Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44
’’آرام سے‘‘ سروج کو پکڑے وہ اندر داخل ہوئے بولا
’’موسی ٹھیک ہوں میں‘‘ سروج چڑ کر بولی
’’نظر آرہا ہے‘‘ وہ اسکی زرد رنگت پر چوٹ کرتے بولا
’’ارے آگئے تم لوگ‘‘ مسز علی جو لاؤنج میں بیٹھی تھی انہیں دیکھ کر فورا اٹھی
باقی سب بھی وہی موجود تھے
’’موسی ابراہیم؟‘‘ ادھر ادھر نگاہیں دوڑائے اس نے بیتابی سے ابراہیم کا پوچھا
’’چلو چلے‘‘ موسی اسے سیڑھیوں کی جانب لیکر گیا
’’موسی۔۔۔ وہ جلال۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ابھی نہیں مسٹر زماد بعد میں‘‘ موسی انہیں سخت لہجے میں تنبیہ کرتے بولا
’’آؤ سروج‘‘ اسے آرام سے تھامے وہ کمرے کی جانب لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یہ۔۔۔یہ کیا تھا؟ یہ موسی ایسے کیوں بات کررہا ہے تھا آپ سے؟‘‘ مسز علی نے حیرانگی سے علی زماد سے پوچھا۔۔۔۔۔۔ مگر وہ کچھ نا بولے۔۔۔ وہ شرمندہ تھے
’’علی آپ بتائے نا یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔۔۔ یہ جلال اسکا کیا تعلق ہے ان سے اور ابراہیم کیساتھ یہ سب کیوں ہوا؟‘‘ مسز علی نے بیتابی سے پوچھا
’’بعد میں بات کرے گے‘‘ علی زماد بولتے وہاں سے جانے لگے جب مسز علی پیچھے سے چلائی
’’بعد میں نہیں۔۔۔۔۔۔ ابھی، ابھی بات کرنی ہے مجھے۔۔۔ پچھلے تین دنوں سے بعد میں۔۔ بعد میں کیے جارہے ہیں۔۔۔۔۔ مجھے سچ سننا ہے کیونکہ یہ میری مری ہوئی بیٹی کا سوال ہے‘‘ مسز علی کی آنکھوں سے آنسو جارہی ہوگئے تھے
علی زماد کچھ نا بولے بلکہ وہاں سے جانے لگے جب زرار کے الفاظ کان میں پڑے
’’آج بھی سچ قبول نہیں کرے گے؟ آج بھی کوئی جھوٹا بہانہ بنا دے۔۔۔ آج بھی لگادے کسی پر الزام‘‘ زرار کے الفاظ انہیں تکلیف پہنچا رہے تھے
’’یہ۔۔۔ یہ کیا بول رہے ہوں تم؟ یہ کیا بول رہا ہے؟‘‘ مسز علی نے حیرت سے زرار کی طرف دیکھتے علی زماد سے پوچھا
’’یہ کیا بتائے گے میں ہی سچ بتادیتا ہوں‘‘ زرار تیکھے لہجے میں بولا
انہوں نے تکلیف سے زرار کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ یہ انکا وہ بیٹا تھا جو انہیں کبھی جھکنے نہیں دیتا تھا اور آج وہی انہیں جھکا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن غلط تو وہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔ انہوں نے بھی تو اپنی جھوٹی انا اور عزت کی خاطر اسے تکلیف دی۔۔۔۔۔ سب کے سامنے رسوا کیا۔۔۔۔۔ سر جھکا دیا
’’کیسا سچ؟‘‘ مسز علی نے بیتابی سے پوچھا
’’ماہم کی موت کا سچ۔۔۔ اس کے گھر سے بھاگنے کا سچ‘‘ ان کی طرف دیکھتا وہ چبا چبا کر بولا
علی زماد کچھ نا بولے بس وہی صوفہ پر ٹک گئے
’’آپ بھی بیٹھ جائے مسز زماد کیونکہ اب جو میں بتانے جارہا ہوں شائد آپ کھڑی سن نا پائے‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ابراہیم‘‘ کمرے میں داخل ہوتے ہی سروج نے اسے پکارا کو اپنے کھلونے سے کھیلنے میں مصروف تھا
اس کے پاس اس وقت ھدی تھی
’’آپی‘‘ ھدی جلدی سے اسکے گلے لگی
’’آپ ٹھیک ہوں نا‘‘
’’جی چندا میں ٹھیک ہوں‘‘ سروج نے محبت سے اسکا چہرہ تھپتھپاتے بتایا
’’مم‘‘ اتنی دیر میں ابراہیم اسے دیکھ کر بولا اور ہاتھ اسکی طرف کیے
’’ابراہیم‘‘ اسے ہاتھوں میں اٹھائے سروج اسے چومنے لگی
’’مم‘‘ ابراہیم اس سے لپٹ گیا
’’میں آئی‘‘ ھدی کمپلیٹ فیملی دیکھ کر وہاں سے جانے لگی جب موسی نے اس روک لیا
’’جی؟‘‘ اسے ابھی بھی موسی سے ایک جھجھک سی تھی
’’کبھی یہ مت سمجھنا کہ تم کوئی غیر ہوں۔۔۔۔۔ غیر نہیں ہوں بہن ہوں میری۔۔۔۔ غلطی سے بھی یہ خیال دل میں مت لانا کہ اب سروج پر تمہارا حق نہیں۔۔۔۔۔ سروج صرف تمہاری آپی نہیں، میری بیوی بھی ہے اور اس طرح سے تم میری بھی بہن ہوئی۔۔۔۔۔۔ سمجھی‘‘ اسکی ناک دباتے موسی نے پوچھا تو ھدی نم آنکھوں سے ہنس دی
’’سمجھ گئی‘‘ اسکے جواب پر موسی کی مسکراہٹ پھیل گئی
’’چلو اب بھاگو ۔۔۔۔۔۔ مجھے کچھ پرائیویٹ ٹائم چاہیے فیملی کیساتھ‘‘ موسی بولتے ہی اسے کمرے سے باہر لے گیا اور دروازہ اسکے منہ پر بند کیا
’’اللہ یہ دونوں بھائی عجیب ہے‘‘ ھدی بڑبڑائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مما کی جان۔۔۔۔۔۔ مما کا بیٹا‘‘ ابراہیم کو اپنے ساتھ بیڈ پر لٹائے وہ اسکا ماتھا چومتے بولی
’’صرف ماما کی کیوں یہ تو بابا کی بھی جان ہے کیوں ہے نا شہزادے‘‘ اپنی ناک ابراہیم کے پیٹ پر رگڑتے موسی بولا تو ابراہیم ہنس دیا
’’موسی‘‘ سروج نے پکارا
’’ہممم‘‘ ابراہیم سے کھیلتے اس نے پوچھا
’’موسی ایک وعدہ کروں گے؟‘‘ سروج نے اس سے پوچھا
’’کیا وعدہ؟‘‘ موسی نے حیرانگی سے سروج کو دیکھا
’’ تم مجھ سے جو بھی مانگو گے نا دوں گی بس مجھ سے ابراہیم کو مت چھیننا۔۔۔۔۔ اسے عمیر نے دیا تھا مجھے۔۔۔۔۔ بہت خاص تھا یہ ان کے لیے اور میرے لیے بھی‘‘ موسی نے سروج کو دیکھا، عمیر کی محبت اسکی آنکھوں سے جھلک رہی تھی اور موسی کو تکلیف دے رہی تھی۔۔۔۔ اسی پل موسی علی زماد نے ایک فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔ ایک خاص فیصلہ
’’وعدہ کرتا ہوں مگر بدلے میں کچھ چاہیے تم سے‘‘ موسی نے جھٹ سے بولا
’’تم مت بدلنا‘‘ سروج کا منہ بن گیا
’’میری شرط سن رہی ہوں؟‘‘ موسی پوچھا
’’بولو‘‘ سروج نے جیسے احسان کیا
’’محبت کرلو مجھ سے‘‘ اسکے لہجے میں فریاد تھی
’’ہنہ‘‘ سروج کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی کچھ سمجھ نا آیا
’’زیادہ نا سہی تھوڑی سی۔۔۔۔۔۔ مجھے تھوڑی محبت دے کر یہ احساس دلا دوں کہ تم نے مجھے معاف کیا۔۔۔۔۔۔ ہر فعل کے لیے۔۔۔۔۔ ہر تکلیف کے لیے‘‘ اسکا ہاتھ تھامے اس پر انگوٹھا پھیرتے وہ بولا
’’مشکل ہے‘‘ سروج نظریں جھکا کر بولی
’’ناممکن تو نہیں نا‘‘ موسی نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا
سروج ہنسنے لگ گئی
’’تم تو یوں بول رہے ہوں موسی علی زماد جیسے مجھ سے محبت کر بیٹھے ہوں۔۔۔۔۔۔۔ عشق ہوگیا ہے مجھ سے‘‘ سروج نے اسکی بات ہوا میں اڑائی
’’اگر کہوں یہ سچ ہے۔۔۔۔۔۔ اگر مان لو کہ کر بیٹھا ہوں تم سے محبت۔۔۔۔ ہوگیا ہےتم سے عشق مجھے‘‘ موسی کی سچ بولتی آنکھیں سروج کو تکلیف دے رہی تھی
’’ایسا مت کہوں موسی۔۔۔۔۔ روک لوں خود کو۔۔۔۔۔۔ محبت خود غرض ہے بہت۔۔۔۔۔ یہ انسان کو مار ڈالتی ہے۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں چھوڑتی۔۔ سب کچھ چھین لیتی ہے۔۔۔ بےمول کردیتی ہے یہ۔۔۔۔۔۔ روک لو خود کو موسی۔۔ ورنہ یہ ختم کردے گی تمہیں‘‘ سروج کی تکلیف آج موسی محسوس کرسکتا تھا
’’گیان بانٹنے کو نہیں کہاں۔۔۔۔۔ شرط کا بتاؤ قبول ہے یا نہیں‘‘ موسی بات کا اثر زائل کرنے کو بولا
’’کوشش کرسکتی ہوں‘‘ سروج دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔۔ موسی کا چہرہ کھل اٹھا
’’لو یو‘‘ اسکا ماتھا چومتے وہ بولا، سروج کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسز علی کبھی اپنے شوہر کو دیکھتی تو کبھی زرار کو۔۔۔۔۔۔ ندا کی حالت بھی مختلف نہیں تھی
اسنے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ وہ باپ جو اپنے بچوں پر سب کچھ لٹانے کا تیار تھا۔۔۔۔۔۔ وہ ایسا نہیں کرسکتے
’’نن۔۔نہیں یہ جھوٹ ہے۔۔۔ میں نہیں مانتی۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ آپ بتائے نا مام کو کہ یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔۔ اذی جھوٹ ہے نا سب۔۔۔۔۔ مذاق ہے نا‘‘ ندا کی حالت دیکھ کر زرار اس کے پاس گیا اور اسے گلے لگا لیا
’’بابا۔۔۔۔بابا ایسا نہیں کرسکتے اذی وہ ہم سب سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی‘‘ ندا اسکے گلے لگ کر بلک بلک کر رودی
’’آپ کچھ بولتے کیوں نہیں ہے؟‘‘ اب کی بار مسز علی نے علی زماد سے چیخ کر پوچھا
’’وہ سچ بول رہا ہے۔۔۔ زرار سچ کہہ رہا ہے‘‘ وہ صرف اتنا بولے اور اپنے کمرے کی جانب چل دیے
مسز علی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔۔۔۔۔ انہوں نے زرار کو دیکھا جو ندا کو ساتھ لگائے اسے سمجھا رہا تھا
کتنا غلط کیا نا انہوں نے اس کیساتھ۔۔۔۔۔ وہ بھی تو انکی اولاد جیسا تھا۔۔۔۔۔ ہا صرف اولاد جیسا۔۔۔۔۔ اگر سگی اولاد ہوتا تو شائد وہ ایسا نا کرتی
اتنے میں ھدی نیچے اتر کر آئی
’’چلے؟‘‘ اسے دیکھ کر زرار فورا اٹھا
’’کہاں؟‘‘ وہاں کا ماحول دیکھ کر ھدی نے خالی دماغ سے پوچھا
’’گھر‘‘ آج زرار کا کسی اور گھر کو گھر کہنا مسز علی کو تکلیف دے رہا تھا
’’زرار‘‘ انہوں نے جاتے زرار کو پکارا
وہ وہی رک گیا جانتا تھا آگے کیا ہوگا
’’ہوسکے تو مجھے معاف کردینا‘‘ اسکے سامنے آتے ہاتھ جوڑتے وہ بولی
’’ہاتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ آپ نے معافی مانگ لی بس یہی کافی ہے‘‘ ان کے جڑے ہاتھ کھولتے وہ بولا
’’معاف کردوں اپنی ماں کو۔۔۔‘‘
’’ماں!!۔۔۔۔ ماں ہے تبھی تو آپکے جڑے ہاتھ دیکھ نہیں پایا۔۔۔۔۔ خیر آپ نے معافی مانگی کیونکہ آپ شرمندہ ہے۔۔۔۔ اب معاف کرنا ہے یا نہیں یہ میرا فیصلہ ہوگا۔۔۔۔۔۔ اور میں نے جلد بازی کے فیصلے کرنا چھوڑ دیے ہیں‘‘ ھدی کا ہاتھ تھامتے وہ اس گھر کی چوکھٹ پار کرگیا۔۔۔ جہاں سے اسے ایک بار دھکے دے کر نکالا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔ زرار ھدی کو دیکھ رہا تھا جو آپ زبان بند کیے بیٹھی تھی
’’کیا کچھ بولو گی نہیں؟‘‘ زرار نے بات شروع کی
’’کیا بات؟‘‘ ھدی نے حیرانگی سے پوچھا
’’کوئی بھی بات۔۔۔۔۔ چلو اتنا ہی پوچھ لو کہ جب انہوں نے معافی مانگی تو معاف کیوں نہیں کیا‘‘ وہ ہنسا ۔۔۔۔ مگر کتنی کھوکھلی ہنسی تھی نا اسکی
ھدی غور سے اسے دیکھے گئی
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہوں‘‘ زرار نے حیرانگی سے پوچھا
’’آپ ایسے کیوں ہے؟‘‘
’’کیسا ہوں؟‘‘ زرار نے شرارت سے پوچھا
’’ایسے‘‘ ھدی پھر بولی
’’ایسا کیسا؟‘‘ زرار حیران ہوا
’’کچھ نہیں‘‘ ھدی نے سر نفی میں ہلایا
’’ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘ ھدی نے سوال کیا کیونکہ یہ راستہ اسکے فلیٹ کا نہیں تھا
’’آہل انسسٹ کررہا تھا تم سے ملنا تھا اسے‘‘ زرار نے جواز پیش کیا
’’اوکے‘‘ ھدی نے کندھے اچکا دیے
۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔۔ مجھے بس وہ لوگ سلاخوں کے پیچھے چاہیے‘‘ موسی فون پر دبی آواز میں چلایا۔۔ اور ایک نظرسروج اور ابراہیم کو دیکھا جو سوئے ہوئے تھے
’’سر آپ سمجھ نہیں رہے وہ ابراہیم کے خونی رشتے ہیں۔۔۔۔ اگر کیس کردیا تو الٹا آپ کو ہی نقصان ہوگا‘‘ وکیل دوسری طرف سے بولا
’’کوئی اور راستہ؟‘‘ موسی اب بالکونی میں آگیا تھا
’’یس سر ایک راستہ ہے۔‘‘ وکیل بولا
’’کیا؟‘‘ موسی نے جھٹ سے پوچھا
’’سر اگر آپ یہ ثابت کردے کہ مسٹر جلال اس قابل نہیں ہے کہ وہ ابراہیم کی کسٹڈی لےسکے یا انکے خلاف کوئی گواہ مل جائے تو‘‘ وکیل نے تجویز دی
’’ہمم چلو کرتے ہیں کچھ یہ بتاؤ کہ کیس کی تاریخ کونسی ہے؟‘‘ موسی نے ماتھا مسلتے پوچھا
’’سر اگلے ہفتے کی‘‘ وکیل نے جواب دیا
’’اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔۔ پھر بات ہوتی ہے‘‘ کال کاٹتے ہی موسی تیزی سے اندر آیا جہاں ابراہیم نیند سے اٹھا رورہا تھا
موسی نے کلاک کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ پکا اسے بھوک لگی تھی
’’اوئے چپ کرجا اپنی ماں کو جگا دے گا‘‘ موسی نے ابراہیم کو اٹھا
’’با۔۔مم‘‘ ابراہیم روتے بولا
’’جی بابا کی جان ماما سوئی ہوئی ہے۔۔۔۔ چلو بابا آپ کو کھانا کھلائے‘‘ موسی اسے اٹھائے کچن میں لے آیا
بےبی چیر پر اسے بٹھائے وہ کیبنیٹ کھولے سیریلیک ڈھونڈنے لگا
’’بھیا آپ یہاں خیریت؟‘‘ ندا نے حیرانگی سے سوال کیا
’’ہاں وہ ابراہیم کو بھوک لگی ہے تو بس‘‘ موسی سر کھجاتے بولا
ندا کی ہنسی نکل گئی
’’تم کیوں ہنس رہی ہوں؟‘‘ موسی نے آنکھیں چھوٹی کیے گھورا
’’نہیں وہ آپ کو کبھی خود سے پانی پیتے بھی نہیں دیکھا اور اب آپ یہ سب‘‘ ندا بولی تو موسی مسکرایا
’’ہاں تو پہلے میں باپ تھوڑی نا تھا اب تو میرا ایک چھوٹا سا بیٹا ہے‘‘ موسی نے محبت سے ابراہیم کی پیشانی چومی
’’بھابھی کو اٹھا دیتے‘‘ ندا نے تجویز دی
’’اسے اٹھانے سے کیا ہوتا؟‘‘ موسی اب سیریلیک بنائے ابراہیم کے سامنے بیٹھ گیا اور تھوڑا تھوڑا سا اسے کھلانے لگا
’’وہ ماں ہے سنبھالتی‘‘ ندا نے جواز پیش کیا
’’ماں کے سنبھالنے سے کیا ہوتا؟‘‘ موسی نےایک اور سوال کیا
’’ماں کی زمہ داری ہوتی ہے بچے سنبھالنا‘‘ ندا بھی وہی بیٹھ گئی
’’غلط ۔۔۔۔۔ یہی غلط پہلو ہے ہمارے معاشرے۔۔۔۔۔ بچے کی زمہ داری صرف ماں کی نہیں باپ کی بھی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ تم مجھے بتاؤ کہ کیوں صرف عورت کے سر ہی بچے کی زمہ داری ڈال دی جاتی ہے؟‘‘ موسی نے اس سے سوال کیا
’’تو بھیا مرد بھی تو جاب کرتا ہے کماتا ہے۔۔۔۔ تو ایسے میں عورت ہی بچہ سنبھالتی ہے۔۔۔۔۔ اور اسے کرنا کیا ہوتا ہے‘‘ ندا مزے سے بولی
’’نہیں عورت صرف بچہ نہیں بلکہ پورا گھر سنبھالتی ہے۔۔۔۔۔ اس گھر میں ساس سسر۔۔۔۔ نندیں۔۔۔ دیور۔۔۔۔ غرض سب آتے ہیں۔۔۔ تم جانتی ہوں ندا ہم امیر لوگ ہیں۔۔۔۔ ہمارے یہاں ساس سسر کی خدمتیں کرنا نہیں چلتا۔۔ مگر آج بھی ایسی ہزار مڈل کلاس فیملیز ہیں جہاں ایک عورت کو سب سے پہلےاپنے ساس سسر کو دیکھنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ پھر شوہر۔۔۔۔۔ اس کے بعد اس کے رشتہ دار پھر بچے۔۔۔۔۔ ایسے میں خود کو بھول جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور آخر میں سنتی ہے کہ تم کرتی کیا ہوں۔۔۔۔۔ ایک ایسی عورت جو بالوں میں تین تین دن کنگھا نہیں کرتی۔۔۔۔ ناشتہ۔۔۔۔ کھانے کا ہوش نہیں رہتا۔۔۔۔۔ دو دو دن ایک کپڑے میں گزار دیتی ہے۔۔۔۔۔۔ جو سنڈے کی بجائے جب موقع ملے تب مشین لگاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں تم کرتی کیا ہوں؟ کتنا تکلیف دیتے ہوگے نا یہ لفظ‘‘
ندا حیرانگی سے موسی کو دیکھ رہی تھی وہ ایسی سوچ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔ یہ کونسا موسی ہے
’’کیا سب بھابھی سے سیکھا؟‘‘ آج ندا نے پہلی بار سروج کو اس رشتے کے حوالے سے عزت دی تھی
’’نہیں وقت نے سیکھادیا۔۔۔۔۔۔ اب اتنے بھی برے دن نہیں آئے کہ اپنی بیوی کے نیچے لگ جاؤ‘‘ موسی ہنس کربولا اور ابراہیم کو گھورا جو سکون سے کھا نہیں رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’زرار یہ کونسی جگہ ہے یہ آپکا گھر تو نہیں‘‘ ھدی انجان جگہ دیکھ کر بولی
زرار نے اسے دیکھا اس کے چہرے پر ڈر نہیں تھا بس حیرانگی تھی
’’اندر آؤ بتاتا ہوں‘‘ زرار اسے ایک روم کی طرف لے گیا
جب دروازہ کھولا تو ھدی کی آنکھیں حیرت کے مارے پھیل گئی
’’پھپھو‘‘ ھدی بڑبڑائی
اسنے اشنا بیگم کو دیکھا جو آکسیجن ماسک لگائے بیڈ پر لیٹی تھی۔۔۔۔ ان کے پاس ہی ایک نرس تھی
’’زرار یہ۔۔۔۔‘‘ ھدی نے بولا نہیں گیا
’’یہ ہمیں ایسی ہی حالت میں ملی تھی‘‘
’’کیا ہوا تھا؟‘‘ ھدی کی آنکھیں بھر گئی
’’انہیں ڈرگس دی جارہی تھی۔۔۔۔ جسم بہت کمزور ہوگیا تھا انکا‘‘
’’یہ ٹھیک کب ہوگی؟‘‘ ھدی نے بیتابی سے پوچھا
’’ابھی معلوم نہیں۔۔۔۔۔ فلحال انکا علاج چل رہا ہے‘‘
’’انکے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟‘‘
’’کیونکہ انہوں نے تمہیں بچانے کی کوشش کی انہیں یہ سزا ملی‘‘ زرار کی بات پر ھدی کے آنسو چھلک گئے
’’زرار ہم پھپھو کو ہوسپٹل کیوں نہیں لیجاتے؟‘‘
’’کیونکہ ابھی تک گنہگاروں کو سزا نہیں ملی۔۔۔۔۔ ایسے میں ہمیں ابھی چوکنا رہنا ہوگا کچھ بھی ہوسکتا ہے‘‘ جس پر ھدی سر ہاں میں ہلادیا.
جاری ہے
