Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29

Dil Musafir by Qanita Khadija Eisode29

مائز؟ ایک بات بتانی ہے تمہیں‘‘ انگلیاں مروڑتی عمارہ اس سے مخاطب ہوئی جو اپنی محبوبہ میں گم تھا
’’بھونکو‘‘ تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے خاصہ بدتمیزانہ لہجہ تھا اسکا
عمارہ دانت پیس کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر خیر کیا؟ انسان اپنی دوستی کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔۔۔اور عمارہ جتنی بدتمیز تھی تو مائز جیسا دوست بھی ڈیزرو کرتی تھی
’’او ہو ۔۔۔ پہلے اسے تو چھوڑو‘‘ اسکے منہ میں جاتی فرائز کو واپس پلیٹ پر پٹکتی وہ جھنجھلائی آواز میں بولی
’’کیا ہے؟‘‘ مائز چڑا
’’میری منگنی چول انسان‘‘ وہ بھی اسی کے لہجے میں بولی
’’اچھا ٹھیک۔۔۔۔ایک۔۔ایک منٹ کیا؟ کیا کہا تم نے تمہاری منگنی۔۔۔۔۔منگنی وہ بھی تمہاری۔۔۔۔۔۔کب؟کیسے؟کس کے ساتھ؟‘‘ مائز کی تو آنکھیں باہر نکل آئی تھی
’’اب بتاؤ بھی کیا گڑ منہ میں رکھا ہے جو بولتی بند ہوگئی ہے کس سے کررہی ہوں؟‘‘ مائز نے اسکو دونوں کندھوں سے ہلا کر پوچھا
’’افف جاہل بتا رہی ہوں چھوڑو تو سہی‘‘ خود کو آزاد کرواتے وہ بولی
’’ہاں بتا جلدی۔۔۔۔ میرے پیٹ میں درد اٹھ رہا ہے‘‘ مائز خالص زنانہ انداز میں بولا۔۔۔۔۔عمارہ سر نفی میں ہلا کر رہ گئی
’’مراد سے‘‘ عمارہ نے سر جھکائے ہلکی آواز میں جواب دیا
’’مراد!!! کیااااااا مراد ؟ دماغ ٹھیک ہے تیرا سر پر چوٹ تو نہیں لگی۔۔۔۔۔ وہ؟ وہ ماس کمیونیکیشن کا مراد؟‘‘ مائز اتنی اونچی چیخا کے پوری کینٹین کی عوام ان کی طرف متوجہ ہوگئی
’’شش آہستہ‘‘ عمارہ نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی
’’کیا آہستہ ہاں؟ کیا آہستہ۔۔۔۔۔نہیں عمارہ بی بی نہیں۔۔۔۔۔تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے تم نے دشمن سے دوستی کرکے دوست کو پرایا کردیا۔۔۔۔۔ تم تو دوست اور دشمن میں فرق بھول چکی ہوں۔۔۔۔بےوفا‘‘ مائز کا ڈرامہ اپنے عروج پر تھا
’’تمہاری دوست کو دوست اور دشمن میں کتنا فرق معلوم ہے وہ تو میں دیکھ چکا ہوں‘‘ یہ آواز مراد کی تھی جو تب سے ان دونوں کا ڈرامہ بیزار سی شکل لیے دیکھ رہا تھا
’’مراد!!‘‘ عمارہ کے ہونٹ ہلے۔۔۔جبکہ مائز کا منہ بن گیا
مراد نے چونک کر عمارہ دیکھا۔۔۔۔آج اسکا نام عمارہ کے ہونٹوں سے ایک الگ انداز میں ادا ہوا تھا۔۔۔۔۔ مراد نے اسے دیکھا جو یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں آج مراد کو دیکھ کر بےزاری یا کوفت جیسا کوئی جزبہ نہیں ابھرا تھا بلکہ ان آنکھوں میں تو کوئی اور ہی جزبہ تھا جسے مراد جان چکا تھا۔۔۔۔۔ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے چہرے پر کھل اٹھی
تو آخر کار اسنے اسے حاصل کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔۔عمارہ سلطان کو مراد شمشیر سے محبت ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔مراد شمشیر نے اپنی محبت حاصل کرلی تھی مانو پوری دنیا حاصل کرلی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھدی کی کلاسز ختم ہوگئی تھی۔۔۔۔۔اسی لیے وہ جلد از جلد گھر جانا چاہتہ تھی
’’اوئے کہاں چلی‘‘ راستے میں اسکا ٹکڑاؤ فریحہ سے ہوگیا
’’کچھ نہیں وہ گھر جارہی ہوں‘‘ ھدی نے جواب دیا
’’وہ تو ٹھیک ہے مگر اتنے دنوں سے کہاں تھی؟ یونی بھی نہیں آئی؟‘‘ فریحہ نے سوال کیا
’’وہ کچھ ذاتی مسائل‘‘ ھدی نے جواب دیا
’’اوکے اچھا۔۔۔۔ چلو چھوڑو سب کچھ ایسا کروں میرے ساتھ کینٹین چلو بعد میں گھر چلی جانا‘‘ فریحہ اسکا ہاتھ پکڑے کینٹین کی طرف روانہ ہوئی
’’مگر گھر۔۔۔۔۔۔‘‘ھدی نے بولنا چاہا
’’او ہو تمہارے کونسا بچے ہیں جو گھر ویٹ کر رہے ہوگیں‘‘ فریحہ لاپرواہی سے بولتی وہ اسے کینٹین کی طرف لے گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سروج سے مل کر موسی نے یونی کی طرف گاڑی موڑ دی۔۔۔۔۔۔اسے اپنی کچھ اسائنمنٹ جمع کروانی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’کیا بات ہے عمارہ سلطان تمہاری آنکھیں بہت چمک رہی ہیں آج؟ کہی مراد شمشیر سے محبت کی طرف پہلا قدم تو نہیں؟‘‘ اسکی ٹیبل پر تھوڑا سے جھکتے مراد نے سوال کیا
’’کیا؟ کیا بکواس کررہے ہوں دماغ تو نہیں خراب ہوگیا؟‘‘ عمارہ گڑبڑائی سی بولی
مائز تو دوبارہ سے اپنی فرائز کی طرف متوجہ ہوگیا
اب میاں بیوی راضی تو بھلا کیا کرے گا قاضی
’’مان لو عمارہ سلطان۔۔۔۔۔میں بھی اعتراف کرتا ہوں تم سے محبت کا۔۔۔۔۔۔ اور یقین مانو محبت کا اعتراف دنیا کا سب سے خوش کن احساس ہے‘‘ اسکی آنکھوں میں جھانکتے وہ محبت بھرے لہجے میں گویا ہوئی
’’واؤ۔۔واؤ۔۔واؤ۔۔۔۔ یہاں تو لائیو رومانٹک مووی چل رہی ہے‘‘ تالیاں مارتے زرار انکی ٹیبل کی جانب آیا
’’زرار؟‘‘ مراد نے حیران نظروں سے اسے دیکھا
’’ارے رک کیوں گئے۔۔۔۔۔۔۔کنٹیو ناں۔۔۔۔۔دیکھو سب انجوائے کررہے ہیں۔۔۔۔ویسے رومانس کے نام صرف ڈائیلاگ بازی ہی ہوگی یا کوئی عملی نمونہ بھی دکھایا جائے گا؟‘‘ زرار کی طنز میں ڈوبی آواز
مراد کا غصے سے پارہ چڑھ گیا
’’کیا بکواس کررہے ہوں؟ ہوش میں تو ہوں تم‘‘ مراد تو اسکا گریبان پکڑنے کے در پر تھا
’’بکواس؟ مراد صاحب میں تو گھٹیا بول رہا ہوں۔۔۔۔۔۔تم نے تو گھٹیا حرکت کی تھی۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگ یہاں خوشیاں منا رہے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی جی رہے ہوں اور دوسری جانب کوئی تم لوگوں کی وجہ سے کسی کی زندگی ہی ختم ہونے کے در پر آگئی۔۔۔۔۔۔واہ مراد۔۔۔۔ واہ عمارہ۔۔۔۔۔ بہت بہت مبارک ہوں تم دونوں کو‘‘ زرار کے طنز کے تیر ان دونوں کے سروں پر سے گزرے
’’زرار کیا بول رہے ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا‘‘ عمارہ حیران ہوئی
’’عمارہ بی بی اب تو آپ کو کچھ سمجھ آئے گا بھی نہیں‘‘ زرار تیکھی نظریں کیا بولا
’’پہلیاں مت بجھاواؤ زرار جو کہنا سیدھا سیدھا بول‘‘ مراد خود کمپوز کرتے بولا
’’یہ ٹھیک ہے مراد صاحب۔۔۔۔ کرے کوئی بھرے کوئی۔۔۔پھر تیور بھی بھرنے والے کو ہی دکھا رہے ہوں‘‘
’’میں نے کہا پہلیاں مت بجھواؤ زرار‘‘
’’تو سنو عمارہ بی بی محبت تم نے کی جلال سے۔۔۔۔ دھوکہ تمہیں ملا۔۔۔۔۔ اور سزا کسی اور کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی تمہاری اور قصوروار کوئی اور؟ واؤ عمارہ بی بی واہ‘‘
’’زرار مجھے سمجھ نہیں آرہی کیا کہہ رہے ہوں؟‘‘
’’ہاں پانچ سال کی بچی ہوں نا تم تو جو کچھ معلوم نہیں‘‘ زرار کے طنز ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
کینٹین کی طرف آتی فریحہ اور ھدی بھی باخوبی سب کچھ سن رہی تھیں۔۔۔۔ اس طرف آتے موسی کے قدم بھی اپنی جگہ جم گئے تھے
زرار کی باتیں اس وقت صرف موسی کو سمجھ آرہی تھی
’’تم کس کی زندگی کی بات کر رہے ہوں اور بھلا میرے اور جلال کے قصے کا اس سے کیا تعلق‘‘ عمارہ کے پلے کچھ نا پڑا
’’یقین مانو عمارہ اگر تم لڑکی نا ہوتی تو میں اس وقت تم پر ہاتھ اٹھانے میں زرا دیر نا لگاتا۔۔۔۔ شکر مناؤ کہ میں عورت ذات پر ہاتھ نہیں اٹھاتا۔۔۔ بچ گئی تم‘‘ زرار کی اس بات پر ھدی اور فریحہ کا منہ کھل گیا
’’جھوٹا‘‘ ھدی کی آنکھیں باہر کو آگئی۔۔۔۔ اس نے اپنے ایک گال پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔ اسے وہ تھپڑ یاد آیا جو زرار نے اسے مارا تھا
’’کمینہ‘‘ فریحہ بڑبڑائی۔۔۔۔ اسے وہ رات یاد آئی جب زرار نے زور سے اسکا سر دیوار میں مارا تھا
’’اور ہاں جہاں تک بات ہے کہ میں کیا بول رہا ہوں اور کیا نہیں تو یہ تمہیں موسی بہت اچھے سے سمجھا دے گا‘‘ عمارہ کو موسی کی جانب راغب کرتے وہ ھدی کی جانب بڑھا
’’چلو چلے‘‘ اسکا بازو پکڑتے وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا
یہ منظر موسی نے حقارت بھری نظروں سے دیکھا
’’اس ھدی کا کچھ کرنا ہی پڑے گا‘‘ موسی بڑبڑایا
’’موسی؟ یہ زرار کیا کہہ کر گیا ہے؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا‘‘
’’بکواس کر رہا تھا‘‘ مراد غصے سے بڑبڑایا
’’بکواس نہیں سچ بول کر گیا ہے‘‘ موسی سپاٹ لہجے میں بولا
’’تمہارے بدلے کی قیمت کسی اور نے بہت برے سے چکائی ہے عمارہ‘‘ وہ عمارہ کی جانب دیکھ کر بولا
’’موسی صاف صاف بولو آخر کیا بات ہے؟‘‘ عمارہ نے پریشانی سے پوچھا
’’یہاں نہیں کہی اور چلتے ہیں‘‘ موسی نے ایک نظر سب لوگوں کو دیکھا جو تجسس کے مارے انکی طرف متوجہ تھے
’’ہمم چلو‘‘ مراد نے تائید کی۔۔۔۔
’’ویسے شرم تو نہیں آتی نا تمہیں‘‘ مائز کے سر پر کھڑی وہ دانت پیستے بولی
’’کون میں؟‘‘ مائز نے حیرانگی سے خود کی طرف اشارہ کیا
’’اور نہیں میں‘‘ فریحہ کے لیے جل کر بولی
’’میں نے ایسا کیا کیا ہے جو شرم کرو؟‘‘ مائز ٹرخ کر بولا
’’یہاں ابھی تمہارے سامنے اتنا تماشہ ہوگیا اور تم چپ رہے اپنی دوست کا ساتھ نہیں دیا؟‘‘ فریحہ کو غصہ آگیا
’’دیکھو یار پہلی بات تو یہ کہ زرار کبھی بنا مطلب کسی سے الجھتا نہیں اور دوسری بات یہ کہ میں پرائے پھڈے میں ٹانگ نہیں اڑاتا‘‘ کہتے ہی مائز نے اشارے سے ویٹر کو ایک اور پلیٹ فرائز لانے کو کہا
’’یہاں تو سب کے سب ایک سے ایک بڑھ کر ڈھیٹ اور سرپھرے ہیں‘‘ فریحہ پیر پٹکتے وہاں سے چل دی۔۔۔۔۔ جبکہ مائز کندھے اچکاتا فرائز پر جھک گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھدی نے پورا راستہ خاموشی میں کاٹا تھا۔۔۔۔ زرار ڈرائیو کرتے ایک نظر اسے بھی دیکھ لیتا جو منہ پھلائے باہر دیکھ رہی تھی
’’تمہیں کیا ہوا ہے؟‘‘ زرار نے آبرو اچکا کر پوچھا
’’بات مت کرے مجھ سے‘‘ منہ دوسری طرف کیے اسنے جواب دیا
’’کیا میں تمہارے حکم کا غلام ہوں؟ نہیں نا؟ تو پھر بتاؤ کیا ہوا ہے؟‘‘ زرار نے تھوڑا سا لہجہ سخت بنایا
’’آپ بہت بڑے جھوٹے ہیں‘‘ ھدی بولی
’’میں نے کیا جھوٹ بولا؟‘‘ زرار حیران ہوا
’’ہوں!!! تو عمارہ سے کیا کہہ رہے تھے؟ میں لڑکیوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا۔۔۔۔۔ جھوٹے۔۔۔۔ تو مجھ پر کیوں اٹھایا؟ میں کیا لڑکی نہیں‘‘ ھدی کی بات پر زرار نے بامشکل اپنا قہقہ روکا
’’کیوٹ‘‘ اسکے گال پر چٹکی بھرتے وہ بولا
ھدی زرار کی اس قدر فرینکنیس پر حیران رہ گئی
’’آپ!!!‘‘
’’جاؤ تمہارا گھر آگیا ہے‘‘ اس سے پہلے ھدی بات پوری کرتی زرار نے گاڑی اسکی بلنڈنگ کے پارکنگ میں روکی
ھدی گھورتی نگاہوں سے گاڑی سے باہر نکلی اور دو ہی منٹ میں یہ جا وہ جا
’’ہممم سو میرے پیارے آہل وقت آگیا ہے کہ میں تمہیں اپنی ھدھد سے ملواؤ‘‘ زرار مسکرا کر بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’مجھے کچھ بتاؤ گے موسی؟‘‘ عمارہ ، مراد اور موسی ایک خالی کلاس روم میں تھے اس وقت
’’جلال سروج کا دیور ہے عمارہ‘‘ موسی بولا
’’واٹ؟ جلال اور سروج۔۔۔۔ مگر کیسے۔۔۔۔۔ اور یہ جو زرار بول رہا تھا وہ۔۔۔۔۔۔‘‘ عمارہ پریشان ہوئی، حیران تو مراد بھی ہوا تھا
’’مطلب تو کیا کہنا چاہتا موسی کھل کر بتا‘‘ مراد نے پوچھا
موسی نے پارٹی کی رات سے لیکر سروج کے ہارٹ اٹیک، اور پھر بزنس ڈاؤن ہونے والی ساری کہانی ان دونوں کو سنا دی
عمارہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی
’’یہ۔۔۔یہ سب کیا ہوگیا میں ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ مجھے تو معلوم بھی نہیں کہ سروج اور جلال۔۔۔۔‘‘ عمارہ سے آگے کچھ بولا نا گیا
’’معلوم تو مجھے بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔ مگر جلال کی اس وڈیو کی وجہ سے اب بزنس میں موجود تمام لوگوں کو یہی لگتا ہیں کہ سروج بھی ان سب میں اسکے ساتھ ملوث تھی اور اسی وجہ سے یہ سب ہوا‘‘ موسی سرد سانس خارج کرتے بولا
’’اب ؟ اب کیا ہوگا؟‘‘ عمارہ نے فکرمندی سے موسی سے پوچھا
’’کفارا‘‘ موسی بولا
’’مگر کیسے؟‘‘ اب کی بار مراد نے مداخلت کی
’’بزنس کے ذریعے‘‘ موسی نے کندھے اچکائے
’’سمجھ نہیں آئی‘‘ مراد بولا
’’سمپل سی بات ہے تم دونوں اپنے اپنے ڈیڈ کو کنوینس کروں گے کہ وہ یاسین انڈسٹریز کے ساتھ ڈیل کرے۔۔۔۔ اور انہیں منانا ہے ہر صورت میں۔۔۔۔۔۔۔ سروج کا بزنس ڈوب رہا ہے اس وقت اور میں چاہتا ہوں کہ ہم سب اس پر بنا احسان جتائے اسکی مدد کرے‘‘ موسی کی بات پر ان دونوں نے اثبات میں سر ہلا دیا
’’کیا ہم مدد کرسکتے ہیں؟‘‘ دروازے پر کھڑے مائز اور اسکے ساتھ زبردستی کی کھڑی فریحہ کو دیکھ وہ تینوں چونکے
مائز نے اسے کینٹین سے باہر جالیا تھا اور اپنے ساتھ زبردستی وہ اسے موسی لوگوں کے پاس لے آیا تھا
مگر ایک کام مائز نے سب کی نظروں سے بچ کر کیا تھا اور وہ تھا زرار کو کال
’’تم مگر تم مدد کیوں کروں گے ۔۔۔۔ آخر کو تم نے تھوڑی نا کچھ کیا ہے‘‘ موسی نے حیرانگی سے پوچھا
’’تو؟ ضروری ہے کہ آپ دوسرے کی مدد صرف کفارے کے طور پر کرنا چاہوں۔۔۔۔۔۔۔ میں کیا سروج کی مدد ویسے ہی نہیں کرسکتا‘‘ مائز نے کندھے اچکائے پوچھا
’’ضرور کیوں نہیں کرسکتے ہوں‘‘ موسی مسکراہ کر بولا
’’تو پھر ڈیسائڈ ہوگیا اب ہم سب سروج کی مدد کرے گے۔۔۔۔ مگر اپنے طریقے سے بنا اسے بتائے۔۔۔۔ ڈن؟‘‘ موسی نے ہاتھ آگے کیے پوچھا
’’ڈن‘‘ مراد، عمارہ اور مائز نے ایک زبان ہوتے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
’’تم نہیں کروں گی؟‘‘ مائز نے فریحہ سے ہاتھ پوچھا
’’آہ!!! ڈن‘‘ فریحہ نے مارےبندھے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
ایک خوشی تھی جو موسی نے محسوس کی، ایک سکون تھا جو اسکی روح کو ملا تھا
مجھے نہیں معلوم کیوں سروج مگر موسی علی زماد اعتراف کرتا ہے کہ تم اس کے لیے خاص ہوتی جارہی ہوں
بہت خاص ، اتنی خاص کہ اسے اب تمہارے معملے میں اپنا دل بےقابو ہوتا محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اور اب موسی ایک فیصلہ کرچکا ہے اور وہ ہے تمہیں اسکی زندگی میں شامل کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس سے پہلے میں اس شخص سے بدلہ ضرور لوں گا، جس کی وجہ سے تم نے اور میری بہن نے اتنا کچھ سہا۔۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں ھدی تمہارے لیے اہم مگر اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتا اسے اپنے بھائی کے کیے کا بدلا چکانا ہوگا
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *