Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode39

’’محترم نے سروج پر کیس کیا ہے۔۔۔۔۔ کورٹ کا نوٹس بھجوایا ہے اس بچی کو‘‘ علی صاحب غصے سے پھنکارے
’’موسی!!!‘‘ مسز علی نے بےیقینی سے اپنے بیٹے کو دیکھا
’’مام ڈیڈ نے آپ کو یہ تو بتادیا کہ میں نے کیس کیا ہے۔۔۔۔۔۔ مگر کیوں یہ نہیں بتایا‘‘ ایک نظر علی صاحب کو دیکھ کر وہ مسز علی کے ہاتھ تھام کر انہیں صوفہ پر بٹھاتے بولا
’’بکواس بند کروں اپنی‘‘ علی صاحب پھر سے غصے سے بولے
’’مام آپ جانتی ہے سروج کے پاس ہماری ایک امانت ہے۔۔۔۔۔ اسکے پاس ہماری ماہم کی نشانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا خون ہے‘‘ وہ انکے سامنے بیٹھے بول رہا تھا
’’موسی زبان بند کروں اپنی فضول مت بکوں‘‘ علی صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کچھ کر ڈالے
’’موسی کیا کہہ رہے ہوں سمجھ نہیں آرہی مجھے‘‘ مسز علی حیرانگی سے بولی
’’مام آپ جانتی ہے ابراہیم کون ہے؟ وہ آپکی ماہم کی اولاد ہے۔۔۔۔ آپکا نواسہ۔۔۔۔۔۔ ہاں مام میں سہی کہہ رہا ہوں‘‘ انکی حیرت زدہ آنکھوں کو دیکھ کر وہ بولا
’’آپ کو یاد ہے کہ آپ جب ہوسپٹل گئی تھی سروج سے ملنے تب آپ نے مجھے بتایا تھا کہ ابراہیم میں آپ کو کشش محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آپکو اپنا لگا تھا۔۔۔۔۔ وہ اپنا ہی تھا مام بس ہم نے پہچاننے میں دیر کردی ۔۔۔۔۔۔۔ مگر اب نہیں ہم اسے لے آئے گے واپس‘‘ وہ ان کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر بولا
’’چاہے کوئی کچھ بھی کرے اب ہم ماہم کو ایک اور بار نہیں کھوسکتے‘‘ ایک سخت نگاہ اپنے باپ پر ڈالے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا
علی صاحب پیچھے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی کورٹ کا نوٹس دیکھ کر۔۔۔۔ یہ کیسے۔۔۔۔ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا
وہ تیزی سے کمرے کی جانب بڑھی اور علی زماد کا نمبر ملایا
’’السلام علیکم انکل ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔ موسی نے مجھے کورٹ کا نوٹس بھجوایا ہے‘‘
’’سروج فکر مت کروں سب ٹھیک ہوجائے گا میں بات کروں گا اس سے‘‘ علی صاحب کی آواز ابھری
’’انکل آپ کیا بات کرے گے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نوٹس بھجوا چکا ہے۔۔۔۔۔۔ اور میں تو کیس بھی نہیں جیت پاؤ گی۔۔۔ اب آپ نہیں بلکہ میں خود اس موسی نامی بلا سے مقابلہ کروں گی‘‘ وہ ٹھوس لہجے میں بولی
’’تم کیا کرنے والی ہوں سروج؟‘‘
’’فلحال تو میں موسی سے ملنے جارہی ہوں اسکے آفس‘‘ کال کاٹتے ہی اسنے اپنا بیگ اٹھایا اور موسی سے ملنے چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’میم آپ کہاں جارہی ہے؟ آپ اندر نہیں جاسکتی۔۔۔ میں نے کہا نا سر میٹنگ میں ہے‘‘ ریسپشنیسٹ اسکے پیچھے بھاگتی بولی جو سب نظر انداز کیے تیزی سے میٹنگ روم کی جانب بڑھ رہی تھی
’’موسی علی زماد‘‘ ایک جھٹکے سے دروازہ کھولتے وہ اندر داخل ہوئی
موسی اسے دیکھ کر پرسکون رہا۔۔۔۔۔ اسے امید تھی کہ وہ ضرور آئے گی
ایک مسکان اس کے چہرے پر در آئی
’’سوری سر میں نے میم کو روکنے کی کوشش کی مگر۔۔۔۔۔‘‘
’’اٹس اوکے آپ واپس اپنی جگہ پر جائیے‘‘ موسی ریسیپشنیٹ کو کہتا سروج کی طرف مڑا جو ابھی تک اسے گھور رہی تھی
’’آئی ایم سوری ایوری ون بٹ دا میٹنگ از کینسل۔۔۔۔۔۔۔ آئی ہوپ سو یو آل ڈونٹ مائند۔۔۔۔ لیو ناؤ‘‘ موسی کے آرڈر پر وہ سب لوگ سرپٹ وہاں سے چلے گئے
سروج صبر سے ان کے جانے کا انتظار کرنے لگی
’’یہ کیا بکواس ہے‘‘ اسکے منہ پر کورٹ کا نوٹس مارتے وہ بولی
’’ویری بیڈ سروج میں تو تمہیں ایک اچھی اور تمیز دار لڑکی سمجھتا تھا‘‘ موسی نفی میں سر ہلائے بولا
’’بکواس بند کروں اپنی ۔۔۔۔۔۔ اور تم کیس واپس لو گے‘‘ سروج اسے انگلی دکھاتے بولی
’’کیوں لو میں کیس واپس ابراہیم میرا خون ہے۔۔۔۔۔ میری بہن کا بیٹا ہے۔۔۔۔۔۔ ماہم ماں ہے اسکی‘‘ موسی آرام دہ سا بولا
’’نہیں وہ اسکی ماں سنا تم نے نہیں ہے وہ اسکی ماں۔۔۔ بچے کو جنم دینے سے کوئی عورت ماں نہیں بن جاتی۔۔۔۔۔۔ ماں بننے کے لیے ہزار تکلیفیں سہنی پڑنی ہے ہے۔۔۔۔۔۔ قربانیاں دینی پڑتی ہے۔۔۔۔۔۔ کیا کیا ہے تمہاری بہن نے جو وہ ابراہیم کی ماں بن گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ماہم نہیں سروج تھی جو راتوں کو جاگتی تھی اسکے لیے۔۔۔۔۔۔ وہ ماہم نہیں سروج تھی جس کا دل تڑپ جاتا تھا ابراہیم کو تکلیف میں دیکھ کر۔۔۔۔۔۔ وہ ماہم نہیں سروج تھی جو اپنوں سے لڑگئی تھی ابراہیم کے لیے۔۔۔۔۔۔ سنا تم نے‘‘ اسکا سانس پھول چکا تھا بولتے بولتے
’’وہ سروج نہیں ماہم تھی جو کمزور تھی۔۔۔۔ وہ سروج نہیں ماہم تھی جس نے اپنی اولاد کو دربدر کردیا۔۔۔۔۔ وہ سروج نہیں ماہم تھی جس کے اپنے اس قابل نہیں تھے کہ وہ ان پر بھروسہ کرسکتی۔۔۔۔۔۔ وہ سروج نہیں ماہم تھی جس نے اپنی اولاد کو ایک گناہ سمجھا‘‘ سروج دھیمی آواز میں غرائی۔۔۔۔ موسی کا چہرہ خفت سے سرخ ہوگیا
’’بس!!!‘‘ موسی دھاڑا
’’کیوں بس ہاں۔۔ کس لیے بس۔۔۔۔ سنوں مجھے۔۔۔ تمہیں سننا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ مجھے کیا جاگی ہوگی تمہاری بہن راتوں میں ابراہیم کے لیے۔۔۔۔ کیا تڑپی ہوگی وہ اس کے لیے۔۔۔۔ کیا وہ اسکے لیے خود کو قربان کرسکی۔۔۔۔۔ صرف ایک وجود کو اس دنیا میں لے آنے سے کوئی عورت ماں نہیں بن جاتی۔۔۔۔۔ تمہیں اللہ کا واسطہ موسی یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ مجھسے میرے بیٹے کو مت چھینو‘‘آخر میں دھیمے لہجے کیساتھ وہ ہاتھ اسکے سامنے جوڑتے اسکے سامنےوالی کرسی پر بیٹھ گئی
اسکا چہرہ آنسو سے بھیگ گیا تھا۔۔۔۔۔ موسی کو اس حالت پر افسوس ہوا مگر صرف ایک لمحے کے لیے۔۔۔۔۔ فلحال وہ کسی بھی قسم کے جذبات کو خود پر حاوی نہیں ہونے دے سکتا تھا
’’تم چاہتی ہوں کہ میں ابراہیم کو تم سے مت چھینو؟‘‘ قدم اٹھاتے اسکے سامنے بیٹھتے موسی نے پوچھا
سروج نے اپنا سر ہاں میں ہلادیا
’’تو میری بات مان لو سروج۔۔۔۔۔۔۔ کرلوں مجھے سے شادی‘‘ موسی بولا تھا سروج نے حیرت سے اسے دیکھا
آہستہ آہستہ اسکی آنکھوں میں نفرت در آئی اور پھر غصہ
غصہ قابو کرنے کے لیے اسنے آنکھیں بند کی مگر پھر بھی کچھ نا ہوسکا
اسنے پھر سے موسی کو دیکھا اب کی بار آنکھوں میں نفرت کے ساتھ ساتھ نمی بھی تھی
موسی غور سے اسکی حالت دیکھنے لگا
آنکھوں کا اعتبار مت کرنا
یہ اٹھے تو قتل عام کرتی ہے
کوئی انکی نگاہوں پے پہرا لگاؤ یارو
یہ نگاہوں سے ہی خنجر کا کام کرتی ہے
موسی ایسی حالت میں بھی اپنے ٹھرک پن سے باز نا آیا ایسا سروج کا سوچنا تھا
’’کبھی نہیں موسی علی زماد۔۔۔۔۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔ نفرت ہے مجھے تم سے سنا تم نے‘‘ وہ چیختے ہی دروازے کی جانب بڑھی
اس سے پہلے کے دروازہ پار کرتی موسی نے سرعت سے اسکی کلائی تھامے اسے اپنے قریب کیا
’’ایسا ہی ہوگا سروج دیکھنا تم۔۔۔۔ تم میری ہی بنوں گی۔۔۔۔۔۔ میں تو تمہیں تب بھی خود سے دور نہیں کرسکا جب لگا کہ تم سے نفرت ہے اور اب تو تمہارے لیے میرے احساسات کچھ اور ہی ہے۔۔۔۔۔ خیر میں بھی کیا بول رہا ہوں۔۔ نفرت تو میں نے تم سے کبھی بھی نہیں کی سروج اور اب یہ جذبات یہ احساسات۔۔۔۔ نہیں سروج ہرگز نہیں میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔۔ اور اب موسی علی زماد کو اس بات سے انکار نہیں کہ اسے تم سے محبت ہے سروج حیدر۔۔۔۔ محبت ہے اسے تم سے‘‘ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے وہ اتنے جذب سے بولا کہ سروج کا رواں رواں کانپ اٹھا
’’جاؤ گھر جاکر آرام سے دھیان سے سوچو اور پھر کال کرکے بتاؤ کہ مجھے کہ تم راضی ہویا نہیں مگر تمہارا جواب جو بھی ہوں یہ سوچ کر دینا کہ آنا تو تمہیں میری دسترس میں ہی ہے‘‘ اسے ایک جھٹکے سے چھوڑتا وہ بولا
سروج بنا کچھ کہے وہاں سے چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج گھر پہنچی تو حیران رہ گئی لاؤنج میں وہ سب اسکے منتظر تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ سروج نے خود کو نارمل کیا
’’کیا ہوا سب یہاں اکٹھے خیریت؟‘‘ سروج نے ان سے سوال کیا
’’یہ کیا ہے سروج؟‘‘ حیدر صاحب نے اسکے سامنے کورٹ کے نوٹس کی کاپی رکھی جو انہیں فیکس کی گئی تھی
سروج کا رنگ سفید پڑگیا تھا۔۔۔۔ موسی نے ہر طرف سے اسے گھیر لیا تھا
’’بابا وہ یہ۔۔۔‘‘ سروج سے کچھ بولا نا گیا
’’سروج سچ صرف سچ‘‘ حیدر صاحب کی تنبیہ پر وہ انہیں الف تا یے سب کچھ بتاچکی تھی
حیدر صاحب کا غصے کے مارے براحال تھا۔۔۔۔۔ موسی کے بارے میں وہ کتنا غلط سوچتے تھے وہ۔۔۔۔۔۔ انکی آنکھوں میں وہ شخص دھول جھونکتا رہا
سروج کا رو رو کر برا حال تھا ھدی کے آنسو بھی جاری تھے سروج کو ساتھ لگائے وہ سنبھالنے کی کوشش کررہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر صاحب کے سمجھانے پر اگلے دن وہ دونوں یونی گئی تھی۔ ابراہیم گھر پر ہی تھا
موسی جانتا تھا کہ وہ حیدر صاحب کو نوٹس مل گیا ہوگا اور یہ بھی کہ سروج انہیں سب بتا چکی ہوگی مگر اب اسے انہیں اپنے طور پر راضی کرنا تھا
وہ اس وقت سروج کے گھر کے باہر کھڑا تھا جب شہانہ بیگم نے دروازہ کھولا۔۔ اسے دیکھتے ہی انہوں نے اپنے لب بھینچ لیے
’’السلام علیکم آنٹی‘‘ اس نے سلام لیا
مگر کوئی جواب نہیں ملا
’’کون ہے شہانہ؟‘‘ حیدر صاحب بولے مگر جب موسی کو دیکھا تو چہرے پر سختی آگئی
’’کیا میں اندر آجاؤ پلیز؟؟‘‘ اسکے سوال پر انہوں نے اسے راستہ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مجھے یقین نہیں ہوتا کہ موسی ایسا کرسکتا ہے‘‘ زرار کا حال عجیب تھا
’’مگر مجھے امید تھی میں نے اسکا جو روپ دیکھا ہے وہ تم نے نہیں دیکھا‘‘ سروج بولی
’’کیسا روپ؟‘‘ زرار نے سوال کیا
’’وہ تمہارا آئینہ ہے زرار۔۔۔۔ جو چاہیے سو چاہیے۔۔۔ بلکل تمہاری طرح‘‘ سروج بولی تو زرار کے چہرے پر خفگی در آئی
’’ایسے مت دیکھو سچ بول رہی ہوں‘‘ اسکے چہرے کے بگڑے زاویوں کو نظر انداز کرتے وہ بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہمم تو کہہ لیا تم نے جو کہنا تھا اب جاؤ‘‘ حیدر صاحب دروازے کی طرف اشارہ کرتے بولے
’’پلیز انکل پلیز آنٹی میری بات پر غور کیجیے گا۔۔۔۔۔ میں سروج کے ساتھ زبردستی نہیں کررہا ۔۔۔۔ میں دل سے اسکے ساتھ رشتہ جوڑنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ آپ خود سوچے اگر سروج کی شادی کہی اور ہوجاتی ہے تو کیا وہ ابراہیم کو چھوڑ دے گی یا پھر وہ شخص ابراہیم کو ویسا پیار دے پائے گا جس کا وہ حقدار ہے۔۔۔۔۔۔۔ ابراہیم میرا خون اور سروج محبت ہے۔۔۔۔ میں کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کروں گا‘‘ موسی تو کہہ کر چلا گیا مگرانہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسی کو معلوم تھا کہ سروج کی کال نہیں آئے گی مگر پھر بھی ایک موہوم سی امید تھی۔۔۔ مگرلاحاصل
’’تو تم نے مشکل راستہ چنا۔۔۔ کوئی بات نہیں بننا تو تمہیں میرا ہی ہے‘‘موبائل دیکھتا وہ جذب سے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل ہیرنگ تھی۔۔۔۔۔ کل کورٹ کا فیصلہ ہوجانا تھا مگر سروج جانتی تھی کہ وہ جیت جائے گی۔۔۔۔۔ ماہم نے خود اپنی اولاد سے دستبرداری دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا تمہیں پکا یقین ہے کہ تم کیس جیت جاؤ گے؟‘‘ ہاتھ میں کوک کا کین پکڑے وہ دونوں گھر میں بنے سنیما میں مووی دیکھ رہے تھے
’’سو فیصد یقین ہے‘‘ موسی نے جواب دیا
’’اور اگر سروج نے تم پر کیس کردیا؟‘‘ مائز نے ایک اور سوال کیا
’’کونسا کیس؟‘‘ موسی نے حیرانگی سے پوچھا
’’دیکھ موسی تو نے ابراہیم کی کسٹڈی کے لیے کیس کیا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ تیری بہن کا بیٹا ہے تو ایسے میں وہ ھدی کے بھی بھائی کا بیٹا ہے۔۔۔۔ سروج نا سہی مگرھدی تو کیس کر سکتی ہے نا کسٹڈی کا‘‘ مائز نے اسے دوسرا رخ دیکھایا
’’تمہیں کیا لگتا ہے کہ موسی علی خان نے کچی گولیاں کھیل رکھی ہے۔۔۔۔۔۔ ھدی ابھی چھوٹی ہے مائز۔۔۔۔۔ سروج ھدی کی مینٹور ہے۔۔۔۔۔ جب تک وہ اکیس کی نہیں ہوجاتی سروج کے انڈر رہے گی وہ۔۔۔۔۔۔ اور ایسے میں ایک ایسی لڑکی جو خود کسی اور کی کسٹڈی میں ہوں وہ بھلا کیسے کوئی کیس لڑسکتی ہے‘‘ موسی کی مسکراہٹ مائز کو باور کروا چکی تھی کہ وہ سب کچھ پلان کرچکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تمام ثبوتوں اور گواہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ عدالت اس نتجے پر پہنچی ہے ابراہیم عمیر کا سروج حیدر سے کوئی تعلق نہیں اور عدالت ابراہیم عمیر کی کسٹڈی موسی علی زماد کو سونپتی ہے۔۔۔۔۔ چونکہ ھدی یاسین ابراہیم کے حوالے سے کسٹڈی کے لیے کیس کرسکتی ہے مگر وہ بھی تب جب تک وہ خود اکیس سال کی نہیں ہوجاتی تب تک ابراہیم کو ان کے ننھیال کے حوالے کیا جاتا ہے۔۔۔۔ دا کورٹ از ڈسمس‘‘ سنوائی ہوتے ہی سروج سن سی اپنی جگہ پر بیٹھی رہی۔۔۔۔۔۔ علی صاحب نے افسوس سے اپنے بیٹے کو دیکھا جس کے چہرے پر فتح کی ایک الگ ہی چمک تھی۔۔۔۔۔ ایک لیڈی کانسٹیبل سروج کے پاس آئی جس نے ابراہیم کو خود میں زور سے بھینچا ہوا تھا
’’نن۔۔۔۔نہیں میں نہیں دوں گی۔۔۔۔۔۔ دور ہوجاؤں میرے بیٹے سے‘‘ سروج چلائی۔۔۔۔ سب اسکی طرف متوجہ ہوگئے
ندا نے شوق سے یہ ڈرامہ دیکھا تھا۔۔ آج وہ سروج سے اپنی ناکام محبت کا بدلا لے چکی تھی
’’دیکھیے میم شرافت سے بچہ ہمارے حوالے کیجیے۔۔۔۔۔۔ ورنہ ہمیں دوسرے طریقے بھی آتے ہیں‘‘ وہ اب زرا سختی سے بولی
’’میں اپنا بچہ کسی کو نہیں دوں گی‘‘ سروج کے چلانے سے ابراہیم بھی رونا شروع ہوگیا
اتنے میں زرار آگے آیا اور ابراہیم کو سروج سے کھینچتے موسی کی جانب لے گیا
’’نہیں زرار نہیں۔۔۔ زرار مت کروں ایسا۔۔۔ زرار!!‘‘ اس سے پہلے کے سروج کچھ اسکی طرف بڑھتی حیدر صاحب نے اسکا بازو پکڑ لیا
’’بابا۔۔۔بابا دیکھے اسے روکے نا وہ میرے بچے کو لےجارہے ہیں ۔۔۔ بابا میں مرجاؤں گی۔۔۔ پلیز بابا۔۔۔۔ بابا دیکھے اسے وہ رو رہا ہے‘‘ اپنی بیٹی کی ایسی حالت دیکھ کر انکا دل کٹ کر رہ گیا تھا مگر اب کی بار اسکی نا سننے کا فیصلہ وہ کرچکے تھے
’’یہ لو موسی پکڑو اپنے خون کو اور ہاں اپنی نام نہاد جیت تمہیں مبارک ہوں۔۔۔ امید ہے اب تم سروج یا ھدی کے راستے میں کبھی نہیں آؤ گے‘‘ ابراہیم کو موسی کے حوالے کرتے زرار وہاں سے چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’موسی!!! موسی!!!۔۔۔۔ تمہیں اللہ کا واسطہ میرا بچہ مجھے دے جاؤ موسی۔۔۔۔ میں مر جاؤ گی۔۔۔ موسی تمہیں واسطہ ہے اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔ ابراہیم!!!‘‘ گاڑی میں بیٹھتا موسی سروج کی چیخے سن رہا تھا
’’ڈرائیور گاڑی چلاؤ‘‘ ڈرائیور کو حکم دیتے اسنے سائڈ مرر سے دیکھا جہاں سروج اسکی کار کے پیچھے پیچھے بھاگتے اب ٹھوکر لگنے سے نیچے گر گئی تھی۔۔ زمین پر بیٹھی وہ دھاڑے مار مار کر رونا شروع ہوگئی
موسی نے کرب سے آنکھیں بند کرلی تھی مگر پھر خود پر قابو پاتے پیچھے بیٹی ندا کے ہاتھوں میں ابراہیم کو دیکھا جو اب رو رو کر سو چکا تھا
’’آئی پرامس یو سروج بہت جلد تمہیں ابراہیم واپس مل جائے گا‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج کی حالت غیر ہوچکی تھی۔۔۔۔۔ وہ کب، کیسے، کس طرح گھر آئی اسے کچھ علم نا ہوا۔۔۔۔۔۔ زرار راستے میں ڈاکٹر کو کال کرکے بلاچکا تھا
اب وہ اپنے کمرے میں سکون دینے والے انجیکشن کے زیر اثر سو رہی تھی
’’مجھے معاف کردوں حیدر میں شرمندہ ہو تم سے۔۔۔۔۔ میری اولاد کی وجہ سے تمہاری بیٹی کو اتنا کچھ سہنا پڑا۔۔۔۔ یقین مانو میں نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی مگر۔۔۔۔۔۔‘‘
’’آپ کی اولاد کی وجہ سے تو ہر بار کسی نا کسی کو کچھ نا کچھ سہنا پڑتا ہے مسٹر علی زماد۔۔۔۔۔۔ پھر چاہے وہ عمیر ہوں ۔۔۔۔۔ سروج ہوں۔۔۔ ھدی ہوں یا میں۔۔۔۔ کس کس سے معافی مانگتے پھرے گے‘‘ انکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی زرار انکی بات کاٹتے درشتگی سے بولا اور جھٹکے سے کمرے سے باہر چلا گیا
لاؤنج میں آیا تو ھدی بیٹھی نظر آئی۔۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ ھدی اس وقت کس کرب سے گزر رہی ہوگی
’’زرار بھابھی‘‘ ھدی زرار کو دیکھتے بولی اور اچانک آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے
’’سروج کو کچھ نہیں ہوگا ھدی بلیو می‘‘ اسکے ہاتھ تھامے وہ پراعتماد لہجے میں بولا
’’مگر بھابھی۔۔۔‘‘
’’یقین ہے نا مجھے پر؟‘‘ زرار نے پوچھا تو ھدی کا سر ہاں میں ہل گیا
اب وہ زرار کے کندھے پر سر رکھے اسے بھگونے لگی جبکہ زرار آرام سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا
باہر کی طرف جاتے علی صاحب نے یہ منظر حیران کن آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔ زرار کہ چہرے پر غصے کا شائبہ تک نہیں تھا صرف فکر تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مام۔۔۔۔مام دیکھیے کون آیا ہے‘‘ پرمسرت سا موسی لاؤنج میں داخل ہوتے بولا
’’موسی میرا براہیم؟‘‘ مسز علی نے اس سے سوال کیا تو ندا نے آگے بڑھ کر سوئے ہوئے ابراہیم کو انکے بازوؤں میں دے دیا
انکی آنکھیں بھیگ گئی۔۔۔۔ انہوں نے محبت سے ابراہیم کو چومنا شروع کردیا یوں ابراہیم کی آنکھیں کھل گئی وہ آس پاس شناسا چہرے دیکھنے لگا مگر جب کوشش لاحاصل ہوئی تو اسنے رونا شروع کردیا
مسز علی نے اسےچپ کروانے کی ہزار کوششیں کی مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا
موسی اور ندا بھی اسے اتنا روتا دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے۔۔۔۔ رات تک ابراہیم کو تیز بخار چڑھ گیا تھا جو اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا
ڈاکٹر نے آکر دوائی دی۔۔۔۔ ماتھے پر پٹیاں بھی کی مگر پھر بھی بخار نہیں ٹوٹا۔۔۔۔۔۔ آخر کار موسی نےاسے ہسپتال لیجانے کا سوچا
’’مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ بیٹھے بٹھائے اسے اتنا تیز بخار کیسے چڑھ گیا؟‘‘ مسز علی پریشان سی بولی
’’اجازت ہوں تو میں بولو‘‘ بوا نے اجازت چاہی
’’ارے بوا آپ کب سے اجازت مانگنے لگ گئی‘‘ مسز علی حیرانگی سے بولی
’’کہنے کو تو چھوٹا منہ بڑی بات ہے۔۔۔ مگر ابراہیم کا علاج کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے بیٹا۔۔۔۔۔ بچے کا علاج ماں کے لمس میں ہوتا ہے۔۔۔۔ ابراہیم بھی اس وقت اسی لمس کے لیے تڑپ رہا ہے اور وہ اسے اپنی ماں کے علاوہ کہی سے نہیں ملے گا‘‘
’’وہ بچہ سروج کو اسکے لمس کو قبول کرچکا ہے۔۔۔ اب وہ کسی سے نہیں سنبھلے گا۔۔۔۔ میری مانے تو بچے کو اسکی ماں کے حوالے کر آئے‘‘ بوا تو وہاں سے کہہ کرچلی گئی۔۔۔۔۔ جبکہ ندا کا منہ بن گیا اور موسی پرسوچ نظروں میں بوا کو دیکھنے لگا
’’ارے آپ آگئے‘‘ مسز علی اچانک علی زماد کو اندر داخل ہوتا دیکھ کر بولی
’’آپ کہا تھے اتنی دیر لگا دی‘‘ انہوں نے جواب نا پاکر دوبارہ سوال کیا
’’اس بچی کے پاس تھا جس کی زندگی برباد کرنے میں اور اسے مارنے میں تمہارے بیٹے نے کوئی کسر نہیں چھوڑی‘‘ وہ لال انگارہ آنکھوں سے موسی کو گھورتے بولے
’’جاؤ دیکھو اس بچی کی حالت۔۔۔۔ نیم مردہ۔۔۔ نیم پاگل ہوگئی ہے وہ۔۔۔۔۔۔ چیخ رہی ہے چلا رہی ہے کہ اسکے بیٹے اسکے ابراہیم کو واپس لے آؤ۔۔۔۔ یقین مانو موسی اگر اسے کچھ ہوا نا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا‘‘ موسی کو انگلی دکھاتے وہ اپنے کمرے کی جانب چل دیے
ویسے تو موسی کا چہرہ سپاٹ رہا مگر سروج کی حالت کا سن کا اسکا دل دہل رہا تھا
’’پرسوں میرا نکاح ہے سروج سے‘‘ موسی ایک فیصلہ لیتے ہوئے سب کے سروں پر دھماکہ کرگیا
’’کیا کہاں؟‘‘ علی زماد تیزی سے پلٹتے اسکی سامنے آکھڑے ہوئے
’’یہی کہ پرسوں میرا اور سروج کا نکاح اور ساتھ ہی رخصتی ہے۔۔۔۔۔ سروج کو ابراہیم چاہیے اور مجھے سروج۔۔۔۔۔ آپ لوگ نکاح کی تیاری کرلے‘‘ تمام گھر والوں کو اپنی جگہ منجمند چھوڑتا وہ ابراہیم کو لیے ہسپتال کی جانب چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ابراہیم۔۔۔۔ میرا بچہ مت لیجاؤ۔۔۔۔۔۔ نہیں میں مر جاؤ گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابراہیم‘‘ ایک چیخ کے ساتھ وہ اٹھی۔۔۔۔ اسے سب یاد آنے لگا ۔۔۔۔۔ وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور کمرہ لاک کردیا
’’سروج دروازہ کھولو‘‘ سب نے اسے پکارا
’’نہیں مجھے میرا بیٹا لاکر دوں۔۔۔۔۔ میرا بیٹا چاہیے مجھے۔۔۔۔ سنا سب نے مجھے میرا بیٹا چاہیے‘‘ حلق کے بل چلاتی وہ ایک بار پھر ہوش و حواس سے بیگانی ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج پوری رات اور پورا دن کمرے میں بند رہی۔۔۔۔۔ ایک ہی دن میں وہ صدیوں کی مسافرلگ رہی تھی
زرار ھدی کا مائنڈ ڈائیورٹ کرنے کی نیت سے اسے آہل سے ملوانے لے گیا تھا
موسی کو یہی وقت ٹھیک لگا تھا سروج سے ملنے کا
اس وقت وہ لاؤنج میں بیٹھا حیدر صاحب کا انتظار کررہا تھا
انہیں آتا دیکھ کر اسنے لب کھولے ہی تھی کہ انہوں نے ہاتھ کہ اشارے سے اسے چپ کروادیا
’’سلام لینے کی غلطی مت کرنا تمہاری جھوٹی سلامتی نہیں چاہیے‘‘ زندگی میں پہلی بار موسی شرمندہ ہوا تھا
’’انکل میں سروج سے۔۔۔۔۔‘‘
’’ہاں پتا ہے آجاؤ‘‘ وہ پھر سے بات کاٹتے بولے۔۔ انکے سرد رویے پر موسی نے لب بھینچ لیے
’’جاؤ دیکھ لو اسے شائد کے تمہاری جھوٹی انا کو تسکین مل جائے‘‘ سروج کے دروازے کے باہر کھڑے وہ اسے بولتے وہاں سے چلے گئے
موسی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا تو مکمل اندھیرا تھا۔۔۔۔۔ موبائل ٹارچ کے ذریعے اسنے لائٹس اون کی تو کمرہ خالی تھا جب اسے صوفہ کے پیچھے کچھ نظر آیا
قدم بڑھاتا وہ وہاں گیا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔۔۔۔۔۔ وہ سروج تھی بکھرے حلیے میں۔۔ اسکے سامنے دھیڑ ساری تصویریں تھی جو ابراہیم کی تھی
سروج نے اسے دیکھا ۔۔۔۔ پہلے تو آنکھیں بےجان رہی۔۔۔ یہ بےجان آنکھیں موسی کو تڑپا گئی۔۔۔۔ جب اچانک سروج کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق ابھری اور ساتھ ہی نفرت عود آئی
’’تم!! کیوں آئے ہوں یہاں۔۔۔۔ کیا دیکھنے آئے ہوں کہ میں زندہ ہوں یا مرگئی۔۔۔۔ تو مبارک ہوں تم آج سروج کو مکمل طور پر مار چکے ہیں۔۔۔۔ میرا بیٹا کہاں ہے؟ بتاؤ مجھے میرا بیٹا کہاں ہے موسی۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ہے وہ‘‘ اسکا گریبان پکڑے وہ غرائی
’’ہوسپٹل میں‘‘ موسی صرف اتنا بول پایا۔۔۔ سروج نے اسے بےیقین نظروں سے دیکھا
’’مجھے اسے دیکھنا ہوگا‘‘ وہ باہر کو بھاگنے لگی تو موسی نے اسے پکڑ لیا
’’ابراہیم سے ملنا ہے؟ ابراہیم واپس چاہیے؟‘‘ موسی کے سوال پر وہ سر اثبات میں ہلاگئی۔۔۔۔۔
’’تو ٹھیک ہے کل ہمارا نکاح ہے سروج اگر تم مان گئی تو میں ابراہیم تمہارے حوالے کردوں گا۔۔۔ وہ ہمیشہ کے لیے تمہارا ہوگا۔۔۔۔ ورنہ ترستی رہنا اسے پوری زندگی دیکھنے کے لیے‘‘ موسی کا لہجہ سروج کو اس بات کا یقین دلاگیا تھا کہ وہ سچ بول رہا ہے
’’سوچوں سمجھوں اور جواب دوں رات تک کا وقت ہے تمہارے لیے‘‘
’’منظور ہے مجھے‘‘ سروج اچانک بولی جبکہ موسی کے باہر جاتے قدم اپنے راستے میں رک گئے
’’کیا کہاں؟‘‘ موسی نے بےیقینی سے پوچھا
’’میں نے کہاں مجھے منظور ہے۔۔۔۔۔ اب تم جاسکتے ہوں‘‘ سروج نے دل مضبوط کرکے جواب دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرار کو جب سروج کے فیصلے کے بارے میں پتہ چلا تو وہ تیزی سے اسکے کمرے میں داخل ہوا
’’کیا سن رہا ہوں میں؟‘‘
’’وہی جو سچ ہے‘‘ سروج سکون سے بولی
’’دماغ ٹھیک ہے تمہارا‘‘
’’ہاں بلکل ٹھکانے پر ہے‘‘ وہی اطمینان بھرا جواب
’’تم یہ شادی نہیں کروں گی‘‘
’’اور کوئی آپشن نہیں زرار۔۔۔۔۔ یہ کروں یا مروں والی سچویشن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یا تو اس سے شادی کرلوں یا ابراہیم کو بھول جاؤ۔۔۔۔ اور میں ابراہیم کو ایسے نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔۔۔ اب تک تو ابراہیم کی خبر ان لوگوں تک پہنچ چکی ہوگی وہ اسے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گے‘‘
’’اور تم تمہارا کیا؟‘‘ زرار نے سوال کیا
’’میرے لیے میرا بیٹا اہم ہے زرار اور کچھ نہیں۔۔۔۔ جو جیسا ہورہا ہے ہونے دوں۔۔۔۔۔۔ ورنہ آخر میں سب خالی ہاتھ رہ جائے گے‘‘ سروج کی بات پر لب بھینچتے وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ سروج کی آنکھیں آنسو سے لبریز ہوگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہوکر
’’تجھے کس نے ڈبو دیا؟‘‘ مائز نے بےاختیار پوچھا
’’سروج‘‘ ایک حرفی جواب
’’تو تکلیف کیوں ہورہی ہے کل ہوتوجائے گی وہ تیری‘‘ مائز نے کندھے اچکائے
’’وہی تو مسئلہ ہے مائز۔۔۔ وہ نہیں چاہیے مجھے اسکی محبت چاہیے‘‘
’’عجیب ہے تو پہلے وہ چاہیے تھی اب مل رہی ہے تو اسکی محبت چاہیے۔۔۔ اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے؟‘‘
’’کوئی ڈرامہ نہیں ہے حقیقت ہے۔۔۔۔۔ اگر مجھے وہ مل سکتی ہے تو اسکی محبت بھی مل سکتی ہے اور مجھے یقین ہے مجھے اسکی محبت مل جائے گی‘‘ موسی ایک جذب سے بولا
تجھ سے ملے نہ تھے تو تیری آرزو نہ تھی
ملے جو تجھ سے تو تیرے طلبگار ہوگئے
چاند کی روشنی کو دیکھتے وہ بولا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منہ ہاتھ دھو کر وہ باہر نکلی تو بیڈ پر سامان بیکھ کر رک گئی
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘ ماتھے پر بل ڈالے اسنے ھدی سے پوچھا
’’آپ کے سسرال سے آیا ہے شادی کا جوڑا‘‘ ھدی پھیکا سا مسکرائی
’’ھدی۔۔۔‘‘
’’ارے بیوٹیشن آگئی آپ بیٹھے میں اسے لیکر آئی‘‘ سروج کی سنے بغیر وہ باہر چلی گئی۔۔۔۔ سروج نے سختی سے لب بھینچ لیے
برائڈیل ڈریس دیکھ کر ایک موتی اسکی آنکھ سے ٹوٹا ۔۔ کوئی مسئلہ بنائے بنا وہ واشروم میں چینج کرنے چلی گئی
’’ماشااللہ‘‘ بیوٹیشن اسے تیار کرکے بےاختیار بولی۔۔۔ روم میں اسکے ساتھ اس وقت عمارہ اور فریحہ تھی
کسی نے بھی اس سے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی تھی
ھدی ناک کرکے اندر آئی
’’وہ لوگ آگئے ہیں۔۔۔۔ آپ آجائے ‘‘ ھدی اس سے نظریں ملائے بنا بولی
’’ھدی ادھرآؤ‘‘ سروج نے اسے بلایا۔۔۔ عمارہ اور فریحہ باہر چلی گئی
’’جی‘‘ ھدی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی مگر نظریں جھکی رہی
’’ناراض ہوں؟‘‘ سروج نے پوچھا
ھدی نے سرنفی میں ہلایا
’’پھر کیا ہوا ہے؟‘‘ سروج نے لاڈ سے پوچھا۔۔۔۔۔۔ ھدی کی آنکھیں بھر آئی
’’آپ چلی جائے گی مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔۔ مت جائے۔۔۔ میں کیسے رہوں گی‘‘ ھدی روتے ہوئے بولی
’’ھدی میری جان۔۔۔ میرا چندا ادھر دیکھو۔۔۔۔۔۔ ھدی کے پاس تو ماما اور پاپا دونوں ہیں۔۔۔۔ مگر ابراہیم کے پاس کوئی نہیں۔۔۔۔ جانتی ہوں وہ بیمار ہے۔۔۔۔۔ ہسپتال میں ہے۔۔۔۔۔ ھدی کو اب بریوو بننا ہے۔۔۔ پلیز‘‘ سروج کی بات پر اسنے روتے ہوئے سر ہاں میں ہلادیا۔۔۔۔
’’مائی ڈورےمون‘‘ اسے محبت سے اپنے ساتھ لگاتی وہ بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کی تقریب لاؤنج میں رکھی گئی تھی۔۔۔۔ سروج کو لاکر موسی کے سامنے والے صوفہ پر بٹھا دیا۔۔۔۔۔۔ وہ بلکل ایک بےجان وجود کی طرح تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی آنکھیں ، سوگوار حسن لیے۔۔۔۔۔ وہ بن کہے سب کو اپنے غم کی داستان سنا رہی تھی
نکاح خواں آچکا تھا۔۔۔۔ تو گویا صور پھونک کر روح قبض کرنے کا وقت آگیا تھا۔۔۔۔۔ سروج کی نظریں جھک گئی تھی
’’سروج حیدر ولد محمد حیدر آپ کا نکاح فی سکہ راج الوقت پچاس لاکھ حق مہر موسی علی زماد ولد علی زماد سے کیا جارہا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟‘‘ سروج کا دماغ خالی ہوچکا تھا۔۔۔ اچانک ماضی کے الفاظ کان کے پردوں میں گونجے
’’کیا آپ کو عمیر یاسین ولد یاسین اقبال بمع حق مہر تیس لاکھ اپنے نکاح میں قبول میں ہے؟‘‘
الفاظ یاد آتے ہی اسنے بےبسی سے آنکھیں موند لی۔۔۔۔ جب نگاہیں اٹھا کر سامنے دیکھا تو نظریں پلٹنے سے انکاری ہوگئی
’’عمیر‘‘ ہونٹ ہلے۔۔۔۔۔ وہ عمیر تھا موسی نہیں۔۔۔۔۔۔ لبوں پر اپنے آپ مسکراہٹ آگئی۔۔۔۔۔۔ شہانہ بیگم نے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔۔۔۔ اب کی بار سامنے دیکھا تو آنکھوں میں چمکتی روشنی بجھ گئی
وہ خواب تھا۔۔۔۔ وہاں عمیر نہیں تھا۔۔۔۔ وہاں محبت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ وہاں موسی تھا۔۔۔۔ ضد تھی
سروج کی خالی آنکھیں دیکھ کر موسی نے سختی سے اپنے لب بھینچ لیے
’’قبول ہے‘‘ سروج ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں بولی۔
نکاح ہوچکا تھا۔۔۔ زرار پورے نکاح میں خاموش تماشائی بنارہا۔
اب رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔ زرار نے موسی کو دیکھا جس کے چہرے پر چڑادینے والی مسکراہٹ تھی
موسی سے ہوتے اسکی نظریں سروج پرگئی جس کی آنکھوں میں التجا تھا۔۔۔۔ لب بھینچے زرار آگے گیا اور چادر سے سروج کو ڈھانپ دیا
حیدر صاحب کے ہاتھوں رخصت ہوتے وہ موسی سنگ چلی گئی
کتنے ہی آنسوں تھے جو ان تینوں نے اپنے اندر اتارے تھے۔۔
ھدی کو لگا وہ ایک بار پھر یتیم ہوگئی
زرار کو لگا ایک بار پھر اس سے اسکا انمول رشتہ چھین گیا
اور سروج وہ تو بس ایک بےجان وجود تھی جو اپنی آخری آرام گاہ کی طرف گامزن تھی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *