Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41

’’ایکسکیوز می!!‘‘ سٹیج کی طرف جاتی سروج کو پیچھے سے پکارا گیا
’’یس؟‘‘ سروج نے منہ پیچھے کیا پوچھا
’’سروج رائٹ؟‘‘ عبداللہ نے اس سے پوچھا
’’یس آئی ایم۔۔۔۔۔۔ سوری آپ کو پہچانا نہیں؟‘‘ سروج نے حیریت سے پوچھا
’’سروج میں عبداللہ عمیر کا دوست ہم یونی میں ساتھ تھے‘‘ عبداللہ فورا بولا
’’اوہ عبداللہ بھائی کیسے ہیں آپ؟‘‘ سروج نے مسکرا کر مروتا پوچھا
’’میں الحمداللہ بلکل ٹھیک تم کیسی ہوں اور ھدی وہ کیسی ہے؟‘‘ عبداللہ نے انکے بارے میں پوچھا
دور کھڑا موسی آنکھیں چھوٹی کیے یہ منظر دیکھ رہا تھا
’’ایسے مت دیکھو وہ عمیر کا دوست اور فریحہ کا بھائی ہے‘‘ اسکے برابر میں کھڑے ہوئے زرار نے جواب دیا
’’تم سے وضاحت مانگی؟‘‘ موسی نے اسے گھورا
’’میں بن مانگے دینے کا عادی ہوں۔۔۔۔۔۔ یو نو آئی ایم آا سیلف لیس پرسن(تم جانتے ہوں میں ایک بےغرض سا بندہ ہوں)‘‘ زرار نے مزے سے کندھے اچکائے جواب دیا
’’تم نے کہا اور میں نے مان لیا۔۔۔۔۔ واللہ‘‘ موسی تنک کر بولا
’’مت مانو تمہارے ماننے سے مجھے موت تھوڑی نا واقع ہوجائے گی‘‘زرار نے تو قسم کھائی تھی آج سب حساب برابرا کرنے کا
’’اس وقت میں تم سے لڑنے کے موڈ میں نہیں ہوں‘‘ موسی لمبی سانس خارج کیے بولا
’’میں بھی۔۔۔۔۔۔ مگر ایک ضروری بات کرنی ہے‘‘ زرار یکدم سیریس ہوا
’’کیا؟‘‘ موسی بھی اسے دیکھ کر سیریس ہوا
’’یہاں نہیں وہی جہاں ہم ملا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا سپاٹ‘‘ زرار ادھر ادھر نظریں گھمائیں بولا
’’زرار!!‘‘ موسی نے اچانک پکارا
’’ہمم‘‘
’’ھدی سے کہوں سروج کو بھابھی بولنا بند کردے اب اسے اپنا رشتہ بدلنا ہوگا اگر ایسا ہی رہا تو مجھے نہیں لگتا کہ ہم اپنی زندگی میں کبھی آگے بڑھ پائے گے‘‘ موسی کی بات زرار پر بہت کچھ واضع کرگئی تھی
’’دیکھ یار اگر وہ یونہی سروج کو بھابھی بلاتی رہی تو وہ ہمیشہ اپنے ماضی میں رہے گی۔۔۔ اسے اپنا حال اور مستقبل سنوارنے کا موقع نہیں ملے گا‘‘ موسی کی بات پر زرار نے سر ہلادیا
موسی سچ بول رہا تھا
’’اور ایک اور بات‘‘ موسی دوبارہ سے بولا
’’اب کیا؟‘‘ زرار بےزار سا ہوا
’’معاف کردیا مجھے؟‘‘ موسی نے اب اسے دیکھ کر پوچھا
’’کردوں گا۔۔۔۔۔ جب وہ تجھے کردے گی‘‘ اشارہ سروج کی طرف تھا
’’یعنی کے نہ ہی سمجھو‘‘ موسی سر نفی میں ہلاتے بولا تو زرار کے چہرے پر ایک کھلی مسکراہٹ آگئی
’’کمینہ ہے تو ایک نمبر کا‘‘ زرار مسکراتا چباچبا کر بولا
’’آخر کو بھائی کس کا ہوں‘‘ موسی مزے سے کندھے اچکائے بولا
’’چل اب جا وہ دیکھ تیری بیسٹی ہمیں ہی گھور رہی ہیں‘‘ زرار کو وہاں سے چلتا کرنے کو اسنے سروج کی طرف دیکھا جو اب انہیں ہی دیکھ رہی تھی
’’ہاں ہاں جارہا ہوں۔۔۔۔۔مرا نہیں جارہا تیرے لیے‘‘ زرار مزے سے وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تم زرار سے کیا بات کررہے تھے‘‘ گھر جاتے ہی سروج کا تفتیشی موڈ اون ہوگیا
’’میں کیوں بتاؤں؟‘‘ موسی نے ایک ابرو اچکائے سوال کیا
’’تم!!‘‘ سروج اسکی طرف انگلی کرتے بولی
’’کیا؟‘‘ موسی اسکی طرف بڑھتا بولا
’’بھاڑ میں جاؤں‘‘ سروج اسے بولی
’’تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا‘‘ اسکا بازو پکڑے اپنے قریب کیا
’’دیکھو موسی میری فیملی سے دور رہوں۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ اب تمہارے وجہ سے کوئی اور بھی تکلیف سہے‘‘ سروج یکدم سیریس ہوئی
’’اتنی بےاعتباری بھی ٹھیک نہیں مسز موسی‘‘ اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھتے وہ بولا
سروج کی تو آنکھیں حیرت سے بڑی ہوگئی
’’میں باہر جارہا ہوں لیٹ آؤ گا‘‘ سوئے ہوئے ابراہیم کے گال اور ماتھا چومتے وہ کمرے سے باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اب بتاؤں کیا مسئلہ ہوا ہے؟‘‘ وہ ایک پارک میں بیٹھے تھے
’’وہ لوگ واپس آگئے ہیں‘‘ زرار نے اسے بتایا
’’کب؟‘‘ پانی کی بوتل پر موسی کی گرفت سخت ہوئی
’’مہینہ پہلے‘‘ زرار نے سامنے ہوا کے دوش پر جھولتے خالی جھولو کو دیکھا
’’میں انہیں چھوڑو گا نہیں‘‘ موسی کی آنکھوں سے غصہ جھلک رہا تھا
’’ابھی نہیں موسی یہ وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ وقت آنے دوں‘‘
’’اور وہ کب آئے گا؟؟‘‘ موسی نے تپ کرپوچھا
’’آجائے گا انتظار کر‘‘ کہتے ہی زرار وہاں سے چل دیا
’’زرار‘‘ موسی نے ایکدم اسے پکارا
’’ہاں؟‘‘ زرار کے پوچھتے ہی موسی اسکے گلے لگ گیا
ایک پل کو تو زرار گڑبڑا گیا مگر پھر سنبھل کر اسے گلے لگایا
’’چل چھوڑ دے مجھے اب فیلنگز آنے لگ گئی ہے‘‘ زرار بولا تو موسی ہنس دیا
’’اب گھر جا‘‘ زرار اسے بولا
’’کیا فائدہ میری بیوی کونسا جاگ رہی ہوں گی میرے لیے‘‘ موسی نے منہ بنایا
’’ایٹ لیسٹ تیری بیوی تو ہے نا‘‘
’’ہاہاہا۔۔۔۔۔ تو تجھے جلن کیوں ہورہی ہے؟‘‘ موسی ہنسا
’’جلے میرا باٹا کا جوتا‘‘ زرار کو اسکا ہنسنا برا لگا
’’اب تو معاف کردے‘‘ موسی پھر سے بولا
’’جاکر دیا‘‘ زرار دل سے بولا تو موسی کی خوشی کا ٹھکانہ نا رہا
’’تھینکیو تھینکیو سوو مچ‘‘
’’اچھا بسسسس‘‘ زرار بولا
وہ دونوں اب پرسکون تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی گھر آیا تو سروج اور ابراہیم کو سویا پایا
’’مائی اینجلز‘‘ ان دونوں کے ماتھے کو چومتا وہ فریش ہونے واشروم میں چلا گیا
نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔ اپنے لیے کافی بنا کر وہ چھت پر لے آیا تھا
ذہن کے پردے پر ولیمے کے دن والی فلم چلنے لگی
ماضی
موسی فریش ہونے کی نیت سے واشروم گیا جب اسکے کان کے پردوں سے دو آوازیں ٹکڑائی۔۔۔۔ موسی نے دیوار کی اوٹ سے دیکھا تو بےشک وہ زرار اور علی زماد تھے
’’آپ نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ زرار غصے سے بولا
’’میں نے کوشش کی تھی روکنے کی‘‘ علی زماد فکرمندی سے بولے
’’کوشش یہ کوشش تھی؟ موسی ابراہیم کو اپنا چکا ہے۔۔۔۔۔ سب جان چکے ہیں کہ وہ کون ہے؟ اب تک یہ بات ان تک پہنچ گئی ہوگی‘‘ زرار غصے سے ادھر ادھر ٹہلتا بولا
’’اب کیا ہوگا؟‘‘ علی زماد پریشانی سے بولے
’’مجھے کیا پتہ‘‘ زرار کی پریشانی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
’’یہ سب ماہم کی وجہ سے ہوا نا وہ ہمارا منہ کالا کرتی اور نا آج یہ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’بسسسس مسٹر زماد میری بہن نےغلطی کی مگر آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ اسکے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرے‘‘ زرار دھاڑا
’’تمہاری وہ بہن میری بیٹی تھی‘‘ علی زماد بھی دوبدو بولے
’’مگر آپ ایک ایسے باپ تھے جنہوں نے اسے اعتماد میں نہیں لیا‘‘ زرار کی بات وہ لب بھینچ کررہ گئے
’’کیا ہورہا ہے یہاں؟‘‘ موسی جو تب سے چپ تھا اب بول اٹھا
’’موسی تم یہاں؟‘‘ علی زماد اچانک بولے
’’کس کی بات ہورہی ہے کون ہے جس سے ابرہیم کو خطرہ ہے اور ماہم نے ایسا بھی کیا کردیا کہ آپ اس سے اتنا بدظن ہے؟‘‘ موسی نے جواب چاہا
’’موسی جاؤ یہاں سے‘‘ علی زماد نے اسے بھیجنا چاہا
’’اسے بھیجنے سے اچھا ہے کہ اسے سچ بتا دے‘‘ زرار بولا
’’تم چپ رہوں‘‘ علی زماد نے زرار کو ڈپٹا
’’ڈیڈ بتائے مجھے سچ کیا ہے‘‘ موسی کو کچھ عجیب سا لگ رہا تھا
’’موسی تم جاؤ۔۔‘‘
’’کیوں جائے وہ بتا کیوں نہیں دیتے آپ کے آپ کی ہٹ دھرمی اور خود غرضی کی بنا پر کیسے دو لوگوں کی زندگیاں برباد ہوگئیں‘‘ زرار کے بولتے ہی موسی نے اسے حیران نظروں سے دیکھا
’’ماہم خود اپنی مرضی سے گھر سے نہیں بھاگی تھی تمہارے ڈیڈ نے مجبور کیا تھا اسے کہ وہ گھر چھوڑ دے‘‘ زرار غصے سے بولتا علی زماد کو دیکھنے لگا جو اب نظریں نیچی کیے ہوئے تھے
’’عمیر نے تمہاری بہن کو نہیں مارا موسی تمہارے سو کالڈ ڈیڈ کی انا نے اسے مارا ہے‘‘ زرار کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لےرہا تھا
’’مجھے بتائے کیا ہوا تھا ماضی میں ایسا۔۔۔۔۔۔ آخر ہوا کیا تھا‘‘ موسی اب چیخا
’’یہ کیا بتائے گے میں تمہیں بتاتا ہوں‘‘ زرار علی زماد کو دیکھ کر موسی سے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار کو کسی کام سے عمیر کی طرف جانا تھا مگر ماہم کو اکیڈمی سے لینے کا وقت بھی ہوگیا تھا
ماہم کو اکیڈمی سے لیے وہ عمیر کی جانب چلا گیا
’’زرار ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘ گانے چلاتے ماہم نے پوچھا
’’ایک دوست کی طرف کچھ کام ہے مجھے پھر گھر چلے گے‘‘ زرار کے بتانے پر ماہم نے سر ہلایا
عمیر کے گھر پہنچتے ہی انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا گیا تھا
’’ماہم تم بیٹھو میں بس پانچ منٹ میں آیا‘‘ ماہم کو بولتا وہ عمیر کے روم کی طرف چلا گیا
لیکن اگر زرار کو اندازہ ہوتا کہ یہ پانچ منٹ کیسے ان کی زندگیاں بدل دے گے تو وہ کبھی ایسی حماقت نا کرتا
’’جی جی ڈیڈ جی بس میں شاہ ویز کے ساتھ نکل رہا ہوں اوکے ڈٰیڈ‘‘ فون پر بات کرتا جلال ایک دم ڈائنگ روم میں داخل ہوا تو ماہم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی
’’تم کون ہوں؟‘‘ ماہم جو دیکھ کر جلال نے سوال کیا
اسکی پرسنیلٹی۔۔۔۔۔۔ اسکی آواز اگر وہ ایک اچھے کردار کا مالک ہوتا تو ضرور ہر لڑکی ایسے انسان کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب بنتی مگر وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
’’وہ میں ماہم‘‘ ماہم نے دھیمی آواز میں جواب دیا
’’کون ماہم؟‘‘ جلال حیران ہوا
’’وہ میرے بھائی یہاں اپنے دوست سے ملنے آئے ہے‘‘ ماہم کنفیوز ہورہی تھا۔۔۔۔۔۔ جلال بخوبی اندازہ لگاسکتا تھا
’’اوکے پھر آپ آرام سے بیٹھے‘‘ تمیز دار لہجے میں بولتا وہ آگے بڑھ گیا
’’آپ کا نام‘‘ دل پر قابو نا پاتے وپ پوچھ بیٹھی
’’جلال‘‘ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔ یقینا یہ لڑکی بھی اسکی وجاہت پر مرمٹی تھی
’’اور آپکا؟‘‘ اسنے ماہم سے سوال کیا
’’میرا کیا؟‘‘ ماہم کنفیوز ہوگئی
’’آپکا نام؟‘‘
’’ماہم علی زماد‘‘ ماہم نے اپنا تعارف کروایا
’’مل کر خوشی ہوئی ‘‘ اسے اپنے سحر میں جکڑے جلال بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہم ابھی تک جلال کے سحر سے نکل نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج وہ اکیڈمی خود ڈرائیو کرکے جارہی تھی جب راستے میں اسکی گاڑی خراب ہوگئی تھی
وہ مدد کے لیے ادھر ادھر نگاہیں دوڑانے لگی مگر خالی سڑک پر کوئی مدد نا ملی
’’ماہم؟‘‘ اچانک ایک گاڑی اسکے پاس آکر رکی اور جلال اندر سے نکل اسکے سامنے آیا
’’تم یہاں خیریت؟‘‘ جلال نے سوال کیا
’’ جی وہ گاڑی خراب ہوگئی ہے‘‘ ماہم نے لب کچلتے جواب دیا
’’اوہو۔۔۔۔ تم ایسا کروں میری کار میں بیٹھ جاؤ میں تمہیں ڈراپ کردوں گا اور گاڑی بھی ٹھیک کروادوں گا‘‘ جلال کی بات اسے سہی لگی اور وہ فورا مان گئی
’’کہاں جانا ہے؟‘‘ جلال کے سوال پر اسنے اپنی اکیڈمی کا بتایا
’’تھینکیو مدد کے لیے‘‘ ماہم چور نظروں سے اسے دیکھتے بولی
’’نو پرابلم‘‘جلال مسکرایا اور ماہم کا دل ایک بار پھر بےقابو ہوگیا
’’ماہم کیا مجھے تمہارا نمبر مل سکتا ہے؟‘‘ اسکی اکیڈمی کے باہر کار روکے جلال نے پوچھا
’’کیوں؟‘‘ ماہم حیران ہوئی
’’گاڑی ٹھیک کروانے دی ہے وہ واپس چاہیے نا؟‘‘ جلال کے سوال پر اسنے اسے اپنا نمبر دیا
یہ ایک اور قدم تھا ماہم کی بربادی کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہم اور جلال میں رفتہ رفتہ بات چیت کا آغاز ہوا اور پھر چھپ کر ہونے والی ملاقاتیں
جلال کو جب سے ماہم کے بیک گراؤنڈ کا پتہ چلا تھا وہ دونوں ہاتھوں سے ماہم کو لوٹ رہا تھا
’’جلال میں اب اور چھپ کر نہیں مل سکتی تم پلیز اپنے گھروالوں سے کہوں نا کہ وہ رشتہ بھیجے‘‘ ماہم کی بات پر جلال کا منہ بن گیا مگر ظاہر نا کیا
’’ماہم رشتہ تو میں بھیج دوں مگر کیا تمہارے گھر والے مان جائے گے؟‘‘ جلال نے سوال کیا
’’ہاں جلال وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں مان جائے گے وہ‘‘
’’نہیں ماہم وہ نہیں مانے گے ہمارا سٹیٹس دفرینس انہیں راضی نہیں کرپائے گا۔۔۔۔۔۔ تم ٹھہری ایک بزنس ٹائیکون کی بیٹی اور میں بس ایک عام سا مینجیر۔۔۔۔۔ جانتی ہوں آج بھی میرا دل دکھتا ہے جب میں اس عمیر کو یوں اپنے اوپر دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ زندگی لگا دی میرے ڈیڈ نے اس بزنس کے لیے۔۔۔۔۔ میں اور ڈیڈ دن رات مل کر نانا کا بزنس سنبھالتے ہیں اور واہ واہ مامو اور عمیر لیجاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تم جانتی ہوں میں تو ان سے اس ظلم کے بعد بھی نفرت نہیں کرسکتا۔۔۔۔ بھائی ہے عمیر میرا۔۔۔۔ مگر وہ لوگ مجھے اور میری فیملی کو حقیر سمجھتے ہیں۔۔۔۔ تم جانتی ہوں نا کہ تمہارے ڈیڈ ماموں کے بہت اچھے دوست ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اپنے ڈیڈ سے میرا نام لیے بنا میرا ذکر کروں یقین مانو وہ انکار کردے گے صرف یاسین ماموں کے اس سٹیٹس دیفرینس کی سوچ کی وجہ سے‘‘ جلال ماہم کو پورے طریقے سے اپنے جال میں پھانس چکا تھا
وہی ہوا جو جلال نے کہاں تھا ماہم نے گھر میں صرف علی زماد کو بتایا تھا کہ اسے ایک لڑکا پسند ہے اور وہ مینجیر کی پوسٹ پر ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہاں غلطی علی زماد نے کی انہوں نے ماہم کو سمجھانے کی بجائے اس پر غصہ کیا اور اسے اس لڑکے سے ملنے سے منع کردیا
علی زماد نے بیٹی کو منع تو کردیا مگر وہ اپنی اولاد کی ہٹ دھرمی سے آگاہ تھے
انہوں نے کچھ سوچ سمجھ کر زرار کو بلایا اور اس سے ماہم سے شادی کا فیصلہ سنایا۔۔۔۔۔۔۔ جس پر زرار نے نہایت آرام سے انہیں انکار کردیا۔۔۔۔
’’ابو ماہم میری بہن کی طرح ہے اور میں نے ہمیشہ اسے ایسے ہی دیکھا ہے۔۔۔۔ اگر ماہم کی شادی مجھ سے ہوئی تو شائد یہ ہم دونوں کے ساتھ زیادتی ہے آپ ایک بار اس لڑکے سے مل لے‘‘
علی زماد نے مسز علی سے بھی زرار اور ماہم کے متعلق بات کی تھی وہ بہت خوش تھی کیونکہ یہ انکی خواہش تھی۔۔۔۔۔۔ مگر زرار کے انکار پر انکا دل ٹوٹا تھا
انہی دنوں زرار کو معلوم ہوا کہ اسکے ماموں اور انکی بیوی کی موت ہوگئی تھی مہینہ پہلے ایک ایکسیڈینٹ میں اور اسکا کزن بردر آہل اس وقت زیر علاج ہے
زرار بنا کچھ کہے فورا سے ٹکٹ کروا کر باہر چلا گیا تھا
پیچھے جب ماہم کو اپنے اور زرار کے رشتے کے حوالے سے معلوم ہوا تو وہ مزید رنجیدہ ہوگئی اور جلال کے ساتھ بھاگنے کا پلین بنا لیا
علی زماد نے زرار کے انکار کو قبول کرلیا تھا مگر ماہم کے لیے وہ لڑکا!!۔۔ وہ بضد تھے اس سے نا ملنے کےلیے ۔۔۔۔۔۔۔ ماہم نے بہت کوشش کی انہیں منانے کی مگر کچھ نا بن سکا۔۔۔۔۔۔ علی زماد نے اسکی شادی اپنے دوست کے بیٹے نعمان سے طہ کردی تھی۔۔۔۔۔ گویا انہوں نے ماہم کے لیے کوئی اوپشن نہیں چھوڑا تھا
ماہم گھر سے بھاگ گئی تھی، بنا کچھ کہے، کوئی پیغام دیے
مسزعلی نے ان سب کا ذمہ دار زرار کے انکار کو ٹھہرایا۔۔۔ وہ یہی سمجھتی رہی کہ ماہم زرار کے انکار اور اسکا کہی اور رشتہ ہونے کی وجہ سے گھر چھوڑ کر بھاگی ہے۔۔۔۔۔۔ جبکہ علی زماد اصل وجہ سے جانتے تھے مگر چپ رہے
زرار کی واپسی جب آہل کے ساتھ ہوئی تو اسے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وجہ پتہ چلنے پر اسنے حیرانگی سے علی زماد کو دیکھا جو چپ رہے زرار کو نہ بچایا
زرار اسی دن سب کچھ چھوڑ کر آہل کو لیے ایک فلیٹ میں شفٹ ہوگیا تھا جوکہ اسکے ڈیڈ کا تھا۔۔۔۔۔۔ زرار کے اکاؤنٹ میں تب اتنے پیسے تھے کہ وہ اپنا اورآہل کا خرچہ اٹھا لیتا۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک قابل سٹوڈنٹ تھا جس کی بنا پر اسے سکولرشپ مل گیا اور ایک انٹرنیشنل فنڈ ایجنسی نے آہل کے ٹرٹمنٹ کا خرچہ اٹھا لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اگر اس سب میں جلال شامل ہے تو ابراہیم۔۔۔۔۔۔ ماہم عمیر کو کیسے ملے؟‘‘ موسی بےچین ہوا
’’بتاتا ہوں موسی سب کچھ بتاتا ہوں‘‘ زرار بولا
’’عمیر اپنی شادی سے سات ماہ پہلے دبئی گیا تھا جہاں شادی کے بعد جلال نے ماہم کو رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ ایک سال میں ماہم کہاں گئی اور نا ہی تمہارے ڈٰیڈ نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہم سے شادی کے بعد جلال اسے دبئی لے آیا تھا بظاہر تو وہ اسکا خیال رکھتا مگر وہ ماہم سے اکتا چکا تھا۔۔۔۔ ماہم کو اب برداشت کرنے کی وجہ صرف اسکے وجود میں پل رہا وہ بچہ تھا جو جلال کو کڑوڑوں کا مالک بنا سکتا تھا
ماہم کا نواں مہینہ شروع ہوچکا تھا۔۔۔۔۔ اسکا بی۔پی ہمیشہ ہائی رہتا تھا اسی لیے ڈاکٹرز نے اسے آرام کرنے کو کہاں تھا
آج جلال عمیر کی شادی کے لیے پاکستان واپس جارہا تھا اسنے ماہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسکے گھروالوں کو منالے گا
جلال اپنا سامان پیک کیے ایک دم تیار تھا۔۔۔ جب لینڈ لائن پر کال آئی
’’ماہم کال آرہی ہے‘‘ جلال کی آواز پر اسنے رسیور اٹھایا
’’ہیلو؟‘‘
’’السلام علیکم‘‘ ایک نسوانی آواز ماہم کے کانوں سے ٹکڑائی
’’وعلیکم اسلام‘‘ ماہم نے سوال کیا
’’جلال سے بات ہوسکتی ہے؟‘‘ دوسری طرف سے آواز آئی
’’آپ کون؟‘‘ ماہم نے سوال کیا
’’میں مسز جلال‘‘ دوسری جانب سے شمائلہ بولی
ماہم کو اپنے پیروں سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی۔۔۔۔ کال ڈسکنیکٹ ہوگئی تھی
’’ماہم کس کی کال تھی؟‘‘ جلال نے سوال کیا
’’تمہاری بیوی کی‘‘ شکوہ کناں نظروں سے وہ بولی۔۔۔۔۔ جلال کا رنگ اڑ گیا تھا
’’تم شادی شدہ ہوں وہ بھی پہلے سے ہی؟‘‘ ماہم نے سوال کیا
’’ماہم میری بات۔۔۔۔‘‘
’’ہاں یا ناں‘‘ ماہم نے پوچھا
’’ہاں۔۔۔۔‘‘ وقت آگیا تھا کہ اب سچ سامنے آجائے
’’کیوں کیوں کیا ایسا؟‘‘ ماہم چیخی
’’تم تو مجھ سے محبت کرتے ہوں نا جلال اسے چھوڑ دوں‘‘ ماہم جلال کے بازو پکڑے بولی
’’مگر میں اس سے محبت کرتا ہوں‘‘ پگلا سیسہ اسکے کانوں میں وہ انڈیل گیا تھا
’’اور وہ جو سب تھا‘‘ ماہم نے بےیقینی سے پوچھا
’’بکواس تھا۔۔۔۔ جھوٹ تھا۔۔۔۔۔ میں تھک گیا تھا اس عمیرکی چمچہ گیری کرتے۔۔۔۔۔۔ مگر کیا ملا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ پھر تم سے ملا ۔۔۔۔۔۔ اتنے امیر باپ کی بیٹی بھلا کیسے جانے دیتا تمہیں۔۔۔۔۔۔ مگر اب تھک گیا ہوں میں تمہارے خرچے اٹھاتے اٹھاتے۔۔۔۔۔ سوچا تھا امیر رئیس کی بیٹی سے شادی کروں گا تو عیش میں رہوں گا۔۔۔۔۔۔ کیا خاک عیش میں ہوں۔۔۔۔۔ الٹا عذاب بن گئی ہوں تم‘‘ ماہم کو دھکا دیتے جلال وہاں سے چلا گیا تھا
اس وقت اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا نا ماہم کی طبیعت نا اپنا بیٹا اسے بس اپنی فکر تھی۔۔۔۔ اب اسے اور ماہم کو نہیں سنبھالنا تھا اور نا ہی اس وجود کو
جلال پاکستان جاچکا تھا۔۔۔۔۔ ماہم کی طبیعت پیچھے بگڑ گئی تھی۔۔۔۔۔۔ اسکی حالت کے تحت اسکی ایک پڑوسن جو اتفاق سے اس سے ملنے آئی تھی وہ فورا اسے ہسپتال لے گئی
عمیر وہاں اپنے ایک جاننے والے سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔۔۔ ماہم کو وہاں دیکھ کر چونکا
عمیر نے ماہم کی پڑوسن سے اپنا تعارف کروا کر اسے واپس بھیج دیا اور خود ماہم کے پاس رک گیا
پانچ گھنٹوں کی تکلیف سہنے کے بعد ماہم نے ایک بہت خوبصورت اور صحت مند بچے کو جنم دیا تھا
’’سر پیشنٹ کو روم میں شفٹ کردیا گیا ہے‘‘ ایک نرس نے آکر عمیر کو بتایا
’’اوکے‘‘ عمیر قدم اٹھاتا ماہم کے روم میں پہنچا جہاں وہ بےبسی کی مورت بنی ہوئی تھی
’’ماہم؟‘‘ عمیر نے اسے پکارا
’’تم یہاں؟ تمہاری مام بہت یاد کرتی ہے وہ بہت ٹینشن میں ہے‘‘ عمیر نے بات شروع کی
’’مجھے میرے کیے کی سزا ملی ہے۔۔۔۔۔ نا میں اس دوغلے انسان سے شادی کرتی اور ناہی اپنے ماں باپ کا نام بدنام کرتی‘‘ ماہم روئی
’’کون ہے وہ ماہم جس کی خاطر۔۔۔۔۔۔‘‘
’’جلال صدیق۔۔۔ آپکی پھپھو کا بیٹا‘‘ عمیر کی آنکھیں حیرت سے بری ہوئی
ماہم نے اسے شروع سے لیکر آخر تک سب کچھ بتا دیا تھا
’’ایک مدد کرے گے میری؟‘‘ ماہم نے التجا کی
’’بولو‘‘ اپنے غصے پر قابو پاتے عمیر نے پوچھا
’’میرا بچہ اس درندے کے حوالے مت کیجیے گا۔۔۔ پلیز اسے اپنے ساتھ لیجائے‘‘ ماہم نے ہاتھ جوڑ کر فریاد کی
’’مگر میں کیسے؟‘‘ عمیر کو سمجھ نا آیا
’’پلیز!!!‘‘ ماہم کی فریاد پر عمیر ابراہیم کو اپنے ساتھ لے آیا تھا
عمیر نے ماہم کو بھی آنے کا بولا مگر شائد وہ اپنے آخری وقت کے بارے مین جان چکی تھی اسی لیے انکار کردیا
اسی رات ماہم نے ہمت کرکے موسی کو کال کی ۔۔۔۔۔ مگر کال وائس میل میں چلی گئی تھی
’’موسی!! میں ماہم۔۔۔۔۔ جانتی ہوں ناراض ہوگے اور پریشان بھی۔۔۔۔۔۔۔ سب۔۔سب ختم ہوگیا موسی۔۔۔۔ اسنے کہاں وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا وہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔ اسنے دھوکہ دیا مجھے موسی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔ تمہاری بہن کو بےآبرو کردیا۔۔۔۔۔۔۔ موسی!!۔۔۔۔۔۔۔ وہ عع۔۔۔۔۔عمیر۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اور ماہم کی سانسیں تھم گئی
وہ موسی کو بتانا چاہتی تھی کہ کیسے عمیر نے اسکی مدد کی مگر کچھ نا کہہ پائی
ماہم کی بدقسمتی یہ تھی کہ اسے اپنی سرزمین نا مل سکی دفن ہونے کو
ماہم کی تمام رسومات ادا کرنے کے بعد عمیر ابراہیم کو لیے پاکستان آچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اسنے انتظامیہ کوپیسے دیے تھے کہ اگر کوئی بھی ماہم کے حوالے سے سوال کرے تو کچھ مت بتائے
موسی کو جب تک میسج ملا دیر ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ دبئی گیا مگر اسے کچھ نا ملا۔۔۔۔ ماہم کی پڑوسن بھی شفٹ ہوگئی تھی
اسے معلوم تھا تو صرف اتنا کہ اسکی بہن نے عمیر کا نام لیا تھا
اسنے دبئی کے تمام ہسپتال چھان مارے مگر ماہم کے متعلق کچھ نا ملا۔۔۔۔۔۔۔ موسی نے کوشش کی اور عمیر کے بارے میں ڈھونڈنا شروع کردیا اسے جو انفارمیشن ملی اس پر کوئی بھی عمیر نامی انسان پورا نہیں اترا۔۔۔۔۔۔۔ اور آخری کوشش کے نتیجے میں اسے معلوم ہوا کہ ایک بزنس مین عمیر یاسین یہاں آیا تھا دبئی میں اسکی واپسی اسی دن ہوئی تھی جس دن ماہم مری تھی اور یہی بات موسی کو یقین دلانے کو کافی تھی کہ وہ وہی عمیر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائیرپورٹ سے نکلتے ہی تیز ہوا کے جھونکوں نے اسکا استقبال کیا، اسکے ہونٹوں پرجو ایک مخصوص قسم کی مسکراہٹ ہمیشہ رہا کرتی تھی وہ آج کہی غائب تھی، اپنی آغوش میں لپٹے اس نومولود بچے کو دیکھ کر ایک سرد سانس خارج کرتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔
’’السلام علیکم بابا‘‘ اڈھیر عمر کار ڈرائیور اسکے سامنے سر جھکائے ادب سے بولا
’’وعلیکم السلام چاچا، کیسے ہے آپ اور باقی سب کیسے ہیں؟‘‘ گاڑی میں سامان رکھواتے وہ اب بیک سیٹ پر بیٹھ گیا، جب کے ڈرائیور نے ڈرایئونگ سیٹ سنبھال لی
’’سب الحمداللہ ٹھیک بابا، بس آپ کے آنے کا انتظار تھا، گھر میں زوروشور سے آپکے اور سروج بی بی کے ویاہ کی تیاری ہورہی ہے‘‘
’’سروج!‘‘ لبوں سے یہ نام ادا ہوتے ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ، جب اسنے اپنی آغوش میں لپٹے اس وجود کو دیکھا
’’کیا وہ اسے اپنا لے گی؟‘‘ وہ سوچنے لگا
’’نہیں کیا وہ اس سب کے بعد مجھے اپنا لے گی؟‘‘ ایک اور سوچ دماغ پر حاوی ہوئی
’’میں تمہیں کسی قیمت پر بھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا سروج‘‘ خود سے عہد کرتے وہ آنکھیں موند گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایئرپورٹ سے نکلے انہیں تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب ایک تیز رفتار ٹرک سامنے سے آتا انکی گاڑی کے ساتھ ٹکڑا گیا
ڈرائیور تو موقع پر ہی جان دے گیا تھا جبکہ عمیر نے ابراہیم کو بچا لیا تھا
مگر خود بہت زخمی ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے فورا ہسپتال لیجایا گیا تھا
اسکے نام پر صرف سروج سے ملنے کی فریاد تھی۔۔۔۔۔۔ دونوں گھروں میں جب خبر پہنچی تو ایک کہرام برپا ہوگیا تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *