Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11
اس وقت وہ سخت غصے میں تھا، اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اڑ کر پاکستان پہنچ جائے اور ھدی کا دماغ ٹھکانے لگا دے، اسے کچھ بھی کرکے پاکستان پہنچنا تھا مگر آہل کے ٹریٹمنٹ کے باعث انہیں ایک اور ہفتہ یہاں رکنا تھا اور اب تو وہ اپنے موبائل کا بھی کباڑا کرچکا تھا، اسے کچھ بھی کرکے سروج سے کانٹیکٹ کرنا تھا، مگر ناممکن وہ اس وقت سخت دباؤ کا شکار تھا۔
’’آااااا‘‘ کچھ سمجھ نہیں آیا تو اپنے بال کھینچ کر وہ چلا اٹھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج فریحہ کا یونی میں پہلا دن تھا، وہ شہر میں نئی نئی شفٹ ہوئی تھی، اور شفٹنگ کے چکر میں ہی ایڈمیشن لیٹ کروایا، فریحہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی، اس سے بڑے دو بھائی تھے
وہ ابھی اپنی بائیک پر بیٹھے گھر کی طرف نکلی تھی کہ بیچ راہ میں کھڑے اس لڑکے نے اسکی توجہ اپنی جانب کھینچ لی، وہ اسے راستے سے ہٹا چاہتی تھی مگر اسے تو جیسے کچھ سن ہی نہیں رہا تھا
’’اوئے اندھے، پاگل سائڈ پر ہوں‘‘ فریحہ آواز دی مگر اسنے تو اگنور کردیا، ایک تو یونی کا پہلا دن ہی تھکا دینے والا اوپر سے یہ مصیبت۔
’’اففف بہرہ ہے کیا سن کیوں نہیں رہا‘‘ وہ بڑبڑائی، اور اسکا دماغ ٹھکانے پر لگانے کا سوچتی بائیک بلکل اسکے پاس روک دی، جس پر وہ اپنا بیلنس برقرار نا رکھ پایا اور زمین پر گرتے ہی دھاڑے مار مار کر رونا شروع کردیا۔
’’او ہیلو مسٹر پاگل ہوکیا؟‘‘ اسکے سر پر کھڑی وہ اس سے سوال کرنے لگی، جبکہ مائز جو پہلے سے ہی پریشان تھا ایک دم پھٹ پڑا
’’میں پاگل؟۔۔۔۔ نہیں نہیں میں پاگل نہیں تو پاگل تیرا بندہ پاگل، تیری نند پاگل تیرا دیور پاگل بلکہ پورے کا پورا سسرال پاگل‘‘ مائز تو کسی محلے کی آنٹی کی طرح اونچی آواز میں دھائیاں دینے لگ گیا بس سینہ پیٹنےکی کسر رہ گئی تھی جبکہ فریحہ تو ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی جو اب دوبارہ سے اونچی آواز میں رونا شروع ہوگیا، اسنے پہلےپہل تو اگنور کرنا چاہا مگر مائز کی دھائیاں سن کر فریحہ کی تو آنکھیں باہر آنے کوتھی
’’ہائے اللہ میں گیا، دیکھو دنیا والو۔۔۔۔تشدد،تشدد۔۔۔۔ہائے امی،ماما،ماں۔۔۔۔ہائے اللہ ابو، بچاؤ۔۔ہائے میرا پیر ٹوٹ گیا، ہائے امی جی کوئی تو بچاؤ۔۔۔۔۔بچالو مجھے میں نہیں بچنا میں مر جانا۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی ہے؟ کوئی تو بچالو۔۔‘‘
’’شش شش بےبی بس چپ کچھ نہیں ہوا‘‘ اسے یوں بیچ سڑک پر روتے دیکھ کر فریحہ اسے بچوں کی طرح چپ کروانے کے جتن کرنے لگی
’’مجھے ماما پاش جانا۔۔۔۔مجھے ماما پاس لے چلو۔۔۔۔ماما،،،ماما کو بلاؤ‘‘ مائز کے تو آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
’’اچھا اچھا چلو ماما پاش۔۔۔میرا مطلب پاس چلتے ہیں‘‘ اسے پچکارتے وہ بولی
’’پرامس‘‘ سوں سوں کرتے اسنے چھوٹی انگلی اسکی طرف بڑھائی
’’کیسا پرامس؟‘‘ فریحہ حیران ہوئی
’’یہی کے مجھے ماما پاس لےکر جاؤ گی اور فرائیز بھی لیکر دوں گی‘‘ وہ زرا پھیلتے ہوئے بولا
’’یہ کیا بکواس ہے؟‘‘ فریحہ کو تو اسکی فرمائش پر غصہ آگیا مطلب کے جان نا پہچان میں تیرا مہمان
’’ماما!!!!‘‘ فریحہ کے یوں بولنے پر وہ ایک دم چلا اٹھا اور اونچااونچا رونے لگا
’’اچھا۔۔اچھا اوکے پرامس مگر تم بھی وعدہ کروں پہلے ڈاکٹر کو دکھاؤ گے
اسکی وائٹ پینٹ پر لگے خون کے دھبے اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ اسکے گھٹنے پر واقعی میں چوٹ لگی تھی
’’چلو آؤ ڈاکٹر پاس چلے‘‘ اسے سہارا دیتے وہ بولی
’’پھر فرائز کی دو پلیٹ لیکر دوں گی، اگر ڈاکٹر پاس جانا ہے‘‘ اسنے ڈیمانڈ بڑھائی جبکہ فریحہ دانت کچکچا کر رہ گئی، ظاہری سی بات تھی یہ جو بھی تھا پاگل تھا ورنہ نارمل بندہ ایسی حرکتیں کیسے کرسکتا ہے
’’ہاں، ہاں اوکے پرامس‘‘ وہ اسکی بات مانتے بولی اور اسے اپنی بائیک پر لاکربٹھا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یہ کیا ہاں؟۔۔اسے ناشتہ کہتے ہیں یہ ناشتہ کہلاتا ہے‘‘ غصے سے ناشتے کی ٹرے کو پرے دھکیلتے وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور ساتھ ہی ایک تھپڑ شمائلہ کے منہ پر بھی دے مارا، پچھلے ایک مہینے میں سروج جلال اور مسٹر صدیق کو انکی اصل اوقات دکھا دی تھی۔ ملک عون کے ساتھ ہر قسم کی ڈیل ختم کردی گئی تھی اور وہ دونوں باپ، بیٹا بھی سروج کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتے تھے، انہیں تو لگا تھا کہ سروج کچھ ہینڈل نہیں کرپائے گی اور سارا بزنس دوبارہ انکے ہاتھوں میں آجائے گا مگر جس طرح سے سروج نے مہینے کے اندر اندر بزنس کو سنبھالا تھا وہ جل کر رہ گیا، دوسری بڑی تبدیلی یہ کہ اب سروج کے آرڈر پر وہ دونوں صبح آٹھ بجے ہی آفس موجود ہوتے تھے اور شام پانچ بجے آف، بات صرف یہی تک نہیں تھی چونکہ سروج خود یونی کی وجہ سے آفس لیٹ آتی تھی تو اسنے اپنے مینیجر کو ان دونوں پر نظر رکھنے کو تھا کو کام وہ بہت ایمانداری سے کر رہا تھا، جلال تو یوں اپنے نوکروں کے سامنے اپنی عزت دوکوڑی کی ہوتا دیکھ کر آگ بگولہ ہوجاتا
’’کیا ہوگیا ہے جلال بی کام ڈاؤن‘‘ ناشتہ کرتے مسٹر صدیق بہت رسانی سے بولے
’’کیا کام ڈاؤن ڈیڈ۔۔۔اس سروج نے آفس میں میری عزت دو کوڑی کی کردی ہے، اب مجھے میرے سے چھوٹے لوگوں کے سوالات کے جواب دینے پڑتے ہیں، کل تک جو سٹاف مجھسے ڈرتا تھا آج انکی نظروں میں میرے لیے تمسخر ہے، روزانہ سو کمتر اور ادنی لوگوں کے درمیان وہ میری عزت کی دھجیاں اڑاتی ہے‘‘ جلال کی اس بات پر شمائلہ نے اپنے ساتھ ناشتہ لگاتی اپنی نوکرانی کو دیکھا جس کے سامنے وہ دن میں سو دفع اسکی ذات کی دھجیاں اڑا دیا کرتا تھا۔
جلال کی سروج کے ہاتھوں اتنے بےعزت ہونے پر شمائلہ کو تو دل میں ٹھنڈک اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔اور ہونٹوں پر آئی میٹھی مسکان کو وہ بڑی خوبصورتی سے چھپاگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کے پاس لیجاتے وقت مائز جتنا ہوسکے اتنا ہی فریحہ کا دماغ کھانے میں کامیاب ہوگیا تھا، فریحہ توزندگی میں پہلی بار خود کو اتنا بےبس محسوس کررہی تھی، کسی کا نا سننے والی فریحہ آج کچھ بولنے کے قابل نہیں بچی تھی، اسے آج پہلی بار خود پر ترس اور اپنی حالت پر رونا آرہا تھا۔
’’تم جانتی ہوں ایک بار کیا ہوا؟‘‘ مائز سسپنس بھرے انداز میں بولا
’’پوچھو نا کیا ہوا؟‘‘ اسکے کندھے پر مکا مارے وہ بولا
’’آؤچ۔۔۔ ہاں بتاؤ کیا ہوا‘‘
’’میں نا سکول جارہا تھا کہ ایک بڑا سارا۔۔۔۔۔۔۔بہت بڑا، اتنا بڑا سارا ڈایئنوسور میرے سامنے آگیا‘‘ ہاتھ کو پھیلاتے اسنے بڑے کی نشاندہی کی
’’ڈائینوسور سیریسلی!!‘‘
’’ہاں نا اسکے منہ سے آگ بھی نکلتی تھی، بوجھو میں نے اسے کیسے مارا‘‘ وہ اشتیاق سے بولتے اسے بوجھنے کا کہنے لگا یہی تو ہورہا تھا پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے اسے کوئی ہوسپٹل نہیں مل رہا تھا اور مائز اسکا دماغ چاٹ چکا تھا، وہ یہاں کے راستوں سے انجان تھی
’’او گاڈ‘‘بےبسی سے وہ صرف اتنا ہی بول پائی جب اسکی نظر راستے میں آتے ایک کلینک پر پڑی اسکی تو خوشی کی کوئی انتہا نا رہی
’’ارے تم نےبوجھا نہیں‘‘ اسکا کندھا زور سے ہلائے مائز بولا، فریحہ کی تو اب بس ہونے کو آگئی تھی کیونکہ ڈیڑھ گھنٹے سے اسکا یہی بازو مائز کے تشدد کا نشانہ بن رہا تھا۔
’’مائز وہ دیکھو کلینک چلو آؤ پہلے تمہیں بینڈیج کروا لے پھر بتاؤ گی آنسر تمہیں میں‘‘ فریحہ کا تو دل مانو بھنگڑے ڈالنے کوتھا۔
’’ہمم ٹھیک ہے‘‘ وہ اداسی بھرے لہجے میں بولا جس پر فریحہ کی جگہ کوئی اور ضرور ترس کھالیتا مگر اسے تو بس اپنی جان چھڑوانی تھی
پچھلے ڈیڑھ گھنٹے میں وہ اسکا نام پتا سب کچھ جان چکی تھی اور یہ بھی کہ وہ اسکے گھر چوری کا سوچے بھی نا کیونکہ اسکے چھ بڑے بھائی ہیں، مگر فریحہ کی طرف سے جہنم میں جائے وہ اور اسکے بھائی، اسے تو بس اس بلا سے جان چھڑوانی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تم یونی جاؤ گے بھی یا نہیں؟‘‘ دوپہر کے کھانے پر علی زماد نے دوبارہ سے وہ بات چھیڑ لی تھی جس پر ان دونوں باپ بیٹا کے درمیان پچھلے ایک مہینے سے سرد جنگ کا آغاز ہوا تھا۔
’’چلا جاؤ گا ڈیڈ۔۔۔۔ وٹس سو ہری(اتنی جلدی بھی کیا ہے)‘‘ وہ بیزار سا بولا
’’موسی علی زماد ایک بات میری کان کھول کر سن لو کل سے تم یونی جارہے ہوں، اور اگر تم نہیں گئے تو پرسوں سے تم مجھے بزنس میں جوائن کروں گے۔۔۔۔سمجھے‘‘ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے وہ صاف ستھری اسے سنا گئے، انہوں نے موسی کا پورا نام لیا مطلب کے وہ سنجیدہ تھے
’’اب تو جانا ہی پڑے گا بھیا‘‘ اسکے ساتھ بیٹھی ندا کان میں سرگوشی نما آواز میں بولتےاٹھ گئی
’’اب تو واقعی میں جانا ہوگا‘‘ ندا کی بات سے اتفاق کرتے وہ خود سے بولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہممم زخم زیادہ گہرا تو نہیں ہے مگر پھر بھی ٹیٹنس کا انجیکشن تو لگانا پڑے گا‘‘ اسے زخم کا معائنہ کرتے ڈاکٹر خود سے بولا
فریحہ اسے ڈاکٹر کے ساتھ روم میں بھیج کر اب خود باہر پرسکون سی کوئی میگزین پڑھ رہی تھی۔
’’چلو نوجوان بازو آگے لاؤ‘‘ ڈاکٹر کے بولنے پر اسنے ڈاکٹر کی طرف دیکھا مگر جب نظر ہاتھ میں پکڑے انجیکشن پر گئی تو مائز کے تو خود کے ہاتھ پیر پھول گئے۔
’’نن۔۔۔۔نہیں‘‘ وہ تو چلا اٹھا
’’کم آن ینگ مین بی آ جینٹل مین سٹوپ ایکٹینگ لائک آ کڈ (کام آن نوجوان بچوں کی طرح ڈرامہ مت کروں)‘‘
’’فریحہ۔۔۔۔۔۔فریحہ‘‘ ڈاکٹر کو اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ اونچی آواز میں چلانا شروع ہوگیا، جس پر باہر بیٹھی فریحہ بوکھلا گئی اور تیزی سے اندر بھاگی
’’کیا ہوا؟‘‘ کیبن کا دروازہ کھولتے ہی اسنے سوال کیا
’’ٹٹ۔۔۔۔۔ٹیکا، فریحہ بچاو مجھے ڈر لگتا ہے‘‘ اسے اپنے اور ڈاکٹر کے درمیان کیے وہ بولا
’’دیکھو مائز تم انجیکشن لگوا لو پکا میں تمہیں ایک مہینہ اپنی پاکٹ منی سے فرائز کھلاؤ گی‘‘ فریحہ اسے پچکارتے بولی
’’پکا؟‘‘ اسنے وعدہ چاہا
’’ہاں پکا‘‘
ڈرتے ڈرتےاب وہ ڈاکڑسےانجیکشن لگوانے بیٹھ گیا مگر فریحہ کا ہاتھ اتنی مضبوطی سے تھاما کے اسے اپنا ہاتھ ٹوٹتا محسوس ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سروج۔۔۔۔۔۔۔ سروج کہا ہوں تم؟ باہر آؤ سروج‘‘ وہ اندر داخل ہوتے ہی اونچی آواز میں چلایا
لاؤنج سے آتے شور پر سروج ابراہیم کو کمرے میں چھوڑ کر باہر آئی جہاں سر تا پیر غصے میں ڈوبا زرار اسے ہی گھور رہا تھا۔
جاری ہے
