Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33
زرار ندا کو کنسرٹ میں لے آیا تھا۔۔۔۔۔ لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اسکا منہ بن گیا تھا، سب لوگ عاطف اسلم سے ملنے کو پاگل ہوئے جارہیں تھے۔۔۔۔ اور ایک وہ تھا سب سے بیزار ۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر وہ دوسروں کو کیا کہتا اسکی تو خود کی بہن پاگل ہونے کے در پر تھی، اسنے ندا کو دیکھا جو عاطف کو سننے پاگل ہونے کو تھی
’’ندا۔۔۔۔ ندا۔۔۔۔۔ ندا!!!!‘‘ زرار نے اسے بلایا مگر جب اسنے نا سنا توچلایا
’’ہاں۔۔۔۔۔۔ہاں کیا ہوا اذی؟‘‘ ندا کانپ گئی
’’تمہاری وہ دوست نہیں آئی؟‘‘ زرار نے بیزار سا منہ بنائے پوچھا
’’کون دوست؟‘‘ ندا نے حیرانگی سے پوچھا
’’ارے وہی کال والی وہ کرش‘‘ زرار نے بتایا
’’اوہ اچھااا ھدی۔۔۔۔۔ جی اذی میری بات ہوئی تھی وہ دس منٹ میں آئے گی اپنے بھیا کے ساتھ‘‘ ندا اسے بتائے دوبارہ سٹیج کی طرف دیکھنے لگی جہاں ایک لوکل سنگر گانا گارہا تھا۔۔۔۔۔ وہ ایک اپکمنگ سنگر تھا۔۔۔۔ جو ابھی ابھر رہا تھا اور یونی والے اسے سپونسر کررہے تھے
’’اللہ یہ جاتا کیوں نہیں ہے کان کے پردے پھاڑے گا کیا۔۔۔ اففف سر دکھنے لگ گیا ہے میرا۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اللہ اوئے دفع ہوجا۔۔۔۔۔۔۔۔ عاطف کو بھیج‘‘ زرار تو اپنی بہن کی زبان کے جوہر دیکھ کر حیران رہ گیا
’’ندا!!!!‘‘ زرار کا لہجہ وارننگ والا تھا
’’اوپس۔۔۔ سوری‘‘ زبان دانتوں میں دبائے وہ بولی
’’بی ہیو یور سیلف‘‘ زرار نے انگلی اٹھائے تنبیہ کی
’’اوکے‘‘ ندا تھوڑا سا سر جھکائے بولی
’’زرار‘‘ اپنے نام کی پکار پر اسنے پیچھے دیکھا تو سروج اور عمیر اسی کی طرف آرہیں تھے۔۔۔۔۔ مگر ان کے ساتھ ایک تیسرا وجود بھی تھا
’’ھدی!!!‘‘ ندا ایک دم چلاتے اس سے لپٹ گئی
’’ندا!!‘‘ ھدی بھی اتنے ہی زور سے چلائی
وہ دونوں ایک دوسرے کو گلے لگائے اچھلنے لگی
’’سائیکوز!!!‘‘ زرار بڑبڑایا اور ساتھ ہی ساتھ اسنے ھدی کا جائزہ لیا بےبی پنک ٹاپ کے ساتھ وائٹ جینز، بےبی پنک ہیربینڈ اور شیوز پہنے اسے کہی سے بھی وہ کالج کی سٹوڈنٹ نہیں لگ رہی تھی
’’ھدی کم ہیر‘‘ عمیر نے ھدی کو بلایا
’’جی بھائی‘‘ ھدی عمیر کے پاس آکھڑی ہوئی
’’زرار اس سے ملوں یہ ہے میرا بےبی ایلیفینٹ۔۔۔۔ مائی سسٹر ھدی یاسین۔۔۔۔‘‘ ھدی کے گال کھینچتے عمیر محبت سے بولا
’’اور ھدی یہ ہے زرار میرا جونیئر اور سروج کا فرینڈ‘‘ عمیر نے انکا انٹرو کروایا
’’السلام علیکم!!!‘‘ ھدی کے سلام پر زرار نے حیرت سے اسے دیکھا اسے امید نا تھی کہ اتنی کہ ایلیٹ کلاس کی لڑکی سلام لے گی اس سے
’’وعلیکم السلام!!‘‘ زرار نے مسکراہ کر جواب دیا
’’ہیلو عمیر!!‘‘ ندا عمیر کو دیکھتے فورا بولی
’’السلام علیکم ندا کیسی ہوں؟‘‘ عمیر نے پوچھا
’’میں بلکل ٹھیک‘‘ ندا عمیر کو دیکھے جارہی تھیں۔۔۔۔۔ اگرزرار کا دھیان ندا کی طرف ہوتا تو وہ ندا کی عمیر کے لیےمحبت کو ضرور محسوس کرلیتا
’’ندا چلے؟‘‘ ھدی نے اسے ہلایا
’’ہاں چلو‘‘ ندا ھدی کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ لے گئی
’’ہممم ھدی۔۔۔۔۔۔۔ بےبی ایلیفینٹ‘‘ زرار ہنسا، جس پر ھدی نے مڑ کر اسے گھورا اور ساتھ ہی ساتھ عمیر کو بھی
’’اوئے مذاق مت کروں‘‘ سروج اسکے سر پر ایک چماٹ مارتے بولی
’’اوکے ماما‘‘ زرار نے سر اثبات میں ہلایا
یونہی زرار کی کئی بار ھدی سے ملاقات ہوئی تھی مگر صرف زرار ہی تھا جسے یہ ملاقات بھاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تو یوں ہوئی تھی ہماری پہلی ملاقات‘‘ زرار نے اسے تحمل سے سب کچھ بتایا
’’تو زرار پھر جب بھائی کی منگنی ہوئی تھی اور پھر نکاح تو آپ کہاں تھے؟ اور آپ تو ندا کے کزن ہے نا تو پھر اس سے پوچھے نا کہ وہ مجھ سے ناراض کیوں ہے؟‘‘ ھدی کی بات پر زرار کو تکلیف محسوس ہوئی یہ تو وقت تھا جب وہ اپنا سب کچھ کھو چکا تھا۔۔۔۔۔ رشتے، دوست، ماں باپ، بھائی بہن سب کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’نہیں میں منگنی پر آیا تھا مگر تم نے نوٹ نہیں کیا تم اداس تھی بہت۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے وجہ معلوم نہیں مگر تم خاصی ویک لگ رہی تھی مجھے۔۔۔۔۔ کوئی وجہ؟‘‘ زرار نے اس سے پوچھا
’’ہاں وہ تب ندا نے مجھ سے لڑائی کی اور ہماری دوستی ٹوٹ گئی تھی ۔۔۔۔میں نے اسے منایا بھی تھا مگر اسنے دوستی ختم کرلی پتہ نہیں کیوں؟‘‘ ھدی نے اداس لہجے میں بتایا
’’کیوں تم نے کچھ کہا تھا اسے کیا؟‘‘ زرار نے تفتیشی انداز میں پوچھا
’’نہیں میں نے تو بس اسے بھیا کی منگنی کا کارڈ دیا تھا اور پھر پتہ نہیں کیا ہوا وہ لڑنا شروع ہوگئی‘‘ ھدی کی بات پر زرار کو اپنا شک یقین میں بدلتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔ یعنی واقعی میں ندا عمیر میں انٹرسٹد تھی
’’اچھا چلو آرام کروں بہت ہوگئی باتیں‘‘ ھدی کو لٹاتے اس پر لحاف اوڑھتے زرار نے لائٹ اوف کردی
’’بی ریڈی موسی علی زماد۔۔۔۔۔۔‘‘ زرار کی آنکھیں سخت پتھریلی ہوگئی تھی، پہلے والی نرمی کا عنصر نمایاں تک نا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سویرے علی زماد ناشتے کی ٹیبل پر تھے، جب مسز علی ان کے پاس آبیٹھی۔۔۔۔۔ وہ چور نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی
’’کیا کوئی بات ہے بیگم‘‘ علی زماد نے ان کی چوری پکڑ لی تھی
’’ہاں۔۔۔۔۔ وہ نہیں۔۔۔۔۔ وہ میرا مطلب ہاں‘‘ وہ گڑبڑا گئی
’’کیا بات ہے بیگم سب کچھ ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ علی صاحب نے پوچھا
’’وہ۔۔۔۔ وہ بات کرنی ہے آپ سے‘‘ مسز علی ہچکچاتے بولی
’’جی بیگم کہیے‘‘
’’گڈ مارننگ مام۔۔۔۔۔ گڈ مارننگ ڈیڈ‘‘ اتنے میں ندا نے انہیں جوائن کیا
’’مارننگ بچے‘‘
’’مارننگ بیٹا‘‘
ان دونوں نے جواب دیا
’’جی تو آپ کیا کہہ رہی تھی‘‘ علی زماد پھر انکی طرف متوجہ ہوئے
’’مجھے آپ سے موسی کے حوالے سے بات کرنی ہے‘‘
’’موسی کے حوالے سے؟‘‘
’’میرا مطلب موسی کی شادی کے حوالے سے‘‘
’’موسی کی شادی؟‘‘
’’ہاں وہ۔۔۔۔ وہ شادی کرنا چاہتا ہے‘‘ مسز علی نے بتایا
’’یہ اسنے تم سے خود کہاں؟‘‘ علی صاحب نے اچھنبے سے پوچھا، انکا بیٹا اتنا اچھا تو تھا نہیں کہ وہ شادی جیسے رشتے میں اتنی جلدی بندھ جائے
’’مگر ابھی اسکی عمر ہی کیا ہے۔۔۔۔ پڑھائی تو مکمل کرلے پہلے‘‘ علی صاحب نے جواب دیا
’’ویسے لڑکی کون ہے مام؟‘‘ مزے سے ناشتہ کرتی ندا نے پوچھا
’’وہ۔۔ دراصل۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔‘‘ مسز علی کو سمجھ نا آئی کے کیسے بتائے
’’اب بتا بھی دیں بیگم کہی کوئی گوری تو نہیں پسند کرلی؟‘‘ علی صاحب نے ہنستے بولئ
’’سروج۔۔۔۔۔۔۔۔ سروج سے شادی کرنا چاہتا ہے وہ‘‘ بمب تھا یا کیا ندا اور علی صاحب دونوں نے حیرانگی سے انہیں دیکھا
’’بیگم!!!‘‘
’’مام!!‘‘
وہ دونوں باپ بیٹی چونک گئے
’’سچ بول رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ اسنے مجھے کہاں تھا کہ شادی کرنی ہے اور سروج سے کرنی ہے اسکے علاوہ کسی سے نہیں کرنی‘‘ مسز علی نے موسی کے نادر خیالات ان تک پہنچا دیے تھے
’’ایسا ہرگز نہیں ہوگا بھائی اس سے شادی نہیں کرسکتے‘‘ ندا ایک دم غصے سے بولی
’’ندا۔۔۔۔ جاؤ اپنے بھائی کو بلواؤ بات کرتا ہوں میں اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شخص تو واقعی چاند چڑھانے کے در پر ہے‘‘ علی زماد سر جھٹک کر بولے، جبکہ ندا پیر پٹختے وہاں سے چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائز رات کو گھر لوٹا تو سب سو چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر صبح ہوتے ہی اسکی کلاس لگ چکی تھی سب بہنوں کے ہاتھوں مگر مائز نے سٹریٹ کرائم کی کہانی بنا کر سب کو مطمئن کردیا
سب بہنیں تو اسکی آؤ بھگت میں مصروف تھی جبکہ مائز کو صرف موسی کی ٹینشن لگی ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج آج ابراہیم کو لیکر یونی گئی ہوئی تھی۔۔۔۔ آدھی یونی کے لڑکوں کو تو جب سروج کے بیوہ ہونے کا علم ہوا تو وہ دل پر پتھر باندھ کررہ گئے
’’سروج!!‘‘ عمارہ نے ہچکچا کر اسے پکارا
’’جی؟‘‘ سروج نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا، پھر زور دینے پر اسے عمارہ یاد آگئی
’’وہ میں عمارہ!!‘‘
’’اوہ تم!!!‘‘ سروج نے اسے پہچان لیا تھا
’’آؤ بیٹھو‘‘ سروج نے اسے آفر کی
’’سوری!!‘‘ وہ دونوں اکٹھے بولی
’’سوری عمارہ ۔۔۔۔۔۔ یقین مانو میں۔۔۔میں نہیں جانتی تھی کہ جلال یہ سب کرے گا۔۔۔ بلیو می مجھے کچھ معلوم نا تھا ۔۔۔۔۔ آئی ایم رئیلی سوری‘‘ عمارہ سروج کو دیکھ کر حیران رہ گئی، اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی وہ لڑکی معافی مانگ رہی تھی۔۔۔۔ عمارہ نے جلدی سے سر نفی میں ہلایا
’’نو آئی ایم سوری سروج میری وجہ سے تمہارا بزنس، تمہاری فیملی۔۔۔تم خود اتنا افیکٹ ہوئی۔۔۔۔ رئیلی سوری‘‘ عمارہ کی آنکھیں نم تھی
’’اوئے اٹس اوکے۔۔۔ جو تم نے کیا وہ ٹھیک تھا۔۔۔۔۔ تمہاری نیت غلط نہیں تھی‘‘ سروج کی بات پر وہ مسکرا دی
’’فرینڈز؟‘‘ عمارہ نے اچانک ہاتھ آگے کیا
’’ہنہ؟‘‘ سروج نے حیرانگی سے دیکھا
’’پلیز!!‘‘ عمارہ نےآنکھیں پٹپٹائی
’’اوکے فرینڈز‘‘ سروج نے ہنستے اس سے ہاتھ ملا لیا
’’ویسے یہ تمہارا بیٹا ہے؟‘‘ عمارہ نےابراہیم کو دیکھ کر پوچھا
’’ہاں‘‘ سروج نے سر ہاں میں ہلایا
’’بہت کیوٹ ہے یار میں پکڑ لو‘‘ اور فورا سے اسنے ابراہیم کو گود میں لے لیا، جو عمارہ کو آنکھیں بڑی کیے دیکھنے لگا
’’اچھا اب میں چلتی ہوں۔۔۔۔۔میری کلاس کا ٹائم ہے‘‘ عمارہ ابراہیم کو سروج کو پکڑاتی وہاں سے چل دی، جب اسے راستے میں مائز ملا
’’ہاں!!! یہ تمہیں کیا ہوا ہے؟‘‘ عمارہ نے مائز سے پوچھا
’’مجھے چھوڑو یہ بتاؤ تم سروج سے کیا بات کررہی تھی؟‘‘ مائز نے سوال کیا
’’او وہ میں تو اس سے معافی مانگنے اور دوستی کرنے گئی تھی‘‘
’’اچھا پھر کیسی لگی؟‘‘ مائز نے سوال کیا
’’بہت اچھی۔۔۔۔ بہت زیادہ اچھی۔۔۔۔ جانتے ہوں اسکی غلطی نہیں تھی پھر بھی اسنے معافی مانگی۔۔۔۔ ہے نا حیرانگی کی بات‘‘
’’بات تو واقعی حیرانگی کی ہے‘‘ مائز نے جواب دیا
’’اس سے ایسے ہی دوستی رکھنا، مزے میں رہوں گی‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ عمارہ نے پوچھا
’’مطلب یہ کہ موسی صاحب کی وائف ٹوبی ہے یہ محترمہ‘‘ مائز نے آرام سے اس پر دھماکہ کیا
’’واٹ؟‘‘
اب وہ دونوں چائے پی رہے تھے جب عمارہ کو اچھو لگ گیا
’’جی‘‘
’’سروج مان گئی؟‘‘
’’مان جاتی اگر یہ سالا انسان بن کررہتا‘‘ مائز بڑبڑایا
’’کیا بولے؟‘‘
’’ارے کچھ نہیں یار چھوڑو‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مام ڈیڈ بلوایا آپ لوگوں نے؟‘‘ موسی ندا کے اٹھانے پر نیچے آیا تھا
’’آؤ بیٹھو شہزادے بات کرنی ہے تم سے‘‘ علی صاحب کا لہجہ اور اتنا شیریں وہ بھی موسی کے لیے اسے ہضم نا ہوا
’’اینی پرابلم ڈیڈ؟‘‘
’’سنا ہے صاحبزادے کو شادی کرنی ہے؟‘‘ انکی بات پر موسی نے اپنی ماں کو دیکھا جنہوں نے نظریں پھیر لی
’’شادی تو سب کرنی ہوتی ہے ڈیڈ۔۔۔۔ آپ نے بھی کی تھی۔۔۔۔۔ اب مجھے بھی کرنی ہے‘‘ موسی نے سادہ سا جواب دیا
’’اور کس سے کرنی ہے؟‘‘ علی صاحب نے طنزیہ لہجے میں پوچھا
’’جنہوں نے یہ بتادیا کرنی ہے۔۔۔۔۔ انہیں سے پوچھ لے کس سے کرنی ہے‘‘ موسی اپنی ماں کو دیکھتے بولا
’’دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا۔۔۔۔۔ کیا دنیا میں لڑکیوں کا فقدان ہوگیا ہے جو تمہیں شادی کو سروج ہی ملی تھی‘‘ علی صاحب ایک دم سے طیش میں آکر بولے
’’کیوں سروج میں کیا مسئلہ ہے؟‘‘ موسی نے حیرانگی سے پوچھا
’’تمہیں نہیں معلوم کے کیا مسئلہ ہے؟ بیوہ ہے وہ موسی‘‘
’’تو؟ اس دنیا میں لاکھوں بیوہ کی شادیاں ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اٹس ناٹ آ بیگ ڈیل‘‘ موسی نے آرام سے کندھے اچکائے جواب دیا
’’اٹس آ بیگ ڈیل موسی۔۔۔۔۔۔ فور می اٹس آ بیگ ڈیل‘‘ علی صاحب غصے سے پھنکارتے وہاں سے چل دیے، اور مسز علی ان کے پیچھے چل دی
’’یہ کیا تھا بھائی۔۔۔۔ آپ ایسا کیسے کرسکتے ہے۔۔۔۔ اس لڑکی سے شادی۔۔۔۔۔۔۔ جوکہ آپ کے مطابق ہماری بہن کے گنہگار کی بیوی ہے۔۔۔ بتائے مجھے کیا سوچ کا آپ نے یہ فیصلہ کیا؟‘‘ ندا تو چیخ پڑی
’’آواز نیچی ندا اور زرا تمیز سےبڑا بھائی ہوں تمہارا بھولو مت۔۔۔۔۔اور مجھے کب کیا کرنا ہے اور کیسے کرنے ہے یہ میں تم سے بہتر سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔ تو آئندہ سے تمیز کے دائرے میں رہنا سمجھی‘‘ ندا کو وارن کرتے باسکٹ سےسیب اٹھائے موسی اپنے کمرے کی جانب چل دیا
ندا پیچھے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی
اسے نفرت تھی اس سروج سے جس نے پہلے اس سے اسکی محبت چھین لی اور اب اسکا بھائی
’’تمہیں میں کبھی بھی اس گھر میں نہیں آنے دوں گی سروج، اور اگر آگئی تو میں تمہیں یہاں ٹکنے نہیں دوں گی‘‘ خود سے عہد کرتے اسنے غصے سے موسی کے کمرے کی طرف دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونی میں ایگزامز شروع ہوچکے تھے۔۔۔ ھدی بھی اب ٹھیک ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ زرار نے فلحال ایگزامز کی وجہ سے خود کو قابو میں رکھا ہوا تھا
سروج کی میٹنگز میں اسے سب پروجیکٹ مل گئے تھے اور اب آفس کا پوراسٹاف دن رات ایک کیے کمپنی کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے کام کررہا تھا
موسی نے بھی فلحال سروج کو تنگ نہیں کیا تھا۔۔۔ اور سروج بھی موسی کی دھمکی کو اسکا بیہودہ مذاق سمجھ کر بھول چکی تھی
اسے زرار نے ھدی کے حوالے سے سچ نہیں بتایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ان سب کا آخری پیپر تھا۔۔۔۔۔ سٹوڈنٹس تو یوں شکر منارہے تھے جیسے صبح نو کی گئی بجلی رات دس بجے آنے پر بےچارے پاکستانی شکر مناتے ہیں
موسی نے ان دونوں میں کسی سے بھی بات نا کی تھی۔۔۔۔ یہاں تک کے مائز سے بھی نہیں
سیٹی کی دھن بجاتے موسی اپنی کار کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔ اس بات سے انجان کے کیسے ایک وجود اسکا پیچھا کررہا تھا۔۔۔ مگر موسی شائد اتنا بھی انجان نہیں تھا
’’تم باہر آ سکتے ہوں زرار چھپ کر پیچھا مت کروں‘‘ موسی تمسخرانہ بولا
’’میں تو چھپ کر پیچھا کرتا ہوں، مگر تم تو وار کرتے ہوں موسی علی زماد‘‘ زرار دانت پیستے بولا
’’جو جیسا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی کرتا ہوں‘‘ موسی آرام سے بولا
اگر ماہم کا بدلا لینا تھا تو سب سے پہلے اسے زرار کے سامنے مضبوط ہونا تھا
’’مگر اب کی بار تم نے غلط کیا موسی تمہیں میں نے پہلے بھی سمجھایا تھا نا‘‘
’’میں یہاں تمہاری سننے نہیں آیا زرار میں وہی کروں گا جو میرا دل چاہے گا‘‘
’’تو اب میں بھی وہی کروں گا جو مجھے بہت پہلے کردینا چاہیے تھا‘‘
زرار سخت لہجے میں بولتا موسی کی طرف بڑھا اور اسے سنبھلنے کا موقع دیے بنا اس پر حملہ کر دیا
موسی نے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کی مگر زرار پر تو جنون سوار ہوچکا تھا۔۔۔۔ اتنے دنوں سے خود پر کیا ضبط ٹوٹ رہا تھا
وہ دے پر دے موسی کے چہرے پر مکوں کی برسات کررہا تھا
’’منع کیا تھا نا اس سے دور رہ۔۔۔۔۔ کیوں نہیں مانی میری بات‘‘
’’تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری ھدی کو ہاتھ لگانے کی۔۔۔۔۔ کیسے ہوئی تمہاری ہمت ایسا کرنے کی؟‘‘ وہ اسکا کالر دبوچے غرایا
’’دیکھو زرار میری بات۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے پہلے وہ کچھ بول پاتا زرار نے زوردار مکا اسکے منہ پر مارا
’’میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ میری ھدی سے دور رہنا۔۔۔۔۔ وہ میری ہے۔۔۔ مگر تم نے اسے تکلیف دی۔ تم نے میری محبت کو تکلیف دی۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے اسے مارنے کی کوشش کی۔۔۔۔ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑو گا۔۔۔۔۔ اب تمہیں بھی مرنا ہوگا۔۔۔۔مرنا ہوگا تمہیں۔۔۔۔ تمہیں زندہ رہنے کا حق نہیں۔۔۔۔ گڈ بائے موسی علی زماد۔۔۔۔۔۔ فور ایور اینڈ ایور( ہمیشہ ہمیشہ کے لیے)‘‘ یہ کہتے ہی وہ لوہے کی راڈ اٹھائے موسی کی طرف بڑھا۔۔۔۔ جو خون میں لت پت زمین پر لیٹا اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا
لوہے کی راڈ لیے اسنے موسی کے جسم پر مارنا شروع کردیے۔۔۔۔۔ یہاں تک کے موسی بےہوش ہوگیا تھا
’’پارکنگ میں آؤ اور اپنے دوست کو لے جاؤ۔۔ اگر چاہتے ہوں کہ وہ زندہ رہے‘‘ مائز کو میسج کرتے وہ آرام سے وہاں سے چل دیا۔۔۔ یہ جانے بغیر وہ ایک بار پھر سے زرار سے بیسٹ بن چکا تھا
یہ جانے بغیر کہ اسکی ھدی اسے اس روپ میں دیکھ چکی تھی
ھدی اور سروج کو گھر جانا تھا اسی لیے سروج اسے پارکنگ میں بھیجے خود ایک ضروری کال کرنے گئی تھی۔۔۔ مگر جو ھدی نے دیکھا اس کے بعد زرار اسکی نظروں میں پھر سے وہی بیسٹ بن چکا تھا جس سے وہ پہلے دن ملی تھی
’’آئی ہیٹ یو زرار۔۔۔۔۔۔ آئی ہیٹ یو‘‘ ھدی خود سے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائز پارکنگ میں پہنچا تو اسے موسی کہی نظر نا آیا۔۔۔۔۔۔۔ بہت کچھ غلط ہونے کا احساس اس پر غالب آگیا
اسنے ادھر ادھر دیکھا تو اسے آخر موسی کا زخمی وجود مل گیا تھا
مائز نے جلدی سے اسے اٹھایا اور ہسپتال لے گیا
زرار نے اپنا کہا کردکھایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسنے کہاں تھا کہ وہ موسی کو نہیں چھوڑے گا۔۔۔ اور واقعی اسنے نا چھوڑنے والی قسم پوری کردی تھی۔
جاری ہے
