Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17
رات کے کھانے کے بعد وہ ہاتھ میں کافی کا کپ تھامے لان میں چہل قدمی کر رہا تھا اسکا دماغ ابھی تک، زرار، سروج اور ھدی میں اٹکا ہوا تھا
اسے بےساختہ آج زرار کی دی جانے والی دھمکی یاد آگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی پارکنگ میں اپنی کار کی طرف بڑھ رہا تھا، جب زرار نے اسے راستے میں روک لیا، موسی تو حیران رہ گیا، اسے امید نہیں تھی زرار خود اس سے بات کرنے آئے گا، اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی، جو زرار کے الفاظ پر کھو کر رہ گئی۔
’’ایک بات میری کان کھول کر سن لو موسی علی زماد اور اپنے دماغ میں بٹھا بھی لو۔۔۔۔۔۔۔ ھدی اور سروج ان دونوں سے دور رہنا، ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ خود کو پہچاننے کے قابل نا رہوں گے، اب کی بار اگر تم یا تمہارے گھر میں سے کسی نے بھی میری زندگی کو مجھ سے جدا کرنے کی کوشش کی تو میں اسکی زندگی ختم کردوں گا‘‘ زرار کا لہجہ اتنا پتھریلہ تھا کہ موسی ساکت ہو کر رہ گیا، اسے اس وقت سروج یا ھدی سے نفرت محسوس نہیں ہوئی، بلکہ ان پر رشک آیا اور زرار پر حیرت۔
’’زرار یہ۔۔۔یہ کیا کہہ رہا ہے تو؟‘‘ موسی کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نا ہوا
’’سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ اینڈ مائنڈ اٹ مسٹرموسی علی زماد۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں فیملی ہے میری، اور اپنی فیملی کے لیے میں کتنا پوزیسو ہوں یہ تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا‘‘ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں وہ پتھریلے لہجے میں بولتا وہاں سے چل دیا، اور موسی تو حیرتوں کے سمندر میں غرق وہی جما رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’سروج۔۔۔۔ھدی۔۔۔۔زرار۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر‘‘ یہ چاروں نام بار بار اسکے ذہن میں گردش کر رہے تھے
’’آخر کیا تعلق ہےان چاروں کا؟‘‘ موسی کی سوچ کے سارے تانے بانے انہیں چاروں کے گرد گھوم رہے تھے
’’ھدی اور عمیر تو بھائی بہن ہے، جبکہ سروج اور ھدی دوستیں۔۔۔۔۔۔۔پھر یہ زرار کا سروج سے کیا تعلق، اور ھدی۔۔عمیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افففف آخر کیا تعلق ہے اسکا ان تینوں سے، اور وہ لڑکی سروج۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ سروج کے نام پر وہ اٹک گیا تھا
’’سروج۔۔۔۔یس یہ میں نے پہلے کیوں نہیں سوچا۔۔۔۔۔ اگر یہ سروج ھدی کی دوست ہے تو اس توسط سے عمیر کو بھی تو جانتی ہوگی نا‘‘
’’تو اب ھدی اور عمیر تک پہنچنے کے لیے مجھے اس سروج نامی خوبصورت بلا کو آئینے میں اتارنا ہی ہوگا‘‘ سروج کو سوچتے ہی ایک خوبصورت مسکان اسکے چہرے پر رینگ گئی۔
’’ہممم۔۔۔۔۔سروج حیدر مزہ آئے گا تمہارے ساتھ‘‘ کہتے ہی وہ ہنس دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اسکا مشغلہ تھا کہ وہ رات کا کھانا کھانے کے بعد ضرور واک پر نکلتی تھی، اور ساتھ میں اس کے دونوں بھائی بھی ہوتے تھے، انکے گھر کے سامنے ہی ایک پارک تھا، جہاں آس پاس کے سب لوگ صبح اور رات واک پر نکلتے تھے، وہ ابھی پارک میں انٹر ہی ہوئی تھی کہ ہوا میں اڑتی بال سیدھی اسکے سر پر آن لگی، فریحہ تو وہی اپنا سر پکڑ کر رپ گئی، جبکہ اس کے ساتھ کھڑے عبداللہ کی تو ہنسی نکل گئی، فریحہ اسے اور حسیب کو زبردستی اپنے ساتھ پارک میں لیکر آئی تھی، حسیب تو اپنی بہن کی بات مان گیا جبکہ عبداللہ کا منہ بن گیا مگر حسیب کی گھوری پر فورا تیار ہوگیا۔
’’ہاہاہا۔۔۔۔‘‘ عبداللہ کا تو قہقہ ہی نا رکے جبکہ حسیب تو واقعی پریشان ہوگیا تھا
اتنے میں فساد کی جڑ مطلب کے مائز بھاگتے ہوئے اسکے پاس آیا
’’اوئے میری بال۔۔۔۔شکر ہے مل گئی۔۔۔۔ میں تو ڈر ہی گیا تھا‘‘ فریحہ کے بلکل قریب بیٹھتے اسنے مزے سے بال اٹھائی اور وہاں سے چلتا بنا جب حسیب کی غصیلی آواز نے اسے روکا
’’کیا تم پاگل ہوں؟‘‘ حسیب غصے سے بولا
’’نہیں میں مائز ہوں‘‘ مائز نے جواب دیتے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے
مائر کے نام پر جہاں فریحہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا وہی عبداللہ بھی مائز کو داد دیے بنا نا رہ سکا
حسیب تو حیرانگی سے اس تیئس سال کے بچے کو دیکھ کر حیران رہ گیا، جب مائز کی نظر فریحہ پر پڑی جس نے فورا سے نظریں نیچی کرلی، جب مائز بھی اسکے برابر بیٹھا، گھاس پر ہاتھ پھیرنے لگا، ان تینوں بہن بھائیوں نے حیرت سے اسکی اس حرکت کو دیکھا
’’مائز کیا؟ کیا کر رہے ہوں تم؟‘‘ فریحہ حیران ہوئی
’’تمہارے پیسے دھونڈ رہا ہوں جو کھو گئے ہیں؟‘‘ وہ فریحہ کے زمین پر بیٹھنے کی وجہ یہ سمجھتے ہوئے بولا
’’اور آپ دونوں کو شرم نہیں آتی آپ نے اس بیچاری کی مدد نہیں کی‘‘ اب کی بار وہ اسکے دونوں بھائیوں کو لتاڑتے بولا، جس پر وہ دونوں حیران رہ گئے، جبکہ فریحہ نے مسکراہٹ دبا لی
’’مائز۔۔۔۔۔۔۔۔مائز یہاں کیا کر رہے ہوں؟‘‘ اتنے میں نیلم اور ہالا اسکی طرف آئی، ہالا تو عبداللہ کو وہی دیکھ کر راستے میں رک گئی جبکہ عبداللہ کی تو اسکو دیکھ کر بتیسی باہر نکل آئی
’’نیلی وہ نا میری فرینڈ کے پیسے غم گئے تھے وہی ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔۔اور دیکھو یہ بڑے بڑے دونوں بھائیوں کو اسکی مدد نہیں کر رہے‘‘ اسنے منہ بسورتے نیلم کو شکایت کی، جس پر حسیب کو تو غصہ آ گیا
’’او یو ایڈیٹ کب سے تمہاری بکواس برداشت کر رہا ہوں، ایک تو اپنی بال سے میری بہن کا سر پھاڑ دیا، اور اب دوسرا یہ بچوں جیسا بی ہیو کر رہے ہوں۔۔۔۔۔سٹوپڈ۔۔۔۔۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری‘‘ حسیب تو بول چکا مگر اب ہالا اور فریحہ دونوں کی نظریں نیلم پر تھی جو کہ تپ چکی تھی
’’ہاں ہاں بھیا بلکل سہی کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔۔۔ مجھے تو آپکا بھائی پاگل لگتا ہے جائے اسکا کسی مینٹل ہاسپٹل سے علاج کروائے‘‘ اب کی بار تو فریحہ اور ہالا دونوں نے آنکھیں میچ لی، نیلم کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوگیا تھا
اسنے بنا کچھ ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل کا ڈھکن کھولا اور دونوں بھایئوں کو اس سے نہلا دیا، فریحہ اب اٹھ چکی تھی حیرت کے مارے اپنے دونوں بھایئوں کو دیکھنے لگی، جن کے منہ کھل گئے تھے
’’زیادہ غصہ انسان کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے تو احتیاط لازم ہے‘‘ حسیب کے سامنے کھڑی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ بولی
’’یو فول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘اس سے پہلے کے حسیب کچھ بولتا نیلم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کروا دیا
’’نو لسن ٹو می یو مسٹر فول۔۔۔۔۔۔۔ آئیندہ سے اگر میرے بھائی کو پاگل کہنے کی کوشش کی یا اس حوالے سے کوئی بھی بات کی تو وہ حشر کروں گی کہ دیکھتے رہ جاؤں گے، اور یاد رکھوں گےکہ نیلم حسن کون تھی‘‘ ٹشو سے اسکے ماتھے پر چمکتی پانی کی ننھی بوندوں کو صاف کرتے وہ وارننگ زدہ لہجے میں بولی
’’اور یہ بات تم پر بھی لاگو ہوتی ہے‘‘ اب اسکا اشارہ عبداللہ کی طرف تھا جس نے فرمانبرداری سے ہاں میں سر ہلا دیا
حسیب تو اس لڑکی کو دیکھ کر رہ گیا
’’ارے بچوں کب سے ویٹ کر رہی ہوں تم لوگ یہاں ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ارے فریحہ بیٹا تم کیسی ہوں؟‘‘ ان تینوں سے بات کرتے یکدم ان کی نظر فریحہ پر پڑی
’’السلام علیکم آپی‘‘ فریحہ نے جھٹ سلام کیا
’’وعلیکم السلام میرا بچا کیسی ہوں؟‘‘ انہوں نے اسی شیریں لہجے میں جواب دیا
’’ماپی آپ جانتی ہے مائز نے بال اتنی زوروں سے ہٹ کیا کے وہ فلائے کرتا سیدھا فریحہ کے سر پر لگا‘‘ اس سے پہلے فریحہ کوئی جواب دیتی مائز فر سے بولتا ان سے لپٹ گیا
’’ہاں کیا سچ میں؟ تو آپ نے سوری کیا؟‘‘ پیار سے اسکے بالوں کو سنوارتے انہوں نے پوچھا
’’کہاں یہ سب آپس میں لڑنے لگ گئے‘‘ اسکا اشارہ ان چاروں کی طرف تھا
’’نیلم ۔۔۔۔ ہالا‘‘ انکا لہجہ یکدم سخت ہوگیا
’’بجو قسم لے لے میں نے کچھ نہیں کیا‘‘ ہالا نے فورا صفائی دی
’’ہاں پنکی نے کچھ نہیں کیا‘‘ مائز نے بھی اسکا ساتھ دیا
’’پنکی‘‘ عبداللہ کی تو اس کے نام پر ہنسی نکل گئی، جس پر ہالا نے اسے زبردست گھوری سے نوازہ
’’نیلم؟‘‘ اب انکا رخ اسکی طرف تھا
’’زکریہ باجی آپ نہیں جانتی انہوں نے مائز کو پاگل کہاں اور بولے اسے ڈاکٹر کی ضرورت ہے‘‘وہ جھنجھلاتے ہوئے بولی
’’ہاں تو پاگل کو پاگل ہی بولے گے نا‘‘ عبداللہ بڑبڑایا مگر ہائے رے اسکی بری قسمت جو اسکی بات نیلم کے کانوں تک پہنچ گئی
’’تم!!! ٹھہرو زرا بتاتی ہوں میں تمہیں‘‘ وہ اپنی آستینیں چڑھاتی عبداللہ پر چڑھ دوڑی، جو فورا حیسب کے پیچھے چھپ گیا، اس سے پہلے کہ وہ کچھ کر پاتی اسکا اٹھا ہاتھ حسیب کی فولادی گرفت میں تھا، جس کا چہرہ بلکل سنجیدہ تھا
’’میں تمہارا لحاظ صرف اس لیے کر رہا ہوں کہا اول تو یہ کہ تم ایک لڑکی ہوں اور دوسرا میری ٹیچر کی بہن ہوں تم‘‘ سپاٹ لہجے میں بولتے اسنے نیلم کا ہاتھ چھوڑا اور اب زکریہ بجو کے سامنے جا کھڑا ہوا
’’کیسی ہے آپ‘‘ بہت محبت سے انکا ہاتھ اپنی آنکھوں پر لگاتے اسنے پوچھا، جبکہ باقی کی عوام حیرت سے یہ تماشہ دیکھ رہی تھی
’’میں ٹھیک بچے تم کیسے ہوں‘‘ وہی میٹھی مسکان
’’میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔ اور معافی چاہتا ہوں کہ مائز کے ساتھ اپنے رویے پر۔۔۔ آپکا بھائی ہے معلوم نہیں تھا‘‘ وہ نادم لہجے میں بولا تھا
’’آپ کا بھائی ہے معلوم نہیں تھا۔۔۔ہنہ کسی اور کو ہوتا تو کوئی شرمندگی نہیں تھی نا اپنے رویے پر‘‘ نیلم جل کر بولی
’’کوئی بات نہیں تم اپنی غلطی پر نادم ہو یہی کافی ہے‘‘ اسکا ہاتھ تھپتھپاتے وہ بولی اور ساتھ ہی نیلم کو آنکھوں کے ذریعے وارن کیا
’’چلے اب ہمیں اجاززت دے ہم چلتے ہیں‘‘ واک کرنے کا تو سارا موڈ غرق ہوگیا تھا
’’چلو جیسی تمہاری مرضی‘‘ انہوں نے فورس نا کیا
’’ایک بار پھر سے سوری۔۔۔۔۔ اور آپ نے سہی کہا انسان کو واقعی غصے کو قابو میں کرنا آنا چاہیے‘‘ نیلم کے پاس سے گزرتے وہ اسے دیکھ کر بولا
’’چلو بچو‘‘ فریحہ اور عبداللہ کو مخاطب کیے وہ بولا
’’ماپی آپ فریحہ کو روک لے نا وہ میرے ساتھ کھیلے‘‘ مائز نے ضد کی
’’چھوڑو مائز جانے دوں ہم ہے نا ہم کھیلے گے‘‘ نیلم نے اسے پچکارا
’’ہاں مائز ہم کھیلتے ہے چلو‘‘ ہالا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
’’نہیں مجھے اسی کے ساتھ کھیلنا ہے‘‘ اور شروع اسکی بچوں جیسی فرمائش
’’بیٹا سمجھنے کی کوشش کروں فریحہ کو جانا ہے نا گھر‘‘ انہوں نے سمجھایا
’’مجھے نہیں پتا کھیلنا ہے تو بس کھیلنا ہے‘‘
’’ہالا مائز کو اسکی میڈیسن دی تھی آپ نے؟‘‘ انہوں نے ہالا سے سوال کیا
’’وہ آئی ایم سوری آپی۔۔۔۔۔۔ میں بھول گئی سوچا گھر جا کر دے دو گی‘‘ وہ سر جھکائے مجرم کی طرح بولی
’’اٹس اوکے آپی میں رک جاتی ہوں کھیلنے کے لیے‘‘ فریحہ خود ہی بول پڑی
’’ارے نہیں بچا آپ فکر نا کروں‘‘ انہیں افسوس ہوا
’’ارے کوئی مسئلہ نہیں میں رک جاتی ہوں۔۔۔۔۔ بھائی دونوں واپس چلے جائے گے‘‘
’’فریحہ تم اکیلے کیسے آؤ گی؟‘‘ حسیب نے پریشانی سے پوچھا، جو بھی تھا وہ اسکے یوں اکیلے آنے کے حق میں نہیں تھا
’’ارے بھائی کوئی بڑی بات نہیں ، مائز کے گھر سے پانچ منٹ کی واک پر تو ہمارا گھرہے‘‘ اسنے حل نکالا
’’اچھا چلو جیسی تمہاری مرضی‘‘ وہ ہار مانتے لہجے میں بولے
’’اوکے تو ڈیسائڈ ہوگیا کہ میں مائز کے ساتھ کھیلو گی‘‘ فریحہ مسکراتے بولی تو مائز اپنی جگہ سے اچھل پڑا
’’چلو فریحہ میں ہم چل کر کھیلتے ہیں‘‘ مائز اسکا ہاتھ تھامے وہاں سے لے گیا
اگر اس وقت مائز کی جگہ کوئی اور ہوتا تو حسیب اور عبداللہ اسکا کچومر بنا دیتے مگر چونکہ مائز کی مینٹیلٹی کو مد نظر رکھتے انہوں کچھ نہیں کہا
’’اچھا ہمیں اجازت خدا حافظ‘‘ حسیب نے بولتے ہی وہاں سے باہر کی راہ لی مگر جاتے وقت نیلم کا پورا جائزہ لینا نا بھولا، اور دوسری طرف عبداللہ کا بھی یہی حال تھا
’’میں نے کہا تھا نا کہ ہم دوبارہ ضرور ملے گے۔۔۔۔۔دیکھ لو‘‘ ہالا کہ پاس سے ہوتے اسنے کان میں سرگوشی کی جو حسیب کی زیرک نگاہوں سے نا بچ سکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ابراہیم کی طبیعت اب کیسی ہے بھابھی ؟‘‘ رات کو ابراہیم کے سونے کے بعد ھدی نےسروج کے کمرے میں آکر پوچھا
’’ہاں اب تو اللہ کا شکر ہے بہتر ہے‘‘ وہ اسکے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے محبت سے بولی
’’ہمممم‘‘ اسکے پاس بیڈ پر بیٹھے ھدی بھی ابراہیم کو دیکھنے لگ گئی
’’وقت کتنی جلدی گزرتا ہے نا بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔ چار ماہ۔۔۔۔چار ماہ ہو چکے ہیں ان سب کو ہم سے بچھڑے ہم سے دورگئے، مگر ہم پھر بھی جی رہے ہیں، ہنستے ہیں گاتے ہیں ، کھاتے ہیں پیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوں جیسے کوئی غم کوئی تکلیف نا ہوں‘‘ھدی کھوئے کھوئے لہجے میں بولی
’’تم جانتی ہوں ھدی آج چھ سال پورے ہوگئے ہیں میری اور عمیر کی پہلی ملاقات کو‘‘ اسنے ھدی کی بات سن کر اپنی کہی
’’مجھے آج بھی یوں ہی لگتا ہے جیسے کل کی بات ہوں، مگر تم نے سہی کہا وقت کسی کے لیے نہیں رکتا، اور اب ہمیں وقت کے ساتھ سمجھوتا کرنا ہوگا چاہے کچھ بھی ہوجائے، تم سمجھی نا‘‘ جس پر ھدی نے فقط ہاں میں سر ہلا دیا
’’اچھا اس سب کو چھوڑے آپ جانتی ہے آج یونی میں میری ایک نئی دوست بنی‘‘ھدی نے ایکسائٹڈ ہوتے بتایا
’’کیا سچ میں؟ اور تمہارے اس بیسٹ نے کچھ نہیں کہا؟‘‘ جس پر ھدی نے سر نفی میں ہلا دیا
’’نہیں آپ جانتی ہے میری نئی دوست بہت بہادر ہے اس نے ایک لڑکے کو پیٹا بھی تھا اور مجھے کہا اگر بیسٹ نے اسے کچھ کہا تو وہ اسے بھی ایسے ہی ماارے گی کیونکہ وہ بہت اچھی فائٹر ہے‘‘
’’ارے واہ یہ تو کمال ہوگیا‘‘ سروج بھی داد دیے بنا نا رہ سکی
’’اچھا چلو اب باتیں چھوڑو اور جاؤ سو جاؤ صبح پھر محترمہ سے اٹھا نہیں جاتا‘‘ انکو باتیں کرتے کافی ٹائم ہوگیا تھا جب سروج نے اسے بولا
’’اوکے گڈ نائٹ بھابھی‘‘ وہ کہتے ہی اپنے کمرے کی جانب چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارک سے واپسی پر وہ کافی لیٹ ہوگئی تھی، وہ ابھی بھی واک کرتی جارہی تھی جب اسے اپنے پیچھےسرسراہٹ سی سنائی دی، اسنے مڑ کر دیکھا تو بلی کا بچا تھا
وہ اب دوبارا اب آگے کو چل دی، جب اچانک ایک قدرے تنگ اور بند سیاہ گلی میں سے کسی نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اندر کھینچ لیا، اس سے پہلے کے وہ چیختی مقابل اسکا منہ بند کرچکا تھا
میری ایک بات کان کھول کر سن لو تم میری ھدھد سے دور رہو، وہ صرف میری اپنے بیسٹ کی ہے، میرے علاوہ کوئی اسکی محبت تو کیا دوستی پر بھی حق جمائے مجھے برداشت نہیں۔ بہت غرور ہے نا تمہیں اپنی ول پاور پر مگر ایک بات اپنے دماغ میں بٹھا لو کہ اپنی ھدھد کے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں، وہ صرف میری ہے اور اسے میرے علاوہ کسی اور کی ضرورت نہیں، تو آئیندہ اس سے دور رہنا، اور میں کیا کیا کر سکتا ہوں اسکا ایک ٹریلر تمہیں اب دکھاتا ہوں‘‘ یہ کہتے ہی اسنے اپنے بازوؤں کے حلقے میں مچلتی فریحہ کا سر دیوار میں دے مارا اور خود وہاں سے وہ سایہ غائب ہوگیا
فریحہ کو زیادہ لگی تو نہیں تھی مگر پھر بھی ایک بار کو دماغ چکرا گیا تھا۔ پہلے مائز کی بال اور اب اسی جگہ پر لگنے والی چوٹ اسے شدید تکلیف ہوئی تھی.
جاری ہے
