Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30
’’مجھے کال کرنے کی وجہ؟‘‘ زرار نے مائز سے پوچھا
’’کیا تم نے سنا نہیں کہ وہ سب کفارا ادا کرنا چاہتے ہیں‘‘ مائز نے شکوہ کیا
’’ان کی غلطی تھی انہیں کرنا چاہیے احسان نہیں کیا انہوں نے‘‘ زرار نے بےتاثر لہجے میں جواب دیا
’’مجھے اصل وجہ بتاؤ‘‘ زرار نے پوچھا
’’کیا اصل وجہ؟‘‘ مائز انجان بنا
’’ایک بات میری کان کھول کر سن لو مائز اور موسی کے دماغ میں بٹھادوں۔۔۔۔۔۔ اسے کہوں سروج سے دور رہے میں بےوقوف یا بچہ نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔جو سمجھ نا پا کچھ‘‘ زرار لب بھینچے بولا
’’کیا مطلب‘‘ مائز کے پلے کچھ نا پڑا
’’کچھ نہیں بس اس سے کہوں سروج سے دور رہے اور اپنے دل کو بھی سنبھال رکھے۔۔۔۔۔۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں‘‘ کہتے ہی زرار نے کال کاٹ دی
’’پاگل ہے کیا یہ؟‘‘ مائز موبائل کو دیکھ کر بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار کی نظریں اب ہسپتال سے نکلتے اس ڈاکٹر پر تھی
سروج کی وجہ سے اس نے اس ڈاکٹر کو چھوڑا ہوا تھا کیونکہ سروج کا کیس اسی کے پاس تھا
مگر اب وقت آگیا تھا کہ وہ اسکا حشر نشر کردے۔۔۔۔بھلا یہ ڈاکٹر کون ہوتا ہے اس کی ھدھد پر کمنٹ پاس کرنے والا
یہ بات کرنے والا کہ وہ خوبصورت ہے بھی یا نہیں
زرار کا غصہ ایک دم پھر سے بڑھ گیا
گاڑی سٹارٹ کیے اسنے اس ڈاکٹر کی کار کے پیچھے لگا دی
ایک قدرے سنسان جگہ پر جاکر زرار نے ڈاکٹر کی کار کو اوورٹیک کیا اور اب اپنی کار سے راستہ بلاک کردیا
’’یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔او بھائی صاحب اپنی گاڑی ہٹاؤ آگے سے‘‘ ڈاکٹر اپنی کار سے نکل کر زرار کی کار کے بند شیشے کھٹکھٹا کر بولا
ایک دم سے اسے اپنے پیچھے کوئی محسوس ہوا
اور بنا سمجھنے کا موقع دیے۔۔۔۔۔۔ایک دم سے اس ڈاکٹر کا سر کار کے بونٹ پر دے مارا۔۔۔۔۔چہرے پر کالا ماسک چڑھائے وہ ڈاکٹر کو کی درگت بنا رہا تھا
’’بچاؤ کوئی ہے۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔کوئی ہے‘‘ ڈاکٹر خود کا بچاؤ کرنے کی کوشش کرنے لگا مگر زرار نے اسے ایسا کوئی موقع نا دیا
ڈاکٹر کا سر پھٹ چکا تھا۔۔۔۔۔۔ناک اور منہ سے بھی خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔وہ بےہوش ہونے کے در پر تھا
’’یہ مار تمہیں اچھے سے یاد دلائے گی کہ تم کون ہوں اور دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اب تم اپنی شکل آئینے میں دیکھنا نہیں بھولوں گے‘‘ زرار نے اسکا چہرہ اتنا بگاڑ دیا تھا کہ واقعی میں اسکی شکل بگڑ کر رہ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمارہ کی ہاں پر سلطان صاحب نے آج گھر میں مراد اور اسکے ماں باپ کو ڈنر پر بلوایا تھا
انکے مطابق کہ آج ہی منگنی کی رسم بھی ادا کردی جائے اور پھر بعد میں ایک گرینڈ پارٹی رکھ کر آفیشلی انکا رشتہ ڈکلیر کردیا جائے
کھانا لگ چکا تھا۔۔۔۔۔سب لوگ ٹیبل پر کھانے کے لیے اکٹھے تھے
سب لوگ کھانے میں مصروف تھے سوائے عمارہ کے
’’اففف‘‘ وہ جھنجھلا اٹھی تھی، سب لوگ اس وقت کھانے کی ٹیبل پر جمع تھے، اورایک وہ تھی جسے یہی نہیں معلوم ہورہا تھا کہ اسکا سیدھا ہاتھ کونسا ہے اور الٹا کونسا۔
ٹیبل کے نیچے دونوں ہاتھ کیے کبھی وہ اپنے سیدھے ہاتھ کو دیکھتی تو کبھی الٹے کو مگر سیدھا کونسا ہے اور الٹا کونسا، کھانا کس ہاتھ سے کھانا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔
’’آہمم‘‘ ساتھ بیٹھے مراد نے جب یہ کاروائی دیکھی تو گلہ ہلکے سے کھنکھارتے اسے اپنی طرف متوجہ کیے اسنے سیدھے ہاتھ سے پانی کا گلاس لبوں کو لگا لیا، مقصد صرف عمارہ کو سیدھے ہاتھ کے بارے میں بتانا تھا
مراد کا ہاتھ دیکھ کر وہ چونکی اور پرجوش سی بریانی پلیٹ میں ڈالے اب اپنی ساری توجہ کھانے کی طرف کیے مزے لیکر کھانے لگی۔
’’تم مجھے بعد میں شکریہ ادا کر سکتی ہوں‘‘ سب کو اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ دیکھ اسنے ہولے سے اسکے کان میں سرگوشی کی، اور مسکراتا دوبارہ اپنے کھانے سے انصاف کرنے لگا
عمارہ تو اسکی اس قدر نزدیکی پر سرخ انار ہوچکی تھی
مراد کے لیے بدلتے اپنے احساسات اور جذبات وہ خود بھی نہیں سمجھ پارہی تھی
مگر جو بھی تھا وہ اب مطمئن تھی اور پرسکون بھی
مگر ایک اور وجود بھی تھا جسے اسے مطمئن کرنا تھا
اسنے مراد کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اور مسکراہ کر دوبارہ اپنی پلیٹ پر جھک گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اللہ آج تو بہت دیر ہوگئی‘‘ آفس کی بلڈنگ سے بڑبڑاتی نکلتے وہ اپنی کار کی طرف بڑھی
مگر کار کی طرف جاکر اسے جھٹکا لگا کیونکہ اسکا ایک ٹائز پنکچر تھا
’’یا اللہ اب یہ کیا نئی مصیبت ہے‘‘ وہ ہاتھ ہوا میں جھنجھلائے بولی
’’مس نیلم خیریت آپ یہاں؟‘‘ حسیب جو ابھی ابھی پارکنگ میں آیا تھا اسے وہاں دیکھ کر حیران رہ گیا
’’اینی پرابلم ؟‘‘ اسکے پریشان چہرے کو دیکھ کر اسنے پوچھا
’’نو سر۔۔۔۔۔۔۔آئی مین یس سر۔۔۔۔وہ ٹائر پنکچر ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور میں آلریڈی لیٹ ہوچکی ہوں‘‘ وہ حسیب کو پریشانی بتاتے بولی
حسیب کے ساتھ کام کرتے ان دونوں کے درمیان اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی
اب وہ ایک دوسرے کو سمجھنے لگ گئے تھے
حسیب نے اس سے پہلے ہی مائز کے حوالے سے معافی مانگ لی تھی
نیلم کو بھی حسیب سے اور کوئی مسئلہ نہیں تھا وہ ایک اچھا انسان تھا
’’دونٹ وری آپ ایسا کرے میرے ساتھ چلے میں چھوڑ دوں گا‘‘ حسیب نے جواب دیا
’’میں؟ مگر کیسے؟‘‘ نیلم نے ارد گرد نظر دوڑائی آفس کے کچھ ورکرز ابھی وہی موجود تھے
’’مس نیلم اس وقت گھر جانا زیادہ امپورٹینٹ ہے یا پھر لوگوں کی سوچ؟‘‘ حسیب کی بات پر وہ شرمندہ ہوگئی
’’چلے؟‘‘ حسیب نے پھر سے سوال کیا
’’چلے‘‘ نیلم بولتے ہی اسکی کار میں بیٹھ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ڈیڈ بات کرنی ہے آپ سے‘‘ عمارہ ہچکچا کر بولی
’’مجھے بھی‘‘ مراد نے شمشیر صاحب کو متوجہ کیا
’’جی بیٹا کہیے‘‘ سلطان صاحب نے اجازت دی
اب مراد اور عمارہ نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بات پہلے شروع کرنے کا اشارہ کررہے تھے
’’اوکے فائن ڈیڈ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری انگیجمنٹ بڑے لیول پر ہوں اور اسکی لائیو کوریج ہوں۔۔۔۔‘‘ عمارہ نے بات شروع کی
’’ارے بس اتنی سی بات ‘‘ سلطان صاحب پرسکون ہوئے
’’ہاں مگر کچھ اور بھی ہے‘‘ عمارہ مزید آگے بولی
’’اب کیا؟‘‘
’’آپ لوگ یاسین انڈسٹریز کے بارے میں جانتے ہیں؟‘‘ مراد نے بات کا آغاز کیا
’’یاسین انڈسٹریز؟؟ او اچھا مسٹر یاسین کی کمپنی۔۔۔۔۔۔ہاں بھئی جانتے ہیں نا بہت اچھے تھے وہ مگر انکی بہو۔۔۔۔۔۔۔ صد افسوس ہے ایسے لڑکی پر۔۔۔۔۔۔‘‘ مسٹر شمشیر بولے
’’وہ ایسی نہیں ہے‘‘ مراد نے انکی بات کاٹی
’’اوکے ہمیں آپ کو کچھ بتانا ہے‘‘ مراد خود کو کمپوز کرتے بولا
’’ہاں کہوں‘‘ سلطان صاحب اب کچھ سیریس ہوئے تھے
پھر مراد نے الف تا یے سب کچھ انہیں سنا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔سلطان صاحب بیچ میں ایک آدھ سخت نگاہ عمارہ پر بھی ڈال لیتے۔۔۔۔۔۔۔ اسکا تو جھکا سر اٹھ ہی نہیں رہا تھا
’’اب تم کیا چاہتے ہوںَ؟‘‘ شمشیر صاحب نے سوال کیا
’’میں۔۔بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اب آپ لوگوں کے بچوں نے جو غلطی کی ہے اسے سدھارے اور اسی لیے ہم چاہتے کہ اب آپ لوگ ایک ڈیل کرے یاسین انڈسٹریز کے ساتھ‘‘ مراد نے بات مکمل کی
’’اور ہم چاہتے ہیں کہ فنکشن بھی اسی لیے گرینڈ رکھا جائے تاکہ ہم میڈیا کہ ذریعے یہ بات پھیلا دے کہ سروج کا اس سب سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نا ہی یاسین انڈسٹریز کی مارکٹ ویلیو کم ہوئی ہے‘‘ عمارہ نے بات مکمل کی
’’ہمم تم کیا کہتے ہوں سلطان؟‘‘ شمیشر صاحب نے ان سے پوچھا
’’مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہی‘‘ سلطان صاحب حیران ہوئے
’’ڈیڈ پلیز ہماری بات تو مان کر دیکھے سروج بہت اچھی ہے ڈیڈ۔۔۔۔۔۔ آپ کو خوشی ہوگی اس کےساتھ کام کرکے‘‘ عمارہ نے یقین دلایا
’’عمارہ تم کیا جانتی ہوں بزنس کے بارے میں‘‘ انہوں نے آبرو اچکا کر پوچھا
’’ڈیڈ پلیز۔۔۔۔‘‘ اسنے منت کی
’’اوکے‘‘ سلطان صاحب نے ہار مان لی
’’او تھینکیو‘‘ خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ وہ کھل اٹھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’وائے آر یوں لیٹ؟‘‘
(آپ دیر سے کیوں آئے؟)
زرار جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا، اچانک لائٹس اون ہوئی اور صوفہ پر بیٹھے آہل نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اس سے سوال کیا
’’وائے آر یو سٹل اپ؟‘‘
(تم ابھی تک کیوں جاگ رہے ہوں؟)
زرار نے الٹا اس سے سوال کیا
’’فرسٹ آنسر مائی کویسچن‘‘
(پہلے میرے سوال کا جواب دے)
آہل نے پھر آبرو اچکا کر پوچھا
’’آئی واز ود مائی۔۔۔۔‘‘
’’ود یور؟‘‘
’’اوکے آئی واز ود مائی ھپوئی‘‘
(میں اپنی ھدھد کے ساتھ تھا)
زرار نے مسکراہٹ دبائے جواب دیا
’’واٹ!!!! ریئلی‘‘ آہل اچھل پڑا
’’سو وین آر یو گوئینگ ٹو لیٹ ہر میٹ می؟‘‘
(تو آپ اسے مجھ سے کب ملوارہے ہیں؟)
آہل نے چہک کر سوال کیا
’’سون مائی بردر سون‘‘
(بہت جلد)
’’بٹ سٹل وین؟‘‘
(مگر پھر بھی کب؟)
آہل بےصبرا ہوا
’’کمنگ سیٹرڈے‘‘
(اس ہفتے کو)
’’آر یو سیریس؟‘‘
(کیا آپ سچ بول رہے ہیں؟)
’’یس آئی ایم؟‘‘
(ہاں بلکل سچ)
واؤ۔۔۔۔۔ آئی ایم رئیلی انیکشیس
(مجھے واقعی میں انتظار ہے)
می ٹو
(مجھے بھی)
’’ناؤ اٹس ٹائم ٹو سلیپ‘‘
(چلو اب سونے کا وقت ہوگیا ہے)
زرار آہل کو لیے اپنے ساتھ کمرے کی جانب چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’میں اندر آسکتا ہوں ؟‘‘ موسی نے دروازے پر دستک دیے مسز علی سے اجازت مانگی
’’ارے موسی آؤ نا‘‘ اس وقت صرف وہ کمرے میں تھی
’’مام بات کرنی ہے آپ سے‘‘ موسی ہچکچایا
’’ارے کروں نا۔۔۔۔۔۔ آجاؤ‘‘
’’مام مجھے شادی کرنی ہے‘‘ موسی نے ایک سانس میں بات ختم کی
’’ہے؟؟؟؟؟‘‘ مسز علی کا تو مارے حیرت منہ کھل گیا
’’کس سے؟‘‘ مسز علی نے حیرت پر قابو پاتے پوچھا
’’سروج سے‘‘ نظریں نیچی کیے اس نے جواب دیا
’’مجھے ڈر ہے کہ تمہارا یہ چاند کسی دن کوئی چاند چڑھا ہی نا دے‘‘
مسز علی کے دماغ میں اپنے شوہر کے الفاظ گونجے
انہوں نے بےبسی سے اپنے بیٹے کو دیکھا جو واقعی چاند چڑھانے کے در پر تھا
’’موسی۔۔۔۔سروج؟‘‘ مسز علی بولی
’’جی مام سروج‘‘ موسی نے زور دیا اپنی بات پر
’’مگر بیٹا وہ تو بیوہ ہے۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ اور ایک بیٹا بھی ہے اسکا‘‘ مسز علی بولی
’’مام تو کیا کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ موسی جی بھر کر بدمزہ ہوا بیوہ والی بات پر
’’کیا آپ کو سروج پسند نہیں‘‘ اب کی بار وہ سیریس تھا
’’ایسی بات نہیں ہے مجھے وہ پسند ہے مگر۔۔۔‘‘
’’مگر آپ کو وہ میری بیوی کے طور پر پسند نہیں‘‘ موسی نے بات مکمل کی
’’موسی!!!‘‘ انہوں نے پکارا
’’ایم سوری مام مگر میں شادی کروں گا تو صرف سروج سے‘‘
’’ڈو یو لو ہر؟‘‘ موسی نے حیرانگی سے اپنی ماں کو دیکھا اسے ان سے اس سوال کی امید نا تھی
’’ ٹیل می موسی ڈو یو لو ہر؟‘‘
’’یس مام ۔۔۔۔۔۔۔ آئی ڈو‘‘ بولتے ہی وہ باہر چل دیا
اسے سروج سے محبت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اسے وہ چاہیے تھی ہر حال میں۔۔۔۔۔۔ اس وقت تو موسی خود بھی اپنے جذبات نہیں سمجھ پارہا تھا
وہ ایک جلد از جلد اپنے کمرے کی جانب گیا، اور ایک کال ملائی
’’ایک کام ہے‘‘ موسی کال کرتے ہی بول
’’بہت جلد وہ آخری سرا میرے ہاتھ لگ جائے گا جس سے تم سب جڑے ہوں‘‘
’’اور پھر ہر ایک کو اس کا بدلا چکانا ہوگا جو جو میری بہن کا قصوروار ہے‘‘ اسکی آنکھوں میں نفرت کے سوا کچھ نا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
