Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode20

مراد سے ملنے کے بعد عمارہ ڈائریکٹ اپنے گھر آگئی تھی اور پھر پورا دن اسنے بند کمرے میں گزارا
وہ رات کو بھی کھانے کی ٹیبل پر نا آئی، مسز سلطان تو اس پر غصہ تھی اسی لیے پرواہ نا کی، مگر سلطان صاحب سے ایک لقمہ بھی حلق سے اتارا نا گیا، انکی بیٹی ناراض ہے اور وہ یہاں بیٹھے کھانا کھائے، انہوں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیے
’’میں سٹڈی میں جارہا ہوں کوئی تنگ نا کرے مجھے‘‘ مسز سلطان کو کہتے وہ وہاں سے چل دیے، مسز سلطان کا غصہ عمارہ کے لیے مزید بڑھ گیا۔
عمارہ کب سے بیڈ پر لیٹی خالی نظروں سے چھت کو گھورے جارہی تھی، اسکے چہرے پر آنسو کے نشان ابھی بھی موجود تھے، جب اسکے موبائل پر میسج آیا
اسنے موبائل اٹھا کر دیکھا تو مراد کا میسج تھا، ایک پل کو تو وہ چونک گئی کیونکہ مراد نے جو تصویر اسے بھیجی تھی اس میں موجود شخص کو وہ اچھے سے جانتی تھی، مگر اسکے ساتھ وہ لڑکی کون تھی؟ یہ پہلا سوال اسکے دماغ میں آیا
’’سچ جاننا ہے تو اس ایڈریس پر آجاؤ، تمہاری ناکام محبت کی کہانی کا ایک خاص موڑ جس سے تم انجان ہوں۔۔۔۔‘‘ مراد کے میسج کو وہ اگنور بھی کر دیتی اگر تصویر میں موجود شخص جلال صدیق نا ہوتا
عمارہ کچھ سوچے سمجھتے تیار ہوئی اور مراد کے دیے ایڈریس کی جانب گاڑی نکال لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی کوپارٹی میں آئے کافی دیر ہوگئی تھی اس وقت وہ ان حسیناؤں سے ٹائم پاس کرنے میں مصروف تھا، جو کسی نا کسی بزنس مین کی رشتے میں بیٹی یا بیوی تھی۔
’’گڈ ایوننگ مسٹرموسی علی زماد‘‘ اتنے میں اسکے ڈیڈ اپنے دوست اور انکی وائف کے ساتھ موسی کے پاس آئے
’’موسی ان سے ملو یہ میرے ایک بہت ہی اچھے اور قابل دوست ہے، مسٹر جمال‘‘ علی زماد کے تعراف پر اس نے ان سے ہاتھ ملایا
’’اور ان سے ملو یہ ہے ان کی سویٹ سی وائف مسز نیہا جمال‘‘ موسی نے ایک نظر اس لڑکی کو دیکھا جس کی عمر با مشکل موسی جتنی ہوگی جبکہ مسٹر جمال خود عمر میں موسی کے ڈیڈ سے بھی دو تین سال بڑے تھے
’’یہ منہ اور مسور کی دال‘‘ ایک نظر نیہا کو اور پھر مسٹر جمال کو دیکھنے کے بعد اسکی زبان پھڑپھڑائی
’’مطلب میں سمجھا نہیں؟‘‘ مسٹر جمال حیران ہوئے
’’ارے کچھ نہیں ماشااللہ سے پرفیکٹ کپل ہے آپ لوگوں کا‘‘ موسی اپنی ہنسی چھپاتے بولا
’’یہ تو میں تب مانوں جب آپ میری بیوی کی خوبصورتی میں کچھ بولے‘‘ وہی اپر کلاس کے چونچلے جہاں اپنی بیویوں کو شوپیس کے طور پر سب کے سامنے رکھا جاتا تھا اور وہ عورتیں بھی غیر مرد سے اپنی داد وصول کرنا حق سمجھتی تھی
’’ارے ہم کیا تعریف کریں گے، تعریف تو اس خدا کی جس نے انہیں بنایا‘‘ وہ ایک ادا سے بولا تو مسز نیہا بےتکلفی سے موسی کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھلکھلا دی
’’ارے اب بس بھی کرے، اتنی بھی بات نہیں بس یہ تو خدا کی دین ہے‘‘ مسز نیہا تھوڑا شرما کراور نزاکت سے بولی
’’ ڈرامے باز عورت‘‘ موسی بڑبڑایا
’’کچھ کہا؟‘‘ نیہا نے سوال کیا
’’کچھ نہیں، لیکن میں کہنا چاہو گا کہ یو آر لوکنگ فیبولس اینڈ ہاٹ‘‘ وہ ایک آنکھ دباتا بولا، تو وہ دوبارہ کھلکھلا دی
مسٹر جمال اور اسکے ڈیڈ تو بہت پہلے ہی انہیں باتیں کرتا دیکھ کر دوسرے دوستوں سے ملنے چلے گئے تھے
’’ویسے ایک بات تو بتائے، آپ اتنی ینگ اور خوبصورت ہے تو پھر مسٹر جمال سے شادی کیوں؟‘‘ موسی کو ٹائم پاس تو کرنا ہی تھا تو کیوں نا ان عورتوں سے چٹ پٹی سی کہانیاں سن لی جایئں
’’سچی محبت، بلائنڈ لو۔۔۔یو نو‘‘ نیہا کا لہجہ اتنا شیریں تھا کہ اگر موسی کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کبھی بھی اسکی ایکٹنگ کو پہچان نا پاتا
’’ریئلی کیسے ہوئی محبتَ؟‘‘ موسی نے بھی سوال کرنا ضروری سمجھا
’’بس پہلی ملاقت ایک پارک میں ہوئی، دوسری کافی شاپ اور پھر ایسے سلسلہ چلتا رہا ملاقاتوں کا‘‘ نیہا مسٹر جمال کی طرف دیکھتے اتنی محبت سے بولی کہ موسی عش عش کر اٹھا
’’گولڈ ڈگر(لالچی عورت)‘‘ موسی نے منہ میں بڑبڑاتے ایک اور خطاب اسے دیا
’’کیا کہا؟‘‘ نیہا نے پوچھا
’’نتھنگ میں تو بس سوچ رہا تھا کہ کاش میں تم سے پہلے مل چکا ہوتا تو آج یہ گوہر نایاب میرا ہوتا‘‘ موسی نے اپنے الفاظ کا جادو چلانا شروع کردیا تھا
’’ارے یہ کیسی باتیں کر رہے آپ؟‘‘ نیہا معصومیت سے بولی
’’کچھ نہیں چلے چھوڑے۔۔۔۔ویسے اب جب ہم دوست بن چکے ہیں تو ایک دوسرے کا نمبر تو مل ہی سکتا ہے نا؟‘‘ موسی نے سوال کرتے ہی موبائل نکالا
’’شیور وائے ناٹ‘‘ نیہا نے حامی بھری اور اپنا نمبر دے دیا
نیہا سے یونہی باتوں میں موسی کی نظر اچانک اینٹریس پر پڑی جہاں سے سروج اندر داخل ہوئی، وہ تو اسے یہاں دیکھ کر چونک گیا، بھلا اسکا کیا تعلق اس ڈنر سے
’’کہی کسی بزنس مین کی پی۔اے تو نہیں‘‘ یہ پہلی سوچ تھی جو موسی کے دماغ میں آئی
اب سروج مسٹر علی زماد کی طرف بڑھی اور ان سے باتیں کرنے لگ گئی، موسی کو خاصی حیرانگی ہوئی، جبکہ وہاں کھڑی نیہا نے دو، تین بار اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی مگر موسی کا سارا دھیان تو سروج کی طرف تھا
’’ایکسکیوز می‘‘ موسی نیہا سے کہتا اپنے ڈیڈ کی طرف بڑھا، جب اسے ایک اور جھٹکا لگا کیونکہ اب زرار ہال میں داخل ہوا تھا، موسی نے فورا اپنے ڈیڈ کو دیکھا جن کی نظریں فلحال زرار پر نہیں پڑی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج ہال میں داخل ہوئی تو اسکی نظر مسٹر علی زماد پر پڑی جوکہ یاسین صاحب کے بہت اچھے دوست تھے، وہ حیرانگی سے انکی طرف بڑھی
’’السلام علیکم انکل‘‘ اسنے پرجوش طریقے سے سلام کیا
’’وعلیم السلام!! سروج تم یہاں واٹ آاا پلیزنٹ سرپرائز‘‘ علی زماد تو اسے دیکھ کر خوشی سے پھولے نا سمائے
’’تم امریکہ سے واپس کب آئی؟‘‘ انہوں نے فورا سوال کیا
’’بس یہی کوئی دو۔تین ماہ پہلے، آپ بتائے آپکی فیملی کیسی ہے، اور آپ کا بیٹا واپس آگیا؟‘‘ اسنے سوال کیا
’’ہاں وہ بھی دوماہ پہلے ہی آیا ہے۔۔۔۔ارے وہ دیکھو یہی آرہا ہے‘‘ خود کی طرف موسی کو آتے دیکھ کر وہ پرجوش سے بولے
موسی اب انکے پاس آ کھڑا ہوا جبکہ سروج کو تو آنکھیں حیرت کے مارے پھیل گئی
’’سروج میرے بیٹے سے ملو، موسی علی زماد۔۔۔۔ اور موسی ان سے ملو یہ ہے سروج۔۔ یاسین انڈسٹریز کی اونر اور عمیر کی وائف‘‘ اب کی بار چارسو چالیس والٹ کا جھٹکا موسی کو لگا تھا
’’السلام علیکم‘‘ سروج خود پر قابو پاتے بولی
’’وعلیکم السلام‘‘ موسی مسکان لیے بولا
’’امید نہیں تھی آپ سے دوبارہ ملاقات ہوگی‘‘ وہ چڑانے والی مسکان لیے بولا
’’مجھے بھی‘‘ سروج کا لہجہ خشک تھا
’’کیا تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہوں؟‘‘ علی زماد حیران ہوئے
’’آف کورس ڈیڈ ہم ایک ہی یونی میں، ایک ہی کلاس میں ہے‘‘ موسی بتا تو انہیں رہا تھا، مگر نظریں سروج کا جائزہ لینے میں مصروف تھی
’’رئیلی بھئی یہ تو پھر بہت اچھی بات ہوئی، اس حوالے سے تو تم دونوں دوست ہوئے‘‘ علی زماد کی بات پر سروج بامشکل مسکرائی
’’ارے ابھی کہاں ڈیڈ، ان محترمہ کی دوستی کا شرف حاصل کرنا اتنا بھی آسان نہیں‘‘ موسی سیدھا طنز کرگیا
’’بلکل سہی کہا، اب ہر ایرے گیرے سے تو ہاتھ نہیں نا ملایا جاسکتا‘‘ سروج نے بھی حساب چکتا کیا
’’ویسے سروج تمہاری باقی کی فیملی نہیں آئی؟‘‘ علی زماد کا اشارہ اسکے مام ڈیڈ اور ھدی کی طرف تھا
’’مام ڈیڈ تو امریکہ میں ہی ہے اور ھدی وہ گھر پر ہے ابراہیم کے پاس‘‘ سروج نے بات پوری کی
’’او اوکے آئی سی‘‘ انہوں نے سر ہاں میں ہلایا
’’ویل یو نو موسی کہ سروج ایک بہت قابل اور ذہین سٹودنٹ کے ساتھ ساتھ ایک بہت انٹیلیجنٹ انٹرنی بھی رہی تھی، میں اس سے پہلی بار یاسین ہی کے آفس میں ملا تھا، ایک ڈیل تھی ان کے ساتھ جس کی پریزینٹیشن سروج نے تیار کی تھی اینڈ مائی گاڈ، بلیو می موسی شی از انکریڈیبل‘‘ اپنی اتنی تعریف پر سروج بس مسکراہ دی، موسی نے غور سے اسے دیکھا جو اسکے سرکل کی لڑکیوں کی طرح ہر وقت تعریفیں بٹورنے میں ہی نہیں لگی رہتی تھی
’’پہلے کا تو پتا نہیں مگر اب تو پتا کرنا پڑے گا ڈیڈ، بہت ضروری ہوگیا ہے‘‘ موسی کے لفظوں پر ایک پل کو تو وہ چونک گئی، مگر اس وقت نظر انداز کرنا ضروری تھا
’’اچھا بچوں تم لوگ باتیں کروں میں آیا‘‘ یہ کہتے ہی علی زماد وہاں سے چل دیے
’’کیسی ہے آپ؟‘‘ موسی اور اتنا تمیزدار، سروج چونک گئی، مگر اگلے ہی پل اسکی آنکھوں میں موجود شوخی کو بھانپتے وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ کیا کرنے والا ہے
’’الحمداللہ ٹھیک‘‘ سروج نے حسب عادت مہذب طریقے سے جواب دیا
’’یو نو مجھے برا فیل ہورہا ہے اس وقت تمہارے لیے‘‘ آپ جناب کا لحاظ ختم کیے وہ بےتکلفی سے بولا
’’کیوں؟‘‘ سروج نے تیکھی نظروں سے اسے گھورا
’’آئی مین دیکھو نا تم اکیلی۔۔۔۔کوئی سہارا نہیں۔۔۔اور ایک بیٹا جو کہ شائد ابھی کچھ سالوں کا ہوگا‘‘ موسی کو ابراہیم کی عمر پتا نہیں تھی اسی لی اندازہ لگایا
’’برا فیل کرتا ہوں تمہارے لیے‘‘ اسکا طنز سروج نے اچھے سے محسوس کیا تھا
’’مسٹر زماد سہاروں کی ضرورت انہیں ہوتی ہے جن میں خود کچھ کرنے کا ہنر نہیں ہوتا۔۔۔جیسا کہ۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ بولتے ہی سروج رک گئی
’’جیسا کہ؟‘‘ موسی نے اسکی بات کو جاری رکھا۔
’’جیسا کہ آپ مسٹر زماد۔۔۔۔۔آپ میں خود کچھ کرنے کا ہنر نہیں ہے اسی لیے آپ اپنے ڈیڈ کے بل بوتے پراتنا اڑتےہے۔۔۔اینڈ ٹرسٹ می مسٹر زماد اپنے ڈیڈ کے بنا آپ کچھ نہیں ہے‘‘ وہ اسکی حالت پر افسوس کرتے بولی جبکہ موسی اتنی زلالت کے باوجود اسکی بات پر شرمندہ ہونے کی بجائے دھیٹوں کی طرح مسکرا دیا
’’بہت خطرناک بولتی ہے آپ‘‘ وہ ہنس کر بولا
’’پھر تو آپ کو بچ کر رہنا چاہیے‘‘ میٹھی سی مسکان لیے اسنے جواب دیا
دور سے دیکھنے والے یہی سمجھتے کہ ان کے درمیان کوئی خوشگوار قسم کی گفتگو چل رہی ہے
’’بچنے والی وارننگ تو میں آپ کو بھی دے سکتا ہوں‘‘ اسکا انداز ایک پل کو سروج کو چونکا گیا
’’بچ کے رہیے گا مس سروج کیونکہ اب آپکا سامنا مسٹر زماد سے ہر موڑ، ہو ڈگر اور ہر راہ پر ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اسکے کان کے پاس جھکتے سرگوشی کرتا وہ تھوڑا پیچھا ہوا
’’وہ کیا بول تھے اس گانے کے؟ ہاں یاد آیا۔۔۔۔۔۔ تو جہاں میں وہاں۔۔۔ تو جہاں میں وہاں۔۔۔ سنگ سنگ یوں چلو تیرے جیسے تیرا آسمان‘‘ گانے کے بول گنگناتا وہ سروج کو آگ لگا گیا تھا
سروج اسے اپنی شعلہ بار نظروں سے گھورنے لگی، اب یہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا اسی لیے وہ وہاں سے مڑ گئی، مگر قدم موسی کے لفظوں پر جم کر رہ گئے
تیری سادگی، تیری عاجزی، تیری ہر ادا کمال ہے
مجھے فخر ہے، مجھے ناز ہے میرا یار بے مثال ہے
جبکہ سروج ایک بار پھر ماضی میں کھوگئی تھی، کچھ سوچے سمجھے بنا اسنے واشروم کی جانب قدم بڑھائے، اسکی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں چمک رہے تھے جن سے اسے جان چھڑوانا تھی ہر حال میں
پیچھے کھڑا موسی بھی بیک وقت ہوش میں آیا اور خود حیران ہوکر رہ گیا، آخر کیوں اسنے یہ شعر سروج کے لیے بولا، اسکا تو اس سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ ان دونوں کے مابین ایسا کوئی رشتہ نہیں۔۔۔۔ یہ نہیں تھا کہ وہ بہت ڈیسنٹبندہ تھا مگر یہاں مثلا یہ تھا کہ جس بےخودی، جس انداز، جس جذبے سے اسنے وہ شعر بولا تھا وہ خود موسی علی زماد کی ذات کو ہلا دینے کےلیےکافی تھا
’’افففف لگتا ہے دماغ خراب ہوگیا ہے میرا اس عمیر سے بدلا لینے کے چکر میں‘‘ اپنی حالت پر رحم کھاتا وہ ہال سے ملحقہ بار کی طرف چلا گیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *