Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13
’’عمیر یاسین‘‘ یہ نام کسی ہتوڑے کی طرح ندا کے سر پر لگ رہا تھا، وہ نام جسے اسنے کب کا اپنی زندگی سے نکال پھینکا تھا آخر وہ نام کیسے اس کے سامنے آگیا تھا۔
’’تو کیا سچ میں عمیر نے؟؟؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا وہ ایسے نہیں ہے‘‘ آنسو قطار در قطار آنکھوں سے بہہ رہے تھے، اسکے لیے مشکل ہوتا جارہا تھا خود پر قابو پانا
’’مگر موسی بھائی بھی تو غلط نہیں ہوسکتے‘‘ ایک اور سوچ اسکے دماغ میں آئی، اسکو اپنی سانسیں اکھڑتی محسوس ہوئی
’’لیکن اگر یہ سچ ہوا تو؟‘‘ اب آنکھو میں آنسوؤں کی جگہ غصے اور نفرت نے لے لی تھی۔
’’تو کیا ندا علی زماد یہ تھی تمہاری محبت، تم نے ایک ایسے شخص کو پانے کی چاہ کی جو تمہاری ہی بہن کا گنہگار نکلا، اور نا صرف میری بہن، نجانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ کھیلا ہوگا اس شخص نے‘‘ غصے میں کھولتے اسنے الماری کا ایک پٹ کھولے، ڈرا میں سے ایک تصویر نکالی اور واشروم لیجاکر، اسے کئی ٹکڑوں میں پھاڑ کر فلش کردیا، اسے اپنے اندر دھیڑوں سکون اترتا محسوس ہوا۔
’’آپ واپس آجائے ازی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی ہے‘‘ لائٹ آف کرتے بیڈ پر لیٹتے اسنے سوچا، آنکھوں کے کونے بھیگ چکے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’عمارہ یہاں آؤ بیٹا‘‘ وہ جو سب سے نظریں بچا کر اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی، اس پر اسکی ماما کی جاسوسی نظریں پڑہی گئی، اور انہوں نے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور لہجے میں وارننگ لیے اسے ڈائینگ میں بلا لیا، جس پر وہ کڑھ کر رہ گئی۔
مسئلہ سامنے بیٹھے مہمان نہیں بلکہ وہاں بیٹھا وہ سانڈ تھا جس نے عمارہ کی زندگی جہنم بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
’’السلام علیکم !!‘‘ چہرے پر زبردستی کی مسکان سجائے وہ اندر داخل ہوتے بلند آواز میں بولی
’’ارے وعلیکم السلام !!! ماشاااللہ میری بیٹی آئی ہے‘‘ مسز شمشیر تو اسے دیکھ کر نہال ہوگئی، جبکہ عمارہ ویسے ہی زبردستی کی مسکان سجائے ان کے پاس آبیٹھی اور انہوں نے اسکا ماتھا چوم لیا
’’بھئی کیسی ہے ہماری بیٹی؟‘‘ مسٹر شمشیر نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
’’ٹھیک انکل‘‘ نظریں جھکائے اسنے اتنی مدھم آواز میں جواب دیا کہ مراد سے تو اپنا قہقہ سنبھالنا مشکل ہوگیا
اسنے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے اپنی ہنسی کو قابو کرنے کی کوشش کی، مگر عمارہ بھی اپنی ماں کی اولاد تھی، اور ویسے بھی نظریں اسی پر تھی تو خوب گھوری سے نوازہ، جبکہ مراد نے تو آنکھوں ہی آنکھوں میں گھوری سے نوازہ، اب کے وہ اٹھ کر اپنی ماں کے پاس مراد کے بلکل سامنے جابیٹھی۔
’’یہ یہاں کیوں آیا ہے؟‘‘ جب کچھ سمجھ نا آیا تو آہستہ آواز میں اپنی ماں سے پوچھ ہی لیا
’’ہم سے ملنے‘‘ مسز سلطان نے آرام دہ لہجے میں جواب دیا تھا
’’کیوں؟ ڈیڈ دوسری شادی کر رہے ہیں یا آپ نے پلاسٹک سرجری کروائی ہے جو دوبارہ ملنے آگئے ہیں‘‘ وہ جل کر بولی
’’کیا بکواس کر رہی ہوں عمارہ‘‘ وہ آہستہ لہجے میں ڈپتے ہوئے اسے بولی
’’بکواس نہیں حقیقت، ابھی لاسٹ ویک اینڈ پر تو مل کر گئے تھے تو اب ایسا کیا نیا گھر میں ہوا ہے جو دوبارہ منہ اٹھائے چلے آئے یہ لوگ‘‘ عمارہ نے تو گویا قسم کھائی تھی اپنی ماں کا بلڈ پریشر ہائی کروانے کی
’’آؤچ‘‘ وہ اونچی آواز میں چلائی، مسز سلطان نے اسکی چلتی زبان کو روکنے کے لیے اسے چٹکی بھری تھی
’’کیا ہوا؟‘‘ سلطان صاحب پریشان ہوگئے
’’کک۔۔۔۔کچھ نہیں‘‘ مسز سلطان جانتی تھی کہ وہ لاڈلی بیٹی کے معاملے میں کسی کو معافی نہیں دیتے خواہ وہ خود اسکی ماں ہی کیوں نا ہوں
’’ایسے کیسے کچھ نہیں؟۔۔۔ آپ کو پتا ہے بابا کہ ماما نے مجھے کتنی زور کی چٹکی کاٹی، افففف‘‘ وہ اپنا بازو سہلاتے ہوئے بولی۔
اسکی اس بات پر مسٹر اور مسز سلطان تو شرمندہ سے ہوگئے جبکہ مراد کا قہقہ پورے ڈائنگ روم میں گونجا۔
’’کیا ہے؟ کوئی جوق سنایا ہے۔۔۔ اتنے دانت کیوں نکل رہے ہیں‘‘ وہ تو مراد کو پھاڑ کھانے کو دوڑی۔
’’وہ بھائی صاحب دراصل آج ہمیں آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے‘‘ مسز شمشیر گلا کھنکھارتے بولی
’’جی۔۔۔جی بھابھی بولے‘‘ مسٹر سلطان نے گویا اجازت دی۔
’’وہ دراصل اکیلےمیں۔۔۔۔۔‘‘ وہ کچھ ہچکچا کر بولی
’’ہاں ہاں ضرور کیوں نہیں۔۔۔۔۔جاؤ عمارہ مراد کو ٹیرس پر لیکر جاؤ‘‘ انہوں نے ساتھ بیٹھی عمارہ کو ٹہوکا مارا جو مزے سے نمکو کھانے میں مگن تھی
’’کیونکہ اسکے پیر ٹوٹے جو میں اٹھا کر لےجاؤ یا پھر نکا کاکا ہے جو راستہ بھول جائے گا‘‘ اسنے چڑ کر جواب دیا
’’عمارہ بیٹا جاؤ‘‘ اب کی بار سلطان صاحب زرا سخت لہجے میں بولا۔
’’افف کیا ہے؟ چلو۔۔۔۔‘‘ صوفہ سے اٹھتے، وہ کپڑے جھاڑے اسے تیز گھوری دیتے بولی۔
’’ہاں تو بولے بھابھی‘‘ بچوں کے جانے کے بعد انہوں نے اجازت دی
’’وہ بھائی صاحب دراصل۔۔۔۔۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ارے رکو کہاں جارہی ہوں؟‘‘ اسے سیڑھیوں کی طرف بڑھتے دیکھ کر مراد نے پیچھے سے روک لیا
’’خودکشی کرنے۔۔۔۔ تم بھی ساتھ نبھاؤ میرا‘‘ وہ تیز لہجے میں بولی
’’ساتھ تو میں نبھاؤ گا۔۔۔۔مگر مرنے کے لیے نہیں جینے کے لیے‘‘ وہ شوخ مسکراہٹ کے ساتھ بولا
’’مطلب؟‘‘ عمارہ حیران ہوئی
’’مطلب یہ کہ تمہیں کیا لگتا ہے، ہمارے مام ڈیڈ نے ہمیں یوں اچانک باہر کیوں بھیج دیا؟‘‘ وہ اسے رازدانہ انداز میں بات کرتے بولا
’’کس لیے؟‘‘ اسنے تھوڑا اسکی طرف جھکتے پوچھا
’’ارے خود سوچوں نا بڑے اندر اور ہم بچوں کو یوں اکیلے بات کرنے بھیج دیا۔۔۔۔مطلب کے پہلے تو ایسا کچھ نہیں ہوا کبھی‘‘
’’او آئی گاٹ اٹ۔۔۔۔آئی گاٹ اٹ ( مجھے سمجھ لگ گئی)‘‘ وہ خوشی سے اچھلتی بولی جس پر مراد کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی
’’تمہارے ڈیڈ اور میرے ڈیڈ اندر کچھ فائنلاز کررہے ہیں‘‘ وہ سمجھداری کا ثبوت دیتے بولی
’’اتنی بےوقوف بھی نہیں ہے یہ‘‘ مراد خود سے بڑبڑایا مگر اسکی اگلی بات پر مسکراہٹ ختم ہوکر رہ گئی
’’ضرور ہمارے ڈیڈس مل کر دوبارہ سے کوئی دو نمبر بزنس کرنے کا سوچ رہے ہوگے۔۔۔ہیں نا‘‘ وہ چٹکی بجاتے بولی، جبکہ مراد تو غش کھا کر رہ گیا۔
’’عمارا!!!‘‘ وہ جھنجھلا کر بولا
’’کیا؟‘‘ اسنے حیرانگی سے سوال کیا
’’کبھی تو اپنی عقل استعمال کرلیا کروں‘‘ وہ جی بھر کر بدمزہ ہوا
’’او ہیلو کیا مطلب عقل استعمال کرنے سے، میں پہلے سے ہی بہت عقلمند ہوں‘‘ وہ اترا کر بولی
’’اچھا بہت عقلمند ہوں تم؟‘‘ مراد نے سوال کیا
’’ہاں بہت زیادہ‘‘ وہ گردن اکڑا کر بولی
’’ویسے پاکستان کا قومی ترانہ تو یاد ہوگیا ہوگا نا تمہیں؟‘‘ اسکو زچ کرتے اسنے پوچھا جبکہ عمارہ کا تو رنگ فق ہوگیا
’’ہاَاااااااااااااااااااااااااا آتا ہے نا قومی ترانہ کس جاہل کو نہیں آتا ہوگا؟‘‘ اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے وہ بولی
’’اچھا تو پھر سناؤ‘‘ اب وہ پرسکون سا بازو سینے پر باندھے سیڑھیوں سے ٹیک لگائے اسکے سامنے کھڑا تھا
’’کیوں تم کیا سکول کے ہیڈ ماسٹر ہوجو تمہیں سناؤ؟‘‘ آنکھیں سکیڑتے اسنے اس سے پوچھا
’’مان لو عمارہ بی بی کے تم نالائق کو ابھی تک قومی ترانہ نہیں آتا بھلا جس لڑکی کو ۹ کا ٹیبل دسویں کلاس میں یاد ہو اسے کہاں قومی ترانہ آتا ہوگا‘‘ سر نفی میں ہلائے، طنزیہ مسکراہٹ لیے اسنے اسے زچ کیا
’’ٹھیک سناتی ہوں تمہیں قومی ترانہ‘‘ قومی ترانہ پر زور دیتے وہ بولی
’’ہاں ہاں میں ہمہ تن گوش ہوں ‘‘ اپنی انگلی سے کان صاف کیے وہ بولا
’’پاک سر زمین کا نظام
ترجمان ماضی شان حال
پرچم ستار و حلال
قوت اخوت عوام
سائے خدائے ذوالجلال‘‘
وہ تو اپنی طرف سے قومی ترانہ سنائے اس پر احسان جتانے والے انداز میں کھڑی ہوگئی جب کے مراد کو تو ابھی تک یقین نا آیا اس قومی ترانے پر
’’یہ۔۔یہ کیا تھا عمارہ؟‘‘ خود پر قابو پاتے اس نے پوچھا
’’آف کورس قومی ترانہ تھا ایڈیٹ‘‘ اپنے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکا دیتے وہ بولی
’’قومی ترانہ کس نے لکھا ہے عمارہ؟‘‘ اسکا دل تیزی سے دھڑک تھا فکر تھی تو بس اسکے جواب کی
’’ارے ہمارے قومی شاعر، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے‘‘ عمارہ نے تو جواب دے دیا لیکن اگر مراد کو سیڑھیوں کا سہارا نا ہوتا تو اس وقت وہ ضرور زمین بوس ہوگیا ہوتا
’’عمارہ تممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے آگے وہ کچھ بول نا سکا
’’ہاں کیا میں، بات سنوں یہ اپنی صحافت کا ڈنڈا نا مجھ پر مت چلایا کروں۔ عمارہ سلطان ہوں میں‘‘ مراد کا تو دل شدت سے چاہا کے وہ اس رشتے سے انکار کردے مگر جب خود اپنا دل ہی باغی نکلے تو دوسروں کا کیا قصور۔
’’افففف کیا میں واقعی میں اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں‘‘ اسنے خود سے سوال کیا
وہ غور سے اسے دیکھنے لگا، وہ آج ایک فیصلہ کیے اپنے ماں باپ کے ساتھ اسکے گھر آیا تھا، وہ بس اب عمارہ کو اپنے نام کی انگوٹھی پہنا دینا چاہتا تھا مگر اسکا دماغ واقعی میں اتنا چھوٹا تھا کہ اس بات کو سمجھ نا پائی
’’اللہ بھلا کرے میرا‘‘ وہ خود کے لیے دعا کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا بات ہے بھابھی میں نوٹ کررہی ہوں کہ میں جب سے گروسری سے واپس آئی ہوں آپ کچھ زیادہ ہی مسکراہ رہی ہے‘‘ ھدی اسے حیران نظروں سے دیکھتے بولی
’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں‘‘ سروج مسکراہٹ دبائے بولی
’’نہیں کچھ تو ہے نا بتائے مجھے‘‘ اسنے ضد کی
’’ارے میں کہہ رہی ہوں نا کے کچھ نہیں‘‘ اسنے ٹالا
’’ٹھیک ہے نا بتائے‘‘ ھدی منہ پھلائے بیٹھ گئی
’’چلو آؤ ابراہیم بےمروت لوگوں کے ساتھ رہنا ہی نہیں ہے‘‘ ابراہیم کو اٹھائے وہ اپنے کمرے کی طرف چل دی جب کے سروج دل کھول کر ہنسی، وہ جانتی تھی کہ ھدی صبح تک بلکل ٹھیک ہوجائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’گڈ مارننگ مام، گڈ مارننگ ڈیڈ‘‘ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے اسنے سلام کیا
’’یہ کہاں کی تیاریاں ہے؟‘‘ مسز علی نے حیرت سے اسکی تیاری دیکھ کر پوچھا
’’وہ میں یونی جارہا ہوں‘‘ وہ کنکھیوں سے علی زماد کو دیکھتے بولا جن کا چہرا سپاٹ تھا
’’میں یونی جا رہا ہوں یونی، وہ بھی پڑھنے کےلیے ناکہ ٹائم ویسٹ کے لیے‘‘ وہ اونچی آواز میں انہیں سناتے بولا
’’اففف کتنا ایٹیٹیوڈ ہے آپ کے شوہر میں‘‘ علی زماد کو بنا کچھ کہے ناشتے کی ٹیبل سے اٹھتا دیکھ کر وہ مسز علی کے کان میں گھستے بولا
’’اللہ ماما‘‘ انکے ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ پر وہ کراہ کر رہ گیا۔
’’اچھا میں جارہا ہوں اللہ حافظ‘‘ انکے گال پر بوسہ دیتے وہ وہاں سے نودوگیارہ ہوگیا۔
’’اللہ حافظ میری جان‘‘ اسکے پیچھے سے وہ بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اچھا بھابھی میں جارہی ہوں‘‘ دراوزے پر کھڑی وہ عجلت میں بولی
’’ارے ایک منٹ رکو‘‘سروج پیچھے سے روکتے بولی
’’جلدی کرے بھابھی‘‘ اسے واقعی میں تیزی تھی
’’ہاں ہاں بس ایک منٹ‘‘ اسکے سر پر سے صدقے کے پیسے گزارتے وہ بولی
’’ارے یہ کیا؟‘‘ ھدی حیران ہوئی
’’کیا کیا؟ بھئی صدقہ اتارہی ہوں اپنی پیاری بہن کا آج جمعرات ہے نا‘‘ وہ محبت سے بولی اور ھدی کی آنکھیں بھیگ گئی
’’ارے کیا ہوا؟‘‘ سروج حیران ہوئی
’’کچھ نہیں بس امی کی یاد آگئی، وہ بھی ایسے ہی کرتی تھی نا‘‘ وہ غمگین لہجے میں بولے
’’ارے میرا بچہ رو کیوں رہی ہوں، میں ہونا اپنے ڈورےمون کے لیے‘‘ اسکے دونوں گال محبت سے کھینچتے وہ بولی جس پر ھدی کھلکھلا دی
’’اچھا جلدی کروں دیر ہورہی ہے نا‘‘ اس نے یاد دلایا
’’او ہاں بھول گئی، چلے ٹھیک ہے اللہ حافظ‘‘ وہ سر پر ہاھ مارتے تیزی سے بھاگی
’’پاگل‘‘ سروج تو اسکی تیزیوں پر ہنس دی
سروج آجکل آفس ورک کی وجہ سے یونی نہیں جارہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کتنا سکون ہے نا یونی میں خاص طور پر جب سے وہ بیسٹ غائب ہے‘‘ یونی کی فضا میں ایک آزاد سانس لیتے وہ بولی جب نظرے سامنے سے آتے زرار پر پڑی جو اسی کی طرف آرہا تھا
’’اللہ اللہ ھدی تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا ، اففف بیسٹ کو اتنا یاد کرلیا ہے کہ اب تو وہ نظر بھی آنے لگا ہے‘‘ دونوں آنکھوں کو ہاتھوں سے مسلتے وہ بڑبڑائی
’’یہ کیا یہ تو میری طرف ہی آرہا ہے‘‘ وہ راستے میں کھڑی اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر حیران رہ گئی
زرار اب ھدی کے بلکل سامنے آکھڑا تھا اور ھدی تو یک ٹک اسے دیکھے گئی
’’کیا بہت ہینڈسم ہوگیا ہوں؟‘‘ شوخ سی مسکراہٹ لیے اسنے پوچھا، ھدی پر تو سکتہ طاری ہوگیا،
’’یہ بول کیسے سکتا ہے یہ تو میرا خیال ہے‘‘ حیران ہوتے اسنے ہاتھ بڑھائے اسکے چہرے کو ہلکے سے چھوا جبکہ ھدی کا وہ ہاتھ اب زرار کی گرفت میں تھا
’’بہت مس کیا میں نے تمہیں‘‘ وہ اسکے ہاتھ پر اپنا انگوٹھا آرام سے پھیرتےاسے بتا رہا تھا
ھدی کا تو پورا بدن کانپنے لگا، یہ۔۔۔۔یہ نہیں ہوسکتا بھلا وہ یہاں کیسے ہوسکتا ہے، وہ تو چلا گیا تھا نا، مگر اسے یقین ہوچکا تھا کہ یہ ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے
’’کیا تم نے مجھے مس کیا؟‘‘ اسکی آنکھوں میں دیکھے وہ پوچھنے لگا، جس کی آنکھوں میں اب خوف پھیلنا شروع ہوگیا تھا، مگر زرار کو تو اس وقت صرف اس سے بات کرنا تھی
’’مم۔۔۔مجھے جانا ہے‘‘ وہ آس پاس کے سٹودنٹس کی طرف نظریں دوڑاتے بولی جن میں سے کچھ حیرت اور کچھ تجسس اور کچھ آنکھوں میں تمسخر لیے انہیں دیکھ کر گزر رہے تھے
ھدی جانتی تھی ان نظروں کا مطلب، اب بات اسکے کردار پر آئے گی، یہ سوچ ہی اسکی آنکھوں میں آنسو لے آئی
’’پلیز۔۔۔۔‘‘ اسنے التجا کی
زرار نے کچھ کہنے کو لب وا کیے ہی تھے جب اچانک اسکی گرفت ھدی کے ہاتھ پر ڈھیلی پڑگئی
’’جاؤ یہاں سے‘‘ وہ سخت لہجے میں بولا
’’ہاں؟‘‘ ھدی کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نا ہوا
’’میں نے کہا جاؤ یہاں سے‘‘ اب کی بار وہ نظروں میں سختی لیے بولا جس پر ھدی وہاں تیزی سے بھاگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اوئے کہاں ہے تو؟‘‘ موسی نے یونی آتے سب سے پہلے حسب معمول فرائز سے انصاف کرتے مائز کو کال کی
’’کیوں تمہیں کیوں بتاؤ۔۔۔۔تم تو ایسے پوچھ رہے ہوں جیسے یونی میں آئے ہوئے ہوں‘‘ مائز ہاتھ جھلا کر بولا
’’بلکل سہی پہچانا‘‘ موسی نے جواب دیا
مائز کے تو گلے میں پھندا لگ گیا
’’کک۔۔۔۔کیا مطلب؟‘‘ اسکے لیے فرائز کھانا دشوار ہوگیا
’’ہاں اب جلدی آجا، سوچا دیپارٹمنٹ میں جانے سے پہلے اپنے یار کا دیدار کرلو‘‘ وہ اب بات کرتے کرتے آرٹس اینڈ کرافٹ کی بلڈنگ کے سامنے آن کھڑا ہوا
منہ موڑا تو آنکھیں پھیلنے کو آگئی اسے جیسے اپنی آنکھوں پر یقین نا آیا
’’ازی؟؟؟‘‘ اسکے منہ سے صرف اتنا ہی نکل پایا
سامنے وہی تھا، اسنے تھوڑا آگے جاکر دیکھا یوں کے اب بلکل اسکے سامنے آکھڑا ہوا، ہاں یہ وہی تھا، اسے تو اپنی قسمت پر یقین نا ہوا
وہ اسی کو دیکھے جارہا تھا جو ایک لڑکی سے نجانے کیا باتیں کرنے میں مگن تھا، مگر جیسے ہی اسکی نظریں موسی پر پڑی تو آنکھیں سخت ہوگئی، اس لڑکی کو کچھ کہتے اسنے وہاں سے جانے کو کہا، اور اب چلتا بلکل موسی کے سامنے آرکا
’’زرار؟؟‘‘ موسی سرگوشی نما آواز میں بولا
’’موسی علی زماد‘‘ چبا چبا کر اسکے لفظ ادا کیے، جبکہ دوسری طرف سے تیزی سے آتے مائز کے تو قدم ہی زمین پر جم گئے، آخر وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا۔
جاری ہے
