Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01)

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01)

“مسٹر فرقان ایک منٹ آپ سے بات کرنی ہے” شمائلہ نے انہیں اینٹرینس پر روکا
“جی کہیے مسز جلال؟ ” فرقان لودھی کا لہجہ سادہ سا تھا
“آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ “شمائلہ کے یوں پوچھ لینے سے فرقان لودھی حیران ہوئے مگر انکا چہرہ سپاٹ تھا
“کیا کر رہا ہوں میں؟ ” انہوں نے انجان بنتے پوچھا
“ھدی سے شادی” ایک ایک لفظ پر زور ڈالتے وہ بولی
“شادی کیوں کرتے ہیں مسز جلال؟ ” انہوں نے سوال کیا جب کے شمائلہ خاموش رہی
“میں چلتا ہوں مسز جلال” اسے اپنی سوچ میں گم دیکھے وہ بولے
“یہ آپ اچھا نہیں کر رہے ہیں”ان کی پشت کو بےبسی سے تکتے وہ بولی
“اچھا تو میرے ساتھ بھی نہیں ہوا تھا، اب وقت ہے کے میں خود کے کےلیے کچھ کروں
فرقان لودھی کی باتیں شمائلہ کو بہت کچھ سمجھا گئی تھی
“آپ پچھتائے گے” اسنے ایک آخری کوشش کی
“پچھلے تین سالوں سے پچھتا رہا ہوں” یہ بات تیر کی طرح لگی تھی شمائلہ کو جبکہ فرقان لودھی مزید کچھ کہے وہاں سے چل دیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اسکی پاکستان کی فلایئٹ تھی اور اس وقت وہ پیکنگ میں مصروف تھی جب شہانہ بیگم اندر داخل ہوئی جبکہ اسنے اپنا کام جاری رکھا
“کیا میں تم سے دو منٹ بات کر سکتی ہوں سروج؟ ” انکا لہجہ التیجایہ تھا۔
“جی کہیے” اسنےپیکنگ کرتے اجازت دی
“ایسے نہیں بیٹھ کر سنوں” اسے بیڈ پر بٹھاتے وہ بولی
“دیکھو سروج میں جانتی ہوں کہ تم مجھ سے ناراض ہوں مگر بیٹا میں ماں ہواں تمہاری تم خود سوچو کون سی ماں خود اپنی اپنی اولاد کو برباد ہوتے دیکھ سکتی ہے ٹھیک ہے تم نے ھدی کے حوالے سے وعدہ کیا تھا عمیر سے پورا کروں مگر میری جان اپنی زندگی کو یوں نظر انداز مت کروں تمہارے پاس ساری عمر ہے اسے یوں ہی مت برباد کروں” شہانہ بیگم نے اسے سمجھانا چاہا جس پر اسنے صرف سر ہلا دیا اور اس وقت شہانہ بیگم کے لیے وہی کافی تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت سٹڈی روم میں بیٹھے وہ سیگریٹ کا کش لیے آج کی ملاقات کے بارے میں سوچ رہا تھا
پوری زندگی فرقان لودھی نے اپنوں کی خاطر گزاری تھی، وہ اپنے ماں باپ کی سب سے بڑی اولاد تھے اور انکی پیدائش سے دس سال بعد انکا چھوٹا بھائی ازان اور پھر بہن نور تھی
ماں باپ کی جدائی کے بعد فرقان لودھی نے اپنے بہن بھائی کو سنبھالا تھا اور ایسے میں وہ اپنا آپ بھول گئے تھے
ایک بار میٹنگ کے سلسلے میں وہ جلال سے ملنے آفس آئے تھے وہی انکی ملاقات شمائلہ سے بطور سیکریٹری کروائی گئی تھی وہ شاید شمائلہ پر دھیان نا دیتے مگر شمائلہ کا انداز انہیں اس قدر بھایا تھا کہ وہ خود کو اسکی محبت میں گرفتار ہونے سے نا روک پائے اور محبت کا تو کام ہی تکلیف دینا ہوتا ہے، انہوں نے شمائلہ کو جب تک اپنے جزبوں سے آگاہ کیا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی وہ جلال کی ہمسفری کے خواب بن چکی تھی
فرقان لودھی کا گناہ یہ نہیں تھا کہ انہوں نے شمائلہ سے محبت کی بلکہ یہ تھا کہ وہ شمائلہ سے عمر میں تیرہ سال بڑے تھے
شمائلہ نے نہایت بےدردی سے ابکا پرپوزل ریجیکٹ کیا تھا، انہیں ھدی سے کچھ لینا دینا نا تھا انہیں بس اتنا معلوم تھا کہ صدیق صاحب اور جلال اس معصوم یتیم اور مسکین لڑکی کی جایئداد ہڑپ کرنا چاہتے ہیں وہ بھی انہوں نے اچانک ان دونوں کی گفتگو سن لی تھی۔
کچھ سوچتے ہوئے انہوں نے اپنا سگار بجھایا اور موبائل اٹھاتے اس میں کچھ ٹائپ کیا
یہ آج کی ساری ریکارڈنگ تھی جو جلال اور صدیق صاحب کی باتوں کی تھی
“بہت خوب مسٹر صدیق مگر اب کی بار تم ناکام ہوگے ” کھڑکی سے باہر دیکھتے انہوں نے خود سے عہد کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل اسکا نکاح تھا اور ساتھ ہی اسکی انیسویں سالگرہ بھی وہ ہر سال یہ دن بہت جشن سے مناتی تھی مگر اس بار اسکی ایسی کوئی آرزو نا تھی اسکا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی جادو چل جائے اور یہ۔ دن اسکی زندگی سے نکل جائے
ایسے میں شمائلہ نکاح کا جوڑا ہاتھوں میں لیے اسکے کمرے میں داخل ہوئی جبکہ ھدی کا تو سانس سوکھ گیا
“بھابھی ” وہ بھرائی آواز میں بولی اور بیڈ پر اسکے کپڑے رکھتی شمائلہ کے ہاتھ کانپ گئے
کاش وہ اس کے لیے کچھ کر پاتی کاش وہ اسے اس دلدل سے نکال پاتی جسکا حصہ وہ بن چکی تھی
“بھابھی پلیز کچھ کرے۔ مجھے بچالے بب۔ بھابھی۔ وہ مم۔ مجھے ۔مم۔ ماڑ ڈالے گا، کک۔ کچھ کک۔ کرے بھابھی، پلیز” اسکے شانے سے لپٹے وہ اونچی آواز میں رونے لگی، شمائلہ کا دل کٹ رہا تھا اسکی ایسی حالت دیکھ کر مگر اسکے خود کے ہاتھ بندھے تھے ایک آخری امید تھی سروج مگر اس رات کے بعد اسکا کوئی کانٹیکٹ نا ہو پایا تھا
“سب ٹھیک ہوجائے گا میری جان اللہ پر بھروسہ رکھو” اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے انہواں نے تسلی دینے کی ناکام سی کوشش کی
“کچھ ٹھیک نن۔ نہیں ہوگا، کک۔ کچھ بب۔ بھی نہیں سب چلے گئے مجھے چھوڑ کر اب کک۔ کوئی مجھے نہیں بچا پائے گا” انکے ہاتھ جھٹکتی وہ ہذیانی کیفیت میں چلائی اور بالوں کو نوچتے اونچا اونچا رونا شروع کردیا
شمائلہ تو اسکی اس حرکت پر بھوکلا کر رہ گئی اور جلدی سے اسے پانی پلاتے وہ اسے بیڈ پر لے آئی اور اب اسے تھپک تھپک کر سلانا شروع کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
آج اسکی پاکستان کی فلائٹ تھی مگر صبح سے اسکا دل بےچین ہورہا تھا اسنے کل صبح پاکستان پہنچ جانا تھا مطلب کے پاکستانی ٹئمنگ کے حساب سے وہ وہاں رات تک پہنچ جاتی
اسے ناجانے کیوں مگر بار بار ھدی کی فکر ہوئے جارہیتھی اسکا بس نا چلتا کہ وہ اڑکر اسکے پاس پہنچ جائے اسنے ایک نظر اپنے بازو کے حلقے میں سوئے ابراہیم کو دیکھا
“بس ایک اور دن میری جان پھر ہم وہاں ہوگے جہاں ہمیں ہونا چاہیے” اسکا ماتھا چومتے وہ پیار سے بولی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *