Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09
’’کیا یہ واقعی تم ہوں؟‘‘ سروج کی نظروں کی حیرانگی زرار کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
’’ہاتھ لگا کر دیکھ لو‘‘ وہ ایک آبرو اچکائے بولا، جس پر سروج نے بنا کچھ سوچے سمجھے ایک تھپڑ رکھ کر اسکے منہ پر دے مارا
’’سروج!!!‘‘ زرار تو اپنے گال پر ہاتھ رکھے، حیرت سے آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھنے لگا
’’یہ واقعی میں تم ہوں زرار، آئی۔۔۔۔۔۔آئی کانٹ بلیو اٹ (مجھے۔۔۔مجھے یقین نہیں آرہا)‘‘ آنکھوں میں نمی ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے وہ بولی، بغیر زرار کی انکی گھوریوں کی پراہ کیے، جو وہ اسے دینے میں مصروف تھا۔
’’ہاں محترمہ یہ واقعی میں، میں ہوں اب تو یقین آگیا نا؟‘‘ خوبصورت سی مسکان لیے وہ اس سے پوچھنے لگا جس نے سر ہاں میں ہلا دیا
’’تو تم ہوں ھدی کے بیسٹ جس سے وہ اتنی تنگ ہے؟‘‘ دونوں بازو سینے پر لپیٹے اب وہ اس سے تشویش کرنے لگی۔
’’ہاں، میں ہی ہوں اپنی ھدھد کا بیسٹ‘‘ وہ بھی ویسے ہی بولا
’’ھدھد؟ سیریسلی زرار‘‘ اسکے ھدھد کہنے پر سروج ھنس دی
’’وٹ سو فنی؟‘‘ زرار نے آبرو اچکائے سوال کیا
’’تم آج بھی اسے ھدھد ہی کہتے ہوں؟‘‘ چہرے پر حیرت انگیز مسکان سجائے اسنے پوچھا
’’آج سے کیا مراد؟ میں ہمیشہ اسے ھدھد کہتا رہوں گا، مت بھولو کہ وہ میری ھدھد تھی اور رہے گی‘‘ اب کی بار وہ سیریس ہوا
’’وہ تم سے ڈرتی ہے زرار‘‘ سروج نے جیسے بتایا
’’بڑی نئی بات بتائی تم نے‘‘ زرار نے گویا ناک سے مکھی اڑائی
’’اگر تم ایسے ہی رہو گے وہ تو تم سے دور بھاگ جائے گی‘‘سروج نے سمجھانا چاہا
’’آج تک کوئی ایسا اس دنیا میں آیا نہیں ہے سروج جو زرار کو اسکی ھدھد سے جدا کردے، وہ اول سے آخر تک میری ہے اور رہے گی‘‘ زرار کی لہجے کی پختگی سروج کو متاثر نا کرسکی
’’اچھا کیا کروں گے؟‘‘ سروج نے دل جلا دینے والی مسکراہٹ سے پوچھا
’’میں اس انسان کا نام و نشان مٹا دوں گا‘‘ اسکا چہرا خطرناک حد تک سسنجیدہ تھا
’’ہاں بلکل ویسے ہی جیسے کل تم اسکا نکاح رکوانے نہیں آئے تھے، یا ویسے جیسے ایاز ابھی تک آرام سے گھوم رہا ہے اور تم نے اسے کچھ کہا نہیں‘‘ سروج سنجیدہ لہجے میں بولی
’’تم جانتے ہوں زرار عمیر کو یقین تھا کہ ہم اسکی پرنسز کا دھیان رکھے گے، اسے بچائے گے برے لوگوں سے مگر ہم دونوں نے اپنا وعدہ توڑ ڈالا، میں دل برداشتہ ہو کر امریکہ چلی گئی اور تم؟۔۔۔۔۔۔۔تم تو اس سے محبت کے دعوےدار تھےنا تم نے بھی چھوڑ دیا اسے، تم تو نجانے کہا چلے گئے، اور اب اسکے بعد تمہیں یہ کہنا زیب نہیں دیتا کہ تم ھدی کے لیے بہترین ہوں‘‘
’’میری مجبوری تھی سروج‘‘
’’کیا وہ ھدی سے زیادہ ضروری تھی؟‘‘ وہ غصے میں پھنکاری
’’ہاں ھدی سے بھی زیادہ ضروری‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بولا
’’تو ٹھیک ہے بھول جاؤ اسے‘‘ سروج بھی اسی کے لہجے میں بولی
’’ناممکن۔۔۔۔ اور جہاں تک بات ایاز کی تو بہت جلد تم پر واضع کردوں گا میں کہ میں کیا کر سکتا ہوں اور کیا نہیں‘‘ سروج کو چیلنج کے انداز میں بولتا وہ وہاں سے چل دیا، جبکہ پیچھے کھڑی سروج پرسکون سا مسکرا دی، اب ھدی کو کوئی خطرہ نہیں اسے یقین تھا۔
اسکا کام ہوچکا تھا مگر ابھی اسے ایک اور کام کرنا تھا اسی لیے وہ یونی سے نکل گئی، جس وقت اسکی گاڑی یونی سے نکلی عین اسی وقت ایک اور گاڑی یونی کی حدود میں داخل ہوئی جس میں سے نکلنے والا کوئی اور نہیں بلکہ موسی ہی تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا تم ٹھیک ہوں؟‘‘ ھدی جو اپنے ڈیپارٹمنٹ جارہی تھی اپنی ہی کلاس کی ایک لڑکی کو دیکھ کر رکےپوچھنے لگی جو اس وقت رونے میں مصروف تھی، ھدی کو یاد آیا کہ یہ وہی لڑکی تھی جس نے اسے پہلے دن کلاس میں اپنے ساتھ بیٹھانے سے انکار کیا تھا۔
’’ہاں۔۔۔۔۔ہاں ٹھیک ہوں میں‘‘ ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے وہ بولی
’’تو رو کیوں رہی ہوں‘‘ ھدی کو حیرانگی ہوئی
’’وہ کک۔۔۔کچھ نہیں رو کہا رہی ہوں بس آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا‘‘ وہ اسے ٹالتے، بیگ میں نجانے کیا ڈھونڈتے ہوئے بولی۔
’’عجیب لڑکی ہے‘‘ کہتے ہی ھدی آگے بڑھ گئی جب اسکے قدم رکے اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسکی سانسیں اٹک گئی۔
ایاز غصے میں اسی کی طرف آرہا تھا، مگر یہ کیا وہ تو اس لڑکی کی طرف برھ گیا جو اب بھی رونے میں مصروف تھی، نجانے ایاز نے اسکا بازو دبوچے کیا کہا تھا کہ وہ ڈر سے تھرتھر کانپنے لگی، اتنے میں ہی ایک لڑکا انکی طرف بڑھا جس نے ایاز کا کالر دبوچ لیا، سٹوڈنٹس کا رش اس وقت کاریڈور میں بہت زیادہ تھا، اور اسی رش اور ملی جلی آوازوں کی وجہ سے وہ انکی باتیں سہی سے سن نہیں پائی، ھدی کو یاد تھا یہ وہی لڑکا تھا، جس کی وجہ سے زرار نے ھدی کو تھپڑ مارا تھا ، وہ تب تک اسی طرف دیکھتی رہی جب تک ایاز غصے سے وہاں سےاسکی آنکھوں سے اوجھل نا ہوچکا تھا، جبکہ نجانے اب وہ لڑکا غصے میں اس لڑکی سے کیا کہہ رہا تھا جس پر وہ سر نیچے کیے خاموشی سے سنتی رہی اور وہ لڑکا بھی ایک جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑے وہاں سے چل دیا۔
کسی انجانے جذبے کے تحت جب اس لڑکی نے نظریں اٹھائی تو ھدی کو خود کو گھورتا پایا، ھدی اسکی اپ نی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکراہ دی جبکہ وہ اسے اگنور کیے وہاں سے چل دی، جس پر ھدی کو بہت برا لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہیلو؟ السلام علیکم !!کون؟‘‘ فرائز سے انصاف کرتے موبائل کان کو لگائے وہ بچوں کے سے انداز میں پوچھنے لگا، جبکہ اس کے اس طرح کرنے سے مقابل کی ہنسی نکل گئی
’’او ہیلو تم جو بھی ہوں بات کرنی ہے تو بولو، ورنہ فون بند کروں شرم نہیں آتی اکیلے لڑکے کو یوں تنگ کرتے ہوئے‘‘ مائز تو کسی نازک حسینہ کی طرح بولا، جبکہ فون کی دوسری جانب موجود موسی اس کی اس بات پر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگیا۔
’’مائز!!!!!میرے یار‘‘ وہ جو غصے سے اپنے رقیب مطلب موبائل کو پٹخنے لگا تھا، ایک جانی پہچانی آواز سن کر حیرانگی سے موبائل کان پر دوبارہ لگا دیا
’’کون بول رہا ہے؟‘‘ آنکھیں حیرت سے کھولے، اسنے پوچھا
’’مائز میں موسی‘‘
’’موسی؟‘‘ اسنے خود سے سوال کیا
’’ہاں میں اب جلدی باہر آ‘‘وہ عجلت میں بولا
’’کیا مطلب باہر آ اور تم؟ تم کہا ہوں؟‘‘ ایک دم چیر سے اٹھتے اسنے پوچھا
’’یار تیری یونی میں ہوں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے جلدی مین گیٹ کے گراؤنڈ میں آؤ‘‘ وہ اکتائے لہجے میں بولا۔
’’تو رک میں آیا‘‘ اسے کہتے مائز نے فرائز کی پلیٹ ہاتھ مین پکڑی اور گراؤنڈ کی طرف دوڑ لگا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب سے یونی آیا تھا یونہی ادھر ادھر گھوم رہا تھا اسے پہلے یہاں کی عوام مطلب ان حسیناؤں کا جائزہ لینا تھا جو اسے یہاں رکنے پر مجبور کردیتی مگر اب تک اسکی نظر کسی پر نا رکی تھی اور جنہیں ایک نظر دیکھا وہ اسے محض چند لمحوں کا ٹائم پاس لگا، مگر اسے تو کچھ اور چاہیے تھا، تھک ہار کر آخر کار اسنے مائز کو کال کی جو اسکے بچپن کا دوست تھا۔
مائز کو کال کرنے کے بعد وہ پھر سے آس پاس منڈلاتی ان رنگ برنگی تتلیوں کا جائزہ لینے لگا، جن میں اسے ایک ملکہ کی تلاش تھی مگر نظریں ناکام لوٹی، اتنے میں ہی ایک کندھا اسکے کندھے سے ٹکڑایا
’’سوری۔۔۔۔سوری بھائی صاحب‘‘ وہ جو بھی تھا بہت عجلت میں تھا، لیکن موسی کے دماغ نے بروقت کام کیا اور وہ آواز کو پہچان گیا اسی لیے اسنے مائز کا بازو پکڑ لیا
’’مائز!!!‘‘ موسی خوشی سے بولا
’’جی بھائی صاحب آپ کون میں پہچانا نہیں‘‘ مائز اس ملنگ جو دیکھ کر دڑ گیا،
’’یہ کون ہے؟ کوئی اغوا کار، ڈرگ ڈیلر یا پھر سپاری والا جو مجھے قتل کرنے کے ارادے سےآیا ہے‘‘ موسی کو اس حلیے میں دیکھ کر وہ سوچنے لگا، اسکے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندے چمکنے لگی
’’دد۔۔۔دیکھیے بب۔۔۔بھائی صاحب، مم۔۔میں غریب ماں باپ کے پانچ بیٹوں کے بعد اکلوتی اولاد ہوں، میرے ابا کی کمائی صرف چھ لاکھ ہے اور اس میں ہم سب بڑی مشکل سے گزر بسر کر رہے ہیں، میرے پاس مرسیڈیز کا ماڈل بھی پرانا ہے، مم۔۔۔مجھے کچھ نا کہیے گا۔۔میں ۔۔۔میں معافی مانگتا ہوں‘‘کہتے ہی اسنے موسی کے دونوں پیر پکڑ لیے اپنی محبوبہ مطلب کے فرائز تو اسے کب کی بھول چکی تھی، جبکہ موسی کا جاندار قہقہ گونجا
’’مائز کمینے اٹھ یہ میں ہوں موسی‘‘ اسے اسکے پیروں پر کھڑا کرتا وہ بولا
’’موسی!!!!!!!! تو!!!!!!!‘‘ مائز پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے
’’یہ تونے کیا حلیہ بنایا ہوا ہے؟‘‘ وہ سر تا پیر اسکا جائزہ لینے میں مصروف تھا
’’میں۔۔۔۔میں ڈر گیا تھا‘‘ آ نکھوں میں موٹے موٹے آنسو لائے وہ بولا، جس پر موسی کا دل چاہا کہ وہ اپنا سر پیٹ لے۔
’’ڈرامے نا کر اور مجھے ایڈمن بلاک کا بتا‘‘ اسکے سر پر ہاتھ مار کر آگے کو چلتے اسنے پوچھا
’’تم۔۔۔۔تم ایڈمن بلاک کا کیا کروں گے؟‘‘ اسکے ساتھ قدم سے قدم ملائے مائز نے حیرانگی سے پوچھا
’’میں ایڈمیشن لے رہا ہوں ایم۔فل میں‘‘ موسی سادہ سے لہجے میں بولا
’’ کیا سچ میں‘‘ مائز کی تو خوشی کی انتہا نا رہی
’’ہاں بلکل‘‘ دھیمی سی مسکان لیے موسی اس سے بولا، اور ساتھ ہی راہ چلتی ایک سٹائلش سی لڑکی کو آنکھ ماری جس پر وہ ہنس دی۔
’’تو ٹھیک ہے چل آج ہی جاکر تیرا میرے ہی ڈیپارٹمنٹ میں ایڈمیشن کروا دیتے ہیں‘‘ وہ خوشی سے اچھلتے بولا
’’نہیں فیلڈ میں سلیکٹ کرچکا ہوں، اور وہ تیرے والی نہیں ہے‘‘
’’میری والی نہیں تو پھر کونسی؟‘‘ مائز نے حیرانگی سے پوچھا
’’بزنس اینڈ مینجمینٹ‘‘ موسی کی بات پر مائز راستے میں ہی رک گیا، اسے خود پر بجلیاں گرتی محسوس ہوئی
’’کیا ہوا چل نا‘‘ اسے راستے میں رکا دیکھ کر موسی بولا
’’نہیں!!‘‘ وہ صرف اتنا ہی بول پایا
’’کیا نہیں‘‘ موسی نے حیرت سے سوال کیا
’’تو۔۔۔۔تو اس فیلڈ میں ایڈمیشن نہیں لے گا‘‘ مائز سر کو نا میں تیزی سے ہلاتے بولا
’’کیوں کیا مسئلہ ہے اس فیلڈ میں‘‘ موسی نے تفتیشی انداز میں پوچھا
’’نہیں مسئلہ تو کوئی نہیں، مگر دیکھ نا یہ فیلڈ بہت مشکل ہے اور تو اتنے دنوں بعد مجھسے ملا ہے تو اچھا ہےنا کہ دونوں دوست ایک ہی فیلڈ میں ۔۔۔۔۔ تو سمجھ رہا ہے نا‘‘ مائز کا رنگ سفید پڑ چکا تھا ، وہ کچھ بھی کرکے موسی کو اس فیلڈ میں جانے سے روکنا چاہتا تھا، جبکہ اسکی بات سمجھتے موسی نے او کی شکل اختیار کرلی ہوں جیسے اسے سب کچھ سمجھ آگیا ہوں
’’نہیں مجھے زرا سمجھ نہیں آئی اور میں یہی فیلڈ جوائن کروں گا‘‘ وہ مائز کو زبان چڑاتے بولا
’’دیکھ موسی مان لے میری بات اسی میں ہماری۔۔۔۔میرا مطلب میری بھلائی ہے‘‘ اسنے ایک بار پھر سے موسی کی منت سماجت کی، مگر وہ موسی ہی کیا جو کسی کی سن لے، مائز کے لاکھ سمجھناے پر بھی اسکی ہاں ناں میں نا بدلی اور اسنے اپنی پسند کی فیلڈ میں ایڈمیشن کروا لیا، جبکہ مائز کے چہرے پر تو ایک رنگ آ اور جا رہا تھا۔
’’اچھا بھئی ایڈمیشن تو میں کروا چکا ہوں ۔۔ اگر دل چاہا تو پھر کبھی یونی کا ایک آدھ چکر بھی لگا لوں گا‘‘ ہنستے ہوئے اسکا گال تھپتھپاتے وہ اس سے بولا
مائز موسی کی سن ہی کہا رہا تھا، اسکی نظریں تو سامنے جم گئی تھی جہاں وہ بیسٹ فل موڈ میں چلتا انہی کی طرف آرہا تھا، موسی کی اس طرف پشت تھی اسی لیے دیکھ نا پایا، جبکہ مائز کو تو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جادو کی کوئی چھڑی گھمائے اور وہاں سے غائب ہوجائے، مگر اسے یہ دیکھ کر سکون محسوس ہوا جب بیسٹ اسکی جانب آنے کی بجائے، ھدی کی راہ میں حائل ہوگیا
’’بچ گئے‘‘ مائز پرسکون سا بولا
’’کون بچ گیا؟‘‘ بیسٹ کے ڈر میں وہ موسی کو تو بھول ہی گیا تھا، جو اب اسے سوال کرنے لگا
’’کک۔۔۔۔کچھ نہیں وہ لڑکیاں تھی، ہیل پہنے گھوم رہی تھی گرنے لگی تو بچ گئی‘‘ اسنے بروقت بہانا گھڑا
’’اچھا سچ میں‘‘ اس سے پہلے کے موسی منہ پیچھے کرتا مائز نے ہاتھ رکھ کر اسکا چہرہ اپنی طرف کرلیا
’’ارے چھوڑ نا چلی گئی ہے تو ایسا کر میرے ساتھ کینٹین چل، یہاں کی فرائز بہت مزے کی ہے یار، سکول اور کالج سے بھی زیادہ مزے کی‘‘ وہ اچھلتے بولتا اسے کینٹین کی طرف لے گیا
’’ندیدہ!!‘‘ اسکے پیچھے چلتا موسی ہنس کر بولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’گڈ ایونگ میم‘‘ وہ جیسے ہی آفس کی بلنڈنگ میں داخل ہوئی، ریسیپشنسٹ اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھتے بولی، جسکا جواب اسنے سر ہلا کر دیا
’’مسٹر جلال اپنے آفس میں ہے؟‘‘ اسے یہاں دیکھ کر سب ہقہ بقہ تھے کیونکہ جلال نے پورے سٹاف کو یہی بتایا کہ وہ کبھی نا آنے کے لیے جا چکی ہے
’’یس میم وہ ہے‘‘
’’ہمم ٹھیک ہے تم جا سکتی ہوں‘‘ اسے کہتے ہی وہ لفٹ کے ذریعے جلال کے آفس کی طرف بڑھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بےبی وٹ ہیپنڈ وائے آر یو سو ٹائرڈ(کیا ہوا بےبی تم بہت تھکے لگ رہے ہوں)‘‘ جلال کی سیکریٹری جوکہ اس کے لیے اس سے زیادہ معنی رکھتی تھی اس سے پوچھنے لگی
’’بکاز آئی ایم(کیونکہ میں واقعی مین تھک گیا ہوں)‘‘
’’آ ڈو یو نیڈ سم ریلیف(کیا تمہیں سکوں چاہیے)‘‘ وہ ادائے دکھاتے بولی
’’تم دو گی تو کیوں نہیں‘‘ جلال کی بات پر وہ مسکرا کر اسکے پیچھے جا کھڑی ہوئی اور اسکے کندھوں کو مساج دینے لگی، ساتھ ہی ساتھ وہ نجانے اسکے کان میں کیا بول رہی تھی کہ جلال کی مسکراہٹ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
مسکراہٹ تو تب تھمی جب ایک دم سے اسکے آفس روم کا دروازہ کھلا اور سروج سپاٹ چہرہ لیے اندر داخل ہوئی
’’جلال اس سلٹ سے کہوں کے باہر جائے مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے‘‘ اسکے یوں اچانک حملئے پر جلال گڑبڑا کر اٹھا، جبکہ اسکے کندھوں کو مساج دیتی اینا کا تو چہرہ غصے سے لال ہوگیا
’’بےبی ہو از دس بچ اینڈ ہاؤ ڈئیر شی ٹاک ٹو می لائک ڈیٹ(بےبی یہ بچ کون ہے اور اسکی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسے بات کرنے کی)‘‘ جلال کے کندھے پر نزاکت سے ہاتھ رکھے وہ سروج کو دیکھ کر بولی جبکہ جلال تو اسکی بات پر آنکھین میچ کر رہ گیا۔
’’کم آن جلال اپنی بےبی کو بتاؤ میں کون ہوں‘‘ سروج کے ہونٹوں پر تو مسکراہٹ تھی جبکہ آنکھوں میں آگ
’’اینا یہ۔۔یہ سروج ہے، سروج بھابھی، عمیر کی بیوی‘‘
’’نا صرف عمیر بیوی بلکہ یاسین بزنس کی اونر بھی‘‘ سروج نے اینا کی انفارمیشن میں اضافہ کیا، جبکہ اینا جو اب تک سروج کو جلال کی ایکس سمجھ رہی تھی اسکے تو چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا
’’سر۔۔۔سروج میم‘‘ وہ ہکلاتے ہوئے بولی
’’آؤٹ‘‘سروج نے صرف اتنا کہا
’’سس۔۔سوری میم، وہ مم۔۔۔۔۔‘‘
’’آئی سیڈ آؤٹ مس اینا اور اس سے پہلے کہ میں تمہیں آفس کی جگہ بلڈنگ سے ہی نکال دو ایک سیکنڈ میں دفع ہوجاؤ‘‘ اسکا لہجہ اس قدر سخت تھا کہ ایک پل کو تو اینا کہ ساتھ کھڑے جلال کا بھی سانس رک گیا۔
جاری ہے
