Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 30)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 30)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
آہان آہان بچاٶ اندر جا کر میرے بچوں کو بچاٶ ۔۔۔
آہان اور ہیر ابھی انٹر ہوۓ تھے ۔۔۔
گاڑی وہ راستے میں روک چکا تھا جب اس نے ہیر کی آنکھوں پر پٹی باندھتے اسے گود میں آٹھاۓ وہ پیدل ہی خفیہ راستے سے بھاگتا کورٹ پہنچا تھا جبکہ ہیر بھی خاموش ہو کر آہان کی تیز چلتی سانسوں کو محسوس کر رہی تھی ۔۔
اتنا تو جان گی تھی باہر اتنے دہشتگرد دیکھ کر کہ وہ سیدھا ان کو موت دے گے تبھی آہان پتہ نہیں کہاں سے انٹر ہوا تھا ۔۔۔
ابھی وہ آۓ تھے جب آفندی صاحب روتے ہوۓ بولے تھے ۔۔
ریلکس بابا اندر کچھ بھی نہیں ہو گا صام مستقیم زرجان سب وہی ہے ا۔۔۔
میری دونوں بٹیاں اندر ہے تم کہہ رہے ہو ریلکس رہو ۔۔۔
یہ سب صام کی وجہ سے ہوا تھا ۔۔۔
نہ وہ شہزاد کو مارتا نہ ہی آج میرے سارے بچے مصیبت میں ہوتے ۔۔۔
آہان انہیں پر سکون کرتا بول رہا تھا جب آفندی درد سے تڑپتے بولے تھے ۔۔۔
ارے بابا کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔
جب تک میں زندہ ہو تب تک میں کچھ بھی نہیں ہونے دو گا اگر یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے تو ٹھیک بھی میں کرو گا ۔۔۔
آہان اور آفندی صاحب ابھی وہی کھڑے بول رہے تھے جب اچانک صام اور ڈی ڈی ہوتے بولا تھا ۔۔
ص۔صام میرا بیٹا ۔۔۔۔
آفندی صاحب اپنے سامنے کھڑے فوجی یونفارم پہنے اپنی سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ اپنے ساتھ لاۓ لاتعداد آرمی کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔۔
آفسرز سب کو اپنی حراست میں لو میری فمیلی کو کچھ نہیں ہونا چاہے اور بابا اب زرا آپ کا یہ نکما ہڈ حرام بیٹا ایکشن دیکھا دے ۔۔
پھر بات کرتا ہے گو فاسٹ آفسرز کوئ بھی کچھ کرے بنا ٹائم ویسٹ کیے شوٹ کر دینا ۔۔۔
صام آرمی فورس کو آڈر دیتا اندر انٹر ہوا تھا ۔۔۔
۔یہ۔یہ میرا صامے ہے آہان مجھ یقین نہیں آ رہا ۔۔
آرمی فورس آفندی مرحا ہیر آہان سب کو لیے محفوظ مقام کی طرف لے کر جا رہے تھے جب آفندی آنکھوں میں آنسو لاۓ بولے تھے ۔۔۔
جی بابا یہ آرمی آفسر میجر صام آفندی ہے ۔۔
آہان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
ہم جانتے ہے یہ صام آفندی کی بیوی ہے جیسے اس نے ہمارے سر کو موت دی ویسے ہم بھی صام کی موت چاہتے ہے ۔۔۔
چار دہشتگرد روحا کو بازوں سے پکڑے غصے سے غراے تھے ۔۔۔
تم لوگ جانتے ہو صام نے وہ قتل نہیں کیا ۔۔
مستقیم اور زرجان اپنی گن لوڈز کرتے بولے تھے ۔۔۔
صام کو بلا۔۔۔۔
ابےےےےت اوووو گدھوں کیوں بھونک رہے ہو یہی ہو بتاٶ کیا کرو گے چھوڑو مس لائف کو ۔۔۔
صام کی رعب دار آواز گونجی تھی ۔۔۔
سامنے آو پھر پتہ چلے گا کون گدھا ہے ۔۔۔
ان میں سے ایک دہشتگرد چلایا تھا ۔۔۔۔
ہاں لو آ گیا ۔۔۔
ص۔صام۔۔۔۔
روحا اپنے سامنے آتے صام کو دیکھتی ہکابکا ہوتی چلائ تھی ۔۔۔
آرمی یونفارم پہنے اپنے دونوں ہاتھوں میں گن لوڈ کیے وحشتناک گرین آنکھیں لے صام کو دیکھتی روحا ہکا بکا چلائ تھی کہاں سوچ سکتی تھی صام آرمی آفسر ہے ۔۔۔
سنا تھا شوہر جوروں کا غلام ہوتا ہے آج دیکھ بھی لیا ۔۔۔
ایک دہشتگرد طنزیہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
چلو میری بدولت کچھ دیکھا تو سہی ۔۔
صام ویسے ہی سکون سے بھاری قدم آٹھاتا پاس آتے بولا تھا ۔۔۔
د۔دور رہو ورنہ ہم ۔۔۔
یافییییییی۔۔۔
پلیز صام ادھر ہی روک جاٶ ہم بھی تو کھڑے ہے ۔۔۔
دہشتگرد دمھکی دیتا بولا جب دیکھا صام بنا فکر کیے قدم آٹھاۓ پاس آ رہا تب اس نے خوف سے کانپتی یافی کو قابو کیے اس کے ماتھے پر گن رکھی تبھی زرجان غصے سے بولا تھا ۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا یہ ڈرپوک ہے یار ۔۔
صام پاس جاتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
تم بہت ہلکے میں لے رہو ہو فوجی ایک بمب سے اُڑا دو گا سارا کورٹ ۔۔۔
دہشتگرد حیوانی لے بولا تھا ۔۔۔
روحا تو بس صام کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی بھول گی تھی وہ اس وقت کہاں ہے بس یاد تھا تو بس یہ صام ایک آرمی آفسر ہے ۔۔۔
ارے واہ چل اُڑا دے منٹوں میں ۔۔
صام مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
میں نے سنا ہے تمہاری کمزوری اپنی فمیلی ہے ۔۔
تو یہ تھوڑا سا ڈایمو دیکھ لو ۔۔
وہ دہشتگرد مسکراتا صام کو سوچنے کا ٹائم دیے بنا مستقیم پر شوٹ کر چکا تھا ۔۔۔
مستقیممممممم۔۔۔۔زرجان اور صام چلاۓ تھے ۔۔
جب ڈی ڈی انٹر ہوتی مستقیم کو دھکا دیتی بچا گی تھی لیکن گولی شولڈر کو چھوتی گزر گی تھی ۔۔۔
ارے اپن کے بنا کی گیم سٹارٹ کر دیا کیا بات ہے یہ یار اب اپن سے بچ جاٶ زرا ۔۔۔۔
ڈی ڈی آرمی یونفارم پہنے اپنے ہاتھ میں گن گھوماتی سب پر ٹوٹ پڑی تھی ۔۔
مستقیم زرجان صام بھی بنا کسی کی پرواہ کیے سب کو اپنے نشانے سے شوٹ کر رہے تھے ۔۔۔
میم چلے یہاں سے ۔۔۔
لیڈی آرمی آفسر اندر آتی یافی اور روحا کو پکڑتی بولی تھی ۔۔۔
ن۔نہیں ہم کہی نہیں جا رہے ۔۔۔
روحا اپنے سامنے اتنی لاشیں دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی
تھی ۔۔
جاٶ یہاں سے انیجل اور یافی ۔۔۔
مستقیم باقی سب کو شوٹ کرتا چلایا تھا ۔۔۔
ابے اوےےےے تو نے کیسے پکڑا اپن کو اپن تیری بوٹی بوٹی کرے گا ۔۔۔
ڈی ڈی جو خود بھی شوٹ کرنے میں مصروف تھی جب اسے ایک نے کمر سے پکڑا تبھی وہ اس کے ہاتھوں پر شوٹ کرتی بولی ۔۔
یافی روحا مستقیم کی بات اگنور کیے ڈی ڈی کی طرف دیکھ رہی تھی جو لگاتار اس کے ہاتھ پر شوٹ کرتی جا رہی تھی ۔۔
————————————————————
ہم کہاں جا رہے بابا میں مستقیم کو چھوڑ کر نہیں جاٶ گی ۔۔۔
سب کو کورٹ سے باہر نکال رہے تھے جب مرحا پریشان ہوتی بولی ۔۔۔
دیکھو پریشان مت ہو اندر بمب فٹ ہے کبھی بھی پھٹ سکتا ہے ۔۔
تبھی وہ ۔۔۔
لیکن بابا میں نے وعدہ کیا ہے مستقیم کو نہیں چھوڑ سکتی ۔۔۔
آفندی صاحب پریشان ہوتے بول رہے تھے جب مرحا اپنا ہاتھ چھڑواتی واپس کورٹ کے اندر بھاگتی بولی تھی ۔۔۔
آہان دیکھو یہ مرحا اندر چلی گی ا۔۔۔
بابا کچھ نہیں ہو گا آپ آۓ ساتھ میرے مستقیم دیکھ لے گا ۔۔۔۔
آہان ان کو پکڑے باہر محفوظ جگہ پر لایا تھا ۔۔۔
————————————————————
تم کیوں آئ ہو ٹڈی ۔۔۔
مستقیم جو سب کو موت کی نیند سولاۓ واپس صام کی طرف آیا تھا جب اندر آتی مرحا کو دیکھتے دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
جہاں تم وہاں ٹڈی ۔۔
مرحا سکون سے مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
اپن کا دل کر رہا تم تینوں کو شوٹ کر دے ہم سب یہاں موت سے لڑ رہے تم سب سکون سے کھڑی ہو ۔۔
ڈی ڈی روحا اور یافی کے پیچھے آتے آدمی کو چاقو لیتے ان کو شوٹ کرتی غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔
ڈی ڈی جلدی سے تینوں کو لے کر جاٶ بمب بلاسٹ ہونے میں پانچ منٹ رہ گے ۔۔۔
صام سب کو شوٹ کرتا بولا تھا پورے کورٹ روم میں اتنا خون ہو چکا تھا کہ صام کے آرمی لونگ شوز خون سے لت پت تھے ۔۔۔
چل آ جا یافی باس ۔۔۔
ڈی جلدی سے یافی کو گھیسٹتی ہوئ کورٹ روم سے باہر لے گی ۔۔۔
چل اب تو آ جا اپن کی انیجل ۔۔۔
ڈی ڈی جلدی سے بھاگتی ایک ہاتھ سے شوٹ کرتے دوسرے سے روحا کو پکڑتی بولی تھی جب یافی کو دوبارہ اندر آتے دیکھ غصہ سے چلائ تھی ۔۔
یار سانڈ ٹھرکی اپن کیا سوچ رہا تھا تینوں کو گولیاں مار دو سن ہی نہیں رہی اپن کی ۔۔۔
ڈی ڈی تینوں پر غصہ کرتی بولی تھی وہ ایک کو چھوڑ کے آتی تو دوسری دوبارہ اندر آ جاتی ۔۔۔
میرے خیال سے تمہیں گولیوں کی ضرورت ہے ۔۔
صام اپنی گردن گھوماۓ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
اب اپن کسی کی نہیں سنے گا بس اپن کا میٹر گھوم گیا ۔۔۔
ڈی ڈی غصے میں آتی روحا یافی کو ہتکھڑی لگاۓ اپنے شولڈر پر مرحا کو ڈالے وہ سب کی لاشیوں سے گزرتی ان تینوں کو لے باہر چلی گی تھی ۔۔۔
چھوڑ ڈی ڈی کی بچی اندر سانڈ ا۔۔۔۔
چپ کر ٹڈی اپن کا دماغ مت گھوما ورنہ گولی سے اُڑا دو گی ۔۔
مرحا ڈی ڈی کی کمر پر لات مارتی بول رہی تھی جب ڈی ڈی جلدی سے بھاگتی باہر آتی کورٹ سے اس نیچے پھیک چکی تھی ۔۔۔
یافی روحا میری بچی ۔۔
آفندی صاحب جلدی سے قریب آتے بولے تھے ۔۔
دیکھے بابا یہ سانڈ کو اندر ۔۔۔
ٹھاھھھھھھاااہہہہہہہ۔۔۔
مرحا زمین سے اٹھتی جلدی سے بول رہی تھی جب بمب بلاسٹ ہوتے پورا کورٹ ہوا میں اُڑ چکا تھا ۔۔۔
بابا باباببببببب صام مستقیم زرجانننن۔۔۔
کورٹ کے پرزے پرزے اُڑتے دیکھ تینوں چلائ تھی ۔۔۔۔
تینوں چلاتی بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
ارے یہ تو بے ہوش ہوگی ۔۔
زمین پر گری ان تینوں کو دیکھتے ڈی ڈی بولی تھی۔۔۔
————————————————————
اگر کچھ ہو جاتا پھر جان میں کیا کرتی ۔۔۔
یافی زرجان ہاسپٹل کے روم میں تھے جب یافی ہوش میں آتی اپنے سامنے زرجان کو سلامت دیکھتی گلے لگی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
کچھ نہیں ہونا تھا ہمارا مقصد بس یہ تھا تم تینوں بچ جاتی ہم نے ویسے ہی بچ جانا تھا ۔۔۔
زرجان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کتنی چوٹیں آی ہے تمہیں ۔۔
یافی زرجان کے گلے اور ماتھے پر چوٹ کے نشان دیکھتی پریشانی سے بولی تھی ۔۔
یہ معمولی چوٹ ہے میرے لیے اتنا کافی تھا تم بچ گی ۔۔۔
زرجان یافی کے ماتھے پر کس کرتا بولا تھا ۔۔۔
میں ڈر گی تھی جان ۔۔۔
اب یافی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
ریلکس اتنی جلدی نہیں مرنے والا بڑا ڈھیٹ ہو میں ۔۔۔
زرجان اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بولا تھا ۔۔۔
میں نے بات ہی نہیں کرنی ا۔۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے میں انجکشین ڈاکٹر ذوبیہ سے لگاوا لیتا ہو پھر ۔۔۔۔
یافی جو منہ بناتی بول رہی تھی تبھی زرجان بولا ۔۔۔۔
خبردار میں نے گولی سے شوٹ کر دینا انجکشین میں لگاٶ گی ۔۔۔
یافی جلدی سے اسے بیڈ پر بیٹھاۓ انکجشین تیار کرتی بولی تھی ۔۔۔
اب یہ کیا حرکت ہے ہاسپٹل میں ہے کوئ بیڈ روم نہیں ہمارا ج۔۔
یافی جو اس کے بازو پر انجکشین لگا رہی تھی تبھی زرجان اسے کمر سے پکڑے اپنے اوپر گرا چکا تھا ۔۔۔۔
تبھی
یافی غصے سے بول رہی تھی جب زرجان نے اس کے لبوں کو قید کیا تھا ۔۔۔
————————————————————
سر آپ کے انجکشین لگنا ہے ۔۔۔۔
نرس روم میں آتی مستقیم کو دیکھتی بولی تھی جس کے شولڈر پر سے خون نکل رہا تھا جبکہ اس کے شولڈر پر سر رکھے مرحا آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔
تمہیں دیکھ نہیں رہا خون نکل رہا تمہیں انجکشین کی پڑی ہے ۔۔۔
مرحا آنسو لاتی غصے سے نرس کو بولی تھی ۔۔۔
لیکن میم انکجشین ضروری ہے ایسے انفکشین ہو جاۓ گا ۔۔
نرس گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
کیا ہو کیا ٹڈی زندہ ہو مر نہیں گیا کیسے رو رہی ہو یار ہاسپٹل ہے یہ ۔۔
مستقیم اب واقعی پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
یہ انجکشین دیکھ کر مجھے ڈر لگتا ہے اس لیے میں بولی ۔۔۔
مرحا بچوں جیسی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا تم انجکشین لگاٶ اور ٹڈی تم یہاں آو ۔۔۔
مستقیم مرحا کو پکڑے اپنے قریب لاۓ سینے پر سر رکھے اور نرس کو اشارہ کرتے بولا تھا ۔۔۔۔
آہہہہہہ۔۔
نرس جو مستقیم کو انکجشین لگا رہی تھی جب مستقیم درد سے چلایا تھا ۔۔۔
اتنے باڈی بلیڈر جیسا انسان انجکشین سے ڈر گیا ۔۔۔
نرس اب واپس جاتی دل میں حیران ہوتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
اسے کیا پتہ تھا مستقیم انجکشین لگنے سے نہیں بلکہ مرحا کے دانت اپنے سینے پر گھاڑتے محسوس کرتے چلایا تھا ۔۔۔
یہ کیا حرکت تھی ٹڈی میرے جلن ہو رہی اب ۔۔۔
مستقیم مرحا کی معصوم شکل دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ انجکشین سے ڈ ر لگت۔۔۔۔
اچھا بس لیکن میرے پین ہو رہا یہاں ۔۔۔
مرحا آنسو کنٹرول کرتی بول رہی تھی مستقیم اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا ڈرامہ کرتے بولا تھا ۔۔۔
ہاے سچی اب جلن کم ہوئ ۔۔
مرحا جلدی سے وہی اپنے ننھے سے لب رکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں سکون آیا میرے یہاں بھی جلن ہو رہی چوٹ لگی ۔۔۔
مستقیم اب شرارتی انداز سے اپنے لبوں کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا ۔۔۔
لیکن مجھے یہاں چوٹ کے نشان نہیں دیکھ رہے سان۔۔۔۔۔
مرحا اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب لاۓ اس کے عنابی ہونٹ دیکھتی بول رہی تھی جب مستقیم اپنے پر قابو نہ پاتا اس کے لبوں کو لاک کر چکا تھا ۔۔۔۔۔
مرحا قابو میں آتی زور سے مکا اس کی کمر پر مارا تھا ۔۔۔
————————————————————
سر آپ کے زخموں پر پٹی کرنی ہے کب سے ہم آپ کو کہہ رہے ۔۔۔
نرس روم میں آتی صام کو دیکھتی بولی تھی جس کے سینے اور چہرے پر کافی چوٹیں آئ تھی جن سے خون نکل رہا تھا جبکہ وہ اپنی فکر کرنے کی بجاۓ اپنے سینے سے لگی روحا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جو ہوش میں آنے کے بادجود بھی اسے ہگ کیے گم صم لیٹی تھی ۔۔۔۔
جاٶ یہاں سے میرے زخموں کا علاج ہے ۔۔۔۔
صام روحا کے بالوں میں اپنی لمبی سفید انگلیاں پھیرتے سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
لیکن سر آپ کے خون نکل رہا کب سے باقی سب کا ٹرٹمنٹ ہو گیا ا۔۔۔۔
تمہیں سنائ نہیں دیتا کیا جاٶ یہاں سے ہم دیکھ لے ہمارے شوہر ہے یہ ۔۔۔
نرس جو بار بار گہری نظروں سے صام کا مضبوط سینہ چوری چوری دیکھتی بول رہی تھی جب روحا اپنی آنکھیں کھولتی غصہ سے دھاڑی تھی ۔۔۔
ج۔جی میم۔۔۔
نرس روم سے باہر جاتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
کیا ہوا پٹی کر دی میں انجکشین لگا کر آتی ہو ۔۔۔
نرس کے باہر آتی دوسری نرس جلدی سے بولی تھی ۔۔۔۔
رہنے دو جس کے لیے ہم سب اندر جا رہی ہے وہ ایک نظر بھی آٹھا کر نہیں دیکھتا آگے سے اس کی بیوی پھاڑ کھانے کو آتی ہے
ویسے بندہ کمال کا ہاےےے جہاں اتنا خوبصورت شوہر ملے اس کی بیوئ کی اکڑ بنتی ہے چل یہاں سے ۔۔۔
نرس ونڈو کے اندر کا منظر دیکھتی ٹھنڈی آہیں بھرتی بولی تھی ۔۔۔
جہاں روحا ویسے ہی صام کے سینے پر سر رکھے سکون سے لیٹی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
بس کرو مس لائف ابھی زندہ ہو میں ۔۔۔۔
کافی دیر سے صام اور روحا خاموشی سے ایک دوسرے کی سانسیں سن رہے تھے جب صام اس کا چہرہ پکڑے اپنے چہرے کے پاس لایا تھا ۔۔۔
کتنی بری بات ہے مس لائف کیوں رو رہی ہو یار ۔۔۔
صام خاموش روحا کی سرخ آنسوں سے بھری آنکھیں دیکھتا بولا تھا روحا کے آنسوں سے صام کے سینے پر لگا خون اس کے گال پر لگا تھا ۔۔۔
کدھر رو رہے ہم۔۔۔
روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔
تو یہ کیا ہے ۔۔۔
صام اس کے چہرے کو دیوانہ وار چومتے بولا تھا ۔۔
جب صام کے لبوں پر خون لگا تھا ۔۔۔
آپ نے پٹی بھی نہیں کروائ صام تو یہ خون نکلنا ہی تھا ۔۔۔
روحا جلدی سے اپنے انگوٹھے سے اس کے لبوں کو صاف کرتی بولی ۔۔۔۔
میرے ہر زخم پر تم لب رکھو گی یہاں پٹی کی ضرورت نہیں مس لائف ۔۔۔۔
صام سیدھا لیٹتا ہوا بولا تھا جب روحا کی آنکھیں باہر کو آئ تھی ۔۔۔۔
ہ۔ہم۔ایسا۔۔
چلو ٹھیک ہے میں نرس کو بلا لیتا ہو ۔۔
روحا شرم کے مارے ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام سکون سے بولا تھا ۔۔
خبردار اگر وہ ٹھرکی عورتیں اندر آئ
صام۔۔
روحا جلدی سے چلائ تھی ۔۔۔
لیکن خون نکل تو رہا میرے زخموں سے ۔۔
صام معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
کچھ شرم حیا ہوتی ہے صام ڈاکٹر نے ریسٹ کہا ہے اور آپ کا ٹھرک پن کم نہیں ہو رہا ۔
کوئ اتنا زخمی ہو کہ رومینس کرتا ہے پتہ نہیں عقل کب آنی ۔۔۔
روحا برے برے منہ بناتی دوبارہ اس کے سینے پر منہ چھپاۓ بولی تھی ۔۔۔
ہاے میری جان جہاں تم ہوتی وہی مجھے رومینس آ جاتا ہے مجھ معصوم کا قصور نہیں ۔۔۔
صام اپنے سینے کے ہر زخم پر روحا کے نرم ملائم ہونٹوں کا لمس پاتے سکون سے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔
باہر بابا ماما پریشان ہو رہے ہے ان کا ٹھرکی بیٹا زخموں سے چور ہوا بیڈ پر بیماروں کی طرح پڑا ہے کوئ بتاۓ انہیں یہ صام ٹھرکی انسان رومینس کر رہا ہے ۔۔۔۔
روحا اپنا چہرہ صام کے چہرے کے قریب لاۓ اس کے چہرے پر بنے ہر زخم پر لب رکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاے یہ مریض تو کب کا بیمار ہے مس لائف تمہارے عشق میں ۔۔۔
صام روحا کی آنکھوں کو چومتے بولا تھا ۔۔۔
چلے س۔۔۔۔کوئ نہیں ابھی یہاں لب رکھنے تم نے ۔۔۔
روحا جلدی سے اپنا سرخ چہرہ لیے پیچھے ہوتی بول رہی تھی جب صام اپنے لبوں کے پاس بنے زخم کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں بلکل بھی ۔۔
روحا اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتی بولی تھی ۔۔۔
پھر نرس ک۔۔۔
اچھا آنکھیں بند کرے ۔۔
صام جو دمھکی دیتا بول رہا تھا جب روحا بولی ۔۔۔
روحا جو ڈرتے ہوۓ صام کے لب کے پاس زخم پر اپنے لب رکھے تھے جب صام نے اسے کمر سے پکڑے اس کی کلائیاں پکڑے اپنی گردن میں حائل کی تھی جب روحا صام کے اور قریب آئ تھی ۔۔۔۔
روحا کی ایک ٹانگ صام کی ٹانگوں پر آئ تھی ۔۔۔
صام روحا کی آنکھوں میں دیکھتا اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
صام کو جٹھکا لگا تھا وہ جو سمجھا تھا روحا ہر بار کی طرح اسے خود سے دور کرے گی لیکن آج روحا نے شرماتے ہوۓ اپنی آنکھوں کو بند کر لیا تھا ۔۔۔۔
صام بھی خوشی سے پاگل ہوتا یہ بھول گیا تھا وہ ہاسپٹل کے روم ہے بس یاد تھا تو اتنا وہ روحا کی ایک ایک سانس پی رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
منان آپ کے ساتھ میں بھی جاٶ ۔۔۔
صبح منان آفندی ہاوس جا رہا تھا جب ہانیہ ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
دونوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔
ہاں چلو ویسے بھی گھر رہ کر کیا کرو گی ۔۔۔
منان فون پر بزی ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ہانیہ کا دل ٹوٹا تھا کیونکہ کبھی نہیں ہوا تھا منان اسے اگنور کرے ۔۔۔
جی اچھا ۔۔۔
ہانیہ رونی سے شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
———————————————————–
کل کا دن بہت تھکا دینے والا تھا ۔۔۔
شکر ہے دلبر جانی تو بچ گیا لیکن اس سوتیلی ناگن کو کون ہنیڈل کرتا ۔۔۔
ہاسپٹل سے سارے گھر آ چکے تھے جب مستقیم زرجان کے ساتھ مذاق کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
ہال میں آہان ہیر زرجان یافی مستقیم مرحا روحا صام ہی بیٹھے تھے ۔۔۔
تو بھی تو بچ گیا سانڈ ورنہ مجھے لگا تھا گولی دل پر لگی تیرے ۔۔۔
زرجان فکر مند ہوتا اس کے شولڈر پر پٹی دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ارے چھوڑ یہ دیکھ ہمارا میجر صاحب بیٹھے ہے ویسے بڑے چپھے رستم نکلے ہو ۔۔۔۔
مستقیم صام کی طرف دیکھتے بولا تھا جو سب کو بھلاۓ بس روحا کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
بول تو ایسے رہ جیسے پتہ ہی نہیں تھا تمہیں دو ٹکے کے پولیس والے ۔۔۔
منان ہانیہ کے ساتھ انٹر ہوتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
ارے چار ٹکے والے پولیس آی ہے آے کیا کھانا پسند کرو گے جوتے یا مکے ۔۔۔
مستقیم زرجان صام آہان چاروں ایک ساتھ منان کو گلے لگاے دانت پیستے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔
چھوڑو یار کیا اپنی بیویاں سمجھ کر لگ گے ہو مجھے کچھ لحاظ کرو ابھی ٹھیک ہوا ہو ۔۔۔
منان ماحول کو ٹھیک کرتا مذاق کرتا بولا تھا جانتا تھا ان سب کی دوستی کتنی کریزی تھی ۔۔۔
تم بیوی بن بھی نہیں سکتے اچھا تھوڑا سا پیار کر دو سر پر چڑ جاتے ہو ۔۔۔
مستقیم بھی مذاق کرتا اسے چھوڑتا مرحا کے پاس بیٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
آۓ بھابھی یہاں بیٹھ جاے ہم کافی لگاتے ہے ۔۔
روحا ہانیہ کا ہاتھ پکڑتی صوفے پر بیٹھاتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
راضیہ یہ کافی لے جاٶ ہم آتے ہے ۔۔۔
روحا ملازمہ کو کافی کی ٹرے دیتی بولی تھی ۔۔
آہہہہ اففف صام ڈرا دیتے ہے حد ہے ابھی ہاسپٹل سے آۓ ہے اور آپ ب۔۔۔۔
ششششش میری ہو صرف میری بہت جلد تمہیں اس آفندی ہاوس سے آٹھا کر لے جاو گا ۔۔۔
روحا جیسے ہی کچن سے باہر جانے والی تھی تبھی لائٹ آف ہوتے ہی کسی نے اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔
اندھیرے میں اور روحا کی پشت اس کے سینے سے لگی تھی تبھی روحا بنا دیکھے مسکراتی بولی تھی ۔۔
لیکن کسی انجان بندے کی آواز سنتی گھبرائ تھی وہ تو صام سمجھی تھی ۔۔۔
ک۔۔۔کو۔ن۔۔۔۔
اپنی تیز ہوتی سانسوں کو قابو پاتی
روحا بولی تھی ۔۔
تمہارا عاشق بہت جلد ملے گے ہم دوبارہ ۔۔
وہ روحا کو چھوڑتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
جبکہ خوف کے مارے روحا کا دل باہر آنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔
کیا کرو صام کو بتاٶ کیا ۔۔۔۔
ن۔نہیں وہ تو اس شخص کو مار دے گے ۔۔
کچن میں واپس لائٹ چلتی دیکھ وہ اپنا پیسنہ صاف کرتی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
ہاے بلیک بیوٹی کیسی ہو ۔۔
روحا سوچتے ہوۓ کچن سے باہر آی تھی جب وہاں بیٹھے شعیب نے مسکراتے پوچھا تھا ۔۔۔
ٹ۔ٹھیک۔۔۔
روحا اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی بولی صام کے پاس بیٹھ گی تھی ۔۔۔
ہر کوئ باتوں میں مصروف تھا کسی نے غور نہیں کیا تھا روحا کتنا گھبرائ ہوئ تھی ۔۔۔
کیا ہوا میری جان کو اتنا گھبرا کیوں رہی ہو اور یہ ہارٹ بیٹ کیوں تیز ہے ۔۔۔۔
روحا ڈر کے مارے صام کو کمر سے پکڑے اس کے سینے پر سر رکھے بیٹھی تھی جب صام پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
آ۔پ۔کو کیسے پتہ چ۔۔۔
یہ جو لاکٹ پہنا ہے اس سے کیونکہ یہ ہم دونوں کی ہارٹ بیٹ کی سیپڈ پر سینے پر کرنٹ دیتا ہے جیسے مجھے فیل ہوا کرنٹ ۔۔۔
صام روحا کے زرد پڑتے چہرے پر انگلیاں چلاتے بولا تھا ۔۔۔
و۔وی۔وہ ہا۔ہاں چوہا دیکھ لی ۔۔ہم نے تو ۔بس ۔۔
روحا اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیرتی بامشکل بولتی اپنا منہ اس کے سینے میں چھپا چکی تھی ۔۔۔
ڈرنے والی کیا بات ہے شاہد نیند آئ ہو تمہیں ۔۔۔۔
صام روحا کا کانپتا جسم محسوس کرتا بات کو ہلکا لیتا بولا تھا جبکہ دل میں پریشان ہوا تھا کیوں اس کی یہ حالت ہوئ ۔۔۔
ہمممم۔۔
روحا اپنی آنکھوں کو زور سے بند کرتی بولی تھی ۔۔۔
چلو گائز پھر ملتے ہے ابھی تو نیند آ رہی ۔۔۔
کافی دیر باتیں کرتے صام نے سوئ ہوئ روحا کو باہوں میں بھرتے اپنے روم کی طرف جاتے کہا تھا ۔۔
روحا ڈر کے مارے نیند میں چلی گی تھی اسے پتہ ہی نہیں چلا وہ کب سو گی ۔۔۔
ہاں بھائ جا جیسے تو نے پہاڑ توڑے ہے جاگ کر ۔۔
مستقیم صام کو تنگ کرتا بولا تھا ۔۔۔
تھوڑے سے توڑے ہے باقی تو توڑ لے پہاڑ ۔۔
صام مستقیم کو دیکھتے آنکھ ونک کرتا کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
جبکہ سب کے قہقے گونجے تھے ۔۔۔
———————————————————-
آج میں بہت خوش ہو بابا ۔۔۔
آج مجھے ویسی خوشی ملی جب میری دوستی نوفل کے ساتھ تھی۔۔
کاش بابا ماما آپ دونوں مجھے الگ نہ کرتے نوفل کے ساتھ تو آج وہ میرے ساتھ ہوتا ۔۔
آپ سب جانتے تھے میرا دوست صرف وہی تھا لیکن اپنے ڈر کی وجہ سے مجھے الگ کر کے لندن بھیج دیا ۔۔۔
رات کے اندھیرے میں صام آفندی صاحب اور وردہ بیگم کے روم میں آتا ان دونوں کے پاٶں کے قریب بیٹھتے سکون سے بول رہا تھا ۔۔
جبکہ وہ دونوں سو رہے تھے ۔۔۔
میں وہاں اکیلا رہا آپ سب کو یاد کرتا تھا لیکن آپ سب مجھ سے ملنے نہیں آتے تھے کہ شاہد کبھی آپ کا یہ ایٹیٹیوڈ صامے اپنے دوست نوفل کے پاس نہ چلا جاۓ ۔۔۔
سالوں گزر گے لیکن مجھے کبھی احساس نہیں ہوا تھا کہ میرے پاس دل بھی جو دھڑکتا ہے ۔۔
پھر مجھے مس لائف ملی مجھے لگا جیسے میری زندگی مل گی ہے مجھے بہت خوشی ہوتی تھی اسے تنگ کرنے سے ۔۔۔
لیکن آج مجھے ایسے لگا جیسے مس لائف بھی مجھ سے محبت کرنے لگی ہے افففف یہ احساس میرے دل پر گدگدی کرتا ہے جب بھی فیل کرو ۔۔۔
شکریہ بابا ماما مجھے یہ انمول تحفہ دینے کے لیے آپ دونوں کی وجہ سے مس لائف راضی ہوئ تھ نکاح کے لیے ۔۔۔
صام مگن ان کے پاٶں پکڑے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔
ہاہہاہااہا بابا کا شوک چہرہ یاد ہے مجھے جب انھوں نے مجھے آرمی یونفارم میں دیکھا تھا ۔۔۔
چاہے آپ کے لیے میں ہڈ حرام نکما آوارہ ہی سہی بابا لیکن آپ کا صامے غلط نہیں ہو سکتا بس اس بات کا یقین رکھے گا ۔۔۔
صام ان دونوں کے پاٶں چومتا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————-
آ۔آپ نے دیکھا آفندی صاحب ہمارا صامے پہلے جیسا ہو گیا ۔۔۔
وردہ بیگم آنسو کنٹرول کرتی جاگتی بولی تھی ۔۔
صام کی آہٹ سے ہی دونوں جاگ گے تھے بس اس کے سامنے ڈرامہ کر رہے تھے ۔۔
آفندی صاحب وردہ بیگم پیار سے صام کو صامے کہتے تھے ۔۔
ہاں دیکھ لیا ہمارا صامے واپس آ رہا ہے لیکن وردہ ہم نے واقعی غلط کیا ۔۔۔
آفندی صاحب بھی دکھی ہوتے بولے تھے ۔۔
آ۔آپ نے ڈھونڈنا چ۔۔۔
ڈھونڈا تھا لیکن پتہ چلا وہ مر چکا ہے بس میں کیا کرتا ۔۔
وردہ بیگم ڈرتے ہوۓ بولی تھی جب آفندی صاحب بولے تھے ۔۔۔
ک۔کل نوفل کی برتھ ڈے ہے ا۔۔۔
وردہ بیگم ایکدم پریشان ہوتی بول رہی تھی جب آفندی صاحب بولے تھے ۔۔۔
تم روحا کو کہو صبح وہ ہر وقت صام کے ساتھ رہے کیونکہ کل صام اپنے کنٹرول سے باہر ہو گا ایک روحا ہی ہے جو اسے کنٹرول کر سکتی ہے ۔۔۔
دونوں جو ابھی سکون سے سو رہے تھے اب پریشان ہو کر جاگ گے تھے ۔۔۔
