Dil Musafir Novel by Qanita Khadija NovelR50734 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10
Rate this Novel
Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode01 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode02 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode03 Dil Musafir Novel by Qanita Khadija Eisode04 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part01) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode05(Part02) Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode06 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode07 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode08 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode09 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10 (Watching)Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode11 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode12 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode13 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode14 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode15 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode16 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode17 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode18 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode19 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode21 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode22 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode23 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode24 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode25 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode26 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode27 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode28 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode30 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode31 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode32 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode33 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode34 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode35 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode36 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode37 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode38 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode40 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode41 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode42 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode43 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode44 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode45 Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode46 Dil Musafir by Qanita Khadija Last Episode
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10
Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode10
’’کیسی ہوں‘‘ اسکے سامنے کھڑا، آنکھوں میں محبت لیے وہ اس سے پوچھنے لگا، مگر ھدی نے اسکی آنکھوں کو دیکھا ہی کہا تھا وہ تو اسکے یوں سامنے آنے پر نظریں جھکا گئی تھی
’’میرے سوال کا جواب نہیں دیا تم نے‘‘ اسکے قد کے برابر جھکے اسنے دوبارا اس سے پوچھا
’’مجھے جانا ہے‘‘ ضبط کے کڑےمراحل سے گزرتی ھدی بس اتنا ہی کہہ پائی تھی
’’جانا تو مجھے بھی ہے مگرتمہارے سنگ چلنا ہے مجھے، ہر ڈگر، ہر موڑ پر تم مجھے اپنے ساتھ چاہیے ہوں‘‘ ھدی اگر زرار کی محبت سمجھ سکتی یو ضرور خود پر رشک کرتی مگر اس وقت وہ اسکے لیے ایاز سے کم نا تھا۔
’’میرا راستہ چھوڑیے‘‘ اسکی آنکھوں سے آنسو چھلکنے کو تیار تھا مگر وہ خود پر ضبط کیے ہوئے تھی۔ اسنے اپنے لب سختی سے بھینچ لیے
’’اور اگر میں نا چھوڑو تو؟‘‘ وہ مسکان لیے پوچھنے لگا
’’ٹھیک ہے رہو کھڑے یہی‘‘ کہتے ہی وہ سائڈ سے گزر کر جانے لگی جب زرار نے اسکی کلائی تھام لی
’’تم نے پہلےبھی ایسا کیا تھا اور دیکھو مجھے تمہیں تکلیف دینا پڑی تھی اور تم اب دوبارہ وہی حرکت کر رہی ہوں‘‘ وہ آرام دہ لہجے میں بولا، غصے کا شائبہ تک نا تھا اسکے چہرے پر
’’تو ؟ میں آپ سے نہیں کہا یوں میرے راستے میں آکر کھڑے ہوجایا کرے، آئیندہ مجھسے دور رہیے گا، مجھے یہ حرکتیں پسند نہیں‘‘ وہ اپنی طرف سے اسے وارن کررہی تھی جبکہ اسکی بات پر زرار مسکراہ دیا۔
اسے خوشی ہوئی یہ جان کر کہ اسکی ھدھد لڑکوں سے دور رہتی پھر خواں وہ زرار ہی کیوں نا ہوں
’’جو حکم‘‘ سر کو خم دیتے وہ مسکراہ کر بولا، جبکہ ھدی کی حالت تو مرنے جیسی ہوگئی تھی۔
’’یا اللہ یہ بیسٹ مسکراہ رہا ہے، کہی اس پر کوئی چڑیل تو عاشق نہیں ہوگی۔۔۔۔نہیں نہیں بیچاری چڑیل بھلا اسکا کیا بگاڑ لے گی‘‘ وہ تاسف سے سر کو دائے بائے ہلاتے سوچنے لگی۔
جبکہ اسکی اس منہ بولتی سوچ پر زرار کو خوب قہقے لگانے کو دل چاہا
’’اب یہاں کھڑی کھڑی کون سے مراقبے طے کر رہی ہوں، کلاس میں نہیں جانا ویسے بھی مجھے نالائق لوگ اچھے نہیں لگتے سمجھی تم‘‘ وہ تو یوں بات کر رہا تھا جیسے ان دونوں میں برسوں سے دوستی تھی، اور ھدی پر تو آج حیرتوں کے ان گنت پہاڑ ٹوٹ رہے تھے، ایک پل کو اسکا دل چاہا کہ وہ زرار کو چٹکی کاٹ کر دیکھ لے ، مگر اگلے ہی لمحے اپنی سوچ پر استغفار پڑھتے وہ وہاں سے سو کی سپیڈ پر بھاگی اور پیچھے کھڑے زرار کو اپنے اندر ایک نئی زندگی محسوس ہوئی۔
ابکی بار کوئی ماہم بھی انکے بیچ نہیں آسکتی تھی، کوئی روز نامی بلا کوئی دوری نہیں پیدا کرسکتی تھی، اب کی بار کسی بھی مجبوری کو وہ ان دونوں کے درمیان حائل نہیں ہپونے دے گا، یہ زرار کا وعدہ تھا خود سے ، اپنی ذات سے، اپنی محبت سے اپنی ھدھد سے۔
ایک پرسکون سی سانس فضا میں خارج کرتے وہ بھی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’بوا پانی پلا دے‘‘ بوا کو پانی کا لانے کو بولتا وہ لاؤنج میں صوفے پر ڈھہ گیا، اسکی حالت تو ایسی تھی جیسے وہ یونی سے نہیں بلکہ کسی نو سے پانچ بجے کی آفس کی ٹف روٹین سے واپس آیا ہوں
’’تو بھیا کیسا رہا آج کا دن‘‘ اسکے بلکل پاس دھپ سے بیٹھتی ندا نے پوچھا
’’ٹائیرینگ( تھکا دینے والا)‘‘ وہ سر میں ہاتھ پھیرتے بولا
’’کیوں نئے پاکستان کا قیام کرنے گئے تھے‘‘
’’ہاہاہا۔۔۔۔۔بکواس جوق‘‘
’’اچھا چھوڑے یہ بتائے یونی کیسی ہے آپکی؟‘‘
’’جیسی ہوتی ہے ویسی ہی ہے‘‘
’’اففف بھیا کسی سوال کا سیدھا جواب مت دینا آپ تو‘‘ وہ غصے سے وہاں سے واک آؤٹ کرگئی جس پر موسی نے شکر ادا کیا کیونکہ اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا
’’بوا پانی لادے‘‘ وہ ابکی بار چلایا
’’آئی میاں بھئی صبر کروں‘‘ ہاتھ میں چائے کی ٹرے پکڑے وہ اسکی طرف بڑھی
’’یہ لو‘‘
’’یہ کیا بوا پانی مانگا تھا‘‘
’’پانی سر درد کا علاج نہیں‘‘اسکے ہاتھ میں سر درد کی گولی دیتے وہ بولی
’’آپ کو کیسے پتا کہ میرے سر میں درد ہے بوا‘‘ وہ حیران ہوئے پوچھنے لگا
’’ان ہاتھوں نے پالا ہے تم سب کو کیسے نا پتا چلتا‘‘ وہ پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے بولی، جس پر وہ انہیں تشکر بھری نظروں سے دیکھتا ان کے ہاتھ چوم گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’وہ۔۔۔سروج بھابھی وہ میں بتاتا ہوں نا‘‘ جلال کے تو ہاتھ پیر پھول گئے تھے اسے دیکھ کر
’’کیا میں نے کچھ پوچھا؟‘‘
’’اور ہاں ایک کام کروں مجھے پچھلے چھ ماہ کی ساری پروگریس رپورٹ عمیر یعنی کے میرے آفس میں بھیج دوں‘‘ اسے کہتے وہ وہاں سے چل دی جبکہ جلال کا دل چاہا کہ اسکا سر پھاڑ دے، مگر اس وقت وہ کچھ نہیں کرسکتا تھا
وہ جیسے ہی آفس میں داخل ہوئی تو کئی پرانی یادیں ذہن کے پردے پر فلم کی طرح چلنے لگی
’’اور یہ ہے میرا آفس مس سروج‘‘ اچانک پاس سے عمیر کی آواز سنائی دی جو اب سروج کو اپنا آفس دکھا رہا تھا
’’عمیر تم مجھے اپنے آفس کیوں لائے ہوں‘‘ وہ سخت بیزار ہوئی
’’تاکہ تم پہلے سے ہی سب اچھے سے سیکھ لو‘‘ عمیر مسکراہٹ دباتے بولا
’’مطلب؟‘‘ سروج نے آبرو اچکائے سوال کیا
’’مطلب یہ کے مس سروج، مسٹر عمیر آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ میں نے یہ طے کرلیا ہے کہ شادی کے بعد آپ میرے ساتھ میرے ہی آفس میں جاب کرے گی، اور آپ اپنی انٹرنشپ بھی یہی سے کرے گی، تاکہ صبح شام دن رات تم میرے ساتھ ہی ہوں‘‘ عمیر آرام سے بولتا اسے حیران کرگیا
’’عمیر پاگل ہوں‘‘
’’ہاں تمہارے لیے‘‘
’’یہ لائن بہت پرانی ہے اور چیزی بھی‘‘اسکی بات پر وہ کھلکھلا کر بولی، جبکہ عمیر کو اس خوبصورت منظر شاید ہی کوئی لگا ہوں۔
’’او ہیلو مسٹر کہاں کھوگئے ہیں آپ؟‘‘ اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائے اسنے پوچھا
’’دنیا کہ سب کے خوبصورت منظر میں‘‘اسکی اس بات پر سروج کی پلکیں خود بخود جھک گئی
’’اوہو،،،، بلش ہاں‘‘ وہ اسے چھیڑتے بولا
’’عمیر!!!‘‘ اسکے بازو پر مکا مارتے وہ منمنائی جبکہ عمیر کا بلند و بالا قہقہ اسکے لیے بھی دنیا کا سب سے خوبصورت منظر تھا۔
’’میم یہ فائل‘‘ اپنی سوچوں میں گم اسسٹینٹ کے اندر آنے پر وہ ہوش میں آئی
’’ہاں کیا؟‘‘ وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
’’میم یہ فائل آپ نے منگوائی تھی؟‘‘
’’ہاں وہ ٹیبل پر رکھ دوں‘‘ اسنے ہاتھ سے اشارہ کیا، جس پر وہ فائل رکھتے کمرے سے باہر چلی گئی
اپنی انگلی کی پوروں سے آنکھوں کے گرد ننھے قطرے صاف کرتے اب وہ اس چیر پر جابیٹھی جس پر کبھی عمیر اسے خود بڑے استحاق سے بٹھایا کرتا تھا
سب پرانی سوچوں کو پیچھے جھٹکتے وہ اب دوبارہ سے فائل میں گم ہوگئی مگر جیسے جیسے وہ فائل پڑھتی رہی اسکے ماتھے کے بل گہرے ہوتے گئے، جہاں اس بزنس نے ترقی کی تھی وہی ورکرز کو کسی بھی قسم کا کوئی بونس نہیں دیا گیا تھا، اور صدیق صاحب کی تمام تر ڈیل ملک عون سے ہی ہوئی تھی جس نے اسے مزید پریشان کردیا تھا
’’تم لوگ جو گیم کھیلنا چاہ رہے ہوں میں وہ کبھی ہونے نہیں دوں گی‘‘ سروج نے خود سے عہد کرلیا تھا، اور اب ان لوگوں کا برا وقت شروع ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ایک بار پھر سے میڈ کی کال آئی تھی، آہل کی طبیعت بگڑ گئی تھی، وہ تیزی سے اپنے فلیٹ پہنچا تھا۔ اسنے ڈاکٹر کو بھی کال کر دی تھی
ڈاکٹر کے بتانے پر کہ آہل کی طبیعت سٹیبل نہیں ہے وہ فورا سے اپنی اور اسکی ٹکٹس کروائے کینیڈا روانہ ہوگیا تھا رات میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب کاموں سے فارغ ہوکر وہ رات کو واپس آئی تو پورا ولا خالی تھا، ظاہری سی بات تھی وہ صاف الفاظ میں انہیں یہاں سے روانہ ہونے کا کہہ چکی تھی اور اتنی ہمت ان میں بھی نہیں تھی کہ وہ یہاں رکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے کینیڈا آئے ہوئے ایک مہینہ ہوگیا تھا، اسے اس وقت جتنی آہل کی فکر تھی اتنی ہی اہنی ھدھ کی یادیں اسے ستارہی تھی، ایک مہینہ تھا وہ اسے مل نہیں پایا اسکی آواز نہیں سن پایا تھا،اس وقت وہ چہل قدمی کے لیے باہر نکلا تھا، کچھ سوچتے ہوئے اسنے اپنا موبائل نکالا اور ھدی کا نمبر ملایا، کال جا رہی تھی مگر کوئی اٹھا نہیں رہا تھا، گزرتے وقت کے ساتھ اسکے ماتھے کے بلوں میں بھی اضافہ ہورہا تھا۔
اس سے پہلے کے وہ فون رکھتا ایک جانی پہچانی آواز اسکے کانوں سے ٹکڑائی
’’السلام علیکم!!‘‘
’’کون بول رہا ہے؟‘‘
’’ہیلو آواز آرہی ہے؟‘‘ مگر زرار نے اسے جواب کہاں دیا تھا وہ تو بس آنکھیں موندے اسکی آواز سن رہا تھا
’’آہ ابراہیم‘‘ اچانک اسکے کانوں میں یہ الفاظ گونجے اور اسکی آنکھیں کھل گئی
’’اففف ابراہیم رکو بس‘‘ اب اسے اسکے ہنسنے کی آواز آرہی تھی، زرار کی آنکھیں غصے سے لال ہوگئی تھی، اسکے اندر کا بیسٹ ایک بار پھر انگڑائی لیکر جاگا تھا
’’ابراہیم!!!!!!!!!!‘‘ زرار نے غصے سے موبائل سڑک پر دے مارا تھا
’’تم صرف میری ہوں ھدھ، صرف اپنے زرار کی اور جو کوئی بھی ہمارے بیچ آئے گا میں اسکی جان لےلو گا‘‘ اسکی آنکھوں میں صرف غصہ نہیں بلکہ نمی بھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے کھانے کے بعد سروج تو آفس کے کام میں جٹ گئی بہت کچھ تھا جو اسے سلجھانا تھا، جبکہ ھدی ابراہیم کو لیے اب اس سے کھیلنے میں مصروف تھی، ھدی اور ابراہیم کی خاصی پکی والی دوستی ہوچکی تھی، ابراہیم بھی اب اپنا زیادہ وقت ھدی کے ساتھ گزارتا تھا۔
ابراہیم کا فیڈر بنائے وہ اسے لیے کمرے میں آئی جہاں اسکا فون بج رہا تھا، پہلے تو اسنے اگنور کیا مگر پھر اٹھا لیا، مگر جب آگے سےکوئی جواب نا آیا تو اسے غصہ آنے لگا، اور اتنے میں ابراہیم جیسے بھوک لگی تھی اور ساتھ ہی ساتھ نیند بھی آرہی تھی، اسنے ھدی کی گردن میں اپنا منہ چھپا لیا، اب اسکی چھوٹی سے ناک اور ہونٹ ھدی کی گردن کو چھو رہے تھے جس پر اسے گدگدی محسوس ہوئی اور وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی، اور اسے دیکھ کر ابراہیم بھی ہنسنے لگا، اتنے میں ہی فون پر آئی کال بند ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’عمارہ عمارہ۔۔مجھے بتاؤ میں کیا کروں‘‘ پچھلے ایک ماہ سے وہ یونہی اسکے آگے پیچھے گھوم رہا تھا
’’مجھے کیا پتا‘‘ ایک مہینے سے چلتا وہی جواب ملا
’’کچھ کروں کوئی آئیڈیا بتاؤ، ورنہ موسی سچ میں یونیورسٹی جوائن کرلے گا‘‘ موسی نے ایڈمیشن تو کروا لیا تھا مگر وہ ابھی تک یونی نہیں آرہا تھا۔ جبکہ مائز ابھی تک خوف زدہ تھا وہ کسی بھی طور موسی کو کسی اور ڈیپارٹمنٹ میں ایڈمیسن دلوانا چاہتا تھا
’’دیکھو مائز یہ تمہارا اور تمہارے اس دوست کا مسئلہ ہے مجھے تنگ مت کروں‘‘ کہتے ہی وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی اور یہ جا وہ جا، جبکہ مائز کا تو دل چاہا کہ وہی دھاڑے مار مار کر روئے
’’اوئے اندھے، پاگل سائڈ پر ہوں‘‘اتنے میں ایک آواز مائز کے پیچھے سے گونجی جسے اس نے اگنور کردیا، اسکے اپنے غم کیا کم تھے۔
اتنے میں ہی ایک تیز ہیوی بائیک اسکے پاس آکر رکی، جس پر مائز اپنا بیلنس برقرار نا رکھتے ہوئے زمین پر جاگرا، جبکہ آنسو جو کب سے بہنے کو تیار تھے وہ اب نکل ہی پڑے اور مائز وہی زمین پر بیٹھے دھاڑے مار مار کر رونے لگا، پاس سے گزرتے سٹوڈنٹس نے تو اسے اگنور کرنا ہی بہتر سمجھا ویسے بھی وہ پوری یونی میں ’’نازک کلی‘‘ کے نام سے مشہور تھا، اب ظاہری سی بات ہے کہ وہ چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، مگر باہر سب بہنوں کو اسنے اپنے بھائی بنا کر ہی دنیا سے روشناس کروایا تھا۔
جبکہ بائیک سے اترتے وجود نے حیرت سے ان نمونے کو دیکھا تھا
جاری ہے
