اس کے ہاتھوں سے بچی لیتی بولی تھی ۔۔
وہ۔ان۔۔۔
تم تو چپ کرو مسز شعیب ہم سب جانتے ہے ۔۔
وہ بھی گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب روحا بولی ۔۔
اچھا کیا نیم رکھو گی تم بتاٶ۔۔۔
شعیب اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
لیکن ہم کیوں نام رکھے گے یہ رانیہ کو کہو رکھے نام ۔۔
روحا نیلی آنکھوں والی بچی کو دیکھتی سامنے بیٹھی اسے دیکھ بولی تھی۔۔۔
ل۔لیک۔۔۔
ہم سب جانتے ہے مسز رانیہ شعیب خان۔۔۔
رانیہ گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب روحا مسکراتی ہوئ بات کاٹتی بولی ۔۔۔
شعیب تمہاری بیٹی بہت خوبصورت ہے اس کا نام ہم رعناء رکھے گے ۔۔۔۔
روحا معصوم سی بچی کے گال چومتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
اس کا مطلب۔۔
رانیہ کو نام اچھا لگا تھا تبھی بے تابی سے پوچھا تھا ۔۔۔
اس کا مطلب ہے ایک بے حد خوبصورت پھول ایسی خوبصورت جیسے دیکھ ہر کوئ دنگ رہ جاۓ ۔۔۔
روحا پرسکون ہوتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
ہم بہت غریب تھے اتنے غریب کہ ایک وقت کی روٹی ملتی تھی۔۔۔۔
لیکن امی ابو کے درمیان محبت مثالی تھی ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے تھے ۔۔۔
لیکن میرے گھر کو نظر لگ گی ۔۔۔۔
روحا رانیہ کے پاس بیٹھی تھی جب شعیب آہستہ آہستہ اپنے ماضی کو کھولتا بول رہا تھا ۔۔۔
شہزاد چوہان پتہ نہیں کیسے میرے ابو کا دوست بن گیا ۔۔۔
جہاں ہمارے گھر میں ایک وقت کی روٹی ملتی تھی کھانے کو پھر تینوں ٹائم کا کھانا ملنے لگا تھا۔۔۔
امی نے جب ابو سے پوچھا تو ابو کہتے ان کے دوست نے بزنس شروع کیا ہے وہاں ابو کام کرتے ۔۔۔
سالوں گزار گے اب ہم ایک چھوپڑی میں رہنے والے نہیں بلکہ اچھے خاصے مکان میں رہنے لگ گے تھے ۔۔۔
ہمارے گھر کے پاس رانیہ رہتی تھی اپنی امی کے ساتھ تب ہم دونوں کی ایج پندرہ سال تھی ۔۔
مجھے یہ معصوم سی لڑکی بہت اچھی لگی جو ہر وقت پردے میں رہتی تھی ۔۔۔
میں نے امی سے اپنی خواہش بتا دے ۔۔۔
امی اور ابو نے مل کر ہم دونوں کا نکاح کروا دیا ۔۔۔
میری خوشی کی اتنہا نہ رہی میں جانتا ہی نہیں تھا امتحان تو آگے شروع ہونے تھے میرے ۔
جس دن نکاح ہوا میں رانیہ کے گھر گیا تھا یہ بتانے مجھے اس سے کتنی محبت ہے ۔
میں جیسے ہی اپنے روم سے باہر نکلا تو دیکھا ابو امی لڑ رہے کافی ۔۔۔
میں ڈر کر وہی خاموش کھڑا رہا ویسے ہی ان کی لڑائ
دیکھتا رہا ۔۔۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے ابو نے امی کو گن سے شوٹ کر دیا ۔۔۔۔
اہہہہ۔۔۔
شعیب اپنی سرخ نیلی آنکھوں میں آنسو ضبط کرتا بول رہا تھا جب اس کی بات سنتی روحا کی چیخ نکل گی ۔۔۔
ک۔ی ۔کیوں۔۔۔
روحا ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ابو نے مجھے بتایا کہ امی کا کردار اچھا نہیں تھا بلا بلا بلا۔۔۔
میرے ننھے ذہین میں یہ بات بیٹھ گی ۔۔۔
لیکن پھر سوچتا میں نے تو اپنی امی کو ہمیشہ پردے حجاب میں دیکھا ایسا تو نہیں ہو سکتا ۔۔
لیکن ابو کی جھوٹی باتیں سنتے میں بلکل ایک عورت کو استعمال شدہ چیزیں سمجھنے لگ گیا تھا ۔
رانیہ کو اپنے دل کی بات نہیں بتائ اور وہی سے میں ایک دہشتگرد بنا ایک بے گناہ بندہ گناہگار بن گیا ۔۔۔
امی کے جانے کے بعد ابو مجھ سے لاپرواہ ہو گے ہر وقت برۓ کام کرتے رہے اور پیسے کماتے رہے ۔۔۔
جب بیس سال کا ہوا تو رانیہ کی امی فوت ہو گی پھر رانیہ کو بیوی بنا کر اپنے خان پیلس میں لانا پڑا ۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر اس کے سامنے برے کام کیے لیکن یہ اتنی ڈھیٹ لڑکی تھی میرے ہر قدم پر ساتھ رہی ۔۔
پہلا قتل میں نے اپنے ہی ابو کا کیا۔۔۔
جب وہ فون پر شہزاد چوہان کو بتا رہے تھے کیسے امی اس کو منع کر رہی تھی یہ کام کرنے سے ساتھ دمھکی بھی دی تھی اگر نہ روکے تو پولیس کو بلا لے گی ۔۔
وہی ابو نے ان کا قتل کر دیا ۔۔۔
یہ سننا تھا میں شدید غصے میں آتا ابو کی ہی گن سے انہیں شوٹ کر چکا تھا ۔۔۔
اب میں اکیلا تھا برائ کی راستے پر چلنے والا کوئ روکنے والا نہ تھا ۔۔۔
اگر کوئ ہوتا مجھے روکنے والا تو میں واقعی روک جاتا ۔۔۔
کومل پہلی لڑکی تھی جو میری ہوس کا نشانہ بنی ۔۔۔
لیکن حیرت کا پہاڑ مجھ پر تب ٹوٹا جب کومل کو مزاحمت کرتے نہ دیکھ بلکہ رضامندی دیکھ میں حیران ہوا تھا ۔۔۔
اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہا جس بھی لڑکی کو ہوس کا نشانہ بنایا وہ ساری چالاک ہوتی تھی ان میں سے کوئ بھی معصوم نہیں تھی نہ ہی میں کسی بھی بے گناہ لڑکی سے ہوس پوری کرتا تھا۔۔۔
ر۔ر۔رانیہ کو سب پت۔۔۔۔
روحا منہ کھولے بول رہی تھی جب رانیہ بولی ۔۔
کہتے ہے عشق اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے مجھے عشق ہے شعیب سے تبھی میں بھی اندھی ہوتی اس کی یہ سب برائیاں خاموشی سے دیکھتی رہی ۔۔۔
چار سال پہلے تم مجھے ملی پھر میں ساری دنیا بھول گیا یاد رہا تو صرف اتنا کہ تمہیں پانا ہے ۔۔۔
جس میں ساتھ دیا میرا ران۔۔۔
رانیہ نہیں راضیہ نے ۔۔۔
شعیب مسکراتا ہوا بول رہا تھا جب روحا بات کاٹتی ہوئ بولی ۔۔
ہاہاہہہہاہہاہا وہی کہہ رہی میں عشق میں سب جائز ہوتا اس شعیب کی خاطر میں کام والی بھی بنی اور ڈیول کی ڈانٹ بھی سنی ۔۔۔
رانیہ قہقہ لگاتی ہوئ بولی تھی ۔۔
ہاں تم پر نظر رکھنے کے لیے میں نے رانیہ کو راضیہ بنا کر صام کے گھر چھوڑا ۔۔
وہ ہر پل کی خبر مجھے دیتی تھی ۔۔۔
ا۔اور اس چوہان کا قت۔۔۔
اس کا قتل میں نے کیا تھا کیونکہ اسی شخص کی وجہ سے میرا ہنستا بستا گھر اجڑ گیا ۔۔۔
میں ایک دہستگرد بن گیا ویسے بھی وہ تمہیں قتل کرنا چاہتا تھا میں نے کر دیا۔۔۔
روحا گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب شعیب بولا ۔۔۔
ہماری بات مانو گے ۔۔۔
روحا کچھ سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاں مان لو گا ویسے بھی مجھے محب۔۔۔۔
نہیں شعیب تمہیں ہم سے محبت نہیں ہے بس تمہیں ہمارا پردہ کرنا اچھا لگا ۔۔۔
ہم نے دیکھا ہے جس بھی لڑکی کو تم حجاب میں دیکھتے تھے تمہاری نظروں سے ایک محبت بھری شعاع پھوٹتی تھی ۔۔۔۔
تمہیں ہم سے نہیں ہمارے پردے سے محبت ہوئ ہے ۔۔
اگر تمہارا عشق کوئ ہے تو رانیہ ہے جس نے تمہیں ہر خوبی خامی میں اپنایا ہے ۔۔۔
تمہارے لیے ہر چیز برداشت کی ہے یہ تمہاری محبت ہے ۔۔
شعیب حامی بھرتا بول رہا تھا جب روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہمم۔۔۔
شعیب محبت بھری نظروں سے رانیہ کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
یہ سب برے کام چھوڑ دو شعیب اپنی زندگی آگے اچھے سے گزاروں بلکہ اب تو اللہٌ نے رحمت دی ہے تمہیں ۔۔
روحا اپنے مدعے پر آتی بولی تھی ۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا بہت مشکل ہ۔۔۔۔
مشکل ہے نا ممکن نہیں گناہ سے واپسی ہو جاتی ہے آہستہ آہستہ کرو معافی دیکھنا سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔
شعیب نہ میں سر ہلاتا بول رہا تھا جب روحا زرا سختی سے بولی تھی ۔۔۔
ہمممم دیکھتا ہو پہلے اس شہروز کا کام تمام کرنا مجھے ۔۔۔
شعیب اس کی بات سنتا شدید غصے سے بولا تھا ۔۔
چھوڑو جو بھی ہے اب بس اپنی فمیلی کو ٹائم دو ۔۔۔
ہم چلتے ہے ڈیول کو نہیں پتہ ہم پاکستان آۓ ہے ۔۔
روحا رانیہ سے ملتی اٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھا یہ بتاٶ تمہیں کیسے پتہ چلا تھا ۔۔۔
رانیہ روحا کا ہاتھ پکڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ڈیول کی انیجل ہے ہم اتنا تو پتہ چل سکتا ہے ۔۔۔
فارم ہاوس میں برف پر تم گری تھی جب بھاگ کر شعیب نے تمہیں پکڑتے بچایا تھا۔۔۔
بس یہ دیکھتے دل میں آیا کہ کوئ کسی کی نوکرانی کا درد فیل کر
سکتا ہے ۔۔
روحا ان دونوں کو کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔
————————————————————
““ایک ہفتے بعد۔۔۔۔
کتنا برا ہوا اتنا بڑا نقصان ہو گیا ہمارا ۔۔
کیسی دوستی تھی ہماری ہم اپنے دوست کو ہی نہ بچا سکتے ۔۔۔۔
اس نے اپنی دوستی نبھائ لیکن ہم کیوں ایسا ہوا ۔۔۔
مستقیم آہان منان زرجان نوفل سارے ٹھیک ہوتے آفندی پلیس ہی آ گے تھے جب اتنی درد ناک نیوز سنتے سب پر غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا ۔۔
تبھی زرجان آبدیدہ ہوتا بول رہا تھا ۔۔۔
سارے ہی بہت اداس ہو گے تھے ان کو تو یہ بھی ہوش نہیں تھا سب کو اللہٌنے اولاد جیسی نعمت سے نوازا ہے ۔۔۔۔
وہ سب تو اپنے غم کو بانٹ رہے تھے ۔۔۔
ہاے میرا ڈیول کاش کاش میں انیجل کو نہ لاتا پاکستان تو یہ سب نہ ہوتا ۔۔۔
نوفل پاگلوں کی طرح اپنے چہرے پر تپھڑ مارتا دھاڑے مارتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بس کرو نوفل یہ تو جو لکھا تھا وہی ہونا تھا ۔۔۔
مستقیم اسے حوصلہ دیتا بولا تھا جبکہ اس کا دل بھی درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔۔
———————————————————–
“”ایک سال بعد۔۔۔۔
دیکھو اس کو شعیب کیسے بھاگ رہی ہے ۔۔۔
رانیہ رعنا کو پکڑتی اس سے پیچھے بھاگتی اسٹڈی روم میں آ گی تھی جہاں شعیب بیٹھا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا ۔۔۔
چھوڑو یار گھر کی یہی رونق ہے یہ پورا بنگلہ اسی کا ہے یہاں آو ڈیڈ کی جان ۔۔۔
شعیب اسے گود میں اٹھاتا ہوا اپنے پاس لاتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
لب۔شو۔داد(لو یو ڈیڈ)..
رعنا اپنے ننھے سے لب اس کی گال پر رکھتی بولی تھی ۔۔
وہ ہہو بہو شعیب کی کاپی تھی ویسے ہی آنکھیں بال سب کچھ لیکن عادتیں رانیہ جیسی تھی شرارتی سی ۔۔۔
لو یو ٹو میری جان۔۔۔
شعیب بھی اس کے گال کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔
یہ اچھی بات ہے باپ بیٹی ایک دوسرے کو کہو میری تو قدر ہی نہیں ۔۔
رانیہ دونوں سے جلیس ہوتی بولی تھی ۔۔
ارے تم تو عشق ہو میرا بچپن کا تمہاری وجہ سے ہی میں آج ایسا بن سکا ہو ۔۔
شعیب اس کا ہاتھ پکڑے اپنی تھائ پر بیٹھاتے ہوۓ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
اب اس کی ایک طرف رعنا دوسری طرف رانیہ بیٹھی تھی اس کی تھائ پر ۔۔۔
شعیب اپنی زندگی میں خوشحال فمیلی پاتا پرسکون تھا ۔۔
اس نے روحا کے کہنے پر آہستہ آہستہ ہر برا کام چھوڑ دیا تھا ۔۔۔
بس اب وہ اپنی کمائ سے الگ بزنس سٹارٹ کر چکا تھا ۔۔
————————————————————
یار یہ مجھے کبھی کبھی لگتی تمہاری ہی بیٹی ہے ۔۔۔
زرجان بیٹھا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا جب اس کی بیٹی گود میں آتی خودی اپنی ننھی انگلیاں اس پر چلا رہی تھی جب وہ مسکراتا ہوا یافی کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔
ایک سال پہلے اللہٌنے ان دونوں کو خوبصورت بیٹی سے نوازا تھا ۔۔۔
جو شکل سے بلکل زرجان جیسی تھی گرے آنکھوں والی لیکن حرکتیں یافی جیسی تھی ۔۔۔
جس کا نام انھوں نے امن رکھا تھا۔۔۔
تبھی یافی کی طرح لیپ ٹاپ کی شوقین وہ اسی کی گود میں بیٹھی تھی ۔۔۔
ہاں تو میری ہی ہونی تھی بیٹی ۔۔۔
یافی امن کو گود میں لیتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
دندی ماما(گندی ماما )..
امن برا سا منہ بناۓ اپنی گرے آنکھوں میں غصہ لاتی یافی کو گھورتی بولی تھی ۔۔۔
بیٹا آٶ بابا کو کام کرنے دو ۔۔۔
یافی اسے گود میں آٹھاۓ جاتی ہوئ بولی تھی ۔۔
ارے یار رہنے دو میرے پ۔۔۔
تمہاری سرجری ہوئ ہے جان وزن مت اٹھاٶ۔۔۔
زرجان دور جاتی امن کو دیکھتا بول رہا تھا جب یافی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ایک سال ہو گیا سرجری کو میں بلکل ٹھیک ہو تم امن کو مجھے دو میں سب کچھ کر سکتا ہو۔۔
زرجان پیچھے خودی بول رہا تھا جبکہ یافی ان سنی کرتی چلی گی تھی ۔۔۔
————————————————————
اوے ٹڈی یہ کیا کر رہی ہو اتنی چھوٹی بچی کو ہلیز پہنا رہی ہو۔۔۔
مستقیم پولیس یویفارم میں روم میں انٹر ہوتا شوک ہوتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں مرحا اپنی سال کی بچی کو چھوٹی سی ہیلز پہناۓ اسے چلنے کا کہہ رہی تھی ۔۔۔
دیکھو سانڈ یہ کتنی چھوٹی ہے ہاے میری طرح نہ ہو جاۓ تبھی یہ پہنا رہی ہو ۔۔۔
مرحا روشانے کو دیکھتی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
جو بڑی مشکل سے چلتی گرتی مستقیم کے پاٶں پر گری تھی ۔۔۔۔
دیکھو بچے چھوٹے ہی ہوتے ہے یار آہستہ آہستہ بڑی ہو جاۓ گی تم بھی تو اتنی سی تھی اب دیکھو بڑی ہوئ نہ ۔۔۔
مستقیم قالین پر گری روشانے کو گود میں اٹھاتا مرحا کو نرمی سے سمجھاتے بولا تھا ۔۔۔
بابا کی جان کیسی ہے ۔۔۔
مستقیم روشانے کے ننھے سے ہاتھ چومتا ہوا بولا تھا جو اس کے گال پر پھیر رہی تھی ۔۔۔
روشانے مستقیم اور مرحا دونوں کی کاربن کاپی تھی اتنی چھوٹی ہونے کے بادجود بھی وہ سب کے ناک میں دم کرتی تھی ۔۔۔
یہ بڑی ہو جاۓ گی نہ سانڈ ۔۔
مرحا مستقیم کے پاس آتی اس کے سینے پر سر رکھے پریشان ہوتی بولی تھی
ہاں میری جان ۔۔
مستقیم اسے پر سکون کرتا اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
لندن کا سنسنان سا ایک بار کلب جو کافی عرصہ پہلے تباہ ہو چکا تھا ۔۔۔
وہاں کی بیسمنٹ میں وہ اپنے بھاری قدم اٹھاتا ہوا نیچے کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ چہرہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا ۔۔
س۔سر آپ۔۔
اس کا خاص آدمی سامنے وحشت ناک سرخ گرین آنکھیں دیکھتا ہکلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کھولو ۔۔۔
وہ سرد مہری سے دو ٹوک بولا تھا ۔۔
ج۔جی ۔۔
آدمی گھبراتا ڈرتا ہوا دروازہ کھولا تھا ۔۔
جہاں گہرے اندھیرے میں انٹر ہوتے اس کی ناک میں گندی سمل آئ تھی ۔۔۔
وہی اس نے منہ بنایا تھا ۔۔۔
لائٹس جلاٶ۔۔۔
وہ اپنے آدمی کو گھورتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ب۔ب۔ب۔بچ۔۔
روشنی جلتے ہی روم کے درمیان میں لٹکا وجود نیم بے ہوشی میں بول رہا تھا جو کہ اس سے بولنا مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔
کیسے ہو امید ہے مجھے پہنچان لیا ہو گا ۔۔۔
وہ اس کی حالت کو طنزیہ نظروں سے دیکھتا اپنی بھاری بھرم آواز سے بولا تھا ۔۔۔
ک۔کو۔ن۔ہو۔۔
شہروز نڈھال سا ہوتا چہرہ اٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ڈ۔ی۔ڈیول ۔۔۔
شہروز اپنے سامنے زندہ سلامت دیکھتا ڈرتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ڈیول نہیں تیری موت ہو میں ۔۔۔
پہلے ہی کہہ تھا ہمیں آسان موت دو گے تجھے بھی آسان موت ملے گی لیکن تو سمجھا نہیں تھا میری بات ۔۔
اب اپنی حالت دیکھ ۔۔۔
ڈیول غصہ سے غراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اس کے پیچھے کھڑا آدمی تھر تھر کانپ رہا تھا ڈیول کی رعب دار آواز سن کر ۔۔۔۔
شیشہ لاٶ اور دیکھاٶ اس کو یہ کیسا دیکھتا ہے ۔۔۔
ڈیول اسی پر نظریں گاڑتے سردمہری سے حکم دیا تھا ۔۔۔
اہہہ اہہہہ۔۔
شہروز کے سامنے جب شیشہ لایا گیا تو اپنی حالت دیکھتے وہ خوف سے چیخا تھا ۔۔۔
جہاں اس کا آدھا وجود ہی لٹک رہا تھا صرف پیٹ تک ۔۔۔
جبکہ آس پاس سانپ بچھو بھی گھوم رہے تھے ۔۔
اسی کی گندگی سے روم بھرا پڑا تھا ۔۔۔۔
ی۔یہ کیسے۔۔۔۔
شہروز درد اور خوف سے ڈرتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
شہروز کو آرمی اپنے قابو میں کر چکی تھی جب صام اسے لے کر لندن چلا گیا تھا ۔۔۔
وہاں جا کر اسے ایک بند اندھیرے کمرے میں رکھا گیا جہاں اسے لزیز کھانا کھانے کو ملتا تھا ۔۔۔
شہروز نے کبھی اپنے پورے جسم یا روم کو روشنی میں نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔
لیکن آج دیکھ کر وہ رویا تھا ۔۔۔
ارے اپنے ہی جسم کو کھاتے رہے اور خودی بھول گے وہ یمی ڈش جو کھانے کو دی جات ۔۔۔
اہہہہ۔۔۔
ڈیول دور کھڑا ہوتا طنز کرتا بول رہا تھا جب شہروز کو یہی سن کر الٹیاں آ چکی تھی وہ پورا سال اپنا ہی جسم کھاتا رہا ۔۔۔
س۔سر کیا کرنا ہے ۔۔۔
آدمی اپنے ماتھے پر سے پسینہ صاف کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
وہی جس کا مجھے ویٹ تھا ۔۔۔
ڈیول اپنی چین نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔
م۔معاف ک۔۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہ۔۔۔
شہروز اپنی موت اتنے قریب دیکھتا ہوا معافی مانگنے والا تھا جب اس آدمی نے اس کے سینے پر چین چلائ تھی ۔۔
وہی اس کے سینے سے نکلتے خون سے وہاں موجود سانپ بچھو اس پر حاوی ہو چکے تھے ۔۔۔
تبھی وہ درد سے تڑپتے چلاتا ہوا اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا ۔۔۔
بہت ڈھیٹ ہو یار اب تو میں بھی تھک گیا ۔۔۔۔
ڈیول خاموش نظروں سے یہ سب دیکھ رہا تھا سانپ بچھو سب نے مل کر اس کے سینے کا سارا گوشت نوچ لیا تھا ۔۔۔
جبکہ شہروز اپنی مدھم چلتی سانسوں سے بے بسی سے رو رہا تھا ۔۔۔
تبھی سینے کے درمیان پسلیوں میں دھڑکتے دل کو اپنے ہاتھوں سے کھیچتے نوچتے ہوۓ ڈیول زہر آلود لہجے سے بولا تھا ۔۔۔
شہروز کی روح فنا ہو چکی تھی جہاں وہ درد سے تڑپ رہا تھا وہی پرسکون ہوتا کیڑے مکوڑوں کا کھانا بن چکا تھا۔۔۔۔
جبکہ اس کا دل ڈیول کے ہاتھ میں قیمہ بن چکا تھا ۔۔۔
بزدل انسان ۔۔۔
ڈیول اس کے جسم کا ڈھانچہ دیکھتا حقارت سے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
اس کے خاص آدمی نے بڑی مشکل سے اپنی چیخوں کو روکا تھا ڈیول کے سامنے ورنہ سامنے شہروز کی درد ناک موت دیکھتے اس کا دل دھاڑے مارنے کو کر رہا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
میرا بیٹا کتنا پیارا ہے اب اچھے بچوں کی طرح دودھ پیے گا ۔۔۔
ہیر اپنے سامنے سیریس بیٹھے احمد کو دودھ کا گلاس دیتی بولی تھی ۔۔۔
روحا کی دوری پر سب سے زیادہ احمد پر ہی اثر پڑا تھا ۔۔۔
جہاں وہ ہنستا مسکراتا تھا وہاں وہ اب سیریس ہو چکا تھا ۔۔۔۔
نہ کسی سے بات کرتا تھا نہ ہی کسی بچے سے کھیلتا تھا ۔۔۔
بلکل صام کی کاربن کاپی بن چکا تھا ہر چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ کرنے لگ گیا تھا ۔۔۔
آپ جاۓ میں پی لو گا ۔۔۔
پانچ سالہ احمد بھاری آواز سے کہتا اٹھ کر باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
وہ اپنی ایج سے زیادہ عقل مند ہو چکا تھا ۔۔۔
بلیک بیوٹی کا اثر ہمارے بیٹے پر بہت پڑا ہے آہان ہم کیا کرے ۔۔۔
ہیر آہان
کی طرف دیکھتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
تم فکر کیوں کرتی ہو بچہ ہے آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔
آہان خود بھی پریشان تھا تبھی اسے بھی پرسکون کرتا بولا تھا ۔۔۔
وہ پریشان اسی وجہ سے تھا کہی وہ دوسرا صام آفندی نہ بن جاۓ ضدی مغرور ہٹ دھرم ۔۔
———————————————————–
ارے ماما کی جان ماما بلکل ٹھیک ہے ۔۔
ہانیہ اپنے پیٹ پر بیٹھے اپنے چھوٹے سے بیٹے کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
جو بلکل منان کی کاربن کاپی تھی سوفٹ نیچر اور سوفٹ دل کا مالک ۔۔۔
ہانیہ کا سر درد کر رہا تھا تبھی وہ اپنی سمجھ داری سے اس کا سر اپنے ننھے سے ہاتھوں سے دبا رہا تھا ۔۔۔
کیا ہوا ہانیہ ۔۔۔
منان روم میں آتا پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
کچھ نہیں ہوا مانی یہ فارس کو پکڑے یہ بھی تمہاری طرح ہے ۔۔
ہانیہ اٹھتی فارس کو منان کی گود میں دیتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
پاپا ۔۔
فارس معصوم سی شکل بناۓ منان کے سینے پر سر رکھتا بولا تھا ۔۔
پاپا کی جان ۔۔
منان نے محبت سے فارس کا ماتھا چومتے کہا تھا ۔
————————————————————
لندن کی ایک بے حد خوبصورت چالیس منزلہ عمارت جو پوری کی پوری کالے شیشے سے بنائ گی تھی ۔۔۔
آس پاس لاتعداد بلیک روز کے خوبصورت سے گارڈن ۔۔۔
جہاں سو کے برابر نوکر اس انیجل پلیس کے کام کرتے تھے ۔۔۔۔
ابھی صبح کا آغاز ہوا تھا جب نوکرانی کچن کی طرف جاتی روک گی تھی ۔۔۔
جہاں کچن کے اندر بڑے مگن انداز سے وہ خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت ہر کام کو چھوڑے اپنے بھاری سفید ہاتھوں سے جلدی جلدی ناشتہ بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔
اگر کوئ دیکھ لیتا وہ ڈیول جس کے ایک اشارے پر سب آدمی تھر تھر کانپتے کام کر جاتے تھے آج وہ خود کچن میں جاتا اپنی انیجل کے لیے ناشتہ بنا رہا تھا ۔۔۔
س۔سر وہ۔وہ۔تنیوں انیجل میم کے روم۔میں چلے گے ہے ۔۔۔
ایک لڑکی بھاگتی ہوئ کچن میں آتی پھولے سانس سے ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
واٹٹٹ ۔۔۔
میں نے اپنے سارے دشمن ختم کر لے بس یہ تینوں میری جان کے دشمن بنے ہوۓ ہے ۔۔۔
ڈیول کا یہ سنا تھا تبھی غصہ سے غراتے وہ جلدی سے کچن سے بھاگتا اوپر انیجل کے روم کی طرف گیا تھا ۔۔۔
وہی سارے نوکر دعا کر رہے تھے وہ تینوں اس ڈیول کے قہر سے بچ جاۓ ۔۔۔
———————————————————–
خوبصورت بلیک روم میں بلیک ہی کلر کے فل فام والے بیڈ پر سکون سے گہری نیند میں روحا سو رہی تھی ۔۔
ہر چیز سے بے خبر ۔۔۔
اس کے قریب بید پر بیٹھتے وہ تینوں اپنے ہاتھوں سے روحا کی گردن ناک لب کو چھوتے خوش ہو رہے تھے ۔۔۔
جبکہ تینوں کی آنکھیں مسکرائ تھی روحا کو دیکھ کر ۔۔۔
اس سے پہلے کوئ نرمی سے روحا کے گال کو چومتا جب ڈیول آندھی طوفان بنا روم میں انٹر ہوتا ان تینوں کو بیڈ سے دھکا دیتا خود انیجل کے پاس بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
اب وہ تینوں زمین پر گرے سامنے بیڈ پر سرخ گرین آنکھوں میں وحشت دیکھتے تھرتھر کانپتے یہی دعا کر رہے تھے اللہٌان کو ڈیول کے قہر سے بچا لے ۔۔
اور پچھتا بھی رہے تھے کیوں ڈیول کی انیجل کے قریب جانے کی وہ گستاخی کر چکے تھے ۔۔۔
